2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:19

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:19 in the Quran reader

یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا ہو) اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور خدا کافروں کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے

آیت نمبر 19 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : او کصیب من السماء طبری نے کہا : او بمعنی واؤ ہے (2) ۔ فراء نے یہی کہا ہے۔ وقد زعمت لیلی بانی فاجر لنفسی تقاھا او علیھا فجورھا لیلیٰ نے کہا کہ میں گنہگار ہوں میرے نفس کے لئے تقویٰ ہے اور اس کے خلاف اس کا فجور ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : نال الخلافۃ لہ قدراً کما اتی ربہ موسیٰ علی قد اس نے خلافت کو پایا اور خلافت اس کا مقدر تھی جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی بارگاہ میں آئے جو ان کے حق میں مقدر تھا۔ ان اشعار میں او بمعنی واؤ ہے۔ بعض نے فرمایا : او تخییر کے لئے ہے۔ یعنی تم ان منافقوں کو اس سے تشبیہ دو یا اس سے، کسی ایک امر پر اکتفا نہیں۔ معنی ہے : او کا صحاب صیب۔ یا وہ بارش والوں کی طرح ہیں۔ الصیب سے مراد بارش ہے۔ یہ صاب یصوب سے مشتق ہے جس کا معنی ہے : نازل ہونا۔ علقمہ نے کہا : فلا تعدلی بینی وبین مغمر سقتک روایا المذن حیث تصوب میرے اور جاہل کے درمیان برابری نہ کر بادل تجھے سیراب کرے جہاں برسے۔ صیب اصل میں صیوب تھا۔ واو اور یا جمع ہوئے پہلا ان میں سے ساکن ہے اس لئے واویا سے بدلی اور پھر مدغم ہوگئی جیسا کہ ھیت، ھین اور لین میں کہا گیا ہے۔ بعض کو فیوں نے کہا : اس کی اصل صویب ہے فعیل کے وزن پر۔ نحاس نے کہا : اگر اس طرح اس کی اصل ہوتی تو اس کا ادغام جائز نہ نہ ہوگا جیسا کہ طویل میں ادغام جائز نہیں ہے۔ صیب کی جمع صیایب ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی : مثلھم کمثل الذی استوقد ناراً او کمثل صیب۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من السماء، السماء، مذکر اور مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے اس کی جمع اسمیۃ، سموات اور سمی (بروزن فعول) بنائی جاتی ہے۔ عجاج نے کہا : تلفہ الریاح والسمی۔ ہواؤن اور بارشوں نے اسے گھیر رکھا ہے۔ السماء ہر وہ چیز جو تیرے اوپر ہو اور تجھ پر سایہ کرے وہ سماء ہے۔ اسی وجہ سے گھر کی چھت کو سماء کہا جاتا ہے۔ بارش کو سماء کہا جاتا ہے۔ بارش کو سماء کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ آسمان سے اترتی ہے۔ حضرت حسان بن ثابت نے کہا : دیار من بنی الحسح اس قفر تعفیھا الروامس والسماء بنی حسح اس کے گھر چٹیل میدان ہیں۔ ہواؤں اور بارش نے ان کے نشانات مٹا دئیے ہیں۔ ایک اور شاعر نے کہا : اذا سقط السماء بارض قوم رعیناہ وان کانوا غضابا جب کسی قوم کی زمین پر بارش برستی ہے تو ہم اس زمین پر چراتے ہیں اگرچہ اس کے مالک ناراض بھی ہوں۔ مٹی اور گھاس کو بھی سماء کہا جاتا ہے۔ مازلنا نطأ السماء حتی اتیناکم۔ ہم گھاس اور مٹی کو روندتے رہے حتیٰ کہ تمہارے پاس پہنچے۔ گھوڑے کی پیٹھ کو بھی اس کے بلند ہونے کی وجہ سے سماء کہا جاتا ہے۔ واحمر کالدیباج اما سماؤہ فریا واما ارضہ فمحول ریشم کی طرح سرخ ہے، رہی اس کی پیٹھ تو وہ بہت عمدہ ہے اور اس کے پاؤں بڑے سخت ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فیہ ظلمت یہ مبتدا خبر ہیں (ورعد وبرق) معطوف علیہ ہے۔ ظلمات جمع ذکر فرمایا یہ اشارہ ہے رات کی تاریکی اور بادل کی تاریکی کی طرف، تہہ در تہہ تاریکی ہے اس لئے جمع ذکر فرمایا، اس کی وضاحت پہلے ذکر ہوچکی ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ علماء کا رعد کے متعلق اختلاف ہے۔ ترمذی میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے، فرمایا : یہود نے نبی کریم ﷺ سے رعد کے متعلق پوچھا کہ یہ (کڑک) کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے (جو بادل پر مقرر ہے) اس کے پاس آگ کے کوڑے ہیں جن کے ساتھ وہ بادل کو ہانک کرلے جاتا ہے جہاں اللہ چاہتا ہے۔ یہود نے کہا : یہ آواز کیا ہے جو ہم سنتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ فرشتہ بادل کو جھڑکتا ہے جب وہ اسے جھڑکتا ہے حتی کہ وہ وہاں پہنچ جاتا ہے جہاں اللہ کا حکم ہوتا ہے۔ یہود نے کہا : آپ نے سچ کہا (1) ۔ الخ اس تفسیر پر اکثر علماء کا اتفاق ہے۔ پس الرعد (کڑک) سنی جانے والی آواز کا اسم ہے۔ حضرت علی ؓ نے یہ فرمایا۔ یہ لغت عرب میں معلوم ہے۔ لبید نے زمانہ جاہلیت میں کہا تھا : فجعنی الرعد والصواعق مجھے کڑک اور بجلیوں نے ڈرایا۔۔۔۔۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے، فرمایا : الرعد ایک ہوا ہے۔ بادل کے درمیان چھا جاتی ہے تو آواز پیدا کرتی ہے (2) ۔ البرق کے بارے میں اختلاف ہے، حضرات علی، ابن مسعود، ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ البرق لوہے کا کوڑا ہے جو فرشتے کے ہاتھ میں ہوتا ہے اس کے ساتھ وہ بادل کو چلاتا ہے۔ میں کہتا ہوں : ترمذی کی حدیث سے یہی ظاہر ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے کہ یہ نور کا کوڑا ہے جو فرشتے کے ہاتھ میں ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ بادل کو جھڑکتا ہے (3) ۔ حضرت ابن عباس سے ہی مروی ہے کہ البرق فرشتہ ہے جو نظر آتا ہے۔ فلاسفہ کہتے ہیں : الرعد بادل کے اجرام کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی آواز ہے اور اجرام کے ٹکراؤ سے جو آگ چمکتی ہے وہ البرق ہے۔ یہ قول مردود ہے اس کی نقل صحیح نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔ کہا جاتا ہے : رعد کی اصل حرکت سے ہے۔ اسی سے الرعدید، (بزدل کی کپکپی) ہے، ارتعد کا معنی ہے : حرکت کرنا، اس معنی میں حدیث ہے : فجی بھما ترعد فرائصھما (4) (ان دونوں کو لایا گیا تو ان کے کندھوں کا گوشت حرکت کر رہا تھا) ۔ یہ حدیث ابو داؤد نے روایت کی ہے۔ البرق کا اصل معنی چمک اور روشنی ہے۔ اسی سے البراق ہے وہ سواری جس پر معراج کی رات رسول اللہ ﷺ سوار ہوئے اور دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) سوار ہوئے۔ رعدت السماء، یہ الرعد سے ہے جس کا معنی ہے : گرج، اور برقت، البرق سے ہے اور رعدت المرأۃ وبرقت، عورت جب بناؤ سنگھار کر کے سامنے آئے، رعد الرجل وبرق، جب آدمی دھمکی دے اور ڈرائے۔ ابن احمر نے کہا : یا جل ما بعدت علیک بلادنا وطلابنا فابرق بارضک وارعد اے جل ! تجھ پر ہمارے شہر اور ہمارے مطلوب تجھ سے کتنے ہی دور ہوگئے ہیں اب تو اپنی زمین کو ڈرا دھمکا دے۔ ارعد القوم ابرقوا یعنی قوم کو کڑک اور بجلی نے آلیا۔ ابو عبیدہ اور ابو عمرو نے بیان کیا ہے : ارعدت السماء وابرقت۔ آسمان گرجا اور بجلی چمکی۔ ارعد الرجل وابرق فلاں نے دھمکی دی اور ڈرایا۔ اصمعی نے اس کا انکار کیا ہے اور اس پر اس کے خلاف کمیت کے قول سے حجت پکڑی گئی ہے۔ ابرق وارعد یا یزید فما وعیدک لی بضائر اے یزید ! تو دھمکی دے تیری دھمکی مجھے کچھ مضر نہیں۔ اصمعی نے کہا کمیت حجت نہیں ہے۔ فائدہ : حضرت ابن عباس سے مروی ہے، فرمایا : ہم حضرت عمر کے ساتھ مدینہ اور شام کے درمیان ایک سفر میں تھے اور ہمارے ساتھ حضرت کعب الاحبار بھی تھے۔ فرمایا : تیز ہوا چلنے لگی، بادل گرجنے لگا اور شدید بارش اور ٹھنڈک ہوگئی۔ لوگ گھبرا گئے۔ حضرت عباس نے کہا : مجھے کعب الاحبار نے کہا جس نے کڑک کی آواز سن کر کہا سبحان من یسبح الرعد بحمدہ والملائکۃ من خیفتہ تو اس بادل، ٹھنڈک اور بجلی میں جو مصیبت ہوگی اس سے وہ بچا لیا جائے گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : میں نے اور کعب نے یہ کلمات پڑھے جب صبح ہوئی تو لوگ جمع ہوئے تو میں نے حضرت عمر سے کہا : اے امیر المومنین ! لوگوں میں جو گھبراہٹ تھی وہ ہم میں نہ تھی۔ حضرت عمر نے پوچھا : وہ کیسے ؟ حضرت ابن عباس نے کہا : میں نے حضرت عمر سے حضرت کعب کی بات کہی تو حضرت عمر نے کہا : سبحان اللہ ! کیوں تم نے ہمیں نہیں بتایا کہ ہم بھی وہ کہتے جیسا تم نے کہا۔ ایک روایت میں ہے، ٹھنڈک حضرت عمر کے ناک کو لگی اور اس نے حضرت عمر پر اثر کیا۔ یہ روایت انشاء اللہ سورة رعد میں آئے گی۔ ابوبکر احمد بن علی بن ثابت الخطیب نے تابعین سے صحابہ کی روایات میں دو روایتیں ذکر کی ہیں۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کڑک اور بجلیوں کو سنتے تو یہ دعا کرتے : اللھم لا تقتلنا بغضبک ولا تھلکنا بعذابک وعانا قبل ذالک۔ (1) اے اللہ ! تو ہمیں اپنے غضب کے ساتھ ہلاک نہ کر اور تو ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک نہ کر اور ہمیں اس سے پہلے عافیت دے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے : یجعلون اصابعھم فی اذانھم انگلیوں کو اپنے کانوں میں ڈالنا اس لئے تھا تاکہ وہ قرآن نہ سنیں۔ کہیں ایسا نہ کہ وہ قرآن مجید اور محمد ﷺ پر ایمان لے آئیں یہ ان کے نزدیک کفر ہے اور کفر موت ہے۔ الاصابع کے واحد میں پانچ نعتیں ہیں : اصبع ہمزہ کے کسرہ اور با کے فتحہ کے ساتھ۔ أصبع، ہمزہ کے فتحہ اور باء کے کسرہ کے ساتھ۔ ہمزہ اور با کے فتحہ کے ساتھ دونوں کے ضمہ کے ساتھ، دونوں کے کسرہ کے ساتھ بھی بولا جاتا ہے۔ یہ مؤنث استعمال ہوتا ہے اسی طرح اذن (کان) مؤنث استعمال ہوتا ہے، اس میں تخفیف، تثقیل اور تصغیر بنائی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے : اذینۃ۔ اگر تو اذن کے ساتھ کسی کا نام رکھے تو اس کی تصغیر بنائے گا تو کہے گا : اذین، پھر یہ مؤنث استعمال نہ ہوگا کیونکہ مذکر کی طرف منتقل ہونے کی وجہ سے اس سے تانیث زائل ہوگئی۔ رہا عربوں کا قول : اذینۃ اسم علم تو اس کے ساتھ مصغر نام رکھا گیا ہے، اذن کی جمع آذان آتی ہے۔ تو کہتا ہے : اذنتہ جب تو اسے کان پر مارے، رجل اذن اس شخص کو کہا جاتا ہے جو ہر ایک کا کلام سنے اس میں واحد اور جمع برابر ہے۔ اذان بڑے کانوں والا۔ نعجۃ اذناء، کبش آذن (کانوں والی بھیڑ اور دنبہ) واذنت النعل وغیرھا تا ذیناً جب تو جوتے وغیرہ کے کان بنائے، واذنت الصبی جب تو بچے کا کان ملے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من الصواعق یعنی بجلیوں کی وجہ سے۔ الصواعق، جمع ہے صاعقہ کی۔ حضرات ابن عباس اور مجاہد وغیرہما نے کہا : جب الرعد فرشتہ زیادہ غضبناک ہوتا ہے تو اس کے منہ سے آگ نکلتی ہے یہی صواعق ہے۔ اسی طرح خلیل نے کہا۔ فرمایا : یہ رعد کی آواز سے شدید ہوتی ہے، اس کے ساتھ کبھی آگ کا ٹکڑا ہوتا ہے جس پر وہ گرتا ہے اسے جلا دیتا ہے۔ ابو زید نے کہا : الصاعقہ آگ ہے جو سخت کڑک میں آسمان سے گرتی ہے، خلیل نے ایک قوم سے الساعقۃ (سین کے ساتھ) حکایت کیا ہے۔ ابوبکر نقاش نے کہا، کہا جاتا ہے : صاعقۃ، صعقۃ و صاقعۃ تمام کا معنی ایک ہے۔ حسن نے من الصواقع (قاف کی تقدیم کے ساتھ) پڑھا ہے۔ اسی سے ابو النجم کا شعر ہے : یحکون بالمصقولہ القواطع تشقق البرق عن الصواقع نحاس نے کہا : یہ بنی تمیم اور بعض بنی ربیعہ کی لغت ہے۔ کہا جاتا ہے : صعقتھم السماء، جب آسمان لوگوں پر بجلی گرا دے۔ الصاعقۃ، عذاب کی ایک چیخ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فاخذتھم صعقۃ العذاب الھون (فصلت : 17) (تو پکڑ لیا انہیں اس عذاب کی کڑک نے جو رسوا کن ہے ) ۔ کہا جاتا ہے : صعق الرجل صعقۃ وتصعاقاً یعنی اس پر چھا گئی، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وخر موسیٰ صعقاً (اعراف :143) اصعقہ غیرہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس نے اسے ہلاک کردیا۔ ابن مقبل نے کہا : تری النعرات الزرق لبانہ أحاد ومثنی اصعق تھا صواھلہ اس کے سینے کے نیچے نیلی آنکھوں والی مکھیاں ایک ایک، دو دو دیکھتا ہے اس کے ہنہنانے نے ان کو قتل کردیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فصعق من فی السموت ومن فی الارض (الزمر :68) (یعنی فوت ہوگیا جو آسمانوں میں تھا اور جو زمین میں تھا) ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں منافقین کے احوال کو تشبیہ دی ہے ان چیزوں کے ساتھ جو بارش میں تاریکیاں، کڑک، چمک اور بجلیوں میں سے ہوتی ہیں۔ ظلمت ان کے کفریہ اعتقادات کی مثال ہے۔ کڑک اور چمک اس کی مثال ہے جس کے ساتھ انہیں ڈرایا جاتا ہے۔ بعض نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے قرآن کو بارش سے مثال دی کیونکہ اس میں ان پر بہت سی مشکلات تھیں۔ العمی سے مراد تاریکیاں ہیں اور جو اس میں وعید اور زجر ہے وہ کڑک ہے اور اس میں جو نور اور دلائل باہرہ ہیں جو کبھی ان پر ظاہر ہوتے ہیں وہ بجلی ہے۔ الصواعق یہ مثال ہے جو قرآن میں جلدی میں جنگ کی طرف نکلنے کی دعوت دی ہے اور تاخیر میں وعید دی گئی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : الصواعق شرع کی تکالیف ہیں جن کو وہ ناپسند کرتے تھے مثلاً جہاد، زکوٰۃ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حذر الموت، حذر اور حذار دونوں کا ایک معنی ہے اور دونوں طرح پڑھا بھی گیا ہے۔ یہ سیبویہ نے کہا : یہ منصوب ہے کیونکہ یہ مفعول لہ ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ یہ مصدر ہے۔ سیبویہ نے ایک شعر کہا ہے : واغفر عوراء الکریم اذخارہ واعرض عن شتم اللئیم تکرماً میں کریم شخص کی جہالت کو اس کے تعلق کو ذخیرہ کے لئے معاف کردیتا ہوں اور لئیم آدمی کی گالی سے تکرماً اعراض کرتا ہوں۔ فراء نے کہا : یہ تمییز کی وجہ سے منصوب ہے۔ الموت، حیاۃ کی ضد ہے، مات یموت ویمات استعمال ہوتا ہے۔ راجز نے کہا : بنیتی سیدۃ البنات عیشی ولا یؤمن ان تماتی اے میری بیٹی ! بیٹیوں کی سردار تھی تو زندہ رہے تیری موت سے امن نہیں۔ فھو میت ومیت، قوم موتی واموات ومیتون ومیتون والموات۔ الموت اور الموات ایسی چیز کو کہتے ہیں جس میں روح نہ ہو۔ الموات اس زمین کو کہتے ہیں جس کا کوئی انسان مالک نہ ہو اور نہ اس سے کوئی نفع اٹھاتا ہو۔ الموتان، یہ حیوان کا مخالف ہے۔ کہا جاتا ہے : اشترا لموتان ولا تشتر الحیوان یعنی زمینیں اور گھر خرید، غلام اور جانور مت خرید موتان اس موت کو کہتے ہیں جو جانوروں میں ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے : رقع فی المال مؤتان، اماتہ اللہ ومؤتہ۔ مبالغہ کے لئے تشدید ذکر کی گئی۔ شاعر نے کہا فعروۃ مات موتا مستریحاً فھا نذا اموت کل یوم عروہ تو آرام کی موت مرگیا میں ہوں کہ ہر روز مرتا ہوں اماتت الناقۃ، جب اونٹنی کا بچہ مرجائے، فھی ممیت وممیۃ۔ ابو عبیدہ نے کہا : اسی طرح اماتت امرأۃ ہے جس عورت کا بچہ مرجائے۔ اس کی جمع مماویت ہے۔ ابن سکیت نے کہا : امات فلان جب کسی کا ایک یا بہت سے بیٹے فوت ہوجائیں۔ المتماوت، ریاکار عبادت کرنے والے کی صفت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ موت مائت، جیسے تیرا قول ہے لیل لائل۔ اس لفظ سے صفت کا صیغہ بنایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ تاکید لگائی جاتی ہے المستمیت للأمر۔ ڈھیلا کام کرنے والا۔ رؤبہ نے کہا : وزبد البحر لہ کتیت واللیل فوق الماء مستمیت اور سمندر کی جھاگ اس کے لئے آواز ہے اور رات پانی کے اوپر سستی سے گزرنے والی ہے۔ المستمیت، اس شخص کو کہا جاتا ہے جو جنگ میں موت کی پرواہ نہیں کرتا۔ حدیث پاک میں ہے : اری القوم مستمیتین (1) وہ لوگ جو موت پر جنگ کرتے ہیں۔ المؤ تۃ، جنون اور مرگی کی ایک جنس ہے جو انسان کو لاحق ہوتی ہے جب اسے افاقہ ہوتا ہے تو پوری عقل اس کی طرف لوٹ آتی ہے جیسے سونے والے اور نشہ والے کے ساتھ ہوتا ہے۔ مؤتہ (میم کے ضمہ اور واو کے ہمزہ کے ساتھ) اس زمین کو بھی کہتے ہیں جہاں حضرت جعفر بن ابی طالب شہید ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واللہ محیط بالکفرین یہ مبتدا خبر ہیں۔ یعنی وہ اس سے فوت نہیں ہوں گے۔ کہا جاتا ہے : احاط السلطان بفلان جب بادشاہ کسی کو سختی سے پکڑ لے اور ہر جہت سے اس کا محاصرہ کرلے۔ شاعر نے کہا : احطنا بھم حتی اذا ما تیقنوا بما قد رأوا مالوا جمیعا الی السلم ہم نے ان کا گھیراؤ کیا حتیٰ کہ جب انہوں نے اس کا یقین کرلیا جو انہوں نے دیکھا تو وہ تمام صلح کی طرف مائل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واحیط بثمرہ (الکہف :42) (اور اس کا (باغ) برباد ہوگیا) ۔ اصل میں محیط تھا یاء کی حرکت حا کی طرف نقل کی گئی اور یا کو ساکن کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا احاطہ کرنے والا ہے یعنی وہ اس کے قبضہ اور اس کے غلبہ کے تحت ہے جیسا کہ فرمایا : والارض جمیعا قبضتہ یوم القیمۃ (الزمر : 67) (ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن ) ۔ بعض علماء نے فرمایا : محیط بالکفرین کا معنی ہے انہیں جاننے والا ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے : وان اللہ قد احاط بکل شیء علما۔ (الطلاق) (اور بیشک اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا اپنے علم سے احاطہ کر رکھا ہے) ۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے وہ انہیں ہلاک کرنے والا اور انہیں جمع کرنے والا ہے۔ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : الا ان یحاط بکم (یوسف :66) (مگر یہ کہ تمہیں بےبس کردیا جائے ) ۔ یعنی تم تمام ہلاک کئے جاؤ۔ کافروں کا خصوصی ذکر فرمایا کیونکہ آیت میں پہلے ان کا ذکر ہے۔
Ayah 2:20

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 2:20 in the Quran reader

قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے، جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہوجاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر خدا چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کردیتا، بلاشبہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

آیت نمبر 20 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یکاد البرق یخطف ابصارھم، یکاد بمعنی یقارب ہے۔ کہا جاتا ہے : کا دیفعل کذا جب کوئی شخص کام کرنے کے قریب ہو اور کرے نہیں۔ غیر قرآن میں جائز ہے یکاد ان یفعل، جیسا کہ رؤبۃ نے کہا : قد کا د من طول البلی ان یمصحا قریب ہے کہ لمبی آزمائش ختم ہوجائے۔ یہ المصح سے مشتق ہے جس کا معنی ہے ختم ہوجانا، مٹ جانا۔ بہتر یہ ہے کہ اس کی خبر بغیر ان کے ہو کیونکہ یہ حال کی مقاربت کے لئے آتا ہے اور ان کلام کو زمانہ مستقبل کی طرف پھیر دیتا ہے اور یہ منافات ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یکاد سنابرقہ یذھب بالابصار۔ (النور) عرب کلام میں ہے : کا د النمعام یطیر، شتر مرغ اڑنے کے قریب ہے۔ کا د العروس ان یکون امیرا، دولہا امیر ہونے کے قریب ہے ان کے اس حالت کے قریب ہونے کی وجہ سے۔ کا د فعل متصرف ہے فعل یفعل کے وزن پر۔ اس کی خبر کبھی اسم ہوتی ہے لیکن یہ بہت قلیل ہے۔ تابط شرا نے کہا : وما کدت آئبا میں لوٹنے کے قریب نہ ہوا۔ کرب، جعل، قارب اور طفق بغیر ان کے خبر استعمال ہونے میں کا د کی طرح ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وطفقا یخصفن علیھما من ورق الجنۃ (الاعراف : 22) (اور وہ دونوں چپٹانے لگ گئے اپنے (بدن) پر جنت کے پتے) ۔ یہ تمام الفاظ حال اور مقاربت کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ حال کے ساتھ ان نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یخطف ابصارھم، الخطف کا معنی ہے تیزی سے اچک لینا۔ ایک پرندے کو اس کی تیزی کی وجہ سے خطاف کہا جاتا ہے۔ پس جس نے قرآن کو تخویف (ڈرانے) کے لئے بنایا ہے معنی یہ ہے کہ جو ان پر نازل ہوتا اس کی وجہ سے ڈرتے ہیں کہ ان کی آنکھیں اچک نہ لے اور جس نے قرآن کو بیان کے لئے مثال بنایا جو قرآن میں ہے تو معنی یہ ہوگا کہ ان کے پاس بیان آیا جو ان پر غالب آگیا یخطف اور یخطف دونوں لغتیں ہیں دونوں طرح پڑھا گیا ہے۔ خطفہ یخطفہ خطفاً یہ عمدہ لغت ہے اور دوسری لغت کو اخفش نے بیان کیا ہے خطف یخطف۔ جوہری نے کہا : یہ قلیل اور ردی لغت ہے معروف نہیں۔ یونس نے اس لغت کے ساتھ آیت کو پڑھا ہے : یکاد البرق یخطف ابصارھم۔ نحاس نے کہا : یخطف میں سات وجوہ ہیں : قراءت فصیحہ یخطف ہے۔ علی بن الحسین اور یحییٰ بن وثاب نے یخطف طا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ سعید اخفش نے کہا : یہ بھی ایک لغت ہے۔ حضرات حسن، قتادہ، عاصم جحدری، ابو رجاء العطاردی نے یا کے فتح خا اور طا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حسن سے مروی ہے کہ انہوں نے خا کے فتحہ خا اور طا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حسن سے مروی ہے کہ انہوں نے خا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ فراء نے کہا : بعض اہل مدینہ نے خا کے سکون اور طا کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ کسائی، اخفش اور فراء نے کہا : یخطف یا، خا، طا کے کسرہ کے ساتھ جائز ہے۔ یہ چھ وجوہ ہیں جو لکھنے میں موافق ہیں۔ ساتویں صورت جسے عبد الوارث نے بیان فرمایا ہے، فرمایا : مصحف ابی بن کعب میں میں نے دیکھا یتخطف لکھا ہوا تھا۔ سیبویہ اور کسائی نے کہا کہ جس نے یخطف خا اور طا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے، اس کے نزدیک اس کی اصل یختطف ہے پھر تا کو طا میں ادغام کیا گیا۔ دو ساکن جمع ہوئے تو خا کو التقائے ساکنین کی وجہ سے کسرہ دیا گیا۔ سیبویہ نے کہا : جس نے خا کو فتحہ دیا اس نے تا کی حرکت اسے دی۔ کسائی نے کہا : جس نے یا کو کسرہ دیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اختطف میں الف مک سورة ہے اور فراء نے اہل مدینہ سے جو خاء کا سکون اور ادغام حکایت کیا ہے وہ معروف نہیں اور جائز نہیں کیونکہ اس میں دو ساکنوں کو جمع کرنا ہے یہ نحاس وغیرہ نے کہا ہے۔ میں کہتا ہوں : حسن اور ابورجاء سے یختطف مروی ہے۔ حضرت ابن مجاہد نے کہا : میں اسے غلط گمان کرتا ہوں، انہوں نے اس سے استدلال کیا ہے خطف الخطفۃ۔ کسی نے بھی اسے فتحہ کے ساتھ نہیں پڑھا۔ ابصارھم یہ بصر کی جمع ہے یہ دیکھنے کا حاسہ ہے۔ معنی یہ ہے کہ قریب تھا کہ حجج قرآنیہ اور براہین ساطعہ ان پر روشن ہونے کے قریب تھے اور جنہوں نے البرق کو ڈرانے کے لئے مثال بنایا ہے ان کے نزدیک معنی یہ ہوگا کہ جو ان پر مصیبت اتری ہے قریب ہے ان کی آنکھیں اچک لے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کلما اضاء لھم مشوا فیہ، کلما منصوب ہے کیونکہ یہ ظرف ہے اور جب کلما بمعنی اذا ہو تو یہ موصولہ ہوتا ہے۔ اس میں عامل مشوا ہے اور مشوا ہی اس کا جواب ہے، اس میں اضاء عامل نہیں ہے کیونکہ وہ ما کے ذمہ میں ہے اور مبرد کے قول کے مطابق مفعول محذوف ہے۔ اس کے نزدیک تقدیر عبارت اس طرح ہے : کلما اضاء لھم البرق الطریق۔ (یعنی جب بجلی نے ان کے لئے راستہ روشن کردیا۔ ) بعض علماء نے فرمایا : یہ بھی جائز ہے کہ فعل اور افعل اہم معنی ہوں، جیسے سکت اور اسکت ہم معنی ہیں۔ پس اضاء اور ضاء برابر ہون گے۔ مفعول کے حذف کی تقدیر کی ضرورت نہ رہے گی۔ فراء نے کہا : ضاء، اضاء پہلے گزر چکا ہے۔ معنی یہ ہے کہ جب وہ قرآن سنتے ہیں اور ان کے لئے حجج (دلائل) ظاہر ہوتے تو وہ مانوس ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ چلتے ہیں اور جب قرآن کا کوئی حصہ نازل ہوتا ہے جس میں وہ اندھے ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ گمراہ ہوتے ہیں یا انہیں اس کا مکلف بنایا جاتا ہے تو قاموا وہ اپنے نفاق پر ٹھہر جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : معنی یہ ہے کہ جب کھیتوں اور مواشی میں ان کے حالات درست ہوتے ہیں، نعمتیں متواتر ملتی ہیں تو کہتے ہیں : محمد ﷺ کا دین مبارک ہے اور جب ان پر کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے اور کسی سختی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ناراض ہوتے ہیں اور اپنے نفاق پر ٹھہر جاتے ہیں۔ یہ حضرت ابن مسعود اور قتادہ سے مروی ہے۔ نحاس نے کہا یہ قول عمدہ ہے اور اس کی صحت پر دلیل یہ ارشاد ہے : ومن الناس یعبد اللہ علی حرف فان اصابہ خیر اطمان بہ وان اصابتہ فتنۃ انقلب علی وجھہ (الحج :11) اور لوگوں میں سے وہ بھی ہے جو عبادت کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی کنارہ پر (کھڑے کھڑے) پھر اگر پہنچے اسے بھلائی (اس عبادت سے) تو مطمئن ہوجاتا ہے اور اگر پہنچے اسے کوئی آزمائش تو فوراً (دین سے) منہ موڑ لیتا ہے۔ علماء صوفیہ نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی مثال بیان فرمائی ہے جس کے ابتداءً احوال ارادت درست نہیں ہوتے، پس وہ اپنے دعاوی کے ساتھ ان احوال سے اکابر کے احوال تک بلند ہوتا ہے، گویا اس پر ارادت کے احوال روشن ہوتے اگر وہ ارادت کے اداب کی ملازمت کے ساتھ ارادت کو صحیح کرتا۔ جب اس نے ارادت میں دعاوی کی ملاوٹ کردی تو اللہ تعالیٰ اس سے وہ انوار لے گیا اور اسے اپنے دعو وں کی تاریکیوں میں چھوڑ دیا۔ اب وہ ان تاریکیوں سے خروج کا راستہ نہیں دیکھتا۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس سے مراد یہود ہیں، جب نبی کریم ﷺ کی جنگ بدر میں مدد کی گئی تو انہوں نے طمع کیا اور کہا : اللہ کی قسم ! یہی وہ نبی ہے جس کی ہمیں موسیٰ (علیہ السلام) نے بشارت دی تھی کہ اس کا جھنڈا سرنگوں نہ ہوگا۔ جب احد میں شکست کا سامنا ہوا تو یہ لوگ مرتد ہوگئے اور شک کرنے لگے۔ یہ قول ضعیف ہے۔ یہ آیت منافقین کے متعلق ہے۔ یہ حضرت ابن عباس سے اصح قول ہے اور معنی تمام اقوال کو شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولو شاء اللہ لذھب بسمعھم وابصارھم “ لو ” یہ حرف تمنا ہے۔ اس میں جزا کا معنی ہے۔ اس کا جواب لام یعنی جس جملہ پر لام ہے۔ معنی یہ ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو مومنین کو ان پر مطلع کردیتا پھر ان سے اسلام کی عزت چھین لیتا، مومنین کو ان پر غلبہ عطا فرما کر اور انہیں قتل کر کے اور انہیں مسلمانوں سے باہر نکال کر۔ یہاں سمع اور بصر کو خصوصا ذکر فرمایا کیونکہ پہلی آیت میں ان کا ذکر ہوچکا ہے یا اس لئے کہ یہ انسان میں معزز چیزیں ہیں۔ باسماعھم بھی پڑھا گیا ہے۔ اس پر کلام پہلے اسی جز میں گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان اللہ علی کل شیء قدیر اس میں عموم ہے متکلمین کے نزدیک جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو موصوف کرنا جائز ہے، اس پر اس کی قدرت مراد ہے۔ امت کا اس پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قدیر کہا جائے۔ اللہ تعالیٰ قدیر، قادر اور مقتدر ہے۔ قدیر میں قادر کی نسبت زیادہ مبالغہ ہے۔ زجاجی نے کہا ہے : ہر وی نے کہا : قدیر، قادر دونوں کا ایک معنی ہے۔ کہا جاتا ہے : قدرت علی الشیء اقدر قدر اً ومقتدرۃ ومقدرۃ وقدر اناً (یعنی قدرۃ) الاقتدار علی الشیء کا مطلب اس پر قدرت ہونا ہے۔ اللہ تعالیٰ قادر، مقتدر اور قدیر ہے۔ ہر ممکن چیز پر جو وجود اور عدم کو قبول کرتی ہے۔ ہر مکلف پر واجب ہے کہ وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے، اسے قدرت ہے، اپنے علم اور اختیار سے جو چاہتا ہے کرتا ہے اور انسان پر یہ جاننا بھی واجب ہے کہ بندہ کی وہ قدرت جس کے ساتھ وہ کوئی کام کرتا ہے وہ قدرت ہے جو اللہ تعالیٰ نے عادۃً پیدا فرمائی، بندہ اس قدرت کا مختار نہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت قدرت خاص طور پر ذکر فرمائی، کیونکہ پہلے ایک ایسے فعل کا ذکر گزرا ہے جو وعید اور خوف دلانے کو متضمن ہے، پس یہاں قدرت کا ذکر ہی مناسب تھا۔ یہ بیس آیات ہیں، کو فیوں کی تعداد کے مطابق چار آیات مومنین کی شان میں پھر دو آیات کافروں کے ذکر میں ہیں اور بقیہ تمام منافقین کے بارے میں ہیں۔ اس کے متعلق روایت ابن جریج سے گزر چکی ہے۔ یہ مجاہد کا بھی قول ہے۔
Ayah 2:21

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:21 in the Quran reader

لوگو ! اپنے پروردگار کی عبادت کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم (اس کے عذاب سے) بچو

آیت نمبر 21 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یایھا الناس اعبدوا ربکم علقمہ اور مجاہد نے کہا : ہر وہ آیت جس کی ابتدا میں یا یھا الناس ہے وہ مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اور ہر آیت جس کی ابتدا میں یایھا الذین امنوا ہے وہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ میں کہتا ہوں : اس قول کا رداس سے ہوجاتا ہے کہ یہ سورة اور سورة نساء مدنی ہیں۔ ان میں یایھا الناس آیا ہے۔ رہا یہ کہ یایھا الذین امنوا جس سورت میں ہے وہ مدنی ہے۔ یہ قول صحیح ہے۔ عروہ بن زبیر نے کہا : ہر حد اور ہر فرض مدینہ طیبہ میں نازل ہوا اور جہاں امم اور عذاب کا ذکر ہے وہ مکہ میں نازل ہوا۔ یہ واضح ہے۔ “ یا ” یایھا میں حرف ندا ہے۔ ای منادیٰ مفرد مبنی بر ضمہ ہے۔ کیونکہ لفظ میں وہ منادیٰ ہے اور ھا تنبیہ کے لئے ہے۔ الناس مرفوع ہے کیونکہ ای کی صفت ہے۔ یہ جمہور نحویوں کے نزدیک ہے، سوائے مازنی کے۔ انہوں نے یا ھذا الرجل میں نصب کے جواز پر قیاس کرتے ہوئے اس میں نصب کو جائز قرار دیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : ای کو ضمہ دیا گیا ہے جس طرح مقصود مفرد کو ضمہ دیا جاتا ہے اور ھا کو دوسری یا کے عوض ذکر کیا یا کو ذکر نہیں کیا تاکہ کلام منقطع نہ ہوجائے۔ ھا کو ذکر کیا تاکہ کلام متصل رہے۔ سیبویہ نے کہا : گویا تو نے یا کو دوبارہ ذکر کیا۔ اور اسم ان دونوں کے درمیان ہوگیا جس طرح وہ کہتے ہیں : ھا ھوذا۔ بعض علماء نے فرمایا : جب دو حریف تعریف سے خالی منادیٰ کی صورت میں ذکر کیے اور اس پر معرف باللام المقصود بالنداء کے احکام پر جاری کئے اور اس کے رفع کا التزام کیا کیونکہ وہ مقصود بالنداء ہے، پس انہوں نے ایسی حرکت کے ساتھ اس کو اعراب دیا جس کا وہ مستحق تھا اگر اس کے ساتھ حرف ندا ملا ہوا ہوتا اس بات پر تنبیہ کرتے ہوئے کہ یہ منادیٰ ہے۔ علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ الناس سے کون مراد ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ کفار مراد ہیں جنہوں نے عبادت نہ کی۔ اس پر یہ قول دلالت کرتا ہے وان کنتم فی ریب (البقرہ : 23) دوسرا قول یہ ہے کہ یہ تمام لوگوں کو شامل ہے۔ پس مومنین کے لئے خطاب ہمیشہ عبادت کرتے رہنے کے لئے ہے اور کفار کے لئے عبادت شروع کرنے کے لئے ہے۔ یہ قول عمدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اعبدوا یہ عبادت کا حکم ہے۔ یہاں عبادت سے مراد اس کی توحید کا اقرار اور اس کے دین کی شرائع کا التزام ہے۔ عبادت کی اصل خضوع اور تذلیل ہے، کہا جاتا ہے : طریق معبدۃ، جب راستہ قدموں سے روندا گیا ہو طرفہ نے کہا : وظیفا وظیفاً فوق مور معبد۔ میں موٹی پنڈلیوں والی اونٹنی کے پیچھے روندے ہوئے راستہ کے اوپر چلا۔ عبادت کا معنی طاعت ہے۔ التعبد کا معنی التنسک (احکام بجا لانا) عبدت فلاناً میں نے اسے غلام بنایا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الذی خلقکم اللہ تعالیٰ نے ان کی تخلیق کو خاص طور پر ذکر کیا ہے کیونکہ عرب اس بات کے مقر تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر بطور حجت اس کو ذکر کیا اور انہیں متنبہ کرنے کے لئے اس صفت کو ذکر کیا۔ بعض علماء نے فرمایا تاکہ انہیں اپنی نعمت یاد دلائے جو اس نے ان پر کی ہوئی ہے۔ الخلق کی اصل میں دو وجہیں ہیں : 1 : تقدیر۔ کہا جاتا ہے خلقت الادیم للسقاء جب تو چمڑے کو مشکیزے کے لئے کاٹنے سے پہلے اندازہ کرے تو یہ جملہ بولے۔ شاعر نے کہا : ولانت تفری ما خلقت وبعد ضالقوم یخلق ثم لا یفری تو وہ ہے کہ جس کا تو اندازہ کرتا ہے اسے کر گزرتا ہے اور بعض لوگ اندازہ کرتے ہیں پھر اس کام کو کر نہیں سکتے۔ حجاج نے کہا : ما خلقت الافریت ولا وعدت الا وفیت یعنی میں نے کبھی اندازہ نہیں کیا مگر اسے کر گزرا۔ اور میں نے کبھی وعدہ نہیں کیا مگر میں نے اسے پورا کیا۔ 2۔ خلق کا دوسرا معنی انشاء اختراع اور ابداع ہے (یعنی پیدا کرنا) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وتخلقون افکا (عنکبوت :17) اور تم گھڑا کرتے ہو نرا جھوٹ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والذین من قبلکم کہا جاتا ہے کہ جب ان کے نزدیک ان کی تخلیق ثابت تھی تو دوسروں کی تخلیق بھی ان کے نزدیک ثابت تھی (تو پھر پہلے لوگوں کی تخلیق کا ذکر کیوں کیا) ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کلام کو تنبیہ اور تذکیر کے لئے جاری فرمایا تاکہ نصیحت میں بلیغ ہوجائے۔ انہیں پہلے لوگ یاد دلائے تاکہ وہ جان لیں کہ جس ذات نے ان سے پہلے لوگوں کو موت دی اور وہ ان کا بھی خالق ہے، انہیں بھی مارے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ پہلے لوگوں میں غوروفکر کریں کہ وہ کیسے تھے اور کن امور کی بناء پر ہلاک ہوئے، تاکہ وہ جان لیں کہ انہیں بھی مبتلا کیا جائے گا جیسے وہ لوگ مبتلا کئے گئے۔ واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لعلکم تتقون، لعل اعبدوا کے متعلق ہے، خلقکم کے متعلق نہیں ہے، کیونکہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے جہنم کے لئے پیدا فرمایا ہے اس نے انہیں تقویٰ کے لئے پیدا نہیں فرمایا۔ اس قسم کا کلام جو کلام الٰہی میں وارد ہے مثلاً لعلکم تعقلون، لعلکم تشکرون، لعلکم تذکرون، لعلکم تھتدون، تو اس میں تین تاویلات ہیں : 1۔ لعل ترجی اور توقع کے معنی میں ہے اور ترجی اور توقع یہ بشر کی چیز میں ہے۔ گویا انہیں کہا گیا یہ کرو اس امید پر کہ تم سمجھ جاؤ، تم نصیحت حاصل کرلو اور متقی بن جاؤ۔ یہ سیبویہ اور زبان عرب کے رؤساء کا قول ہے۔ سیبویہ نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق کہا : اذھبا الیٰ فرعون انہ طغیٰ ۔ فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکراو یخشیٰ ۔ (طہٰ ) اس کا معنی ہے تم اپنی اس طمع اور رجا پر جاؤ کہ وہ نصیحت حاصل کرے گا یا ڈرے گا۔ اس قول کو ابو المعالی نے پسند کیا ہے۔ 2۔ عرب لعل کو شک سے پاک لام کی کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ معنی یہ ہوگا تاکہ تم سمجھ جاؤ، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ اس پر شاعر کا قول دلالت کرتا ہے : وقلتم لنا کفوا الحروب لعلنا نکف و وثقتم لنا کل موثق فلما کففنا الحرب کا نت عھود کم کلمع سراب فی الملاء متالق تم نے ہمیں کہا : جنگ روک لو تاکہ ہم رک جائیں اور تم نے ہمیں ہر پختہ عہد دیا۔ جب ہم نے جنگ کو روک لیا تو تمہارے عہد صحرا میں سراب کی چمک کی طرح تھے۔ مطلب یہ ہے کہ کفوا الحروب لنکف۔ جنگ کو روکو تاکہ ہم روک لیں۔ اگر لعل یہاں شک کے لئے ہوتا تو وہ ان کے لئے ہر پختہ عہد نہ کرتے۔ یہ قول قطرب اور طبری سے منقول ہے۔ 3۔ لعل اس معنی میں ہے کہ کسی شے سے تعرض کرنا۔ گویا کہ کہا گیا : یہ کرو تعرض کرتے ہوئے تاکہ سمجھ جاؤ یا نصیحت حاصل کرلو، یا متقی بن جاؤ۔ لعلکم تتقون کا معنی ہے تاکہ تم امر الٰہی کی قبولیت کو اپنے اور آگ کے درمیان بچاؤ کا ذریعہ بنا لو۔ یہ عربوں کے اس قول سے ہے اتقاہ بحقہ۔ جب تو اس کے حق کو قبول کرے گویا اس نے اسے اپنا حق دے کر اس کے مطالبہ سے بچاؤ حاصل کرلیا، اسی سے حضرت علی کا قول ہے : کنا اذا احمرالبأس اتقینا بالنبی ﷺ (1) ۔ جب جنگ شدید ہوجاتی تو ہم نبی کریم ﷺ کی ذات کو دشمن سے بچاؤ کا ذریعہ بناتے، عشرہ نے کہا۔ ولقد کر رت المھر یدمی نحرہ حتی اتقتنی الخیل یا بنی حذیم میں نے گھوڑے کو پلٹایا حالانکہ اس کا سینہ زخمی تھا، حتیٰ کہ گھوڑوں نے مجھے میرے بیٹے حذیم کے ساتھ بچایا۔
Ayah 2:22

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:22 in the Quran reader

جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے مینہ برسا کر تمہارے کھانے کیلئے انواع و اقسام کے میوے پیدا کئے پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ اور تم جانتے تو ہو

آیت نمبر 22 اللہ تعالیٰ کے ارشاد : الذی جعل لکم الارض فراشا میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: الذی جعل۔ یہاں جعل بمعنی صیر ہے۔ کیونکہ یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے، جعل، خلق کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ما جعل اللہ من بحیرۃ ولا سائبۃ (المائدہ : 103) نہیں مقرر کیا اللہ تعالیٰ نے بحیرہ اور سائبہ۔ اور ارشاد ہے جعل الظلمت والنور (الانعام : 1) اور بنایا اندھیروں کو اور نور کو یہ سمی مقرر کے معنی میں بھی آتا ہے اس معنی ہے یہ ارشاد ہے حم۔ والکتب المبین۔ انا جعلنہ قرءٰ ناً عربیا یعنی ہم نے اس کا نام قرأنا عربیاً رکھا، اور ارشاد ہے وجعلوا لہ من عبادہ جزءًا (الزخرف : 15) اور بنا دی ہے (مشرکوں نے) اس کے لئے اس کے بندوں سے جز اور وجعلو الملٰئکۃ الذین ھم عبد الرحمن اناثا (الزخرف : 19) اور انہوں نے ٹھہرا لیا ہے فرشتوں کو جو خدا وند رحمن کے بندے ہیں عورتیں۔ ان تمام ارشادات میں جعل بمعنی سمی ہے یعنی نام رکھنا۔ اور خلق اخذ کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے شاعر نے کہا : وقد جعلت نفسی تطیب لضغۃ لضغمھما ھا یقرع العظم نابھا اس میں جعل، خلق اور اخذ کے معنی میں ہے۔ کبھی جعل زائدہ ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا : وقد جعلت اری الاثنین اربعۃ والواحد اثنین لما ھدنی الکبر میں نے دو کو چار دیکھا اور ایک کو دو دیکھا جب مجھے بڑھاپے نے آلیا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : جعل الظلمت والنور (الانعام :1) میں بھی کہا گیا ہے کہ یہاں جعل زائدہ ہے۔ جعل اور اجتعل ایک معنی میں ہیں۔ شاعر نے کہا : ناط امر الضعاف واجتعل اللیہ لک حبل العادیۃ الممدود اس میں اجتعل بھی جعل ہے۔ فراشا وہ بچھونا جو لوگ بچھاتے ہیں اور اس پر قرار پکڑتے ہیں اور وہ جگہیں جو بچھونا نہیں ہیں جیسے پہاڑ، نشیبی علاقے، سمندریہ بچھو کے مصالح میں سے ہیں کیونکہ پہاڑ کیلوں کی طرح ہیں جیسے فرمایا الم نجعل الارض مھدًا۔ والجبال اوتاداً ۔ (النباء) کیا ہم نے انہیں بنا دیا زمین کو بچھونا اور پہاڑوں کو میخیں۔ اور سمندر، منافع کے حصول کے لئے ان پر سواری کی جاتی ہے جیسے فرمایا : والفلک التی تجری فی البحر بما ینفع الناس (البقرہ : 164) اور جانوروں میں سے جو چلتے ہیں سمندر میں وہ چیزیں اٹھائیں جو نفع پہنچاتی ہیں لوگوں کو۔ مسئلہ نمبر 2: شوافع نے کہا : اگر کوئی شخص قسم اٹھائے کہ وہ بستر پر رات نہیں گزارے گا یا چراغ کی روشنی میں نہیں بیٹھے گا پھر اس نے زمین پر گزاری اور سورج کی دھوپ میں بیٹھا تو وہ حانث نہ ہوگا کیونکہ لفظ عرفاً ان کی طرف راجع نہیں ہوتا۔ مالکی علماء فرماتے ہیں : ایمان کی قسمیں نیت یا سبب یا بساط پر محمول ہوں گی جس پر قسم جاری ہوئی۔ اگر یہ نہ تو عرف کا اعتبار ہوگا۔ مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والسماء بنأء آسمان زمین کے لئے ایسے ہے جیسے گھر کے لئے چھت۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وجعلنا السماء سقفا محفوظا (الانبیاء : 32) (ہم نے بنایا آسمان کو ایک چھت جو (شکست وریخت سے) محفوظ ہے ہر وہ چیز جو بلند ہو اور سایہ کرے اسے سماء کہا جاتا ہے، اس کے متعلق پہلے کلام گزر چکی ہے۔ تتقون پر وقف کی نسبت بناء پر وقف زیادہ بہتر ہے کیونکہ الذی جعل لکم الارض فراشا۔ رب کی صفت ہے۔ کہا جاتا ہے : بنی فلان بیتاً وبنی علی اھلہ۔ فلاں نے گھر بنایا، اپنی بیوی سے شب زفاف گزاری۔ عام لوگ کہتے ہیں : بنی باھلہ۔ یہ غلطی ہے۔ گویا اس میں اصل یہ ہے کہ جو اپنے گھر والوں کے پاس آتا ہے تو وہ اپنی اہلیہ پر دخول کی رات قبہ بناتا ہے پس اپنے اہل کے پاس جانے والے کو بان کہتے ہیں۔ بنی کثرت کے لئے تشدید ذکر کرتے ہیں۔ ابتنیٰ داراً وبنی دونوں کا ایک معنی ہے۔ اس نے گھر بنایا۔ اسی سے بنیان الحائط ہے۔ اس کی اصل یہ ہے کہ ایک اینٹ پر دوسری اینٹ رکھنا حتیٰ کہ دیوار قائم ہوجائے۔ الماء کی اصل موۃ ہے۔ ما قبل فتحہ کی وجہ سے واؤ متحرک کو الف سے بدلا گیا تو تو نے کہا ماہٌ۔ پھر دو حرف خفی ملے تو ھاء کو ہمزہ سے بدل دیا گیا۔ کیونکہ وہ زیادہ پختہ ہے اور یہ الف کے زیادہ مشابہ ہے۔ تو تو نے کہا : ماءٌ۔ پہلا الف فعل کا عین کلمہ ہے اور اس کے بعد وہ ہمزہ ہے جو ھا کا بدل ہے اور ہمزہ کے بعد الف ہے جو تنوین کا بدل ہے۔ ابو الحسن نے کہا : بصریوں کے نزدیک صرف دو الف کے ساتھ لکھنا جائز ہے۔ اگر تو چاہے تو تین الف کے ساتھ لکھے۔ جب عرب اس کی جمع بناتے ہیں یا تصغیر بناتے ہیں تو اصل کی طرف لوٹاتے ہیں۔ کہتے ہیں : مویۃ، وامواۃ ومیاہٌ جیسے جمال و اجمال۔ مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاخرج بہ من الثمرات رزقا لکم، الثمرات ثمرۃ کی جمع ہے کہا جاتا ہے ثمر جیسے شجر۔ کہا جاتا ہے ثمر جیسے خشب، کہا جاتا ہے ثمر مثل بدن۔ ثمار جیسے اکام یہ ثمر کی جمع ہے اس کا مزید بیان انشاء اللہ سورة الانعام میں آئے گا۔ ثمار السیاط کوڑے کے اطراف کی گرہیں۔ آیت کا معنی ہے ہم نے تمہارے لئے مختلف رنگ کے پھل اور مختلف قسم کے نبات نکالے۔ رزقاً تمہارے کھانے اور تمہارے جانوروں کے لئے چارہ۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان نے اس کی وضاحت کردی أنا صمبنا الماء صبا۔ ثم شققنا الارض شقا۔ فانبتنا فیھا حبا۔ وعنبا و قضبا۔ وزیتوناً ونخلاً ۔ وحدأئق غلباً ۔ وفاکھۃ وابا۔ متاعا لکم ولانعامکم۔ (عبس) بیشک ہم نے زور سے پانی برسایا پھرا چھی طرح پھاڑا زمین کو پھر ہم نے اگایا اس میں غلہ اور انگور اور ترکاریاں اور زیتون اور کھجوریں اور گھنے باغات اور طرح طرح کے پھل اور گھاس سامان زیست تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لئے۔ رزق پر تفصیلی کلام گزر چکا ہے۔ الحمد للہ اگر کہا جائے کہ پھلوں میں جو اس نے نکالا اس پر تملک (مالک ہونا) سے پہلے رزق کے اسم کا اطلاق کیسے کیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کیونکہ وہ اس لائق ہیں کہ ان کا مالک ہوا جائے اور ان میں انتفاع صحیح ہو۔ پس یہ رزق ہے۔ مسئلہ نمبر 5: میں کہتا ہوں : یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہر مخلوق سے غنی کردیا ہے۔ اس وجہ سے نبی کریم ﷺ نے اس معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : اللہ کی قسم ! تم میں سے کوئی اپنی رسی اٹھائے پھر اپنی پیٹھ پر لکڑیاں اٹھا کرلے آئے تو اس کے لئے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی سے سوال کرے خواہ وہ اسے عطا کرے یا عطا نہ کرے (1) ۔ اس حدیث کو مسلم نے نقل کیا ہے۔ اس حدیث میں “ لکڑیاں اٹھائے ” کے معنی میں تمام صنعتوں میں مشغول ہوتا ہے۔ پس جس نے حرص، امید اور دنیا کی چمک میں رغبت کے سبب اپنے جیسے انسان کی طرف اپنے نفس کو محتاج بنایا تو اس نے اس شخص کی طرف کو پکڑا جس نے اللہ تعالیٰ کے لئے مد مقابل بنایا۔ علماء صوفیہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فقر کا راستہ بتایا ہے وہ یہ ہے کہ تو زمین کو بچھونا بنا، آسمان کو پردہ بنا، پانی کو پاک مشروب، گھاس کو کھانا بنا۔ دنیا کے سبب مخلوق میں سے کسی کی عبادت نہ کر کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وہ سب کچھ تجھے عطا فرمایا جو تیری زندگی کے لئے ضروری تھا۔ اس میں کسی انسان کا تجھ پر احسان نہیں ہے۔ نوف البکالی نے کہا : میں نے علی بن طالب کو دیکھا، وہ باہر نکلے اور ستاروں کی طرف دیکھا۔ پھر فرمایا : اے نوف ! کیا تو سویا ہوا ہے یا دیکھ رہا ہے ؟ میں نے کہا : اے امیر المومنین ! میں دیکھ ہوں، حضرت علی ؓ نے فرمایا : دنیا سے دلچسپی نہ رکھنے والوں اور آخرت میں رغبت کرنے والوں کو مبارک ہو۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے زمین کو بساط بنایا، اس کی مٹی کو بچھونا بنایا، اس کے پانی کو پاکیزہ رزق بنایا۔ قرآن اور دعا کو اندر اور باہر کا لباس بنایا، حضرت مسیح (علیہ السلام) کے طریقہ پر دنیا کو ترک کردیا۔۔۔۔ باقی حدیث بھی ذکر کی (2) ۔ اسی سورت میں اجیب دعوۃ الداع (البقرہ :186) کے تحت آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ مسئلہ نمبر 6: فلا تجعلوا۔ یہ نہی ہے۔ انداداً ۔ ہم پلہ، امثال اس جیسے، اس کا واحد ند ہے۔ محمد بن سمیقع نے نداً پڑھا ہے۔ شاعر نے کہا۔ نحمد اللہ ولا ندلہ عندہ الخیر وما شاء فعل ہم اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں، اس کا کوئی مد مقابل نہیں، اسی کے پاس ساری خبر ہے، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ حضرت حسان نے کہا : أتھجوہ ولست لہ بند فشرکما لخیر کما الفداء کیا تو محمد ﷺ کی شان میں بکواس کرتا ہے، تو تو اس کا ہم مثل ہی نہیں۔ پس تم میں سے برا تم میں سے بہتر کے لئے قربان ہوجائے۔ کہا جاتا ہے : ندٌ وندیدٌ وندیدۃ سب کا معنی مد مقابل ہے۔ لبید نے کہا : لیکلا یکون السندری ندیدتی واجعل اقواماً عموماً عماعما تا کہ سندری میرا مقابل نہ ہو اور میں جمع شدہ قوم کو جدا جدا نہ کردوں ابو عبیدہ نے کہا : اندادًا کا معنی ہے : اضداداً (مدمقابل ) ۔ نحاس نے کہا : انداداً پہلا مفعول ہے اور للہ دوسرے مفعول کی جگہ ہے۔ جوہری نے کہا : الند (بفتحہ نون) آسمان کی طرف بلند ٹیلے کو کہتے ہیں اور خوشبو میں سے الند عربی میں نہیں ہے۔ ند البعیر یند نداً ونداداً وندوداً ، جدھر منہ آئے بھاگ جانا۔ اسی سے بعض نے یوم التناد پڑھا ہے نددبہ یعنی اس نے اسے شہرت دی۔ مسئلہ نمبر 7: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانتم تعلمون یہ مبتدا خبر ہیں اور جملہ حال واقع ہو رہا ہے، خطاب کافروں اور منافقین کو ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے، اگر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا وصف علم کے ساتھ کیسے بیان فرمایا اس کے برعکس ختم، طبع، الصمم اور العمی کے ساتھ پہلے ان کا وصف بیان کیا۔ اس کا جواب دو طرح سے ہے : 1۔ وانتم تعلمون سے مراد علم خاص ہے وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا، پانی کو نازل کیا، رزق کو اگایا۔ پس وہ جانتے ہیں کہ وہی انعام فرمانے والا ہے، نہ کہ اس کے مقابل (جو انہوں نے خود بنا رکھے ہیں ) ۔ 2۔ معنی یہ ہے کہ تم بالقوۃ اور بالامکان اس کی وحدانیت کو جان لیتے ہو اگر تم غورو فکر کرتے۔ واللہ اعلم۔ اس میں دلیل ہے عقلی دلائل کے استعمال کے امر پر اور تقلید کو باطل کرنے پر۔ ابن فورک نے کہا : یہ بھی احتمال ہے کہ آیت مومنین کو بھی شامل ہو۔ معنی یہ ہوگا : اے مومنو ! مرتد نہ ہوجانا اور اللہ تعالیٰ کے مد مقابل نہ بنانا اس علم کے بعد کہ اللہ ایک ہے (1)
Ayah 2:23

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:23 in the Quran reader

اور اگر تم کو اس (کتاب) میں جو ہم نے اپنے بندے (محمد عربی ﷺ پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اس طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو

آیت نمبر 23 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان کنتم فی ریب یعنی اگر تم شک میں ہو، مما نزلنا یعنی القرآن۔ اس آیت کا مخاطب مشرک ہیں جن کو چیلنج کیا گیا کیونکہ انہوں نے جب قرآن سنا تو کہا : یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے مشابہ نہیں ہے۔ ہم اس میں شک کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس آیت کا ماقبل سے اتصال اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب پہلی آیت میں اپنی وحدانیت وقدرت پر دلالت کو ذکر کیا تو اس کے بعد اپنے نبی کی نبوت پر دلالت کو ذکر کیا ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آیا ہے وہ اس کا اپنا گھڑا ہوا نہیں ہے۔ عبدنا : یعنی محمد ﷺ ۔ عبد، تعبد سے ماخوذ ہے جس کا معنی عجزو انکساری کرنا، غلام کو عبد اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے آقا کے سامنے عجز اور خضوع کا اظہار کرتا ہے۔ طرفہ نے کہا : الی ان تحامتنی العشیرۃ کلھا وافردت افراد البعیر المعبد یہاں تک کہ پورے خاندان نے مجھے روکا اور مذلل اونٹ جدا ہونے کی طرح میں جدا ہوگیا۔ بعض علماء نے کہا : جب عبادت معزز ترین خصلت ہے اس کے ساتھ نام رکھنا معزز ترین درجہ ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو عبد کہہ کر ذکر فرمایا۔ یا قوم قلبی عند زھراء یعرفہ السامع والرانی لا تدعی الابیا عبدھا فانہ اشرف اسمانی اے میری قوم ! میرا دل زہراء کے پاس ہے جس کو ہر سامع اور دیکھنے والا جانتا ہے۔ وہ مجھے نہیں پکارتی مگر یا عبد کہہ کر، کیونکہ یہ میرے معزز ناموں میں سے ہے۔ فاتوا بسورۃٍ فاء جواب شرط ہے۔ تو لے آؤ ایک سورت کیونکہ یہ مجئی کے باب سے ہے۔ یہ ابن کیسان نے کہا ہے، یہ امر کا صیغہ ہے اور یہاں اس کا معنی عاجز کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو سورت لانے سے ان کا عجز معلوم تھا۔ السورۃ، السور کا واحد ہے اس کے متعلق کلام اس سورت میں اور اعجاز قرآن کی بحث میں گزر چکا ہے یہاں اعادہ کی ضرورت نہیں۔ من مثلہ میں “ من ” زائدہ ہے جیسا کہ فاتوا بسورۃ مثلہ کہا ہے اور مثلہ کی ضمیر کا مرجع جمہور مفسرین کے نزدیک قرآن ہے جیسے حضرات قتادہ، مجاہدوغیرہما۔ بعض مفسرین نے فرمایا : اس کا مرجع تورات اور انجیل ہیں معنی یہ ہوگا کہ تم اس کی مثل کتاب سے سورت لے آؤ، کیونکہ تورات وانجیل اس کی تصدیق کرتی ہیں جو اس میں ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : ضمیر کا مرجع نبی کریم ﷺ کی ذات ہے۔ معنی یہ ہوگا کہ کوئی سورت لاؤ کسی ایسے بشر سے جو آپ کی مثل ہو جو نہ لکھتا ہو نہ پڑھتا ہو۔ ان دونوں تاویلوں پر من تبعیضیہ ہوگا اور مثلہ پر وقف تام نہ ہوگا کیونکہ وادعوا کا تعلق اس کے ساتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وادعوا شھدأء کم، شھدأء سے مراد مددگار اور حمایتی ہیں۔ فراء نے کہا : اس سے مراد ان کے معبود (بت) ہیں۔ ابن کیسان نے کہا : اگر کہا جائے کہ یہاں شہداء کا ذکر کیسے کیا۔ شہداء تو اس لئے ہوتے ہیں تاکہ وہ کسی امر کی گواہی دیں یا کسی امر کی خبر دیں جو انہوں نے دیکھا ہو۔ انہیں تو کہا گیا ہے : فاتوا بسورۃ من مثلہ ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا معنی ہے : اپنے علماء میں سے جو پاؤ ان سے مدد طلب کرو اور انہیں لے آؤ تاکہ وہ دیکھیں جو تم لے کر آتے ہو۔ تو یہ تمام لوگوں پررد، حجت قائم کرنے کے اعتبار سے زیادہ مؤکد ہے۔ میں کہتا ہوں : مجاہد کے قول کا یہی معنی ہے۔ مجاہد نے کہا : ادعوا شھداء کم کا معنی ہے : لوگوں کو بلاؤ جو تمہارے لئے گواہی دیں کہ تم نے قرآن کا مقابلہ پیش کردیا ہے۔ نحاس نے کہا : شھدأء کم فعل کے ساتھ اس کو نصب دی گئی ہے اور یہ شھید کی جمع ہے۔ کہا جاتا ہے : شاھد، وشھید، جیسے قادر وقدیر۔ من دون اللہ یعنی اللہ کے سوا دوسروں سے، دون کا لفظ فوق کی نقیض (متضاد) ہے اور یہ غایت سے کمی کرنا ہے۔ یہ ظرف ہوتا ہے۔ الدون، حقیر اور خسیس کو کہتے ہیں۔ اذا ما علا المرء رام العلاء ویقنع بالدون من کان دونا جب کوئی انسان بلند ہوتا ہے تو بلندی کا قصد کرتا ہے اور خسیس آدمی، پستی پر قناعت کرتا ہے۔ دون کے لفظ سے فعل مشتق نہیں ہوتا۔ بعض لوگ کہتے ہیں : دان یدون دوناً اور کہا جاتا ہے : ھذا دون ذالک یعنی یہ اس کے زیادہ قریب ہے۔ کسی چیز پر برانگیختہ کرنے کے لئے کہا جاتا ہے : دون کہ (تم اسے پکڑو) ۔ تمیم نے حجاج کو کہا : اقبرنا صالحاً ہمیں اجازت دے کہ ہم صالح کی قبر کھودیں۔ حجاج نے صالح کو سولی پر لٹکایا تھا تو حجاج نے کہا : دونکموہ تم اسے لے لو اور دفن کر دو ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان کنتم صدقین “ اگر تم سچے ہو ” اس میں جو تم نے کہا ہے کہ تم قرآن کے مقابلہ پر قادر ہو، مشرکوں نے کہا تھا : لو نشاء لقلنا مثل ھذا (اگر ہم چاہیں تو ہم اس کی مثل کہہ سکتے ہیں ) ۔ صدق (سچائی) یہ کذب (جھوٹ) کا متضاد ہے۔ کہا جاتا ہے : وقد صدق فی الحدیث، اس نے بات سچی کی، الصدق، نیزوں میں سخت۔ کہا جاتا ہے : صدقوھم القتال۔ انہوں نے ان کو جنگ کے بارے سچی بات بتائی۔ الصدیق جو ہمیشہ سچ بولتا ہو۔ کہا جاتا ہے رجل صدق (سچا آدمی) ۔ جیسے کہا جاتا ہے : نعم الرجل (اچھا آدمی) الصداقۃ، یہ الصدق سے مشتق ہے جس کا معنی ہے اخلاص اور محبت میں سچا ہونا۔