Ayah 2:264آیت نمبر : 264۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” بالمن والاذی۔ ان کا معنی پہلے گزر چکا ہے اللہ تعالیٰ نے عدم قبول اور ثواب سے محروم ہونے کو ابطال سے تعبیر کیا ہے اور مراد وہ صدقہ ہے جس کے ساتھ وہ احسان جتلاتا ہے اور دکھ پہنچاتا ہے، جو اس کے سوا ہو وہ مراد نہیں، اور عقیدہ یہ ہے کہ گناہ (سیئات) نیکیوں (حسنات) کو نہ باطل کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں بالکل بےکار بنا دیتے ہیں، پس صدقہ میں احسان جتلانا اور دکھ پہنچانا بھی اس صدقہ کے سوا کسی صدقہ کو باطل نہیں کرتا۔
جمہور علماء نے اس آیت میں کہا ہے : بیشک وہ صدقہ جس کے دینے والے کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ احسان جتلائے گا یا اس کے سبب دکھ پہنچائے گا تو وہ قبول نہیں کیا جاتا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : بلکہ کبھی اس پر بطور امارۃ فرشتہ کو مقرر کردیتا ہے اور وہ اسے لکھتا ہی نہیں، اور یہ قول حسن اور اچھا ہے اور عرب اس کے بارے میں کہتے ہیں جس کے ساتھ احسان جلایا جاتا ہے : ید سوداء (سیاہ ہاتھ (یعنی ایسی نعمت جس کو ضائع کردیا گیا) اور جو کسی کو بغیر سوال کے عطا کرتا ہے اسے یدبیضاء (روشن ہاتھ) کہتے ہیں اور جو سوال کرنے پر عطا کرتا ہے اسے ید خضراء (سبز ہاتھ) کہتے ہیں اور بعض بلغاء نے کہا ہے : جس نے اپنی نیکی کے ساتھ احسان جتلایا اس کا شکر ساقط ہوگیا۔ اور جس نے اپنے عمل کے ساتھ تکبر کیا اس کا اجر ضائع ہوگیا اور بعض شعراء نے کہا ہے :
وصاحب سلفت منہ الی ید ابطا علیہ مکافاتی فعادانی :
میرا وہ ساتھی جس کی طرف سے مجھ پر پہلے احسان ہوتا رہا ہے اس پر میری طرف سے بدلہ موخر ہوا تو اس نے میرے ساتھ عداوت اختیار کرلی۔
لما تیقن ان الدھر حاربنی ابدی الندامۃ فیما کان اولانی :
جب یقین ہوگیا کہ زمانے نے مجھ سے جنگ شروع کردی ہیں تو جو شے میرے قریب آئی اسی میں اس نے ندامت ظاہر کردی۔
اور ایک دوسرے شاعر نے کہا :
افدت بالمن ما اسدیت من حسن لیس الکریم اذا اسدی بمنان :
تو نے احسان جتلانے کے ساتھ اس نیکی کو ضائع کردیا جس کا تو نے احسان کیا اور کریم (سخی آدمی) جب احسان کرتا ہے تو وہ احسان نہیں جتلاتا۔
اور ابوبکر وراق نے کہا اور خوب اچھا کہا :
احسن من کل حسن یف کل وقت وزمن :
ہر اچھائی اور نیکی سے بڑھ کر اچھائی ہر وقت اور ہر زمانے میں :
صنیعۃ مربوبۃ خالیۃ من المنن :
وہ احسان ہے جو بڑھایا جائے درآنحالیکہ وہ احسان جتلانے سے خالی ہو۔
ابن سیرین نے ایک آدمی کو سنا وہ دوسرے کو کہہ رہا ہے : فعلت الیک وفعلت (میں نے تیرے ساتھ ایسا کیا اور ایسا کیا) تو آپ نے اسے کہا : تو خاموش رہ نیکی کو جب شمار کرلیا جائے تو پھر اس میں کوئی خیر اور بھلائی نہیں ہے۔ اور حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ایاکم والامتنان بالمعروف فانہ بیطل الشکر ویمحق الاجر “ تم نیکی کے ساتھ احسان جتلانے سے بچو کیونکہ یہ شکر کو باطل کردیتا ہے اور اجر کو مٹا ڈالتا ہے۔۔۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔۔۔۔۔ (آیت) ” لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی “۔ الآیۃ۔
مسئلہ نمبر : (2) ہمارے علماء رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے : اس آیت کی وجہ سے امام مالک (رح) نے مکروہ قرار دیا ہے کہ آدمی اپنا واجب صدقہ اپنے اقارب کو دے تاکہ وہ ان سے تعریف وثنا کی صورت میں عوض کا طالب نہ ہو۔ وہ ان پر اپنے احسان کا اظہار کرے گا اور وہ اسے اس پر بدلہ اور عوض دینے کی کوشش میں ہوں گے، نتیجتا وہ صدقہ خالصہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے نہ وہ گا۔ اور مستحب یہ ہے کہ وہ صدقہ اجنبی لوگوں کو دے، اور یہ بھی مستحب ہے کہ وہ کسی غیر کو اس کی تقسیم پر مقرر کرے جبکہ امام وقت عادل نہ ہو، تاکہ احسان جتلانے اور دکھ پہنچانے کے ساتھ یا جس کو دیا گیا ہے اس کی طرف سے شکر، تعریف یا خدمت کی صورت میں عوض دینے کے سبب وہ ضائع نہ ہوجائے، اور یہ اس نفلی صدقہ کے خلاف ہے جو سرا دیا جاتا ہے کیونکہ اس کا ثواب جب ضائع ہوجائے تو وہ وعید سے محفوظ رہتا ہے اور وہ ایسے آدمی کے حکم پر ہوجاتا ہے جس نے وہ کام نہیں کیا لیکن واجب صدقہ کا جب ثواب ضائع ہوجائے تو اس کی طرف وعید متوجہ ہوجاتی ہے کیونکہ وہ اس کے حکم میں ہوچکا ہے جس نے وہ ادا ہی نہیں کیا۔
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ (آیت) ” کالذی ینفق مالہ رئآء الناس “۔ یہاں کاف محل نصب میں ہے، ای ابطال ” کالذی اور یہ مصدر محذوف کی صفت ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ حال کے محل میں ہو، اللہ تعالیٰ نے اس کی مثال بیان فرمائی ہے جو احسان جتلاتا ہے اپنے صدقہ کے ساتھ اور دکھ پہنچاتا ہے اس آدمی کے ساتھ جو اپنا مال خرچ کرتا ہے لوگوں کو دکھانے کے لئے نہ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اور اس کافر کے ساتھ جو مال خرچ کرتا ہے تاکہ اسے سخی کہا جائے اور طرح طرح سے اس کی تعریف کی جائے، پھر اس خرچ کرنے والے کی مثال بیان فرمائی ایسی چٹان کے ساتھ جس پر مٹی پڑی ہوئی ہو اور گمان کرنے والا اسے اچھی اگانے والی زمین گمان کررہا ہو اور جب اس پر موسلادھار بارش پڑے تو وہ اس سے ساری مٹی بہا کرلے جائے اور وہ صاف چٹیل پتھر باقی رہ جائے، پس یہ ریا کاری کرنے والا بھی اسی طرح ہے۔
پس احسان جتلانا، دکھ پہنچانا اور ریا کاری آخرت میں نیت کو ظاہر کردیں گے اور صدقہ باطل ہوجائے گا جیسا کہ موسلادھار بارش چٹان کو ظاہر کردیتی ہے، صفوان سے مراد وہ بڑا پتھر ہے جو چکنا ہو۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیت سے مراد فضل (اضافی ثواب) کو باطل کرنا ہے نفس ثواب کو باطل کرنا نہیں، اپنے نفقہ سے ریا کاری کا ارادہ کرنے والا نہ کہ ثواب کا وہ کافر کی طرح ہے، کیونکہ اس نے اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد نہیں کیا کہ وہ ثواب کا مستحق ہو۔ اور یہ اس احسان جتلانے والے اور دکھ پہنچانے والے کے خلاف ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کا قصد کرتا ہے وہ اس کے ثواب کا مستحق ہوگا اگرچہ اس نے بار بار کسی کو عطا کیا اور اس نے اس کے فضل اور زیادتی کو باطل کردیا۔
اور یہ قول بھی ہے کہ وہ اپنے احسان جتلانے اور اس کو دکھ پہنچانے کے وقت سے اپنے صدقہ کے ثواب سے محروم ہوتا ہے
اور جو اس سے پہلے ہے وہ اس کے لئے لکھ دیا جاتا ہے اور اسے بڑھایا جاتا ہے اور جب وہ احسان جتلاتا ہے اور دکھ پہنچاتا ہے تو اس کی تضعیف ( کئی گنا زیادتی) منقطع ہوجاتی ہے کیونکہ صدقہ دینے والے کے لئے صدقہ بالتدریج بڑھایا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ بہت بڑے پہاڑ کی مثل ہوجاتا ہے اور جب وہ اپنے مالک کے ہاتھ سے خالصہ علی وجہ المشروع نکلے تو وہ کئی بڑھا دیا جاتا ہے اور جب اس کے ساتھ احسان جتلانا اور اذیت پہنچانا شامل ہوجائے تو اس کے سبب وہ ہیں رک جاتا ہے اور اس سے تضعیف کی زیادتی منقطع ہوجاتی ہے، پہلا قول اظہر ہے۔ واللہ اعلم۔
” صفوان “ جمع ہے اور اس کی واحد صفوانۃ ہے اخفش نے یہی کہا ہے، اور بعض نے کہا ہے : صفوان واحد ہے جیسا کہ حجر اور کسائی نے کہا ہے : صفوان واحد ہے اور اس کی جمع صفوان، صفی اور صفی ہے، مبرد نے اس کا انکار کیا ہے اور کہا ہے : بلاشبہ صتی صفا کی جمع ہے جیسا کہ قفا کی جمع قفی ہے اور اسی معنی سے الصفواء اور الصفا ہیں، یہ پہلے گزر چکا ہے اور حضرت سعید بن مسیب ؓ اور زہری نے صفوان فاء کو متحرک پڑھا ہے اور یہ ایک لغت ہے، اور قطرب نے صفوان بیان کیا ہے۔
نحاس نے کہا ہے : صفوان اور صفوان یہ بھی جائز ہے کہ یہ جمع ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ واحد ہو۔ مگر اولی یہ ہے کہ یہ واحد ہو۔ اور دلیل یہ ارشاد گرامی ہے : (آیت) ” علیہ تراب فاصابہ وابل “۔ اگرچہ جمع کے لئے مذکر ضمیر لانا جائز ہوتا ہے مگر کوئی شے دلیل قاطع کے بغیر اپنے باب سے نہیں نکل سکتی۔ اور رہا جو امام کسائی نے جمع کے بارے میں بیان کیا ہے تو وہ فی الحقیقت صحیح نہیں ہے۔ البتہ صفوان صفا کی جمع ہے اور صفا بمعنی صفوان ہے۔ اور اس کی نظیر ورل (گوہ کی مانند ایک جانور) اور ورلان، اخ اور اخوان اور کر اور کروان (بھورے رنگ اور لمبی چونچ کا ایک پرندہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ رات کو نہیں سوتا ہے۔ ) ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
لنا یوم وللکروان یوم البائسات ولا نطیر :
اور عربی میں کروان کی جمع کروان ضعیف ہے اور صفی اور صفی صفا کی جمع بھی جیسا کہ عصا اور الوابل کا معنی ہے : شدید اور موسلادھار بارش اور (کبھی کہا جاتا ہے) وبلت السمآء تبل “۔ (آسمان موسلادھار برسا) اور الارض موبولۃ (اور زمین خوب تر ہوگئی) اخفش نے کہا ہے اور ایس معنی میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اخذناہ اخذا وبیلا “۔ یعنی ہم نے اسے انتہائی سختی کے ساتھ پکڑ لیا۔ اور ضرب وبیل (سخت مار) اور عذاب وبیل (شدید عذاب) اور الصلد کا معنی ہے : چکنا پتھر، امام کسائی نے کہا ہے : صلدیصلد صلدا اس میں لام متحرک ہے فھو صلد اس میں لام ساکن ہے۔ مراد ہر وہ شے ہے جو کسی شے کو نہ اگائے، اور اسی سے جبین اصلد (روشن پیشانی) ہے، اصمعی نے رؤبہ کے لئے شعر کہا ہے :
براق اصلاد الجبین الاجلہ :
نقاش نے کہا ہے : ہذیل کی لغت کے مطابق اصلد کا معنی اجرد (خالی ہونا) ہے۔
اور (آیت) ” لایقدرون “ کا معنی ہے : ریا کار، کافر اور احسان جتلانے والا کچھ بھی حاصل نہ کرسکیں گے۔ (آیت) ” علی شیء “ یعنی اپنے خرچ کرنے سے کسی شے کے ثواب کا نفع اٹھانے پر (وہ قادر نہیں ہو سکیں گے) اور یہی ان کی کمائی ہے انہیں اس کی ضرورت اور حاجت ہونے کے وقت، کیونکہ یہ غیر اللہ کے لئے (صدقہ) تھا، اور نفقہ کو کسب سے تعبیر کیا گیا ہے، کیونکہ انہوں نے اس سے کسب (کمائی) کا ارادہ کیا ہے۔
اور کہا گیا ہے : یہ ریا کار کے لئے اس کا ثواب باطل کرنے کی مثال بیان کی گئی ہے اور احسان جتلانے والے اور اذیت دینے والے کے لئے اس کی فضل و زیادتی کو باطل کرنے کی مثال ہے، اسے ماوردی نے ذکر کیا ہے۔
Ayah 2:265آیت نمبر : 265 :
قولہ تعالیٰ (آیت) ” ومثل الذین ینفقون اموالھم ابتغآء مرضات اللہ وتثبیتا من انفسھم “۔ اس میں ابتغاء مفعول من اجلہ ہے، اور تثبیتا من انفسھم “ اس پر معطوف ہے اور مکی نے المشکل میں کہا ہے : یہ دونوں مفعول من اجلہ ہیں۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ مردود ہے اور تثبیتا ‘ کو مفعول من اجلہ بنانا صحیح نہیں ہے، کیون کی انفاق (خرچ کرنا) تثبیت (پختہ ہوجانا) کی وجہ سے نہیں ہے : اور ابتغآء کو حال کے محل میں مصدر ہونے کی بنا پر نصب دی گئی ہے اور اس میں نصب مفعول من اجلہ کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے، لیکن مصدر کی بنا پر نصب دینا اس وجہ سے درست ہے کہ اس پر (آیت) ” تثبیتا “ مصدر کا عطف ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس قوم کے صدقات کا حال بیان کیا جن کے صدقات کا خیر وبھلائی میں کوئی بڑا حصہ نہیں اور مومنین کو ان مواقع سے منع فرمایا جو من وجہ اس سے مشابہت رکھتے ہیں تو اس کے بعد اس آیت میں اس قوم کے نفقات کا ذکر فرما رہا ہے جنہوں نے اپنے صدقات کو پاک کیا کیونکہ وہ شریعت کے موافق اور اس کی طرز پر تھے۔
اور ” ابتغآء “ کا معنی طلب ہے اور ” مرضات “ یہ رضی یرضی سے مصدر ہے، اور ” تثبیتا “ کا معنی ہے کہ وہ پختہ ہوجائیں جہاں وہ اپنے صدقات کو رکھیں، یہ مجاہد اور حسن رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے، حسن نے کہا ہے : آدمی جب صدقہ کا قصد کرے تو وہ ثابت ہوجاتا ہے پس اگر وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے ہو تو وہ اسے ادا کر دے اور اگر اس میں شک کی آمیزش ہوجائے تو اسے روک لے۔
اور بعض نے کہا ہے : اس کا معنی ہے تصدیق اور یقین کرتے ہوئے، کہ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بھی اور حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے کہ اس کا معنی ہے : اپنے دلوں میں ثواب کی نیت کرتے ہوئے، اور حضرات شعبی، سدی قتادہ نے بھی، ابن زید اور ابو صالحرحمۃ اللہ علہیم وغیرہم نے کہا ہے : وتثبیتا کا معنی وتیقنا ہے یعنی کہ ان کے دلوں کو بصیرت حاصل ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خرچ کرنے پر ان کے پختہ ہونے کا یہی مفہوم ہے۔ یہ تینوں اقوال حضرت حسن اور حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علہیم کے قول کی نسبت زیادہ صحیح اور درست ہیں، کیونکہ وہ معنی جسے ان دونوں نے اختیار کیا ہے اس کی عبارت میں ” وتثبیتا “ مصدر غیر پر محمول ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے اور یہ جائز نہیں ہوتا مگر مصدر کے ذکر کے ساتھ اور فعل متقدم کی فصاحت وبیان کے ساتھ، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
(آیت) ” واللہ انبتکم من الارض نباتا (نوح)
ترجمہ اور اللہ تعالیٰ نے تم کو زمین سے عجب طرح اگایا ہے۔
اور (آیت) ” وتبتل الیہ تبتیلا “۔ (المزمل)
ترجمہ ؛ اور سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہو “
لیکن جب فعل کے ساتھ وضاحت نہ ہو تو ایسا مصدر لانا جائز نہیں جائز نہیں ہوتا جو اس کا ہم معنی نہ ہو، پھر تو کہے گا : میں اسے فلاں فلاں معنی پر محمول کرتا ہوں اس فعل کے لئے جن کا ذکر پہلے نہیں ہوا۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ کلام عرب کا وسیع راستہ ہے جس کے بارے تو نے جان لیا ہے۔
اور نحاس نے کہا ہے : اگر ایسا ہوتا جیسا کہ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے تو پھر ” وتثبیتا تثبت “ سے ہوتا جیسا کہ تکزمت تکرما ہے، اور حضرت قتادہ ؓ کا قول کہ یہ ” احتسابا “ کے معنی میں ہے، یہ نہیں پہچانا جاسکتا مگر اس طرح کہ اس سے مراد یہ لیا جائے کہ ان دلوں نے احتساب کرتے ہوئے ان کی خوب چھان بین کی اور یہ بعید ہے اور حضرت شعبی کا قول اچھا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خرچ کرنے پر اپنے دلوں کو پختہ رکھتے ہوئے کہا جاتا ہے : ثبت فلانا فی ھذا الامر میں نے فلاں کو اس کام میں پختہ کردیا۔ یعنی میں نے اس کے عزم اور ارادہ کی تصحیح کی اور میں نے اس میں اس کی رائے کو قوی کردیا، اثبتہ تثبیتا اور میں نے اسے بہت پختہ کردیا۔ یعنی ان کے دل اللہ تعالیٰ کے وعدے کے ساتھ یقین رکھتے ہوئے اس میں بہت پختہ ہوگئے۔
اور بعض نے کہا ہے (آیت) ’ وتثبیتا من انفسھم “۔ یعنی وہ اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر پختہ کر دے گا ای وتثبیتا من انفسھم لثوابھا، یعنی تاکہ اس کے ثواب کے بارے میں ان کے دل پختہ ہوجائیں بخلاف اس منافق کے جو ثواب کا گمان بھی نہیں رکھتا۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” کمثل جنۃ بربوۃ “۔ اس میں جنۃ کا معنی باغ ہے اور یہ وہ قطعہ زمین ہوتا ہے جس میں میں درخت اگائے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اسے ڈھانپ لیتے ہیں، اور یہ لفظ جن اور جنین سے ماخوذ ہے کیونکہ یہ چھپے ہوتے ہیں اور اس کی وضاحت پہلے ہوچکی ہے۔ اور ربوۃ کا معنی ہے : ایسی بلند جگہ جس میں بلندی تھوڑی ہو اور اغلبا اس کے ساتھ مٹی کی کثافت اور کثرت بھی ہو۔ اور جو زمین اس طرح ہوتی ہے اس کی پیداوار اور نباتات اچھی ہوتی ہے۔ اسی لئے خاص طور پر ربوۃ کا ذکر کیا گیا ہے۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : اور ریاض الحزن اس میں سے نہیں ہے جیسا کہ طبری نے گمان کیا ہے، بلکہ یہ وہ ریاض ہے جو نجد کی طرف منسوب ہے کیونکہ یہ تہامہ کے ریاض سے بہتر ہے اور نجد کی نباتات زیادہ زیادہ معطر اور خوشبودار ہوتی ہیں، اور اس کی ہوا زیادہ ٹھنڈی اور راحت بخش ہوتی ہے اور نجد کو ہی حزن کہا جاتا ہے، اور تہامہ کی ہوا سوائے رات کے بہت کم صحتمند اور نفع بخش ہوتی ہے۔ اسی لئے ایک اعرابیہ عورت نے کہا ہے : زوجی کلیل تھا مۃ (میرا خاوند تہامہ کی رات کی مثل ہے) (1) (صحیح بخاری، باب حسن المعاشرۃ مع الاھل، حدیث نمبر، 4790، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور سدی نے کہا :” بربوۃ “ بمعنی برباوۃ ہے یعنی زمین کا وہ حصہ جو پست ہو، ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ قلقلہ (دشواری، پریشانی) سے عبارت ہے اور ربوۃ کا لفظ ربایوبو سے ماخوذ ہیں جب وہ بڑھ جائے اس میں اضافہ ہوجائے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : سدی کی عبارت کوئی شے نہیں ہے کیونکہ رب و کی بناء کا معنی کلام عرب میں زیادتی اور اضافہ کرنا ہے اور اسی سے الربوبلند نفس کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ربایربو، جب ربو (زیادتی) اسے آلے اور رباالفرس جب دوڑنے یا گھبراہٹ کے سبب گھوڑے کی سانس پھول جائے، اور فراء نے اس قول باری تعالیٰ میں کہا ہے : (آیت) ” اخذھم اخذۃ رابیۃ “ کہ یہ بمعنی زائدہ ہے۔ (یعنی اس نے انہیں سخت مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیا) جیسے کہ تیرا یہ قول ہے : اربیت جب تو اس سے زیادہ لین جو تو نے دیا ہو۔ اور ربوت فی بنی فلان وربیت ای نشات فیھم۔ (میں نے ان میں نشوونماپائی) اور خلیل نے کہا ہے : ” الربوۃ “ بلند زمین جو اچھی ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو ذکر کے ساتھ خاص کیا ہے جس میں بلاد عرب میں عرف کے اعتبار سے پانی جاری نہیں ہوتا اور ان کے لئے اس کی مثال بیان فرمائی جسے وہ محسوس کرسکتے ہیں اور اس کا۔۔۔۔ کرسکتے ہیں اور حضرت ابن عباس ؓ نے کا ہ : ربوۃ سے مراد وہ بلند جگہ ہے جس میں نہریں جاری نہیں ہو سکتیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (آیت) ” اصابھا وابل “۔ آخر آیت تک اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس میں جاری پانی نہیں ہے اور نہ ہی اس زمین کی جنس کا ارادہ کیا ہے، جس میں نہریں جاری ہو سکتی ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ربوۃ ذات قرار ومعین کا ذکر کیا ہے اور کلام عرب میں معروف یہ ہے کہ ربوہ سے مراد وہ جگہ ہے جو اپنے آس پاس سے بلند ہو چاہے اس میں پانی جاری ہو یا نہ جاری ہو۔ اور اس میں پانچ لغات ہیں، ربوۃ راء کے ضمہ کے ساتھ، ابن کثیر، حمزہ، کسائی، نافع اور ابو عمرو رحمۃ اللہ علہیم نے پڑھا ہے۔ اور ربوۃ عاصم، ابن عامر اور حسن رحمۃ اللہ علہیم نے راء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور ربوۃ حضرت ابن عباس ؓ اور ابو اسحاق سبیعی نے را کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور رباوۃ ابو جعفر اور ابو عبدالرحمن نے اس طرح پڑھا ہے۔ اور شاعر نے کہا ہے :
من منزل فی روضۃ بریاوۃ بین النخیل الی بقیع الغرقد ؟
اور ریاوۃ اشہب نے اسے را کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے فراء نے کہا ہے : اور کہا جاتا ہے : بریاوۃ اور بریاوۃ اور یہ سب الرابیہ سے ہیں اور اس کا فعل ریایربو ہے۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” اصابھا “ اس میں ہاضمیر کا مرجع ربوۃ ہے۔ (آیت) ” وابل “ اس کا معنی ہے : شدید بارش، شاعر نے کہا ہے :
ما روضۃ من ریاض الحزن مغشبۃ خضراء جادعلیھا وابل ھطل “۔
اس میں وابل ھطل موسلادھار بارش کے معنی میں ہی مذکور ہے۔
فاتت، ای اعطت تو لایا ہوا اکلھا ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ۔ مراد وہ پھل ہے جو کھایا جاتا ہے اور اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” تؤتی اکلھا کل حین (ابراہیم : 25)
ہر شے میں سے کھائی جانے والی شے کو اکل کہا جاتا ہے اور الاکلۃ سے مراد لقمہ ہے اور اسی معنی میں حدیث طیبہ ہے : فان کان للطعام مشفوھا قلیلا فلیضع فی یدہ منہ اکلۃ او اکلتین “۔ (اگر کھانا بہت تھوڑا رہ جائے تو چاہیے کہ اپنے ہاتھ میں اس سے ایک یا دو لقمے رکھ لے) اسے مسلم نے روایت کیا ہے (1) (صحیح بخاری، باب اذا اتاہ خادمہ بطعامہ، حدیث نمبر 2370، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور اس کی اضافت باغ کی طرف یہ اضافت اختصاص ہے، جیسا کہ سرج الفرس اور باب الدار میں اضافت اختصاص ہے ورنہ پھل اس میں سے نہیں ہے جسے باغ کہا جاتا ہے۔
نافع، ابن کثیر اور ابو عمرو نے اکلھا ہمزہ کو ضمہ اور کاف کو سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اسی طرح ہر وہ جو مؤنث کی طرح مضاف ہو، اور ابو عمرو نے ان دونوں کا فرق بیان کیا ہے کہ جب اسے مذکر کی طرف مضاف کیا جائے مثلا اکلہ یا کسی بھی شے کی طرف مضاف نہ ہو مثلا ” اکل خمط “۔ (سبا : 16) تو ابو عمرو نے اسے مثقل پڑھا ہے اور دوسرے دونوں نے مخفف پڑھا ہے۔
اور عاصم، ابن عامر، حمزہ اور کسائی نے ان تمام صورتوں میں جو ہم نے ذکر کی ہیں اسے مثقل پڑھا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اکل اور اکل دونوں ہم معنی ہیں۔
ضعفین : یعنی وہ دوسری زمین کے مقابلہ میں دو گنا پھل لایا، اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ وہ سال میں دو بار پھل لایا۔ اور پہلا قول زیادہ ہے۔ یعنی اس نے اپنی پیداوار ایک سال میں دی جتنی پیداوار دوسری زمین دو سالوں میں دیتی ہے۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” فان لم یصبھا وابل فطل “۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس بلند زمین کی مدح کی تاکید کے لئے ہے۔ اس طرح کہ اگر اسے موسلادھار بارش نہ بھی پہنچے تو اسے شبنم ہی کافی ہوجاتی ہے۔ اور یہی دوگنا پھل نکالنے میں شدید بارش کے قائم مقام ہوجاتی ہے اور یہ زمین کے زرخیز اور طیب ہونے کی وجہ سے ہے۔ مبرد وغیرہ نے کہا ہے : تقدیر کلام میں طفل یکفیھا۔ (پس شبنم ہی اسے کافی ہوجائے) اور زجاج نے کہا ہے : فالذی یصیبھا طل 0 اور وہ جس پر سبنم برسے) اور طل سے مراد کمزور سی بارش ہے جس کے قطرے باریک اور بالکل خفیف سے ہوں، حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے یہی کہا ہے اور یہ اس کی مشہور لغت ہے۔
اور ایک قوم نے کہا ہے جن میں سے حضرت مجاہد ہیں کہ الطل کا معنی شبنم ہے، ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ مجاز اور تشبیہ ہے، نحاس نے کہا ہے اور اہل لغت نے بیان کیا ہے : وبلت اور اوبلت، طلت اور اطلت اور الصحاح میں ہے : الطل سے مراد انتہائی ضعیف اور کمزور بارش اور اس کی جمع الطلال ہے۔ اسی سے آپ کہتے ہیں : طلت الارض واطلھا الندی زمین پر شبنم پڑی فھی مطلولۃ۔
ماوردی نے کہا ہے : شبنم کی کھیتی بارش کی کھیتی سے دگنی ہوتی ہے اور پیداوار کے لحاظ سے کم ہوتی ہے اور اس میں ہے۔ اور اگرچہ پیداوار اور نفع کم ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : پہلی تاویل زیادہ صحیح ہے اور تقدیم وتاخیر کی کوئی حاجت نہیں، پس اللہ تعالیٰ نے ان مخلص بندوں کے خرچ کئے ہوئے مال کے بڑھنے کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو بلند جگہ پر واقع ہو بخلاف اس چکنی چٹان کے جس کی مٹی بہہ گئی اور وہ خالص پتھر باقی رہ گیا۔
اور مسلم وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے حدیث روایت کی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کوئی آدمی بھی جو اپنی پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور صدقہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اپنے قدرت کے ساتھ لے لیتا ہے اور پھر اس کی نشوونما کرتا ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے اور اونٹ کے بچے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ کی مثل یا اس سے بھی بڑی ہوجاتی ہے “ اسے مؤطا نے بھی روایت کیا ہے۔ (1) (صحیح بخاری کتاب الزکوۃ ،: حدیث نمبر : 1321 ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
قولہ تعالیٰ (آیت) ” واللہ بما تعملون بصیر “۔ یہ وعدہ اور وعید ہے۔ زہری نے یعملون یاء کے ساتھ پڑھا ہے گویا وہ اس سے تمام لو مراد لیتے ہیں یا پھر صرف خرچ کرنے والے مراد لیتے ہیں تو اس صورت میں یہ صرف وعدہ ہے۔
Ayah 2:266آیت نمبر : 266۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” ایود احدکم ان تکون لہ جنۃ من نخیل واعناب “۔ الایۃ طبری نے سدی سے بیان کیا ہے کہ یہ آیت ریا کے نفقہ کی دوسری مثال ہے اور آپ نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہی روایت ہے، آپ نے بیان فرمایا : یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے ریاکاروں کے اعمال کے بارے بیان فرمائی ہے جنہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ باطل کر دے گا جن کی طرف وہ زیادہ محتاج ہوگا، جیسا کہ اس آدمی کی مثال جس کا ایک باغ ہو اور اس کے بچے ہوں اور وہ اسے کوئی نفع اور فائدہ نہ دیں اور وہ بوڑھا ہوجائے اور باغ کو بگولہ آپہنچے یعنی ایسی تیز آندھی جس میں آگ ہو اور وہ جل جائے اور وہ جل جائے اور وہ اسے گم کر دے اس وقت جب وہ اس کا زیادہ محتاج ہوا، اور ابن زید سے بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد پڑھا۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا لاتبطلوا صدقتکم بالمن والاذی “۔ الآیہ (بقرہ : 264) پھر فرمایا : پھر اس بارے میں مثال بیان فرمائی اور فرمایا : (آیت) ” ایود احدکم “۔ الآیہ۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ اس سے واضح اور زیادہ بین ہے جسے طبری نے ترجیح دی ہے اور یہ آیت ریا کے نفقہ کی دوسری مثال نہیں ہے۔ یہی سیاق کلام کا تقاضا ہے، اور رہا وہ معنی جو اس سیاق کے سوا میں ہے تو وہ ہر منافق یا کافر کے حال کے مشابہ ہے جو ایک عمل کرتا ہے اور وہ گمان رکھتا ہے کہ وہ خوب اچھا کر رہا ہے اور جب وہ حاجت کے وقت وہاں آئے گا تو وہ کوئی شے نہ پائے گا۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ مثال اس آدمی کی ہے جس نے غیر اللہ کے لئے عمل کیا چاہے وہ منافق ہو یا کافر ہو۔ جیسا کہ آگے آئے گا، مگر بخاری میں آپ سے اس کے خلاف ثابت ہے، امام بخاری نے حضرت عبید بن عمیر سے روایت بیان کی ہے (1) (صحیح بخاری کتاب تفسیر القرآن : حدیث نمبر : 4174 ضیاء القرآن پبلی کیشنز) انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کو ایکدن کہا : تم کیا رائے رکھتے ہو یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی،
(آیت) ” ایود احدکم ان تکون لہ جنۃ من نخیل واعناب “۔
انہوں نے جواب دیا : اللہ ورسولہ اعلم : تو حضرت عمر ؓ غصے ہوگئے اور فرمایا : تم کہو : ہم جانتے ہیں یا ہم نہیں جانتے تو حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا : اے امیر المومنین ! میرے دل میں اس کے بارے ایک شے آرہی ہے آپ نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! کہو اور اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھو، تو حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : غنی اور سخی آدمی کے عمل کی مثال بیان کی گئی ہے حضرت عمر ؓ نے پوچھا : وہ کون سا عمل ہے ؟ تو حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : غنی اور سخی آدمی کے عمل کی جو وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت وپیروی میں کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ایک شیطان بھیج دیا اور اس نے گناہ کے عمل کئے یہاں تک کہ اس نے پہلے عمل کو جلا دیا (2) (صحیح بخاری کتاب تفسیر القرآن : حدیث نمبر : 4174 ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور ایک روایت میں ہے : جب وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا اور اس کی موت قریب آگئی تو بدبختی کے اعمال میں سے کسی عمل پر اس کا خاتمہ ہوا : پس حضرت عمر ؓ اس سے خوش ہوئے (اور اس رائے کو پسند فرمایا) اور ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا : یہ ایک مثال ہے جو ایسے انسان کی بیان کی گئی ہے جو عمل صلالح کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی آخری عمر کو پہنچتا ہے اور زیادہ اس کا محتاج ہوتا ہے تو اس وقت برائی اور گناہ کا عمل کرلیتا ہے۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ ایک نظر اور رائے ہے جس ساتھ آیت کو ہر اس شے پر محمول کیا جاسکتا ہے جو اس کے الفاظ کے تحت داخل ہو، اور اسی طرح مجاہد، قتادہ، اور ربیع وغیرہم نے بیان کیا ہے کھجور اور انگور کو ذکر کے ساتھ خاص کیا ہے کیونکہ ان دونوں کو تمام درختوں پر فضل وشرف حاصل ہے۔
اور حسن نے جنات جمع کے ساتھ قرات کی ہے (آیت) ” تجری من تحتھا الانھر “۔ اس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ (آیت) ” لہ فیھا من کل الثمرات “۔ یہ ماضی کا مستقبل پر عطف ہے اور وہ تکون ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ یود ہے۔ اور کہا گیا ہے : تقدیر عبارت ہے : وقد اصابہ الکبر “۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ معنی پر محمول ہے، کیونکہ معنی یہ ہے ” ایود احدکم ان لو کا نت لہ جنۃ (کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اگر اس کا ایک باغ ہو) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ واؤ حالیہ ہے اور اسی طرح ولہ میں بھی ہے۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” فاصابھا اعصار فیہ نار فاحترقت “۔ حسن نے کہا ہے : (آیت) ” اعصار فیہ نار “ ایسی ہوا جس میں شدید سردی ہو، زجاج نے کہا ہے : لغت میں الاعصار سے مراد ایسی شدید اور سخت ہوا ہے جو زمین سے آسمان کی طرف عمود (خط عمودی) کی طرح چلتی ہے اور یہیوہ ہے جسے الزوبعۃ کہا جاتا ہے۔
جوہری نے کہا ہے : الزوبعۃ جنات کے سرداروں میں سے ایک سردار ہے اور اسی سے الاعصار کا نام زوبعہ رکھا گیا ہے اور کہا جاتا ہے : ام زوبعہ اور یہ وہ ہوا ہے جو غبار اڑاتی ہے اور آسمان کی طرف بلند ہوتی ہے گویا وہ عمود ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے۔ الاعصار سے مراد وہ ہوا ہے جو بادلوں کو چلاتی ہے جن میں گرج اور چمک ہوتی ہے، اور مہدوی نے کہا ہے اس کو اعصار کہا گیا ہے کیونکہ یہ لپٹ جاتی ہے کپڑے کی طرح جب اسے نچوڑا جائے، ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ قول ضعیف ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : بلکہ یہ صحیح ہے، کیونکہ یہی محسوس مشاہدہ ہے کیونکہ یہ عمودی شکل میں لپٹے ہوئے اوپر چڑھتی ہے اور کہا گیا ہے : بلاشبہ ہوا کو اعصار کہا گیا ہے، کیونکہ یہ بادلوں کو نچوڑ دیتی ہے اور بادل معصرات کہلاتے ہیں یا تو اس لئے کہ یہ (بارش) اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں، پس یہ عورتوں میں سے معصر کی طرح ہیں یا اس لئے کہ یہ ہواؤں کے سبب نچڑ جاتے ہیں۔
ابن سیدہ نے بیان کیا ہے کہ ایک قوم نے معصرات کی تفسیر ریاح (ہواؤں) سے کی ہے نہ کہ بادلوں سے۔
ابن زید نے بیان کیا ہے کہ اعصار سے مراد سخت آندھی اور گرم ہوا ہے اور اسی طرح سدی نے بھی کہا ہے کہ اعصار سے مراد ہوا اور سخت گرم آگ ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : ایسی ہوا جس میں شدید گرمی اور تپش ہو، ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ سخت گرمی میں بھی ہوتی ہے اور سخت سردی میں بھی ہوتی ہے اور یہ سب جہنم کی گرمی اور اس کی سانس لینے سے ہوتی ہے، جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد اسے متضمن ہے۔ ” اذا اشتد الحر فابردوا عن الصلوۃ فان شدۃ الحر من فیح جھنم “ جب گرمی شدید ہوجائے تو نماز کو ٹھنڈا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی گرمی میں سے ہے۔ اور ان النار اشتکت الی ربھا الحدیث “۔ (1) (اور بیشک آگ نے اپنے رب کے پاس شکایت کی) اور حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے، یہ ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے کافروں اور منافقین کے لئے بیان فرمائی ہے، جیسا کہ اس آدمی کی حالت جس نے ایک باغ لگایا اور اس میں کثرت سے پھل اگائے پھر اسے بڑھاپا آپہنچا اور اس کی اولاد بھی کمزور ہو اولاد سے مراد بچے، بچیاں اور غلام ہیں۔ پاس اس کا گزارا اور اس کی اولاد کا گزارا اسی باغ سے ہو، تو اللہ تعالیٰ اس باغ پر ایسی ہوا چلا دے جس میں آگ ہو اور وہ اسے جلا کر بھسم کر دے، اور اس کے پاس کوئی اور قوت و طاقت نہ ہو کہ وہ دوبارہ اسے لگا سکے اور نہ ہی اس کے بیٹوں کے پاس خیر ونفع ہو کہ وہ اپنے باپ کی طرف رجوع کریں، اسی طرح کافر اور منافق ہے جب وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے پاس پیش ہوں گے تو اس کے لئے (بھاگنے کا) کوئی ذریعہ نہ ہوگا، اسے اٹھایا جائے گا اور وہ دوسری بار حاضر ہوجائے گا، جیسا کہ اس کے پاس کوئی قوت نہیں کہ وہ اپنا باغ دوسری بار لگا سکے، اور نہ اس کے پاس وہ ہے جس کا وہ اپنی کبرسنی کے وقت محتاج ہے اور اس کی اولاد کمزور ہے اور اس سے مستغنی ہے۔
(آیت) ” کذلک یبین اللہ لکم الایت لعلکم تتفکرون “۔ اس سے مراد ہے تاکہ تم میری عظمت اور میری ربوبیت کی طرف رجوع کرو اور میرے سوا کسی کو دوست نہ بناؤ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بھی کہا ہے : تاکہ تم دنیا کے زوال اور اس کی فنا اور آخرت کے آنے اور اس کی بقا میں غور وفکر کرو۔