2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے (خدا سے) کہا کہ اے پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیونکر زندہ کرے گا خدا نے فرمایا کیا تم نے (اس بات کو) باور نہیں کیا ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں لیکن (میں دیکھنا) اس لیے (چاہتا ہوں) کہ میرا دل اطمینان حاصل کرلے خدا نے کہا کہ چار جانور پکڑو اور اپنے پاس منگا لو (اور ٹکڑے ٹکڑے کرادو) پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر ایک پہاڑ پر رکھو دو پھر ان کو بلاؤ تو وہ تمہارے پاس دوڑے چلے آئیں گے اور جان رکھو کہ خدا غالب اور صاحب حکمت ہے

آیت ” 260۔ لوگوں نے اس سوال کے بارے میں اختلاف کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جانب سے یہ شک کہ سبب صادر ہوا یا نہیں ؟ تو جمہور نے کہا ہے : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے مردوں کو زندہ کرنے کے بارے میں کبھی شک لاحق نہیں ہوا۔ بلاشبہ آپ نے معائنہ کا مطالبہ کیا ِ اور اس لئے کہ نفوس ہر اس شے کو دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں جس کے بارے انہیں خبر دی جائے۔ اسی لئے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : لیس الخبر کا لمعاینۃ (1) (المستدرک علی الصحیحین، کتاب التفسر، جلد 2، صفحہ 315، حدیث نمبر 3250) (خبر معائنہ کی طرح نہیں ہے) اسے حضرت ابن عباس ؓ نے روایت کیا ہے آپ کے سوا کسی نے اسے روایت نہیں کیا، ابو عمر نے یہی کیا ہے۔ امام اخفش نے کہا ہے : اس سے دل کی رؤیت مراد نہیں لی گئی بلکہ آپ نے آنکھ کے ساتھ دیکھنے کا ارادہ کیا ہے اور حضرت حسن، قتادہ، سعید بن جبیر، اور ربیع رحمۃ اللہ علہیم نے بیان کیا ہے : آپ نے سوال کیا تاکہ آپ کے یقین میں مزید اضافہ ہوجائے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : علامہ طبری (رح) نے اپنی تفسیر میں عنوان بنایا اور کہا : وقال اخرون سال ذالک ربہ، لانہ شک فی قدرۃ اللہ تعالیٰ (اور دوسروں نے کہا : آپ نے اپنے رب سے یہ سول کیا کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی قدرت میں شک تھا۔ ) اور انہوں نے اس عنوان کے تحت حضرت ابن عباس ؓ سے یہ قول ذکر کیا ہے آپ نے فرمایا : میرے نزدیک قرآن کریم میں کوئی آیت اس سے زیادہ امید افزا نہیں۔ اور حضرت عطا بن ابی رباح ؓ سے ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں وہ بعض داخل ہوگیا جو لوگوں کے دلوں میں داخل ہوجاتا ہے تو آپ نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ فرماتا ہے ؟ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ذکر کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نحن احق بالشک من ابراھیم، الحدیث۔ (ہم ابراہیم (علیہ السلام) کی نسبت شک کے زیادہ حقدار ہیں) پھر علامہ طبری نے اس قول کو ترجیح دی ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 352 دارالکتب العلمیہ) میں کہتا ہوں : حضرت ابوہریر ؓ کی حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم نے ان سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم ابراہیم (علیہ السلام) کی نسبت شک کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں جبکہ انہوں نے کہا : اے میرے رب ! مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ فرماتا ہے ؟ تو رب کریم نے فرمایا : کیا تو اس پر یقین نہیں رکھتے ؟ عرض کی : ایمان تو ہے لیکن سوال اس لئے ہے تاکہ میرا دل مطمئن ہوجائے اور اللہ تعالیٰ لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے اور رکن شدید (مضبوط شے) کی طرف پناہ لیتے تھے اور اگر میں قید میں رہتا جتنا یوسف (علیہ السلام) رہے تو میں دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرلیتا۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب الانبیاء جلد 1، صفحہ 477، وزارت تعلیم، ایضا حدیث نمبر 3121، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) ابن عطیہ نے کہا ہے : جو علامہ طبری نے عنوان بنایا ہے میرے نزدیک وہ مردود ہے اور جو عنوان کے تحت انہوں نے ذکر کیا ہے اس کی تاویل کی گئی ہے۔ پس جہاں تک حضرت ابن عباس ؓ کے اس قول کا تعلق ہے : ھی ارجی آیۃ تو یہ اس حیثیت سے ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ پر اور دنیا میں مردوں کے زندہ کرنے کے سوال پر رہنمائی موجود ہے اور یہ اس وہم میں ڈالنے والی نہیں ہے اور آپ کا یہ کہنا جائز ہے : ھی ارجی آیۃ (یہ زیادہ امید دلانے والی آیت ہے) یعنی بلاشبہ ایمان کافی ہے یہ اپنے ساتھ کسی چھان بین اور بحث وتمحیص کا محتاج نہیں ہوتا۔ اور رہا حضرت عطا کا یہ قول : دخل قلب ابراھیم بعض مایدخل قلوب الناس تو اس کا معنی یہ ہے کہ اگر وہ شک کرنے والے ہوتے تو یقینا ہم انکی نسبت اس کا زیادہ حق رکھتے اور ہم شک نہیں کرتے ہیں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے یہ زیادہ مناسب ہے کہ وہ شک نہ کریں (2) (صحیح بخاری، کتاب الانبیاء جلد 1، صفحہ 477، وزارت تعلیم، ایضا حدیث نمبر 3121، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) پس حدیث طیبہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے شک کی نفی پر مبنی ہے اور وہ حدیث جس میں حضرت نبی مکرم ﷺ سے یہ مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ذالک محض الایمان (3) (صحیح مسلم، کتاب الایمان، جلد 1، صفحہ 79، وزارت تعلیم) تو یہ ایسے خطرات (کھٹکنے والی چیزوں) کے بارے میں ہے جو ثابت نہیں رہتے اور رہا شک تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ دو امروں کے درمیان توقف کرنا ہے جس میں ایک کو دوسرے پر فوقیت حاصل نہ ہو، اور اس کی حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) سے نفی کی گئی ہے اور مردوں کو زندہ کرنا تو دلیل سمعی سے ثابت ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس کے بارے زیادہ جانتے تھے اور اس پر آپ کا یہ قول تیری رہنمائی کرتا ہے (آیت) ” ربی الذی یحی ویمیت “۔ اور اس پر شک کرنا اس کے لئے بعید ہے جس کا قدم فقط ایمان پر ثابت ہو تو جو مرتبہ نبوت اور خلت پر فائز ہو اس کے بارے شک کیسے ہو سکتا ہے اور انبیاء (علیہم السلام) تو کبائر سے معصوم ہیں اور بالاجماع ان صغیرہ گناہوں سے بھی جن میں رذالت ہوتی ہے اور جب تو آپ (علیہ السلام) کے سوال اور آیت کے تمام الفاظ میں غفور وفکر کرے گا تو وہ قطعا شک پیدا نہیں کرتے اور وہ اس طرح کہ سوال کیف کے ساتھ ہے اور اس کے ساتھ سوال کسی شے کی حالت کے بارے ہوتا ہے جو موجود ہو اور رسائل اور مسئول دونوں کے نزدیک اس کا وجود متقرر اور ثابت ہو۔ مثلا تیرا یہ قول : کیف علم زید (زید کا علم کیسا ہے ؟ ) کیف نسبح الثوب (کپڑے کی بنائی کیسی ہے) اور اسی طرح کی دیگر مثالیں۔ اور جب تو نے کہا : کیف ثوبک ؟ (تیرا کپڑا کیسا ہے) اور کیف زید ؟ (زید کیسا ہے) تو بلاشبہ سوال ان کے احوال میں سے کسی حال کے بارے ہے اور کبھی کیف کسی شی کے بارے خبر دینے کے لئے ہوتا ہے جس کی شان یہ ہو کہ اس کے بارے کیف سے سوال کیا جائے۔ جیسے تیرا یہ قول : کیف شئت فکن۔ (جس حالت میں تو چاہے تو ہوجا) اور اسی طرح امام بخاری (رح) کا قول ہے : کیف کان بدء الوحی (وحی کا آغاز کیسے ہوا ؟ ) اور اس آیت میں کیف زندہ کرنے کی ہیئت کے بارے سوال کرنے کے لئے ہے اور احیاء (زندہ کرنا) متقرر اور ثابت شدہ امر ہے۔ لیکن جب ہم نے کسی شے کے وجود کا انکار کرنے والے بعض لوگوں کو پایا ہے کہ وہ اس کے انکار کو اس شے کی حالت کے بارے سوال سے تعبیر کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ صحیح نہیں ہے، تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ وہ شے فی نفسہ صحیح نہیں ہے اس کی مثال یہ ہے کہ ایک دعوی کرنے والا یہ کہے : انا ارفع ھذا الجیل، میں اس پہاڑ کو اٹھا سکتا ہوں، تو اسے جھٹلا والا کہتا ہے : مجھے دکھاتو اسے کیسے اٹھا سکتا ہے ؟ تو عبارت یہی طریقہ مجاز ہے اور اس کا معنی ایک بار بطور قیاس جدلی کے تسلیم کرنا، گویا کہ یہ کہہ رہا ہے : میں فرض کرتا ہوں کہ تو اسے اٹھا سکتا ہے سو تو مجھے دکھا تو اسے کیسے اٹھائے گا۔ پس جب حضرت خلیل اللہ (علیہ السلام) کی عبارت اس اشتراک مجازی کے مطابق تھی، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے اسے خالص کردیا اور اسے اس پر محمول کیا کہ آپ کے لئے حقیقت بیان فرما دی اور آپ کو فرمایا : ” اولم تؤمن قال بلی “۔ تو اس سے امر مکمل ہوگیا اور ہر قسم کے شک سے پاک ہوگیا پھر آپ (علیہ السلام) نے راحت وطمانینت کے ساتھ اپنے سوال کی علت بیان کی (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 353 دارالکتب العلمیہ) میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ جو ابن عطیہ نے ذکر کیا ہے وہ اپنی (انتہا کو) پہنچا اور انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کے بارے میں اس طرح کا شک جائز نہیں ہوتا کیونکہ یہ کفر ہے اور انبیاء علیہم الصلوت والتسلیمات دوبارہ اٹھائے جانے کے ساتھ ایمان لانے پر متفق ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دے رکھی ہے کہ اس کے انبیاء (علیہم السلام) اور اس کے اولیاء رحمۃ اللہ علہیم پر شیطان کو کوئی راہ اور غلبہ نہیں ہے۔ ارشاد فرمایا ہے : (آیت) ” ان عبادی لیس لک علیہم سلطن “۔ (الحجر : 42) ترجمہ : بیشک میرے بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں چلتا۔ اور اس لعین نے کہا تھا : (آیت) ” الا عبادک منھم المخلصین “۔ (ص) ترجمہ : یعنی تیرے مخلص بندوں پر میرا تسلط نہیں ہو سکتا۔ اور جب شیطان کے لئے ان پر کوئی غلبہ اور تسلط نہیں ہے تو پھر وہ انہیں شک میں کیسے ڈال سکتا ہے ؟ بلاشبہ آپ نے سوال کیا کہ آپ مردوں کے اجزاء بکھر جانے کے بعد ان کے جمع ہونے کی کیفیت اور پٹھوں اور جلدوں کو پھاڑنے اور بکھیرنے کے بعد انہیں جوڑنے کی کیفیت کا مشاہدہ کریں، اور ارادہ یہ کیا کہ آپ علم یقین سے مزید علم یقین کی طرف ترقی کریں، پس آپ کا قول : (آیت) ’ ارنی کیف “۔ یہ کیفیت کے مشاہدہ کی طلب پر دال ہے۔ اور بعض علمائے معانی نے کہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے یہ ارادہ کیا کہ وہ آپ کو دکھائے وہ کیسے دلوں کو زندہ کرتا ہے۔ یہ رائے فاسد اور مردود ہے اس بیان کے سبب جو اس کے پیچھے ہے۔ اسے ماوردی نے ذکر کیا ہے اور اس ارشاد (آیت) ” اولم تؤمن “ میں الف برائے استفہام نہیں ہے، بلکہ یہ الف برائے ایجاب وتقریر ہے، جیسا کہ جریر نے کہا ہے : الستم خیر من رکب المطایا۔ کیا تم ان سے بہتر نہیں ہو جو سواریوں پر سوار ہوئے۔ (یعنی ان سے بہتر ہو، تو گویا الف برائے ایجاب ہوا) اور و تؤمن میں واؤ حالیہ ہے۔ اس کا معنی ایمان مطلق ہوا اور اس میں مردوں کو زندہ کرنے کی فضیلت داخل ہے۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” قال بلی ولکن لیطمئن قلبی “۔ یعنی میں نے تجھ سے سوال کیا ہے تاکہ میرا دل برہان (دلیل) کے ساتھ معلوم اور مشاہدہ کے مابین فرق حاصل ہونے سے مطمئن ہوجائے۔ اور طمانینت کا معنی اعتدال اور سکون ہے اور اعضاء کی طمانینت تو معروف ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ثم ارکع حتی تطمئن راکعا۔ (1) (صحیح بخاری، کتاب الاذان، جلد 1، صفحہ 105، وزارت تعلیم، صحیح بخاری، کتاب ابواب صلاۃ الجماعۃ حدیث نمبر 715، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) الحدیث (پھر تو رکوع کر یہاں تک کہ تو پورے اطمینان سے رکوع کرے) اور دل کی طمانینت یہ ہے کہ کسی شے معتقد میں اس کی فکر پرسکون ہوجائے (اور راحت میں بدل جائے) اور احیاء کے بارے میں فکر کرنا ممنوع نہیں ہے، جیسا کہ آج ہمارے لئے ہے کہ ہم اس میں فکر کریں کیونکہ اس فکر میں ہی عبرت ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تو مشاہدہ اور معائنہ کا ارادہ کیا تو احیاء کی صورت میں ان کی فکر ختم ہوجائے گی۔ اور علامہ طبری نے کہا ہے : (آیت) ” لیطمئن قلبی “ کا معنی ہے تاکہ میرا دل محفوظ ہوجائے اور اسی طرح حضرت سعید بن جبیر ؓ سے بیان کیا گیا ہے، اور ان سے یہ بھی بیان کیا گیا ہے تاکہ یقین میں اضافہ ہوجائے، ابراہیم اور قتادہ (رح) نے یہی کہا ہے اور بعض نے کہا ہے : تاکہ وہ میرے ایمان کے ساتھ مزید ایمان کا اضافہ کرے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : اس معنی میں کوئی زیادتی ممکن نہیں ہوتی مگر فکر سے سکون حاصل کرنے کے ساتھ، ورنہ یقین منقسم نہیں ہوتا۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 353 دارالکتب العلمیہ) سدی اور ابن جبیر نے بھی کہا ہے : کیا تم یقین نہیں رکھتے اس کے ساتھ کہ تم میرے خلیل ہو ؟ آپ نے عرض کی : کیوں نہیں بلکہ (سوال اس لئے ہے) تاکہ میرا دل خلت کے ساتھ مطمئن ہوجائے۔ اور یہ قول بھی ہے : آپ نے دعا کی کہ وہ آپ کو دکھائے وہ کیسے مردوں کو زندہ کرتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ اس کی دعا قبول کی جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا : کیا تمہیں یقین نہیں ہے کہ میں تمہاری دعا قبول کرتا ہوں ؟ آپ نے عرض کی : ایمان تو ہے (لیکن سوال اس لئے کیا ہے) تاکہ میرا دل مطمئن ہوجائے کہ تو میری دعا قبول کرتا ہے۔ آپ کو اس پر برانگیختہ کرنے والے کے بارے میں اختلاف ہے۔ پس کہا گیا ہے : بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ کیا کہ وہ آپ کو خلیل بنائے گا، تو آپ نے اس پر کسی نشانی (کے حصول) کا ارادہ کیا۔ سائب بن یزید نے یہی کہا ہے اور یہ قول بھی ہے : (کہ وہ) نمروذکا یہ قول تھا : میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں اور حسن نے کہا ہے : انہوں نے ایک مردار دیکھا اس کا نصف حصہ خشکی میں پڑا تھا اسے درندے چیر پھاڑ کر کھا رہے تھے اور نصف حصہ سمندر میں تھا اسے سمندری جانور چیر پھاڑ رہے تھے تو جب آپ نے اسے متفرق ہوتا اور بکھرتا دیکھا تو آپ نے پسند کیا کہ اسے جڑتا اور ملتا بھی دیکھیں تو آپ نے سوال کردیا تاکہ آپ کا دل اس کے جمع ہونے کی کیفیت دیکھ کر مطمئن ہوجائے جیسا کہ اس نے تفریق اور تقسیم کی کیفیت کو دیکھا ہے : سو آپ کو کہا گیا : (آیت) ” فخذ اربعۃ من الطیر “۔ کہا گیا ہے کہ وہ چار پرندے مرغ، مور، کبوتر اور کوا تھے، اسے ابن اسحاق نے بعض اہل علم سے ذکر کیا ہے اور مجاہد ابن جریج، عطا بن یسار اور ابن زید رحمۃ اللہ علہیم نے یہی کہا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے کوے کی جگہ سارس کا ذکر کیا ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 353 دارالکتب العلمیہ) اور آپ ہی سے یہ بھی اور آپ ہی سے یہ بھی ہے کہ آپ نے کبوتر کی جگہ گدھ کا ذکر کیا ہے، پس آپ نے حسب حکم یہ پرندے پکڑ لئے اور انہیں ذبح کیا اور انہیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ دیا اور بعض کا گوشت بعض کے ساتھ خون اور پروں سمیت خلط ملط کردیا یہاں تک کہ آپ بہت تعجب کرنے لگے، پھر اس ملے جلے مجموعہ میں سے ایک ایک جز ہر پہاڑ پر رکھ دیا اور آپ ایسی جگہ پر ٹھہر گئے جہاں سے آپ ان اجزاء کو دیکھ سکتے تھے اور آپ نے پرندوں کے سر اپنے ہاتھ میں ہی روک لئے پھر کہا : ” تعالین باذن اللہ (تم اللہ تعالیٰ کے اذن سے آ جاؤپس وہ اجزاء اڑنے لگے اور خون خون کی طرح اور پر پروں کی طرف اڑے یہاں تک کہ پہلے کی طرح وہ سب جڑ گئے اور بغیر سروں کے وہ باقی رہ گئے، پھر آپ نے دوبارہ آواز دی تو وہ آپ کے پاس اپنی ٹانگوں پر دوڑتے ہوئے آئے اور پرندے کے لئے سعی کا لفظ نہیں بولا جاتا جب وہ اڑے مگر تمثیل کی بنا پر۔ نحاس نے یہی کہا ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بج ان میں سے ایک کی طرف اس کے سر کے بغیر اشارہ کیا تو پرندہ دور ہوگیا، اور جب اس کی طرف اس کے سر کے ساتھ اشارہ کیا تو وہ قریب ہوا یہاں تک کہ ہر پرندہ اپنے سر کے ساتھ مل گیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے اڑ گیا، زجاج نے کہا ہے : معنی یہ ہے پھر ہر پہاڑ پر ہر ایک کا ایک ایک جز رکھ دے۔ ابوبکر نے عاصم اور ابو جعفر سے جزوا بروزن فعل پڑھا ہے اور ابو جعفر نے جزا زاء مشددہ کے ساتھ بھی پڑھا ہے اور باقیوں نے مہموز مخفف پڑھا ہے یہ اس کی لغات ہیں اور اس کا معنی ہے : نصیب اور حصہ۔ (آیت) ” یاتینک سعیا۔ سعیا حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور صرھن کا معنی ہے : تو انہیں کاٹ دے۔ حضرت ابن عباس ؓ حضرت مجاہد، ابو عبیدہ اور ابن انباری رحمۃ اللہ علہیم نے یہی کہا ہے۔ کہا جاتا ہے : صار الشیء یصورہ، یعنی اس نے شے کو کاٹ دیا۔ اور ابن اسحاق نے یہی کہا ہے۔ اور ابو الاسود الدؤلی سے ہے، اور یہ سریانی زبان کے ساتھ تقطیع ہے توبہ بن الحمیر نے اس کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا ہے : فلما جذبت الحبل اطت نسوعہ باطراف عیدان شدید سیورھا فاذنت لی الاسباب حتی بلغ تھا بنھضی وقد کا د ارتقالی یصورھا : یعنی وہ اسے کاٹ دے گا اور الصور بمعنی القطع (کاٹنا) ہے، ضحاک، عکرمہ اور حضرت ابن عباس ؓ نے اپنی کسی روایت میں کہا ہے جوان سے روایت کی گئی ہے کہ یہ لفظ نبطی زبان کا ہے اور اس کا معنی ہے : قطعھن تو انہیں کاٹ دے۔ اور کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے : املھن الیک “۔ یعنی تو انہیں ملا دے اور انہیں اپنے پاس جمع کرلے، کہا جاتا ہے : رجل اصور جب وہ گردن کو جھکانے والا ہو، اور آپ کہتے ہیں : انی الیکم الاصور یعنی بلاشبہ میں تمہاری طرف مشتاق اور راغب ہوں، اور امراۃ صوراء (جھکنے والی عورت) اور اس کی جمع صور ہے جیسا کہ اسود کی جمع سود ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے : اللہ یعلم انا فی تلفتنا یوم الفراق الی جیراننا صور۔ اور قولہ الیک تقطیع کی تاویل پر متعلق خذ کے ہے اور کسی مضمر کی حاجت نہیں اور امالہ اور ضم کی تاویل پر یہ صرھن کے متعلق ہے اور کلام میں یہ چھوڑ دیا گیا ہے : فاملھن الیک ثم قطعھن (تم انہیں اپنے پاس جمع کرلو اور پھر انہیں ٹکڑے ٹکرے کر دو ) اور اس میں پانچ قراتیں ہیں سات میں سے دو یہ ہیں : صاد کا ضمہ، صاد کا کسرہ اور را کی تخفیف۔ اور ایک قوم نے فصرھن یعنی صاد کے ضمہ اور را مفتوحہ کی شد کے ساتھ پڑھا ہے، گویا کہ وہ کہہ رہا ہے پس تو انہیں باندھ دے، اور اسی سے سرۃ الدنانیر ہے۔ اور ایک گروہ نے فصرھن صاد کے کسرہ اور را مفتوحہ کی شد کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کا معنی ہے تو انہیں چیز پھاڑ دے، یہ تیرے اس قول سے ہے : صرالباب والقلم اذا صوت (دروازہ اور قلم پھٹ گئے جب تو نے آواز لگائی) اسے نقاش نے بیان کیا ہیں، ابن جنی نے کہا ہے : یہ قرات غریب ہے اور وہ اس لئے کہ مضاعف متعدد بکسرعین بہت قلیل آتا ہے بلکہ اس کا باب یفعل عین کلمہ کے ضمہ کے ساتھ ہے جیسے شد یشد وغیرہ لیکن کبھی کبھی اس سے یہ بھی آتا ہے ثم الحدیث ینمہ وینمہ۔ اس نے چلغلخوری کی اور ہر الحرب یھرھا ویھرھا، جنگ چھڑ گئی، اور اسی سین اعشی کا شعر ہے : لیغتورنک القول حتی تھرہ۔ علاوہ ازیں بھی قلیل حروف میں سے ہے۔ ابن جنی نے کہا ہے : پس عکرمہ کی قرات صاد کے ضمہ کے ساتھ تو یہ را میں ضمہ، فتحہ اور کسرہ تینوں کا احتمال رکھتی ہے۔ (جیسے مد اور شد) کے را پر ضمہ اس کے بعد ہا پر ضمہ کی وجہ سے ہے۔ پانچویں قرات صرھن صاد کے فتحہ اور را مک سورة کی شد کے ساتھ ہے، اسے مہدوی وغیرہ نے عکرمہ سے بیان کیا ہے، یہ بمعنی فاحبسھن (اور تو انہیں روک لے) ہے۔ یہ ان کے اس قول سے ہے : صری یصری جب کوئی قید کرلے، روک لے۔ اور اسی سے الشاۃ المصراۃ ہے۔ اور یہاں ایک اعتراض ہے جسے ماوردی نے ذکر کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا آخرت کی نشانیوں کے بارے میں کیسے قبول کرلی گئی جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قبول نہیں کی گئی جو اس قول میں ہے : (آیت) ” رب ارنی انظر الیک “ (الاعراف : 143) ترجمہ : اے میرے رب ! مجھے دیکھنے کی قوت دے تاکہ میں تیری طرف دیکھ سکوں۔ تو ان سے دو جواب منقول ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ جو سوال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کیا تھا وہ مکلف باقی رہتے ہوئے صحیح نہیں ہے اور جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سوال کیا تھا وہ خاص ہے اور اس کے ساتھ مکلف باقی رہنا صحیح ہے۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ احوال مختلف ہوتے ہیں، پس بعض اوقات اصلح قبولیت ہوتی ہے اور بعض دوسرے اوقات میں اس بارے میں منع کرنا اور روکنا اصلح ہوتا ہے جس میں پیشگی اذن نہ ہو۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے بارے حکم دیا تھا اس سے پہلے کہ آپ کی اولاد ہو اور اس سے پہلے کہ آپ پر وہ صحف نازل کرے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 2:261

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک بال میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے، وہ بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

آیت نمبر : 261۔ اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) جب اللہ تعالیٰ نے وہ قصے بیان کردیئے جن میں دلائل ہیں تو اس نے جہاد پر برانگیختہ کیا اور تو جان لے کہ جس نے اس برہان اور دلیل کے بعد جہاد کیا جسے نبی کے بغیر کوئی نہیں لاسکتا تو اس کے لئے اس جہاد میں ثواب عظیم ہے۔ البستی نے اپنی صحیح مسند میں حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے، انہوں نے بیان فرمایا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے عرض کی : ” اے رب ! میری امت کے لئے اور اضافہ فرما۔ “ تو پھر یہ آیت نازل ہوئی، (آیت) ” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضعفہ لہ اضعافا کثیرۃ “۔ ) (البقرۃ : 245) ترجمہ : کون ہے جو دے اللہ تعالیٰ کو قرض حسن، تو بڑھا دے اللہ اس قرض کو اس کے لئے کئی گنا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے پھر عرض کی : ” اے میرے رب ! میری امت کے لئے اور اضافہ فرما “۔ تو یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب (الزمر) اس آیت کے الفاظ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے شرف اور اس کے حسن کی مثال بیان کرنے کے لئے ہیں اور یہ اس پر انگیخت دلانے کو متضمن ہیں۔ اور کلام میں مضاف محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے : ” مثل نفقۃ الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ “۔ ان کے نفقہ کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ایسی ہے جیسے ایک دانہ، اور دوسرا طریقہ یہ ہے : ” مثل الذین ینفقون اموالھم کمثل زارع زرع فی الارض حبۃ فانبتت الحبۃ سبع سنابل “۔ یعنی ان کی مثال جو اپنے مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کسان کی مثل ہے جس زمین میں ایک دانہ کاشت کیا اور اس دانے نے سات بالیں اگائیں، یعنی سات بالیں نکالیں اور ہر بال میں سو دانہ ہو، پس صدقہ کرنے والے کو کاشت کرنے والے کے ساتھ تشبیہ دی اور صدقہ کو بیج کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہر صدقہ کے عوض سات سو نیکیاں عطا فرمائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” واللہ یضعف لمن یشآء “۔ ترجمہ : یعنی اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے سات سو پر بڑھا دیتا ہے۔ پس صدقہ کرنے والے کی مثل کاشت کرنے والے کی مثل ہوجائے گی، (جیسا کہ) اگر وہ اپنے عمل میں حاذق (ماہر) ہو اور بیج عمدہ ہو، زمین آباد ہو تو پیداوار زیادہ ہوجاتی ہے، پس اسی طرح اگر صدقہ کرنے والا جب صالح ہو، مال طیب اور پاک ہو اور وہ اسے اپنے محل میں خرچ کرتا ہو تو ثواب بھی زیادہ ہوجاتا ہے، بخلاف اس کے جس نے کہا ہے : آیت میں سات سو گنا پر زیادتی کا ذکر نہیں ہے، جیسا کہ ہم اسے بیان کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ مسئلہ نمبر : (2) روایت کی گئی ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان بن عفان ؓ اور عبدالرحمن بن عوف ؓ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ وہ اس طرح کہ رسول اللہ ﷺ نے جب لوگوں کو صدقہ پر ابھارا جس وقت آپ نے غزوہ تبوک کی طرف نکلنے کا ارادہ کیا، تو حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ چار ہزار لے کر حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس آٹھ ہزار تھے اتو میں نے اپنے لئے اور اپنے اہل و عیال کے لئے چار ہزار رکھے ہیں اور چار ہزار میں نے اپنے رب کو بطور قرض پیش کردیئے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمای : بارک اللہ لک فیما امسکت وفیما اعطیت (اللہ تعالیٰ تجھے برکت عطا فرمائے اس میں بھی جو تو نے (گھر والوں کے لئے) روک لیا اور اس میں بھی جو تو نے پیش کردیا) اور حضرت عثمان ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ اس کی تیاری کا سامان میرے ذمہ ہے جس کے پاس تیاری کا سامان نہیں ہے، تو ان دونوں کے بارے یہ یہ آیت نازل ہوئی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ آیت نفلی صدقہ کے بارے میں نازل ہوئی، اور یہ قول بھی ہے : یہ آیت آیت زکوۃ نازل ہونے سے پہلے نازل ہوئی پھر آیت زکوۃ کے ساتھ یہ منسوخ ہوگئی اور نسخ کے دعوی کی کوئی حاجت نہیں، کیونکہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا مستحب ہے اور اللہ تعالیٰ کے راستے کثیر ہیں اور ان میں عظیم تر جہاد ہے تاکہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو۔ مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ (آیت) ” کمثل حبۃ “۔ اس میں الحبۃ اسم جنس ہے ہر اس شے کے لئے جسے انسان کاشت کرتا ہے اور اس سے خوراک حاصل کرتا ہے اور اس سے زیادہ مشہور گندم ہے اور اکثر حب سے مراد یہی لی جاتی ہے اور اسی معنی میں المتلمس کا قول ہے : الیت حب العراق الدھر اطعمہ والحب یا کہ فی القریۃ السوس : اور حبۃ القلب سے مراد دل کی سیاہی ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد ثمرۃ القلب (دوستی، الفت) ہے اور وہ وہی ہے۔ اور الحبۃ حاء کے کسرہ کے ساتھ، اس سے مراد سبزیوں کا وہ بیج ہے جو خوراک (غذا) نہیں ہوتا اور حدیث شفاعت میں ہے : فینبتون کما تنبت الحبۃ فی حمیل السیل ‘۔ (1) (صحیح بخاری، باب تفاضل اھل الایان فی الاعمال، حدیث نمبر 21، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (پس وہ اس طرح اگ پڑیں گے جس طرح سیلاب کے لائے ہوئے کیچڑ میں بیج اگتے ہیں۔ اور جمع حبب آتی ہے اور الحبۃ (حاء کے ضمہ کے ساتھ) اسکامعنی حب ہے، کہا جاتا ہے نعم وحبۃ وکرامۃ۔ (وہ محبت و کرامت کے اعتبار سے اچھا ہے) اور الحب کا معنی محبت ہے اور اسی طرح الحب (بالکسر) کا معنی بھی ہے اور الحب سے مراد حبیب (گہرا دوست) بھی ہے۔ جیسے خدن اور خدین (گہرا دوست) اور سنبلۃ یہ فنعلۃ کے وزن پر اسبل الزرع سے ماخوذ ہے جب کھیتی میں بالیں ظاہر ہوجائیں یعنی وہ بالیں چھوڑ دے جس طرح پردے کو لٹکا کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے : اس میں چھپے ہوئے دانے ہیں جس طرح کہ کسی شے پر پردہ لٹکانے سے وہ چھپ جاتی ہے اور اس کی جمع سنابل ہے پھر کہا گیا ہے کہ اس سے مراد سنبل الدخن (باجرے یا کنگنی کی بال) ہے وہی وہ شے ہے جس کی ایک بال میں اتنی تعداد میں دانے ہوتے ہیں۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے کیونکہ جاجرے کی بالیں میں سے ایک بال میں اس تعداد سے دوگنا زیادہ بلکہ اس سے بھی زیادہ دانے ہوتے ہیں، ہم نے خود اس کا مشاہد کیا ہے، ابن عطیہ کے کہا ہے : گندم کی بالیں ایسی پائی جاتی ہیں جن میں سو دانے ہوتے ہیں، اور رہے تمام دانے تو وہ کہیں زیادہ ہوتے ہیں، لیکن مثال اس مقدار کے ساتھ بیان کی ہے اور علامہ طبری (رح) نے اس آیت میں کہا ہے : بیشک اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی : (آیت) ” فی کل سنبلۃ مائۃ حبۃ “۔ اس کا معنی ہے اگر وہ اسے پائے، ورنہ اس بنا پر کہ وہ اسے فرض کرے، پھر انہوں نے ضحاک سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : اس کا معنی ہے ہر بال نے سو دانے اگائے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : علامہ طبری نے حضرت ضحاک کے قول کو اسی طرح رکھا ہے جیسے انہوں نے کہا ہے اور یہ ضحاک کے قول سے لازم نہیں آتا اور ابو عمر دالدانی نے بیان کیا ہے کہ بعض مائۃ کو اس تقدیر پر منصوب پڑھا ہے۔ انبتت مائۃ حبۃ۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : یعقوب حضرمی نے کہا ہے : اور بعض نے پڑھا۔ ” فی کل سنبلۃ مائۃ حبۃ “۔ یہ اس بنا پر ہے کہ یہ انبتت مائۃ حبۃ ہے، اور اسی طرح بعض قراء نے پڑھا ہے : (آیت) ” وللذین کفروا بربھم عذاب جھنم “۔ اور یہ ” اعتدنا لھم عذاب السعیر “ کی بنا پر ہے، یعنی (آیت) ” واعتدنا للذین کفروا عذاب جھنم “ (اور ہم نے جہنم کا عذاب تیار کیا ہے ان کے لئے جنہوں نے کفر کیا) اور ابو عمرو حمزہ اور کسائی نے انبتت سبع سنابل میں تا کو سین میں ادغام کر کے پڑھا ہے کیونکہ یہ دونوں حروف مہموسہ میں سے ہیں۔ کیا تم جانتے نہیں کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں اور ابو عمرو نے شعر بیان کیا ہیں : یا لعن اللہ بنی السعلاۃ عمرو بن میمون لنام النات۔ مراد لوگ (الناس) لئے ہیں اور سین کو تا میں بدل دیا ہے اور باقی قراء نے اصل کی بنا پر دونوں کو ظاہر کر کے پڑھا ہے کیونکہ یہ دونوں دو کلمے ہیں۔ مسئلہ نمبر : (4) قرآن کریم اس بارے میں وارد ہوا ہے کہ نیکی کے جملہ اعمال میں ایک نیکی کا بدلہ اس کی مثل دس کے ساتھ ہے اور یہ آیت تقاضا کرتی ہے کہ جہاد پر خرچ کرنے کی نیکی کا عوض سات سو گنا ہے اور علماء نے اس قول (آیت) ” واللہ یضعف لمن یشآء “۔ کے معنی میں اختلاف کیا ہے، ایک گروہ نے کہا ہے کہ یہ سابقہ سات سو کے ذکر کے بیان اور تاکید کے لئے ہے۔ لہذا اس میں سات سو گنا سے بڑھا نے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اور علماء کے ایک گروہ نے کہا ہے : بلکہ یہ اس پر اطلاع دینا اور آگاہ کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے اس کے لئے عوض سات سو گنا سے بھی زیادہ کردیتا ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : آیت کی ابتدائی تفسیر میں حضرت ابن عمر ؓ کی جو حدیث بیان کی گئی ہے اس کے مطابق یہ قول زیادہ صحیح ہے۔ اور ابن ماجہ نے روایت بیان کی ہے : حدثنا ہارون بن عبداللہ الحمال حدثنا ابن ابی فدیک عن الخلیل بن عبداللہ عن الحسن عن علی بن ابی طالب وابی الدرداء و عبداللہ بن عمروا ابی امامہ الباھلی وعبداللہ بن عمرو و جابر ابن عبداللہ وعمران بن حصین “۔ یہ تمام صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچہ بھیج دیا اور خود اپنے گھر میں ہی رہا تو اس کے لئے ایک درہم کے بدلے سات سو درہم ہیں۔ اور جو بذات خود بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد میں شریک ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر خرچہ کیا تو اس کیلئے ایک درہم کے بدلے سات لاکھ درہم ہوں گے، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : (آیت) ” واللہ یضعف لمن یشآء۔ (1) اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے، اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہتا ہے اس عوض کو بڑھا تے بڑھاتے بیس لاکھ تک کردیتا ہے، ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ روایت آپ سے ثابت الاسناد نہیں ہے۔ مسئلہ نمبر : (5) اس آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ زراعت کا پیشہ ان پیشوں میں سے اعلی ترین پیشہ ہے جنہیں لوگ اختیار کرتے ہیں اور ان کمائیوں میں سے اعلی ہے جن کے ساتھ کام کرنے والے (مزدور) مشغول ہوتے ہیں، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ مثال بیان فرمائی ہے اور ارشاد فرمایا ہے : (آیت) ‘’ مثل الذین ینفقوں اموالھم “۔ الآیہ۔ اور صحیح مسلم میں حضور نبی کریم ﷺ سے روایت موجود ہے : ” جو مسلمان بھی کوئی درخت لگاتا ہے یا فصل کاشت کرتا ہے اور اس سے پرندے، انسان یا جانور کھاتے ہیں تو وہ اس کے لئے صدقہ ہے (2) (صحیح بخاری، کتاب المزارعۃ، باب فضل الزرع، حدیث نمبر 2152، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور ہشام بن عروہ نے اپنے باپ کے واسطہ سے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” زمین کی تہوں میں رزق تلاش کرو “ مراد زراعت ہے۔ اسے ترمذی نے بیان کیا ہے۔ اور آپ ﷺ نے کھجور کے درخت کے بارے فرمایا ہے : ” یہ کیچڑ میں گڑھے ہوتے ہیں (اور) محلات میں خوراک باہم پہنچاتے ہیں “ یہ مدح کے محل میں بیان ہوا ہے۔ اور زراعت فروض کفایہ میں سے ہے اور امام وقت پر لازم ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو اس پر مجبور کرے اور اس پر جو اس کی مثل ہے مثلا درخت لگانا وغیرہ۔ (یعنی باغبانی) عبداللہ بن عبدالملک نے حضرت ابن شہاب زہری ؓ سے ملاقات کی اور کہا : میری ایسے مال پر رہنمائی کیجئے جس کے لئے میں محنت ومشقت کروں۔ تو ابن شہاب ؓ نے یہ اشعار کہے : اقول لعبد اللہ یوم لقیتہ وقد شد احلاس المطی مشرقا : تتبع خبایا الارض وادع ملیکھا لعلک یوما ان تجاب فترزقا : فیؤتیک مالا واسقا ذا مثابۃ اذا ما میاہ الارض غارت تدفقا : اور معتضد سے بیان کیا گیا ہے کہ اس نے کہا : میں نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو خواب میں دیکھا، آپ مجھے بیلچہ (یاکدال) عطا فرما رہین ہیں اور آپ نے فرمایا : اسے پکڑ لو کیونکہ یہ زمین کے خزانوں کی چابیاں ہیں۔ (خذھا فانھا مفاتیح خزائن الارض) .
Ayah 2:262

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ اپنا مال اللہ کے راستے میں صرف کرتے ہیں پھر اس کے بعد نہ اس خرچ کا (کسی پر) احسان رکھتے ہیں اور نہ (کسی کو) تکلیف دیتے ہیں ان کا صلہ ان کے پروردگار کے پاس تیار ہے اور (قیامت کے روز) نہ انکو کچھ خوف ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے

آیت نمبر : 262۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ “۔ ، کہا گیا ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان ابن عفان ؓ کے بارے میں نازل ہوئی، حضرت عبدالرحمن بن سمرہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ جیش العسرہ (غزوہ تبوک) کی تیاری کے لئے حضرت عثمان ؓ ایک ہزار دینار لے کر حاضر ہوے ہیں اور انہیں رسول اللہ ﷺ کی گود میں ڈال دیا، تو میں نے آپ ﷺ کو دیکھا آپ سے اپنا دست مبارک میں ان داخل کرتے ہیں اور انہیں الٹ پلٹ کر رہے ہیں اور فرما رہے : ما ضر ابن عفان ما عمل بعد الیوم اللہم لا تنس ھذا الیوم لعثمان “ آج کے بعد ابن عفان نے جو عمل بھی کیا وہ ان کے لئے نقصان دہ نہیں، اے اللہ تو آج کے دن عثمان کو نہ بھولنا ، “ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا ہے کہ میں نے حضور نبی کریم ﷺ کو حضرت عثمان ؓ کے لئے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے دیکھا ہے، آپ کہہ رہے تھے : یا رب عثمان انی رضیت فارض عنہ (اے عثمان کے رب ! میں عثمان سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی رہ) آپ ﷺ مسلسل دعا مانگتے رہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی اور یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ” الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ ثم لا یتبعون ماانفقوا منا ولا اذی “۔ الایہ (1) (اسباب النزول للواحدی، صفحہ 81) مسئلہ نمبر : (2) بالعموم اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا ذکر جب پہلی آیت میں گزر چکا تو اس آیت میں یہ بیان کیا کہ وہ حکم اور ثواب بلاشبہ اس کے لئے ہے جو خرچ کرنے کے بعد نہ احسان جتلاتا ہے اور نہ وہ دکھ دیتا ہے کیونکہ احسان جتلانا اور اذیت دینا یہ صدقہ کے ثواب کو باطل کرد یتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد والی آیت میں بیان کردیا ہے۔ بلاشبہ آدمی پر یہ لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور متفق علیہ پر خرچ کرنے سے اللہ تعالیٰ سے ثواب کے حصول کا ارادہ کرے اور وہ منفق علیہ سے کسی شے کی امید نہ رکھے اور سوائے اپنے استحقاق کی رعایت کرنے کے اس کے احوال میں سے کسی حال پر نظر نہ رکھے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : (آیت) ” لا نرید منکم جزآء ولا شکورا “۔ (الدہر) ترجمہ : نہ ہم تم سے کسی اجر کے خواہاں ہیں اور نہ شکریہ کے۔ اور جب اس نے اس ارادہ سے مال خرچ کیا کہ وہ کسی بھی وجہ سے منفق علیہ سے جزا حاصل کرے تو اس طرح اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ نہ کیا اور یہ تب ہے جب اس کے اس گمان کے پیچھے خرچ کرنے سے مقصود احسان جتلانا اور اذیت پہنچانا ہو۔ اور اسی طرح جس نے کسی مضطر اور مجبور آدمی سے مشقت اور تکلیف دور کرنے کے لئے خرچ کیا یا تو اس پر احسان جتلانے کے لئے جس پر خرچ کیا گیا ہے یا مشقت کے کسی دوسرے قرینہ کے سبب اذیت پہنچانے کے لئے تو اس طرح اس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا، بلاشبہ اس کا یہ عمل قبول کیا جائے گا جب اس کی یہ عطا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو اور اس کا زیادہ سے زیادہ ارادہ اس (اجر وثواب) کی خواہش ہو جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جیسا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے بیان کیا گیا کہ ایک اعرابی آپ کے پاس آیا اور اس نے کہا : یا عمر الخیر جزیت الجنۃ اکس بنیاتی وامھنہ : اے عمر ! بھلائی اور نیکی کیجئے آپ کو جنت کی جزا دی جائے میری بیٹیوں اور ان کی ماں کو لباس پہنائیے۔ وکن لنا من الزمان جنۃ اقسم باللہ لتفعلنہ : تو ہمارے لئے (مصائب) زمانہ سے ڈھال بن جا، میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھاتا ہوں آپ ضرور ایسا کریں گے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اگر میں نہ کروں تو کیا ہوگا ؟ اس نے عرض کی : اذا ابا حفص لاذھبنہ : اے ابا حفص ! تب میں چلا جاؤں گا۔ پھر آپ نے فرمایا : جب تو چلا گیا تو کیا ہوگا ؟ اس نے عرض کی : تکون عن حالی لتسالنہ یوم تکون الاعطیات ھنہ : میرے حال کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے گا جس دن عطیات کی آرزو ہوگی۔ وموقف المسئول بینھنۃ اما الی نار واما جنۃ اور ان کے درمیان مسئول کا موقف (ٹھہرنی کی جگہ) یا جہنم ہوگی یا جنت۔ پس حضرت عمر ؓ رونے لگے یہاں تک کہ آپ کی ریش مبارک تر ہوگئی، پھر آپ نے فرمایا : اے غلام ! اس دن کے لئے اسے میری یہ قمیص دے دو نہ کہ اس کے شعر کے لئے، قسم بخدا ! میں اس کے سوا کسی کا مالک نہیں ہوں، ماوردی نے کہا ہے : جب عطا اس ارادہ پر ہو کہ وہ جزا اور شکر کی طلب سے خالی ہو اور احسان جتلانے اور شہرت سے بھی پاک ہو تو وہ خرچ کرنے والے کے لئے انتہائی اشرف واعلی ہے اور قبول کرنے والے کے لئے باعث مبارک ہے، لیکن جب عطا کرنے والا اپنی عطا سے جزا کا خواشمند ہو اور اس کے عوض شکر اور ثنا کا طالب ہو تو وہ شہرت کا طالب اور ریا کاری کرنے والا ہے، اور ان دونوں میں ایسی ذم اور برائی ہے جو سخاوت کے منافی ہوتی ہے اور اگر اس نے جزا کا مطالبہ کیا تو وہ ایسا نفع کمانے والا تاجر ہے جو حمد اور مدح کا مستحق نہیں ہوتا۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے اس قول باری تعالیٰ میں کہا ہے : (آیت) ” ولا تمنن تستکثر “۔ (المدثر) یعنی آپ کسی کو ایسا عطیہ نہ دیں کہ آپ اس کے عوض اس سے افضل واعلی کی خواہش رکھتے ہوں۔ اور ابن زید نے یہ کہا ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو خود جہاد میں نہیں نکلتے بلکہ وہ خرچ کرتے ہیں اس حال میں کہ خود بیٹھے ہوتے ہیں اور اس سے پہلی آیت ان کے بارے میں ہے جو بنفس نفیس جہاد کے لئے نکلتے ہیں، فرمایا : اسی لئے ان پر شرط لگائی گئی ہے اور پہلوں پر کوئی شرط نہیں، ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ قول محل نظر ہے، کیونکہ اس میں اپنی رائے سے فیصلہ دینے کا اظہار ہو رہا ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ (آیت) ” منا والا اذی “۔ المن کسی نعمت و احسان کا ذکر کرنا ہے اس کو شمار کرنے اور گننے کے لئے اور اس کے سبب (دوسرے کو) پریشان کرنے کے لئے۔ مثلا وہ یہ کہے : قد احسنت الیک ونعشتک “ میں نے تجھ پر احسان کیا اور تجھے ہلاک ہونے سے بچا لیا، اور اسی کے مشابہ اور الفاظ۔ اور بعض نے کہا ہے : المن کا مفہوم ہے اس کے بارے میں گفتگو کرنا جو اس نے دیا یہاں تک کہ وہ گفتگو اس تک پہنچ جائے جسے دیا گیا اور وہ اس کے لئے باعث تکلیف ہو اور احسان جتلانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے اور یہ صحیح مسلم وغیرہ میں ثابت ہے (1) (سنن ابی داؤد، باب ماجاء فی۔۔۔۔ حدیث نمبر 3565، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور یہ بھی ان تین میں سے ایک ہے جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت نہیں فرمائے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔ اور نسائی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تین آدمی ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت نہیں فرمائے گا : اپنے والدین کی نافرمانی کرنے والا، مرد کی طرح بننے والی عورت جو کہ مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرتی ہو اور دیوث (بےغیرت انسان) اور تین ہیں جو جنت میں داخل نہیں گے : اپنے والدین کا نافرمان، ہمیشہ شراب پینے والا اور اس کے ساتھ احسان جتلانے والا جو کسی کو عطا کرے۔ (2) (مسند امام احمد، حدیث 6180) اور مسلم کی بعض اسناد میں ہے : المنان (احسان جتلانے والا) وہ ہے جو کسی کو بغیر احسان جتلائے کوئی شے نہیں دیتا، اور الاذی سے مراد گالیاں دینا اور شکایت کرنا ہے اور یہ من سے اعم ہے۔ کیونکہ من، الاذی کا جز ہے لیکن اس کے کثیر الوقوع ہونے کے سبب اس پر نص وارد ہے۔ اور ابن زید نے کہا ہے : اگر تجھے گمان ہو کہ تیرا اسلام اس پر ثقیل اور گراں ہوگا جس پرتو نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر کچھ خرچ کیا ہے تو تو اس پر سلام نہ کر اور آپ کو ایک عورت نے کہا : اے ابو اسامہ میری ایسے آدمی پر رہنمائی کیجئے جو خالصتا اللہ تعالیٰ کی راہ میں نکلتا ہے کیونکہ وہ تو نکلتے ہیں (اور) وہ پھل کھاتے ہیں بلاشبہ میرے پاس تیر اور ترکش ہیں، تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تیروں اور تیرے ترکش میں تیرے لئے برکت نہ رکھے تحقیق تو نے انہیں دینے سے پہلے انہیں اذیت اور تکلیف دی ہے۔ ہمارے علماء رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے : جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا اور اس کے پیچھے نہ احسان جتلایا اور نہ دکھ پہنچایا جیسا کہ اس کا یہ قول : تیرا اصرار اور تیری احتیاج کتنی شدید تھی ! تیری جانب سے اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص عطا فرمائے اور اسی طرح کی دیگر مثالیں، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اجر کی ضمانت دی ہے اور وہ اجر جنت ہے اور اس کی موت کے بعد مستقبل کے لئے اس سے خوف کی نفی کردی اور اس حزن اور غم کی نفی کردی جو اسے اس پر ہوا جو دنیا میں سے گزر چکا ہے کیونکہ وہ تو اپنی آخرت کے ساتھ خوش اور مسرور ہوتا ہے، سو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” لھم اجرھم عند ربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے یہ فضل وشرف کافی ہے۔ اور اس میں ان کے لئے دلیل ہے جنہوں نے غنی کو فقیر پر فضلیت دی ہے، اس کا بیان آگے آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 2:263

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

جس خیرات دینے کے بعد (لینے والے کو) ایذا دی جائے اس سے تو نرم بات کہہ دینی اور (اس کی بےادبی ہے) درگزر کرنا بہتر ہے اور خدا بےپرواہ اور بردبار ہے

آیت : نمبر 263۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” قول معروف “۔ یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے، یعنی قول معروف اولی وامثل (اچھی بات کرنا اولی اور عمدہ ہے) اس کا ذکر نحاس اور مہدوی نے کیا ہے، نحاس نے کہا ہے : یہ بھی جائز ہے کہ (آیت) ” قول معروف “۔ خبر ہو اور مبتدا محذوف ہو۔ یعنی الذین امرتم بہ قول معروف “۔ (وہ جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے وہ اچھی بات کرنا ہے) اور قول معروف سے مراد دعا کرنا، انس اور غمخواری کا اظہار کرنا اور جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اس کی آرزو کرنا ہے، یہ صدقہ سے بہتر ہے، کیونکہ یہ ظاہر میں صدقہ ہے اور اپنے باطن میں کوئی شی نہیں ہے اور قول معروف کے ذکر میں اجر ہے اور ایسے صدقہ میں کوئی اجر نہیں ہے۔ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” پاکیزہ کلمہ صدقہ ہے۔ (1) (صحیح بخاری، باب من اخذ بالرکاب، حدیث نمبر 2767، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور بلاشبہ تیرا اپنے بھائی کو خندہ پیشانی سے ملنا بھی نیکی میں سے ہے۔ “ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ پس چاہیے کہ آدمی سائل کو خوشی سے اور مرحبا کہتے ہوئے ملے اور کشادہ روئی اور انتہائی قرب اور فرحت کے ساتھ اس کا سامنا کرے، تاکہ وہ مشکور ہوا اگر کچھ عطا کرے اور معذور ہو اگر کچھ نہ دے اور بعض حکماء نے کہا ہے : تو حاجتمند کے ساتھ خندہ پیشانی اور خوش روئی سے ملاقات کر، پس اگر تو اس کے شکر سے محروم رہا تو اس کے عذر سے محروم نہ رہے۔ اور ابن لنکک نے کہا ہے کہ ابوبکر بن ورید نے ایک حاجت کے بارے میں کسی وزیر کا قصیدہ لکھا جس نے اسے پورا نہ کیا اور اس کے لئے اس کی جانب سے تنگی کا اظہار ہوا تو اس نے کہا : لا تدخلنک ضجرۃ من سائل فلخیر دھرک ان تری مسئولا : کسی سائل سے کوئی تنگی تجھ میں نہ آئے پائے پس تیرے زمانے کی خیر اور بھلائی اس میں ہے کہ تیرے سامنے دست سوال دراز کیا جاتا رہے۔ لا تجبھن بالرد وجہ مؤمل فبقاء عزک ان تری مامولا “۔ تو کسی آرزو مند کی حاجت لوٹا کر اس کے چہرے پر نہ مار۔ پس تیری عزت کی بقا اس میں ہے کہ تجھ سے آرزو اور امید وابستہ کی جاتی رہے۔ تلقی الکریم فتستدل ببشرہ وتری العبوس علی اللئیم دلیلا : تو کسی کریم اور سخی سے ملے تو تیرے لئے اس کی دلیل اس کی خندہ پیشانی ہے اور لئیم کی دلیل اس کے چہرے کی یبوست اور تیوری چڑھانا ہے۔ واعلم بانک عن قلیل صائر خبرا فکن خبرا یروق جمیلا : تو اس کے بارے میں جان کہ تو قلیل کی طرف سے خبر دینے والا ہے، پس تو ایسی خبر بن جا جو حسن و جمال کے اعتبار سے خوش کرنے والی ہو۔ اور حضرت عمر ؓ سے حدیث مروی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جب سائل سوال کرے تو تم اس پر اس کا سوال کاٹ نہ دو یہاں تک کہ وہ اس سے فارغ ہوجائے، پھر بڑے وقار اور نرمی کے ساتھ یا تھوڑے سے بدل کے ساتھ یا حسین انداز کے ساتھ اس پر جواب لوٹاؤ، تحقیق تمہارے پاس وہ آتے ہیں جو نہ انسانوں میں سے ہیں اور نہ جنات میں سے ہیں وہ اس بارے میں تمہارے احسانات کو دیکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمائے ہیں۔ “ میں (مفسر) کہتا ہوں : اس کی دلیل ابرص (برص کا مریض) اقرع (گنجا) اور اعمی (اندھا) والی حدیث ہے (1) (صحیح بخاری، باب ما ذکر عن بی اسرائیل، حدیث نمبر 3205، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اسے مسلم وغیرہ نے بیان کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک فرشتے نے مختلف صورتیں اختیار کیں ایک بار برص کے مریض کی، دوسری بار گنجے آدمی کی اور تیسری بار اندھے آدمی کی مسئول (جس سے سوال کیا جائے) کا امتحان لینے کے لئے۔ اور حضرت بشر بن حارث نے کہا ہے : میں نے حضرت علی ؓ کو خواب میں دیکھا اور عرض کی : اے امیر المؤمنین ! مجھے کوئی ایسی شے بتائیے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا فرمائے تو انہوں نے فرمایا : اغنیاء کا فقراء پر اللہ تعالیٰ سے ثواب کی رغبت اور آرزو رکھتے ہوئے لطف ومہربانی کرنا بہت اچھا ہے اور اس سے اچھا فقراء کا اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر اعتماد اور یقین کرتے ہوئے اغنیاء پر سرگشتہ پھرنا ہے، پھر میں نے کہا : اے امیر المؤمنین کچھ اضافہ فرمائیے تو آپ نے پیٹھ پھیری اور آپ یہ کہنے لگے : قد کنت میتا فصرت حبا وعن قلیل تصیر میتا۔ تحقیق تو مردہ تھا اور تو زندہ ہوگیا اور پھر قلیل کے سبب تو مردہ ہوجائے گا فاخرب بدار الفناء بیتا وابن بدار البقاء بیتا : پس تو دارالفنا (دنیا) میں گھر گرا دے اور دارالبقاء (آخرت) میں گھر بنالے۔ مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ (آیت) ” ومغفرۃ، یہاں مغفرت سے مراد محتاج کی بری حالت اور خصلت کو چھپانا ہے۔ اور ایس سے اعرابنی کا قول ہے۔ تحقیق اس نے فصیح کلام کے ساتھ ایک قوم سے سوال کیا تو کہنے والے نے اسے کہا تو کس (خاندان کا) آدمی ہے ؟ تو اس نے اسے کہا : اللہ تعالیٰ مغفرت کرے، بری کمائی نسب ظاہر کرنے سے مانع ہوتی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے : سائل کا معاف کردینا جب وہ اصرار کرے، اکھڑ پن اور خشکی کا مظاہرہ کرے اس پر ایسا صدقہ کرنے سے بہتر ہے جس کے ساتھ وہ احسان جتلائے اور اسے دکھ پہنچائے۔ نقاش نے یہ معنی بیان کیا ہے، نحاس نے کہا ہے : یہ مشکل ہے اعراب (ترکیب) اس کی وضاحت کرے گا۔ (آیت) ” ومغفرۃ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور اس کی خبر (آیت) ” خیر من صدقۃ “ ہے اور معنی اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، اور وہ فعل جو مغفرت تک پہنچا دیتا ہے وہ اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے پیچھے دکھ پہنچانا ہو۔ اور عربی میں تقدیر عبارت یہ ہے : وفعل مغفرۃ “ یہ بھی جائز ہے کہ یہ تیرے اس قول کی مثل ہو۔ تفضل اللہ علیک اکبر من الصدقۃ التی تمن بھا (تجھ پر اللہ تعالیٰ کا فضل اس صدقہ سے بڑا ہے جس کے ساتھ تو احسان جتلاتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کی مغفرت تمہارے اس صدقہ سے بہتر ہے جس کے ساتھ تم احسان جتلاتے ہو (ای غفران اللہ خیر من صدقتکم ھذہ التی تمنون بھا) مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ (آیت) ” واللہ غنی حلیم “۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے غنائے مطلق کی خبر دی ہے کہ وہ بندوں کے صدقہ سے مستغنی ہے اور اس کا حکم صرف اس لئے دیا ہے تاکہ وہ انہیں ثواب عطا کرے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حلم کے بارے خبر دی ہے کہ وہ اسے سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا جو احسان جتلائے اپنے صدقہ کے ساتھ اور دکھ پہنچائے۔