2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:267

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

مومنو ! جو پاکیزہ اور عمدہ مال تم کماتے ہو اور وہ چیزیں ہم تمہارے لئے زمین سے نکالتے ہیں ان میں سے (راہ خدا میں) خرچ کرو اور بری اور ناپاک چیزیں دینے کا قصد نہ کرنا کہ (اگر وہ چیزیں تمہیں دی جائیں تو) بجز اس کے کہ (لیتے وقت آنکھیں بند کرلو ان کو کبھی نہ لو اور جان رکھو کہ خدا بےپرواہ (اور) قابل ستائش ہے

آیت نمبر : 267۔ اس میں گیارہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” یایھا الذین امنوا انفقوا “۔ یہ خطاب حضور نبی رحمت ﷺ کی تمام امت کو ہے اور یہاں انفاق سے جو معنی مراد ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب، عبیدہ سلیمانی اور ابن سیرین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے کہا ہے : اس سے مراد وہ زکوۃ ہے جو فرض کی گئی ہے۔ اس میں عمدہ شے کی بجائے ردی اور گھٹیا چیز خرچ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : حضرت براء بن عازب، حسن اور قتادہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے قول سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آیت نفلی صدقہ کے بارے میں ہے اور لوگوں پر مستحب قرار دیا گیا ہے کہ وہ نفلی صدقہ و خیرات نہ کریں مگر عمدہ اور جید چیز کے ساتھ۔ اور آیت دونوں وجہوں کو شامل ہے لیکن صاحب زکوۃ کا تعلق اس اعتبار سے ہے کہ اس آیت کے ساتھ زکوۃ کا حکم دیا گیا ہے اور امر وجوب پر دلالت کرتا ہے اور یہ کہ اسے ردی شے دینے سے منع کیا گیا ہے اور یہ فرض زکوۃ کے ساتھ مخصوص ہے اور رہا نفلی وجوب پر دلالت کرتا ہے اور یہ کہ اسے ردی شے دینے سے منع کیا گیا ہے اور یہ فرض زکوۃ کے ساتھ مخصوص ہے اور رہا نفلی صدقہ تو جس طرح آدمی کے لئے نفلی صدقہ میں قلیل شے دینا جائز ہوتا ہے تو اسی طرح اس کے لئے کم درجے کی شے نفلی صدقہ میں دینا جائز ہوگا اور درہم کھجور سے بہتر اور اچھا ہے۔ اور ندب والوں نے اس طرح استدلال کیا ہے کہ افعل کا لفظ (مراد صیغہ امر ہے) ندب و استحباب کی صلاحیت رکھتا ہے جس طرح وہ فرض کی صلاحیت رکھتا ہے اور ردی اور گھٹیا شے دینے سے نفلی صدقہ میں بھی اسی طرح منع کیا گیا ہے جس طرح فرض میں اس سے منع کیا گیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کسی کی نسبت زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس کے لئے عمدہ اور اچھی شے دیجائے۔ اور حضرت براء ؓ نے روایت کیا ہے کہ کسی آدمی نے ردی کھجوروں کا ایک خوشہ لٹکایا اور رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا : بئسما علق کتنی ردی شے ہے جو اس نے لٹکائی ہے، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے (1) (ابن ماجہ، باب النھی ان یخرج فی الصدقۃ شرمالہ، حدیث نمبر 1811، ضیاء القرآن پبلیکشنز) عنقریب یہ مکمل روایت آئے گی، اس قول کی بنا پر امر ندب و استحباب پر دلالت کرتا ہے، لہذا انہوں نے مستحب قرار دیا کہ وہ نفلی صدقہ میں اچھی اور عمدہ شے کے سوا کوئی نہ دیں۔ اور جمہور متاولین نے کہا ہے : (آیت) ” من الطیبت “۔ کا معنی ہے : عمدہ اور پسندیدہ شے میں سے جو تم نے کمائی ہیں۔ اور ابن زید نے کہا ہے : حلال چیزوں میں سے جو تم نے کمائی ہیں۔ مسئلہ نمبر : (2) کسب (کمائی) وہ ہوتا ہے جو بدن کی مشقت اور محنت سے حاصل ہو، اور یہ اجارہ ہے اس کا حکم آئے گا یا تجارت میں باہم گفتگو ہوتی ہے اور وہ بیع ہے اس کا بیان آگے آئے گا اور میراث اس میں داخل ہے کیونکہ غیر وارث نے اسے کمایا ہے (حاصل کیا ہے) حضرت سہل بن عبداللہ نے بیان کیا ہے کہ ابن مبارک سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو کچھ کمانے کا ارادہ رکھتا ہو اور اپنی کمائی سے ارادہ اور نیت یہ کرتا ہو کہ وہ اس سے صلہ رحمی کرے گا، جہاد کرے گا اور وہ نیکی اور خیر کا کام کرنے لگتا ہے اور اس غرض سے کسب کی آفات اور مشقتوں میں داخل ہوجاتا ہے تو انہوں نے کہا : اگر اس کے پاس زندگی گزارنے کے لئے اتنی مقدار میں سامان اور قوت موجود ہو جس کے ساتھ وہ اپنے آپ کو لوگوں سے روک سکتا ہو (یعنی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت اسے نہ پڑے) تو پھر اس کسب کو ترک کرنا افضل ہے، کیونکہ جب اس نے حلال طلب کیا اور حلال میں ہی خرچ کیا تو اس سے اس کی کمائی کے بارے اور اس کے خرچ کے بارے سوال کیا جائے گا اور اسے چھوڑنا زہد ہے کیونکہ زہد حلال چھوڑنے میں ہی ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) ابن خویز منداد نے کہا ہے : اس آیت کے مطابق والد کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی اولاد کی کمائی سے کھا سکتا ہے اور اس لئے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” تمہاری اولاد تمہاری عمدہ اور اچھی کمائی میں سے ہے، پس تم اپنی اولاد کے اموال میں سے خوشی خوشی کھاؤ۔ (1) (ابوداؤد باب فی الرجل یا کل من مال ولدہ، حدیث نمبر 3061، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ (آیت) ” ومما اخرجنا لکم من الارض “۔ یعنی نباتات، معاون اور رکاز (زمین میں قدرتی طور پر گڑی ہوئی دھاتیں) یہ تین ابواب ہیں۔ یہ آیت ان تینوں کو متضمن ہیں۔ پس رہی نباتات، دارقطنی نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا : رسول اللہ ﷺ سے سنت جاریہ یہ ہے ” کہ پانچ وسق سے کم میں زکوۃ نہیں ہے۔ “ اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہے اور وہ گندم، جو، کھجور اور کشمش میں سے تین سو صاع ہیں، اور زمین جو سبزہ وغیرہ اگاتی ہے اس میں زکوۃ نہیں ہے اور ایک قوم نے امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے لئے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے (آیت) ” ومما اخرجنا لکم من الارض “۔ بیشک یہ آیت عام ہے اور زمین سے قلیل یا کثیر مقدار میں پیدا ہونے والی تمام اقسام کی چیزوں کو شامل ہے اور انہوں نے امر کے ظاہر کو دیکھا کہ وہ وجوب کے لئے ہے، اس کا مکمل بیان سورة انعام میں آئے گا۔ اور جہاں تک معدن کا تعلق ہے تو ائمہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جانوروں کا زخم رائیگاں ہے، کنواں ہدر ہے، معدن بھی ہدر ہے اور رکاز میں خمس ہے (2) (صحیح بخاری باب : فی الرکاز الخمس حدیث نمبر : 1403 ضیاء القرآن پبلی کیشنز) تو یہ اس پر دلیل ہے کہ معاون کا حکم رکاز کے حکم کے سوا ہے کیونکہ آپ ﷺ نے معاون اور رکاز کے مابین واؤ فاصلہ کے ساتھ فرق بیان کیا ہے، اگر دونوں میں حک ایک جیسا ہوتا تو آپ فرماتے : معدن ہدر ہے اور اس میں خمس ہے۔ اور جب آپ نے یہ فرمایا : وفی الرکاز الخمس تو اس سے معلوم ہوا کہ رکاز کا حکم معدن کے حکم کے سوا ہے اس بارے میں جو اسے لیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔ رکاز دراصل لغت میں اس سے مراد وہ سونا، چاندی اور جواہرات ہیں، جو زمین میں گڑے ہوئے ہوں، تمام فقہاء کے نزدیک اسی طرح ہے، کیونکہ وہ سونے چاندی کے ان ٹکڑوں کے بارے میں کہتے ہیں جو معدن میں پائے جاتے ہیں وہ زمین میں گڑے ہوئے ہیں وہ عمل، محنت اور مشقت سے نہیں پائے جاتے، ان میں خمس ہے : کیونکہ وہ رکاز ہے اور امام مالک سے روایت ہے کہ معدن میں سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کا حکم اس شے کا حکم ہے جس میں عمل اور محنت کی مشقت کی جاتی ہے جو کچھ معدن سے نکالا جاتا ہے وہ رکاز میں داخل ہے۔ پہلا قول ہی آپ کے مذہب کا حاصل ہے اور اسی پر جمہور فقہاء کا فتوی ہے۔ اور عبداللہ بن سعید ابن ابی سعید مقبری نے اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا : رسول اللہ ﷺ سے رکاز کے بارے پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” وہ سونا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے زمین میں اس دن پیدا فرمایا جس دن آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا :“ یہ عبداللہ بن سعید متروک الحدیث ہیں، اسے ابن ابی حاتم نے ذکر کیا ہے اور حضرت ابورہریرہ ؓ سے ایک دوسری سند سے بھی یہ مروی ہے اور وہ صحیح نہیں ہے، اسے دارقطنی نے ذکر کیا ہے، علماء کی جماعت کے نزدیک دور جاہلیت میں لوگوں کے دفن کئے ہوئے اموال بھی رکاز ہیں وہ اس میں کوئی اختلاف نہیں کرتے بشرطیکہ اس کا دفن اسلام سے پہلے اموال عادیہ (پرانے اموال) میں سے ہو۔ اور وہ جو زمانہ اسلام کے اموال میں سے ہو تو ان کے نزدیک اس کا حکم لقطہ کے حکم کی مثل ہے۔ مسئلہ نمبر : (5) رکاز جب پایا جائے تو اس کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے، امام مالک نے بیان کیا ہے : زمانہ جاہلیت کے دفینوں میں سے جو سرزمین عرب میں یا اس ہموار اور جنگلی زمین میں پایا جائے جو بغیر جنگ کے مسلمانوں کی ملکیت میں آئی ہو تو وہ دفینہ اسی کے لئے ہوگا جس نے اسے پایا اور اس میں خمس ہوگا اور جو مسلمانوں کی زمین میں پایا جائے تو وہ لقطہ کی مثل ہوگا، مزید فرمایا : اور جو دفینہ جنگ کے علاقے میں پایا جائے تو وہ اس پوری جماعت (لشکر) کے لئے ہوگا جس نے اسے فتح کیا نہ کہ صرف پانے والے کے لئے اور جو کچھ صلح والے علاقے سے پایا جائے تو وہ اس شہروالوں کے لئے ہوگا نہ کہ عام لوگوں کے لئے اور اس میں پانے والے کے لئے کوئی شے نہ ہوگی مگر یہ کہ وہ اہل دار میں سے ہو تو پھر وہ ان کے سوا اس کے لئے ہوگا اور یہ بھی کہا گیا ہے : بلکہ وہ تمام صلح کرنے والوں کے لئے ہوگا۔ اسماعیل نے کہا ہے : بلاشبہ رکاز کا حکم مال غنیمت کے حکم کے ساتھ ہے کیونکہ وہ کافر کا مال ہے جسے مسلمان نے پالیا ہے، پس اسے اس کے قائم مقام رکھا گیا ہے جو کافر کو قتل کرے اور اس کا مال لے لے، پس اس کے لئے کل مال کے چار خمس ہوں گے، ابن القاسم نے کہا ہے : امام مالک سازوسامان، جواہرات، لوہا، تانبہ اور اسی طرح کی دیگر چیزوں میں جو بطور رکاز پائی جاتی ہیں ان کے بارے کہتے تھے کہ ان میں خمس ہے، پھر آپ نے اس سے رجوع کرلیا اور فرمایا : میں اس میں کوئی شے نہیں دیکھتا، پھر آخری بار جب ہم آپ سے جدا ہوئے تو آپ نے کہا : اس میں خمس ہے اور عموم حدیث کی بنا پر یہی صحیح ہے اور اسی پر جمہور فقہاء ہیں۔ امام اعظم ابوحنیفہ اور امام محمد ﷺ نے ایسے رکاز کے بارے میں جو گھر میں پایا جاتا ہے کہا ہے : بلاشبہ یہ گھر کے مالک کے لئے ہے کہ کہ پانے والے کے لئے اور اس میں خمس بھی ہے اور امام ابو یوسف (رح) نے اس کے برعکس کہا ہے کہ وہ پانے والے کے لئے ہے نہ کہ صاحب خانہ کے لئے اور یہی ثوری کا قول ہے اور اگر وہ جنگل میں پایا جائے تو پھر تمام کے قول کے مطابق وہ پانے والے کے لئے ہوگا اور اس میں خمس ہوگا اور ان کے نزدیک صلح اور جنگ کی زمین کے مابین کوئی فرق نہیں ہے اور اسی طرح ان کے نزدیک عرب کی زمین اور دوسری زمین سب برابر ہے اور انکے نزدیک پانے والے کے لئے جائز ہے کہ وہ اس کا خمس اپنے لئے روک لے جبکہ وہ خود محتاج ہو اور اس کے لئے وہ مساکین کو دینا بھی جائز ہے۔ اہل مدین اور اصحاب مالک میں سے کچھ ہیں جو ان میں سے کسی شے کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اور انہوں نے کہا ہے : برابر ہے رکاز جنگ والی زمین یا صلح کی زمانی میں پایا جائے یا سرزمین عرب میں ہو یا علاقہ حرب میں جب وہ کسی ایک کی ملکیت نہ ہو اور نہ کسی ایک نے اس کا دعوی کیا ہو تو وہ اپنے پانے والے کے لئے ہوگا اور اس میں ظاہر حدیث کے عموم کی بنا پر خمس ہوگا اور یہی لیث، عبداللہ بن نافع، شافعی اور اکثر اہل علم کا قول ہے : مسئلہ نمبر : (6) اور جہاں تک ان چیزوں کا تعلق ہے جو معاون سے حاصل کی جاتی ہیں اور کانوں سے نکلتی ہیں ان میں اختلاف کیا گیا ہے، پس امام مالک اور ان کے اصحاب نے کہا ہے : سونا یا چاندی میں سے جو کچھ کانوں سے نکلتا ہے اس میں کوئی شے واجب نہیں ہوتی یہاں تک کہ سونا بیس مثقال یا چاندی پانچ اوقیہ ہوجائے، پس جب یہ دونوں چیزیں اس مقدار کو پہنچ جائیں تو ان میں زکوۃ واجب ہوجائے گی، اور جو مقدار اس سے زائد ہو اس کے حساب سے اس کی زکوۃ بھی ہوگی جب تک وہ معدن میں پائی جائے اور ایک بار وہ ختم ہوجائے اور پھر دوبارہ اس کے بعد پائی جائے تو پھر اس میں زکوۃ شروع کردی جائے گی اور ان کے نزدیک رکاز کھیتی کی طرح ہے کہ جب کوئی شے نکلے گی تو اس وقت اس سے زکوۃ لے لی جائے گی اور اس پر سال گزرنے کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔ سحنون نے ایسے آدمی کے بارے میں کہا ہے جس کی کئی کانیں ہوں کہ وہ ان میں سے ایک میں جو کچھ ہے اسے دوسری سے حاصل ہونے والی شے کے ساتھ نہیں ملائے گا اور نہ ہی زکوۃ ادا کرے گا مگر تبھی جب ان میں سے ہر ایک میں سے دو سو درہم یا بیس درینا حاصل ہوں، اور محمد بن مسلمہ نے کہا ہے : وہ بعض کو بعض کے ساتھ ملا دے گا اور تمام کی اکٹھی زکوۃ ادا کرے گا جیسا کہ زمین سے حاصل ہونے والی پیداوار میں کیا جاتا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اور آپ کے اصحابرحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے : معدن رکاز کی مثل ہے، پس سونے یا چاندی میں سے جو کچھ معدن میں پایا گیا خمس نکالنے کے بعد دونوں میں سے ہر ایک کا اعتبار کیا جائے گا، پس جس نے اپنے ہاتھ سے محنت کے ساتھ وہ شے حاصل کی جس میں زکوۃ واجب ہوتی ہے تو سال مکمل ہونے پر وہ اس کی زکوۃ ادا کرے، اگر اس پر سال گزر جائے وہ نصاب اس کے پاس ہو۔ یہ تب ہے جب اس کے پاس اتنا سونا یا چاندی نہ ہو جس میں زکوۃ واجب ہو۔ اور اگر اس کے پاس اس میں سے اتنا ہو جس میں زکوۃ واجب ہوتی ہے تو وہ اسے اس کے ساتھ ملا لے اور اس کی زکوۃ ادا کرے، اسی طرح ان کے نزدیک سال کے دوران جو نفع حاصل ہوگا اسے اپنی جنس کے نصاب کے ساتھ ملایا جائے گا اور اصل نصاب پر سال گزرنے پر زکوۃ ادا کی جائے گی، یہی ثوری کا قول ہے۔ اور مزنی نے امام شافعی سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے کہا : وہ شے جس میں شک کرتا ہوں وہ وہی ہے جو معادن سے نکلتی ہے مزنی نے کہا ہے : ان کی اصل کی بنا پر اولی یہ ہے کہ جو کچھ معدن سے نکلتا ہے وہ فائدہ اور نفع ہو وہ اسے نکالنے کے بعد سال گزرنے پر اس کی زکوۃ ادا کرے گا۔ اور لیث بن سعد نے کہا ہے : سونا اور چاندی میں سے جو کچھ بھی معاون سے نکلتا ہے وہ بمنزلہ نفع اور فائدہ کے ہے وہ نئے سرے سے اس پر سال پورا کرے گا۔ اور یہی امام شافعی کا اس بارے میں قول ہے جسے مزنی نے ان کے مذہب سے حاصل کیا ہے۔ اور اس کے بارے میں داؤد اور ان کے اصحاب نے کہا ہے : جب اس پر ایسے مالک کے پاس پورا سال گزرجائے جس کی ملکیت صحیح ہو (تو اس پر زکوۃ لازم ہوگی) کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے “ جس نے مال حاصل کیا اس پر زکوۃ نہیں ہے یہاں تک کہ اس پر سال گزر جائے “ اسے ترمذی اور دارقطنی نے بیان کیا ہے۔ (1) (سنن ترمذی، کتاب الزکوۃ، حدیث نمبر 572، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور انہوں نے اس روایت سے بھی استدلال کیا ہے جسے عبدالرحمن بن انعم نے حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے مؤلفۃ قلوب میں سے ایک قوم کو کچھ سونا عطا فرمایا جو ابھی اپنی مٹی میں ملا ہوا تھا اور حضرت علی ؓ نے وہ یمن سے بھیجا تھا۔ (2) (صحیح بخاری کتاب احادیث الانبیاء، حدیث نمبر 3095، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) حضرت امام شافعی (رح) نے کہا ہے : مؤلفہ قلوب کا حق زکوۃ میں ہے، تو اس سے یہ واضح ہوگیا کہ معاون کا طریقہ وہی ہے جو زکوۃ کا طریقہ ہے۔ (یعنی انکے احکام ایک جیسے ہیں) امام مالک کی دلیل حضرت ربیعہ بن ابی عبدالرحمن کی حدیث ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت بلال بن حارث ؓ کو معادن قبیلہ (٭) (القبللیہ (بالتحریک) یہ منسوب ہے قبل کی طرف جو ساحل سمندر پر ایک جگہ کا نام ہے اور مدینہ طیبہ سے پانچ دنوں کے فاصلے پر ہے) عطا فرمائیں اور یہ الفرع (٭٭) (اور الفرع : یہ السقیا سے بائیں جانب ربذہ کے نواح میں ایک گاؤں ہے اس کے اور مدینہ طیبہ کے درمیان مکہ کی راہ پر آٹھ برید کا فاصلہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چار راتوں کی مسافت ہے) کی طرف میں واقع ہیں اور ان معاون سے آج تک صرف زکوۃ وصول کی جاتی ہے۔ یہ حدیث منقطع الاسناد ہے۔ محدثین اس قسم کی حدیث سے استدلال نہیں کرتے لیکن آپ نے عمل کیا ہے اور ان کے نزدیک مدینہ منورہ میں اس کے مطابق عمل کیا جاتا ہے اور اسے دراودی نے ربیعہ سے، انہوں نے حارث بن بلال المزنی سے اور انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے۔ اسے بزار نے ذکر کیا ہے اور اسے کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف نے اپنے باپ کے واسطے سے اپنے دادا سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت بلال بن حارث ؓ کو قبیلہ کی ساری کانیں عطا فرمائیں جو وہاں کی بلند زمین میں تھیں اور پس زمین میں تھیں اور قدس (مشہور پہاڑ) سے وہ زمین عطا فرمائی جو کاشت کی صلاحیت رکھتی تھی اور آپ نے انہیں کسی مسلمان کا حق نہیں دیا۔ اسے بزار بھی ذکر کیا ہے اور بہت سے لوگوں نے اس کے ضعف پر اجماع کیا ہے، یہ حکم ان چیزوں کا ہے جنہیں زمین نکالے اور عنقریب سورة النحل میں ان چیزوں کا حکم آئے گا جو سمندر سے نکلیں کیونکہ وہ بھی زمین کا قسیم ہے اور سورة الانبیائ : (1) (ابو داؤد، فی اقطاء الارضین، حدیث نمبر 2661، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) میں حضور نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کا معنی بیان ہوگا : العجماء جرحھا جبار “۔ ہر ایک کا بیان اپنے محل میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ : مسئلہ نمبر : (7) قولہ تعالیٰ (آیت) ” ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون “۔ تیمموا کا معنی تقصدوا ہے، یعنی تم قصد و ارادہ نہ کرو عنقریب سورة النساء میں عرب اشعار سے اس پر شواہد ذکر ہوں گے کہ التیمم بمعنی القصد ہے انشاء اللہ تعالیٰ ۔ آیت اس پر دلیل ہے کہ کمائی ہوئی شے طیب اور عمدہ بھی ہوتی ہے اور گھٹیا اور ردی بھی، امام نسائی نے حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے اس آیت کے بارے روایت کیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) ” ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون “۔ فرمایا : وہ جعرور اور لون حبیق (یہ دونوں کھجور کی انتہائی ردی اور گھٹیا اقسام میں سے ہیں) پس رسول اللہ ﷺ نے ان دنوں کو صدقہ میں لینے سے منع فرمایا ہے اور دارقطنی نے حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے اور انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کے بارے حکم ارشاد فرمایا، تو ایک آدمی ایسی کچی کھجوروں کا خوشہ لے کر آیا (جن کے پکنے اور مکمل ہونے کی صلاحیت ابھی ظاہر نہ ہوئی تھی) سفیان نے کہا : یعنی بالکل ناکارہ اور ردی کھجوریں۔۔۔۔ تو رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا : یہ کون لے کر آیا ہے ؟ “ اور کوئی کوئی شے بھی نہیں لاتا ہے مگر وہ اس کی طرف منسوب ہوتی ہے جو اسے لے کر آتا ہے تب یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” ولا تیمموا الخبیث منہ تنفقون “۔ راوی نے بیان کیا اور حضور نبی مکرم ﷺ نے جعرور اور لون الجیق سے منع فرمایا کہ ان دونوں (قسموں) کو صدقہ میں لیا جائے زہری نے کہا ہے : یہ دونوں قسمیں مدینہ کی کھجوروں میں سے ہیں (2) (ابو داؤد باب مالایجوز من الثمرۃ فی الصدقۃ، حدیث نمبر 1369، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور اسے ترمذی نے حضرت براء ؓ کی حدیث سے روایت کیا ہے (3) (سنن ترمذی، باب ومن سورة البقرہ، حدیث نمبر 2913 ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور اسے صحیح قرار دیا ہے، عنقریب اس کا ذکر آئے گا۔ علامہ طبری اور نحاس نے بیان کیا ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ کی قرات میں ” ولا تامموا “ ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں اور حضرت مسلم بن جندب نے ولا تیمموا “ تاء کے ضمہ اور میم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور ابن کثیر نے تیمموا “ یاء کو مشدد پڑھا ہے اور اس لفظ میں کئی لغات ہیں ان میں سے اممت الشیء پہلی میم مخفف اور اممتہ پہلی میم مشدد، اور یممتہ اور تیممتہ ہیں اور ابو عمرو نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے ولا تؤمموا، تاء مضمومہ کے بعد ہمزہ سے پڑھا ہے۔ مسئلہ نمبر : (8) قولہ تعالیٰ (آیت) ” منہ تنفقون “۔ علامہ جرجانی نے کتاب ” نظم القرآن “ میں کہا ہے کہ لوگوں میں سے ایک فریق نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد ” الخبیث “ پر کلام مکمل ہے، پھر خبیث کے وصف میں دوسری خبر کی ابتدا کی اور فرمایا : (آیت) ” منہ تنفقون “۔ اور تم ردی چیز نہ لو بجز اس کے کہ تم نرمی کا برتاؤ کرو، گویا یہ معنی لوگوں کے لئے عتاب اور ڈانٹ ہے۔ اور منہ کی ضمیر الخبیث کی طرف راجع ہے۔ اور ” الخبیث “ سے مراد انتہائی گھٹیا اور ردی ہے، علامہ جرجانی نے کہا ہے : دوسرے فریق نے کہا ہے کہ کلام قول باری تعالیٰ ” منہ “ تک متصل ہے اور ” منہ “ میں ضمیر ” ما کسبتم “ کی طرف راجع ہے۔ اور ” تنفقون “ گو حال ہونے کی بنا پر محل نصب میں واقع ہے اور یہ تیرے اس قول کی طرح ہے : انا اخرج اجاھد فی سبیل للہ “۔ مسئلہ نمبر : (9) قولہ تعالیٰ (آیت) ” ولستم باخذیہ الا ان تغمضوا فیہ “۔ یعنی تم اپنے قرضوں اور اپنے حقوق میں سے لوگوں سے نہیں لیتے مگر یہ کہ تم اس بارے میں نرمی کا برتاؤ کرو اور اپنے حقوق میں سے کچھ چھوڑ دو ، حالانکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو اور اس پر راضی نہیں ہوتے، یعنی تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ برتاؤ نہ کرو جو تم اپنے لئے پسند نہیں کرتے ہو، اس کا یہ معنی حضرت براء بن عازب، حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ضحاک ؓ نے بیان کیا ہے۔ اور حضرت حسن (رح) نے کہا ہے : آیت کا معنی ہے اور تم اسے (ردی کو) نہ لو اگرچہ تم اسے بازار میں پاؤ کہ اسے بیچا رہا ہے مگر یہ کہ وہ تمہارے لئے اس کے ثمن کرم کر دے، اور اسی طرح حضرت علی ؓ سے بھی مروی ہے، ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ دونوں قول آیت کے زکوۃ فرضیہ کے بارے میں ہونے کا شبہ دلاتے ہیں۔ ابن عربی نے کہا ہے : اگر یہ آیت فرض زکوۃ کے بارے میں ہوتی تو اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا (آیت) ” ولستم باخذیہ “ کیونکہ ردی اور عیب ناک چیز فرض میں کسی بھی حال میں لینا جائز نہیں ہوتا نہ چشم پوشی کے طریقہ پر اور نہ اس کے سوا کسی طریقہ پر، البتہ چشم پوشی کے بغیر بھی نفل میں لی جاسکتی ہے۔ حضرت براء بن عازب ؓ نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس کا معنی ہے : (آیت) ” ولستم باخذیہ “ اگر تمہیں ہدیہ دیا جائے (تو تم ردی شے نہ لو) (آیت) ” الا ان تغمضوا فیہ “ مگر یہ کہ تم ہدیہ دینے والے سے حیاء کرو اور اس سے وہ شے قبول کرلو جس کی نہ تمہیں حاجت ہے اور نہ وہ شے فی نفسہ کوئی قدرومنزلت رکھتی ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ آیت کے نفلی صدقہ کے بارے میں ہونے کا شبہ دلاتا ہے اور ابن زید نے کہا ہے : اور تم حرام چیز نہ لو مگر یہ کہ تم اس کے مکروہ ہونے کے بارے میں اغماض برتو۔ مسئلہ نمبر : (10) قولہ تعالیٰ (آیت) ” الا ان تغمضوا فیہ “ جمہور کی قرات اسی طرح ہے۔ یہ اغمض الرجل فی امر کذا سے ہے، جب آدمی کسی کام میں تساہل اور نرمی برتے اور اپنے بعض حق کے ساتھ راضی ہوجائے اور بعض سے درگزر کرلے اور اسی معنی میں طرماح کا قول ہے : لم یفتنا بالوتر قوم وللذل اناس یرضون بالاغماض : کسی قوم نے وتر کے بارے میں ہمیں فتوی نہیں دیا اور سہولت کے لئے لوگ بعض حق کے ساتھ راضی ہوجاتے ہیں۔ اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ تغمیض العین سے لیا گیا ہو کیونکہ جو مکروہ اور ناپسندیدہ شے پر صبر کا ارادہ رکھتا ہے وہ اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا : الی کم وکم اشیاء منک تریینی اغمض عنھا لست عنھا بذی عمی کتنے تک اور تیری طرف سے کتنی اشیاء مجھے شک میں ڈالتی ہیں میں ان سے آنکھیں بند کرلیتا ہوں میں ان سے اندھا نہیں ہوں۔ اور یہ مکروہ کے وقت اغضاء (آنکھ بند کرنا) کی طرح ہے، اور نقاش نے یہی معنی اس آیت میں ذکر کیا ہے اور اس کی طرف مکی نے اشارہ کیا ہے۔ اور یا یہ عربوں کے اس قول سے ہے : اغمض الرجل اذا اتی غامضا من الامر۔ (یعنی جب کوئی کسی کام میں نرمی برتے تو کہا جاتا ہے۔ اغمض الرجل۔ (آدمی نے نرمی کا سلوک کیا) جیسا کہ تو کہتا ہے : اعمن یعنی وہ عمان آیا، اور اغرق یعنی وہ عراق آیا اور اتجدو اغور، یعنی وہ نجد اور غور آیا اور غور سے مراد تہامہ ہے یعنی وہ اسے لینے کے لئے کوئی تاویل تلاش کرتا ہے۔ زہری نے اسے تاء کے فتحہ اور میم کے کسرہ کے ساتھ مخفف پڑھا ہے اور ان ہی سے تغمضوا بھی مروی ہے۔ یعنی تاء کے ضمہ، غین کے فتحہ اور میم کے کسرہ اور اس کی شد کے ساتھ، پس پہلی قرات اس معنی کی بناء پر ہے تم اپنے بائع سے اس کا سودا ختم کر دو کہ وہ تمہارا بھاؤ کم کر دے۔ اور دوسری قرات اور یہی حضرت قتادہ کی قرات ہے جو کہ نحاس نے ذکر کی ہے۔ یہ معنی ہے کہ تم نقصان اور کمی کے ساتھ لے لو، ابو عمر والدانی نے کہا ہے کہ زہری کی دونوں قراتوں کا معنی ہے : ” یہاں تک کہ تم نقصان اور کمی کے ساتھ لے لو “ اور مکی نے حسن سے بیان کیا ہے : الا ان تغمضوا “ یعنی میم مشدد اور مفتوح ہے اور قتادہ نے ” تغمضوا “ بھی قرات کی ہے یعنی تا کے ضمہ، غین کے سکون اور میم مخفف مفتوح کے ساتھ، ابو عمر والدانی نے کہا ہے : اس کا معنی ہے تمہارے لئے اس کی قیمت کم کردی جائے۔ اسے نحاس نے حضرت قتادہ سے بیان کیا ہے اور ابن جنی نے کہا ہے : اس کا معنی ہے تم اس حال میں پائے جاؤ کہ تم نے تاویل کے سبب یا نرمی کے سبب معاملے میں چشم پوشی کرلی ہے اور تم نے ادنی چیز اپنے لئے لینے کا ارادہ کرلیا ہے، اور یہ تیرے اس قول کی طرح ہے : احمدت الرجل وجدتہ محمودا “۔ (میں نے آدمی کی تعریف کی اور میں نے اسے محمود پایا) اسی طرح کی کئی مثالیں ہیں۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : جمہور کی قراءت تجاوز (درگزر کرنے) اور آنکھیں بند کرنے کے معنی دیتی ہے۔ کیونکہ اغمض غمض کے قائم مقام ہے، اور اسی بنا پر معنی یہ ہے یہاں تک کہ تم اسے لینے میں غور وفکر اور تاویل سے آنکھیں بند کرتے ہوئے آؤ یا تو اس کے حرام ہونے کی وجہ سے ابن زید کے قول کے مطابق اور یا پھر اس لئے کہ ایک ہد یہ ہے یا اسے قرض میں لیا گیا ہے۔ دوسروں کے قول کے مطابق۔ اور مہدوی نے کہا ہے جنہوں نے تغمضوا “ پڑھا ہے تو معنی یہ ہے تم اسے لینے سے اپنی بصیرت کی نگائیں بند رکھتے ہو۔ جوہری نے کہا ہے : غمضت عن فلان “ کا معنی ہے جب بیع یا شرا کے معاملہ میں تو اس پر نرمی کرے، اور چشم پوشی کرے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) ” ولستم باخذیہ الا ان تغمضوا فیہ “ کہا جاتا ہے : اضمض لی فیما بعتنی (اور چشم پوشی اور، نرمی کی گئی اس میں جو تو نے مجھے بچی) گویا تو اس سے زیادتی کا ارادہ رکھتا ہے اس کے ردی ہونے کے سبب اور اس کے ثمن میں سے کم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اور ان محل نصب میں ہے اور تقدیر کلام ہے ” الا بان “۔ مسئلہ نمبر : (11) قولی تعالیٰ (آیت) ” واعلموا ان اللہ غنی حمید “۔ اللہ تعالیٰ نے صف غنی پر متنبہ فرمایا کہ تمہارے صدقات کی اسے کوئی حاجت نہیں۔ پس جو قرب حاصل کرنا چاہے اور ثواب کا طالب ہو تو اسے چاہیے کہ وہ صدقہ ادا کرے ایسی شے کے ساتھ جو قدر ومنزلت والی ہو اور مہتم بالشان ہو کیونکہ وہ اسے اپنے لئے آگے بھیجتا ہے۔ اور (آیت) ” حمید ‘ کا معنی ہے : محمود فی کل حال ہر حال میں تعریف کیا ہوا، ہم نے ان دونوں اسموں کے معنی الکتاب الاسنی میں ذکر کردیئے ہیں۔ والحمد للہ اور زجاج نے قول باری تعالیٰ (آیت) ” واعلموا ان اللہ غنی حمید “۔ کے تحت کہا ہے : اس نے تمہیں حکم نہیں دیا ہے کہ تم حاجت اور تنگی کے باوجود صدقہ کرو البتہ اس نے تمہارے اخیار اور نیک لوگوں کا امتحان لیا ہے اور وہ ان تمام نعمتوں پر تعریف کیا گیا ہے۔
Ayah 2:268

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

(اور دیکھنا) شیطان (کا کہا نہ ماننا وہی) تمہیں تنگدستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے اور خدا بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

(آیت) ” 268۔ اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الشیطن “۔ شیطان اور اس کے مادہ اشتقاق کا معنی پہلے گزر چکا ہے دوبارہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور یعدکم کا معنی ہے : توہ تمہیں ڈراتا ہے۔ (آیت) ” الفقر “ تنگدستی سے تاکہ تم خرچ نہ کرو۔ یہ آیت ماقبل سے متصل ہے اور یہ کہ شیطان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے انسان کو باز رکھنے میں خاصہ دخل ہے اور وہ اس کے ساتھ ساتھ فحشاء (بےحیائی) کا حکم دیتا ہے اور فحشاء سے مراد معاصی اور ان میں خرچ کرنا ہے اور کہا گیا ہے یعنی اس طرح کہ تم صدقہ نہ کرو تم گنہگار ہوجاؤ گے اور آپس میں جدا جدا ہوجاؤ گے اور الفقر فاء کے ضمہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور ایک لغت ہے۔ جوہری نے کہا ہے : الفقر میں ایک لغت الفقر ہے۔ مثلا الضعف اور الضعف۔ مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ (آیت) ” واللہ یعدکم مغفرۃ منہ وفضلا “۔ کلام عرب میں الوعد کا لفظ جب مطلق ہو تو وہ خیر اور بھلائی کے لئے ہوتا ہے اور جب اسے موعود (وہ شے جس کا وعدہ کیا گیا) کے ساتھ مقید کردیا جائے تو پھر وہ خیر اور شر دونوں کے لئے مقدر ہو سکتا ہے، جیسا کہ البشارۃ تو اس آیت میں لفظ الوعد اکٹھا دو معنوں کے ساتھ مقید کیا گیا ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : اس آیت میں دو وعدے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں اور دو شیطان کی طرف سے۔ اور امام ترمذی نے حضرت عبداللہ بن مسود ؓ سے روایت کیا ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بیشک شیطان کی جانب سے ایک وسوسہ یہ ہے کہ وہ شر کے ساتھ خوفزدہ کرتا ہے اور حق کی تکذیب کی طرف راغب کرتا ہے اور فرشتے کا القاء یہ ہے کہ وہ خیر کا وعدہ دلاتا ہے اور حق کی تصدیق کی رغبت دلاتا ہے پس جو کوئی اسے پائے تو اسے جان لینا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے اور جو کوئی دوسرا انہیں پائے تو اسے چاہیے کہ وہ شیطان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : (آیت) ” الشیطن یعدکم الفقر ویامرکم بالفحشآئ “۔ فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے (1) اور غیر قرآن میں باء کو حذف کرنا بھی جائز ہے۔ (آیت) ” ویامرکم بالفحشآء “۔ سیبویہ نے شعر کہا ہے : امرتک الخیر فافعل ما امرت بہ فقد ترکتک ذا مال وذا نسب : میں نے تجھے خیر کا حکم دیا ہے پس تو وہی کر جس کا تجھے حکم دیا گیا ہیں۔ تحقیق میں نے تجھے صاحب مال اور صاحب نسب چھوڑا ہے۔ اور المغفرۃ سے مراد اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر دنیا اور آخرت میں پردہ ڈالنا ہے اور فضل سے مراد دنیا میں رزق ہے اور آخرت میں وسعت اور نعمتیں ہیں۔ تمام کے بارے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) نقاش نے ذکر کیا ہے کہ بعض لوگ اس بارے میں اس آیت سے مانوس ہوئے ہیں کہ فقر (تنگدستی) غنی (دولتمندی، خوشحالی) سے افضل ہے، کیونکہ شیطان بندے کو نیکی اور خیر سے دور ہٹاتا ہے اور وہ اسے فقر کا خوف دلا کر اس سے دور کرتا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : آیت میں کوئی حجت قاطعہ نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ معارضہ قوی ہے اور روایت ہے کہ تورات میں ہے۔ ” میرے بندے میرے رزق سے خرچ کر میں تجھ پر اپنا فضل وسیع کر دوں گا کیونکہ میرا ہاتھ ہر کشادہ ہاتھ سے زیادہ کشادہ ہے۔ “ اور قرآن کریم میں اس کا مصداق یہ ارشاد گرامی ہے : (آیت) ” وما انفقتم من شیء فھو یخلفہ “۔ وھو خیرالرزقین “۔ (سبا) ترجمہ ؛ اور جو چیز تم خرچ کرتے ہو تو وہ اس کی جگہ اور دے دیتا ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔ اسے حضرت ابن عباس ؓ نے ذکر کیا ہے۔ (آیت) ” واللہ واسع علیم “۔ اس کا معنی پہلے گزر چکا ہے اور یہاں مراد یہ ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ خوشحالی اور وسعت عطا فرماتا ہے اور وہ اسے جانتا ہے جہاں اسے رکھتا ہے اور وہ غیب وشہادۃ کا علم رکھتا ہے۔ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے دو اسم ہیں ہم ان دونوں کا ذکر بھی تمام اسماء میں الکتاب الاسنی میں کیا ہے۔ والحمدللہ۔
Ayah 2:269

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

وہ جس کو چاہتا ہے دانائی بخشتا ہے اور جس کو دانائی ملی بیشک اس کو بڑی نعمت ملی اور نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں

آیت نمبر : 269۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” یؤتی الحکمۃ من یشآئ “ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے حکمت عطا فرما دیتا ہے، یہاں حکمت کے مفہوم کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، سدی نے کہا ہے : اس سے مراد نبوت ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : حکمت سے مراد قرآن کریم کی معرفت ہے یعنی اس کی فقاہت، نسخ، محکم، غریب اور مقدم ومؤخر آیات کا علم۔ حضرت قتادہ ؓ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : حکمت سے مراد قرآن کریم کی سمجھ اور فقاہت ہے، حضرت مجاہد ؓ نے کہا ہے : امام مالک بن انس (رح) نے کہا ہے : حکمت سے مراد اللہ تعالیٰ کی اطاعت وپیروی، دین میں فقاہت اور اس کے مطابق عمل کرنا ہے، حضرت ربیع بن انس (رح) نے کہا ہے : حکمت سے مراد خشیت ہے۔ حضرت ابراہیم نخعی کا قول ہے : حکمت سے مراد قرآن کریم میں فہم اور سمجھ رکھنا ہے اور حضرت زید بن اسلم ؓ نے بھی یہی کہا ہے اور حسن نے کہا ہے : حکمت سے مراد ورع ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ تمام اقوال ماسوائے سدی، ربیع اور حسن کے اقوال کے آپس میں ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں، کیونکہ حکمت مصدر ہے الاحکام سے اور اس کا معنی ہے : قول یافعل میں پختہ اور مضبوط ہونا۔ پس کتاب اللہ حکمت ہے اور اللہ تعالیٰ کے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کی سنت بھی حکمت ہے اور فضیلت میں سے جو کچھ ذکر کیا گیا ہے وہ سب حکمت ہے۔ دراصل حکمت وہ شے ہے جس کے سبب انسان سفاہت اور بےوقوفی سے باز رہے، پس علم کو حکمت کہا گیا ہے کیونکہ اس کے سبب اس سے روکا جاسکتا ہے اور اس کے ساتھ سفاہت سے باز رہنے کو جانا جاسکتا ہے اور سفاہت سے مراد ہر وہ فعل ہے جو قبیح ہو۔ اور اسی طرح قرآن کریم، عقل اور فہم و فراست (یہ سب حکمت ہیں کیونکہ ان کے سبب سفاہت کے ارتکاب سے باز رہا جاتا ہے۔ اور بخاری شریف میں ہے : من یرد اللہ بہ خیرا یفقہہ فی الدین (اللہ تعالیٰ جس کے بارے میں خیر اور بھلائی چاہتا ہے اور اسے دین میں فقاہت عطا فرما دیتا ہے) اور یہا ارشاد فرمایا : (آیت) ” ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا “۔ (اور جسے دانائی عطا کی گئی یقینا اسے بہت بھلائی دے دی گئی۔ (1) (صحیح بخاری، باب من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ الدین، حدیث نمبر 69، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور دوبارہ حکمۃ کا لفظ ْذکر فرمایا اس کے لئے ضمیر ذکر نہیں فرمائی، اس کا اہتمام کرتے ہوئے اور اس کے شرف وفضل پر تنبیہ کرتے ہوئے جیسا کہ اس کا بیان اس قول باری تعالیٰ کے تحت گزر چکا ہے : (آیت) ” فبدل الذین ظلموا قولا “۔ (البقرہ : 59) اور دارمی ابو محمد نے اپنی مسند میں ذکر کیا ہے، مروان بن محمد، رفدہ الفسانی نے بیان کیا ہے کہ ہمیں ثابت بن عجلان انصاری نے خبر دی ہے اس نے کہا : بیان کیا جاتا ہے : بیشک اللہ تعالیٰ اہل زمین کو عذاب دینے کا ارادہ فرماتا ہے اور جب وہ معلم کو بچوں کو حکمت کی تعلیم دیتے ہوئے سنتا ہے تو وہ اسے ان سے پھیر دیتا ہے، مروان نے کہا ہے : حکمت سے مراد قرآن کریم ہے۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” ومن یؤت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا وما یذکر الا اولو الالباب ، “۔ کہا جاتا ہے : بیشک جسے حکمت اور قرآن عطا کردیئے گئے تحقیق اسے اس سے افضل واعلی عطا کردیا گیا جسے پہلی کتابوں اور صحف وغیرہ کا جمیع علم عطا کیا گیا، کیونکہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) ” وما اوتیتم من العلم الا قلیلا “۔ (الاسرائ) اور اسے ” خیرا کثیرا “ کا نام دیا گیا ہے، کیونکہ یہ جوامع الکلم ہے۔ اور بعض حکماء نے کہا ہے : جسے علم اور قرآن عطا کیا گیا اسے چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو پہچانے اور اہل دنیا کے سامنے ان کی دنیا کی وجہ سے نہ جھکے، کیونکہ جو اسے عطا کیا گیا ہے وہ اس سے بہت افضل ہے جو اصحاب دنیا کو دیا گیا ہے (من اعطی العلم والقرآن ینبغی ان یعرف نفسہ ولا یتواضع لاھل الدنیا لاجل دنیا ھم فانھا اعطی افضل اصحاب الدنیا) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو متاع قلیل کا نام دیا ہے اور فرمایا ہے : (آیت) ” قل متاع الدنیا قلیل “۔ (النسائ : 77) اور علم اور قرآن کو (آیت) خیرا کثیرا “ کا نام دیا ہے۔ (2) (تفسیر ابو لیث جلد 1، صفحہ 232) جمہور نے (آیت) ” ومن یؤت “ فعل مجہول کی صورت میں پڑھا ہے اور زہری اور یعقوب نے (آیت) ” ومن یوت “ تاء کو کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ (یعنی فعل معروف) اس معنی کی بناء پر (آیت) ” ومن یؤت الحکمۃ “۔ اور جسے اللہ تعالیٰ دانائی عطا فرما دے۔ اس میں فاعل اللہ تعالیٰ کا اسم گرامی ہے۔ اور من مفعول اول مقدم ہے، الحکمۃ مفعول ثانی ہے اور الالباب “ کا معنی عقول ہیں اور اس کا واحد لب ہے اس کا ذکر بھی پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 2:270

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

اور تم (خدا کی راہ) میں جس طرح کا خرچ کرو یا کوئی نذر مانو خدا اسکو جانتا ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے

آیت نمبر : 270۔ یہ شرط اور جواب شرط ہے، عربوں کے رواج میں منتیں کثرت سے مانی جاتی تھیں، پس اللہ تعالیٰ نے دو قسمیں بیان کی ہیں، ایک وہ جو آدمی بطور نفل اور تبرع فعل کرتا ہے اور ایک وہ جو آدمی اپنے لئے اسے لازم کرنے کے بعد وہ فعل کرتا ہے، اور آیت میں وعدہ اور وعید کا معنی موجود ہے، یعنی وہ آدمی جس کی نیت میں اخلاص ہوا اسے ثواب دیا جائے گا اور جس نے ریا کاری یا کسی اور معنی مثلا احسان جتلانے اور دکھ پہنچانے کے لئے خرچ کیا تو وہ ظالم ہوگا۔ اس کا علم باطل ہوجائے گا اور وہ اپنے لئے اس میں کوئی معاون و مددگار نہیں پائے گا اور ” یعلمہ “ کا معنی ہے وہ اسے شمار کرتا ہے اور سمجھتا ہے، یہ مجاہد نے کہا ہے (ای یحصیہ) اور ضمیر واحد ذکر کی حالانکہ پہلے دو چیزوں کا ذکر کیا، تو نحاس نے کہا ہے : تقدیر عبارت ہے (آیت) ” وما انفقتم من نفقۃ، فان اللہ یعلمھا “۔ (یعنی جو تم خرچ کرتے ہو یقینا اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے) (آیت) ” اونذرتم من نذر فان اللہ یعلمہ “۔ پھر اسے حذف کردیا گیا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ تقدیر عبارت اس طرح ہو : (آیت) ” وما انفقتم فان اللہ یعلمہ “۔ اور اس میں ھا ضمیر ” ما “ کی طرف لوٹ رہی ہو۔ جیسا کہ سیبویہ نے (امرء القیس کے لئے) کہا ہے : فتوضح فالمقراۃ لم یعف رسھا لما نسج تھا من جنوب و شمال : اس میں نسج تھا میں ہاء ضمیر ما کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اور (آیت) ” او نذرتم من نذر “ اس پر معطوف ہو، ابن عطیہ نے کہا ہے : (آیت) ” یعلمہ “ میں واحد ضمیر ذکر کی ہے حالانکہ دو چیزوں کا ذکر کیا ہے تو یہ اس حیثیت سے ہے کہ ارادہ اس کا کیا ہے جسے ذکر کیا گیا ہے یا جسے بیان کیا گیا ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں ؛ یہ حسین اور اچھا ہے کیونکہ کبھی ضمیر سے مراد وہ تمام ہوتے ہیں جو مذکور ہوتے ہیں اگرچہ وہ کثیر ہوں، نذر کی حقیقی تعریف یہ ہے ھو ما اوجبہ المکلف علی نفسہ من العبادات ممالولم یوجبہ لم یلزمہ (ان عبادات میں سے وہ عبادت جو مکلف نے اپنے اوپر لازم کی ہو کہ اگر وہ اسے لازم نہ کرتا تو وہ اس پر لازم نہ ہوتی) لہذا جب کوئی فعل آدمی اپنے ذمہ لازم کرلے تو تو کہتا ہے : نذر الرجل، ینذر ذال کے ضمہ کے ساتھ بھی ہے اور ذال کے کسرہ کے ساتھ بھی، اس کے کئی احکام ہیں جن کا بیان کسی اور جگہ آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 2:271

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اسطرح) کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے

آیت نمبر : 271۔ جمہور مفسرین کا موقف یہ ہے کہ یہ آیت نفلی صدقہ کے بارے میں ہے کیونکہ اس میں اظہار کی نسبت اخفاء افضل ہے اور اسی طرح تمام نفلی عبادات میں اخفا افضل ہوتا ہے کیونکہ اس طرح ریا ان سے دور رہتا ہے اور واجبات میں اس طرح نہیں ہے، حسن نے کہا ہے : زکوۃ میں اظہار احسن ہے اور نفل میں اخفا افضل ہے کیونکہ یہ اس پر زیادہ دلالت کرتا ہے کہ اس سے ارادہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کا کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے، اللہ تعالیٰ نے نفل میں سری صدقہ کو اعلانیہ صدقہ پر فضیلت دی ہے کہا جاتا ہے کہ وہ ستر گنا ہے اور فرضی صدقہ میں اعلانیہ کو سری پر فضیلت دی گئی ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ پچیس گناہ ہے، فرمایا : تمام اشیاء میں جمیع فرائض اور نوافل اسی طرح ہیں۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اسی طرح کا قول رائے سے نہیں کہا جاسکتا۔ بالیقین وہ امر توفقی ہے۔ اور صحیح مسلم میں حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” فرض نماز کے سوا آدمی کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے۔ “ اور یہ اس لئے ہے کہ فرائض میں ریا داخل نہیں ہوتا اور نوافل اس کے نشانے پر ہیں۔ اور امام نسائی نے حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بیشک وہ آدمی جو قرآن بالجہر پڑھتا ہے وہ اس کی طرح ہے جو صدقہ بالجہر دیتا ہے اور جو قرآن سرا پڑھتا ہے وہ اس کی طرح ہے جو صدقہ سرا دیتا ہے۔ “ اور حدیث میں ہے۔ سرا صدقہ دینا رب العالمین کے غضب کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔ (1) (طبرانی، الکبیر، حدیث 8014) ابن عربی نے کہا ہے : اعلانیہ صدقہ کی سری صدقہ پر فضیلت کے بارے میں اور نہ ہی سری صدقہ کی اعلانیہ صدقہ پر فضیلت کے بارے میں کوئی صحیح حدیث ہے۔ البتہ اس کے بارے میں اجماع چابت ہے، پس رہا نفلی صدقہ تو اس کے بارے صراحۃ قرآن کریم میں موجود ہے کہ یہ سرا جہرا دینے سے افضل ہے۔ اس کے بارے ہمارے علماء نے کہا ہے : بیشک اس کا اطلاق غالب کیفیت پر ہے اور اس بارے میں تحقیق یہ ہے کہ صدقہ میں حالات مختلف ہوتے ہیں صدقہ دینے والے کی حالت کے ساتھ، جس کو صدقہ دیا جائے اس کی حالت کے سبب اور ان لوگوں کی حالت کے ساتھ جو صدقہ کا مشاہدہ کر رہے ہیں، رہا صدقہ دینے والا تو اس کے لئے اس میں سنت کے اظہار اور پیشوائی کا ثواب ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ اس کے لئے ہے جس کی حالت قوی ہو اور اس کی نیت نیک اور اچھی ہو اور وہ اپنے بارے میں ریا سے محفوظ اور مامون ہو، اور رہا وہ آدمی جو اس مرتبہ سے ضعیف اور کمزور ہو تو اس کے لئے سرا صدقہ دینا افضل ہے۔ اور جہاں تک اس کا تعلق ہے جسے صدقہ دیا گیا ہے تو اسے سری صدقہ لوگوں کے اسے حقیر سمجھنے سے محفوظ کرنے والا ہے اور اس شے کی نسبت سے کہ اس نے غنی اور غیر محتاج ہونے کے باوجود صدقہ لیا ہے اور پاکدامنی کو ترک کردیا ہے اور رہا لوگوں کا حال تو ان کے اعتبار سے بھی سری صدقہ اعلانیہ سے افضل ہے، اس جہت سے کہ وہ کبھی دینے والے کو ریا کاری کا طعنہ دیتے ہیں اور صدقہ لینے کو اس کا مستحق قرار دیتے اگرچہ ان کے لئے جہری صدقہ میں دلوں کی طرف مائل اور راغب کرنے کا سامان بھی ہے لیکن آج کے دور میں یہ بہت قلیل ہے۔ یزید بن حبیب نے کہا ہے : یہ آیت یہود و نصاری پر صدقہ کے بارے میں نازل ہوئی، پس وہ سرا زکوۃ کی تقسیم کا حکم دے رہا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ مردود ہے بالخصوص سلف صالحین کے نزدیک اور علامہ طبری نے کہا ہے : لوگوں نے اس پر اجماع کیا ہے کہ واجب صدقہ میں اظہار افضل ہے۔ میں کہتا ہوں : ال کیا الطبری نے ذکر کیا ہے کہ اس آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ مطلقا صدقات میں اخفا اولی ہے اور یہ فقیر کا حق ہے۔ اور صاحب مال کے لئے جائز ہے کہ وہ صدقات بذات خود تقسیم کرے، جیسا کہ حضرت امام شافعی کا ایک قول ہے اور ان کے دوسرے قول کے مطابق انہوں نے یہ ذکر کیا ہے کہ یہاں صدقات سے مراد نفلی صدقات ہیں نہ کہ وہ فرض جسے ظاہر کرنا اولی ہے تاکہ اسے کوئی تہمت لاحق نہ ہو۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ نفلی نماز انفرادی طور پر پڑھنا افضل ہے (یعنی بغیر جماعت کے) اور فرض نماز میں جماعت تہمت سے دور رکھنے والی ہے۔ اور مہدوی نے کہا ہے : آیت سے مراد فرض زکوۃ بھی ہے اور نفلی صدقات بھی، پس حضور نبی رحمت ﷺ کے زمانہ مقدس میں اخفا افضل تھا پھر اس کے بعد لوگوں کے خیالات اور گمان غلط ہوگئے تو علماء نے فرائض میں اظہار کو مستحسن قرار دیا تاکہ کسی کے بارے عدم ادائیگی کا گمان نہ کیا جائے۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ قول آثار وروایات کے خلاف ہے اور یہ ہمارے زمانے میں فرض صدقہ اخفا کے مستحسن ہونے کو مشتبہ کرتا ہے اور اس کے مانع کثیر ہیں اور اسے اعلانیہ نکالنا ریا کے لئے پیش کرنا ہوگا۔ ابن خویز منداد نے کہا ہے کہ یہ بھی جائز ہے کہ آیت سے فرض زکوۃ اور نفل صدقہ مراد لیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اخفا کا ذکر کیا ہے اور اس کی مدح کی ہے اور اظہار کا ذکر کیا ہے اور اس کی بھی مدح کی ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ دونوں کی طرف اکٹھا متوجہ ہوا جائے۔ اور نقاش نے کہا ہے : بیشک اس آیت کو اس قول باری تعالیٰ نے منسوخ کردیا ہے : (آیت) ” الذین ینفقون اموالھم بالیل والنھار سرا وعلانیۃ “۔ الآیہ (البقرہ : 274) ترجمہ : جو لوگ خرچ کیا کرتے ہیں اپنے مال رات میں اور دن میں چھپ کر اور علانیہ (تو ان کے لئے ان کا اجر ہے اپنے رب کے پاس) ۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” فنعماھی “۔ یہ اظہار صدقہ پر تعریف ہے، پھر اس پر یہ حکم لگایا کہ اظہار سے اخفا بہتر ہے اسی لئے بعض حکماء نے کہا ہے جب تو نیکی کرے تو اسے مخفی رکھ اور جب تیرے ساتھ نیکی کی جائے تو تو اسے پھیلا “ (اذا اصطنعت المعروف فاسترہ واذا اصطنع الیک فانشرہ) دعبل الخزاعی نے کہا ہے : اذا انتقموا اعلنوا امرھم وان انعموا انعموا باکتتام جب وہ انتقام لیتے ہیں تو اپنے معاملے کا اعلان کرتے ہیں اور اگر وہ نیکی اور احسان کریں تو وہ نیکی خاموشی اور پوشیدہ طور پر کرتے ہیں۔ اور سہل بن ہارون نے کہا ہے : خل اذا جنتہ یوما لتسالہ اعطاک ماملکت کفاہ واعتذرا۔ تو چھوڑ دے جب تو کسی دن مانگنے اور سوال کرنے کے لئے اس کے پاس آئے اس نے تجھے وہ عطا کردیا ہے جس کا تو مالک ہے تو اسے کافی سمجھ اور اس کا عذر قبول کرلے۔ یخفی صنائعہ واللہ یظھرھا ان الجمیل اذا اخفیتہ ظھرا۔ وہ اپنے کارناموں کو چھپاتا ہے اور اللہ تعالیٰ انہیں ظاہر کرتا ہے۔ بلاشبہ نیکی کو جب تو مخفی رکھے تو وہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ نے کہا ہے : کوئی نیکی تین خصلتوں کے سوا مکمل نہیں ہوتی : اسے جلدی کرنا، اسے صغیر سمجھنا اور اسے مخفی رکھنا، جب تو نے اسے جلدی کرلیا تو تو نے اسے حاصل کرلیا اور جب تو نے اسے چھوٹا سمجھا تو تو نے اسے عظیم بنا دیا اور جب تو نے اسے مخفی رکھا تو تو نے اسے مکمل کردیا اور بعض شعراء نے کہا ہے اور خوب اچھا کہا ہے : زاد معروفک عندی عظما انہ عندک مستور حقیر : تیری نیکی میرے نزدیک بہت عظیم اور بڑی ہے بلاشبہ وہ تیرے نزدیک چھپی ہوئی اور حقیر ہے۔ تتناساہ کان لم تاتہ وھو عند الناس مشھور خطیر۔ تو اسے بھلا دیتا ہے گویا تو نے اسے کیا ہی نہیں حالانکہ وہ لوگوں کے نزدیک بہت زیادہ مشہور ہوتی ہے۔ قراء نے قول باری تعالیٰ (آیت) ” فنعماھی “ میں اختلاف کیا ہے، پس ابو عمرو اور نافع نے ورش کی روایت میں، عاصم نے روایت حفص میں اور ابن کثیر نے (آیت) ” فنعماھی “ کو نون اور عین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور ابو عمرو نے بھی اور نافع نے ورش کی روایت کے سوا میں اور عاصم نے ابوبکر اور مفضل کی روایت میں فنعما “ نون کے فتحہ اور عین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور تمام نے میم کو ساکن کیا ہے۔ اور قرآن کے علاوہ دوسرے کلام میں فنعم ماھی “ پڑھنا بھی جائز ہے۔ نحاس نے کہا ہے لیکن چونکہ یہ سواد میں متصل ہے اس لئے ادغام لازم ہے۔ علمائے نحو نے نعم میں چار لغات بیان کی ہیں : نعم الرجل زید “ یہ اصل ہے اور نعم الرجل یعنی عین کے کسرہ کی وجہ سے نون کے کسرہ کے ساتھ اور نعم الرجل یعنی نون کے فتحہ اور عین کے سکون کے ساتھ۔ یہ اصل میں نعم تھا کسرہ کو ثقیل ہونے کی وجہ سے حذف کردیا گیا اور نعم الرجل اور یہ افصح اللغات ہے، اس میں بھی اصل نعم ہے۔ اور یہ ہر مدح اور تعریف کے محل میں واقع ہوتا ہے پھر اس میں تخفیف کی گئی اور عین کا کسرہ نون کو دے دیا گیا اور عین کو ساکن کردیا گیا۔ اور جنہوں نے (آیت) ” فنعماھی پڑھا ہے تو اس کی دو تقدیریں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ یہ ان کی لغت کے مطابق ہو جو نعم کہتے ہیں اور دوسری تقدیر یہ ہے کہ یہ جید اور عمدہ لغت پر ہو۔ پس اصل نعم ہوگا۔ پھر التقائے ساکنین کی وجہ سے عین کو کسرہ دے دیا گیا، نحاس نے کہا ہے کہ ابو عمرو اور نافع سے عین کے ساکن ہونے کے بارے جو قول بیان کیا گیا ہے وہ محال ہے، محمد بن یزد سے بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ اگر عین ساکن ہو اور میم مشدد ہو تو کوئی بھی اسے بولنے کی قدرت نہیں رکھتا بلکہ وہ دو ساکنون کو جمع کرنے کا قصد کرے گا اور حرکت دے گا اور اس کا کوئی بھی انکار نہیں کرتا۔ اور ابو علی نے کہا ہے : جس نے عین کو سکون کے ساتھ پڑھا ہے اس کا قول صحیح نہیں ہے کیونکہ اس نے دو ساکنوں کو جمع کردیا ہے اور ان میں سے پہلا حرف مدولین نہیں ہے اور وہ نحویوں کے نزدیک تب جائز ہوتا ہے جب کہ پہلا حرف مدہ ہو، کیونکہ مد حرکت کے عوض ہوتی ہے اور یہ اسی طرح ہے جیسا کہ دابۃ اور ضوال وغیرہ، شاید ابو عمرو نے حرکت کو مخفی رکھا ہے اور اسے پر کئے بغیر پڑھا ہے، جیسا کہ انہوں نے بارئکم۔۔۔ اور یامرکم میں اخفا کیا ہے اور سامع نے سمع اور خفا میں لطف کے سبب اخفا کو اسکان گمان کرلیا ہے۔ ابو علی نے کہا ہے اور جنہوں نے نعما، نون کے فتحہ اور عین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے تو وہ کلمہ کو اپنے اصل پر لائے ہیں اور اسی سے شاعر کا یہ قول ہے : ما اقلت قدمای انھم نعم الساعون فی الامر المبر۔ میرے قدم کمزور نہیں ہیں بلاشبہ وہ نیکی کے معاملہ میں کوشش اور سعی کرنے والے بہت اچھے ہیں۔ ابو علی نے کہا ہے : قول باری تعالیٰ : نعما “ ، میں مامحل ن ؟ صب میں ہے اور قولہ ھی یہ اس فاعل کی تفسیر ہے جو اس سے پہلے مضمر مذکور ہے، اور تقدیر عبارت نعم شیئا ابداؤ ہ (اسے ظاہر کرنا کتنی اچھی شے ہے) اور الابداء ہی مخصوص بالمدح ہے، مگر مضاف کو حذف کردیا گیا اور مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام رکھ دیا گیا اور اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد (آیت) ” فھو خیرلکم “ دلالت کرتا ہے یعنی الاخفاء خیر، بس جس طرح یہاں ضمیر اخفا کے لئے ہے صدقات کے لئے نہیں ہے، پس اسی طرح پہلا فاعل وہ الابداء ہے اور وہی ہے جس کے ساتھ ضمیر متصل ہے، پھر الابداء کو حذف کردیا گیا اور صدقات کی ضمیر کو اسی کی مثل اس کی جگہ رکھ دیا گیا۔ ’(آیت) ” وان تخفوھا “ یہ شرط ہے، اسی لئے نون کو حذف کردیا گیا ہے۔ اور وتؤتوھا کو اس پر عطف کیا گیا ہے اور جواب شرط (آیت) ” فھو خیرلکم “۔ ہے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ویکفر “ قراء نے اس کی قرات میں اختلاف کیا ہے پس ابو عمرو ابن کثیر اور عاصم نے ابوبکر کی روایت میں، قتادہ اور ابن ابی اسحاق تمام نے ونکفر نون اور را کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور (نافع) ، حمزہ اور کسائی نے نون کے ساتھ اور را کو جزم کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح حضرت عاصم سے بھی مروی ہے اور حسین بن علی الجعفی نے اعمش سے روایت کیا ہے (آیت) ” ویکفر “ یعنی را کو منصوب پڑھا ہے، ابن عامر نے یا کے ساتھ اور را کو مرفوع پڑھا ہے اور اسے حفص نے عاصم سے روایت کیا ہے اور اسی طرح حسن سے بھی مروی ہے اور ان سے یا اور جزم کے ساتھ بھی روایت کیا گیا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے وتکفر یعنی تا کے ساتھ، فا کو کسرہ کے ساتھ اور را کو جزم کے ساتھ پڑھا ہے، اور عکرمہ نے وتکفر پڑھا ہے یعنی تا کے ساتھ اور فا کو مفتوح اور را کو مجزوم، اور مہدوی نے ابن ہرمز سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے وتکفر تا کے ساتھ اور را کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور عکرمہ اور شہر بن حوشب سے بیان کیا گیا ہے کہ ان دونوں نے تا کے ساتھ اور را کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے پس یہ نو قراتیں ہیں میں انہیں بیان کرتا ہوں۔ ’ ونکفر یعنی نون اور رفع کے ساتھ، یہ امام خلیل (رح) اور سیبویہ (رح) کا قول ہے، نحاس نے بیان کیا ہے کہ سیبویہ نے کہا ہے کہ یہاں رفع کی ایک ہی وجہ ہے اور وہی جید اور عمدہ ہے کیونکہ فا کے بعد کلام غیر جزا کے قائم مقام ہوتا ہے اور معنی پر محمول کرتے ہوئے انہوں نے جزم کو جائز قرار دیا ہے کیونکہ معنی یہ ہے : وان تخفوھا وتؤتوھا الفقراء یکن خیرالکم ونکفر عنکم “ (اور اگر تم صدقوں کو پوشیدہ رکھو اور انہیں فقیروں کو دو تو وہ تمہارے لئے بہتر ہوگا اور ہم تم سے بعض گناہ مٹا دیں گے) اور ابو حاتم نے کہا ہے : اعمش نے پڑھا ہے یکفر یا کے ساتھ پڑھا ہے اور اس سے پہلے واؤ نہیں ہے۔ نحاس نے کہا ہے : وہ جو ابو حاتم نے اعمش سے بغیر واؤ کے جزم کے ساتھ بیان کیا ہے تو وہ بدل کے طور پر ہے گویا وہ فا کے محل میں ہے اور وہ جو عاصم سے ویکفر یا اور رفع کے ساتھ مروی ہے اس کا معنی ہے ” ویکفر اللہ ‘ (اور اللہ تعالیٰ مٹا دے گا) اور ابو عبید کا قول ہے۔ اور ابو حاتم نے کہا ہے : اس کا معنی ہے یکفر الاعطاء (یعنی صدقہ دینا مٹا دے گا) اور حضرت ابن عباس ؓ نے ” تکفر “ پڑھا ہے اس کا معنی ہوگا اور صدقات مٹا دیں گے۔ المختصر یہ کہ ان قراتوں میں سے جو نون کے ساتھ ہیں تو وہ نون نون عظمت ہے اور جو تا کے ساتھ ہیں تو ان سے مراد صدقہ ہے، پس تو اسے یاد کرلے، سوائے اس کے جو عکرمہ سے فا کے فتحہ کے ساتھ مروی ہے کیونکہ اس قرات میں تا وہ سیئات کے لئے ہے اور ان میں سے جو قرات یا کے ساھ ہے تو اس میں مٹانے والا اللہ تعالیٰ ہے، اور خفیۃ صدقہ دینا بھی انہیں مٹانے والا ہے اسے مکی نے بیان کیا ہے۔ اور رہا را کا رفع تو اس کی دو وجہیں ہیں : ان میں سے ایک یہ ہے کہ فعل مبتدا کی خبر ہو اور تقدیر کلام ہو : ” ونحن کفر یا وھی تکفر، یعنی صدقہ مٹا دے گا۔ یا واللہ یکفر (اور اللہ تعالیٰ مٹا دے گا) اور دوسری وجہ قطع اور استئناف ہے واؤ عاطفہ اشتراک کے لئے نہ ہوگی بلکہ جملہ کلام کو جملہ پر عطف کیا جائے گا، اور ہم نے جزم کی قرات کا معنی ذکر کردیا ہے اور جہاں تک نصب کا تعلق ہے ” ونکفر “ تو یہ ضعیف ہے اور یہ ان مضمرہ کی بنا پر ہے اور یہ بعد کی بنا پر جائز ہے، مہدوی نے کہا ہے : یہ جواب استفہام میں نصب کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے، کیونکہ جزا کے ساتھ غیر کے وجوب کے سبب شے واجب ہوتی ہے جیسا کہ استفہام۔ ان قراءتوں میں را پر جزم افصح ہے، کیونکہ یہ تکفیر کے جزا میں داخل ہونے کی خبر دیتی ہے اور اس کے مشروط ہونے کی (اس شرط کے ساتھ) کہ اگر اخفا واقع ہو اور جہاں تک رفع کا تعلق ہے تو اس میں یہ معنی نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ وہ اختلاف ہے جسے خلیل اور سیبویہ نے اختیار کیا ہے۔ اور قول باری تعالیٰ (آیت) ” من سیاتکم “ میں من صرف تبعیض کے لئے ہے، اور علامہ طبری نے ایک جماعت سے بیان کیا ہے کہ یہ زائدہ ہے، ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ ان سے خطا ہوئی ہے (آیت) ” واللہ بما تعملون خبیر “۔ یہ وعدہ بھی ہے اور وعید بھی۔