2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:36

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پھر شیطان نے دونوں کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس (عیش و نشاط) میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا تب ہم نے حکم دیا کہ (بہشت بریں) سے چلے جاؤ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لئے زمین میں ایک وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کردیا گیا) ہے

آیت نمبر 36 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فازلھما الشیطن عنھا فاخرجھما مما کا نا فیہ اس میں دس مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: فازلھما الشیطن عنھا جماعت نے فازلھا بغیر الف کے الزلۃ سے مشتق کر کے پڑھا ہے۔ الذلۃ کا معنی خطا ہے یعنی ان سے خطا کروائی اور انہیں خطا میں واقع کیا۔ حمزہ نے فازا لھما یعنی الف کے ساتھ پڑھا ہے، اس کا معنی ہے : اس نے انہیں دور کردیا۔ کہا جاتا ہے : ازلتہ فزال، میں نے اسے دور کیا تو وہ دور ہوگیا۔ ابن کیسان نے کہا : فازالھما، زوال سے مشتق ہے یعنی آدم وحوا طاعت پر تھے اس سے اس (شیطان) نے معصیت کی طرف پھیر دیا۔ میں کہتا ہوں : اس مفہوم پر دونوں قراءتوں کا معنی ایک ہوگا مگر جماعت کی قراءت معنی کے اعتبار سے زیادہ مضبوط ہے۔ کہا جاتا ہے : ازللتہ فزل۔ میں نے اسے پھسلایا تو وہ پھسل گیا۔ اس معنی پر یہ قول بھی دلیل ہے : انما استزلھم الشیطن ببعض ما کسبوا (آل عمران :155) ان کے بعض کرتوتوں کے سبب شیطان نے انہیں پھسلا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فوسوس لھما الشیطن (اعراف :20) (شیطان نے ان دونوں کے لئے وسوسہ ڈالا) الوسوسہ کا مطلب ہے معصیت کے ساتھ اس نے انہیں خطا میں داخل کیا۔ شیطان کو یہ قدرت نہیں ہے کہ کسی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ہٹا دے اسے ذلل میں داخل کرنے کی قدرت ہے۔ پس یہ گناہ کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف زوال کا سبب ہوگا۔ بعض نے فرمایا : ازلھما یہ زل عن المکان سے مشتق ہے جب کوئی اپنی جگہ سے ہٹ جائے پھر معنی حمزہ کی قراءت کے مطابق ہوگا یعنی یہ زوال سے مشتق ہوگا۔ امرء القیس نے کہا : یزل الغلام الخف عن صھواتہ ویلوی باثواب العنیف المثقل ہلکا پھلکا غلام گھوڑے سے گرجاتا ہے اور سخت اور بھاری آدمی اسے کپڑوں کے ساتھ لے جاتا ہے۔ ایک اور شاعر کہتا ہے : کمیت یزل اللبد عن حال متنہ کما زلت الصفواء بالمتنزل کمیت گھوڑے سے اس کا کپڑا اس طرح اس کی پیٹھ سے گر جاتا ہے جیسے صاف چٹان اپنے اوپر چڑھنے والے کو گرا دیتی ہے۔ مسئلہ نمبر 2: فاخرجھما مما کا نا فیہ جب ازال کو زال عن المکان سے مشتق ماناجائے تو فاخرجھما زوال کا بیان اور تاکید ہوگا، کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ جنت میں ہی ایک مکان سے دوسرے مکان کی طرف منتقل ہوگئے ہوں، حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ جنت سے زمین کی طرف انہیں نکالنا تھا، کیونکہ وہ زمین سے پیدا کئے گئے تھے، تاکہ حضرت آدم (علیہ السلام) زمین میں خلیفہ بنیں۔ ابلیس نے حضرت آدم کو جنت سے نکالنے کا یہ قصد تو نہیں کیا تھا۔ اس نے تو حضرت آدم (علیہ السلام) کو ان کے مرتبہ سے گرانے کا قصد کیا تھا اور انہیں رحمت الٰہی سے دور کرنے کا قصد کیا تھا جیسا کہ وہ خود دور کیا گیا تھا، اس کا مقصد پورا نہ ہوا اور اس کو اپنی مراد نہ ملی بلکہ اس کی آنکھ کی گرمی، نفس کے غصہ اور گمان کے نقصان میں اضافہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ثم اجتبہ ربہ فتاب علیہ وھدی۔ (طہٰ ) پس حضرت آدم (علیہ السلام) اللہ کے گھر میں اس کے پڑوسی ہونے کے بعد اس کی زمین میں اس کا خلیفہ بن گئے خلیفہ اور پڑوسی میں بڑا فرق ہے ﷺ ۔ اس کام کو ابلیس کی طرف منسوب کیا گیا کیونکہ وہ اس کا سبب تھا اس میں مفسرین کا کوئی اختلاف نہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا اغواء ابلیس کے ہاتھوں ہوا لیکن کیفیت میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس اور جمہور علماء نے فرمایا : اس کا اغوا بالمشافہ تھا (1) ۔ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : وقاسمھما انی لکمال من النصحین۔ (اعراف) مقاسمہ کا ظاہر مشافہ ہوتا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ قول عبد الرزاق نے حضرت وہب بن منبہ سے روایت کیا ہے۔ شیطان سانپ کے منہ میں بیٹھ کر جنت میں داخل ہوا تھا۔ یہ سانپ چار ٹانگوں والا تھا جیسے بختی اونٹ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن جانوروں کو پیدا کیا تھا ان میں سانپ خوبصورت ترین جانور تھا، شیطان نے پہلے اپنے آپ کو تمام حیوانوں پر پیش کیا تھا کہ وہ اسے منہ میں لے کر جنت میں داخل ہوجائیں۔ سوائے سانپ کے کسی نے اسے داخل نہ کیا جب سانپ اسے جنت میں لے گیا تو ابلیس اس کے پیٹ سے نکلا اس نے اس درخت کو لیا جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور ان کی زوجہ کو منع کیا تھا۔ ابلیس وہ لے کر حضرت حواء کے پاس آیا اور کہا : اس درخت کو دیکھو اس کی خوشبو کتنی عمدہ ہے، اس کا ذائقہ کتنا عمدہ ہے، اس کا رنگ کتنا پیارا ہے، وہ انہیں اغوا کرتا رہا حتیٰ کہ حضرت حوا نے وہ درخت لے لیا اور کھالیا۔ پھر ابلیس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اغوا کیا۔ حضرت حوا نے حضرت آدم سے کہا : کھالو، میں نے کھایا ہے تو مجھے اس نے کوئی تکلیف نہیں دی۔ پس حضرت آدم (علیہ السلام) نے بھی اسے کھالیا۔ ان دونوں کے لباس اتر گئے، اور گناہ کے حکم میں ہوگئے۔ حضرت آدم اس درخت کے پیٹ میں داخل ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے آواز دی : تو کہاں ہے ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرض کی : میں یہاں ہوں اے رب ! اللہ تعالیٰ نے پوچھا : کیا تو باہر نہیں نکلے گا ؟ حضرت آدم نے کہا : یا رب ! مجھے تجھ سے شرم محسوس ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس زمین کی طرف اتر جا جس سے تیری تخلیق کی گئی ہے۔ سانپ پر لعنت کی گئی اور اس کی ٹانگیں اس کے پیٹ میں لوٹا دی گئیں اور اس کی اولاد آدم کے درمیان عداوت ودشمنی بن گئی۔ اسی وجہ سے ہمیں ان کے قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے (جیسا کہ وضاحت آگے آئے گا) ۔ حضرت حوا سے کہا گیا جس طرح تو نے اس درخت کا خون بہایا اسی طرح تجھے بھی ہر مہینے خون کی تکلیف لاحق ہوگی تو حمل اٹھائے گی اور بچہ جنم دے گی تکلیف کے ساتھ تو اس کی وجہ سے کئی مرتبہ موت کے قریب ہوجائے گی۔ طبری اور نقاش نے یہ یہ زائد لکھا ہے کہ تو سفیہہ ہوگی حالانکہ تو سیانی تھی، ایک جماعت نے کہا : ابلیس جنت میں نکالے جانے کے بعد حضرت آدم کے پاس نہیں پہنچا تھا اس نے اپنی شیطانیت، سلطنت اور اپنے وسوسہ کے ذریعے حضرت آدم کو اغوا کیا تھا، جس کی اللہ تعالیٰ نے اسے قدرت بخشی تھی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان الشیطان یجری من ابن آدم مجری الدم۔ (1) شیطان ابن آدم میں خون کے چلنے کی طرح چلتا ہے۔ واللہ اعلم۔ سورة اعراف میں آئے گا کہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے وہ درخت کھایا تو آپ برہنہ ہوگئے اور انہوں نے لباس تلاش کرنے کی کوشش کی تو درخت ان سے دور ہوگئے اور معصیت کی وجہ سے انہیں رلایا اور انجیر کے درخت نے حضرت آدم (علیہ السلام) پر رحم کھایا۔ پس آپ نے اس کے پتے لئے اور اپنے آپ کو ڈھانپا۔ پس آپ برہنہ ہونے ساتھ آزمائے گئے نہ کہ درخت سے۔ واللہ اعلم۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت سے نکالنے میں حکمت دنیا کو آباد کرنا تھا۔ مسئلہ نمبر 3: ذکر کیا جاتا ہے کہ سانپ جنت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کا خادم تھا۔ اس نے خیانت کی اس طرح کہ اس نے اللہ کے دشمن کو اپنے نفس پر قدرت دی اس وجہ سے اس کے لئے عداوت ظاہر ہوگئی۔ جب وہ نیچے اترے تو عداوت مؤکد ہوگئی اور اس کا رزق مٹی بنائی گئی۔ اسے کہا گیا : تو بنی آدم کا دشمن ہے اور وہ تیرے دشمن ہیں جہاں بھی ان میں کوئی تجھے پائے گا تیرا سر کچل دے گا۔ حضرت ابن عمر نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے، فرمایا : پانچ چیزوں کو محرم قتل کرسکتا ہے (2) ۔ ان پانچ چیزوں میں سانپ بھی ہے۔ روایت ہے کہ ابلیس نے سانپ سے کہا : مجھے تو جنت میں لے جا تو میرے ذمہ ہوگا۔ حضرت ابن عباس فرمایا کرتے تھے : ابلیس کے ذمہ کو توڑو۔ ساکنہ بنت جعد نے سراء بنت نبہان غنویہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے : چھوٹے، بڑے، کالے اور سفید سانپوں کو قتل کرو۔ جو ان کو قتل کرے گا اس کے لئے یہ آگ سے فدیہ ہوں گے اور جس کو سانپ قتل کر دے گا وہ شہید ہوگا (1) ۔ ہمارے علماء نے فرمایا : آگ سے فدیہ اس لئے ہوگا کیونکہ یہ ابلیس کے ساتھ شریک تھا اور حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کو تکلیف پہنچانے میں اس کا معاون تھا۔ اسی وجہ سے جس کسی نے سانپ کو قتل کیا گویا اس نے کافر کو قتل کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کافر اور اس کا قاتل کبھی دوزخ میں جمع نہ ہوں گے (2) ۔ اس حدیث کو مسلم وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 4: ابن جریج نے حضرت عمرو بن دینار سے انہوں نے حضرت ابو عبیدہ بن عبد اللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے، فرمایا : ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ منیٰ میں تھے، ایک سانپ گزرا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے قتل کرو۔ وہ ہم سے بھاگ کر غار میں چلا گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کھجور کی شاخیں اور آگ لے آؤ اور اس پر آگ جلادو (3) ۔ ہمارے علماء نے فرمایا : یہ حدیث اسی نہی کو خاص کرتی ہے جس میں آپ ﷺ نے مثلہ سے منع فرمایا اور اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دے۔ علماء نے فرمایا : اس حدیث نے اس دشمن کے لئے کوئی حرمت نہیں چھوڑی، جہاں بھی یہ چلا جائے حتی ٰ کہ جہاں بھی قدرت ہو اس تک ہلاکت کو پہنچائے، اگر کہا جائے کہ ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ انہوں نے بچھو کو آگ کے ساتھ جلانے کو ناپسند کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا : یہ مثلہ ہے۔ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے : ہو سکتا ہے کہ ان کو یہ حدیث نبی کریم ﷺ کی طرف سے نہ پہنچی ہو اور انہوں نے اس حدیث پر عمل کیا ہو جس میں ہے اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو ۔ ان کے نزدیک اس پر عمل اس بنا پر ہوگا۔ اگر کہا جائے کہ مسلم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے، فرمایا : ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک غار میں تھے جبکہ والمرسلت عرفاً ۔ (المرسلات) سورت نازل ہوئی۔ ہم نے اسی وقت آپ ﷺ کے منہ مبارک سے سنی تھی اچانک ہم پر ایک سانپ نکلا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اس کو قتل کرو۔ ہم اسے قتل کرنے کے لئے دوڑے تو وہ ہم سے بھاگ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے شر سے بچا لیا اور تمہیں اس کے شر سے بچا لیا (4) ، اس میں تو نہ اس پر آگ جلائی گئی اور نہ اس کے قتل کا کوئی اور حیلہ کیا گیا۔ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے وہاں آگ نہ پائی ہو اس لئے اسے ترک کردیا ہو۔ یا اس کی بل ایسی نہ ہو جہاں آگ فائدہ دیتی ہو دھواں بھی نقصان نہ دیتا ہو اور حیوان تک وہ نہ پہنچتا ہو۔ واللہ اعلمحضور ﷺ کا ارشاد اللہ تعالیٰ نے اسے تمہارے شر سے بچا لیا یعنی تم اسے قتل کردیتے اور تمہیں اس کے شر سے بچا لیا یعنی اس کے ڈسنے سے تمہیں بچا لیا۔ مسئلہ نمبر 5: سانپوں کو قتل کرنے کا حکم تکلیف کو دور کرنے کے ارشاد سے ہے جس نقصان کا سانپوں سے خوف ہوتا ہے۔ جس سانپ کا ضرر یقینی ہو اس کا قتل کرنے کی طرف جلدی کرنا واجب ہے، کیونکہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے : اقتلوا ہے۔ الحیات واقتلوا ذا الطفیتین والابتر فانھما یخطفان البصر ویسقطان الحبل (1) (یعنی سانپوں کو قتل کرو اور دو دھاریوں والے اور دم کٹے سانپ کو قتل کرو کیونکہ یہ دونوں آنکھوں کو ضائع کردیتے ہیں اور حمل گرا دیتے ہیں) ان دوسانپوں کا خصوصی طور پر ذکر فرمایا حالانکہ یہ پہلے عموم میں داخل تھے اور ان کے ضرر کے بڑے سبب کی وجہ سے ان پر متنبہ فرمایا اور جس سانپ کا ضرر متحقق نہ ہو پس ان میں سے جو گھروں کے علاوہ کسی جگہ پر ہوں تو ظاہری عمومی حکم کی وجہ سے انہیں قتل کردو کیونکہ سانپوں کی ہر نوع میں ضرر غالب ہے۔ پس اس پر عمل کیا جائے گا، کیونکہ سانپ اپنی صورت کی وجہ سے خوف ناک ہے اور نفوس میں نفرت ہے (اس لئے اسے قتل کرنا چاہئے۔ ) اسی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ شجاعت کو پسند فرماتا ہے اگرچہ سانپ کے قتل پر ہی ہو۔ آپ ﷺ نے سانپ کے قتل پر تشجیع فرمائی۔ ابو داؤد کی حدیث جو حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مرفوعاً مروی ہے، اس میں فرمایا : تمام سانپوں کو قتل کرو جو ان کے بدلہ لینے سے ڈرا وہ مجھ سے نہیں (یعنی میرے طریقہ پر نہیں (2) مسئلہ نمبر 6: وہ سانپ جو گھروں میں رہتے ہیں ان کو قتل نہ کیا جائے حتیٰ کہ تین دن انہیں تنبیہ کی جائے کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : مدینہ طیبہ میں جن ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو تین دن اسے آگاہ کرو (3) بعض علماء نے اس حدیث کو صرف مدینہ کے ساتھ خاص کیا ہے کیونکہ مدینہ طیبہ کے جنوں نے اسلام قبول کرلیا تھا، ہم نہیں جانتے کہ مدینہ طیبہ کے علاوہ جو جن ہیں وہ اسلام لائے ہیں یا نہیں، یہ ابن نافع کا قول ہے۔ امام مالک نے فرمایا : تمام شہروں میں گھروں کے سانپوں کو قتل کرنے سے منع ہے، یہی قول صحیح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : واذ صرفنا الیک نفراً من الجن یستمعون القران (احقاف : 29) صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا : میرے پاس جنوں کا داعی آیا میں ان کے ساتھ گیا۔ میں نے ان پر قرآن پڑھا۔ اس حدیث میں ہے کہ انہوں نے آپ ﷺ سے خوراک کا سوال کیا وہ جزیرہ کے جن تھے (4) ۔ اس کی تفصیل سورة جن میں آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔ جب یہ ثابت ہے تو کسی سانپ کو قتل نہیں کیا جائے گا حتیٰ کہ پہلے اس پر تنگی کی جائے گی اور اسے ڈرائے جائے گا۔ مزید بیان انشاء اللہ آگے آئے گا۔ مسئلہ نمبر 7: ائمہ نے ابو السائب مولیٰ ہشام بن زہرہ سے روایت کیا ہے کہ وہ حضرت ابو سعید خدری کے پاس ان کے گھر میں گئے۔ انہوں نے فرمایا : حضرت ابو سعید خدرمی کو میں نے نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ میں انتظار میں بیٹھ گیا تاکہ وہ نماز کو مکمل کرلیں۔ میں نے گھر کی ایک طرف کھجور کی چھڑیوں میں کچھ حرکت سنی۔ میں متوجہ ہوا تو وہ سانپ تھا۔ میں اسے قتل کرنے کے لئے دوڑا تو حضرت ابو سعید نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ فرمایا۔ میں بیٹھ گیا۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو گھر کے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : کیا تم یہ کمرہ دیکھ رہے ہو ؟ میں نے کہا : ہاں۔ انہوں نے کہا : اس میں ہمارا ایک نواجوان رہتا تھا جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ فرمایا : ہم خندق کی طرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے وہ نوجوان نصف النہار کے وقت رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کرتا تھا اور گھر واپس آجاتا تھا۔ ایک دن اس نے اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنا ہتھیار لے لو مجھے تجھ پر قریظہ (کے حملہ) کا اندیشہ ہے۔ اس شخص نے اپنا ہتھیار لے لیا پھر لوٹ آیا وہ گھر کے قریب پہنچا تو اس کی بیوی دروازے کے درمیان کھڑی تھی۔ اس نے اسے نیزہ مار نے کے لئے نیزہ اس کی طرف جھکایا، کیونکہ اسے غیرت آگئی تھی۔ بیوی نے کہا : اپنا نیزہ دور کرلے اور گھر کے اندر داخل ہوتا کہ تو وہ دیکھ لے جس نے مجھے گھر سے باہر نکالا۔ پس وہ اندر گیا تو زمین پر ایک بہت بڑا سانپ لپٹا پڑا تھا۔ نوجوان نے اس کی طرف نیزہ جھکایا اس میں سانپ کو پرودیا، پھر وہ باہر نکلا اور نیزہ کو گھر کے صحن میں گاڑھ دیا۔ پس اس سانپ نے اس نیزے کے اوپر حرکت کی پھر معلوم نہ ہوسکا کہ کون پہلے مراسا نپ یا وہ نوجوان۔ حضرت ابو سعید نے فرمایا : ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور یہ واقعہ ذکر کیا۔ ہم نے کہا : حضور ! دعا فرمائیں اسے اللہ تعالیٰ ہمارے لئے زندہ کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو۔۔۔۔ پھر فرمایا۔۔۔۔ مدینہ طیبہ کے جن مسلمان ہوگئے ہیں جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو تین دن اس کو تنبیہ کرو اگر پھر تمہارے لئے یہ ظاہر ہو تو اسے قتل کردو وہ شیطان ہے۔ دوسری سند سے اس طرح مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان گھروں میں رہنے والے سانپ ہیں جب ان میں سے کسی کو دیکھو تو تین دن اس پر تنگی کرو اگر وہ چلا جائے تو فبہا ورنہ اسے قتل کردو وہ کافر ہے۔ آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا : جاؤ اور اپنے ساتھی کو دفن کردو۔ ہمارے علماء نے فرمایا : اس حدیث سے یہ مفہوم نہیں ہوتا کہ وہ سانپ جس کو نواجوان نے قتل کیا تھا وہ مسلمان تھا اور جنوں نے اسے قصاصاً قتل کیا تھا کیونکہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ قصاص ہمارے اور جنوں کے درمیان مشروع ہے تو وہ پھر قتل عمد میں ہوگا اور اس نوجوان نے قتل عمد نہیں کیا تھا کیونکہ اسے تو اس کے مسلمان ہونے کا علم نہ تھا، انہوں نے تو اس نوع کے قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا جس کا قتل کرنا شرعاً مشروع تھا۔ یہ قتل خطا ہے اور اس میں قصاص نہیں ہے۔ پس یہ کہنا بہتر ہے کہ کافر اور فاسق جنوں نے اس نوجوان کو اپنے ساتھی کا انتقام لینے کے لئے قتل کیا تھا۔ جنوں نے حضرت سعد بن عبادہ کو قتل کیا تھا وہ اپنے غسل خانہ میں مروہ پائے گئے تھے اور ان کا جسم سبز ہوچکا تھا اور لوگوں کو ان کی موت کا سبب معلوم نہیں ہو رہا تھا حتیٰ کہ انہوں نے کسی کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا جبکہ انہیں کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔ قد قتلنا سید الخز رج سعد بن عبادۃ ورمیناہ بسھمیم ن فلم نخط فؤادہ ترجمہ : ہم نے خزرج کے سردار سعد بن عبادہ کو قتل کیا۔ اور ہم نے انہیں دو تیر مارے اور ہم نے اس کے دل سے خطا نہیں کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : (مدینہ طیبہ کے جنوں نے اسلام قبول کرلیا ہے) تاکہ وہ راستہ بیان فرما دیں جس کے ذریعے ان میں سے کسی مسلمان کو قتل کرنے سے بچایا جائے اور ان میں سے کسی کافر کے قتل پر غلبہ پایا جائے۔ حضرت عائشہ ؓ سے کئی سندوں سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک سانپ مارڈالا، پھر انہیں خواب میں دکھایا گیا کہ کوئی انہیں کہہ رہا ہے تو نے ایک مسلمان کو قتل کردیا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : اگر وہ مسلمان ہوتا تو نبی کریم ﷺ کی ازواج کے پاس داخل نہ ہوتا۔ اس کہنے والے نے کہا : وہ آپ کے پاس کبھی داخل نہیں ہوا مگر جب آپ باپردہ ہوتی تھیں۔ صبح ہوئی تو حضرت عائشہ نے بارہ ہزار دراہم اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا۔ ایک روایت میں ہے : وہ آپ پر داخل نہیں ہوا مگر جب آپ باپردہ ہوتی تھیں۔ حضرت عائشہ نے صدقہ کیا اور کئی غلام آزاد کئے۔ ربیع بن بدر نے کہا : الجان ان سانپوں میں سے ہے جن کے قتل سے نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ یہ وہ سانپ جو چلتے ہیں اور دوہرے نہیں ہوتے۔ علقمہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ مسئلہ نمبر 8: انذار (ڈرانے) کا طریقہ : امام مالک نے فرمایا : میرے نزدیک پسندیدہ یہ ہے کہ تین دن انہیں ڈرایا جائے۔ عیسیٰ بن دینار کا بھی یہی قول ہے اگرچہ ایک دن میں کئی مرتبہ ظاہر ہو۔ ایک دن میں تین مرتبہ ڈرانے پر اکتفا نہیں کیا جائے گا حتیٰ کہ تین دن میں یہ ڈرانا پایا جائے۔ بعض علماء نے فرمایا : تین مرتبہ ڈرانا کافی ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : فلیوذنہ ثلاثاً اس کو تین مرتبہ آگاہ کرو۔ اور فرمایا : حرجوا علیہ ثلاثاً اور اس پر تین مرتبہ تنگی کرو۔ ثلاثاً (تین) کا عدد مؤنث کے لئے ہے پس ظاہر ہوا کہ مراد تین مرتبہ ہے۔۔۔۔ امام مالک کا قول اولیٰ ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : ثلاثۃ ایام یہ صحیح نص ہے ان مطلقات کے لئے مقید ہے اور ثلاثا کو تین ایام کی راتوں کے ارادہ پر محمول کیا جائے گا۔ عربوں کی عادت پر تاریخ کے باب میں رات غالب ہے کیونکہ ان میں تانیث غالب ہوتی ہے۔ امام مالک نے فرمایا : ڈرانے میں یہ کہنا کافی ہے : احرج علیک باللہ والیوم الاخر الا تبدوا لنا ولا توذونا یعنی میں تجھ پر اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن کے واسطہ سے تنگی کرتا ہوں کہ تم ہمارے لئے ظاہر نہ ہو اور نہ ہمیں تکلیف دو ۔ ثابت بنانی نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت کیا ہے کہ ان کے سامنے گھروں میں پائے جانے والے سانپوں کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : جب تم ان میں سے کوئی سانپ اپنے گھروں میں دیکھو تو کہو : انشد کم بالعھد الذی اخذ علیکم نوح (علیہ السلام) وانشد کم بالعھد الذی اخذ علیکم سلیمان (علیہ السلام) ۔ میں تمہیں اس عہد کا واسطہ دیتا ہوں جو تم سے نوح (علیہ السلام) نے لیا تھا اور میں تمہیں اس عہد کا واسطہ دیتا ہوں جو تم سے حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے لیا تھا۔ پھر جب ان میں سے کسی کو دیکھو تو اسے قتل کردو۔ میں کہتا ہوں : یہ بظاہر ایک دفعہ اذن کی کفایت پر دلیل ہے لیکن حدیث اس کا رد کرتی ہے۔ واللہ اعلم ابن حبیب نے نبی کریم ﷺ سے روایت فرمایا ہے آپ فرماتے ہیں : انشد کن بالعھد الذی اخذ علیکن سلیمان۔۔۔۔ (علیہ السلام) ۔۔۔۔ الا توذیننا والا تظھرن علینا۔ (1) مسئلہ نمبر 9: جبیر نے نفیر سے انہوں نے حضرت ابو ثعلبہ الخشنی سے روایت کیا ہے۔۔۔۔ ابو ثعلبہ کا نام جرثوم ہے۔۔۔۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنوں کی تین قسمیں ہیں اور سب ایک تہائی ہیں : ایک قسم وہ ہے جن کے پر ہیں وہ ہوا میں اڑتے ہیں اور ایک قسم سانپ اور کتے ہیں اور ایک قسم وہ ہے جو کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے ہیں اور سفر کرتے ہیں (1) ۔ حضرت ابو درداء نے روایت کیا ہے۔۔۔ ان کا نام عویمر ہے۔۔۔۔ فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جن تین حصوں میں پیدا کئے گئے ہیں : ایک تہائی کتے، سانپ اور زمین کے کیڑوں کی صورت میں ہوتے ہیں اور ایک تہائی تیز چلنے والی ہوا کی طرح ہوتے ہیں اور ایک تہائی انسانوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ان کے لئے ثواب اور عقاب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں کو تین تہائیوں میں پیدا کیا۔ ایک تہائی کے دل ہوتے ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور آنکھیں ہوتی ہیں جن کے ساتھ دیکھتے نہیں اور کان ہوتے ہیں جن کے ساتھ سنتے نہیں وہ نہیں ہیں مگر ڈنگروں کی مانند بلکہ وہ ان سے بھی زیادہ گم کردہ راہ ہیں اور ایک تہائی جن کے جسم انسانوں جسم جیسے ہوتے ہیں، ان کے دل شیطانوں کے دلوں جیسے ہوتے ہیں اور ایک تہائی اللہ کے (عرش کے) سایہ میں ہوں گے جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا (2) ۔ مسئلہ نمبر 10: ہر وہ جانور جس کی اصل تکلیف پہنچانا ہو تو اسے ابتداءً قتل کیا جائے گا اس کی اذیت پہنچانے کی وجہ سے، اس میں کوئی اختلاف نہیں جیسے سانپ، بچھو، چوہا، چھپکلی اور اس کے مشابہ جانور۔۔۔۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانچ فواسق ہیں : انہیں، حل اور حرم میں قتل کیا جائے گا (3) ۔۔۔ سانپ نے اپنا جو ہر خبیث ظاہر کیا جب اس نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے خیانت کی اس طرح کہ وہ اپنے جبڑوں کے درمیان ابلیس کو جنت میں لے گیا۔ اگر سانپ اسے ظاہر کرتا تو جنت کا دربان اسے داخل نہ ہونے دیتا۔ ابلیس نے سانپ سے کہا : تو میرے ذمہ میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے سانپوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ فرمایا : سانپ کو قتل کرو اگرچہ تم نماز میں ہو (4) (یعنی سانپ اور بچھو کو قتل کرو) ۔ الوزغۃ (چھپکلی) اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ کو پھونکے دئیے تھے جبکہ دوسرے حیوانوں نے ایسا نہیں کیا تھا۔ پس اس پر لعنت کی گئی۔ یہ اس نوع سے ہے جو آپ سے روایت کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے، فرمایا : جس نے چھپکلی کو قتل کیا گویا اس نے ایک کافر کو قتل کیا اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب سے مارا اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی اور جس نے دوسری ضرب سے مارا اس کے لئے اس سے کم نیکیاں ہوں گی اور جس نے تیسری ضرب سے مارا اس کے لئے اس سے کم نیکیاں ہوں گی۔ ایک روایت میں ہے، فرمایا : پہلی ضرب پر ستر نیکیاں ہیں (5) ۔ چوہیا، اس نے اپنا جوہر خبیث ظاہر کیا کہ اس نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی کی رسیاں کاٹنے کا قصد کیا اور انہیں کاٹ دیا۔ عبد الرحمٰن بن ابی نعیم نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : محرم سانپ، بچھو، چیل ایسا درندہ جو حملہ کرے، کاٹنے والا کتا اور فویسقہ (چوہیا) کو قتل کرے (1) ۔ رسول اللہ ﷺ بیدار ہوئے تو چوہیا نے چراغ کی وٹ پکڑی ہوئی تھی تاکہ گھر کو آگ لگا دے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ کوا، اس نے اپنا جوہر اس وقت ظاہر کیا جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اسے کشتی سے بھیجا کہ زمین کی خبر لے آئے تو اس نے نوح (علیہ السلام) کے حکم کو ترک کردیا اور مردار پر جا بیٹھا۔ یہ سب سانپ کے حکم میں ہیں۔ اسی وجہ سے ہم نے ذکر کردیا۔ مزید وضاحت انشاء اللہ سورة مائدہ میں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقلنا اھبطوا بعضکم لبعض عدوٌ اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وقلنااھبطوا، اھبطوا سے لفظاً الف حذف کیا گیا ہے کیونکہ یہ الف وصلی ہے، اور قلنا سے لفظاً الف حذف کیا گیا ہے اس کے اور اس کے بعد ھا کے سکون کی وجہ سے۔ محمد بن مصطفیٰ نے ابو حیوہ سے روایت کیا ہے کہ اھبطوا میں با پر ضمہ ہے یہ ایک لغت ہے۔ اس قول کو یہ بات تقویت دیتی ہے کہ یہ غیر متعدی ہے، اور اکثر غیر متعدی فعل یفعل کے وزن پر آتا ہے۔ یہ خطاب حضرت آدم، حوا، سانپ اور شیطان کو ہے۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ حسن نے کہا : حضرت آدم، حوا اور وسوسہ کو (2) ، مجاہد اور حسن نے کہا : بنو آدم اور بنو ابلیس کو ہے۔ الھبوط کا معنی اوپر سے نیچے کی طرف اترنا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) ہندوستان میں سرندیپ میں ایک پہاڑ پر اترے جسے بوذ کہا جاتا ہے۔ آپ کے ساتھ جنت کی خوشبو تھی۔ پس اس علاقہ کے درختوں اور وادیوں سے لگی ہر چیز خوشبو سے بھر گئی، اسی وجہ سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی خوشبو سے وہاں سے خوشبو لائی جاتی ہے۔ بادل آپ کے سر کو چھوتا تھا تو آپ گنجے ہوگئے تھے۔ پس گنجا پن آپ کی اولاد کو میراث میں ملا۔ بخاری میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق فرمایا تو ان کا طول ساٹھ ہاتھ تھا (3) ۔ (الحدیث) مسلم نے اس حدیث کو نقل کیا ہے، آئندہ ذکر ہوگی۔ حضرت حواجدہ میں اتریں اور ابلیس ابلۃ میں اور سانپ بیسان میں اترا۔ بعض نے فرمایا : سجستان میں، سجستان میں تمام شہروں سے زیادہ سانپ ہیں۔ اگر عربد سانپ نہ ہوتا جو سانپوں کو کھا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے اکثر مر جاتے ہیں سجستان سانپوں کے لئے خالی کردیا جاتا۔ یہ ابو الحسن مسعودی نے ذکر کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے بعضکم لبعض عدو، بعضکم مبتدا ہے، عدوٌ خبر ہے اور یہ جملہ حال کی بنا پر محل نصب میں ہے۔ تقدیر عبارت یوں ہوگی : وھذہ حالکم۔ واو کو حذف کیا گیا ہے کیونکہ کلام میں ضمیر عائد موجود ہے جیسے کہا جاتا ہے : رایتک السماء تمطر علیک۔ میں نے تجھے دیکھا دراں حالیکہ آسمان تم پر بارش برسا رہا تھا۔ العدو۔ دشمن، یہ صدیق (دوست) کا متضاد ہے یہ عد اسے مشتق ہے جس کا معنی ہے : ظلم کرنا۔ ذئب عدوان (دشمن بھیڑیا) یعدوعلی الناس جو لوگوں پر تجاوز کرتا ہے، العدو ان صریح ظلم۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے : تجاوز کرنا۔ یہ تیرے اس قول سے ہے : لا یعدوک ھذا الامر یعنی یہ امر تجھ سے تجاوز نہیں کرے گا۔ عداہ، اس نے اس سے تجاوز کیا، اس کو عدوٌ اس لئے کہتے ہیں اپنے ساتھی کی ناپسند میں حد سے تجاوز کرتا ہے۔ اسی سے ہے : العدوبالقدم۔ چلنے میں تجاوز کرنا۔ دونوں معانی قریب قریب ہیں کیونکہ جو ظلم کرتا ہے وہ تجاوز کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں : بعض علماء نے بعضکم لبعض عدوٌ کو انسان پر محمول کیا ہے اگرچہ یہ معنی صحیح ہے لیکن یہ بعید ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد اس کی دلیل ہے جب بندہ صبح کرتا ہے تو تمام اعضاء زبان سے کہتے ہیں ہمارے لئے اللہ سے ڈر۔ تو جب سیدھی ہوگی تو ہم سیدھے ہوں گے تو ٹیڑھی ہوگی تو ہم ٹیڑھے ہوں گے (1) ۔ اگر یہ کہا جائے کہ عدو کیسے فرمایا اعداء نہیں فرمایا ؟ اس کے دو جواب ہیں : ایک یہ کہ بعض اور کل کے لفظ کی خبر لفظ کے اعتبار سے واحد لگائی جاتی ہے اور معنی کے اعتبار سے اس کے مطابق لگائی جاتی ہے اور قرآن میں یہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کلھم اتیہ یوم القیمۃ فردًا۔ (مریم) یہاں لفظ کا اعتبار کرتے ہوئے مفرد خبر لگائی۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکل اتوہ داخرین۔ (النمل) یہاں معنی کے اعتبار سے خبر جمع لگا دی۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ دو جمع کی جگہ مفرد ذکر کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وھم لکم عدوٌ بئس للظلمین بدلاً ۔ (الکہف) (اور وہ سب تمہارے دشمن ہیں ظالموں کے لئے بہت برا بدلہ ہے) اسی طرح فرمایا : یحسبون کل صیحۃ علیھم ھم العدو (المنافقون :4) (گمان کرتے ہیں کہ ہر گرج ان کے خلاف ہی ہے۔ یہی حقیقی دشمن ہیں) ابن فارس نے کہا : العدو، اسم ہے جو واحد، تثنیہ، جمع اور تانیث کو جامع ہے، کبھی اس کی جمع بھی بنائی جاتی ہے۔ مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا حضرت آدم (علیہ السلام) کو جنت سے نکالنا اور جنت سے اتارنا بطور سزا نہیں تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرنے کے بعد انہیں زمین پر اتارا، یا تو تادیب کی خاطر یا محنت میں سختی کی خاطر اتارا۔ اور صحیح یہ ہے کہ ان کو اتارنا اور زمین میں ٹھہرانا حکمت ازلیہ کے سبب تھا اور وہ حکمت یہ تھی کہ زمین میں ان کی نسل پھیلائی جائے تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنا مکلف بنائے اور انہیں آزمائے۔ پھر اس پر ان کے ثواب اور اخروی عقاب کو مرتب فرمائے، کیونکہ جنت اور دوزخ ایسی جگہ نہیں ہیں جہاں احکام کا مکلف بنایا گیا ہو۔ پس وہ کھانا جنت سے اتارنے کا سبب بنا اور اللہ تعالیٰ کو زیبا ہے جو چاہے کرے۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا تھا : انی جاعل فی الارض خلیفۃً (البقرہ :30) یہ منقبت عظیمہ اور فضیلت کریمہ شریفہ ہے اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ حضرت آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔ ہم نے کہا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی توبہ قبول کرنے کے بعد زمین پر اتارا کیونکہ دوسری مرتبہ فرمایا : قلنا اھبطوا۔ مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولکم فی الارض مستقر یہ مبتدا خبر ہیں اور مستقر اسم ظرف ہے۔ یہ ابو العالیہ اور ابن زید کا قول ہے۔ سدی نے کہا : مستقر سے مراد قبور ہیں۔ میں کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کا ارشاد جعل لکم الارض قرارًا (غافر :64) یہ دونوں معانی کا احتمال رکھتا ہے۔ واللہ اعلم مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ ارشاد ہے ومتاع، المتاع ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جس سے لطف اٹھایا جائے خواہ کھانا ہو، لباس ہو، زندگی (کی کوئی اور ضرورت ہو) بات ہو، محبت وغیرہ ہو۔ اس سے منفعۃ النکاح کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے لطف اٹھایا جاتا ہے۔ سلیمان بن عبد الملک جب اپنے بیٹے کو دفن کے بعد اس کی قبر پر کھڑا ہوا تو کہا : وقفت علی قبر قریب بقفرۃ متاع قلیل من حبیب مفارق (1) میں ایک میدان میں مسافر کی قبر کی کھڑا ہوں۔ یہ جدا ہونے والے دوست سے تھوڑا سا سامان ہے۔ مسئلہ نمبر 6: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الی حین، الحین کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں ایک جماعت کا کہنا ہے : اس سے مراد موت ہے (یعنی مرنے تک) یہ ان کا قول ہے جو کہتے ہیں : المستقر دنیا میں ٹھہرنا ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں : اس سے مراد ہے قیامت کے قیام تک۔ یہ ان لوگوں کا قول ہے جو کہتے ہیں : المستقر سے مراد قبور ہیں۔ ربیع نے کہا : الی حین سے مراد الی اجل یعنی موت تک۔ الحین سے مراد وقت بعید ہے اس وقت تیرے قول الآن اب سے دور کرنا سے ہے۔ خویلد نے کہا : کابی الرماد عظیم القدر جفنتہ حین الشتاء کحوض المنھل اللقف بہت زیادہ سخی ہے، اس کا پیالہ بہت بڑا ہے، سردیوں کے وقت کھلے گھاٹ والے حوض کی طرح ہے۔ کبھی حین پر تا داخل کرتے ہیں۔ ابو وجزہ نے کہا : العاطفون تحین ما من عاطف والمطعمون زمان أین المطعم وہ مہربانی کرنے والے ہوتے ہیں جبکہ کوئی مہربان نہیں ہوتا اور وہ کھلانے والے ہوتے ہیں جس وقت کہا جاتا ہے کھلانے والا کہاں ہے۔ الحین کا معنی مدت بھی ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ھل اتی علی الانسان حین من الدھر (الدہر :1) الحین کا معنی ساعت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : او تقول حین تری العذاب (زمر : 58) ، ابن عرفہ نے کہا : الحین زمانہ کے ایک ٹکڑے کو کہتے ہیں جیسے ساعت، گھڑی اور اس سے اوپر۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فذرھم فی غمرتھم حتی حین۔ (المومنون) اے محبوب رہنے دو انہیں اپنی مدہوشی میں کچھ وقت۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تؤتی اکلھا کل حین (ابراہیم :25) وہ سارا سال پھل لاتا ہے، بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے ہر چھ ماہ بعد پھل لاتا ہے۔ بعض نے فرمایا : صبح وشام پھل دیتا ہے۔ الازہری نے کہا : الحین اسم ہے جیسے الوقت یہ تمام زمانوں کو شامل ہے خواہ وہ لمبا زمانہ ہو یا مختصر۔ مطلب یہ ہے کہ اس سے ہر وقت نفع اٹھایا جاتا ہے اور اس کا نفع کبھی منقطع نہیں ہوتا۔ فرمایا : الحین سے مراد قیامت کا دن ہے۔ الحین سے مراد صبح وشام بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فسبحن اللہ حین تمسون وحین تصبحون۔ (الروم) (سو پاکی بیان کرو اللہ تعالیٰ کی جب تم شام کرو اور جب تم صبح کرو) کہا جاتا ہے : عاملتہ محاینۃً کچھ میں نے اس کے ساتھ معاملہ کیا۔ احینت بالمکان میں وقت وہاں ٹھہرا۔ حان حین کذا۔ یعنی قریب ہوا۔ بثینۃ نے کہا : وان سلوی عن جمیل لساعۃ من الدھر ما حانت ولا حان حینھا مسئلہ نمبر 7: جہاں الحین کے متعلق اہل زبان کا اختلاف ہے وہاں ہمارے علماء اور دوسرے علماء کے درمیان بھی اس میں اختلاف ہے۔ فراء نے کہا : الحین کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ جس کی حد پر واقفیت نہیں ہوتی۔ دوسرا حین وہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا : تؤتی اکلھا حین باذن ربھا (ابراہیم : 25) یہاں حین سے مراد چھ مہینے ہیں۔ ابن عربی نے کہا الحین المجھول وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ کوئی حکم متعلق نہیں ہوتا اور الحین المعلوم وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ احکام متعلق ایمان (قسموں) میں اس کو اسماء اور زمانوں میں اعم خیال کرتے ہیں۔ امام شافعی اقل خیال کرتے ہیں، ابوحنیفہ درمیانی مدت مراد لیتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا : چھ ماہ۔ ان کے قول کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ ان کے نزدیک مقدرات قیاساً ثابت نہیں ہوتی ہیں اور اس میں صاحب شریعت کی طرف سے کوئی نص نہیں ہے، معنی پر اعتبار کے لفظ کے مقتضیٰ پر لغوی طور پر آگاہی کے بعد ہوتا ہے۔ پس جس نے نذر مانی کہ وہ ایک حین نماز پڑھے گا تو اسے امام شافعی کے نزدیک ایک رکعت پر محمول کیا جائے کیونکہ ایک رکعت نفل میں سے کم از کم ہے۔ انہوں نے وتر کی ایک رکعت پر قیاس کیا ہے۔ امام مالک اور ان کے اصحاب نے کہا : نوافل کم از کم دو ہیں۔ پس زمانہ فعل کی مقدار کے ساتھ مقدر ہوگا۔ ابن خویز منداد نے ذکر کیا ہے کہ جو قسم اٹھائے الا یکلم فلان حینا اولا یفعل کذا حیناً ۔ تو حین سے مراد ایک سال ہوگا اور فرمایا : احکام میں علماء کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی قسم اٹھائے کہ وہ ایک حین ایسا نہیں کرے گا یا فلاں سے ایک حین بات نہیں کرے گا۔ سال پر زیادتی اس کی قسم میں داخل نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ اتفاق ان کے مذہب میں ہے۔ امام مالک نے فرمایا : جس نے قسم اٹھائی کہ وہ ایک حین یا زمانہ، یا دھر ایسا نہیں کرے گا تو سب سے مراد ایک سال ہوگا۔ ابن وہب نے امام مالک سے روایت کیا ہے، دھر میں ایک سال ہونے میں انہیں شک ہوا۔ ابن منذر نے یعقوب اور ابن الحسن سے حکایت کیا ہے کہ دھر سے مراد چھ ماہ ہے۔ حضرت ابن عباس، اصحاب الرائے، عکرمہ، سعید بن جبیر، عامر الشعبی اور عبیدہ نے تؤتی اکلھا کل حین باذن ربھا (ابراہیم :25) کے تحت فرمایا کہ کل حین سے مراد چھ ماہ ہیں۔ اوزاعی اور ابو عبیدہ نے کہا : الحین سے مراد چھ ماہ ہیں۔ امام شافعی کے نزدیک الحین میں کوئی معلوم وقت نہیں ہے اور نہ حین کے لئے کوئی حد ہے کبھی ان کے نزدیک الحین سے مراد دنیا کی مدت ہوتی ہے ہم کبھی بھی اسے حانث نہیں بنائیں گے اور تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ دن کے ختم ہونے سے پہلے ادا کردے۔ ابو ثور وغیرہ نے کہا : الحین اور الزمان اس پر محمول ہوگا جو لغت کہتی ہے۔ کہا جاتا ہے : قد جئت من حینٍ شاید وہ نصف دن سے نہ آیا ہو، ال کیا طبری شافعی نے کہا : وبالجملہ، الحین کے کئی مصارف ہیں۔ امام شافعی کسی محمل کی تعیین نہیں کرتے کیونکہ یہ محمل ہے لغت میں کسی معین معنی کے لئے وضع نہیں کیا گیا۔ بعض علماء نے فرمایا : الی حین یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے لئے بشارت ہے تاکہ وہ جان لیں کہ انہوں نے ہمیشہ اس دنیا میں باقی نہیں رہنا ہے انہوں نے جنت کی طرف منتقل ہونا ہے جس کی طرف لوٹنے کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے علاوہ لوگوں کے لئے قیامت کے قائم ہونے پر دلیل ہے۔ یہی کافی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 2:37

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:37 in the Quran reader

پھر آدم نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے (اور معافی مانگی) تو اس نے ان کا قصور معاف کردیا بیشک وہ معاف کرنے والا (اور) صاحب رحم ہے

آیت نمبر 37 مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فتلقی ادم من ربہ کلمت بعض علماء نے فرمایا : تلقی کا معنی سمجھنا ہے۔ بعض نے فرمایا : قبول کرنا اور لینا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) یتلقی الوحی یعنی وحی حاصل کرتے تھے اسے لیتے تھے۔ تو کہتا ہے : خرجنا تتلقی الحجیج ہم نکلے تاکہ حاجیوں کا استقبال کریں۔ بعض نے فرمایا : تلقی کا معنی تلقین کرنا ہے، یہ معنی صحیح ہے لیکن اصل میں تلقی کا تلقن سے ہونا جائز نہیں کیونکہ جب دو حرف ہم جنس ہوں تو ایک کو یاء سے قلب کیا جاتا ہے مثلاً تظنی، یہ تظنن سے ہے تفضی یہ تفضص اس کی مثل ہے تسریت یہ تسررت سے ہے املیت یہ املک سے ہے اس کی قسم دوسری مثالیں بھی ہیں اسی وجہ سے یہ نہیں کہا جاتا تقبی، تقبل سے ہے اور نہ یہ کہا جاتا ہے کہ تلقی، تلقن سے ہے، مکی نے حکایت کیا حضرت آدم (علیہ السلام) کو کلمات الہام کئے گئے۔ پس حضرت آدم (علیہ السلام) نے ان سے نفع اٹھایا۔ حسن نے کہا : وہ کلمات سیکھے اور ان پر عمل کیا۔ مسئلہ نمبر 2: کلمت میں مفسرین کا اختلاف ہے، حضرات ابن عباس، حسن، سعید بن جبیر، ضحاک اور مجاہد نے کہا : وہ کلمات یہ تھے : ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لنکونن من الخسرین۔ (اعراف) مجاہد سے یہ الفاظ بھی مروی ہیں : سبحانک اللھم لا الہ الا انت ربی ظلمت نفسی فاغفرلی انک انت الغفور الرحیم (1) ۔ ایک جماعت نے کہا : انہوں نے عرش کے پائے پر یہ لکھا ہوا دیکھا : محمد رسول اللہ ﷺ تو انہوں نے ان کلمات سے سفارش طلب کی تو ان کی سفارش قبول کی گئی۔ کلمات سے مراد یہ کلمات ہیں۔ ایک گروہ نے کہا : کلمتٍ سے مراد رونا، حیاء کرنا اور دعا کرنا ہے۔ بعض نے فرمایا : ندامت، استغفار اور پریشان ہونا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ قول تقاضا کرتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے معبود استغفار کے علاوہ کچھ نہ کہا (2) ۔ بعض نیک لوگوں سے پوچھا گیا کہ گناہ گار کو کیا کہنا چاہئے تو اس نے کہا : جو اس کے والدین نے کہا تھا : ربنا ظلمنا انفسنا (اعراف :23) موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا : رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی (القصص :16) یونس (علیہ السلام) نے کہا تھا : لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین۔ (الانبیاء) حضرت ابن عباس اور وہب بن منبہ سے مروی ہے کہ یہ کلمات تھے : سبحان اللھم وبحمدک لا الہ الا انت عملت سوءً وظلمت نفسی فتب علی انک انت التواب الرحیم۔ محمد بن کعب نے کہا : یہ کلمات تھے : لا الہ الا انت سبحانک وبحمدک عملت سوءًا وظلمت نفسی فتب علی انک انت التواب الرحیم لا الہ الا انت سبحانک و بحمد عملت سوءًا وظلمت نفسی فارحمتی انک انت الغفور الرحیم لا الہ الا انت سبحانک وبحمدک عملت سوءًا وظلمت نفسی فارحمنی انک ارحم الراحمین۔ بعض نے فرمایا : کلمات سے مراد چھینک کے بعد الحمد للہ کہنا ہے۔ الکلمات، کلمۃٌ کی جمع ہے۔ الکلمہ کا لفظ قلیل وکثیر پر بولا جاتا ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فتاب علیہ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی یا توبہ کی توفیق بخشی۔ جمعہ کے دن دس محرم الحرام کو توبہ قبول فرمائی جیسا کہ آگے اس کا بیان آئے گا۔ تاب العبد کا مطلب بندہ اپنے رب کی طاعت کی طرف لوٹ آیا۔ عبد ترابٌ، طاعت کی طرف کثرت سے رجوع کرنے والا۔ توبہ کا اصل معنی لوٹنا ہے۔ کہا جاتا ہے تاب وثاب وأب و اناب ان سب کا معنی لوٹنا ہے۔ مسئلہ نمبر 4: اگر کہا جائے کہ علیہ کیوں فرمایا علیھما کیوں نہیں فرمایا، حضرت حوا بھی تو بالا جماع اس کام میں شریک تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو فرمایا تھا : ولا تقربا ھذہ الشجرۃ (البقرہ : 35) اس درخت کے قریب نہ جانا، اور قالا ربنا ظلمنا انفسنا (اعراف :23) دونوں نے کہا ہمارے رب ہم نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قصہ کے آغاز میں جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو اسکن کے ارشاد سے خطاب کیا گیا تو تلقی میں بھی خاص ان کا ذکر فرمایا۔ اسی وجہ سے واقعہ کی تکمیل بھی صرف ان کے ذکر سے کی۔ نیز عورت حرمت اور مستورہ ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر نہ فرما کر اس کے لئے پردہ کا ارادہ فرمایا۔ اسی وجہ سے معصیت میں بھی ان کا ذکر نہیں فرمایا وعصی ادم ربہ فغوی۔ (طہ) ۔ نیز عمومی احکام میں عورت مرد کے تابع ہوتی ہے اس کا ذکر نہیں کیا جاتا، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ جو نوجوان تھا اس کا ذکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نہیں فرمایا : الم اقل لک (الکہف : 75) (کیا میں نے تجھے کہا نہیں تھا) بعض علماء نے فرمایا : چونکہ دونوں کا امر برابر تھا حضرت آدم کی توبہ کی قبولیت کا ذکر حضرت حوا کی توبہ کی قبولیت کی دلیل ہے۔ یہ حسن کا قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مثل ہے واذا واتجارۃً ولھو انفضوا الیھا (الجمعہ :11) چونکہ قوم کی مقصود تجارت تھی اس لئے ضمیر کی طرف لوٹا دی اور تثنیہ کی ضمیر ذکر نہیں فرمائی، معنی قریب قریب ہے۔ شاعر نے کہا : رمانی بامر کنت منہ و والدی بریئًا ومن فوق الطوی رمان اس نے مجھ پر ایک امر کی تہمت لگائی میں اور میرا والد اس سے بری تھے اور اس نے ایک کنویں کی وجہ سے مجھ پر تہمت لگائی۔ قرآن حکیم میں ہے اللہ ورسولہ احق ان یرضوہ (توبہ :62) (اللہ اور اس کا رسول زیادہ مستحق ہے کہ اسے راضی کریں) یہاں بھی ایجاز واختصار کی خاطر حذف کیا گیا۔ مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہ ھو التواب الرحیم اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت التواب بیان فرمائی اور قرآن حکیم میں یہ صفت معرفہ، نکرہ، اسم اور فعل کی صورت میں بار بار ذکر فرمائی، کبھی ثواب کا اطلاق بندے پر بھی کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان اللہ یحب التوابین ویحب المتطھرین۔ (البقرہ) (بےشک اللہ دوست رکھتا ہے بہت توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتا ہے صاف ستھرا رہنے والوں کو) ابن عربی نے کہا : اللہ تعالیٰ کا وصف ہونے میں ہمارے علماء کے تین اقوال ہیں : 1۔ رب تعالیٰ کے حق میں یہ جائز ہے اس نام کے ساتھ اسے پکارا جائے گا جیسا کہ کتاب وسنت میں وارد ہوا ہے اور کوئی تاویل نہیں کی جائے گی۔ دوسرے علماء نے فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کا وصف حقیقی ہے۔ توبۃ اللہ علی العبد کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندے کو معصیت کی حالت سے طاعت کی حالت کی طرف لوٹا دیا۔ بعض دوسرے علماء نے فرمایا : توبۃ اللہ علی العبد کا مطلب اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے کی توبہ قبول کرنا یہ احتمال رکھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد قبلت توبتک (میں نے تیری توبہ قبول کی) کی طرف لوٹے اور اس طرف لوٹنے کا احتمال رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مجرم بندے کے دل میں توبہ کرنے اور ظاہری اعضاء پر طاعات کو جاری کرنے کی توفیق بخش دے۔ مسئلہ نمبر 6: اللہ تعالیٰ کے حق میں تائب کہنا جائز نہیں۔ تائب، اسم فاعل ہے تاب یتوب سے، کیونکہ ہمارے لئے جائز نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی اسم یا صفت استعمال کریں مگر صرف وہی جو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے لئے استعمال فرمایا یا نبی کریم ﷺ نے اس کے لئے استعمال فرمایا یا مسلمانوں کی جماعت نے استعمال فرمایا۔ اگرچہ لغت میں وہ جائز بھی ہو۔ اس باب میں نہی صحیح ہے جیسا کہ ہم نے “ الکتاب الاسنیٰ فی شرح اسماء اللہ الحسنیٰ ” میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لقد ثاب اللہ علی النبی والمھجرین والانصار (توبہ : 117) (یقیناً رحمت سے توجہ فرمائی اللہ تعالیٰ نے (اپنے) نبی پر نیز مہاجرین اور انصار پر) اور فرمایا وھو الذی یقبل التوبۃ عن عبادہ (الشوریٰ :25) (اور وہی ہے جو توبہ قبول کرتا ہے اپنے بندوں کی) اللہ تعالیٰ کو تواب کہا گیا ہے فعل کے مبالغہ کے لئے اور جو کثرت سے اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے کثرت سے اس کی توبہ قبول کرنے کی وجہ سے۔ مسئلہ نمبر 7: کسی کو توبہ تخلیق کرنے کی قدرت نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اعمال کی تخلیق میں منفرد ہے جب کہ معتزلہ اور ان کے ہم نواؤں کا مسلک اس سے مختلف ہے۔ اسی طرح کسی کے لئے مجرم کی توبہ قبول کرنا اور اسے معاف کرنا جائز نہیں۔ ہمارے علماء نے فرمایا : یہودونصاریٰ نے دین میں اس اصل کا انکار کیا۔ اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ (توبہ : 31) (انہوں نے بنا لیا اپنے پادریوں اور اپنے راہبوں کو (اپنے) پروردگار اللہ کو چھوڑ کر) انہوں نے مجرم، گنہگار کے لئے یہ اصول بنایا کہ وہ کسی عالم یا راہب کے پاس جائے اور اسے کوئی چیز (نذرانہ) دے دے تو اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ افترأءً علی اللہ قد ضلوا وما کانوا مھتدین۔ (انعام) (بہتان باندھ کر اللہ پر بیشک وہ گمراہ ہوگئے اور نہ تھے وہ ہدایت پانے والے) ۔ مسئلہ نمبر 8: ابن کثیر نے فتلقی أدم من ربہ کلماتٌ پڑھا ہے باقی قراء نے أدم کے رفع اور کلمات کی نصب کے ساتھ پڑھا ہے (1) دونوں قرائتیں ایک ہی معنی کی طرف لوٹتی ہیں کیونکہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے کلمات کو پایا تو کلمات انہیں مل گئے۔ بعض علماء نے فرمایا : کلمات ہی اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو ملنے والے تھے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضرت آدم نے وہ کلمات قبول کئے اور ان کے ساتھ دعا کی تو یہ کلمات ہی فاعل ہیں۔ گویا اصل اس قراءت پر ہے فتلقت آدم من ربہ کلماتٌ۔ لیکن جب مؤنث اور اس کے فعل کے درمیان بعد اور دوری پائی گئی تو علامت تانیث کو حذف کرنا اچھا ہوا۔ یہ اصل ہے جو قرآن اور کلام میں جاری ہوتی ہے جب مؤنث کا فعل بغیر علامت تانیث کے ہو۔ اسی سے عربوں کا قول ہے۔ حضر القاضی الیوم امرأۃ۔ عورت آج قاضی کے پاس حاضر ہوئی۔ بعض علماء نے فرمایا کلمات کی تانیث جب حقیقی نہ تھی تو اسے الکلم کے معنی پر محمول کیا گیا۔ پس صیغہ مذکر ذکر کیا گیا ہے۔ اعمش نے ادم من رب کو مدغم کر کے پڑھا ہے۔ ابو نوفل بن ابی عقرب نے (أنہ) ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے لانہ کے معنی کی بنا پر۔ باقی قراء نے نئی کلام کی بنا پر کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو عمرو، عیسیٰ اور طلحہ نے ھا کو ھا میں ادغام کیا ہے۔ یہ ابو حاتم نے ابو عمر ووغیرہ سے حکایت کیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ جائز نہیں ہے بلکہ ان دونوں کے درمیان لفظاً واؤ ہے خطاً نہیں۔ نحاس نے کہا : سیبویہ نے اس واؤ کو حذف کرنا جائز قرار دیا ہے اور اس نے یہ شعر پڑھا ہے : لہ زجل کأنہ صوت حاد اذا طلب الوسیقۃ او زمیر اس کے لئے مترنم آواز تھی گویا وہ کسی حدی خوان کی آواز ہے۔ جب اس نے اپنی مادہ کو طلب کیا یا اس کی آواز میں مزمار ہے۔ پس اس صورت میں ادغام جائز ہے۔ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور تواب خبر ہے پھر پورا جملہ ان کی خبر ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ ھو ھاء کی تاکید ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ ھو فاصلہ ہو جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے کہا : جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین کی طرف اتارا گیا تو زمین میں خشکی پر گدھ کے علاوہ کچھ نہ تھا اور دریا میں مچھلی کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ گدھ مچھلی کے پاس پناہ لیتی اور رات گزارتی۔ جب گدھ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو دیکھا تو کہا : اے مچھلی آج زمین کی طرف ایک چیز اتاری گئی ہے جو ٹانگوں پر چلتی ہے اور ہاتھوں سے پکڑتی ہے۔ مچھلی نے کہا : اگر تو سچی ہے تو پھر میرے لئے دریا میں نجات کی جگہ نہیں اور تیرے لئے خشکی میں اس سے خلاصی کی جگہ نہیں۔
Ayah 2:38

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

ہم نے فرمایا کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ، جب تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت پہنچے تو (اس کی پیروی کرنا کہ) جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

آیت نمبر 38 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قلنااھبطوا تغلیظ وتاکید کے لئے امر کا تکرار فرمایا جیسے تو کسی کو کہتا ہے : اٹھ اٹھ (1) ۔ بعض علماء نے فرمایا : امر کو مکرر فرمایا کیونکہ ہر امر سے نیا حکم معلق تھا جو دوسرے امر کے حکم سے مختلف تھا، پہلے امر کے ساتھ عداوت معلق تھی دوسرے کے ساتھ ہدایت کا لانا۔ بعض علماء نے فرمایا : پہلا اترنا جنت سے آسمان کی طرف تھا دوسرا اترنا آسمان سے زمین کی طرف تھا، اس قول پر یہ دلیل ہوگی کہ جنت ساتویں آسمان میں ہے جیسے کہ حدیث اسراء اس پر دلالت کرتی ہے (2) نہ جیسا کہ آگے آئے گا۔ جمیعاً حال کی بنا پر منصوب ہے۔ حضرت وہب بن منبہ نے کہا : جب حضرت آدم (علیہ السلام) زمین کی طرف اترے تو ابلیس درندوں سے کہا : یہ تمہارا دشمن ہے اسے ہلاک کردو۔ وہ سب جمع ہوئے اور انہوں نے یہ کام کتے کے سپرد کیا۔ انہوں نے کتے سے کہا : تو ہم میں سے زیادہ بہادر ہے، درندوں نے کتے کو سردار بنا دیا۔ جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے کتے کو دیکھا تو متحیر ہوئے۔ جبریل امین حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس آئے اور کہا : اپنا ہاتھ کتے کے سر پر پھیرو۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا۔ جب درندوں نے دیکھا کہ کتا تو آدم سے مانوس ہوگیا ہے تو درندے بھاگ گئے۔ کتے نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے امان مانگی تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے اسے امان دے دی، پس وہ اور اس کی اولاد حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ باقی رہی۔ حکیم ترمذی نے اسی طرح کہا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جب زمین کی طرف اتارے گئے تو ابلیس درندوں کے پاس آیا، انہیں حضرت آدم (علیہ السلام) کو تکلیف پہنچانے کے لئے ابھارا، ان میں سے سخت ترین کتا تھا۔ پس اس کا دل مردہ کردیا گیا۔ روایت ہے کہ جبریل (علیہ السلام) نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو کہا کہ اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھو۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ رکھا تو وہ مطمئن ہوگیا اور حضرت آدم سے الفت کرنے لگا۔ پس کتا حضرت آدم کی رکھوالی کرنے والوں میں سے ہوگیا۔ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اور آپ کی اولاد کی حفاظت کرنے والا بن گیا اور انسانوں سے الفت کرنے والا ہوگیا، اس کے دل کے مردہ ہوجانے کی وجہ سے یہ انسان سے ڈرتا ہے، اگر اسے روڑا مارا جائے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے پھر ان سے محبت کی وجہ سے لوٹ آتا ہے۔ کتے میں کچھ ابلیس کا اثر ہے اور کچھ حضرت آدم (علیہ السلام) کے چھونے کا اثر ہے۔ ابلیس کے اثر کی وجہ سے یہ بھونکتا ہے اور آدمی پر حملہ کرتا ہے، حضرت آدم (علیہ السلام) کے چھونے کی وجہ سے اس کا دل مردہ ہوگیا حتیٰ کہ یہ تابعدار ہوگیا اور حضرت آدم اور حضرت آدم کی اولاد سے محبت کرتا ہے اور ان کی حفاظت کرتا ہے۔ دل کے مردہ ہونے کی وجہ سے ہر وقت ہانپتا رہتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے برے علماء کو کتے سے تشبیہ دی ہے جیسا کہ سورة اعراف میں اس کا بیان آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) پر وہ ڈنڈا اتارا تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے معجزہ بنایا تھا، اس ڈنڈے کے ساتھ آدم (علیہ السلام) درندوں کو اپنے سے دور کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاما یاتینکم منی ھدًی، ھدًی کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد کتاب اللہ ہے۔ یہ سدی کا قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد ہدایت کی توفیق ہے۔ ایک جماعت نے کہا : الھدیٰ سے مراد رسل ہیں جو فرشتوں میں سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف آئے اور بشروں میں سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد کی طرف آئے (1) ۔ جیسا کہ حضرت ابوذر کی حدیث میں آیا ہے۔ آجری نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ منی کے قول میں اشارہ ہے کہ بندوں کے افعال اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں، جبکہ قدریہ وغیرہ کا قول اس سے مختلف ہے جیسا کہ پہلے گزرا ہے۔ جحدری نے ھدی پڑھا ہے یہ ھذیل کی لغت ہے۔ وہ کہتے ہیں : ھدی، عصی، محیی۔ نحویوں نے ابو ذؤیب کا شعر نقل کیا ہے جو وہ اپنے بیٹے کے مرثیہ میں کہتا ہے : سبقوا ھوی واعنقوا لھواھم فتخرموا ولکل جنب مصرع (2) وہ میری خواہش سے سبقت لے گئے گویا انہوں نے موت کی خواہش کی۔ پس وہ ایک ایک کر کے پکڑے گئے، ہر پہلو کے لئے گرنا ہے۔ نحاس نے کہا : خلیل اور سیبویہ کے نزدیک اس لغت کی علت یہ ہے کہ اضافت کی یا کا ماقبل کسرہ ہونا چاہئے تھا جب وہ نہ تھی کیونکہ الف کو حرکت نہیں دی جاتی تو الف کو یا سے بدل دیا گیا پھر یا کو یا میں ادغام کردیا گیا۔ (اما) اس میں ما زائدہ ہے، ان شرط کے لئے ہے، اور جواب شرط فا شرط ثانی کے ساتھ ہے۔ جو “ فمن تبع ” میں ہے۔ من مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے اور تبع شرط کی وجہ سے محل جزم میں ہے۔ فلا خوف، اس دوسری شرط کا جواب یہ ہے، سیبویہ نے کہا دوسری شرط اور اس کا جواب دونوں پہلی شرط کا جواب ہیں، کسائی نے کہا : فلا خوف علیھم۔ دونوں شرطوں کا اکٹھا جواب ہے (3) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون۔ ، خوف سے مراد پریشانی، گھبراہٹ ہے اور یہ مستقبل کے امر پر ہوتی ہے۔ خاوفنی فلانٌ فخفتہ۔ فلاں نے مجھے ڈرایا تو میں اس سے انتہائی خوف زدہ ہوگیا۔ التخوف کا معنی کمی ہونا ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : او یأخذھم علی تخوفٍ (النحل :47) حضرات زہری، حسن، عیسیٰ بن عمر، ابن ابی اسحاق اور یعقوب نے (فلا خوف) فاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور نحویوں کے نزدیک پسندیدہ رفع اور تنوین ہے۔ مبتدا ہونے کے اعتبار سے۔ کیونکہ دوسرا اسم معرفہ ہے اور اس میں صرف رفع ہی ہوتا ہے کیونکہ لا معرفہ میں عمل نہیں کرتا۔ پس انہوں نے پہلے اسم میں ہی رفع کو اختیار کیا ہے تاکہ کلام ایک جیسی ہوجائے اور یہ بھی جائز ہے کہ لا خوف میں لا بمعنی لیس ہو۔ الحزن اور الحزن۔ یہ سرور کی ضد ہیں۔ یہ ماضی کے کسی امر پر ہوتا ہے۔ حزن الرجل فھو حزن وحزین، احزنہ غیرہ وحزنہ۔ جیسے اسل کہ وسلکہ۔ (یعنی حزن لازم اور متعدی دونوں طرح استعمال ہوتا ہے) اس کا مجہول محذونٌ آتا ہے۔ یزیدی نے کہا : حزنہ یہ قریش کی لغت ہے۔ احزنہ یہ تمیم کی لغت ہے۔ دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے احتزن اور تحزن کا ایک معنی ہے : غمگین ہونا۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ ان پر آخرت کا کوئی خوف نہیں ہے اور دنیا میں جو فوت ہوا اس پر وہ غمگین نہیں ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : اس میں قیامت کے دن کی ہولناکیوں اور اطاعت شعاروں پر قیامت کے خوف کی نفی کی دلیل نہیں ہے کیونکہ قیامت کی تکلیفوں کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے بیان فرمایا ہے لیکن اطاعت شعاروں سے وہ تکلیفیں اللہ تعالیٰ کم کر دے گا جب وہ اللہ کی رحمت کی طرف چلے گئے تو گویا انہیں خوف ہے ہی نہیں۔
Ayah 2:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:39 in the Quran reader

اور جنہوں نے (اس کو) قبول نہ کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ دوزخ میں جانے والے ہیں، اور ہمیشہ اس میں رہیں گے

آیت نمبر 39 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والذین کفروا یعنی جنہوں نے شرک کیا، کیونکہ آگے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وکذبوا بایتنا اولئک اصحب النار صحبت کا مطلب ہوتا ہے ہر حالت میں اور ہر زمانہ میں کسی چیز سے ملا ہوا ہونا، اگر ملازمت اور اختلاط ہو تو یہ کمال صحبت ہے۔ اسی طرح یہ دوزخیوں کی دوزخ سے صحبت ہے، اس قول کی وجہ سے صحاب کا نام رکھنے میں اختلاف ختم ہوجاتا ہے کیونکہ مراتب مختلف ہیں (1) ۔ مزید تفصیل ہم انشاء اللہ سورة برأت میں بیان کریں گے۔ اس آیت کے باقی الفاظ کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔