2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayahs 2:63–64

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:63 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم سے عہد (کر) لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اس کو زور سے پکڑے رہو اور جو اس میں (لکھا ہے) اسے یاد رکھو تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 2:64 in the Quran reader

تو تم اس کے بعد (عہد سے) پھرگئے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اسکی مہربانی نہ ہوتی تو تم خسارے میں پڑگئے ہوتے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذاخذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور یہ آیت واذنتقنا الجبل فوقھم کا نہ ظلۃ ٌ کے معنی کی تفسیر ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : ہم نے پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہلایا اور ہم نے اسے اپنی جگہ سے نکالا (1) ۔ فرمایا : ہر وہ چیز جسے تو اکھیڑے اور اسے پھینکے تو اس کے لئے نتقتہ کا لفظ استعمال کرے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : نتقناہ کا معنی ہے : رفعناہ۔ ابن اعرابی نے کہا : الناتق کا معنی الرافع ہے۔ الناتق الباسط، الناتق الفاتق، امرءۃ ناتق ومنتاق ایسی عورت جس کی اولاد ہو۔ قتبی نے کہا یہ نتق السقاء سے مشتق کیا گیا ہے جس کا معنی ہے : مشکیزہ کو ہلانا حتیٰ کہ اس سے مکھن علیحدہ ہوجائے اور واذ نتقنا الجبل فوقھم کا نہ ظلۃ کا مطلب ہے اصل سے اکھیڑا گیا۔ (2) الطور کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ اس پہاڑ کا نام ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمائی تھی اور اس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عطا فرمائی تھی۔ یہ ابن جریج نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ طور وہ پہاڑ ہے جو کچھ اگائے، نہ کہ وہ پہاڑ جو کچھ نہ اگائے۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا : یعنی یہ پہاڑ تھا۔ مگر مجاہد نے کہا : یہ سریانی زبان میں ہر پہاڑ کو کہتے ہیں۔ یہ ابو العالیہ کا قول ہے (3) ۔ کتاب کے مقدمہ میں کلام گزر چکی ہے کہ قرآن حکیم میں غیر عربی زبان کے مفرد الفاظ موجود ہیں یا نہیں۔ الحمد للہ۔ بکری نے کہا : طور بن اسماعیل (علیہ السلام) کی وجہ سے اسے طور کہا جاتا ہے۔ طور پہاڑ کے اٹھانے کے بارے میں علماء کے اقوال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب نبی اسرائیل کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے تختیاں لے کر آئے جن میں تورات تھی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا : اس کو لے لو اور اس کو لازم پکڑ لو۔ انہوں نے کہا : نہیں مگر یہ کہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہم سے اسی طرح کلام کرے جس طرح تجھ سے اللہ تعالیٰ نے کلام کی۔ پس ان پر بجلی گرائی گئی پھر انہیں زندہ کیا گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا : اس کو پکڑ لو۔ انہوں نے کہا : نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو حکم دیا تو انہوں نے فلسطین کے پہاڑوں سے ایک پہاڑا کھیڑا جس کی لمبائی چوڑائی ایک فرسخ تھی۔ بنی اسرائیل کا لشکر اتنا ہی تھا۔ پس اسے ان پر چھتری کی مثل کردیا گیا اور ان کے پیچھے سے سمندر اور آگے سے آگ کو لایا گیا، انہیں کہا گیا : اب اس کتاب کو پکڑو اور تم پر عہد لازم ہے کہ تم اسے ضائع نہیں کروگے ورنہ تم پر پہاڑ آپڑے گا۔ تو بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ سے توبہ کرتے ہوئے سجدوں میں گر گئے اور تورات کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ طبری نے بعض علماء سے روایت کیا ہے (4) ۔ اگر وہ پہلی دفعہ تو رات کو لے لیتے تو ان پر میثاق نہیں تھا اور بنی اسرائیل کا سجدہ پیشانی کی ایک طرف پر تھا کیونکہ وہ خوف کی وجہ سے پہاڑ کو دوسری طرف سے دیکھ رہے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا تو انہوں نے کہا : کوئی سجدہ اس سجدہ سے افضل نہیں ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرمایا۔ پس انہوں نے ایک طرف پر سجدہ کا حکم دیا۔ ابن عطیہ نے کہا : وہ قول جس کے سوا کوئی قول صحیح نہیں ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سجدہ کے وقت ان کے دلوں میں ایمان پیدا فرما دیا تھا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مجبوراً ایمان لائے تھے اور ان کے دل مطمئن نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : خذوا یعنی ہم نے حکم دیا کہ اس کو پکڑ لو۔ ما اتینکم محذوف ہے بقوۃٍ یعنی کوشش اور محنت سے۔ یہ حضرت ابن عباس، حضرت قتادہ اور سدی کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے : نیت اور اخلاص کے ساتھ۔ مجاہد نے کہا : قوۃ سے مراد ہے اس میں جو احکامات ہیں ان پر عمل کرنے کے ساتھ۔ بعض نے فرمایا : بقوۃٍ یعنی کثرت سے پڑھنے کے ساتھ واذکروا ما فیہ یعنی غوروفکر کرو، اس کے اوامر اور وعید کی حفاظت کرو اور یاد کرو اور اس کو بھولو نہیں اور اس کو ضائع نہ کرو۔ میں کہتا ہوں : کتب سے یہ مقصود ہے ان کے مقتضاء کے مطابق عمل کرنا، نہ صرف زبان سے تلاوت کرنا اور ترتیل سے پڑھنا، کیونکہ صرف زبان سے پڑھنا اور عمل نہ کرنا تو بنذ ٌ (پھینکنا) کے زمرہ میں آتا ہے جیسا کہ شعبی اور ابن عینیہ نے کہا ہے ان دونوں حضرات کا قول نبذ فریقٌ من الذین اوتوا الکتب (البقرہ :101) کے تحت آئے گا۔ نسائی نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگوں میں سے فاسق شخص وہ ہے جو قرآن پڑھتا ہے اور اس میں سے کسی حکم کی طرف رجوع نہیں کرتا (یعنی احکام پر عمل پیرا نہیں ہوتا) ۔ نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا کہ مقصود عمل کرنا ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، امام مالک نے فرمایا : بعض اوقات وہ شخص قرآن پڑھتا ہے جس میں خیر نہیں ہوتی (یعنی صرف پڑھتا ہے عمل نہیں کرتا) ۔ پس جو ہم سے پہلے لوگوں پر لازم تھا اور ان سے مطالبہ کیا گیا تھا وہ ہم پر بھی لازم اور واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتبعوا احسن ما انزل الیکم من ربکم (الزمر : 55) اس میں اپنی کتاب کی اتباع اور اس کے مقتضاء کے مطابق عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن ہم نے بھی عمل اسی طرح ترک کردیا ہے جس طرح یہود ونصاری نے ترک کردیا تھا۔ صرف کتابوں اور مصاحف کی ذوات باقی ہیں جو کچھ مفید نہیں کیونکہ جہالت، ریاست کی طلب اور خواہش نفس کی اتباع کا غلبہ ہے۔ ترمذی نے جبیر بن نفیر سے، انہوں نے حضرت ابو درداء سے روایت کیا ہے، فرمایا : ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، آپ ﷺ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی۔ پھر کہا : یہ وہ وقت ہے جس میں لوگوں سے علم اٹھا لیا جائے گا حتیٰ کہ وہ علم میں سے کسی چیز پر قادر نہ ہوں گے۔ زیاد بن لبید انصاری نے عرض کی : ہم سے علم کیسے اٹھا لیا جائے گا جبکہ ہم نے قرآن پڑھا۔ اللہ کی قسم ! ہم قرآن پڑھتے رہیں گے اور ہم اپنی عورتوں اور بیٹوں کو پڑھائیں گے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے زیاد ! تجھ پر تیری ماں روئے کہ میں تو تجھے فقہائے مدینہ سے شمار کرتا تھا۔ یہ تورات انجیل یہود ونصاریٰ کے پاس موجود ہیں ان کو یہ کچھ فائدہ دیتی ہیں (1) ۔ یہ حدیث تفصیل سے آگے آئے گی۔ نسائی نے جبیر بن نفیر عن عوف بن مالک الاشجعی کے سلسلہ صحیحہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے زیاد کو فرمایا : اے زیاد ! تیری ماں تجھ پر روئے۔ یہ تورات، انجیل یہود و نصاری کے پاس موجود ہیں۔ مؤطا میں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے، انہوں نے ایک شخص کو فرمایا : تو ایک ایسے زمانہ میں ہے جس میں فقہاء کثیر ہیں، قراء قلیل ہیں اس میں قرآن کی حدود کی حفاظت کی جاتی ہے اور حروف کی ادائیگی کا اتنا خیال نہیں رکھا جاتا، سوال کرنے والے تھوڑے ہیں، عطا کرنے والے بہت ہیں، لوگ نماز لمبی پڑھتے ہیں، خطبہ چھوٹا دیتے ہیں، اپنی خواہشات سے پہلے اعمال خیر کا آغاز کرتے ہیں۔ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں فقہاء کم ہوں گے، قراء زیادہ ہوں گے، اس میں حروف کی حفاظت کی جائے گی اور اس کی حدود کو ضائع کیا جائے گا، سوال کرنے والے زیادہ ہوں گے اور عطا کرنے والے کم ہوں گے، خطبے لمے دیں گے اور نمازیں مختصر کریں گے، اپنے اعمال سے پہلے خواہش نفسل پر عمل کریں گے (1) ۔ یہ نصوص ہماری اس بات پر دلالت کرتی ہیں جو ہم نے ذکر کی ہے۔ یحییٰ نے کہا : ابن نافع سے میں نے یبدءون اھوائھم قبل اعمالھم کا مطلب پوچھا تو انہوں نے کہا لوگ اپنی خواہش نفس پر عمل کریں گے اور اس عمل کو ترک کریں گے جو ان پر فرض ہے۔ لعلکم تتقون پر پہلے کلام گزر چکی ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم تولیتیم، تولی باب تفعل ہے اس کا اصل معنی جس میں سے کسی چیز سے اعراض کرنا اور پیٹھ پھیرنا ہے، پھر یہ وسعت ومجاز کی وجہ سے اوامر، ادیان اور معتقدات میں سے اعراض میں استعمال ہوتا ہے۔ من بعد ذلک یعنی دلیل کے بعد۔ وہ میثاق کا لینا اور پہاڑ کو بلند کرنا ہے۔ فلو لا فضل اللہ علیکم، فضل سیبویہ کے نزدیک مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور خبر محذوف ہے جس کا اظہار جائز نہیں کیونکہ اس کے اظہار سے مستغنی ہوتے ہیں مگر یہ کہ جب وہ اس کے اظہار کا ارادہ کرتے ہیں تو ان کے ساتھ لاتے ہیں جب وہ ان کے ساتھ لاتے ہیں تو خبر کو حذف نہیں کرتے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے : فلولا فضل اللہ تدارککم۔ لکنتم یہ لو لا کا جواب ہے من الخسرین، کنتم کی خبر ہے۔ الخسران کا معنی نقصان ہے یہ پہلے گزر چکا ہے۔ بعض علماء نے کہا : اس کا فضل یہ ہے کہ توبہ قبول کرنا۔ اور رحمتہ سے مراد العفو ہے اور الفضل سے مراد ثابت شدہ پر زیادتی ہے۔ الافضال ایسا فعل کرنا جو واجب نہ ہو۔ ابن فارس نے المجمل میں کہا : الفضل سے مراد زیادتی اور خیر ہے۔ الافضال کا مطلب الاحسان ہے۔
Ayah 2:65

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کو خوب جانتے ہو جو تم میں سے ہفتے کے دن (مچھلی کا شکار کرنے) میں حد سے تجاوز کر گئے تھے تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل و خوار بندر ہوجاؤ

آیت نمبر 65 اس میں سات مسائل ہیں (٭) ۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد علمتم الذین اعتدوا منکم فی السبت، علمتم اس کا معنی ہے : تم نے ان کے اعیان (اشخاص) کو پہچان لیا۔ بعض علماء نے فرمایا : تم ان کے احکام جان چکے ہو، ان دونوں (علم اور معرفت) میں فرق یہ ہے کہ معرفت ذات مسمیٰ کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور علم مسمیٰ کے احوال کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ جب تو کہتا ہے کہ عرفت زیداً اس سے مراد ہے میں نے زید کی شخصیت کو پہچان لیا۔ جب تو کہتا ہے : علمت زیداً اس سے مراد اس کے احوال (فضل یا نقص) وغیرہ کو جان لیا۔ پہلی صورت میں ایک فعل کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ یہ سیبویہ کا قول ہے اور علمتم بمعنی عرفتم ہے اور دوسری صورت میں دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ اخفش نے حکایت کیا ہے : لقد علمت زیداً ولم اعلمہ، اس میں ایک مفعول کی طرف متعدی ہے، قرآن حکیم میں ہے : لا تعلمونھم اللہ یعلمھم۔ یہ تمام معرفت کے معنی میں ہیں۔ اعتدوا منکم فی السبت، الذین کا صلہ ہے۔ الاعتداء کا معنی حد سے تجاوز کرنا ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر 2: نسائی نے حضرت صفوان بن عسال سے روایت کیا ہے، فرمایا : ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا : ہم اس نبی کے پاس چلیں۔ دوسرے ساتھی نے کہا : نبی نہ کہو اگر اس نے تجھے (یہ کہتے ہوئے) سن لیا تو اس کی چار آنکھیں ہوجائیں گی۔ (یعنی بہت خوش ہوگا) ۔ وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے نو آیات بینات کے بارے پوچھا۔ آپ ﷺ نے ان سے کہا : اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، چوری نہ کرو، زنانہ کرو، اس نفس کو قتل نہ کرو جس کا قتل نہ کرو جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ، کسی بری شخص کو سلطان (بادشاہ) کے پاس نہ لے جاؤ، کسی کا تمسخر نہ اڑاؤ، سود نہ کھاؤ، کسی پاکدامنہ پر بہتان نہ لگاو، جنگ کے دن پیٹھ نہ پھیرو اور اے یہودیو ! خاص تمہارے لئے کہ تم ہفتہ کے دن (کے احکام سے) تجاو نہ کرو۔ پس انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ہاتھ اور پاؤں چومے اور انہوں نے کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ تم نبی ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا : پھر تمہیں میری اتباع کرنے سے کون سی چیز مانع ہے ؟ انہوں نے کہا : حضرت داؤد (علیہ السلام) نے دعا مانگی تھی کہ ان کی اولاد سے ہمیشہ نبی ہو۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ ہم آپ کی اتباع کریں گے تو یہود ہمیں قتل کردیں گے۔ اس حدیث کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس کے الفاظ سورة سبحان میں انشاء اللہ آئیں گے۔ مسئلہ نمبر 3: فی السبت اس کا معنی فی یوم السبت ہے، (یعنی ہفتہ کے دن میں ) ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مراد ہفتہ کے دن کا حکم ہو (1) ۔ پہلا قول حسن کا ہے۔ انہوں نے حلال سمجھنے کی جہت سے اس میں مچھلیاں پکڑی تھیں۔ اشہب نے مالک سے روایت کیا ہے، فرمایا : ابن رومان نے کہا : ایک شخص ایک دھاگہ لیتا تھا اور اس میں ایک ایسی رسی لگاتا تھا جو جانور کی گردن میں ڈالی جاتی ہے پھر اسے مچھلی کے دم میں ڈالتا تھا اور دھاگے کی دوسری طرف ایک کیل ہوتا تھا، وہ اتوار کے دن تک اسے اسی طرح چھوڑے رکھتا تھا پھر جب لوگوں نے یہ دیکھا کہ ایسا کرنے والے کو کسی مصیبت میں گرفتار نہیں کیا گیا تو عام لوگ بھی ایسا کرنے لگے۔ حتیٰ کہ مچھلی کا شکار ہفتہ کے دن میں زیادہ ہوگیا اور مچھلیاں بازار میں آنے لگیں اور فاسق لوگوں نے شکار کا اعلان کردیا۔ ایک فرقہ اٹھا، انہوں نے ایسے لوگوں کو منع کیا اور برسر منبرا نہیں منع کیا اور ایسا کرنے والوں سے جدا ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ منع کرنے والوں نے کہا : ہم تمہارے ساتھ نہیں رہیں گے۔ پس انہوں نے ایک دیوار کے ساتھ شہر کو تقسیم کردیا۔ ایک دن منع کرنے والے اپنی مجلس میں تھے کہ حد سے تجاوز کرنے والوں میں سے کوئی باہر نہ نکلا، انہوں نے کہا : لوگوں کو کچھ ہوگیا ہے۔ انہوں نے دیوار پر چڑھ کر دیکھا تو وہ بند ربنے ہوئے تھے۔ انہوں نے دروازہ کھولا اور ان کے پاس گئے۔ پس بندروں کا نسب انسان سے جانا گیا ہے، لیکن انسان کا نسب بندروں سے معروف نہیں۔ وہ بندر اپنے خاندان والوں میں سے کسی انسان کے پاس آتے، اس کے کپڑے سونگھتے اور رونے لگتے۔ وہ اسے کہتا : کیا ہم نے تمہیں منع نہیں کیا تھا وہ سر سے اشارہ کر کے کہتے : ہاں (1) ۔ قتادہ نے کہا : نوجوان بندر بن گئے تھے، بوڑھے خنزیر بن گئے تھے صرف منع کرنے والے بچے تھے باقی سب ہلاک ہوگئے تھے (2) ۔ ان لوگوں کا قول سورة اعراف میں آئے گا جنہوں نے کہا تھا کہ وہ تین گروہوں میں تھے، اور یہ قول ان لوگوں کے قول سے زیادہ صحیح ہے جنہوں نے کہا : ان کے دو گروہ تھے۔ واللہ اعلم۔ السبت، السبت سے ماخوذ ہے جس کا معنی کاٹنا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : ہفتہ کے دن میں اشیاء جدا کی گئی تھیں اور ان کی خلقت مکمل ہوئی تھی۔ بعض نے فرمایا : یہ السبوت سے مشتق ہے جس کا معنی راحت اور سکون ہے۔ (3) علماء کا مسخ شدہ امت کے بارے میں اختلاف ہے کہ کیا ان کی نسل چلی ہے یا نہیں۔ علماء کے دو قول ہیں : زجاج نے کہا : ایک قوم کا خیال ہے کہ یہ جائز ہے کہ یہ بندر ان لوگوں میں سے ہوں۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے اس کو اختیار کیا ہے۔ جمہور علماء نے کہا : مسخ شدہ امت کی نسل باقی نہیں چلی۔ رہے بندر اور خنازیر وغیرہما اس سے پہلے بھی موجود تھے اور جن کو اللہ تعالیٰ نے مسخ کیا تھا وہ ہلاک ہوگئے تھے اور ان کی نسل باقی نہیں رہی تھی کیونکہ انہیں سخط اور عذاب لاحق ہوا تھا ان کے لئے دنیا میں تین دن کے بعد قرار نہیں تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : کوئی قوم جو مسخ کی گئی تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہی، نہ اس نے کھایا، نہ پیا اور نہ ان کی نسل چلی (4) ۔ ابن عطیہ نے کہا (5): نبی کریم ﷺ سے مروی ہے اور ثابت ہے کہ مسخ شدہ کی نہ نسل چلی، نہ کھایا اور نہ پیا اور نہ تین دن سے زیادہ زندہ رہے۔ میں کہتا ہوں : یہ قول دونوں قولوں میں صحیح ہے اور ابن عربی وغیرہ نے پہلے قول کی صحت پر نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد سے حجت پکڑی ہے۔ بنی اسرائیل کی ایک امت مفقود ہوگئی۔ معلوم نہیں اس کا کیا ہوا میں نے نہیں دیکھا مگر وہ چوہیا ہے کیا تم اسے دیکھتے نہیں کہ جب اس کے سامنے اونٹنی کا دودھ رکھا جائے تو یہ اسے نہیں پیتی اور اس کے سامنے بکری کا دودھ رکھا جائے تو پی لیتی ہے (6) ۔ یہ مسلم نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے اور دوسری حجت گوہ والی حدیث ہے جو مسلم نے حضرت ابو سعید اور حضرت جابر سے روایت کی ہے۔ حضرت جابر نے کہا : نبی کریم ﷺ کے پاس گوہ لائی گئی تو آپ نے اسے کھانے سے انکار کردیا اور فرمایا : میں نہیں جانتا شاید یہ ان قوموں سے ہو جو مسخ کی گئیں۔ یہ روایات منقول ہیں جیسا کہ آگے آئے گا۔ ابن عربی نے کہا : بخاری میں عمرو بن میمون سے مروی ہے، انہوں نے کہا : میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندر یا کو دیکھا جس نے زنا کیا تھا۔ بندروں نے اسے رجم کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ اسے رجم کیا۔ یہ بخاری کے بعض نسخوں میں ثابت ہے اور بعض میں ساقط ہے۔ حدیث کی نص میں ثابت ہے (اس نے زنا کیا) یہ لفظ بعض سے ساقط ہے۔ ابن عربی نے کہا : اگر کہا جائے کہ چوپائیوں میں شریعت کی پہچان باقی ہے حتیٰ کہ وہ نسل در نسل ان احکام کے وارث بنتے رہے حتیٰ کہ عمرو کے زمانہ تک پہنچے ؟ ہم کہیں گے : ہاں، اسی طرح تھا کیوں کہ یہود نے رجم میں تبدیلی کی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے مسخ شدہ لوگوں میں اس کو قائم رکھا تاکہ ان لوگوں پر حجت میں مبالغہ ہوجائے جنہوں نے اس کا انکار کیا اور اسے تبدیل کیا تاکہ ان کی کتب اور ان کے علماء اور ان کی مسخ شدہ قومیں ان کے خلاف گواہی دیں تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بھی جانتا ہے جو چھپاتے ہیں اور جو اعلان کرتے ہیں اور وہ سب شمار کیا جا رہا ہے جو وہ تغیر وتبدل کرتے ہیں ان پر حجت قائم فرمائی جہاں سے اسے قیام کا انہیں تصور بھی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی مدد فرماتا ہے اور ان کی مدد نہیں کی جاتی (1) ۔ میں کہتا ہوں : یہ ابن عربی کا کلام احکام میں ہے اور اس میں کوئی حجت نہیں ہے۔ انہوں نے جو عمرو میمون کا قصہ ذکر کیا ہے حمیدی نے جمع صحیحین میں ذکر کیا ہے۔ ابو مسعود الد مشقی نے حکایت کیا ہے کہ عمرو بن میمون الاودی کی صحیحین میں حصین کی روایت سے حکایت ہے، عمرو نے کہا : میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندریا دیکھی جس پر دوسرے بندر جمع ہوئے اور اسے رجم کیا میں نے بھی ان کے ساتھ اسے رجم کیا۔ اسی طرح حضرت ابو مسعود نے حکایت کیا ہے، اس نے ذکر نہیں کیا کہ کسی جگہ بخاری نے اپنی کتاب میں اس کو نقل کیا ہے ہم نے اس کے متعلق کوشش کی تو ہم نے اسے بعض نسخوں میں پایا نہ کہ تمام نسخوں میں۔ امام بخاری نے اسے “ کتاب ایام الجاہلیہ ” میں ذکر کیا ہے اور نعیمی عن الفربری کی روایت میں بندروں کے بارے میں اس خبر کی کوئی اصل نہیں ہے۔ شاید یہ کتاب البخاری میں مقحمات (گھسیڑی گئی روایات) میں سے ہے اور وہ جو بخاری نے “ تاریخ کبیر ” میں ذکر کیا ہے مجھے نعیم بن حماد نے کہا : ہمیں ہشیم نے ابو بلج سے اور حصین نے عمرو بن میمون سے روایت کر کے بتایا کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندریا دیکھی جس پر بندر جمع تھے انہوں نے اسے رجم کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ اسے رجم کیا۔ اس روایت میں قدزنت۔ (اس نے زنا کیا) کے الفاظ نہیں ہیں اگرچہ روایت صحیح ہو تو امام بخاری نے اسے اس بات پر دلالت کرنے کے لئے روایت کیا کہ عمرو بن میمون نے زمانہ جاہلیت پایا ان کے گمان کی کوئی پرواہ نہیں جو انہوں نے زمانہ جاہلیت کے بارے میں کیا۔ ابو عمرو نے “ الاستیعاب ” میں حضرت عمرو بن میمون کا ذکر کیا ہے ان کی کنیت ابو عبد اللہ ہے کو فیوں میں سے بڑے تابعین میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں بندروں کا رجم دیکھا تھا اگر یہ صحیح ہو کیونکہ اس کے راوی مجہول ہیں۔ بخاری نے نعیم عن ھشیم عن حصین عن عمرو بن میمون الاودی کے سلسلہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندریا دیکھی جس نے زنا کیا تھا پھر بندروں نے اسے رجم کیا تھا میں نے بھی ان کے ساتھ اسے رجم کیا تھا۔ اس کو عباد بن العوام نے حصین سے روایت کیا جس طرح ہشیم نے مختصراً روایت کیا۔ اور رہا یہ قصہ اپنے طول کے ساتھ تو وہ عبد الملک بن مسلم عن عیسیٰ بن خطان پر گھومتا ہے جو دونوں استاد، شاگرد قابل حجت نہیں ہیں۔ یہ اہل علم کی جماعت کے نزدیک منکر ہے کہ زنا کی اضافت غیر مکلف کی طرف کی گئی ہے اور اس میں حدود کو حیوانوں پر قائم کیا گیا ہے۔ اگر یہ صحیح ہو تو یہ جنوں میں سے ہوں گے دوسرے حیوان نہ ہوں گے۔ رہا حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں حضور ﷺ کا ارشاد میں نے نہیں دیکھا۔ چوہے اور گوہ کے بارے میں فرمایا : میں نہیں جانتا شاید یہ ان قوموں میں سے ہو جو مسخ کی گئی تھی اور اس کی مثل دوسری مثالیں۔ یہ ظن اور خوف کی بنا پر فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ گوہ اور چوہے وغیرہما مسخ شدہ سے ہوں۔ یہ نبی کریم ﷺ نے وحی آنے سے پہلے اپنی طرف سے اظہار فرمایا، جب وحی آگئی تو یہ خوف زائل ہوگیا اور جان لیا کہ گوہ اور چوہے مسخ شدہ قوموں میں سے نہیں ہیں۔ وحی کے آنے کے بعد ہمیں اپنے ارشاد میں بتایا جب آپ سے پوچھا گیا بندروں اور خنازیر کے متعلق کہ کیا یہ مسخ شدہ قوموں میں سے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : کسی قوم کو ہلاک نہیں کیا یا عذاب نہیں دیا پھر ان کی نسل چلائی۔ بندر اور خنازیر اس سے پہلے موجود تھے۔ یہ نص صحیح صریح ہے اسے حضرت عبد اللہ بن مسعود نے روایت کیا ہے اور اسے مسلم نے کتاب القدر میں نقل کیا ہے اور نصوص ثابت ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی موجودگی اور آپ کے دستر خوان پر گوہ کھائی گئی اور آپ نے انکار نہیں فرمایا۔ جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے یہ اس کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ہماری توفیق ہے۔ مجاہد سے اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ صرف ان کے دل مسخ کیے گئے اور ان کے افہام، بندروں کے افہام جیسے بنا دئیے گئے (1) ، میری معلومات کے مطابق کسی اور مفسر نے یہ نہیں کہا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فقلنا لھم کونوا قردۃً ، قردۃً کان کی خبر ہے۔ خسئین اس کی صفت ہے، اگر تو چاہے تو اسے کان کی خبر بنا دے یا کونوا میں ضمیر سے حال بنا دے اور خسئین کا معنی مبعدین دور کئے گئے ہے۔ کہا جاتا ہے : فخسأ و خسئ وانخساً یعنی میں اسے دور کیا تو وہ دور ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ینقلب الیک البصر خاسئاً (الملک : 4) (لوٹ آئے گی تیری طرف (تیری) نگاہ ناکام ہو کر) اخسئوا فیھا۔ یعنی اس میں دور چلے جاؤ۔ تباعد کا معنی ناراض ہونا ہے۔ کسائی نے کہا : خساً الرجل خسؤاً ۔ وخساتہ خساً ، اس صورت میں الخاسئی کا معنی گھٹیا اور رسوا ہوگا۔ کہا جاتا ہے : قمؤ الرجل قمائً وقماءۃ صارقمیئاً یعنی ذلیل و خوار ہوا۔ اقمأتہ میں نے اسے رسوا و ذلیل کیا فھو قمیئی، فعیل کے وزن پر ہے۔
Ayah 2:66

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:66 in the Quran reader

اور اس قصے کو اس وقت کے لوگوں کے لئے اور جو ان کے بعد آنے والے تھے عبرت اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت بنادیا

آیت نمبر 66 اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فجعلنھا نکالاً مفعول ثانی کی بنا پر نکالاً منصوب ہے اور عبرت بنانے میں کئی اقوال ہیں۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد سزا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد شہر ہے کیونکہ کلام کا معنی اس کا تقاضا کرتا ہے، بعض نے فرمایا : امت جو مسخ کی گئی، بعض نے فرمایا : مچھلیاں۔ اس قول میں بعد ہے۔ النکال کا معنی زجر اور عقاب ہے۔ النکل والانکال، اس سے مراد بیڑیاں ہیں (2) ۔ بیڑیوں کو انکال کہتے ہیں کیونکہ یہ آدمی کو روکتی ہیں۔ بھاری لگام کو نکل اور نکل کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جانور کو روکتی ہے نکل عن الامر ینکل ونکل ینکل جب کوئی رک جائے۔ التنکیل، دشمن کو ایسی تکلیف پہنچانا کہ دوسرے لوگوں کو وہ روک دے۔ الازہری نے کہا : النکال سے مراد عقوبت ہے۔ ابن درید نے کہا : المنکل وہ چیز جو انسان کو روک دے۔ فارم علی اقفائھم بمنکل۔ تو ان کو گدیوں پر روکنے والی چیز سے مار۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : لما بین یدیھا حضرت ابن عباس اور سدی نے کہا : اس سے مراد اس قوم کے پہلے گناہ ہیں۔ وما خلفھا جو ان کے بعد اس قسم کے گناہ کرے گا۔ فراء نے کہا : مسخۃ کو گزشتہ گناہوں کی وجہ سے عبرت اور سزا بنایا گیا اور جو ان کے بعد عمل کرنے والے ہیں تاکہ وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے مسخ سے ڈریں۔ ابن عطیہ نے کہا (1): یہ عمدہ قول ہے اور دونوں ضمیریں عقوبت کے لئے ہیں۔ حکم نے مجاہد سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ اس سے مراد جو لوگ موجود تھے اور جو بعد میں آنے والے تھے (2) ۔ نحاس نے اس قول کو اختیار کیا ہے اور کہا : یہ معنی کے زیادہ قریب ہے۔ واللہ اعلم حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ لما بین یدیھا اور ما خلفھا سے مراد شہر ہیں (3) ۔ قتادہ نے کہا لما بین یدیھا سے مراد ان کے گناہ ہیں اور ما خلفھا سے مراد مچھلیوں کا شکار ہے۔ (4) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وموعظۃ ً للمتقین اس کا عطف نکال پر ہے اس کا وزن مفعلۃ ہے یہ اتعاظ سے اور انز جار سے ہے۔ الوعظ کا معنی ڈرانا ہے۔ العظۃ اسم ہے۔ خلیل نے کہا : الوعظ سے مراد خیر کی ایسی نصیحت کرنا جس کے لئے دل نرم ہوجائے۔ الماوردی نے کہا : المتقین کو نصیحت کے لئے خاص کیا گیا ہے اگرچہ یہ تمام لوگوں کے لئے نصیحت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر معاندین سے متقین نصیحت قبول کرنے میں منفرد ہوتے ہیں۔ ابن عطیہ نے کہا (5) : لفظ ہر امت کے ہر متقی کو شامل ہے۔ زجاج نے کہا موعظۃ ً للمتقین یعنی امت محمدیہ کے لئے نصیحت ہے تاکہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں سے انہیں منع فرمایا ہے وہ ان کے ارتکاب سے بچیں کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں اصحاب السبت جیسا عذاب پہنچے جو انہیں ہفتہ کے دن اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ افعال کے ارتکاب کی وجہ سے پہنچا۔
Ayah 2:67

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو وہ بولے کیا تم ہم سے ہنسی کرتے ہو ؟ (موسیٰ نے) کہا کہ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں

آیت نمبر 67 اس میں چار مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان اللہ یامرکم ابو عمرو سے حکایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے یامرکم راء سے ضمہ کو اس کے ثقل کی وجہ سے حذف کر کے پڑھا ہے۔ ابو العباد المبرد نے کہا : یہ جائز نہیں ہے کیونکہ راحرف اعراب ہے اور ابو عمرو سے صحیح یہ مروی ہے کہ وہ حرکت میں اختلاس کرتے تھے۔ ان تذبحوا یہ یامرکم کی وجہ سے محل نصب میں ہے یعنی بان تذبحا۔ بقرۃً پر نصب تذبحوا کی وجہ سے ہے ذبح کا معنی پہلے گزر چکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃً یہ تلاوت میں مقدم ہے اور قتلتم نفساً گائے کے متعلق جو کچھ پہلے ذکر کیا گیا ہے اس پر یہ معنی کے اعتبار سے مقدم ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ قتلتم نزول میں مقدم ہو اور ذبح کا امر مؤخر ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ نزول کی ترتیب تلاوت کے مطابق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے گویا انہیں گائے کے ذبح کا حکم دیا حتیٰ کہ انہوں نے اسے ذبح کیا پھر قتل کے امر سے جو واقع ہوا وہ واقع ہوا۔ پس انہیں حکم دیا گیا کہ وہ اس کا بعض اس مقتول کو ماریں، پہلے قول کے مطابق معنی کے اعتبار سے واذقتلتم مقدم ہوگا جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کیونکہ واو ترتیب کا موجب نہیں ہوتی۔ اس کی نظیر نوح (علیہ السلام) کا واقعہ ہے جو طوفان اور اس کے ختم ہونے کے بعد ذکر کیا گیا ہے۔ اس قول میں حتی اذا جاء امرنا وفارالتنور قلنا احبل فیھا من کل زوجین اثنین واھلک الا من سبق علیہ القول ومن امن وما معہ الا قلیل۔ (ہود) پہلے ان لوگوں کے ہلاک کرنے کا ذکر کیا جو ہلاک ہوئے پھر اس پر اس ارشاد سے عطف فرمایا : وقال ارکبوا فیھا بسم اللہ مجرھا ومرسھا (ہود :41) خطاب میں رکوب کا ذکر متأخر کیا اور یہ معلوم شدہ ہے کہ ان کو سوار ہونا ہلاکت سے پہلے تھا۔ اسی طرح یہ ارشاد ہے : الحمد للہ الذی انزل علی عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجاً ۔ قیماً (الکہف) اس کی تقدیر اس طرح ہے : انزل علی عبدہ الکتاب قیماً ولم یجعل لہ عوجاً ۔ قرآن میں اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔ مسئلہ نمبر 3: علماء کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ بکری کو ذبح کرنا اور اونٹ کو نحر کرنا اولیٰ ہے اور گائے میں اختیار ہے۔ بعض نے فرمایا : ذبح اولیٰ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذبح کا ذکر فرمایا نیز منحر کے مذبح کے قرب کی وجہ سے۔ ابن منذر نے کہا : میں کسی عالم کو نہیں جانتا جس نے اس کا کھانا حرام قرار دیا ہو جس کو ذبح کرنا تھا اس کو نحر کیا گیا یا جس کو نحر کرنا تھا اسے ذبح کیا گیا۔ امام مالک نے اس کو مکروہ کہا ہے اور کسی کا کسی شے کو مکروہ قرار دینا اسے حرام قرار دینا نہیں ہے۔ مزید انشاء اللہ ذبح کے احکام، ذبح کرنے والا اور ان دونوں کی شرائط سورة مائدہ میں الا ما ذکیتم کے تحت تفصیل سے آئیں گے۔ ماوردی نے کہا : انہیں صرف گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا کیونکہ ان کے معبود بچھڑے کی جنس سے تھے تاکہ جس چیز کی وہ تعظیم کرتے تھے ان کے نزدیک اس کی اہانت کی جائے۔ نیز اس لئے تاکہ وہ جان لے کہ ان کے نفسوں میں اس کی عبادت کی قبولیت کتنی ہے۔ یہ معنی گائے کے ذبح میں علت ہے اور سائل کے جواب میں علت نہیں ہے لیکن اس کا معنی یہ ہے کہ مقتول، زندہ کے قتل کے ساتھ زندہ ہوجائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو اشیاء کی ایجاد ان کی اضداد کے ساتھ کرنے میں زیادہ ظاہر کرنے والا ہے۔ مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے بقرۃٌ یہ مؤنث کا اسم ہے، مذکر کے لئے ثور اسم ہے، جیسے اونٹنی کے لئے ناقۃٌ اور اونٹ کے لئے جملٌ، عورت کے لئے امرأۃ اور مرد کے لئے رجلٌ، البقرۃ، البقر کا واحد ہے اس میں مذکر، مؤنث برابر ہے، اس کی اصل تیرے اس قول سے ہے : بقر بطنہ، اس نے اس کا پیٹ چاک کیا۔ البقرہ (گائے) زمین کو چیرتی اور پھاڑتی ہے اسی سے ابو جعفر محمد بن علی زین العابدین کو الباقر کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے علم کو چیرا اور اس کی اصل کو پہچانا، البقیرۃ وہ کپڑا جو پھاڑا جاتا ہے پھر عورت اسے اپنی گردن میں ڈالتی ہے اس کی آستین نہیں ہوتیں۔ حضرت ابن عباس کی حدیث میں ہد ہد کی شان میں ہے۔ فبقر الارض (1) اس نے زمین کو پھاڑا۔ شمر نے کہا : بقر کا مطلب ہے : اس نے پانی کی جگہ کو دیکھا اور زمین کے نیچے پانی کو دیکھا۔ الازہری نے کہا۔ البقر جنس کے لئے اسم ہے اس کی جمع باقر ہے۔ ابن عرفہ نے کہا : کہا جاتا ہے بقیر، باقر، بیقور۔ عکرمہ اور ابن یعمر نے ان الباقر پڑھا ہے۔ الثور، اس کی جمع ثیران ہے۔ الثور، مردوں میں سے سردار کو کہتے ہیں۔ الثور، پنیر کے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔ الثور کائی کو بھی کہتے ہیں۔ ثور ایک پہاڑ کو بھی کہتے ہیں ثور عربوں کا ایک قبیلہ بھی ہے۔ حدیث میں ہے : وقت العشاء مالم یغب ثور الشفق یعنی عشاء کا وقت اس وقت شروع ہوتا جب شفق کا پھیلاؤ غائب نہ ہو۔ کہا جاتا ہے : ثار یثور ثوراً وثوراناً جب افق میں پھیل جائے۔ حدیث میں ہے : من اراد العلم فلیثور القرآن جو علم کا ارادہ رکھتا ہے اسے قرآن پڑھنا چاہئے۔ شمر نے کہا : اس کا مطلب ہے کہ قرآن کو پڑھنا اور اس کے ساتھ علماء سے علم تلاش کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالوا اتتخذنا ھزوًا یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا جواب تھا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ انہوں نے اپنے درمیان ایک مقتول پایا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا نام عامیل تھا۔ ان پر قاتل کا معاملہ مشتبہ ہوگیا اور ان کے درمیان اختلاف واقع ہوا۔ انہوں نے کہا : ہم آپس میں لڑ رہے ہیں جبکہ اللہ کا رسول ہمارے درمیان موجود ہے۔ پس وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے اور ان سے اس کا بیان پوچھا۔ یہ تو رات میں قسامت کے حکم کے نزول سے پہلے کا واقعہ ہے۔ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے دعا کی اور انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ جب انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سنا جبکہ اس کے ظاہر میں ان کے سوال کا جواب نہیں تھا وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس اس مقتول فیصلہ طلب کرنے لگے۔ کہنے لگے : تو ہمارے ساتھ مزاح کرتا ہے۔ الھذء، کھیلنا، مزاح کرنا۔ اس کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ جحدری نے أیتخذنا پڑھا ہے وہ یہ ایک دوسرے سے کہنے لگے، تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں یہ جواب دیا : اعوذ باللہ ان اکون من الجھلین (میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں) کیونکہ سائل کے جواب سے خروج جہالت ہوتی ہے۔ اس وجہ سے آپ نے اعوذ باللہ کہا کیونکہ یہ ایسی صفت ہے جو انبیاء کرام میں نہیں پائی جاتی (2) ۔ جہالت، علم کی نقیض ہے۔ اس وجہ سے جہالت سے پناہ مانگی جس طرح انہوں نے جہالت کا مظاہرہ کیا اتتخذنا ھزوًا یہ انہوں نے اسے کہا جو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دے رہا تھا۔ اس قول کا ظاہر ایسا کہنے والے کے اعتقاد کے فساد پر دلالت کرتا ہے اس شخص کا ایمان صحیح نہیں ہوتا جو ایسے نبی سے ایسی بات کرے جس کے معجزات ظاہر ہوچکے تھے۔۔۔۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہیں ایسا حکم دیتا ہے، کیا تو ہم سے مزاح کرتا ہے۔۔۔۔ اگر کوئی اس وقت نبی کریم ﷺ کے کسی ارشاد کے متعلق یہ کہے تو اس کی تکفیر واجب ہے۔ ایک قوم کا خیال ہے کہ یہ ان سے طبعی قساوت، جفا اور معصیت کی بنا پر تھا جیسا کہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں کسی نے نبی کریم ﷺ سے کہا تھا کہ یہ ایسی تقسیم ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ نہیں کیا گیا (1) ۔ اسی طرح ایک اور نے کہا تھا : اعدل یا محمد ﷺ ، اے محمد ! ﷺ عدل کرو (2) ۔ یہ تمام جہالت کے قبیح ہونے پر واضح دلیل ہے اور جہالت مفسد دین ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ھذوًا یہ دوسرا مفعول ہے، ہمزہ کی تخفیف جائز ہے تو اسے واو اور ہمزہ کے درمیان کر دے۔ حضص نے واو کو مفتوحہ بنایا ہے کیونکہ یہ ہمزہ مفتوحہ ہے جس سے پہلے ضمہ ہے یہ بدل کے طور پر جاری ہے جیسے السفھاء ولکن ہے۔ زاء سے ضمہ کا حذف کرنا جائز ہے جس طرح عضد سے حذف کیا جاتا ہے تو کہتا ہے : ھذوًا جیسا کہ اہل کوفہ نے پڑھا ہے۔ اسی طرح ولم یکن لہ کفواً احدٌ۔ (اخلاص) ہے۔ اخفش نے عیسیٰ بن عمر سے حکایت کیا ہے کہ ہر وہ اسم جس کے تین حرف ہوں پہلا حرف مضموم ہو تو اس میں دو لغتیں ہوتی ہیں، تخفیف اور تثقیل۔ جیسے عسر ،۔۔۔۔ اس کی مثل وہ تمام جمع کے الفاظ ہیں جو فعلٌ کے وزن پر ہوتے ہیں جیسے کتبٌ، و کتبٌ، رسلٌ ورسلٌ، عونٌ وعونٌ۔ اور رہا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : وجعلوا لہ من عبادہ جذءًا (زخرف :15) یہ ھذء اور کف کی طرح نہیں ہے کیونکہ یہ اصل میں فعل کے وزن پر ہے۔ جیسا کہ انشاء اللہ اپنی جگہ پر اس کا ذکر آئے گا۔ مسئلہ : اس آیت میں دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین سے اور مسلمانوں کے دین سے اور ایسے شخص سے جس کی تعظیم واجب ہے اس سے استہزاء کرنا منع ہے اور یہ جہالت ہے اور استہزاء کرنے والا وعید کا مستحق ہے۔ مزاح، استہزاء میں سے نہیں ہے۔ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ نبی کریم ﷺ مزاح فرمایا کرتے تھے اور آپ کے بعد ائمہ بھی مزاح فرمایا کرتے تھے۔ ابن خویز منداد نے کہا : ہمیں یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص عبید اللہ بن الحسن کی طرف گیا۔ اس وقت عبید اللہ، کوفہ کے قاضی تھے۔ عبید اللہ نے اس شخص سے مزاح کیا۔ عبید اللہ نے کہا : تیرا یہ جبہ بھیڑ کی اون کا ہے یا مینڈھے کی اون کا ہے ؟ وہ شخص کہنے لگا : اے قاضی ! جہالت کا مظاہرہ نہ کر۔ عبید اللہ نے کہا : تو نے مزاح کو کہاں جہالت پایا ہے ؟ پھر یہ آیت اسے سنائی، عبید اللہ نے اس سے اعراض کرلیا کیونکہ اس نے اسے جاہل دیکھا کیونکہ وہ مزاح اور استہزاء میں فرق نہیں جانتا تھا حالانکہ ہر ایک کا دوسرے سے کوئی تعلق نہیں۔
Ayah 2:68

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے التجا کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ وہ بیل کس طرح کا ہو، (موسیٰ نے) کہا پروردگار فرماتا ہے کہ وہ بیل نہ تو بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا بلکہ ان کے درمیان (یعنی جوان) ہو سو جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے ویسا کرو

آیت نمبر 68 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالوا ادع النا ربک یہ بنی اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور اطاعت کی کمی کا اظہار ہے۔ اگر وہ حکم کی پیروی کرتے اور کوئی گائے ذبح کردیتے تو مقصود حاصل ہوجاتا لیکن انہوں نے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کی۔ حضرت ابن عباس اور ابو العالیہ وغیرہما کا یہ قول ہے (1) ۔ اسی طرح حضرت حسن بصری نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ بنی عامر کی لغت ادع ہے (2) ۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ یبین، جواب امر کی وجہ سے مجزوم ہے۔ ما ھی یہ مبتدا خبر ہیں۔ ما ھیۃ الشی، شے کی حقیقت اور اس کی ذات جس پر وہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے : قال انہ یقول انھا بقرۃٌ لا فارضٌ ولا بکر عوانٌ بین ذلک اس میں فعل کے وقت سے پہلے نسخ کے جواز پر دلیل ہے کیونکہ جب گائے کا حکم دیا تو وہ کوئی گائے تھی جب صفت میں زیادتی کی تو یہ پہلے حکم کو دوسرے حکم سے منسوخ کرنا ہے جس طرح اگر کہا تیس اونٹوں میں ایک بنت مخاض پھر اسے نسخ فرمایا بنت لبون یا حقہ سے۔ اسی طرح یہاں جب صفت کو متعین کردیا تو یہ پہلے حکم کے لئے نسخ ہوگیا۔ الفارض، المسنۃ، فرضت، تفرض فروضاً ۔ یعنی بڑی ہوگئی پرانی چیز کو فارض کہا جاتا ہے۔ راجز نے کہا : شیب اصداغی فرأسی ابیض محامل فیھا رجال فرض میری کنپٹیاں سفید ہوگئیں اور میرا سر سفید ہے، اس میں بوڑھے لوگ محامل کی طرح بھاری ہیں۔ ایک اور شاعر نے کہا : لعمرک قد اعطیت جارک فارضاً تساق الیہ ما تقوم علی رجل تیری عمر کی قسم ! تو نے اپنے پڑوسی کو بوڑھی گائے دی اس کو تو وہ جانور دیا جاتا ہے جو اپنے قدموں پر چلتا ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : یارب ذی ضغن علی فارض لہ قروء کفرؤ الحائض (3) ہائے ! مجھ پر قدیم کینہ رکھنے والا، اس کے لئے حیض ہیں جیسے حیض والی عورت کے لئے حیض ہوتے ہیں۔ لا فارضٌ، بقرہ کی صفت کی وجہ سے مرفوع ہے۔ ولا بکرٌ معطوف ہے۔ بعض نے فرمایا : لا فارضٌ مضمر مبتدا کی خبر ہے یعنی لا ھی فارضٌ۔ اسی طرح لا ذلول ہے اور اسی طرح لا تسقی الحرث کا حکم ہے اسی طرح مسلمۃ کا حکم ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : فارضٌ اس مادہ کو کہتے ہیں جس نے بہت سے بچے جنم دئیے ہوں اور اس کا پیٹ پھول گیا ہو۔ الفارض کا لغوی معنی واسع (کھلا) ہے یہ بعض متأخرین کا قول ہے۔ البکر غیر حاملہ چھوٹی گائے کو کہتے ہیں۔ قتبی نے کہا : جو بچہ جنم دے چکی ہو۔ البکر پہلے بچہ کو بھی کہتے ہیں۔ یا بکر بکرین ویا خلب الکبد اصبحت منی کذراع من عضد اے دونوں جوانوں کی پہلی اولاد ! اے جگر کی جھلی ! تو میرے نزدیک اس طرح ہے جیسے بازو سے ہاتھ کا تعلق ہے۔ البکر جانوروں اور بنی آدم کی مؤنث کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کو ابھی نر سے جفتی نہ کیا ہو یا با کے کسرہ کے ساتھ ہے با کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اونٹ کا جواب بچہ مراد ہوتا ہے۔ العوان، نصف ایسی مادہ جو ایک یا دو بچے جنم دے چکی ہو یہ گاؤں میں سے جو طاقتور اور خوبصورت ہوتی ہے بخلاف گھوڑوں کے، شاعر گھوڑے کی صفت بیان کرتا ہے : کمیت بھیم اللون لیس بفارض ولا بعوان ذات لون مخصف سیاہ رنگ والا ہے، نہ بوڑھا ہے اور نہ چھوٹا ہے، کئی رنگوں والا چتکبرا ہے۔ فرسٌ اخصف، چتکبرا گھوڑا۔ مجاہد نے کہا : گائیوں میں سے العوان اسے کہتے ہیں جو یکے بعد دیگرے بچے جنم دے چکی ہو، یہ اہل لغت نے بیان کیا ہے (1) ۔ کہا جاتا ہے : ان العوان النحلۃ الطویلۃ۔ لمبی کھجور کو عوان کہتے ہیں یہ ان کے گمان کے مطابق بمعنی لغت ہے۔ حربٌ عوان، جب اس سے پہلے ایک جنگ ہوچکی ہو۔ زہیر نے کہا : اذا لقحت حربٌ عوان مضرۃٌ ضروس تھر الناس ابیابھا عصل جب جنگ تیز ہو اور نقصان دینے والی ہو۔ داڑھوں والی ہو تو لوگ اس کے ٹیڑھے دانتوں کو ناپسند کرتے ہیں۔ یعنی وہ گائے نہ چھوٹی ہو نہ بوڑھی ہو یعنی وہ درمیانی عمر کی ہو۔ عوان کی جمع عون عین کے ضمہ اور واؤ کے سکون کے ساتھ۔ عون واو کے ضمہ کے ساتھ بھی اس کی جمع سنی گئی ہے جیسے رسل یہ پہلے گزر چکا ہے۔ فراء نے حکایت کیا ہے، العوان سے عونت تعویناً ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فافعلوا ما تؤمرون یہ امر کی تجدید اور تاکید کے لئے ہے اور ہٹ دھرمی ترک کرنے پر تنبیہ ہے۔ پس انہوں نے اس کو نہ چھوڑا (2) ۔ یہ دلیل ہے کہ امر وجوب کے لئے آتا ہے جس طرح کہ فقہاء کہتے ہیں یہ صحیح ہے جو اصول الفقہ میں مذکور ہے اور امر (حکم) فوری طور پر لازم ہوتا ہے۔ یہ اکثر فقہاء کا مذہب ہے۔ اس کی صحت پر یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے یہ کوتاہی سمجھی جب انہوں نے حکم کو بجا لانے میں جلدی نہ کی۔ فرمایا : فذبحوھا وما کا دوا یفعلون۔ (البقرہ) بعض علماء نے فرمایا : نہیں بلکہ امر کا وجوب علی التراخی ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تاخیر اور خطاب میں رجوع پر سختی نہیں فرمائی۔ ابن خویز منداد نے یہ کہا ہے۔
Ayah 2:69

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

انہوں نے کہا اپنے پروردگار سے درخواست کیجئے کہ ہم کو یہ بھی بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو، موسیٰ نے کہا پروردگار فرماتا ہے کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہو کہ دیکھنے والوں (کے دل) کو خوش کردیتا ہو،

آیت نمبر 69 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ما لونھا، ما استفہام مبتدا ہے لونھا خبر ہے۔ لونھا کو یبین کے ساتھ نصب دینا بھی جائز ہے اور اس صورت میں ما زائدہ ہوگا۔ لون کی جمع الالوان ہے یہ ایک ہیئت ہے جیسے کالا، سفید، سرخ۔ اللون کا معنی نوع بھی ہے۔ فلان متلون، رنگین مزاج شخص جو ایک عادت پر اور ایک حال پر نہ رہتا ہو۔ شاعر نے کہا : کل یوم تتلون غیر ھذا بک اجمل ہر روز تو بدلتا رہتا ہے مگر پھر بھی یہ عمل تجھ سے خوبصورت لگتا ہے۔ لون البسر تلویناً جب کھجور میں پکنے کے اثر کا آغاز ہو۔ اللون، کھجور کی ایک قسم ہے۔ اخفش نے کہا : یہ جمع ہے اور اس کا واحد لینۃ ٌ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : صفرأء۔ جمہور مفسرین نے کہا کہ زرد رنگ کی ہو۔ یہ الصفرۃ المعروفہ سے ہے یعنی زردرنگ جو معروف ہے۔ مکی نے بعض سے روایت کیا ہے حتیٰ کہ اس کے سینگ اور کھر بھی زرد ہوں۔ حسن اور ابن جبیر نے کہا : صرف اس کے سینگ اور کھر زرد ہوں (1) ، حسن نے کہا صفرأء کا معنی سیاہ ہے (2) ۔ شاعر نے کہا : تلک خیلی منۃ وتلک رکابی ھن صفر اولادھا کالذبیب یہ میرے گھوڑے اور میری سواریاں اس کی طرف سے ہیں۔ یہ سیاہ ہیں ان کی اولاد کشمش کی طرح ہے۔ میں کہتا ہوں : پہلا قول صحیح ہے کیونکہ وہ ظاہر ہے اور یہ قول شاذ ہے۔ یہ مجازاً اونٹوں کے لئے استعمال ہوتا ہے (3) ۔ اگر یہاں سیاہ رنگ مراد ہوتا تو اس کی تاکید الفقوع کے ساتھ نہ ہوتی کیونکہ فقوع کی صفت کے ساتھ مختص ہے۔ سیاہ رنگ کی صفت اس کے ساتھ نہیں لگائی جاسکتی۔ عرب کہتے ہیں : اسود حالک حلکوک وحلکوک، ودجوجی، وغربیب۔ یہ سب کالے رنگ کی صفات ہیں اور سرخ رنگ کی صفت قائی۔ کہا جاتا ہے : احمرقانی۔ سفید رنگ کے لئے ابیض ناصع، لھق، لھاق ویقنی کہا جاتا ہے اور سبز رنگ کے لئے اخضر ناضرٌ اور زرد رنگ کے لئے اصفر فاقع ٌ کہا جاتا ہے۔ فقع لونھا یفقع فقوعاً جب خالص زرد رنگ ہو۔ الافقاع بری حالت کو کہتے ہیں۔ فواقع الدھر، زمانے کی مصیبتیں، وطقع باصابعہ، جب انگلیوں سے آواز نکالے۔ اسی سے حضرت ابن عباس کی حدیث ہے : نھی عن التفقیع فی الصلاۃ (4) ۔ نماز میں چٹخارے نکالنے سے منع فرمایا۔ الفرفقۃ انگلیوں کو موڑنا حتیٰ کہ آواز نکلے۔ صفرأء معرفہ اور نکرہ ہر حالت میں غیر منصرف ہے کیونکہ اس میں الف تانیث ہے جو لازم ہے اور یہ ھا کے مخالف ہے کیونکہ جس اسم کے آخر میں ھا ہوتی ہے وہ نکرہ ہونے کی صورت میں منصرف ہوجاتا ہے جیسے فاطمہ، عائشہ وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاقعٌ لونھا خالص رنگ مراد ہے اس کی جلد کی رنگت کے علاوہ اس میں کوئی رنگ نہ ہو۔ تسر النظرین وہب نے کہا : گویا سورج کی شعاعیں اس کی جلد سے نکل رہی ہیں۔ اسی وجہ سے حضرت ابن عباس نے فرمایا : زرد رنگ نفس کو خوش کرتا ہے۔ انہوں نے زرد جوتا پہننے پر برانگیختہ کیا۔ یہ نقاش نے ان سے حکایت کیا ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے کہا : جو زرد چمڑے کا جوتا پہنے گا اس کا غم کم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : صفرأء فاقعٌ لونھا تسر النظرین۔ یہ ثعلبی نے حضرت ؓ سے حکایت کیا ہے۔ حضرت ابن الزبیر، محمد بن ابی کثیر نے سیاہ جوتا پہننے سے منع فرمایا کیونکہ یہ پریشان کرتا ہے۔ تسر کا معنی اچھا لگنا خوش کرنا ہے۔ ابو العالیہ نے کہا : اس کا معنی ہے اسے دیکھنا اچھا لگتا ہے۔ یہ گائے دو وصفوں والی تھی۔ (1)
Ayah 2:70

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

انہوں نے کہا (اب کے) پروردگار سے پھر درخواست کیجئے کہ ہم کو بتادے کہ وہ اور کس کس طرح کا ہو کیونکہ بہت سے بیل ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں، پھر خدا نے چاہا تو ہمیں ٹھیک بات معلوم ہوجائے گی

آیت نمبر 70 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان البقر تشبہ علینا انہوں نے چوتھا سوال کیا اور بیان کے بعد بھی حکم کی پیروی نہیں کی۔ یہاں البقر مذکر ذکر کیا کیونکہ یہ جمع کے معنی میں ہے۔ اسی وجہ سے فرمایا ان البقر تشبہ علینا۔ البقر کے لفظ کی تذکیر کی وجہ سے فعل کا صیغہ بھی مذکر ذکر فرمایا۔ قطرب نے کہا : البقرۃ کی جمع باقر، باقور اور بقرہ۔ اصمعی نے کہا : البأقر، جمع ہے باقرۃ کی۔ اور کہا : باقورۃ بھی بقر کی جمع بنائی جاتی ہے۔ یہ نحاس نے حکایت کیا ہے۔ زجاج نے کہا : اس کا معنی بقر کی جنس ہے۔ حسن نے اس کے مطابق پڑھا جو نحاس نے ذکر کیا ہے (2) اور اعرج نے اس کے مطابق جو ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ ان البقر تشبہ (تاء اور شین کی شد کے ساتھ) انہوں نے تشابہ کو فعل مضارع اور مؤنث بنایا ہے اصل میں تتشابہ تھا۔ پھر تا کو شین میں ادغام کیا گیا ہے۔ مجاہد نے تشبہ جیسا کہ ان دونوں کی قراءت ہے مگر بغیر الف کے پڑھا ہے۔ حضرت ابی بن کعب کے مصحف میں تشابھت (شین کی تشدید کے ساتھ) ہے۔ ابو حاتم نے کہا : یہ غلط ہے اس بات میں تا ادغام نہیں ہوتی مگر مضارع میں۔ یحییٰ بن یعمر نے ان الباقر یشابہ پڑھا ہے (3) ۔ انہوں نے اسے فعل مستقبل بنایا ہے بقرکو مذکر تصور کیا اور ادغام کیا۔ ان البقر تشابہ، شین کی تخفیف اور ھا کے ضمہ کے ساتھ۔ یہ ثعلبی نے حسن سے حکایت کیا ہے۔ نحاس نے کہا : یشابہ شین اور یا کی تخفیف کے ساتھ جائز نہیں ہے یہ تا میں جائز ہے کیونکہ اصل تتشابہ تھا دو تا کو اجتماع کی وجہ سے ایک کو حذف کردیا۔ البقر، الباقر، البیقور، البقیر یہ تمام لغتیں ہیں اور سب کا معنی ایک ہے عرب اس کو مذکر اور مؤنث دونوں طرح استعمال کرتے ہیں۔ تشابہ میں مختلف قراءت کے معانی اس کی طرف لوٹتے ہیں۔ بعض نے فرمایا : ان البقر تشبہ علینا انہوں نے اس لئے کہا کیونکہ گائیوں کے رنگ ایک دوسرے سے مشابہ ہوتے ہیں۔ اس سے حضرت حذیفہ بن یمان کی حدیث ہے جو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت فرمائی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : فتنے رات کے ٹکڑوں کی طرح اس طرح آئیں گے جیسے گائیوں کے چہرے۔ یعنی بعض، بعض کے مشابہ ہوں گے اور گائیوں کے چہرے متشابہ ہوتے ہیں اسی وجہ سے بنی اسرائیل نے کہا : گائے ہم پر متشابہ ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانأ ان شأء اللہ لمھتدون یہ ان کی طرف سے استثنا ہے۔ اس آخری میں استثنا کے ذکر کرنے میں ان کی طرف سے قبولیت اور پیروی ہے اور امر کی موافقت نہ کرنے پر شرمندگی کی دلیل ہے (1) ۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر وہ انشاء اللہ نہ کہتے تو کبھی گائے کا پتا نہ پاتے (2) ۔ تقدیر کلام اس طرح ہے : انا لمھتدون ان شاء اللہ۔ اھتداء کو ذکر میں اس کے اہتمام کی وجہ سے مقدم فرمایا۔ شأء شرط کی جگہ میں ہونے کی وجہ سے محل جزم میں ہے۔ سیبویہ کے نزدیک اس کا جواب ان اور جس میں وہ عمل کر رہا ہے۔ اور ابو العباس المبرد کے نزدیک جزا محذوف ہے۔