Ayah 2:148آیت نمبر 148
اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولکل وجھۃ، الوجھۃ کا وزب فعلۃ ہے اور یہ المراجھۃ سے ہے۔ الوجھۃ، الجھۃ اور الوجہ کا ایک معنی ہے۔ اس سے مراد قبلہ ہے یعنی وہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے اور آپ ان کے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے ہر ایک کے لئے ایک سمت ہے خواہ حق ہے یا خواہش نفس ہے۔
مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ھو مولیھا، ھو ضمیر لفظ کل کی طرف لوٹ رہی ہے نہ کہ اس کے معنی کی طرف کیونکہ اگر معنی کی طرف راجع ہوتی تو ھم مولو تھا ہوتا۔ ھا ضمیر مفعول اول ہے اور دوسرا مفعول مولی کا محذوف ہے۔ عبارت یوں ہوتی ھو مولیھا وجھہ ونفسہ، مطلب یہ ہے کہ ہر صاحب ملت کا ایک قبلہ ہے۔ صاحب قبلہ اپنا چہرہ ادھر پھیرنے والا ہے۔ یہ واحد کا صیغہ لفظ کل کے اعتبار سے ہے۔ یہ ربیع، عطا اور حضرت ابن عباس کا قول ہے، حضرت علی بن سلیمان نے کہا : مولیھا کا معنی ہے : متولیھا۔ ابن عبس اور ابن عامر نے مولاھا پڑھا ہے۔ اس قرأت پر ضمیر واحد کی طرف لوٹے گی۔ یعنی لوگوں میں سے ایک کے لئے قبلہ ہے۔ الواحد مولاھا یعنی ہر ایک اس کی طرف پھیرا گیا ہے۔ یہ زجاج کا قول ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جمہور کی قراءت پر ھو ضمیر اللہ تعالیٰ کا اسم ہو اگرچہ پہلے اس کا ذکر نہیں ہے کیونکہ یہ معلوم ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کرنے والا ہے معنی یہ ہوگا کہ ہر صاحب ملت کا ایک قبلہ ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کی طرف پھیرنے والا ہے۔ طبری نے حکایت کیا ہے کہ ایک قوم نے ولکل وجھۃ پڑھا ہے یعنی کل کو وجھۃ کی طرف مضاف کیا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : طبری نے غلطی کی ہے، جبکہ یہ تعبیر قابل توجہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر جہت کی نیکی میں سبقت کر جس کی طرف تمہیں اس نے پھیرا ہے اور اپنے معاملہ میں اس اور اس کے چکر میں نہ پڑو۔ یعنی تم پر تمام امور میں اطاعت لازم ہے۔ لکل وجھۃ کو فاستبقوا پر مقدم کیا گیا ہے الوجھہ کے اہتمام کی وجہ سے جیسا کہ مفعول کو مقدم کیا جاتا ہے۔ ابو عمرو دانی نے یہ قرأت حضرت ابن عباس سے ذکر کی ہے وجھۃ میں واو سلامت رہی ہے عدۃ اور زنۃ اور اس کے درمیان فرق کرنے کے لئے کیونکہ جھۃ ظرف ہے اور یہ مصادر ہیں۔ ابو علی نے کہا ایک قوم کا خیال ہے کہ یہ بھی مصدر ہے اور خلاف قیاس ہے۔ ایک قوم کا خیال ہے کہ یہ اسم ہے مصدر نہیں ہے۔ ابو علی کے علاوہ علماء نے کہا جب تو اس سے مصدر مراد لے تو تو جھۃ کہے گا اور ظرف میں بھی کبھی الجھۃ کہا جاتا ہے۔
مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاستبقوا الخیرت یعنی الی الخیرات حرف جر کو حذف کیا گیا یعنی اللہ تعالیٰ نے البیت الحرام کی طرف منہ کرنے کو جو تمہیں حکم دیا ہے اس میں جلدی کرو۔ اگرچہ یہ اپنے ضمن میں تمام طاعات کی طرف جلدی کرنے کا معنی لئے ہوئے ہے۔ آیات کے سیاق کی وجہ سے استقبال قبلہ مراد لیا گیا ہے۔ معنی یہ ہے کہ نماز کو اول وقت میں پڑھنے کے لئے جلدی کرو۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ نسائی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز کی طرف جلدی جانے وال اس شخص کی مثل ہے جو اونٹ قربانی دیتا ہے پھر اس کے پیچھے آنے والا اس کی مانند ہے جو گائے قربانی دیتا ہے پھر اس کے پیچھے آنے والا اس شخص کی مانند ہے جو مینڈھا قربانی دیتا ہے پھر وہ جو اس کے پیچھے آنے والا ہے وہ اس کی طرح ہے جو مرغی قربانی دیتا ہے پھر جو اس کے پیچھے آنے والا ہے اس کی طرف ہے جو انڈا قربانی دیتا ہے۔ دارقطنی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی نماز کو اپنے وقت پر پڑھتا ہے حالانکہ اس نے پہلے وقت میں اس کو ترک کردیا تھا جو اس کے اہل اور مال سے بہتر تھا۔
مالک نے یحییٰ بن سعید سے ان کا قول نقل کیا ہے۔ دار قطنی نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : الصلاۃ فی اول وقتھا بہتر عمل نماز کو وقت پر ادا کرنا ہے۔ حضرت ابن مسعود کی حدیث میں اول وقتھا ہے۔ اس میں پہلے فی حرف جر نہیں ہے۔
ابراہیم بن عبد الملک نے حضرت ابو محذورہ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے ان کے دادا سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اول وقت اللہ کی رضا ہے اور درمیانی وقت اللہ کی رحمت ہے اور آخر وقت اللہ کا عفو ہے، ابن عربی نے زائد ذکر کیا ہے۔ ابوبکر نے کہا : اللہ کی رضا ہمیں اللہ تعالیٰ کی عفو سے زیادہ محبوب ہے، کیونکہ اس کی رضا محسنین کے لئے ہے اور اس کا عفو کوتاہی کرنے والوں کے لئے ہے یہ امام شافعی کا اختیار ہے۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا آخری وقت افضل ہے کیونکہ یہ وجوب کا وقت ہے، امام مالک کے قول میں تفصیل ہے۔ صبح اور مغرب میں پہلا وقت افضل ہے۔ صبح میں افضلیت حضرت عائشہ کی حدیث کی وجہ سے ہے کہ فرمایا : رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز پڑھتے تھے عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی لوٹتی تھیں وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہیں جاتی تھیں۔ اور رہی مغرب کی پہلے وقت میں افضیلت تو وہ حضرت سلمہ بن اکوع کی حدیث کی وجہ سے ہے۔ آپ مغرط کی نماز پڑھتے تھے جب سورک غروب ہوتا تھا اور پردے میں چھپ جاتا تھا۔ ان دونوں حدیثوں کو مسلم نے نقل کیا ہے اور نماز عشاء میں تاخیر افضل ہے جو دیر سے پڑھنے پر قادر ہو۔ حضرت ابن عمر نے روایت کیا ہے، فرمایا : ہم ایک رات عشاء کی نماز کیلئے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے رہے، آپ ہمارے پاس تشریف لائے جب کہ رات کا تیسرا حصہ یا اس کے بعد کا وقت گزر چکا تھا۔ ہمیں معلوم نہیں آپنے گھر والوں میں مشغول رہے یا کسی اور وجہ سے مشغول رہے۔ آپ جب باہر نکلے تو فرمایا : تم نماز کا انتظار کر رہے ہو تمہارے علاوہ کوئی اہل دین اس کا انتظار نہیں کر رہا۔ اگر میری امت پر شاق نہ ہوتا تو میں انہیں اس وقت نماز پڑھاتا۔ بخاری میں حضرت انس سے مروی ہے، فرمایا : نبی کریم ﷺ نے عشاء کی نماز کو نصف رات تک مؤخر فرمایا پھر نماز پڑھی۔
حضرت ابوہریرہ نے کہا : نبی کریم ﷺ عشاء کی نماز میں تاخیر کو پسند فرماتے تھے، اور رہی ظہر کی نماز کیونکہ یہ لوگوں کی غفلت کے وقت آتی ہے۔ پس اس میں تھوڑی تاخیر مستحب ہے تاکہ لوگ تیار ہوجائیں اور جمع ہوجائیں۔ ابو الفرج نے کہا امام مالک نے فرمایا ہر نماز میں افضل وقت پہلا وقت ہے مگر سخت گرمی میں ظہر کی نماز کے لئے تاخیر افضل ہے۔ ابن ابی اویس نے کہا امام مالک زوال کے وقت ظہر کی نماز پڑھنا ناپسند فرماتے تھے۔ لیکن اس کے بعد پڑھتے اور فرماتے وہ خوارج کی نماز ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح ترمذی میں حضرت ابو ذوغفاری سے مروی ہے، فرمایا : ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، مؤذن نے ظہر کی اذان دینے کا ارادہ کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ٹھنڈا کرو۔ پھر اس نے اذان دینے کا ارادہ کیا تو پھر آپ نے فرمایا : ٹھنڈا کرو حتیٰ کہ ہم نے ٹیلوں کا سایہ دیکھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : گرمی کی شدت جہنم کی بھڑک سے ہے جب گرمی شدید ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔ صحیح مسلم میں حضرت انس سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ظہر کی نماز پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا اور دونوں حدیثوں کو حضرت انس کی روایت جمع کرتی ہے کہ جب گرمی شدید ہوتی تو نماز ٹھنڈی کرکے پڑھتے تھے اور جب سردی ہوتی تو جلدی پڑھتے۔
ابو عیسیٰ ترمذی نے کہا : اہل علم کی ایک جماعت نے سخت گرمی میں ظہر کی نماز میں تاخیر کو پسند کیا ہے۔ یہ ابن مبارک، احمد اور اسحاق کا قول ہے۔ امام شافعی نے فرمایا : ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرنا چاہیے جب مسجد کے نمازی دور سے آتے ہوں، جو تنہا نماز پڑھنے والا ہے اور وہ جو اپنی قوم کی مسجد میں نماز پڑھنے والا ہے میں اس کے لئے پسند کرتا ہوں کہ وہ سخت گرمی میں بھی نماز کو مؤخر نہ کرے۔ ابو عیسیٰ نے کہا : جن علماء کا سخت گرمی میں ظہر کو موخر کرنے کا نظریہ ہے وہ اتباع کے زیادہ قریب ہے اور رہا امام شافعی کا قول کہ دور سے آنے والوں کے لئے اور لوگوں پر مشقت کی وجہ سے رخصت ہے کیونکہ حضرت ابوذر کی حدیث امام شافعی کے قول کے خلاف پر دلالت کرتی ہے۔ حضرت ابو ذر نے کہا : ہم ایک سفر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے حضرت بلال نے ظہر کی اذان دینے کا ارادہ فرمایا تو آپ ﷺ نے فرمایا : اے بلال ! ٹھنڈا کرو، ٹھنڈا کرو، اگر معاملہ اس طرح ہوتا جس طرح امام شافعی نے کہا ہے تو یہاں وقت کو ٹھنڈا کرنے کا کوئی معنی نہیں تھا کیونکہ سفر میں سب لوگ جمع تھے، وہ دور سے آنے کے محتاج نہ تھے اور رہی عصر کی نماز تو اس کو جلدی پڑھنا افضل ہے۔ ہمارے مذہب میں کوئی اختلاف نہیں کہ جماعت کی امید کرتے ہوئے نماز کو مؤخر کرنا اس کو مقدم کرنے سے افضل ہے۔ اور جماعت کی فضیلت معلوم ہے، اول وقت کی فضیلت مجہول ہے اور معلوم کی تحصیل اولیٰ ہے اور یہ ابن عربی کا قول ہے۔
مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : این ما تکونوا یہ شرط ہے اور اس کا جواب یات بکم اللہ جمیعا ہے۔ یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو لے آئے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا وصف ہر چیز پر قدرت کے ساتھ بیان فرمایا تاکہ مرنے کے بعد اور بوسیدگی کے بعد اعادہ کا جو ذکر کیا گیا ہے اس کے ساتھ صفت مناسب ہوجائے۔
Ayahs 2:149–150آیت نمبر 149 تا 150
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن حیث خرجت فول وجھک شطر المسجد الحرام بعض علماء نے فرمایا : یہ استقبال کعبہ کے امر کی تاکید اور اس کے اہتمام کے لئے ہے کیونکہ تحویل کا موقع لوگوں کے نفوس میں مشکل تھا تو معاملہ کو مؤکد فرمایا تاکہ لوگ اس کے اہتمام کو دیکھیں اور ان پر تخفیف ہوجائے اور ان کے نفوس کو تسکین حاصل ہوجائے۔ بعض علماء نے فرمایا : پہلے فول وجھک سے مراد کعبہ کی سمت ہے یعنی جب اسے دیکھ رہا ہو تو عین اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے پھر فرمایا حیث ما کنتم مسلمان جو دوسری تمام مساجد میں ہیں مدینہ طیبہ وغیرہ میں وہ کعبہ کی سمت منہ کریں۔ پھر فرمایا : ومن حیث خرجت یعنی سفر میں استقبال کعبہ واجب ہے۔ پس زمین کی تمام اطراف میں تمام جگہوں میں کعبہ کی طرف منہ کرنے کا یہ حکم تھا۔ یہ قول پہلے قول سے بہتر ہے کیونکہ اس میں ہر آیت کو ایک فائدہ پر محمول کیا گیا ہے۔ دار قطنی نے حضرت انس بن مالک سے روایت کیا ہے، فرمایا : نبی کریم ﷺ جب سفر میں ہوتے اور اپنی سواری پر نماز پڑھنے کا ارادہ کرتے تو قبلہ کی طرف منہ کرتے اور تکبیر کہتے پھر نماز پڑھتے رہتے خواہ جدھر بھی سواری کا رخ ہوتا۔ ابو داؤد نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ امام شافعی، امام احمد اور ابو ثور کا یہی قول ہے۔ امام مالک کا نظریہ یہ ہے کہ استقبال کعبہ لازم نہیں۔ کیونکہ حضرت ابن عمر کی حدیث میں ہے فرمایا، رسول اللہ ﷺ مکہ میں مدینہ طیبہ آتے ہوئے سواری پر نماز پڑھتے تھے۔ فرمایا : اس کے متعلق نازل ہوا : فاینما تولوا فثم وجہ اللہ (البقرہ : 115) یہ پہلے گزر چکا ہے۔
میں کہتا ہوں : ان احادیث کے درمیان تعارض نہیں ہے کیونکہ یہ مطلق اور مقید کے باب سے ہیں۔ امام شافعی کا قول اولیٰ ہے اور اس کے متعلق حضرت انس کی حدیث صحیح ہے۔ روایت ہے کہ جعفر بن محمد سے قرآن میں تکرار کے بارے میں پوچھا گیا ؟ تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ تمام لوگ سارا قرآن یاد نہیں کریں گے : اگر قصص مکرر نہ ہوتے تو یہ بعض کے پاس ہوتے اور بعض کے پاس نہ ہوتے تکرار کیا گیا تاکہ جو کچھ حصہ یاد کرے اس کے پاس بھی یہ قصص ہوں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لئلا یکون للناس علیکم حجۃ الا الذین ظلموا مجاہد نے کہا : اس سے مراد عرب کے مشرک ہیں ان کی حجت سے مراد ان کا قول ہے کہ آپ نے ہمارے قبلہ کی طرف رجوع کرلیا تو انہیں اس ارشاد قل للہ المشرق والمغرب (البقرہ : 42) سے جواب دیا گیا۔ بعض علماء نے فرمایا : لئلا یکون للناس علیکم حجۃ کا معنی ہے تاکہ تم نہ کہو کہ تمہیں استقبال کعبہ کا حکم دیا گیا تھا حالانکہ تم اسے خیال نہیں کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وحیث ما کنتم فولو وجوہ کم شطرہ (البقرہ : 144) تو پہلے حکم کو زائل کردیا۔ ابو عبیدہ نے کہا الا یہاں واو کے معنی میں ہے یعنی والذین ظلموا۔ یہ استثناء واو کے معنی میں ہے۔ اسی سے شاعر کا قول ہے :
ما بالمدینۃ دار غیر واحدۃ دار الخلیفۃ الا دار مروانا
گویا اس شعر میں کہا : الا دار الخلیفۃ و دار مروان۔
اسی طرح یہ ارشاد ہے : الا الذین امنوا وعملوا الصلحت فلھم اجر غیر ممنون۔ (التین) یعنی والذین آمنوا زجاج نے اس قول کو باطل قرار دیا ہے۔ اس نے کہا یہ حذاق نحویوں کے نزدیک غلط ہے اور اس میں معانی کا بطلان ہے اور الا اور اس کا مابعد، اپنے ذکر سے مستغنی ہوجائیں گے۔ نحویوں کے نزدیک قول یہ ہے کہ یہ پہلے کلام سے استثناء نہیں ہے، یعنی جن لوگوں نے ان میں سے ظلم کیا وہ حجت پکڑتے ہیں۔ ابو اسحاق زجاج نے کہا : یعنی اللہ تعالیٰ نے قبلہ کے متعلق احتجاج کا امر اپنے فرمان ولکل وجھۃ ھو مولیھا میں بتایا کہ لوگوں کے لئے تم پر حجت نہ رہے مگر جو ایک واضح امر میں احتجاج کر کے ظلم کرے۔ جیسے تو کہتا ہے : مالک علی حجۃ الا الظلم او الا ان تظلمنی، یعنی مجھ پر تیرے لئے یقیناً کوئی حجت نہیں۔ لیکن تو مجھ پر ظلم کرتا ہے۔ اس کے ظلم کو حجت کہا کیونکہ اس ظالم سے حجت پکڑنے والے نے اسے حجت کہا ہے۔ اگرچہ زائل ہونے والی حجت ہے۔ قطرب نے کہا یہ بھی جائز ہے کہ معنی یہ ہو کہ تم پر لوگوں کے لئے حجت نہ ہو مگر ان پر جنہوں نے ظلم کیا، الذین، علیکن میں کم ضمیر سے بدل ہوگا۔ ایک گروہ نے کہا الا الذین مستثنیٰ متصل ہے۔ اس کا معنی حضرت ابن عباس وغیرہ سے مروی ہے۔ طبری نے اس کو اختیار کیا ہے اور کہا اللہ تعالیٰ نے نفی فرمائی کہ کسی کے لئے استقبال قبلہ میں نبی کریم ﷺ اور صحابہ پر حجت ہو۔ معنی یہ ہے کہ تم پر کسی کے لئے حجت نہیں ہے مگر باطل حجت۔۔۔ اس حیثیت سے کہ انہوں نے کہا : انہیں کس چیز نے پھیر دیا ہے اور محمد ﷺ اپنے دین میں متحیر ہے۔ وہ ہمارے قبلہ کی طرف متوجہ نہیں ہوا مگر اس لئے کہ ہم اس سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں، اس کے علاوہ وہ قوال جو بت پرستوں، یہودیوں یا منافقوں سے صادر ہوتے تھے۔ حجت سے مراد مخاصمت اور جھگڑنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو حجت کہا اور اس کے فساد کا حکم لگایا کیونکہ یہ ظالموں کی طرف سے تھی۔ ابن عطیہ نے کہا : بعض علماء نے کہا : یہ مستثنیٰ منقطع ہے۔ یہ اس صورت میں ہوگا کہ الناس سے مراد یہود ہوں۔ پھر عرب کے کفار کی استثناء کی گویا فرمایا : لیکن جنہوں نے ظلم کیا جو تم سے جھگڑتے ہیں۔ لیکن منھم کا قول اس تاویل کو رد کرتا ہے معنی یہ ہے کہ : لیکن جنہوں نے ظلم کیا یعنی کفار قریش نے اپنے اس قول میں ظلم کیا کہ محمد ﷺ ہمارے قبلہ کی طرف لوٹ آیا ہے وہ ہمارے پورے دین کی طرف لوٹ آئے گا۔ اور اس میں ہر وہ شخص داخل ہوگا جس نے بھی یہود کے علاوہ نازل ہونی والی آیت میں کلام کیا۔ حضرت ابن عباس، زید بن علی اور ابن زید نے الا الذین ظلموا پڑھا ہے یعنی ہمزہ کے فتحہ اور لام کی تخفیف کے ساتھ۔ اس معنی پر کہ یہ نیا کلام ہے اس صورت میں الذین ظلموا مبتدا ہوگا یا اغراء کے معنی پر ہوگا۔ اس صورت میں الذین فعل مقدر کے ساتھ منصوب ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلا تخشوھم۔ یعنی لوگوں سے نہ ڈرد واخشونی، خشیت کا اصل معنی وہ طمانیت ہے جو کسی تکلیف سے بچنے پر دل میں پیدا ہوتی ہے اور خوف کا مطلب دل کا گھبرانا ہے اعضاء ڈھیلے پڑجاتے ہیں۔ اعضاء کی خفت کی وجہ سے اسے خوف کہا جاتا ہے۔ آیت کا معنی اللہ تعالیٰ کے سوا کی تحقیر کرنا ہے، اللہ کے سوا ہر ایک کے امر کو چھوڑنا ہے اور اللہ تعالیٰ کے امر کی رعایت کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا نتم نعمتی علیکم یہ لئلایکون پر معطوف ہے۔ یعنی لان اتم۔ یہ اخفش کا قول ہے بعض نے فرمایا : یہ مبتدا کی حیثیت سے محل رفع میں ہے اور اس کی خبر مضمر ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے : ولاتم نعمتی علیکم عرفتکم قبلتی۔ یعنی میں تمہیں اپنے قبلہ کی معرفت عطا کر کے اپنی نعمت کو مکمل کر دوں۔ یہ زجاج کا قول ہے، نعمت کے مکمل کرنے سے مراد قبلہ کی طرف رہنمائی کرنا ہے۔ بعض میں تمہیں اپنے قبلہ کی معرفت عطا کر کے اپنی نعمت کو مکمل کر دوں۔ یہ زجاج کا قول ہے، نعمت کے مکمل کرنے سے مراد قبلہ کی طرف رہنمائی کرنا ہے۔ بعض نے فرمایا : اتمام نعمت سے مراد جنت کا دخول ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے کہا : بندے پر اللہ تعالیٰ کی نعمت مکمل نہ ہوگی حتیٰ کہ اسے جنت میں داخل کر دے گا۔ لعلکم تھتدون یہ پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 2:151آیت نمبر 151
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کما ارسلنا کاف مصدر محذوف کی صفت کے اعتبار سے محل نصب میں ہے۔ معنی یہ ہے لاتم نعمتی علیکم اتماما مثل ما ارسلنا۔ یہ فراء کا قول ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ تمام اقوال میں سے بہتر قول ہے۔ یعنی تم پر ابراہیم کی سنت کے بیان میں اپنی نعمت مکمل کردوں جس طرح ہم نے رسول مبعوث کیا۔ بعض نے فرمایا اس کا معنی ہے لعلکم تھتدون اھتداء مثل ما ارسلنا، تاکہ تم ہدایت پاؤ ایسی ہدایت جو ہمارے رسول بھیجنے کی طرح تھی۔ بعض نے فرمایا : یہ محل نصب میں بحیثیت حال ہے۔ معنی ہے میں تم پر اس حال میں اپنی نعمت مکمل کر دوں۔ تشبیہ اس طرح واقع ہے کہ قبلہ میں نعمت، رسالت میں نعمت کی طرح ہے۔ ذکر جس کا حکم دیا گیا ہے وہ بڑائی میں نعمت کی بڑائی کی طرح ہے بعض نے فرمایا : کلام کے معنی میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی مجھے یاد کرو جس طرح ہم نے تم میں رسول بھیجا جسے تم سچائی کے ساتھ پہچانتے ہو۔ پس تم مجھے توحید کے ساتھ اور اسے تصدیق کے ساتھ یاد کرو۔ اس قول پر تھتدون پر وقف جائز ہوگا۔
میں کہتا ہوں : اسی کو حکیم ترمذی نے اپنی کتاب میں اختیار کیا ہے، یعنی جس طرح میں نے تم پہ احسان کئے ہیں جن کو میں نے تم پر شمار کیا ہے۔ پس تم شکر کے ساتھ مجھے یاد کرو میں مزید نعمت کے ساتھ تجھے یاد کروں گا کیونکہ تمہارے اس ذکر میں میرے لئے شکر ہے اور میں نے شکر پر تم سے مزید کا وعدہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لئن شکرتم لازیدنکم (ابراہیم : 7) یہاں کما میں کاف اور سورت انفال میں کما اخرجک ربک (انفال : 5) میں کاف اور سورة حجر کے آخر میں کما انزلنا علی المقتسمین۔ (الحجر) میں کاف، اپنے مابعد کے متعلق ہے اس کا بیان آگے آئے گا۔
Ayahs 2:152–153آیت نمبر 152 تا 153
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذکرونی اذکرکم یہ امر اور جواب امر ہے۔ اس میں مجازاۃ کا معنی ہے۔ اس وجہ سے اسے جزم دی گئی ہے۔ ذکر کی اصل مذکور کے لئے دل کا متنبہ ہونا اور اس کے لئے دل کا بیدار ہونا۔ ذکر باللسان کو ذکر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ذکر قلبی پر دلالت کرتا ہے لیکن جب زبانی ذکر پر کثرت سے ذکر کا اطلاق ہوا تو یہی ذکر سمجھا جانے لگا۔ آیت کا معنی ہے : تم اطاعت کے ساتھ میرا ذکر کرو میں تمہارا ثواب اور مغفرت کے ساتھ ذکر کروں گا۔ یہ حضرت سعید بن جبیر کا قول ہے اور اسی طرح فرمایا : ذکر، اللہ کی اطاعت نہ کی اس نے اس کا ذکر نہیں کیا، اگرچہ وہ کثرت سے تسبیح، تہلیل اور قرآن کی تلاوت کرے۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اس نے اللہ کا ذکر کیا اگرچہ اس کی نماز اور روزہ کم بھی ہوں اور خیر کے اعمال تھوڑے بھی ہوں اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی وہ اللہ تعالیٰ کو بھول گیا، اگرچہ نماز، روزہ اور خیر کے کام زیادہ بھی ہوں۔ ابوعبید اللہ محمد بن خویز منداد نے ” احکام القرآن “ میں اس کو ذکر کیا ہے۔۔۔ ابو عثمان نہدی نے کہا : میں اس گھڑی کو جانتا ہوں جب اللہ تعالیٰ ہمارا ذکر کرتا ہے، ان سے پوچھا گیا تم یہ کیسے جان لیتے ہو ؟ ابو عثمان نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فاذکرونی اذکرکم (تم میرا ذکر کرو میں تمہارا ذکر کروں گا) سدی نے کہا : جو بندہ اللہ کا ذکر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرت ا ہے، جو مومن اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے یاد کرتا ہے اور کوئی کافر اسے یاد نہیں کرتا مگر اللہ تعالیٰ اسے عذاب سے یاد کرتا ہے۔ ابو عثمان سے پوچھا گیا کہ ہم اللہ کا ذکر کرتے ہیں لیکن ہم اپنے دلوں میں کوئی مٹھاس اور ذوق نہیں پاتے ؟ ابو عثمان نے کہا : تم اللہ تعالیٰ کی اس پر حمد کرو کہ اس نے تمہارے ظاہری اعضاء کو اطاعت کے ساتھ مزین کیا۔ حضرت ذوالنون مصری نے کہا : جس نے حقیقۃً اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا وہ اپنے پہلو میں ہر چیز کو بھول گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ہر چیز کی حفاظت کی اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر چیز سے عوض ہوگا۔ حضرت معاذ بن جبل ؓ نے کہا : ابن آدم نے کوئی ایسا عمل نہیں کیا جو اسے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے، اللہ تعالیٰ کے ذکر سے زیادہ نجات دینے والا ہو۔
ذکر کی فضیلت اور اس کے ثواب میں احادیث کثیر ہیں جن کو ائمہ حدیث نے ذکر کیا ہے۔ ابن ماجہ نے حضرت عبد اللہ بن بسر سے روایت کیا ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : اسلام کی شرائع (احکام) بہت سے ہیں مجھے ان میں سے کوئی ایسی چیز بتائیں جس کو میں مضبوطی سے پکڑلوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تیری زبان ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر ہو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے، اور ان کے ہونٹ میرے ذکر کے ساتھ متحرک ہوتے ہیں۔ اس عنوان کی احادیث اور ذکر کا مزید بیان یایھا الذین امنوا اذکروا اللہ ذکرا کثیرا۔ (احزاب) کے تحت آئے گا ذکر سے مراد دل کا ذکر ہے جو عمومی حالات میں ہمیشہ رہنا واجب ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واشکروالی ولا تکفرون۔ فراء نے کہا : کہا جاتا ہے : شکرتک وشکرت لک نصحتک و نصحت لک۔ پہلا فصیح ہے۔ شکر کا مطلب احسان کو جاننا اور اس کو بیان کرنا ہے اس کا لغوی معنی ظاہر ہونا ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ بندے کا اللہ تعالیٰ کا شکریہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسان کو یاد کرکے اس کی ثنا کرے اور اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کا شکر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت پر اپنے بندے کی تعریف فرماتا ہے مگر بندے کا شکر زبان سے اور دل سے طاعات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے انعام کو یاد کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تکفرون یہ نہی ہے اسی وجہ سے جمع کا نون حذف کیا گیا ہے اور یہ نون متکلم کا ہے اور یا کو حذف کیا گیا کیونکہ یہ آیت کا سرا ہے اور غیر قرآن میں اس کا اثبات احسن ہے، یعنی میری نعمت اور میرے احسان کا انکار نہ کرو۔ یہاں کفر سے مراد جھٹلانا نہیں بلکہ نعمت کا چھپانا ہے۔ کفر کے لغوی معنی کی تحقیق گزر چکی ہے اور صبر اور نماز سے استعانت کا معنی بھی گزر چکا ہے۔ اس لئے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
Ayah 2:154آیت نمبر 154
یہ اس آیت کی مثل ہے : ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا، بل احیاء عند ربھم یرزقون۔ (آل عمران) اس آیت کے تحت شہید اور شہداء کے احکام کا بیان آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ جب اللہ تعالیٰ شہداء کو ان کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے تاکہ انہیں رزق دے تو جائز ہے کہ وہ کفار کو زندہ کرے تاکہ انہیں عذاب دے۔ اس آیت میں عذاب قبر پر دلیل ہے۔ شہداء زندہ ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ زندہ ہوں گے۔ اگر یہ معنی ہوتا تو شہداء اور دوسرے لوگوں میں فرق نہ ہوتا کیونکہ آئندہ تو ہر ایک زندہ ہوگا۔ اور اس پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ولکن لا تشعرون بھی دلالت کرت ا ہے۔ مومنین جانتے ہیں کہ وہ زندہ ہوں گے۔ اموات کو مبتدا کے اضمار کی بنا پر رفع دیا گیا ہے اسی طرح بل احیاء کی ترکیب ہے، یعنی ھم اموات وھم احیاء۔ ان میں قول کو عمل کرانا صحیح نہیں کیونکہ قول اور اس کے درمیان مناسبت نہیں ہے۔ جس طرح تیرے اس قول میں صحیح ہے : قلت کلاما وحجۃ۔
Ayah 2:155آیت نمبر 155
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولنبلونکم یہ واو مفتوحہ ہے۔ سیبویہ کے نزدیک کیونکہ التقائے ساکنین پایا گیا ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : جب واو نون ثقیلہ کے ساتھ ملائی گئی تو فعل مبنی ہوگیا۔ پس یہ خمسۃ عشر کے قائم مقام ہوگیا۔ بلاء کبھی اچھی ہوتی ہے کبھی بری۔ اس کا اصل معنی محبت ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم تمہیں آزمائیں گے تاکہ ہم مجاہد اور صابر کو آنکھوں سے دیکھنے والے کے علم کی طرف علم حاصل کرلیں تاکہ اس پر جزا واقع ہو جیسا کہ گزر چکا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کے ساتھ آزمائے گئے تاکہ بعد والوں کے لئے نشانی بن جائیں اور وہ جان لیں کہ انہوں نے اس پر صبر کیا جب ان کے لئے حق واضح ہوگیا۔ بعض علماء نے فرمایا : انہیں اس سے آگاہ کیا تاکہ انہیں یقین ہوجائے کہ انہیں مصائب سے دو چار ہونا پڑے گا۔ پس اس پر وہ اپنے نفسوں کو تسکین دیں اور جزع و فزع سے دور رہیں۔ اس آیت میں عزم اور نفس کو تسکین دینے میں جلدی ثواب ملنے کا مژدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بشیء یہ لفظا مفرد ہے اور اس کا معنی جمع ہے۔ ضحاک نے باشیاء جمع پڑھا ہے جمہور نے مفرد پڑھا ہے یعنی کچھ خوف سے کچھ بھوک سے۔ پہلے کے ساتھ شے کے ذکر پر اختصار کی وجہ سے اکتفا کیا۔ من الخوف یعنی دشمن کا خوف اور جنگ کی گھبراہٹ۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ امام شافعی نے فرمایا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔ والجوع یعنی قحط سالی کے ساتھ۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ امام شافعی نے فرمایا رمضان کے مہینہ کی بھوک مراد ہے۔ ونقص من الاموال کفار سے جنگ لڑنے کے ساتھ۔ بعض نے فرمایا : مال کے ضیاع کے ساتھ۔ امام شافعی نے فرمایا فرضی زکوٰۃ کے ساتھ۔ الانفس حضرت ابن عباس نے فرمایا : جہاد میں قتل اور موت کے ساتھ ہم جانوں میں کمی کرکے آزمائیں گے۔ امام شافعی نے فرمایا : امراض کے ساتھ الثمرت امام شافعی نے فرمایا اس سے مراد بچوں کی موت ہے۔ انسان کی اولاد اس کے دل کا ثمرہ ہوتی جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس سے مراد نبات کی قلت اور برکات کا انقطاع ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وبشر الصبرین صبر پر ثواب کی بشارت دو ۔ الصبر کا اصل معنی روکنا ہے۔ صبرکا ثواب غیر مقدر ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے لیکن صبر، پہلے صدمہ کے وقت ہوتا جیسا کہ بخاری نے حضرت انس سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، فرمایا : صبر پہلے صدمہ کے وقت ہے۔ مسلم نے اس سے مکمل ذکر کی ہے۔ صبر جو نفس پر شاق ہوتا ہے اور اس پر بہت بڑا ثواب ہوتا ہے وہ مصائب کے ہجوم اور ان کی حرارت کے وقت ہے یہ دل کی قوت اور صبر کے مقام پر ثابت قدم رہنے پر دلالت کرتا ہے۔ جب مصیبت کی حرارت ٹھنڈی ہوجاتی ہے تو اس وقت ہر ایک صبر کرتا ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے، عقلمند پر واجب ہے کہ وہ مصیبت کے وقت اس کیفیت کو لازم پکڑے جو احمق کی تین دن کے بعد ہوتی ہے۔ سہل بن عبد اللہ تستری نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا وبشر الصبرین تو صبر زندگی بن گیا۔ صبر کی دو قسمیں ہیں : ایک اللہ تعالیٰ کی معصیت (نافرمانی) سے صبر کرنا، یہ مجاہد ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرنا، یہ عابد ہے۔ جب آدمی اللہ تعالیٰ کی معصیت سے صبر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اپنی قضا پر رضا کا وارث بنا دیتا ہے۔ رضا کی علامت، نفس پر مکروہات اور محبوبات وارد ہونے پر دل اپنی جگہ سکون میں رہے۔ خواص نے کہا : صبر، کتاب و سنت کے احکام پر ثابت رہنا ہے۔ رویم نے کہا : شکوہ کا ترک کرنا ہے۔ حضرت ذوالنون مصری نے کہا : صبر، اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا ہے۔ استاذ ابو علی نے کہا : صبر کی تعریف یہ ہے کہ تقدیر پر معترض نہ ہو۔ رہا شکوہ کے بغیر مصیبت کا اظہار، یہ صبر کے منافی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کے قصہ میں فرمایا : انا وجدنہ صابرا، نعم العبد (ص : 44) (بےشک ہم نے پایا انہیں صبر کرنے والا بڑا خوبیوں والا بندہ) اس کے ساتھ یہ بھی ان کے متعلق خبر دی کہ انہوں نے کہا : مسنی الضر (الانبیاء : 83)
Ayahs 2:156–157آیت نمبر 156 تا 157
اس میں چھ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مصیبۃ : ہر وہ چیز جو مومن کو اذیت اور تکلیف دیتی ہے وہ مصیبت ہے۔ کہا جاتا ہے : اصابہ، اصابۃ و مصابۃ ومصابا۔ اور مصیبۃ کی جمع مصائب ہے۔ المصوبۃ (صاد کے ضمہ کے ساتھ) مصیبت کی مثل ہے۔ عرب ہمزہ کے ساتھ جمع بناتے ہیں۔ المصائب اس کی اصل واو ہے گویا انہوں نے اصلی کو زائد کے ساتھ مشابہت دی۔ اس کی جمع مصارب بھی آتی ہے یہ اصل ہے۔ المصاب الاصابۃ۔ شاعر نے کہا :
أسلیم ان مصابکم رجلا اھدی السلام تحیۃ ظلم
وصاب السھم القرطاس، یصیب صیبابہ، اصاب کے معنی میں ہے۔ المصیبۃ۔ النکبۃ ینکبھا الانسان۔ اور یہ شر میں استعمال ہوتا ہے۔ حضرت عکرمہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک رات چراغ بجھ گیا تو آپ ﷺ نے پڑھا : انا للہ وانا الیہ رجعون۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا یہ بھی مصیبت ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں ہر وہ چیز جو مومن کو اذیت دے وہ مصیبت ہے۔
میں کہتا ہوں : یہ معنی صحیح حدیث میں ثابت ہے جو مسلم نے حضرت ابو سعید اور حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے، ان دونوں حضرات نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ مومن کو جو مصیبت، تھکم، بیماری، غم، حتیٰ کہ دل کا روگ جو اسے پریشان کرتا ہے، لاحق ہوتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے گناہ مٹائے جاتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 2: ابن ماجہ نے اپنی سنن میں اپنی سند کے ساتھ حضرت فاطمہ بنت حسین سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس کو کوئی مصیبت لاحق ہوئی ہو پھر اس نے اپنی مصیبت کو یاد کیا اور پھر انا للہ وانا الیہ رجعون۔ پڑھا ہو اگرچہ اس مصیبت کو بہت سا عرصہ گرز چکا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اسی طرح کا اجر لکھ دیتا ہے جس دن اسے مصیبت پہنچتی تھی۔
مسئلہ نمبر 3: مصائب میں سے بڑی مصیبت دین کی مصیبت ہے۔ ابو عمر نے فریابی سے ذکر کیا ہے، فرمایا : ہمیں فطر بن خلیفہ نے بیان کیا، فرمایا : ہمیں حضرت عطا بن ابی رباح نے بیان کیا، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے مایا : جب تم میں سے کسی کو مصیبت پہنچے تو میری وجہ سے جو اسے مصیبت پہنچی ہے اسے یاد کرنا چاہئے کیونکہ یہ بہت بڑی مصیبت ہے۔ یہ سمرقندی ابو محمد نے اپنی مسند میں نقل کی ہے۔ ابو نعیم نے ہمیں بتایا، ہمیں فطر نے بتایا۔۔۔ پھر اسی طرح حدیث بیان کی ہے۔ اسی طرح مکحول سے مرسلاً روایت کی ہے۔ حضرت ابوعمر نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا کیونکہ آپ سے جدائی کی مصیبت ہر مصیبت سے بڑی ہے جو آپ ﷺ کے بعد قیامت تک بندہ مومن کو پہنچنے والی ہے۔ آپ ﷺ کے جانے سے وحی کا سلسلہ ختم ہوگیا، نبوت کا دروازہ بند ہوگیا۔ سب سے پہلا شر جو ظاہر ہوا وہ عربوں وغیرہ کا ارتداد تھا۔ یہ خیر کا پہلا انقطاع اور پہلا نقصان تھا۔ حضرت ابو سعید نے کہا ہم نے رسول اللہ ﷺ کی قبر کی مٹی سے ہاتھ نہیں جھاڑے تھے حتیٰ کہ ہمارے دلوں نے انکار کیا۔ ابو العتاہیہ نے اپنی نظر میں اس حدیث کے معنی کو کتنا حسین انداز میں پیش کیا ہے۔
اصبر لکل مصیبة و تجلد واعلم بان المرء غیر مخلد
اوما تری ان المصائب جمۃ وتری المنیۃ للعباد بمرصد
من لم یصب ممن تری بمعیبة ھذا سبیل لست فیہ باوحد
فاذا ذکرت محمد و مصابہ فاذکر مصابک بالنبی محمد ﷺ
تو ہر مصیبت اور تکلیف پر صبر کر اور جان لے کہ انسان ہمیشہ رہنے والا نہیں۔ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ مصیبتیں بہت سی ہیں اور موت بندوں کی تاڑ میں ہے۔ کون ہے جن کو مصیبت نہیں پہنچی، تو اس راستہ میں اکیلا نہیں ہے۔ جب تو حضرت محمد ﷺ اور آپ کی مصیبت کو ذکر کرے تو اپنی مصیبت کو نبی محمد ﷺ کے ساتھ یاد کرو۔
مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انا للہ وانا الیہ رجعون اللہ تعالیٰ نے ان کلمات کو مصیبت زدہ کے لئے پناہ گاہ بنایا ہے اور آزمائش میں مبتلا کئے گئے لوگوں کے لئے حفاظت کا باعث بنایا ہے، کیونکہ یہ مبارک معانی کا جامع ہے کیونکہ اناللہ کا قول توحید اور عبودیت کا اقرار ہے اور اللہ تعالیٰ کی بادشاہی کا اقرار ہے اور وانا الیہ رجعون کا ارشاد اپنے نفسوں پر ہلاکت کا اقرار ہے اور قبور سے اٹھنے کا اقرار ہے اور اس پر یقین کا اظہار ہے کیونکہ تمام امور کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے کہا یہ کلمات، ہمارے نبی سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کئے گئے۔ اگر حضرت یعقوب (علیہ السلام) اس کو پہچان لیتے تو یہ نہ کہتے یا اسفی علی یوسف۔
مسئلہ نمبر 5: ابو سفیان نے کہا : میں نے اپنے بیٹے سنان کو دفن کیا جبکہ ابو طلحہ خولانی قبر کے کنارہ پر کھڑے تھے۔ جب میں نے قبر سے نکلنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے میرے ہاتھ سے پکڑا اور مجھ سے محبت کا اظہار کیا اور کہا : اسے ابو سنان ! کیا میں تجھے بشارت نہ دوں۔ محمد ضحاک نے حضرت ابو موسیٰ سے روایت کرکے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب بندے کا بیٹا فوت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتا ہے : کیا تم نے میرے بندے کے بیٹے کی روح قبض کرلی ہے ؟ فرشتے کہتے ہیں : ہاں۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے : کیا تم نے اس کے دل کا پھل توڑ لیا ہے ؟ وہ کہتے ہیں : ہاں۔ اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے : میرے بندے نے (اس صدمہ پر) کیا کہا ؟ فرشتے کہتے ہیں : اس نے تیری حمد کی اور انا للہ وانا الیہ رجعون پڑھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے کے لئے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھو۔
مسلم نے حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ مسلمان کو جو مصیبت پہنچتی ہے پھر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اناللہ وان الیہ رجعون اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیراً منھا، کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس سے بہتر بدلا دیتا ہے۔ یہی تنبیہ ہے وبشر الصبرین۔ کے ارشاد پر۔ یا تو نعم البدل مل جائے گا جیسے اللہ تعالیٰ نے حضرت ام سلمہ کو رسول اللہ ﷺ کی ذات عطا فرمائی تھی، جب ان کا خاوند ابو سلمہ فوت ہوا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح کرلیا تھا۔ یا بڑا ثواب عطا فرماتا ہے جیسا کہ حضرت ابو موسیٰ کی حدیث میں ہے اور کبھی یہ دونوں چیزیں ملتی ہیں۔
مسئلہ نمبر 6: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اولئک علیھم صلوت من ربھم ورحمۃ یہ صبر کرنے والوں اور انا للہ وانا الیہ رجعون کہنے والوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بندے پر صلاۃ کا مطلب، اس کا عفو، رحمت، برکت اور دنیا و آخرت میں شرف بخشا ہے۔ رجاج نے کہا : اللہ تعالیٰ کی طرف سے صلاۃ کا مطلب بخشا اور اچھی تعریف ہے۔ اسی سے میت پر صلاۃ ہے۔ یہ اس کی تعریف اور اس کے لئے دعا ہے۔ رحمت کا لفظ دوبارہ ذکر فرمایا۔ اس کی وجہ تاکید اور معنی کا اشاع ہے کیونکہ لفظ مختلف ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا من البنیات والھدیٰ ۔ اور ارشاد ہے : ام یحسبون انا لا نسمع سرھم ونجوھم (زخرف : 80) شاعر نے کہا :
صلی علی یحییٰ واشیاعہ رب کریم و شفیع مطاع
یحییٰ اور اس کے گروہ پر رب کریم اور شفیع مطاع نے صلاۃ بھیجی۔ بعض علماء نے فرمایا : رحمت سے مراد مصیبت کا دور کرنا اور حاجت کو پورا کرنا ہے۔ بخاری میں ہے، حضرت عمر نے فرمایا : نعم العدلان ونعم العلاہ : الذین اذا اصابتھم مصیبۃ قالوا انا للہ و انا الیہ رجعون۔ اولئک۔۔۔۔۔ المھتدون۔ (بقرہ) (عدلان سے مراد الصلاۃ اور رحمت ہے اور علاوہ سے مراد اولئک ھم المھتدون ہے (عدلان، اونٹ کے دونوں طرفوں کے بوجھ کو کہتے ہیں اور علاوہ وہ بوجھ ہوتا ہے جو اونٹ کی پیٹھ پر ہوتا ہے) بعض علماء نے فرمایا : رحمت سے مراد ثواب کا استحقاق اور اجر کا بڑا کرنا ہے۔ بعض نے فرمایا : مصائب کا آسان کرنا اور حزن میں تخفیف کرنا ہے۔
Ayah 2:158آیت نمبر 158
اس میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: بخاری نے عاصم بن سلیمان سے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے حضرت انس بن مالک سے صفا ومروہ کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا : ہم دیکھتے تھے کہ صفاء ومروہ زمانہ جاہلیت کے امور سے ہیں۔ جب اسلام آیا تو ہم ان کے طواف سے رک گئے، اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل کیا : ان الصفا۔۔۔۔ الخ۔ ترمذی نے حضرت عروہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے حضرت عائشہ سے کہا : میں کسی پر کوئی گناہ نہیں دیکھتا جو صفا ومروہ کے دعمیان طواف نہ کرے اور میں بھی کوئی پروا نہیں کرتا کہ میں ان کے درمیان طواف نہ کروں۔ حضرت عائشہ نے کہا : اے میرے بھانجے ! تو نے بری بات کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صفا ومروہ کا طواف کیا اور مسلمانوں نے طواف کی اجو منات بت کے لئے احرام باندھتا تھا، جو مثلل میں تھا تو صفا ومروہ کے درمیان طواف نہیں کرتا تھا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : فمن حج البیت۔۔۔۔ بھما۔ اگر بات اس طرح ہوتی جس طرح تو نے کہا ہے تو عبارت اس طرح ہوتی۔ فلا جناع علیہ الایطوف بھما۔ زہری نے کہا : میں نے روایت ابوبکر بن عبد الرحمن بن حارث کے سامنے ذکر کی تو انہوں نے اسے ناپسند کیا اور فرمایا : یہ علم ہے۔
میں نے بہت سے اہل علم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جو عربوں میں سے صفا ومروہ کا طواف نہیں کرتے تھے وہ کہتے تھے : ہمارا طواف ان دو پہاڑوں کے درمیان امر جاہلیت سے تھا اور انصار میں سے کچھ لوگوں نے کہا : ہمیں بیت اللہ کے طواف کا حکم دیا گیا ہے، صفا ومروہ کے طواف کا حکم نہیں دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ان الصفا والمروۃ من شعآئر اللہ۔ ابوبکر بن عبد الرحمن نے کہا : میرا خیال ہے یہ آیت ان لوگوں اور ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور فرمایا یہ حدیث حسن، صحیح ہے۔ بخاری نے اسکا معنی نقل کیا ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ان الصفا والمروۃ من شعآئر اللہ، کے الفاظ کے بعد یہ ہے، حضرت عائشہ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے صفا ومروہ کے درمیان طواف کی سنت قائم فرمائی، اور کسی کے لئے جائز نہیں کہ وہ ان کا طواف چھوڑ دے۔ پھر میں نے ابوبکر بن عبد الرحمن کو بتایا تو انہوں نے کہا : جو تو نے سنا ہے یہ علم ہے۔ میں نے اہل علم سے سنا ہے وہ ذکر کرتے تھے کہ لوگ۔۔۔ مگر جن کا حضرت عائشہ نے ذکر کیا، منات بت کے لئے احرام باندھتے تھے وہ تمام صفا ومروہ کے درمیان طواف کرتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر کیا اور قرآن میں صفا ومروہ کا ذکر نہیں کیا۔ صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ ہم صفا ومروہ کا طواف کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا حکم دیا ہے اور صفا کا ذکر نہیں کیا ہے حتیٰ کہ بیت اللہ کے طواف کے بعد اس کا ذکر کیا۔
ترمذی نے عاصم بن سلیمان الاحول سے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے حضرت انس بن مالک سے صفا ومروہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ دونوں جاہلیت کے شعائر سے تھیں جب اسلام آیا تو ہم ان کے طواف سے رک گئے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ان الصفا۔۔۔۔ یطوف بھما فرمایا یہ تطوع ہے۔۔۔ ومن تطوع۔۔۔۔ شاکر علیم۔۔۔ فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ یہ بخاری نے نقل کی ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے فرمایا : زمانہ جاہلیت میں شیاطین ساری رات صفا ومروہ کے درمیان طواف کرتے رہتے تھے اور صفا ومروہ کے درمیان بت رکھے ہوئے تھے۔ جب اسلام ظاہر ہوا تو مسلمانوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ﷺ ہم صفا ومروہ کے درمیان طواف نہیں کرتے کیونکہ یہ شرک ہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ شعبی نے کہا : زمانہ جاہلیت میں صفا پر ایک بت تھا جس کو اساف کہا جاتا تھا۔ اور مروہ پر ایک بت تھا جسے نائلہ کہا جاتا تھا۔ جب لوگ طواف کرتے تو ان بتوں کو چھوتے تھے۔ مسلمان اس وجہ سے ان کے درمیان طواف کرنے سے رک گئے تو یہ آیت نازل ہوئی۔
مسئلہ نمبر 2: لغت میں الصفاء صاف پتھر کو کہتے ہیں۔ مکہ میں یہ ایک معروف پہاڑ ہے اسی طرح مروہ بھی ایک پہاڑی ہے، اسی وجہ سے دونوں کو معرف بالام ذکر کیا۔ الصفا ذکر کیا ہے کیونکہ اس پر حضرت آدم (علیہ السلام) ٹھہرے تھے تو ان کے نام سے اسے موسوم کیا گیا اور حضرت حوا مروہ پر ٹھہری تھیں تو اسے عورت کے اسم سے تعبیر کیا۔ اس وجہ سے اسے مؤنث ذکر کیا۔ شعبی نے کہا : صفا پر ایک بت تھا جس کو اساف کہا جاتا تھا اور مروہ پر ایک بت تھا جس کو نائلہ کہا جاتا تھا، اسی اعتبار سے ان کی تذکیر و تانیث جاری ہوئی۔ مذکر کو مقدم کیا۔ یہ عمدہ ہے کیونکہ احادیث اس معنی پر دلالت کرتی ہیں اور جو لوگ ان میں طواف ناپسند کرتے تھے اس کی وجہ بھی یہی تھی حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں حرج کو اٹھا دیا۔ اہل کتاب کا خیال ہے کہ اساف اور نائلہ نے کعبہ میں زنا کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں پتھروں میں مسخ کردیا۔ انہیں صفا ومروہ پر رکھا گیا تاکہ لوگ ان سے عبرت حاصل کریں جب عرصہ زیادہ گزر گیا تو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان کی عبادت ہونے لگی۔ واللہ اعلم
الصفا (مقصود ہے) یہ صفاۃ کی جمع ہے اس سے مراد صاف پتھر ہے۔ بعض نے فرمایا : الصفا، مفرد اسم ہے اس کی جمع صفی اور اصفاء ہے جسے ارجاء جمع ہے۔ راجز نے کہا :
کأن متنیہ من النفی مواقع الطیر علی الصفی
بعض علماء نے فرمایا : صفا کی شروط میں سے سفیدی اور صلابت ہے اور یہ صفا یصفر سے مشتق ہے یعنی مٹی سے پاک۔ المروہ یہ المرد کا واحد ہے، یہ چھوٹے چھوٹے پتھر جن میں نرمی ہوتی ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ سخت پتھر ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ مروہ پتھر ہے۔ شاعر نے کہا :
وتولی الارض خفا ذابلا فاذا ما صادف المرو رضع
شاعر نے مرد کو پتھر کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ ابو ذؤیب نے کہا :
حتی کانی للحوادث مروۃ بصفا المشقر کل یوم تقرع
شاعر نے یہاں بھی پتھر کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ کالے پتھر ہیں۔ بعض نے فرمایا : یہ سفید چمکدار پتھر ہیں جن میں آگ ہوتی ہے۔
مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ نے فرمایا : من شعآئر اللہ یہ عبادت کی جگہوں میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ یہ شعیرۃ کی جمع ہے۔ الشعاء ر وہ جگہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے علامات بنایا۔ جیسے موقف، سعی اور نحر۔ شعار کا مطلب علامت ہے۔ کہا جاتا ہے : اشعر الھدی۔ لوہے کی نوک سے اونٹ کی کوہان میں علامت بنانا، یہ تیرے قول اشعرت سے ہے میں نے علامت بنائی۔ کمیت نے کہا :
نقتلھم جیلا فجیلا تراھم شعائر قربان بھم یتقرب
مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فمن حج البیت۔ حج کا معنی قصد ہے الحج کا معنی قصد کرنا ہے۔ شاعر نے کہا :
فاشھد من۔۔۔ حلولا کثیرۃ یحجون سب الزبرقان المزعفرا
السب، یہ مشترک لفظ ہے، ابو عبیدہ نے کہا : السب (کسرہ کے ساتھ) بہت زیادہ گالی دینے والا۔ سبک، جو تجھے گالی دے۔ شاعر نے کہا :
لا تسبننی فلست بسبی ان سبی من الرجال الکریم
السب کا معنی دوپٹہ بھی ہے اسی طرح عمامہ بھی اس کا معنی ہے۔ مخبل سعدی نے کہا :
یحجون سب الزبرقان المزعفرا وہ زعفران سے رنگے ہوئے عمامے باندھے ہوئے حج کرتے ہیں۔
لغت ہزیل میں السب، رسی کو بھی کہتے ہیں۔ ابو ذؤیب نے کہا :
تدلی علیھا بین سب و خیطة بجرداء مثل الوکف یکبو غرابھا
السبوب، رسیاں۔ روئی کا باریک دھاگہ۔ السبیبۃ اس کی مثل ہے جمع السبوب والسبائب۔ یہ جوہری کا قول ہے۔ حج الطبیب الشجۃ، جب طبیب سر مچو کے ساتھ زخم کی پیمائش کا قصد کرے۔ شاعر نے کہا :
یحج مأمرمۃ فی قعرھا لجف
وہ دماغ کے زخم کا علان کرتا ہے جس کی گہرائی خوفناک ہے۔ اللجف، دھنسنے کو کہتے ہیں تلجفت البر کنویں کا نچلا حصہ دھنس گیا۔ پھر یہ اسم بیت اللہ کی طرف افعال مخصوصہ کھے ساتھ قصد کرنے کے لئے خاص ہوگیا۔
مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اواعتمر یعنی زیارت کرنا۔ العمرۃ کا معنی زیارت ہے۔ شاعر نے کہا :
لقد سما ابن معمر حین اعتمر مغزی بعیدا من بعید وضبر
مسئلہ نمبر 6: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلا جناح علیہ یعنی اس پر گناہ نہیں ہے۔ اس کی اصل جنوح سے ہے۔ اس کا معنی مائل ہونا ہے اسی سے الجوانح ہے۔ اعضاء کو ان کے ٹیڑھے ہونے کی وجہ سے جو انح کہا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ کی تاویل اس آیت کے ضمن میں گزر چکی ہے۔ ابن عربی نے کہا : اس میں قول کی تحقیق یہ ہے کہ کہنے والے کا قول لا جناح علیک ان تفعل کا مطلب کا مباح کرنا ہے اور لا جناح علیک الاتفعل کا مطلب ہے فعل کے ترک کی اباحت۔ جب عروہ نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سنا : فلا جناح علیہ ان یطوف بھما۔ فرمایا : یہ دلیل ہے کہ طواف کا ترک کرنا جائز ہے۔ پھر شریعت کو اس پر پایا کہ طواف چھوڑنے میں رخصت نہیں پھر ان دو متعارض کو جمع کرنا طلب کیا۔ حضرت عائشہ نے عروہ سے کہا : فلا جناح علیہ ان یطوف بھما۔ طواف کے ترک کی دلیل نہیں ہے۔ یہ ترک کی دلیل تب ہوتا اگر عبارت اس طرح ہوتی : فلا جناح علیہ الایطوف بھما۔
پس یہ لفظ طواف کے ترک کی اباحت کیلئے نہیں آیا، اس میں اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ یہ طواف کی اباحت کے افادہ کے لئے آیا ہے اس شخص کے لئے جو جاہلیت میں اجتناب کرتے تھے یا جو جاہلیت میں ان کا طواف کرتے تھے ان بتوں کا قصد کرتے ہوئے جو ان پہاڑوں کے اوپر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ طواف ممنوع نہیں ہے جب طواف کرنے والا باطل کا قصد نہ کرے، اگر کہا جائے کہ عطا نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فلا جناح علیہ الایطوف بھما پڑھا ہے اور یہی حضرت ابن مسعود کی قراءت ہے اور روایت ہے کہ حضرت ابی کے مصحف میں بھی اسی طرح ہے۔ حضرت انس سے اس کی مثل مروی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ سب اس کے خلاف ہے جو مصحف میں ہے اس لئے ایک قراءت کی وجہ سے اس کو نہیں چھوڑا جاسکتا جو مصحف میں ہے یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ قراءت صحیح ہے یا نہیں ہے۔ عطا بغیر سماع کے حضرت ابن عباس سے مرسل روایات نقل کرتے ہیں اور حضرت انس سے جو روایت ہے وہ بھی ثقہ نہیں ہے یا (لا) تاکید کے لئے زائدہ ہوگا۔ جیسا کہ شاعر نے کہا :
وما ألوم البیض الا تسخرا لما راین الشمط القفندرا
اس شعر میں ألا تاکید کے لئے زائدہ ہے۔
مسئلہ نمبر 7: ترمذی نے حضرت جابر سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ میں آئے تو بہت اللہ کے سات چکر لگائے اور پھر آیت پڑھی : واتخذا من مقام ابراھیم مصلی (البقرہ : 125) پھر مقام کے پیچھے نما پڑھی پھر حجر اسود کے پاس آئے اسے استلام کیا پھر فرمایا : ہم وہاں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے اللہ تعالیٰ نے آغاز فرمایا آپ نے صفا سے شروع فرمایا اور فرمایا : صفا اور مروہ شعائر اللہ سے ہیں۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس پر اہل علم کے نزدیک عمل ہے صفا سے آغاز کرے۔ اگر مروہ سے پہلے شروع کیا تو یہ جائز نہ ہوگا پھر صفا سے شروع کرے۔
مسئلہ نمبر 8: صفا ومروہ کے درمیان سعی کے وجوب میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل نے فرمایا : یہ رکن ہے۔ یہ امام مالک کا مشہور مذہب ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : سعی کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی فرض کی ہے۔ اس حدیث کو دارقطنی نے نقل کیا ہے۔ اور کتب بمعنی اوجب ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کتاب علیکم الصیام (البقرہ : 183) تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں اور حضور ﷺ کا ارشاد ہے پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے بندوں پر فرض کی ہیں۔ ابن ماجہ نے شیبہ کی ام ولد سے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو صفا ومروہ کے درمیان سعی کرتے دیکھا آپ فرما د ہے تھے : ” درمیانی وادی کو تیز چل کر طے کیا جائے گا “۔ جو سعی کو چھوڑ دے یا ایک چکر بھول کر جان بوجھ کو چھوڑ دے تو وہ اپنے شہر سے لوٹ آئے یا جہاں سے اسے یاد آئے مکہ کی طرف لوٹ آئے طواف کرے اور سعی کرے کیونکہ سعی ہمیشہ طواف کے ساتھ متصل ہوتی ہے۔ امام مالک کے نزدیک یہ برابر ہے خواہ حج میں ہو یا عمرہ میں ہو۔ اگرچہ عمرہ میں فرض نہیں۔ اگر اس نے حقوق زوجیت ادا کر لئے ہوں تو اس پر امام مالک نے نزدیک تمام مناسک پورے کرنے کے باوجود اس پر عمرہ اور ہدی ہوگی۔
امام شافعی نے فرمایا : اس پر ہدی ہوگی عمرہ کا کوئی معنی نہیں جب وہ لوٹ آئے طواف کرے اور سعی کرے۔ امام ابوحنیفہ نے اور ان کے اصحاب، ثوری اور شعبی نے کہا : سعی واجب نہیں ہے اگر کوئی حاجی سعی چھوڑ دے حتیٰ کہ وہ اپنے شہر چلا جائے تو اس کا تقصان دم سے پورا کیا جائے گا کیونکہ سعی حج کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ یہ امام مالک کا قول العتبیۃ میں ہے۔ حضرت ابن عباس، حضرت ابن زبیر، حضرت انس بن مالک اور ابن سیرین سے روایت ہے کہ سعی تطوع (نفل) ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ومن تطوع خیرا حمزہ اور کسائی نے یطوع مضارع مجزوم پڑھا ہے اسی طرح فمن تطوع خیرا فھو خیر لہ میں پڑھا ہے۔ باقی قراء نے ماضی کا صیغہ تطوع پڑھا ہے۔ تطوع سے مراد وہ نیک عمل ہوتا ہے جو مومن اپنی طرف سے کرتا ہے پس جو نوافل ادا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی قدردانی فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بندے کے لئے شکریہ ہے کہ وہ اسے اپنی اطاعت پر ثابت رکھتا ہے۔ صحیح وہ ہے جو امام شافعی کا نظریہ ہے۔ جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : مجھ سے اپنے مناسک (حج) سیکھ لو۔ پس یہ حج کے مجمل کا بیان ہوگیا۔ پس فرض ہونا واجب ہے جس طرح نماز کی رکعات تعداد بیان فرمائی۔ جو اس طرح ہو تو اتفاق نہیں ہوتا کہ سنت ہے یا نفل ہے۔ طلیب نے کہا : حضرت ابن عباس نے ایک قوم کو صفا ومروہ کے درمیان طواف کرتے دیکھا تو فرمایا : یہ تمہیں تمہاری ماں ام اسماعیل نے وراثت میں دیا ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ صحیح بخاری میں ثابت ہے جیسا کہ اس کا بیان سورة ابراہیم میں آئے گا۔
مسئلہ نمبر 9: کسی کے لئے بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کے درمیان سعی سوار ہو کرنی جائز نہیں مگر عذر ہو تو جائز ہے۔ اگر عذر کی بناء پر سوار ہو کر طواف کیا تو اس پر دم ہوگا اور اگر غیر معذور نے سوار ہو کر طواف کیا تو وہ دوبارہ ادا کرے اگر بیت اللہ کے قریب ہو اور اگر دور جا چکا ہو تو بدی دے۔ یہ ہم نے اس لئے کہا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خود طواف کیا اور فرمایا : خذوا عنی مناسکم مجھ سے مناسک حج سیکھ لو۔ اور عذر کی بناء پر ہم نے جائز قرار دیا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اونٹ پر سوار ہو کر کیا تھا اور اپنی کھونٹی سے حجر اسود کو استلام کیا تھا۔ اور حضرت عائشہ ؓ کو فرمایا : جب انہوں نے اپنی تکلیف کی شکایت کی : لوگوں کے پیچھے طواف کر دراں حالیکہ تو سوار ہو۔
ہمارے اصحاب نے اونٹ پر طواف کرنے اور انسان کی پیٹھ پر طواف کرنے کے درمیان فرق کیا ہے اگر انسان کی پیٹھ پر طواف کرے گا تو جائز نہ ہوگا۔ کیونکہ اس وقت وہ طواف کرنے والا نہ ہوگا بلکہ اٹھانے والا طواف کرنے والا ہوگا جب اونٹ پر طواف کرے گا تو وہ خود طواف کرنے والا ہوگا۔ ابن خویز منداد نے کہا : یہ اختیار کا تفرقہ ہے۔ رہا کفایت کرنا تو یہ کفایت کر جائے گا۔ جیسے اگر کسی پر غشی طاری ہو اور اسے اٹھا کر طواف کرایا جائے یا اٹھا کر عرفات میں اسے وقوف کرایا گیا تو اس کی طرف سے جائز ہوجائے گا۔