Ayah 2:104آیت نمبر 104
اس میں پانچ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یایھا الذین امنوا لا تقولوا راعنا یہود کی جہالتوں میں سے ایک اور چیز کو ذکر فرمایا۔ اور مقصور مسلمانوں کو اس کی مثل سے روکنا ہے۔ راعنا کی حقیقت لغت میں أرعنا ولنرعک۔ کیونکہ باب مفاعلہ دو آدمیوں سے ہوتا ہے۔ پس یہ رعاک اللہ سے مشتق ہوگا یعنی تو ہماری حفاظت کر اور ہم تمہاری حفاظت کریں گے وارقبنا و لنرقبک۔ آپ ہمارا خیال کریں ہم تمہارا خیال کریں گے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ ارعنا سمعک سے مشتق ہو یعنی آپ ہماری کلام کے لئے اپنے سننے کو فارغ کریں۔ اس خطاب میں جفاء ہے۔ پس مومنین کو حکم دیا کہ الفاظ میں اچھے الفاظ استعمال کریں اور معانی میں سے لطیف معانی اختیار کریں (1) ۔ حضرت ابن عباس نے کہا : مسلمان نبی کریم ﷺ سے عرض کرتے راعنا یعنی وہ رغبت وطلب کی جہت سے عرض کرتے کہ آپ ہماری طرف نظر التفات فرمائیں اور یہ یہود کی زبان میں بددعا تھا۔ یعنی تم سنو تو کبھی نہ سنے، پس یہود نے موقع کو غنیمت جانا اور کہا : پہلے ہم اسے مخفی طور پر بدعا دیتے تھے اب ہم اسے جہراً بددعا دیں گے وہ نبی کریم ﷺ کو اس لفظ سے مخاطب کرتے تھے اور آپس میں ہنستے تھے۔ حضرت سعد بن معاذ نے ان سے یہ کلمہ سنا، حضرت سعد ان کی لغت جانتے تھے۔ حضرت سعد نے یہود سے کہا : تم پر اللہ کی لعنت ہو اب اگر میں نے تم میں سے کسی کو نبی کریم ﷺ کو ایسے کہتے سنا تو میں اس کی گردن اتاردوں گا۔ یہود نے کہا : کیا تم یہ کلمہ نہیں کہتے ہو تو یہ آیت نازل ہوئی۔ مسلمانوں کو اس سے منع کیا گیا تاکہ لفظ میں یہود اقتدا نہ کریں اور اس سے وہ فاسد معنی کا قصد نہ کریں۔
مسئلہ نمبر 2: اس آیت میں دو دلیلیں ہیں : (1) ایسے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا جس میں تنقیص شان اور عظمت میں کمی کا اشارہ ہو، اور اس سے تعریضاً قذف کا سمجھنا نکلتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ حد کا موجب ہے جبکہ امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور ان کے اصحاب کے نزدیک حد واجب نہیں۔ انہوں نے تعریض (اشارۃ کلام کرنا) قذف اور غیر قذف کا احتمال رکھتی ہے اور حد شبہات سے ساقط ہوجاتی ہے۔ تفصیلی بیان انشاء اللہ سورة النور میں آئے گا۔ (2) سد ذرائع کو مضبوطی سے پکڑنا اور آپ کی حمایت کرنا۔ یہ امام مالک اور ان کے اصحاب کا مسلک ہے اور ایک روایت امام احمد بن حنبل سے بھی یہی ہے اس اصل پر کتاب وسنت دلالت کرتی ہے ذریعہ اس امر کو کہتے ہیں جو فی نفسہ ممنوع نہیں ہوتا لیکن اس کے کرنے سے ممنوع کام میں وقوع کا اندیشہ ہوتا ہے۔ کتاب اللہ کی دلیل تو یہ آیت کریمہ ہے، اس سے تمسک کی وجہ یہ ہے کہ یہود یہ لفظ استعمال کرتے تھے ان کی لغت میں یہ بدعا تھا جب اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ جان لیا تو مطلقاً اس لفظ کے استعمال سے ہی منع فرما دیا کیونکہ یہ بددعا کا ذریعہ تھا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدواً بغیر علمٍ (انعام :108)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے بتوں کو گالی دینے سے منع فرمایا اس اندیشہ سے کہ مقابلہ میں وہ اللہ تعالیٰ کو گالی دیں گے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وسئلھم عن القریۃ التی کا نت حاضرۃ البحرٍ الآیہ (الاعراف :163) اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے دن شکار حرام کردیا۔ ہفتہ کے دن مچھلیاں پانی کی سطح پر ظاہر ہو کر آتی تھیں وہ انہیں ہفتہ کے دن روک دیتے تھے اور اتوار کے دن پکڑلیتے تھے۔ پس روکنا شکار کا ذریعہ تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندروں اور خنازیر میں انہیں مسخ کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ہمارے لئے تحذیر کے لئے ذکر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم وحوا کو فرمایا : ولا تقربا ھذہ الشجرۃ (البقرہ :35) یہ پہلے گزر چکا ہے۔
رہیں احادیث، تو اس مفہوم میں بہت سی احادیث صحیحہ ثابت ہیں۔ ان میں سے ایک حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے کہ حضرت ام حبیبہ اور ام سلمہ ؓ نے ایک کنیسہ کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا اس میں تصاویر تھیں۔ انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ لوگ تھے ان میں کوئی نیک شخص ہوتا تھا پھر وہ مرجاتا تھا تو یہ اس کی قبر پر مسجد بناتے تھے اور اس میں ان نیک لوگوں کی تصویریں بناتے تھے یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک برے ترین لوگ ہیں (1) ۔ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے۔ ہمارے علماء نے فرمایا : ان کے پہلے لوگوں نے یہ عمل اس لئے کیا تھا تاکہ ان تصویروں کو دیکھ کر انس حاصل کریں اور ان کے احوال صالحہ کو یاد کریں اور یہ بھی ان کی طرح کوشش اور محنت کریں اور ان کی قبور کے پاس اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ پس ان پر جب عرصہ دراز گزر گیا پھر ان کے بعد کے لوگ آئے جو پہلے لوگوں کی اغراض سے جاہل تھے۔ شیطان نے ان میں وسوسہ ڈالا کہ تمہارے آباء و اجداد ان تصویروں کی عبادت کرتے تھے۔ پس انہوں نے ان کی عبادت شروع کردی۔ نبی کریم ﷺ نے اس کی مثل سے منع فرمایا اور جو ایسا کرے اس پر سخت انکار اور وعید فرمائی اور جو کام اس عمل تک پہنچانے والے تھے ان سے بھی روک دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا سخت غضب ہے جس نے اپنے انبیاء اور نیک لوگوں کی قبور کو مساجد بنایا اور فرمایا : اے اللہ ! میری قبر کو ایسا بت نہ بنانا جس کی عبادت کی جائے۔ مسلم نے نعمان بن بشیر سے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے ان کے درمیان متشابہات امور ہیں جو ان شبہات سے بچے گا وہ اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لے گا اور جو شبہات میں واقع ہوگا وہ حرام میں ہوگا جیسے چرواہا چراگاہ کے اردگرد (مویشی) چراتا ہے قریب ہے کہ وہ اس میں واقع ہوجائے۔ (الحدیث) (2)
آپ ﷺ نے شبہات کی طرف جانے سے منع فرمایا اس خوف سے کہ وہ محرمات میں واقع ہوجائے گا۔ یہ سد ذرائع ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : بندہ متقین میں سے نہیں ہوتا حتیٰ کہ وہ اس چیز کو ترک نہ کر دے جس میں کوئی حرج نہیں احتیاط کرتے ہوئے کہ یہ ان چیزوں میں سے ہو جس میں حرج ہے (3) ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کبیرہ گناہوں میں سے اپنے والدین کا گالی دینا ہے۔ صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا کوئی شخص اپنے والدین کو گالی دیتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں۔ ایک شخص دوسرے کے والد کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے۔ وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے جو دوسرے کے والدین کو گالی دیتا ہے اسے اپنے والدین کو گالی دینے والا فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم بیع عینۃ کرو گے اور گائیوں کے دموں کو پکڑو گے اور کھیتی پر خوش ہو گے اور جہاد کو ترک کر دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت کو مسلط فرمائے گا اور یہ ذلت تم سے دور نہیں کرے گا حتیٰ کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ (1) ۔ ابو عبید الہروی نے کہا : بیع عینۃ یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے شخص کو معلوم قیمت کے ساتھ مخصوص مدت تک ایک چیز فروخت کرتا تھا پھر بیچنے والا اس خریدنے والے سے سہی چیز اس سے کم قیمت میں خرید لیتا تھا۔
فرمایا : اگر بیع عینہ طلب کرنے والے کی موجودگی میں سامان کسی دوسرے شخص سے معلوم ثمن کے ساتھ خریدے۔ پھر وہ قبضہ کرے پھر وہ عینۃ طلب کرنے والے کو اس قیمت سے زیادہ پر بیچ دے، جس میں اس نے خریدی تھی ایک معین مدت تک، پھر یہ مشتری پہلے بائع کو نقد فروخت کرے کم قیمت پر تو یہ بھی بیع عینۃ ہوگی۔ یہ پہلی صورت سے زیادہ آسان ہے اور بعض کے نزدیک یہ جائز ہے، اس کو بیع عینہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ صاحب عینۃ کو نقدی حاصل ہوتی ہے، یہ اس لئے ہے کہ حاضر مال موجود ہے مشتری اسے خریدتا ہے تاکہ عین حاضر مال کے ساتھ اسے بیچے جو اسے جلدی مل جائے۔
ابن وہب نے مالک سے روایت کیا ہے کہ حضرت زید بن ارقم کی ام ولد نے حضرت عائشہ ؓ سے ذکر کیا کہ اس نے زید کو ایک غلام آٹھ سو میں ادھار بیچا ہے پھر اس نے نقد چھ سو میں خرید لیا ہے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا : برا ہے جو تو نے بیچا ہے اور برا ہے جو تو نے خریدا ہے۔ زید کو یہ پہنچاؤ کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں کیے ہوئے جہاد کو باطل کردیا اگر اس نے اس بیع سے توبہ نہ کی۔ یہ حضرت عائشہ نے یقیناً اپنی رائے سے نہیں کہا ہوگا کیونکہ اعمال کا باطل کرنا، اس کی معرفت صرف وحی سے ہو سکتی ہے، تو ثابت ہوا کہ یہ مرفوع حدیث ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا : سود اور شک (والی بیع) کو چھوڑو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے دراہم کی دراہم کے ساتھ بیع کرنے سے منع فرمایا جن کے درمیان حریزہ ہو۔
میں کہتا ہوں : یہ ہمارے سد ذرائع پر دلائل ہیں، اس پر مالکی علماء نے بیوع وغیرہ میں کتاب الآجال وغیرہ مسائل کی بنیاد رکھی ہے۔ شوافع کے نزدیک کتاب الآجال (مدت کے بارے میں مسائل) نہیں کیونکہ یہ ان کے نزدیک مختلف مستقل عقود ہیں۔ انہوں نے کہا : اشیاء کی اصل ظواہر پر ہے نہ کہ ظنون (گمان) پر ہے۔ مالکی علماء نے اس سامان کو زیادہ دراہم کے حصول کا ذریعہ بنایا ہے اور یہ عین ربا ہے۔
مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا تقولوا راعنا۔ یہ نہی تحریمی ہے جیسا کہ پہلے گزرا ہے۔ حضرت حسن نے راعناً پڑھا یہ یعنی تنوین کے ساتھ اور فرمایا : اس کا مطلب ہے : نامناسب بات۔ یہ مصدر ہے قول کی وجہ سے اسے نصب دی گئی ہے۔ یعنی لا تقولوا رعونۃً ۔ اور زربن حبیش اور اعمش نے راعونا پڑھا ہے، یہ پہاڑ کی چوٹی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جبل ارعن چوٹی والا پہاڑ، جیش ارعن یعنی متفرق لشکر۔ اسی طرح رجل ارعن، متفرق حجتوں والا جس کی عقل مجتمع نہ ہو، نحاس سے یہ مروی ہے۔ ابن فارس نے کہا رعن الرجل یرعن رعنا فھو ارعن، محتاج شخص، المرأۃ رعناء، بلند عورت، بصرہ کو رعناء کہتے ہیں کیونکہ وہ پہاڑ کی بلندی کے مشابہ ہے۔ ابن درید نے یہی کہا ہے۔ فرزدق نے کہا ہے :
لو لا ابن عتبہ عمرو والرجاء لہ ما کا نت البصرۃ الرعناء لی وطناً
اگر ابن عتبہ عمرو نہ ہوتا اور اس کی امید نہ ہوتی تو بصرہ رعناء میرا وطن نہ ہوتا۔
مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقولوا انظرنا مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ حضرت محمد ﷺ کو عزت واحترام سے مخاطب کرو۔ مطلب یہ ہے کہ ہماری طرف توجہ فرمائیں، ہماری طرف نظر کرم فرمائیں۔ تعدیہ کا حرف حذف کیا گیا ہے یعنی تقدیر یوں ہے : وانظر الینا
جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
ظاھرات الجمال والحسن ینظرن کما ینظر الاراک الظباء
ظاہری حسن و جمال والی دیکھی جاتی ہیں جس طرح ہر نیاں اراک بان کے درخت کو دیکھتی ہیں۔
اس شعر میں عبارت الی الاراک تھا۔ مجاہد نے کہا : اس کا معنی ہمیں سمجھائیے اور ہمارے لئے بیان فرمائیے۔ بعض نے فرمایا اس کا معنی ہے ہمارا انتظار فرمائیے اور ہمارے ساتھ آہستہ آہستہ کلام فرمائیے۔ شاعر نے کہا :
فاتکما ان تنظرانی ساعۃً من الدھر ینفعنی لدی ام جندب
تم دونوں اگر ایک گھڑی میری طرف دیکھ لو تو مجھے ام جندب کے سامنے یہ نفع دے گا۔
ظاہراً اس کا مطلب آنکھ سے دیکھنے کی استدعا ہے جو دیکھنا تدبر حال سے مقترن ہو۔ یہ راعنا کا معنی ہے، مومنین کے لئے لفظ بدل دیا گیا اور یہود کا تعلق زائل ہوگیا۔ اعمش وغیرہ نے أنظرنا ہمزہ قطعی اور ظاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ہمیں مہلت دیجئے حتیٰ کہ ہم آپ کی بات کو سمجھ جائیں اور آپ سے مفہوم حاصل کرلیں۔ (1) ۔
شاعر نے کہا :
ابا ھندٍ فلا تعجل علینا وانظرنا نخبرک الیقینا
اے ابو ہند ! ہم پر جلدی نہ کر اور ہمیں مہلت دے ہم تجھے یقینی خبر دیں گے۔
مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واسمعوا پہلے نہی فرمائی اب حکم دیا۔ سننے کا حکم دیا جس کے ضمن میں اطاعت ہے۔ جان لو ! جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت کرے گا وہ کافر ہوگا عذاب الیم کا مستحق ہوگا۔ (2)
Ayah 2:105آیت نمبر 105
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما یود یعنی خواہش نہیں کرتے یہ پہلے گزر چکا ہے الذین کفروا من اھل الکتب ولا المشرکین، ولا المشرکین، اھل پر معطوف ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ ولا المشرکین کا عطف الذین پر ہو۔ یہ نحاس کا قول ہے۔ ان ینزل علیکم من خیرٍ ، من زائدہ ہے خیر فعل مجہول کا اسم ہے ان محل نصب میں ہے، یعنی بان ینزل۔ واللہ یختص برحمتہ من یشأء حضرت علی ؓ نے فرمایا : یختص برحمتہ۔ یعنی بنبوتہ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو نبوت کے ساتھ مختص فرمایا (1) ۔ ایک قوم نے کہا : الرحمۃ سے مراد قرآن ہے (2) ۔ بعض نے فرمایا : اس آیت میں رحمت عام ہے ان تمام انواع رحمت کو شامل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پہلے فرمائیں اور جواب فرما رہا ہے (3) ۔ کہا جاتا ہے : رحم یرحم جب کوئی نرم ہوجائے، الرحم والمرحمۃ والرحمۃ تمام کا ایک معنی ہے۔ ابن فارس نے یہ کہا ہے : رحمۃ اللہ لعبادہ، اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر انعام فرمانا اور انہیں معاف کرنا مراد ہے واللہ ذوالفضل العظیم۔ ذو بمعنی صاحب ہے۔
Ayah 2:106آیت نمبر 106
اس میں پندرہ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما ننسخ من ایۃٍ او ننسھا، ننسھا کا عطف ننسخ پر ہے، جزم کی وجہ سے یا کو حذف کیا گیا ہے اور جنہوں نے ننسأھا پڑھا ہے انہوں نے جزم کی وجہ سے ہمزہ کو حذف کردیا ہے اس کا معنی آگے آئے گا نأت یہ جواب شرط ہے۔ یہ احکام میں ایک عظیم آیت ہے اس کا سبب یہ ہے کہ یہود نے جب مسلمانوں سے کعبہ کی طرف منہ کرنے میں حسد کیا اور اس کی وجہ سے اسلام پر طعن کیا اور کہا کہ محمد ﷺ پہلے اپنے اصحاب کو ایک چیز کا حکم دیتا ہے پھر اس سے منع کردیتا ہے۔ پس قرآن ان کی طرف سے ہے اسی وجہ سے قرآن کا بعض، بعض کے مخالف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی واذا بدلنا ایۃٌ مکان ایۃٍ (نحل :101) اور ما ننسخ من ایۃٍ کا ارشاد نازل فرمایا۔
مسئلہ نمبر 2: اس باب کی معرفت بڑی مؤکد ہے اور اس کا عظیم فائدہ یہ ہے کہ اس کی معرفت سے علماء کو بھی استغناء نہیں اس کا انکار صرف غبی جہلاء ہی کرسکتے ہیں۔ کیونکہ اس پر بہت احکام مرتب ہوتے ہیں حرام سے حلال کی معرفت ہوتی ہے۔ ابو البختری نے روایت کیا ہے، فرمایا : حضرت علی ؓ مسجد میں داخل ہوئے جبکہ وہاں ایک شخص لوگوں کو ڈرا رہا تھا۔ حضرت علی ؓ نے پوچھا : یہ اجتماع کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : ایک شخص لوگوں کو وعظ ونصیحت کر رہا ہے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : یہ شخص لوگوں کو نصیحت نہیں کر رہا بلکہ یہ کہہ رہا ہے : میں فلاں ابن فلاں ہوں مجھے پہچانو ! حضرت علی ؓ نے اسے بلایا اور پوچھا : کیا تو ناسخ، منسوخ کا علم رکھتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا : ہماری مسجد سے نکل جا اس تو وعظ ونصیحت نہ کر۔ دوسری روایت میں ہے، کیا تو ناسخ ومنسوخ کو جانتا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں حضرت علی ؓ عنی فرمایا : تو خود بھی ہلاک ہوا اور دوسروں کو بھی ہلاک کیا۔
اس کی مثل حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔
مسئلہ نمبر 3: عرب کلام میں نسخ دو وجوہ سے ہے :
1۔ ایک اس کا معنی نقل کرنا ہے جیسے ایک کتاب سے دوسری کتاب کو نقل کرنا، اس معنی کے اعتبار سے پورا قرآن منسوخ ہوگا یعنی یہ لوح محفوظ سے نقل ہوا ہے اور بیت العزت کی طرف آسمان دنیا میں اترا ہے۔ اس آیت میں اس کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے انا کنا نستنسخ ما کنتم تعملون۔ (الجاثیہ) یعنی ہم اس کے لکھنے اور اس کے اثبات کا حکم دیتے ہیں۔ (1) ۔
2۔ نسخ کا دوسرا معنی ابطال اور زائل کرنا ہے۔ یہاں یہی مقصود ہے اور یہ لغت میں پھر دو قسموں میں منقسم ہے : (1) کسی شے کو ختم کردینا اور زائل کردینا اور دوسری چیز کو اس کے قائم مقام کردینا۔ اس سے نسخت الشمس الظل، جب سورج سائے کو مٹادے اور اس کے قائم مقام دوسرے سائے کو کر دے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا یہی معنی ہے : ما ننسخ من ایۃٍ او ننسھا نات بخیر منھا، اور صحیح مسلم میں ہے : لم تکن نبوۃ قط الاتنا سخت یعنی نبوت ایک حال سے دوسرے حال کی طرف پھرتی رہی یعنی امت کا معاملہ پھرتا رہا۔ ابن فارس نے کہا : نسخ کا معنی کتاب کا نقل کرنا، اور النسخ کا معنی کسی ایسے امر کو ختم کردینا جس پر پہلے عمل ہو رہا تھا پھر تو اسے کسی حادثہ کی وجہ سے ختم کر دے، جیسے کسی خاص امر کے لئے ایک آیت نازل ہوتی پھر دوسری آیت کے ساتھ وہ منسوخ ہوجاتی۔ ہر وہ چیز جو کسی شے کے قائم مقام ہوجائے تو اس نے اسے منسوخ کردیا۔ کہا جاتا ہے : انتسخت الشمس الظل، الشیب الشباب سورج نے سائے کو ختم کردیا، بڑھاپے نے جوانی کو ختم کردیا۔ تناسخ الورثۃ ورثاء دوسرے ورثاء کے بعد مرگئے، اور میراث کی اصل قائمٌ ہے۔ تقسیم نہیں ہوئی۔ اسی طرح تناسخ الازمنۃ والقرون ہے یعنی ہر زمانہ اور ہر قوم پہلے زمانہ اور پہلی قوم کو ختم کردیتی ہے۔
دوسری قسم یہ ہے کہ چیز کو ختم کردینا اور اس کے قائم مقام دوسری چیز نہ رکھنا۔ جیسے نسخت الریح الاثر (2) ہوا نے اثر مٹا دیا۔ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : فینسخ اللہ ما یلقی الشیطن (الحج :52) (جو شیطان ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ختم کردیتا ہے) اس کی تلاوت نہیں کی جاتی اور اس کا بدل مصحف میں ثابت نہیں ہوتا۔ ابو عبید نے کہا : یہ نسخ کی دوسری قسم تھی کہ نبی کریم ﷺ پر ایک سورت نازل ہوتی تھی پھر وہ اٹھا لی جاتی تھی نہ اس کو پڑھا جاتا تھا اور نہ اس کو لکھا جاتا تھا۔
میں کہتا ہوں : اسی سے وہ روایت ہے جو حضرت ابی بن کعب اور حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ سورة احزاب، طوالت میں سورة بقرہ کے برابر تھی جیسا کہ سورة احزاب میں یہ تفصیل سے بیان ہوگا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اس پر ایک دلیل یہ بھی ہے جو ابوبکر انباری نے بیان کی۔ فرمایا : مجھے میرے باپ نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا : ہمیں نصر بن داؤد نے بیان کیا کہ ایک شخص رات کو اٹھاتا کہ قرآن کی سورت تلاوت کرے تو وہ اس میں سے کچھ بھی پڑھنے پر قادر نہ وا۔ دوسرا اٹھا تو وہ بھی کوئی آیت پڑھنے پر قادر نہ ہوا، تیسرا اٹھا تو وہ بھی اس سورت میں سے کچھ پڑھنے پر قادر نہ ہوا۔ وہ صبح رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ ایک نے کہا میں یارسول اللہ ! کھڑا ہوا تاکہ قرآن کی سورت پڑھوں تو میں اس کی کوئی آیت پڑھنے پر قادر نہ ہوا، دوسرا اٹھا اس نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ میری بھی یہی کیفیت تھی، تیسرا اٹھا اس نے کہا : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! میری بھی یہی کیفیت تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ سورت گزشتہ رات اللہ تعالیٰ نے منسوخ کردی۔ ایک روایت میں ہے، سعید بن مسیب سنتے تھے جو ابو امامہ بیان کرتے تھے اور انکار نہیں کرتے تھے۔
مسئلہ نمبر 4: متاخرین علماء اسلام کے ایک طائفہ نے اس کے جواز کا انکار کیا ہے اور ان کے خلاف یہ حجت پیش کی گئی ہے کہ سلف صالحین کا اجماع ہے کہ شریعت میں نسخ واقع ہوا ہے۔ اسی طرح یہود کے ایک گروہ نے بھی نسخ کا انکار کیا ہے، اس کے خلاف یہ حجت پیش کی گئی ہے کہ ان کے اپنے خیال کے مطابق تورات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی سے نکلنے کے وقت فرمایا : ہر چوپایہ تمہارے لئے اور اولاد کے لئے خوراک ہے اور میں نے یہ تمہارے لئے مطلق رکھا ہے جیسے نبات تمہارے لئے حلال کی ہیں لیکن خون حلال نہیں ہے اسے نہ کھانا پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اور بنی اسرائیل پر بہت سے حیوان کر دئیے۔ اسی طرح حضرت آدم (علیہ السلام) بھائی کی بہن سے شادی کرتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء پر اس کو حرام کردیا اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا بیٹا ذبح کرنے کا حکم دیا پھر فرمایا تو اسے ذبح نہ کر۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ اپنے ان لوگوں کو قتل کریں جو بچھڑے کی پوجا کرتے ہیں پھر ان سے تلوار اٹھانے کا حکم دیا، پہلے وہ اپنی نبوت کے ساتھ مکلف نہ تھے پھر اس کے بعد اس کے ساتھ مکلف ہوئے۔ یہ البداء سے نہیں ہے بلکہ یہ بندوں کو ایک عبادت سے دوسری عبادت کی طرف نقل کرنا ہے اور ایک حکم کو دوسرے حکم کی طرف نقل کرنا ہے اس میں کوئی خاص حکمت ہوتی ہے، جس کا اظہار مقصود ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مملکت کا کمال مقصود ہوتا ہے۔ اس میں عقلاء کا کوئی اختلاف نہیں کہ انبیاء کرام کی شریعتوں سے مخلوق کے دنیوی اور اخروی مصالح کا قصد کیا گیا ہے، بدأہ تو تب لازم آتی جب وہ امور کے انجام کو جاننے والا نہ ہوتا اور جو انجام کو جاننے والا ہوتا ہے وہ مصالح کی تبدیلی کے مطابق اپنے خطابات کو تبدیل کرتا ہے، جیسے طبیب اپنے مریض کے احوال کے مطابق خطابات کو بدلتا ہے اس نے اپنی مشیت اور ارادہ سے اپنی مخلوق میں یہ تبدیلی رکھی ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کا خطاب بدلتا ہے۔ اس کا علم اور اس کا ارادہ تبدیل نہیں ہوتا اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کی جہت سے محال ہے۔
یہود نے نسخ اور بداء کو ایک چیز بتایا ہے اسی وجہ سے انہوں نے نسخ کو جائز قرار نہیں دیا، پس وہ گمراہ ہوئے (1) ۔ نحاس نے کہا : نسخ اور البداء کے درمیان فرق یہ ہے کہ نسخ کا مطلب ہے ایک عبادت کو دوسری عبادت کی طرف بدلنا، (مثلاً ) پہلے ایک چیز حلال تھی اسے حرام کردیا، پہلے ایک چیز حرام تھی پھر اسے حلال کردیا اور البداء یہ ہے کہ پہلے جس چیز پر عزم کیا گیا ہے اسے ترک کردینا جیسے تو کہتا ہے تم آج فلاں کے پاس جاؤ پھر تو کہتا ہے اس کے پاس نہ جاؤ۔ تیرے لئے پہلے قول سے عدول ظاہر ہوتا ہے یہ انسان کو لاحق ہوتا ہے ان کے نقصان اور کمی کی وجہ سے۔ اسی طرح اگر تو کہے اس سال تو یہ چیز کاشت کر پھر تو کہے یہ نہ کر، تو یہ البداء ہے۔
مسئلہ نمبر 5: ناسخ حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہے مجازاً خطاب شرعی کو ناسخ کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے نسخ واقع ہوتا ہے (2) ۔ جس طرح مجازاً محکوم فیہ کو ناسخ کا نام دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے : رمضاں کے روزوں نے عاشوراء کے روزہ کو منسوخ کردیا۔ منسوخ وہ ہوتا ہے جو زائل کیا جاتا ہے اور منسوخ عنہ وہ ہوتا ہے جو زائل کی گئی عبات کا مکلف ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر 6: ہمارے ائمہ کی عبارات ناسخ کی تعریف میں مختلف ہیں۔ اہل سنت میں سے ماہر علماء کی رائے یہ ہے کہ پہلے حکم شرعی کو بعد میں آنے والے خطاب سے زائل کرنا ہے۔ قاضی عبد الوہاب اور قاضی ابوبکر نے بھی اسی طرح تعریف کی ہے اور انہوں نے یہ زیادہ لکھا ہے اگر یہ والا حکم نہ آتا تو پہلا حکم ہی باقی رہتا (3) ۔ ان دونوں حضرات نے نسخ کے لغوی معنی کا بھی لحاظ رکھا ہے کیونکہ نسخ کا لغوی معنی اٹھا دینا اور زائل کرنا ہے اور انہوں نے حکم عقلی سے احتراز کیا ہے۔ خطاب کا لفظ ذکر کیا تاکہ وجوہ دلالت نص، ظاہر، مفہوم وغیرہ کو شامل ہوجائے۔ اور قیاس اور اجماع کو خارج کر دے کیونکہ قیاس اور اجماع میں نہ تو نسخ متصور ہو سکتا ہے نہ ان کے ساتھ نسخ ہو سکتا ہے اور تراخی کے ساتھ مقید کیا ہے کیونکہ اگر بعد والا حکم پہلے سے متصل ہو تو وہ حکم کا بیان ہوتا ہے۔ ناسخ نہیں ہوتا یا دوسرا کلام، پہلے کلام کو اٹھانے والا ہوتا ہے۔ جیسا قم لا تقم، تو کھڑا ہو تو کھڑا نہ ہو۔
مسئلہ نمبر 7: منسوخ ہمارے اہل سنت کے ائمہ کے نزدیک وہ حکم ہوتا ہے جس کی ذات ثابت ہو نہ اس کی مثل جیسا کہ معتزلہ کہتے ہیں کہ وہ خطاب، جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مستقبل میں ثابت حکم کی مثال آنے والی نص سے زائل ہونے والا ہے اور اس قول کی طرف ان کی رہنمائی ان کے مذہب نے کی ہے کہ اوامر مراد ہوتے ہیں اور حسن، حسن کی ذاتی صفت ہے اور اللہ کی مراد حسن ہے اس کو ہمارے علماء نے اپنی کتب میں رد کیا ہے۔ (4)
مسئلہ نمبر 8: ہمارے علماء کا اختلاف ہے کہ کیا اخبار میں نسخ داخل ہوتا ہے یا نہیں ؟ جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ نسخ، اوامر ونواہی کے ساتھ خاص ہے اور خبر میں نسخ داخل نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کذب محال ہے (1) ۔ بعض نے فرمایا : خبر جب حکم شرعی اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہو تو اس کا نسخ جائز ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن ثمرت النخیل والاعناب تتخذون منہ سکراً (النمل :67) اس کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔
مسئلہ نمبر 9: عموم سے تخصیص وہم دلاتی ہے کہ یہ نسخ ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوتا کیونکہ مخصص کو عموم شامل ہی نہیں ہوتا، اگر عموم کسی شے کو شامل ہو پھر اس شے کو عموم سے نکالا جائے تو یہ نسخ ہوگا تخصیص نہ ہوگی (2) ۔ اور متقدمین علماء مجازاً تخصیص پر نسخ کا اطلاق کرتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 10: کبھی شرع میں ایسی اخبار وارد ہوتی ہے جن کا ظاہر مطلق اور استغراق ہوتا ہے اور ان کی تقیید دوسری جگہ وارد ہوتی ہے، پس وہ اطلاق اٹھ جاتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا سالک عبادی عنی فانی قریبٌ اجیب دعوۃ الداع اذا دعان (البقرہ : 186) جب پوچھیں آپ سے (اے میرے حبیب) میرے بندے میرے متعلق تو (انہیں بتاؤ) میں (ان کے) بالکل نزدیک ہوں قبول کرتا ہوں دعا، دعا کرنے والے کی ) ۔
اس آیت میں حکم کا ظاہریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر دعا کرنے والے کی دعا ہر حال میں قبول فرماتا ہے لیکن دوسرے مقام پر اس کی قید آئی ہے : فیکشف ما تدعون الیہ ان شاء (انعام : 41)
وہ شخص جسے بصیرت نہیں ہوتی وہ گمان کرتا ہے کہ یہ اخبار میں نسخ کے باب سے ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ اطلاق اور تقیید کے باب سے ہے۔ اس مسئلہ کا زیادہ بیان اپنے مقام پر آئے گا۔ ان شاء اللہ۔
مسئلہ نمبر 11: ہمارے علماء نے فرمایا (3): اثقل (بھاری حکم) کا نسخ اخف (ہلکے حکم) کی طرف جائز ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے دس کے مقابلہ میں ایک شخص کے ٹھہرے رہنے کے حکم کو دو کے مقابلہ میں ایک شخص کے ٹھہرے رہنے کے ساتھ منسوخ کردیا۔ اور اخف حکم سے اثقل کی طرف نسخ بھی جائز ہے جیسے عاشوراء کے حکم کو رمضان کے روزوں سے منسوخ کردیا۔ اس کا بیان روزوں والی آیت میں آئے گا۔ کبھی ایک حکم کو اس جیسے حکم سے منسوخ کیا جاتا ہے جیسے ایک قبلہ کو دوسرے قبلہ سے منسوخ کردیا۔ کبھی ایک چیز کو منسوخ کیا جاتا ہے اور اس کا بدل نہیں دیا جاتا جیسے نبی کریم ﷺ سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ کرنے کے حکم کو منسوخ کردیا۔ قرآن کو قرآن کے ساتھ منسوخ کیا جاتا ہے اور سنت کو عبارت سے منسوخ کیا جاتا ہے اور عبارت سے مراد “ الخبر المتواتر القطعی ” ہے اور خبر واحد کو خبر واحد سے منسوخ کیا جاتا ہے۔
ماہرین اعمۃ کا نظریہ یہ ہے کہ قرآن، سنت سے بھی منسوخ ہوتا ہے اور یہ نبی کریم ﷺ کے ارشاد میں موجود ہے : لا وصیۃ لوارث کہ وارث کے لئے وصیت نہیں ہے (4) ۔ یہ امام مالک کے ظاہر مسائل سے ہے۔ امام شافعی (5) اور ابو الفرج مالکی نے اس کا انکار کیا ہے۔ پہلا قول صحیح ہے، اس دلیل سے کہ یہ سب اللہ کا حکم ہے اور اللہ کی طرف سے ہے اگرچہ اسماء میں اختلاف ہے۔ مثلاً شادی شدہ زانی جس کو رجم کیا جاتا ہے اس سے کوڑوں کی سزا ساقط ہے اور یہ سنت سے نبی کریم ﷺ کے فعل سے ساقط ہے اور یہ واضح ہے۔ ماہرین علماء کا یہ بھی نظریہ ہے کہ سنت، قرآن کے ساتھ منسوخ ہوتی ہے اور یہ قبلہ کی تحویل میں موجود ہے کیونکہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا کتاب اللہ میں نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فلا ترجعوھن الی الکفار (الممتحنہ :10) ان عورتوں کا رجوع، نبی کریم ﷺ کا قریش سے صلح کی بنا پر ہوا تھا۔
ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ عقلاً خبر واحد سے قرآن کا نسخ جائز ہے۔ پھر اس میں اختلاف ہے کہ یہ شرعاً واقع ہوا ہے یا نہیں۔ ابو المعالی وغیرہ کا خیال ہے کہ مسجد قبا کے واقعہ میں واقع ہوا تھا اس کا بیان آگے آئے گا۔ ایک قوم نے اس کا انکار کیا ہے۔ قیاس کے ساتھ نص کا نسخ صحیح نہیں ہے، کیونکہ قیاس کی شرائط میں سے ہے کہ وہ نص کے مخالف نہ ہو۔
یہ نسخ سب نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ میں تھا، لیکن نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد اور شریعت کے استقرار کے بعد، امت کا اجماع ہے کہ نسخ نہیں ہے اسی وجہ سے اجماع نہ منسوخ ہوتا ہے نہ اس کے ساتھ نسخ واقع ہوتا ہے کیونکہ اجماع کا انعقاد وحی کے ختم ہونے کے بعد واقع ہوا ہے۔ جب ہم کوئی ایسا اجماع پاتے ہیں جو نص کے مخالف ہوتا ہے تو پھر یہ جانا جائے گا کہ اجماع کسی ناسخ نص کی طرف منسوب ہے جسے ہم نہیں جانتے۔۔۔۔ مخالف نص ایسی ہوتی ہے جس پر عمل چھوڑا جاتا ہے اور اس کا مقتضیٰ منسوخ ہوتا ہے لیکن اس کی تلاوت منسوخ نہیں ہوتی جیسے قرآن میں سال کی عدت والی آیت تلاوت کی جاتی ہے، اس میں غور کرو یہ ایک نفیس گفتگو ہے۔ کبھی حکم منسوخ ہوتا ہے، تلاوت منسوخ نہیں ہوتی جیسے نبی کریم ﷺ سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ کرنے کا حکم، کبھی تلاوت منسوخ ہوتی ہے حکم منسوخ نہیں ہوتا جیسے آیت رجم۔ کبھی تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہوتے ہیں اور اس سے سیدنا صدیق اکبر ؓ کا قول ہے ہم پڑھتے تھے : لا ترغبوا عن أبائکم فانہ کفر۔ (اپنے آباء سے انحراف نہ کرو کیونکہ یہ کفر ہے ) ۔ اس کی مثالیں کثیر ہیں۔
ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ جس کو ناسخ کا حکم نہ پہنچا ہو وہ پہلے حکم کا مکلف ہے اس کا بیان تحویل قبلہ میں آئے گا۔
ماہرین کے نزدیک حکم، عمل سے پہلے بھی منسوخ ہو سکتا ہے۔ یہ ذبیح کے واقعہ میں موجود ہے اسی طرح نمازیں پچاس فرض تھیں عمل سے پہلے پانچ نمازوں سے منسوخ کردی گئیں جیسا کہ سورة الاسراء اور سورة الصافات میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر 12: ناسخ کی پہچان کے طرق : (1) نص کے الفاظ نسخ پر دلالت کرتے ہوں جیسے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور، فذوروھا (1) ۔ (میں نے تمہیں قبور کی زیارت سے منع کیا تھا۔ پس (اب) زیارت کیا کرو) ۔ میں نے تمہیں مشروب پینے سے منع کیا تھا مگر چمڑے کے برتنوں میں۔ پس اب ہر برتن میں مشروب پیو مگر نشہ دینے والا مشروب نہ پیو۔ (2) راوی تاریخ ذکر کر دے۔ مثلاً وہ کہے : میں نے خندق کے سال سنا تو اس سے پہلے والا حکم منسوخ معلوم ہوجائے گا یا کہے کہ فلاں فلاں حکم منسوخ ہے۔ (3) امت کا اجماع ہوجائے کہ یہ حکم منسوخ ہے اور اس کا ناسخ بعد میں آنے والا ہے۔ یہ اصول فقہ میں تفصیلی مباحث موجود ہیں ہم نے بقدر ضرورت ذکر کردیا ہے۔ واللہ الموفق للھدایۃ۔ اللہ تعالیٰ ہی ہدایت کی توفیق بخشنے والا ہے۔
مسئلہ نمبر 13: جمہور قراء نے ما ننسخ نون کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ اس معنی پر ظاہر دلالت کرتا ہے کہ ہم کسی آیت کا حکم اٹھا دیتے ہیں اور اس کی تلاوت کو باقی رکھتے ہیں جیسا کہ پہلے گزرا ہے۔ اس معنی کا بھی احتمال رکھتا ہے کہ ہم آیت کا حکم اور تلاوت اٹھا دیتے ہیں جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے۔ ابن عامر نے ننسخ نون کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ انسخت الکتاب سے مشتق ہے اس معنی پر کہ میں نے اسے منسوخ پایا۔ ابو حاتم نے کہا : یہ غلط ہے۔ الفارسی ابو علی نے کہا : یہ لغت نہیں ہے کیونکہ نسخ اور انسخ ایک معنی میں ہیں۔ یہ نہیں کہا جاتا مگر یہ کہ اس کا معنی ہو ہم اس کو منسوخ نہیں پاتے۔ جیسے تو کہتا ہے : احمدت الرجل وابخلتہ، یعنی میں نے اسے محمود اور بخیل پایا۔ ابو علی نے کہا : ہم اسے منسوخ نہیں پاتے مگر یہ کہ ہم اسے منسوخ کردیں۔ معنی میں دونوں قراء یتیں متفق ہیں اور لفظ میں مختلف ہیں۔ بعض نے فرمایا : ما ننسخ کا مطلب ہے ہم تیرے لئے جسے نسخ کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : نسخت الکتاب جب تو کتاب کو لکھ لے۔ وانتسختہ غیری جب تو اس کے لئے لکھ دے۔ مکی نے کہا : ہمزہ کا متعدی کے لئے ہونا جائز نہیں کیونکہ اس طرح معنی تبدیل ہوجاتا ہے۔ معنی پھر یہ ہوجائے گا : اے محمد ! ﷺ ہم کوئی آیت تجھ پر اتارتے اور انساخہ ایاھا، کا مطلب ہے : انزالھا علیہ۔ معنی یہ ہوگا ہم تجھ پر کوئی اتارے ہیں یا ہم اسے بھلادیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کی مثل لاتے ہیں۔ معنی یہ ہوگا کہ ہر آیت جو نازل ہوئی اس سے بہتر لائی گئی، تو اس طرح سارا قرآن منسوخ ہوجائے گا اور یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ قرآن کا تھوڑا حصہ منسوخ ہوا ہے جب افعل اور فعل کا ہم معنی ہونا ممتنع ہوا کیونکہ ایسا سنا نہیں گیا تو معنی کے فساد کی وجہ سے ہمزہ کا متعدی ہونا بھی ممتنع ہوتا۔ پس یہی صورت باقی رہتی ہے کہ یہ اس باب سے ہو : احمدتہ وابخلتہ (میں نے اسے محمود اور بخیل پایا) ۔
مسئلہ نمبر 14: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : او ننسھا ابو عمر و اور ابن کثیر نے نون کے فتحہ، سین اور ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابو عمر، حضرت ابن عباس، حضرت عطا، حضرت مجاہد، حضرت ابی بن کعب، عبید بن عمیر، النخفی، ابن محیصن وغیرہ نے اسی طرح پڑھا ہے۔ اس کا معنی تاخیر کرنا ہے۔ یعنی ہم اس کے الفاظ کے نسخ کو مؤخر کرتے ہیں یعنی ہم اسے “ ام الکتاب ” میں چھوڑ دیتے ہیں پس وہ منسوخ نہیں ہوتی۔ یہ عطا کا قول ہے اور عطا کے علاوہ کا قول ہے کہ اوننسأھا کا معنی ہے : ہم وقت معلوم تک نسخ کو مؤخر کرتے ہیں۔ یہ عربوں کے قول نسأت ھذا الامر سے مشتق ہے یعنی جب تو کام کو مؤخر کر دے۔ اس سے یہ قول ہے : بعتہ نسأ۔ جب تو اس میں تاخیر کر دے (1) ۔ ابن فارس نے کہا : عرب کہتے ہیں : نسأاللہ فی اجلک وانسأاللہ اجلک۔ اللہ تعالیٰ تیری عمر میں اضافہ کرے، قد اتنسأالقوم، جب قوم دور ہوجائے، نسأتھم، میں نے اسے پیچھے کردیا۔ معنی یہ ہے کہ ہم اس کے نزول کو مؤخر کرتے ہیں یا اسے منسوخ کرتے ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : ہم تم سے اس طرح اسے لے جائیں گے کہ تم نہ پڑھو گے اور نہ یاد کرو گے۔ باقی قراء نے ننسھا نون کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے، نسیان سے مشتق کیا ہے جس کا معنی ترک ہے، یعنی ہم اسے چھوڑ دیں گے نہ تبدیل کریں گے اور نہ منسوخ کریں گے۔ یہ حضرت ابن عباس اور سدی کا قول ہے (1) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نسوا اللہ فنسیھم (توبہ :67) یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کو چھوڑا، پس اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب میں چھوڑ دیا۔ اس قراءت کو ابو عبید اور ابو حاتم نے پسند کیا۔ ابو عبید نے کہا : میں نے نعیم القاری کو یہ کہتے ہوئے سنا، میں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے خواب میں ابو عمرو کی قراءت پڑھی تو آپ نے مجھ پر صرف دو حرفوں کی تبدیلی فرمائی۔ فرمایا : میں نے پڑھا أرنا تو آپ نے فرمایا ارنا۔ ابو عبید نے کہا : دوسرا حرف میں او ننسأھا خیال کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : او ننسھا۔ الازہری نے ننسھا حکایت کیا ہے۔ یعنی ہم اسے چھوڑنے کا حکم دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : انسیتہ الشیء یعنی میں نے اسے ترک کرنے کا حکم دیا۔ نسیتۃ، میں نے اسے ترک کردیا۔ شاعر نے کہا :
ان علی عقبۃ اقضیھا لست بنا سیھا ولا منسیھا
اگر میں اپنے اوپر اونٹوں کو چرانے کا فیصلہ کروں گا تو میں اسے ترک نہیں کروں گا اور نہ اسے ترک کا حکم دوں گا۔
زجاج نے کہا : نون کے ضمہ کے ساتھ قراءت اس میں ترک کے معنی کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔ یہ نہیں کہا جاتا : انسی بمعنی ترک ہے اور جو علی بن ابی طلحہ بن ابی عباس سے روایت کیا ہے او ننسھا فرمایا : ہم اسے چھوڑ تے ہیں اسے تبدیل نہیں کرتے (2) یہ صحیح نہیں ہے۔ شاید حضرت ابن عباس نے فرمایا ہو نترکھا اور ضبط نہ کیا گیا ہو۔ اہل لغت میں سے اکثر کا قول یہ ہے کہ اوننسھا کا معنی ہے : ہم تمہارے لئے اس کا ترک مباح کرتے ہیں۔ یہ نسیی سے مشتق ہے جب کوئی کسی چیز کو چھوڑ دے پھر تعدیہ کیا گیا۔ ابو علی وغیرہ نے فرمایا : اور یہ قابل توجہ ہے۔ کیونکہ اس کا معنی ہے : ہم تجھے بنا دیں گے کہ تم اسے چھوڑ دو (3) ۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ نسیان سے ہے جس کا معنی ہے یاد نہ ہونا، اس معنی پر او ننسکھایا محمد فلا تذکرھا۔ اے محمد ! ﷺ ہم یہ بھلا دیں گے پس آپ اسے یاد نہیں کریں گے۔ ہمزہ کے ساتھ نقل کیا گیا اور فعل کو دو مفعولوں کی طرف متعدی کیا گیا اور وہ نبی کریم ﷺ اور ھا ضمیر ہیں لیکن نبی کریم ﷺ کا اسم محذوف ہے۔
مسئلہ نمبر 15: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نأت بخبرٍ منھا یہاں کبر کا لفظ تفضیل کا صیغہ ہے۔ معنی یہ ہے کہ اے لوگو ! اس جلدی میں تمہارے لئے زیادہ نفع ہے اگر ناسخ اخف ہو اور تاخیر میں تمہارے لئے زیادہ نفع ہے اگر ناسخ (آیت) زیادہ مشکل ہو اور اگر ناسخ ومنسوخ برابر ہوں تو اس کی مثل میں تمہارے لئے زیادہ نفع ہے (4) ۔ امام مالک نے فرمایا : منسوخ کی جگہ محکم آیت تمہارے لئے زیادہ نفع بخش ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : آخرت کے اعتبار سے زیادہ نفع بخش ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام ایک دوسرے پر فضیلت نہیں رکھتا۔ اس کی مثال یہ ہے : من جاء بالحسنۃ فلہ خیر منھا۔ یعنی جو نیکی کرے گا اس کے لئے اس سے بہتر نفع اور اجر ہوگا۔ اس خیر سے مراد افضل نہیں ہے اور پہلے قول کی دلیل او مثلھا کے کلمات ہیں۔
Ayah 2:107آیت نمبر 107
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الم تعلم، لم کی وجہ سے اسے جزم دی گئی ہے اور حروف استفہام عامل کے عمل میں تبدیلی نہیں کرتے۔ ان کو فتحہ دیا گیا ہے کہ یہ محل نصب میں ہے۔ لہ ملک السموت والارض یعنی ایجاد واختراع، ملک وسلطان، امرو ارادہ سب زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کا چلتا ہے۔ ملک پر رفع مبتدا کی حیثیت سے ہے اور لہ اس کی خبر ہے اور پورا جملہ ان کی خبر ہے۔
یہاں خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد امت ہے کیونکہ آگے ارشاد ہے ومالکم من دون اللہ الخ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے : اے محمد ! ﷺ ان سے کہہ دیجئے کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ کے لئے حکمرانی اور سلطانی ہے۔ آسمانوں اور زمین میں تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں ہے۔ ولیٌ یہ ولیت امر فلاں سے مشتق ہے۔ یعنی میں نے فلاں کے معاملہ کی دیکھ بھال کی۔ اسی سے ولی العھد ہے یعنی مسلمانوں کے جو معاملات اس کے سپرد کئے گئے ہیں ان کی نگرانی کرنے والا۔ من دون اللہ کا معنی ہے اللہ کے سوا، اللہ کے بعد۔ جیسے امیہ بن الصلت نے کہا : (1)
یا نفس مالک دون اللہ من واق وما علی حدثان الدھر من باق
اے نفس ! اللہ کے سوا تجھے کوئی بچانے والا نہیں اور زمانے کے واقعات میں سے کوئی باقی رہنے والا نہیں۔
جمہور قراء نے ولا نصیر جر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ولی پر اس کا عطف کیا ہے اور نصیرٌ ضمہ کے ساتھ بھی جائز ہے۔ ولی کے مقام پر عطف کی حیثیت سے کیونکہ اس کا معنی ہے : مالکم من دون اللہ ولیٌ ولا نصیرٌ۔
Ayah 2:108آیت نمبر 108
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ام تریدون میں ام منقطعہ ہے جو بمعنی بل ہوتا ہے یعنی بل تریدون۔ کلام کا معنی توبیخ ہے۔ ان تسئلوا، تریدون کی وجہ سے محل نصب میں ہے کما سئل کاف مصدر محذوف کی لغت کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ یعنی سوالاً کما۔
موسیٰ نائب فاعل کی حیثیت سے محل رفع میں ہے من قبل ان کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال یہ تھا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی ذات عیاں دکھائیں اور اس امت کے لوگوں نے حضرت محمد ﷺ سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کو سامنے لے آئیں۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد سے مروی ہے کہ انہوں نے سوال کیا کہ ان کے لئے صفا پہاڑی کو سونا بنا دیں (2) ۔ حسن نے کما سیل پڑھا ہے، یہ ان لوگوں کی لغت ہے جو کہتے ہیں : سلت أسأل۔ یہ بھی جائز ہے کہ ہمزہ کا بدل یاء ساکنہ ہو اور بغیر قیاس کے ہو۔ پھر اس سے پہلے سین کو کسرہ دیا گیا ہو۔ نحاس نے کہا : ہمزہ کا بدل بعید ہے۔
السواء ہر چیز کے وسط کو کہتے ہیں۔ یہ ابو عبید کا قول ہے۔ اسی سے یہ ارشاد ہے : فی سواء الجحیم۔ (جحیم کے وسط میں) عیسیٰ بن عمر نے حکایت کیا ہے، فرمایا : مازلت اکتب حتی انقطع سواتی (میں لکھتا رہا حتیٰ کہ میرا درمیان ٹوٹ گیا) حضرت حسان نے نبی کریم ﷺ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا۔
یا ریح اصحاب النبی ورھطہ بعد المغیب فی سواء الملحد (1)
نبی کریم ﷺ کے اصحاب اور آپ کے گروہ پر افسوس قبر کے درمیان چھپائی گئی ذات کے بعد۔
بعض علماء نے فرمایا السواء کا معنی قصد کرنا ہے۔ فراء سے مروی ہے : ذھب عن قصد الطریق وسمتہ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے راستہ سے ہٹ گیا۔
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہ تھا کہ رافع بن خزیمہ (2) اور وہب بن زید نے نبی کریم ﷺ سے کہا : ہمارے پاس آسمان سے کتاب لے آؤ جسے ہم پڑھیں اور ہمارے لئے نہریں جاری کرو تو ہم آپ کی پیروی کریں گے۔
Ayahs 2:109–110آیت نمبر 109 تا 110
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ود کثیرٌ من اھل الکتب لو یردونکم من بعد ایمانکم کفاراً حسداً من عند انفسھم من بعد ما تبین لھم الحق
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: ود کا معنی تمنا ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ کفاراً یہ یردونکم کا مفعول ثانی ہے من عند انفسھم بعض علماء نے فرمایا : یہ یود کے متعلق ہے۔ بعض نے فرمایا : حسدًا کے متعلق ہے اور کفاراً پر وقف ہے اور حسدًا، ود کا مفعول لہ ہے یا مصدر ہے اپنے ماقبل پر دلالت کرتا ہے اور من عند انفسھم کا معنی ہے اپنی طرف سے، نہ وہ یہ کتاب میں پاتے ہیں اور نہ انہیں اس کا حکم دیا گیا ہوتا ہے حسد کا لفظ یہ مفہوم دیتا ہے اور عند انفسھم بطور تاکید اور الزام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یقولون بافواھھم (آل عمران : 167) اسی طرح یکتبون الکتب بایدیھم (البقرہ :79) اور اسی طرح ولا طئر یطیر بجناحیہ (انعام :38) ان تینوں آیات میں بافواھھم، بایدیھم اور بجنا حیہ تاکید کے لئے ہے۔ یہ آیت کریم یہود کے متعلق ہے۔ (1)
مسئلہ نمبر 2: حسد کی دو قسمیں ہیں : (1) مذموم، (2) محمود۔ مذموم یہ ہے کہ تو اپنے مسلمان بھائی سے اللہ تعالیٰ کی نعمت کے زوال کی تمنا کرے، خواہ تو نے یہ تمنا کی ہو کہ تیری طرف وہ نعمت لوٹ آئے یا تو نے یہ تمنا نہ کی ہو۔ اس قسم کی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ممانعت فرمائی ہے : ام یحسدون الناس علی ما اتھم اللہ من فضلہ (النساء : 54)
یہ حسد مذموم ہے کیونکہ اس میں حق سبحانہ تعالیٰ کی تقسیم کو درست نہ سمجھنا ہے کہ اس نے (گویا) غیر مستحق پر انعام کردیا ہے۔ اور حسد کی محمود صورت وہ ہے جس کا ذکر صحیح حدیث میں آیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حسد صرف دو شخصوں سے کرنا چاہئے : ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ قرآن عطا فرماتا ہے اور وہ رات کے اوقات میں اور دن کے اوقات میں اس کے ساتھ قیام کرتا ہے اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا اور وہ اسے رات کے اوقات میں اور دن کے اوقات میں خرچ کرتا ہے (2) ۔ یہ وہ حسد ہے جس کا معنی غطبہ (رشک) ہے، اسی طرح اس پر امام بخاری نے باب باندھا ہے : باب الاغتباط فی العلم والحکمۃ۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو تمنا کرے کہ تیرے لئے بھی وہ خیر اور نعمت ہو جو تیرے مسلمان بھائی کے پاس ہے اور اس سے خیر زائل نہ ہو۔ اس کو منافسہ کہنا بھی جائز ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وفی ذلک فلیتنافس المتنافسون۔ (المطففین) اس کے لئے سبقت لے جانے کی کوشش کریں سبقت لے جانے والے من بعد ما تبین لھم الحق (یعنی اس کے بعد کہ ان کے لئے حق ظاہر ہوچکا ہے ) ۔ حق سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں اور قرآن ہے جو آپ ﷺ لے کر آئے تھے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاعفوا واصفحوا اس میں دو مسئلے ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: فاعفوا اصل میں اعفو وا تھا ضمہ کو اس کے ثقل کی وجہ سے حذف کیا گیا پھر واو کو التقائے ساکنین کی وجہ سے حذف کیا گیا۔ العفو سے مراد گناہ پر مؤاخذہ کو ترک کرنا ہے۔ الصفح کا معنی نفس سے گناہ کے اثر کو زائل کرنا ہے۔ صفحت عن فلان کا معنی ہے : میں نے اس کے گناہ سے اعراض کیا۔ ضربت عنہ صفحاً میں نے اس سے اعراض کیا اور اسے چھوڑ دیا۔
اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افنضرب عنکم الذکر صفحاً (الزخرف :5) (کیا ہم روک لیں گے تم سے اس ذکر کو)
مسئلہ نمبر 2: یہ آیت منسوخ ہے اس ارشاد کے ساتھ قاتلوا الذین لا یؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخر ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق من الذین اوتوا الکتب حتیٰ یعطوا الجذیۃ عن یدٍ وھم صغرون۔ (توبہ :29) (جنگ کرو ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ پر اور نہ روز قیامت پر۔۔۔۔ اس حال میں کہ وہ مغلوب ہوں) یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کی ناسخ فاقتلوا المشرکین ہے (1) ۔ ابو عبیدہ نے کہا : ہر وہ آیت جس میں قتال کا ترک ہے وہ مکی ہے اور قتال کے حکم کے ساتھ منسوخ ہے (2) ۔ ابن عطیہ نے کہا : اس کا یہ حکم کہ یہ آیت مکی ہے ضعیف ہے کیونکہ یہود کی مخالفتیں تو مدینہ میں تھیں۔
میں کہتا ہوں : یہ بات صحیح ہے۔ بخاری اور مسلم نے حضرت اسامہ بن زید سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ گدھے پر سوار ہوئے جس کے اوپر فدک کا بنا ہوا کپڑا تھا اور حضرت اسامہ آپ کے پیچھے سوار تھے۔ آپ بنی حارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کے لئے تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ واقعہ بدر سے پہلے کا ہے۔ پس وہ دونوں چلے حتیٰ کہ اس مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبد اللہ بن ابی بن سلول تھا۔ یہ عبد اللہ کے ظاہراً اسلام قبول کرنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ مجلس میں مسلمان، مشرک، بت پرست اور یہود جمع تھے۔ مسلمانوں میں سے حضرت عبد اللہ بن رواحہ بھی تھے۔ جب مجلس پر گدھے کا غبار چھانے لگا تو عبد اللہ بن ابی نے اپنا ناک اپنی چادر سے ڈھانپ دیا اور کہا : ہم پر غبار نہ اڑاؤ۔
رسول اللہ ﷺ نے سلام کی پھر آپ ٹھہرے اور گدھے سے اترے اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلایا اور ان پر قرآن پڑھا۔ عبد اللہ بن ابی بن سلول نے کہا : اے شخص ! یہ انداز اچھا نہیں جو آپ کہتے ہیں اگر حق بھی ہے تو ہمیں ہماری مجالس میں اس کے ساتھ اذیت نہ دے، اپنی منزل کی طرف لوٹ جا جو تیرے پاس آئے اسے بیان کر۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے کہا : یا رسول ! ﷺ آپ ہماری مجالس میں تشریف لائیں ہم اس پیغام کو پسند کرتے ہیں۔ مشرکوں، مسلمانوں اور یہود کے درمیان گالی گلوچ شروع ہوگئی حتیٰ کہ ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے قریب ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ انہیں خاموش کراتے رہے حتیٰ کہ وہ خاموش ہوگئے پھر آپ ﷺ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور چل پڑے حتیٰ کہ حضرت سعد بن عبادہ کے پاس پہنچے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے سعد ! کیا تو نے نہیں سنا جو ابو حباب۔۔۔ آپ کی مراد عبد اللہ بن ابی تھا۔۔۔۔ نے کہا ہے اس نے ایسا ایسا کہا ہے۔ حضرت سعد نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ اس کو معاف کردیں اور اس سے درکذر فرمائیں۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ پر حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی۔ اللہ آپ کے پاس حق لایا جو اس نے آپ پر اتارا، مدینہ طیبہ کے لوگوں نے یہ طے کرلیا تھا کہ عبد اللہ بن ابی کو تاج پہنائیں گے اور اس کے سر پر پگڑی باندھیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس حق کے ساتھ اس معاملہ کو رد کردیا جو آپ کو عطا فرمایا تو یہ غصہ میں ہوگیا۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے اس نے کہا جو آپ نے دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے معاف کردیا۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب مشرکوں اور اہل کتاب کو معاف کردیتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا اور اذیت پر صبر کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ولتسمعن من الذین اوتوا الکتب من قبلکم ومن الذین اشرکوا اذی کثیراً (آل عمران :186) (اور یقیناً تم سنو گے ان سے جنہیں دی گئی کتاب تم سے پہلے اور ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا اذیت دینے والی بہت باتیں) اور فرمایا ود کثیرٌ من اھل الکتب (دل سے چاہتے ہیں بہت سے اہل کتاب) ۔
رسول اللہ ﷺ حکم الٰہی کے مطابق معاف فرماتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سے لڑنے کی اجازت دی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے جنگ بدر لڑی تو اللہ تعالیٰ نے قریش کے رئیسوں اور کفار کے سرداروں کو آپ ﷺ کے ذریعے قتل کردیا، پس رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ بدر سے مال غنیمت حاصل کرکے اور فتح یاب ہو کر لوٹے، ان کے ساتھ قریش کے سردار اور کفار کے رئیس قیدی تھے، عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھ مشرکوں اور بت پرستوں نے کہا : یہ امر ظاہر ہو کر رہے گا۔ پس انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام کی بیعت کرلی۔ اور اسلام لے آئے۔ (1)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حتی یاتی اللہ بامرہ یعنی قریظہ کا قتل اور نبی نضیر کی جلا وطنی ان اللہ علیٰ کل شیءٍ قدیر۔ واقیموا الصلوٰۃ واتوالزکوٰۃ یہ پہلے گزر چکا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما تقدموا لانفسکم من خیرٍ تجدوہ عند اللہ حدیث پاک میں ہے بندہ جب مرتا ہے تو لوگ کہتے ہیں : اس نے پیچھے کیا چھوڑا، فرشتے کہتے ہیں : اس نے آگے کیا بھیجا۔ بخاری اور نسائی نے حضرت عبد اللہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال زیادہ محبوب ہے ؟ صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ ہم میں سے ہر شخص کو اپنے وارث کے مال سے زیادہ اپنا مال پسند ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تیرا مال وہ ہے جو تو نے آگے بھیجا، اور تیرے وارث کا مال وہ ہے جو تو نے پیچھے چھوڑا۔ یہ نسائی کے الفاظ کا ترجمہ ہے اور بخاری کے الفاظ کا ترجمہ یہ ہے : نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کس کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہے ؟ صحابہ نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ ہم میں سے ہر شخص کو اپنا مال زیادہ محبوب ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اس کا مال وہ ہے جو اس نے آگے بھیجا اور وارث کا مال وہ ہے جو اس نے پیچھے چھوڑا (2) ۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ وہ بقیع الغرقد ( مدینہ طیبہ کا قبرستان) سے گزرے اور کہا : السلام علیکم اہل القبور پھر کہا : ہمارے پاس خبریں یہ ہیں کہ تمہاری بیویوں نے نکاح کر لئے ہیں، تمہارے گھروں میں دوسرے لوگ سکون پذیر ہیں، تمہارے مال تقسیم ہوچکے ہیں۔ ہاتف نے جواب دیا : اے ابن خطاب ! ہمارے پاس خبریں یہ ہیں ہم نے جو آگے بھیجا وہ ہم نے پا لیا اور جو ہم نے خرچ کیا اس کا ہم نے نفع پایا اور جو ہم نے پیچھے چھوڑا اس میں ہم نے نقصان اٹھایا۔۔۔۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا :
قدم لنفسک قبل موتک صالحاً واعمل فلیس الی الخلود سبیل
اپنے نفس کے لئے موت سے پہلے نیک اعمال بھیج اور نیک عمل کر کسی کے لئے ہمیشہ رہنا نہیں ہے۔
ایک اور شاعر نے کہا :
قدم لنفسک توبۃً مرجوۃ قبل الممات وقبل حبس الالسن
اپنے نفس کے لئے موت سے پہلے اور زبانوں کے خاموش ہونے سے پہلے توبہ کر جس کی قبولیت کی امید ہو۔
ایک اور نے کہا :
ولدتک اذ ولدتک امک باکیاً والقوم حولک یضحکون سروراً
فاعمل لیوم تکون فیہ اذا بکوا فی یوم موتک ضاحکاً مسروراً
تیری والدہ نے تجھے جنم دیا جبکہ تو رو رہا تھا اور قوم تیرے اردگرد خوشی سے ہنس رہی تھی۔ تو اس دن کے لئے عمل کر جس میں لوگ تیری موت پر رو رہے ہوں جبکہ تو اس میں خوشی سے ہنس رہا ہو۔
ایک اور نے کہا :
سابق الی الخیر وبادر بہ فانما خلفک ما تعلم
وقدم الخیر فکل امرئ علی الذی قدمہ یقدم
تو نیکی کی طرف سبقت کر اور اس میں جلدی کر تیرے پیچھے وہ ہوگا جس کو تو جانتا ہے۔ اور نیکی کو آگے بھیج ہر شخص اس پر ہوگا جو وہ آگے بھیجے گا۔
ان تمام سے خوبصورت ابو العتاہیہ کا قول ہے :
اسعد بما لک فی حیاتک انما یبقی وراءک مصلح او مفسد
وان استطعت فکن لنفسک وارثاً ان المورث نفسہ لمسدد
تو اپنی زندگی میں اپنے مال سے سعادت حاصل کرلے تیرے پیچھے نیکو کار ہوگا یا فسادی ہوگا۔ جب تو اپنا مال فسادی کے لئے چھوڑے گا تو وہ اسے نہیں چھوڑے گا اور نیکوکار کا تھوڑا بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اگر تو طاقت رکھتا ہے تو اپنے لئے وارث بنا وارث بنانے والا ہی پختہ ہوتا ہے۔
ان اللہ بما تعملون بصیرٌ اس کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔
Ayahs 2:111–112آیت نمبر 111 تا 112
اللہ تعالیٰ کا ارشا ہے : وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ھوداً او نصریٰ مطلب یہ ہے کہ یہود نے کہا : جنت میں داخل نہ ہوگا مگر وہ جو یہودی ہوگا اور نصاریٰ نے کہا : جنت میں داخل نہ ہوگا مگر جو نصرانی ہوگا۔ فراء نے جائز قرار دیا کہ ھودًا بمعنی یھودیا اور یہ جمع ہے ھائدٌ کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ من کا معنی جمع ہے۔ تلک امانیھم اس پر کلام پہلے گزر چکی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل ھاتوا برھانکم، ھاتوا اصل میں ھاتیوا تھا، ضمہ کو اس کے ثقل کی وجہ سے حذف کیا گیا پھر یا کو التقائے ساکنین کی وجہ سے حذف کیا گیا واحد مذکر کے لئے کہا جاتا ہے : ھات جیسے رام اور مونث کے لئے ھاتی جیسے رامی۔
البرھان سے مراد وہ دلیل ہوتی ہے جو یقین کو واقع کرتی ہے یعنی جس سے یقین حاصل ہوتا ہے۔ برھان کی جمع براھین ہے جیسے قربان وقرابین، سلطان و سلاطین۔ طبری نے کہا : یہاں دلیل طلب کرنا غور وفکر کے اثبات کا تقاضا کرتا ہے (1) اور جو اس کی نفی کرتا ہے اس کا رد کرتا ہے۔ ان کنتم صدقین یعنی اگر تم اپنے ایمان میں یا اپنے قول میں سچے ہو کہ تم ہی جنت میں داخل ہوگے۔ یعنی جو تم نے کہا ہے اسے دلیل سے بیان کرو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بلیٰ یہ ان کا رد ہے اور انہیں جھٹلایا ہے یعنی ایسا نہیں ہے جیسا تم کہتے ہو۔ بعض نے فرمایا : معنی پر محمول ہے، گویا کہ کہا گیا ہے کیا کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا ؟ تو کہا گیا : بلی من اسلم وجھہ للہ، اسلم کا معنی سرنگوں ہونا اور سرتسلیم خم کرنا ہے، بعض نے فرمایا : اپنے عمل کو خالص کرنا ہے، الوجہ (چہرہ) کا خصوصی ذکر کیا کیونکہ انسان کا جو حصہ نظر آتا ہے اس میں سے معزز ترین حصہ ہے، اور اس لئے کہ یہ جو اس کی جگہ ہے، اس میں عزت وذلت ظاہر ہوتی ہے عرب چہرہ کا ذکر کر کے پوری چیز کی خبر دیتے ہیں اس آیت میں وجہ سے مراد مقصد ہونا بھی صحیح ہے وھومحسنٌ یہ جملہ حال ہے، ضمیر، وجھہ کی طرف لوٹ رہی ہے اور لہ کی ضمیر من کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اسی طرح اجرہ ہے علیھم میں ضمیر جمع معنی کے اعتبار سے ہے اسی طرح یحزنون بھی معنی کے اعتبار سے جمع ہے۔ یحذنون کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔