Ayah 2:40آیت نمبر 40
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یبنی اسرائیل یہ ندا مضاف ہے اس میں نصب کی علامت یاء ہے۔ اضافت کی وجہ سے اس سے نون حذف کیا گیا ہے۔ بنین کا واحد ابن ہے اس میں اصل بنی ہے بعض نے فرمایا : بنوٌ ہے۔ جنہوں نے فرمایا : اس میں واو حذف کی گئی ہے انہوں نے بنوۃ سے حجت پکڑی ہے، اس میں کوئی حجت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے کہا ہے : الفتوۃ میں اصل یاء ہے۔ زجاج نے کہا : میرے نزدیک یاء حذف ہے گویا یہ بنیت سے مشتق ہے۔ اخفش نے اس سے واو کے حذف کو پسند کیا ہے کیونکہ واؤ کے ثقل کی وجہ سے واو کا حذف اکثر ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے : ابن بینٌ، البنوۃ۔ اور تصغیر بنی فراء نے کہا : یا بنی یا بنی دونوں لغتیں ہیں جیسے یا ابت ویا ابت دونوں طرح پڑھا گیا ہے یہ البناء سے مشتق ہے۔ یہ کسی شے کو دوسرے شے پر رکھنا ہے۔ الابن یہ باپ کی فرع ہے اس پر اس کو رکھا گیا ہے۔
اسرائیل سے مراد یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) ہے۔ ابو الفرج جوزی نے کہا : حضرت یعقوب کے علاوہ انبیائے کرام میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کے دونام ہوں مگر ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کے بہت سے نام ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب “ فہوم الآثار ” میں اس کا ذکر کیا ہے۔
میں کہتا ہوں : کہا گیا ہے کہ المسیح عیسیٰ (علیہ السلام) کا علم ہے غیر مشتق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام روح اور کلمہ رکھا ہے لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ابیل الأبیلین کہتے تھے۔ یہ جوہری نے “ الصحاح ” میں ذکر کیا ہے۔ بیہقی نے “ دلائل النبوۃ ” میں خلیل بن احمد سے روایت کیا ہے کہ پانچ انبیائے کرام دو دو ناموں والے تھے۔ محمد اور احمد ہمارے نبی ﷺ ، عیسیٰ اور مسیح، اسرائیل اور یعقوب، یونس اور ذوالنون، الیاس اور ذوالکفل صلی اللہ علیہم وسلم۔ میں کہتا ہوں : ہم نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے چار نام تھے لیکن ہمارے نبی ﷺ کے بہت سے اسماء تھے۔ ان کا بیان اپنی جگہ پر ہوگا۔ اسراء یل عجمی اسم ہے اسی وجہ سے غیر منصرف ہے یہ اضافت کی وجہ سے محل جر میں ہے، اس میں سات لغات ہیں۔ اسرائیل یہ قرآن کی لغت ہے اور اسرائیل مدہ مہموزہ مختلسہ کے ساتھ، یہ شنیوذ نے ورش سے حکایت کیا ہے۔ اسرائیل بغیر ہمزہ کے یاء کے مد کے ساتھ، یہ اعمش اور عیسیٰ بن عمر کی قراءت ہے۔ حسن اور زہری نے بغیر ہمزہ اور مد کے پڑھا ہے۔ اسرائیل بغیر یاء کے اور ہمزہ مک سورة کے ساتھ، اسرائیل ہمزہ مفتوحہ کے ساتھ۔۔۔ تمیم کہتے ہیں : اسرائین یعنی نون کے ساتھ۔ اسرائیل کا معنی ہے : عبد اللہ۔ حضرت ابن عباس نے کہا : عبرانی زبان میں اسرا سے مراد بندہ ہے اور أیل سے مراد اللہ ہے۔ بعض نے فرمایا : اسرا سے مراد اللہ کا چنا ہوا ہے اور ایل سے مراد اللہ ہے۔ بعض نے فرمایا : اسرا کا معنی سخت ہونا ہے گویا اسرائیل وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے سخت بنایا اور اس کی تخلیق کو پختہ کیا۔ یہ مہدوی نے ذکر کیا ہے۔ سہیلی نے کہا : اسرائیل اس لئے کہا گیا کہ انہیں ایک رات میں سیر کرائی گئی جب وہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہجرت کر گئے تھے۔ پس ان کا نام اسرائیل رکھا گیا یعنی اس نے اللہ کی طرف سیر کی۔ پس اسم کا بعض عبرانی ہے اور بعض عرب کے موافق ہے۔ واللہ اعلم۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم، ذکر اسم مشترک ہے ذکر بالقلب (دل کا ذکر) یہ بھولنے کی ضد ہے۔ الذکر باللسان یہ خاموش رہنے کی ضد ہے۔ ذکرت الشیء بلسانی وقلبی ذکراً ۔ میں نے زبان اور دل سے اس کا ذکر کیا۔ واجعلہ منک علی ذکرٍ ( بضم ذال) یعنی اس کو مت بھول۔ کسائی نے کہا : جو ذکر دل سے ہو وہ ذال کے ضمہ کے ساتھ ہوتا ہے اور جو زبان کے ساتھ ہو وہ ذال مکسور کے ساتھ ہوتا ہے۔ بعض دوسرے علماء نے کہا : یہ دونوں لغتیں ہیں۔ کہا جاتا ہے : ذکر اور ذکر ہم معنی ہیں اور الذکر (بفتحہ ذال) مؤنث کا متضاد۔۔۔۔ الذکر کا معنی شرف بھی ہے۔ اسی سے یہ ارشاد ہے : وانہ لذکر لک ولقومک (زخرف : 44)
ابن انباری نے کہا : آیت کا معنی یہ ہے کہ میری نعمت کے شکر کو یاد کرو۔ نعمت کے ذکر پر اکتفا کرتے ہوئے شکر کو حذف کیا گیا۔ بعض علماء نے فرمایا : یہاں ذکر بالقلب مراد ہے اور وہی مطلوب ہے، یعنی میری اس نعمت سے غافل نہ ہوجاؤ جو میں نے تم پر کی اور اسے بھول نہ جاؤ، یہ عمدہ قول ہے۔ النعمۃ یہاں اسم جنس ہے۔ یہ مفرد ہے اور جمع کے معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا (ابراہیم : 34) یہاں بھی نعمۃ سے مراد نعمتیں ہیں۔ اللہ کی نعمتوں میں سے جو اس نے بنی اسرائیل پر فرمائیں یہ ہیں : فرعونیوں سے نجات بخشی، ان سے انبیاء بنائے، ان پر کتب اور من وسلویٰ نازل فرمایا، پتھر سے پانی نکالا، انہیں تورات عطا فرمائی جس میں حضرت محمد ﷺ کی صفت، نعت اور رسالت کا ذکر تھا، والدین پر جو نعمتیں ہوں وہ اولاد پر بھی ہوتی ہے کیونکہ اولاد والدین کے شرف سے مشرف ہوتی ہے۔
نوٹ : ارباب معانی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا نعمت کے ذکر کے ساتھ تعلق قائم فرمایا ہے، جبکہ حضرت محمد ﷺ کی امت سے نعمت کے ذکر کو ساقط کردیا اور اپنے ذکر کی طرف انہیں بلایا ہے۔ فرمایا : فاذکرونی اذکرکم (البقرہ :152) تاکہ دوسری امتوں کی نظر نعمت سے منعم کی طرف جائے اور حضرت محمد ﷺ کی امت کی نظر منعم سے نعمت کی طرف جائے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واوفوا بعھدی اوف بعھدکم یہ امر اور جواب امر ہے۔ زہری نے تکثیر کے لئے اوف واو کے فتحہ اور فاء کی شد کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس عہد سے کون سا عہد مراد ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ حسن نے کہا : اس عہد سے مراد یہ ہے : خذوا ما اتینکم بقوۃ (اعراف :171)
اور ارشاد ہے : ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل وبعثنا منھم اثنی عشر نقیباً (المائدہ : 12) اور یقیناً لیا تھا اللہ تعالیٰ نے پختہ وعدہ بنی اسرائیل سے اور ہم نے مقرر کیا ان میں سے بارہ سردار۔
بعض علماء نے فرمایا : یہ ہے واذا خذ اللہ میثاق الذین اوتوا الکتب لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ (آل عمران : 187)
الزجاج نے کہا : اوفوا بعھدی جو میں نے تم سے تورات میں حضرت محمد ﷺ کی اتباع کا عہد لیا ہے اوف بعھدکم جو میں نے تمہیں اس پر ضمانت دی ہے وہ میں پوری کروں گا۔ اگر تم اس عہد کو پورا کرو گے تو تمہارے لئے جنت ہوگی بعض نے فرمایا : اوفوا بعھدی یعنی سنت اور اخلاص کے ساتھ فرائض کی ادائیگی میں اپنا عہد پورا کرو۔ اوف بعھدکم میں تمہیں رعایات کی منازل تک پہنچاؤں گا۔ بعض نے فرمایا : اوفوا بعھدی ظاہری آداب کی حفاظت میں میرا عہد پورا کرو۔ اوف بعھدکم میں تمہارے باطن کی تزئین کا عہد پورا کروں گا۔ بعض نے فرمایا : یہ حکم تمام اوامر، نواہی اور وصایا کو شامل ہے اس میں محمد ﷺ کا ذکر بھی داخل ہے جو تورات وغیرہ میں ہے۔ یہ جمہور علماء کا قول ہے اور یہی صحیح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا عہد یہ ہے کہ وہ انہیں جنت میں داخل کرے گا۔
میں کہتا ہوں : جو وفاء عہد ان سے طلب کیا گیا ہے وہ ہم سے بھی مطلوب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اوفوا بالعقود (المائدہ :1) واوفوا بعھد اللہ (النحل : 91) کثرت سے اس قسم کے ارشاد ہمارے لئے بھی ذکر ہیں۔ ان کا اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرنا، ان کے لئے اللہ کی طرف سے وفا کی علامت ہے، اس کے لئے علت نہیں بلکہ یہ اس کی طرف سے ان پر فضل اور مہربانی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وایای فارھبون، الرھب، الرھب اور الرھبۃ ان سب کا معنی خوف ہے۔ یہ امر اپنے ضمن میں تہدید کا معنی رکھتا ہے نون کے بعد یا ساقط ہوگئی ہے کیونکہ یہ آیت کا سر ہے (1) ۔ ابن ابی اسحاق نے فارھبونی (یاء کے ساتھ) پڑھا ہے اسی طرح فاتقونی اصل پر پڑھا ہے۔ ایای فعل مضمر کی وجہ سے منصوب ہے۔ اسی طرح امر، نہی اور استفہام میں اختیار ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی : وایای ارھبوا فارھبون۔ اور کلام میں وانا فارھبون بھی مبتدا اور خبر کے اعتبار سے جائز ہے۔ فارھبون حذف کی تقدیر پر خبر ہوگی۔ معنی یہ ہوگا : وانا ربکم فارھبون۔
Ayah 2:41آیت نمبر 41
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وامنوا بما انزلت یعنی قرآن کی تصدیق کرو۔ مصدقاً یہ انزلت کی ضمیر سے حال ہے (1) ۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے : بما انزلتہ مصدقاً ۔ اس میں عامل انزلت ہے یہ بھی جائز ہے کہ ما سے حال ہو اور اس میں عامل امنوا ہو۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی : آمنوا بالقرآن مصدقاً ۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ ما مصدریہ ہو۔ تقدیر عبارت آمنوا بانزال۔ لما معکم، یعنی تورات میں سے جو تمہارے پاس ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تکونوا اول کافر بہ۔ بہ میں ضمیر کا مرجع نہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت محمد ﷺ ہیں۔ یہ ابو العالیہ نے کہا ہے اور ابن جریج نے کہا : اس کا مرجع قرآن ہے کیونکہ بما انزلت کا قول اسے اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مرجع تورات۔ کیونکہ لما معکم کا قول اسے اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہے (2) ۔
اگر کہا جائے کہ کافرٍ کیسے فرمایا کافرین نہیں فرمایا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کی تقدیر یہ ہے : ولا تکونوا اول فریق کافر ھو اظرف الفتیان واجملہ۔ ظاہر کلام ھو اظرف فتی واجملہ تھا۔ فرمایا : اول کافرٍ بہ حالانکہ ان سے پہلے کفار قریش نے اس کا انکار کیا تھا۔ اس کا معنی ہے : اہل کتاب میں سے پہلے تم کفر کرنے والے نہ ہوجاؤ، کیونکہ ایسی مثال میں ان کی طرف نظر کی جاتی ہے کیونکہ وہ حجت تھے ان کے متعلق علم کا گمان کیا جاتا ہے۔ سیبویہ کے نزدیک اول کو نصب کان کی خبر کے اعتبار سے ہے۔ یہ ان کلمات سے ہے جن کا فعل نہیں بولا جاتا یہ افعل کے وزن پر ہے اس کا عین اور فاء کلمہ واو ہے، اس سے فعل نہیں بولا جاتا تاکہ دونوں جہتوں (عین اور فا) سے تعلیل نہ ہو۔ یہ بصریوں کا مذہب ہے۔ کو فیوں نے کہا : یہ دأل سے مشتق ہے جس کا معنی ہے نجات پانا۔ اصل میں او أل تھا۔ پھر ہمزہ میں تخفیف کی گئی اور واؤ سے بدل دیا گیا اور پھر ادغام کیا گیا۔ اور اول کہا گیا جس طرح خطیئۃ کے ہمزہ کی تخفیف کی جاتی ہے۔ جوہری نے کہا : اس کی جمع الاوائل والا والی قلب کی صورت میں بھی آتی ہے۔ بعض نے کہا : اصل میں یہ وول فوعل کے وزن پر تھا پہلی واو ہمزہ سے بدل گئی اور اس کی جمع او اول نہیں بنائی جاتی کیونکہ دو واو کا جمع کرنا جن کے درمیان الف جمع ہو ثقیل ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ آل یؤول سے افعل کے وزن پر ہے اس کی اصل اول تھا، اس میں قلب کیا گیا اعفل، افعل سے مقلوب ہو کر آیا ہے، پھر تسہیل کی گئی بدل کر ادغام کیا گیا (4) ۔
مسئلہ : اس آیت میں ان علماء کے لئے کوئی حجت نہیں ہے جو دلیل خطاب کے ساتھ قول کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ کوفی اور ان کے موافقت کرنے والے علماء ہیں کیونکہ کلام سے مقصود اول وآخر کفر سے نہی ہے۔ اول کو ذکر کے ساتھ خاص کیا کیونکہ اس میں تقدم زیادہ شدید ہے۔ پس مذکور اور مسکوت عنہ کا حکم ایک ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تشتروا بایتی ثمناً قلیلاً ۔ اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تشتروا یہ ولا تکونوا پر معطوف ہے اللہ تعالیٰ سے کفر کرنے والوں میں سے نہ ہوجاؤ اور اللہ تعالیٰ کی آیات پر قیمت نہ لو یعنی حضرت محمد ﷺ کی صفات میں تبدیلی پر رشوت نہ لو۔ یہود کے علماء ایسا کرتے تھے اس لئے انہیں اس سے منع کیا گیا۔ یہ بعض مفسرین کا قول ہے ان میں سے حسن وغیرہ ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : یہودی علماء اپنے علم پر کھانا لیتے تھے جیسے وظیفہ اور تنخواہ ہوتی ہے۔ پس انہیں اس سے منع کیا گیا۔ بعض علماء نے فرمایا : ان کے علماء لوگوں کو دین اجرت پر سکھاتے تھے اس سے انہیں منع کیا گیا، ان کی کتابوں میں ہے اے ابن آدم ! علم سکھاؤ جس طرح تجھے مفت علم سکھایا گیا۔ یہ ابو العالیہ کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی یہ ہے کہ تم میرے اوامرنواہی اور آیات کے بدلے میں تھوڑی سی قیمت نہ لو یعنی دنیا اور اس کی مدت۔ اور وہ زندگی جو تھوڑی ہو اس کا کوئی مرتب نہیں (1) ۔ جو وہ عوض لیتے تھے اس ثمناً (قیمت) کیا گیا کیونکہ انہوں نے اس کو عوض بنایا تھا جو چیز عوض ہو اس پر ثمن کے اسم کا اطلاق ہوتا ہے اگرچہ وہ حقیقت میں ثمن نہ بھی ہو۔ یہ معنی پہلے گزر چکا ہے۔ شاعر نے کہا :
ان کنت حاولت ذنبا او ظفرت بہ فما اصبت بترک الحج من ثمن
“ اگر تو گناہ کا ارادہ کرے یا گناہ کرلے تو حج کے ترک کے عوض تو نے کوئی ثمن نہیں پائی ”۔
میں کہتا ہوں یہ آیت اگرچہ نبی اسرائیل کے ساتھ خاص ہے لیکن یہ اس کو بھی شامل ہے جو ان جیسا فعل کرے گا۔ پس جو حق میں تبدیلی یا اس کو باطل کرنے پر رشوت لے گا یا واجبی تعلیم کے دینے سے انکار کرے گا یا جو اس نے سیکھا اس کی ادائیگی سے رکے گا حالانکہ اس کا سکھانا اس پر متعین ہے حتیٰ کہ وہ اس پر اجرت لے تو وہ اس آیت کے مقتضیٰ میں داخل ہے۔ واللہ اعلم
ابو داؤد نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے۔ فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے ایسا علم سیکھا جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی جاتی ہے وہ اسے نہیں سیکھتا مگر اس لئے کہ اس کے عوض دنیا کا مال حاصل کرے تو وہ قیامت کے روز جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا (2) ۔
مسئلہ نمبر 2: علماء کا اختلاف ہے کہ قرآن اور علم کی تعلیم پر اجرت لینا جائز ہے یا نہیں۔ زہری اور اصحاب الرائے (احناف) نے اس سے منع کیا ہے۔ یہ کہتے ہیں : قرآن کی تعلیم پر اجرت لینا جائز نہیں ہے، کیونکہ تعلیم قرآن ان واجبات میں سے ایک واجب ہے جن میں تقرب کی نیت اور اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے۔ پس نماز، روزے کی طرح تعلیم قرآن پر بھی اجرت نہیں لی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تشتروا بایتی ثمناً قلیلاً (اور نہ خریدو میری آیتوں کے عوض تھوڑی سی قیمت) حضرت ابن عباس نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : معلموا صبیانکم شرارکم اقلھم رحمۃ بالیتیم واغلظھم علی المسکین تمہارے بچوں کے اساتذہ تمہارے برے لوگ ہیں جو یتیم پر رحمت کم کرتے ہیں اور مسکین پر سختی زیادہ کرتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ نے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ معلمین کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ان کا درہم حرام ہے، ان کا کپڑا سحت (حرام) ہے اور ان کا کلام ریا ہے۔ حضرت عبادہ بن صامت نے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے اہل کوفہ میں سے بعض لوگوں کو قرآن اور کتابت سکھائی۔ ان میں ایک شخص نے مجھے ایک کمان دی۔ میں نے کہا : یہ مال نہیں ہے میں اس کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں گا۔ میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تجھے پسند ہے کہ تجھے اس کے بدلے آگ کا طوق پہنایا جائے تو پھر یہ قبول کرلے (1) ۔
امام مالک، امام شافعی، احمد، ابو ثور اور اکثر علماء نے قرآن کی تعلیم پر اجرت کو جائز قرار دیا ہے کیونکہ حضرت ابن عباس کی حدیث۔۔۔۔ حدیث الرقیہ (دم والی حدیث) میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : ان احق ما اخذتم علیہ اجراً کتاب اللہ (2) ۔ جن چیزوں پر تم اجرت لیتے ہو ان میں سے سب سے زیادہ حقدار کتاب اللہ ہے۔ اس حدیث کو بخاری نے نقل کیا ہے، یہ نص ہے اختلاف کو اٹھا دیتی ہے۔ پس اس پر ہی اعتماد کرنا چاہئے، رہا مخالف کا نماز اور روزے پر قیاس تو یہ فاسد ہے کیونکہ یہ قیاس نص کے مقابل ہے۔ پھر ان کے درمیان فرق بھی ہے وہ یہ کہ نماز اور روزہ فاعل کے ساتھ مختص عبادات ہیں اور تعلیم القرآن معلم کے علاوہ کے لئے متعدی عبادت ہے۔ پس اس کو نقل کرنے کے ارادہ پر اجرت جائز ہے جیسے قرآن کی کتابت کی تعلیم پر اجرت جائز ہے۔
ابن منذر نے کہا : امام ابوحنیفہ اجرت کے ساتھ قرآن کی تعلیم کو مکروہ قرار دیتے ہیں اور یہ جائز قرار دیتے ہیں کہ کوئی شخص کسی کو اجرت پر لے کہ وہ اسے تختی یا شعر یا معلوم گانا معلوم اجرت پر لکھ دے گا۔ جو چیز معصیت ہے اس میں اجازرہ کو جائز قرار دیتے ہیں اور جو چیز طاعت ہے اس میں اجارہ کو باطل قرار دیتے ہیں۔ آیت کا جواب یہ ہے کہ اس سے مراد بنو اسرائیل میں اور شرع من قبلنا ھل ھو شرعٌ لنا (جو ہم سے پہلے لوگوں کی شریعت تھی کیا وہ ہمارے لئے شریعت ہے) کے اصول میں اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ بھی یہ نہیں کہتے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ آیت کریمہ اس شخص کے متعلق ہے جس پر تعلیم دینا متعین ہو پھر وہ انکار کرے حتیٰ کہ اس پر اجرت لے لے۔ مگر جب متعین نہ ہو تو سنت کی دلیل کے ساتھ اس پر اجرت لینا جائز ہے۔ کبھی اس شخص پر تعلیم دینا متعین ہوتا ہے لیکن اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جو وہ اپنے اوپر اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے تو اس پر تعلیم دینا واجب نہیں ہوتا اور اس کے لئے اپنی صنعت اور اپنے ہنر پر مال قبول کرنا جائز ہے۔ امام وقت پر واجب ہے کہ دین کی اقامت کے لئے اس کی مدد کرے ورنہ مسلمانوں پر ضروری ہے کہ اس کی مدد کریں کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ جب خلافت کے والی بنے اور خلافت کے لئے آپ کو متعین کیا گیا تو آپ کے پاس اتنا مال نہ تھا جو آپ کے گھر والوں کی کفایت کرتا۔ آپ نے کپڑے اٹھائے اور بازار کی طرف نکلے۔ آپ سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا : میں اپنے عیال پر کہاں سے خرچ کروں، تو صحابہ کرام نے آپ کو واپس لوٹا دیا اور آپ کے لئے بقدر کفایت وظیفہ مقرر کیا۔
رہیں وہ احادیث جو انہوں نے پیش کی ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جو قابل حجت ہو۔ ان میں کوئی حدیث نقل کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس کی حدیث وہ سعید بن طریف نے حضرت عکرمہ سے اور حضرت عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے اور سعید متروک راوی ہے اور حضرت ابوہریرہ کی حدیث علی بن عاصم نے حماد بن سلمہ سے انہوں نے ابو جرہم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے، ابو جرہم مجہول غیر معروف راوی ہے۔ حماد بن سلمہ نے کسی ایسے راوی سے روایت نہیں کیا جس کو ابو جرہم کہا جاتا ہو انہوں نے ابو المہزم سے روایت کیا ہے اور وہ بھی متروک الحدیث ہے اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے۔ رہی حضرت عبادہ بن صامت کی حدیث جو ابو داؤد نے مغیرہ بن زیاد موصلی سے انہوں نے عبادہ بن نسی سے انہوں نے اسود بن ثعلبہ سے انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت سے روایت کیا ہے مغیرہ اہل علم کے نزدیک معروف ہے لیکن اس کی بہت سی مناکیر احادیث ہیں یہ ان میں سے ایک منکر حدیث ہے۔ یہ ابو عمر نے کہا ہے، پھر فرمایا : رہی قوس (کمان) والی حدیث یہ اہل علم کے نزدیک معروف ہے کیونکہ یہ حضرت عبادہ سے دو سندوں سے روایت کی گئی ہے اور حضرت ابی بن کعب سے موسیٰ بن علی عن ابیہ عن ابی کے سلسلہ سے مروی ہے لیکن وہ منقطع ہے۔ اس بارے میں کوئی ایسی حدیث نہیں ہے نقل کی جہت سے جس پر عمل واجب ہو اور حضرت عبادہ اور حضرت ابی کی حدیث تاویل کا احتمال رکھتی ہے کیونکہ یہ جائز ہے کہ پہلے انہوں نے رضائے الٰہی کے لئے تعلیم دی ہو پھر اس پر اجر لیا ہو۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے، فرمایا : لوگوں میں سے بہتر اور جو زمین کی سطح پر چل رہے ہیں ان میں سے بہتر اساتذہ ہیں جب بھی دین بوسیدہ ہونے لگا تو انہوں نے اسے جلا بخشی تم انہیں اجرت پر نہ لو کہ تم انہیں تنگ کرو کیونکہ معلم جب بچے کو کہتا ہے : پڑھ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، بچہ کہتا ہے : بسم اللہ الرحمٰن الرحیم تو اللہ تعالیٰ اس سے بچے کی برأت، معلم کی برأت اور اس کے والدین کی برأت لکھ دیتا ہے۔
مسئلہ نمبر 3: اجرت پر نماز پڑھانے والے کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے۔ اشہب نے امام مالک سے روایت کیا ہے کہ ان سے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا جسے نماز پڑھانے کے لئے رمضان میں اجرت پر لیا گیا ہے۔ امام مالک نے فرمایا : میں امید کرتا ہوں کہ اس میں کچھ حرج نہ ہوگی۔ فرضوں میں اس کے لئے سخت کراہت ہے۔
امام شافعی اور آپ کے اصحاب، ابو ثور نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں اور اس کے پیچھے نماز میں بھی کوئی حرج نہیں۔ امام اوزاعی نے فرمایا : اس کی نماز ہی نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب نے اس کو ناپسند کیا ہے جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے۔ ابن عبد البر نے کہا : یہ مسئلہ سابقہ مسئلہ سے معلق ہے اور ان دونوں کی اصل ایک ہے۔
میں کہتا ہوں : سورة برأت میں اس کی ایک اور اصل آئے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ ابن قاسم نے شعر اور نحو کی تعلیم پر اجرت لی۔ ابن حبیب نے کہا : شعر، رسائل، تاریخ عرب کی تعلیم پر اجرت لینے میں کوئی حرج نہیں اور وہ اشعار جن میں شراب، غنا، ہجو کا کا ذکر ہو وہ مکروہ ہیں۔ ابو الحسن لخمی نے کہا : اس قول پر کتب پر اجرت لینا اور کتب کو بیچنے کا جواز لازم آتا ہے، لیکن غنا اور نوحہ ہر حال میں ممنوع ہے۔
مسئلہ نمبر 4: دارمی ابو محمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے کہ ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے بتایا، انہوں نے فرمایا : ہمیں محمد بن عمر بن کمیت نے بتایا انہوں نے فرمایا : ہمیں علی بن وہب الہمدانی نے بتایا، انہوں نے فرمایا : ہمیں ضحاک بن موسیٰ نے بتایا، انہوں نے فرمایا : سلیمان بن عبد الملک مدینہ طیبہ سے گزرا وہ مکہ مکرمہ جا رہا تھا۔ وہ مدینہ طیبہ میں کچھ دن ٹھہرا۔ اس سے پوچھا گیا : مدینہ طیبہ میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے نبی کریم ﷺ کے کسی صحابی سے ملاقات کی ہو ؟ لوگوں نے کہا : ابو حازم ہے۔ سلیمان نے ابو حازم کو بلایا۔ جب وہ اس کے پاس آیا تو اس نے پوچھا : اے ابو حازم ! یہ جفا کیا ہے ؟ ابو حازم نے کہا : اے امیر المومنین ! تو نے کون سی جفا مجھ سے دیکھی ہے ؟ سلیمان نے کہا : تمام اہل مدینہ میرے پاس آئے اور تو میرے پاس نہ آیا۔ ابو حازم نے کہا : اے امیر المومنین ! میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تو وہ کہے جو ہوا نہیں ہے، میں نے اس دن سے پہلے نہ تجھے پہچانا ہے اور نہ میں نے تجھے دیکھا ہے۔ سلیمان، محمد بن شہاب زہری کی طرف متوجہ ہوا تو زہری نے کہا : شیخ نے صحیح کہا ہے اور تو نے غلطی کی ہے۔ سلیمان نے کہا : اے ابو حازم ! کیا وجہ ہے کہ ہم موت کو ناپسند کرتے ہیں ؟ ابو حازم نے کہا : کیونکہ تم نے اپنی آخرت کو خراب کردیا ہے اور دنیا کو آباد کیا ہے۔ پس تم آبادی سے خرابی کی طرف منتقل ہونے کو ناپسند کرتے ہو۔ سلیمان نے کہا : اے ابو حازم ! تو نے صحیح کہا، کل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کیسے آئیں گے ؟ ابو حازم نے کہا : جو نیکو کار ہے وہ اس غائب شخص کی طرح آئے گا جو اپنے گھر والوں کے پاس آیا ہے اور جو بدکار ہے وہ بھاگے ہوئے غلام کی طرح آئے گا جو اپنے آقا کے پاس آتا ہے۔ سلیمان رونے لگا اور کہا : کاش ! میرا شعور کام کرتا۔ ہمارے لئے اللہ کی بارگاہ میں پیش کرنے کے لئے کیا ہے ؟ ابوحازم نے کہا : اپنے اعمال کو کتاب اللہ پر پیش کرو۔ سلیمان نے پوچھا : میں کون سا مکان پاؤں گا ؟ ابو حازم نے کہا : ان الابرار لفی نعیم۔ وان الفجار لفی جحیم۔ (انفطار) (بےشک نیک لوگ عیش و آرام میں ہوں گے اور یقیناً بدکار جہنم میں ہوں گے) سلیمان نے کہا : اے ابو حازم ! اللہ تعالیٰ کی رحمت کہا ہے ؟ ابو حازم نے کہا : رحمت اللہ قریب من المحسنین۔ (اعراف) ( اللہ کی رحمت قریب ہے محسنین کے) ۔ سلیمان نے کہا : اے ابو حازم ! اللہ کے کون سے بندے معزز ہیں ؟ ابو حازم نے کہا : صاحب مروت اور صاحب عقل۔ سلیمان نے کہا : کون سے اعمال افضل ہیں ؟ ابو حازم نے کہا : محارم سے اجتناب کے ساتھ فرائض کا ادا کرنا۔ سلیمان نے کہا : کون سی دعا زیادہ سنی جاتی ہے ؟ ابو حازم نے کہا : جو شخص اپنے محسن کے لئے کرتا ہے۔ سلیمان نے پوچھا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ ابو حازم نے کہا : مسکین سائل کے لئے اور کم مال والے محنتی کے لئے جس میں احسان اور اذیت نہ ہو۔ سلیمان نے کہا : کون سا قول زیادہ بہتر ہے ؟ ابو حازم نے کہا : اس کے سامنے حق کا کلمہ کہنا جس سے تو ڈرتا ہے یا جس سے تو امید رکھتا ہے۔ سلیمان نے پوچھا : کون سا مومن عقلمند ہے ؟ ابو حازم نے کہا : وہ جو اللہ کی طاعت کا عمل کرے اور طاعت پر لوگوں کی رہنمائی کرے۔ کون سا مومن احمق ہے ؟ ابو حازم نے کہا : وہ جو اپنے بھائی کی خواہش میں گرگیا حالانکہ وہ ظالم تھا، اس نے اپنی آخرت کو غیر کی دنیا کے بدلے بیچ ڈالا۔ سلیمان نے اس سے کہا : تو نے صحیح کہا۔ ہم جس حالت میں ہیں اس کے متعلق تو کیا کہتا ہے ؟ ابو حازم نے کہا : اے امیر المومنین ! کیا تو مجھے معاف کر دے گا ؟ سلیمان نے کہا : نہیں لیکن یہ تو نصیحت ہے جو تو مجھے پہنچائے گا۔ ابو حازم نے کہا : اے امیر المومنین ! تیرے آباء نے تلوار کے ساتھ لوگوں پر جبر کیا اور مسلمانوں کی رضا اور مشورہ کے بغیر یہ ملک انہوں نے سختی سے حاصل کیا حتیٰ کہ انہوں نے بہت سے لوگوں کو قتل کیا وہ دنیا چھوڑ کر چلے گئے۔ کاش ! تجھے شعور ہوتا جو انہوں نے کہا اور جو ان کے بارے میں کہا گیا۔ بادشاہ سلیمان کے ایک حواری نے کہا : اے ابو حازم ! تو نے بہت بری بات کی۔ ابو حازم نے کہا : تو نے جھوٹ بولا اللہ تعالیٰ نے علماء سے عہد لیا ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے حقائق بیان کریں گے اور اسے چھپائیں گے نہیں۔ سلیمان نے کہا : ہم کیسے اصلاح کریں ؟ ابو حازم نے کہا : ڈینگیں مارنا چھوڑو، مروت کو پکڑو اور برابر تقسیم کرو۔ سلیمان نے پوچھا : ہم ٹیکس کیسے لیں ؟ ابوحا زم نے کہا : جس سے لینا جائز ہے ہے اس سے وصول کرو اور جو حقدار ہے اسے پہنچاؤ۔ سلیمان نے کہا : اے ابو حازم ! کیا تیرے لئے ممکن ہے کہ تو ہمارے ساتھ رہے تو ہم سے فائدہ اٹھائے، ہم تجھ سے فائدہ اٹھائیں ؟ ابو حازم نے کہا : اعوذ باللہ (میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں) سلیمان نے پوچھا : ایسا کیوں ؟ ابو حازم نے کہا : مجھے اندیشہ ہے کہ میں تمہاری طرف کسی تھوڑی سی چیز کو جھکادوں اور اللہ تعالیٰ مجھے دنیا وآخرت کا دوہرا عذاب دے۔ سلیمان نے کہا : اپنی ضروریات ہمیں پیش کرو۔ ابو حازم نے کہا : تو مجھے آگ سے بچا لے اور مجھے جنت میں داخل کر دے۔ سلیمان نے کہا : یہ تو میری قدرت میں نہیں۔ ابو حازم نے اسے کہا : مجھے تجھ سے اور تو کوئی حاجت نہیں۔ سلیمان نے کہا : تم میرے لئے دعا کرو۔ ابو حازم نے کہا : اے اللہ ! اگر سلیمان تیرا ولی ہے تو اس کے لئے دنیا وآخرت کی خیر آسان فرمادے، اگر تیرا دشمن ہے تو اس کی پیشانی کو پکڑ لے جب تک تو پسند کرے۔ سلیمان نے کہا : یہ کافی ہے۔ ابو حازم نے کہا : میں نے مختصر دعا مانگی ہے اور اگر تو اس دعا کا اہل ہے تو میں نے زیادہ مانگ لیا ہے اور اگر تو اس کا اہل نہیں ہے تو مناسب نہیں کہ میں ایسی کمان سے مارا جاؤں جس کا وتر نہ ہو۔ سلیمان نے کہا : مجھے کوئی وصیت کیجئے۔ میں تجھے مختصر سی وصیت کروں گا، تو اپنے رب کی عظمت بیان کر اور اسے دور رکھ کہ تجھے ایسی جگہ دیکھے جہاں سے اس نے تجھے منع کیا ہے یا تجھے مفقود پائے جہاں اس نے تجھے حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔ جب ابو حازم باہر نکل گیا تو سلیمان نے اس کی طرف سو دینار بھیجے اور اسے لکھا کہ تو انہیں خرچ کر اور تیرے لئے میرے پاس اس کی مثل بہت سے دینار ہیں۔ راوی فرماتے ہیں : ابو حازم نے وہ دینار واپس کر دئیے اور اسے خط لکھا : اے امیر المومنین ! میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا مجھ سے سوال کرنا مذاق ہو یا میں تیری عطا کی امید رکھوں، میں ان رقوم کو تیرے لئے پسند نہیں کرتا تو میں اپنے لئے کیسے پسند کروں گا۔
حضرت موسیٰ بن عمران جب مدین کے پانی پر وارد ہوئے تو اس پانی پر چرواہوں کو اپنے جانوروں کو پانی پلاتے ہوئے پایا اور ان کے تھوڑا دور دو لڑکیوں کو پایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے وہاں کھڑے ہونے کا سبب پوچھا تو انہوں نے کہا : ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلاتیں یہاں تک کہ چرواہے واپس چلے جائیں۔ ہمارا باپ بوڑھا آدمی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی بکریوں کو پانی پلایا پھر سائے کی طرف لوٹ گئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی۔ اے میرے رب ! میں محتاج ہوں اس کا جو تو میری طرف خیر میں سے اتارے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ بھوکے بھی تھے اور خوفزدہ بھی تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سوال کیا لوگوں سے سوال نہ کیا اور نہ آپ نے چرواہوں کو اپنا مسافر ہونا جتایا۔ وہ بچیاں آپ کی کیفیت پہچان گئی تھیں۔ جب وہ دونوں لڑکیاں اپنے باپ کے پاس آئیں تو سارا واقعہ انہیں عرض کیا اور جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا مانگی تھی وہ بھی بتائی۔ ان بچیوں کے والد، جو حضرت شعیب (علیہ السلام) تھے انہوں نے کہا : وہ شخص بھوکا تھا۔
حضرت شعیب نے ایک بچی سے کہا : تو جا اور اس شخص کو بلا کرلے آ۔ جب وہ بچی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئی تو اس نے ان کی عظمت کو دیکھا اور اپنا چہرہ ڈھانپ لیا اور کہا : میرے والد صاحب تمہیں بلا رہے ہیں تاکہ آپ کو ہمارے لئے پانی پلانے کا اجر عطا فرمائیں۔ جب اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پانی پلانے کے اجر کا ذکر کیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر بہت شاق گزرا، آپ نے اس بچی کے ساتھ جانے کے سوا کوئی چارہ نہ پایا کیونکہ آپ پہاڑوں کے درمیان بھوکے اور خوفزدہ تھے۔ جب آپ اس کے پیچھے چلے تو ہوا چل پڑی، اس کے کپڑے اس کی پیٹھ کے ساتھ چپک گئے اور اس کا پچھلا حصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ظاہر ہونے لگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کبھی نظر اوپر اٹھاتے کبھی جھکا دیتے جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو آواز دی : اے اللہ کی بندی ! میرے پیچھے ہوجا اور اپنی زبان سے میری رہنمائی کر۔ جب حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو وہ کھانا کھانے کے لئے تیار تھے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : اے نوجوان ! بیٹھ اور کھانا کھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے پوچھا : کیوں کیا تو بھوکا نہیں ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : کیوں نہیں لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ یہ میرے پانی پلانے کا عوض نہ ہوجائے۔ میں اہل بیت سے ہوں ہم اپنے دین کو زمین بھر سونے کے عوض نہیں بیچتے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے انہیں کہا : اے نوجوان ! ایسا نہیں لیکن یہ میری اور میرے آباء کی عادت ہے ہم مہمان نوازی کرتے ہیں اور کھانا کھلاتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بیٹھ گئے اور کھانا کھالیا۔
ابو حازم نے کہا : یہ سو دینار میری گفتگو کا عوض ہیں تو مردار، خون اور خنزیر کا گوشت حالت اضطرار میں حلال ہوتا ہے، اور اگر یہ بیت المال میں حق کی وجہ سے ہے تو اس میں میرے جیسے اور لوگ بھی ہیں۔ اگر تو نے ہمارے درمیان برابری کی ہے تو فبھا ورنہ مجھے اس رقم کی ضرورت نہیں ہے (1) ۔
میں کہتا ہوں : اس طرح کتاب اور انبیاء کرام کی اقتدا ہوتی ہے۔ اس امام فاضل عالم کو دیکھو کیسے اس نے اپنے عمل پر عوض نہیں لیا اور نہ ہی اپنی وصیت کا بدل لیا اور نہ اپنی نصیحت پر بخشش لی بلکہ انہوں نے حق کو بیان کیا اور ڈنکے کی چوٹ پر بیان کیا۔ اس بارے میں اسے کوئی گھبراہٹ اور پریشانی لاحق نہ ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہیں کسی کی ہیبت حق کہنے یا حق کو قائم کرنے سے نہ روکے جہاں بھی ہو (1) ۔ قرآن حکیم میں ہے : یجاھدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم (المائدہ :54) (جہاد کریں گے اللہ کی راہ میں اور نہ ڈریں گے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے) ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وایای فاتقون تقویٰ کا معنی پہلے گزر چکا ہے، فاتقونی یا کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، سہل بن عبد اللہ نے کہا : وایای فاتقون تمہارے بارے میں مجھے ازلی علم ہے اس لئے مجھ سے ڈرو۔ وایای فارھبون۔ یہ استدراج اور تدبیر کے مقام پر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سنستدرجھم من حیث لا یعلمون۔ (اعراف) (ہم انہیں بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے اس طرح کہ انہیں علم تک نہ ہوگا) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخسرون۔ (الاعراف) (پس نہیں بےخوف ہوتے اللہ کی خفیہ تدبیر سے سوائے اس قوم کے جو نقصان اٹھانے والی ہوتی ہے) کسی نبی اور صدیق کا استثناء نہیں فرمایا۔
Ayah 2:42آیت نمبر 42
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تلبسوا الحق بالباطل، اللبس کا معنی خلط ملط ہونا ہے۔ لبست علیہ الامر والبسہ یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب تو اس کی دلیل کو اس کی مشکل کے ساتھ ملا دے اور اس کے حق کو اس کے باطل کے ساتھ ملا دے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وللبسنا علیھم ما یلبسون۔ (الانعام)
وفی الامر لبسۃٌ، یعنی امر واضح نہیں ہے۔ اسی مفہوم میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا قول ہے جو آپ نے حارث بن حوط کو کہا تھا : یا حارث انہ ملبوس علیک ان الحق لا یعرف بالرجال اعرف الحق تعرف اھلہ۔ اے حارث ! معاملہ تجھ پر خلط ملط ہوگیا ہے حق مردوں کے ساتھ نہیں پہچانا جاتا میں حق کو پہچانتا ہوں تو حق والوں کو پہچانتا ہے۔
خنساء نے کہا تھا :
تری الجلیس یقول الحق تحسبہ رشداً وھیھات فانظر ما بہ التبسا
صدق مقالتہ واحذر عداوتہ والبس علیہ اموراً مثل ما لبسا
تو دوست کو دیکھتا ہے کہ وہ حق کہہ رہا ہے تو اسے ہدایت گمان کرتا ہے دیکھ اس کے ساتھ جو کچھ اس نے ملا دیا۔ اس کی بات کی تصدیق کر اور اس کی عداوت سے محتاط ہوجا اور تو بھی اس پر امور کو ملتبس کر دے جس طرح اس نے التباس کیا۔
عجاج نے کہا :
لما لبسن الحق بالتجنی غنین واستبدلن زیداً منی
سعید نے قتادہ سے روایت کیا ہے : ولا تلبسوا الحق بالباطل۔ یعنی یہودیت اور نصرانیت کو اسلام کے ساتھ ملتبس نہ کرو تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا دین وہ ہے جس کے علاوہ اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا اور اس کے بغیر جزا نہیں دیتا وہ دین اسلام ہے، یہودیت ونصرانیت بدعت ہے وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ عشرہ کے قول سے یہ معنی ظاہر ہے :
وکتیبۃ لبس تھا بکتیبۃ
کتنے لشکر ہیں جن کو میں نے دوسرے لشکروں کے ساتھ ملا دیا۔
یہ اسی مفہوم میں ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ لباس سے ہو۔ آیت کے معنی میں یہ کہا گیا ہے کہ تم نہ ڈھانپو۔ اسی سے لبس الثوب ہے، کپڑے کا پہننا۔ کہا جاتا ہے : لبست الثوب البسہ۔ لباس الرجل زوجتہ، مرد کا لباس اس کی بیوی ہے اور زوجھا لباسھا۔ اور مرد اپنی بیوی کا لباس ہے۔ جعدی نے کہا :
اذا ما الضجیع ثنی جیدھا تثنت علیہ فکانت لباسا
جب سونے والے نے اپنے بیوی کی گردن کو دوہرا کیا تو وہ اس پر لپٹی اور وہ اس کا لباس تھی۔
اخطل نے کہا :
وقد لسبت لھذا الامر اعصرہ حتی تجلل راسی الشیب فاشتعلا
اس امر کی وجہ سے میں نے اس کا زمانہ ڈھانپ لیا حتیٰ کہ میرے سر میں بڑھاپا ظاہر ہوگیا۔
اللبوس، کپڑے اور زرہ میں سے جو پہنا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعلمنہ صنعۃ لبوس لکم (الانبیاء :80)
ولا لبست فلاناً حتی عرف باطنہ۔ میں فلاں سے چمٹا رہا حتیٰ کہ میں نے اس کا باطن پہچان لیا۔
وفی فلان ملبسٌ۔ فلاں لطف اندوز ہونے کی جگہ ہے۔ شاعر نے کہا :
الا ان بعد العدم للمرء قنوۃ وبعد المشیب طول عمرو ملبسا
خبردار ! آدمی کے لئے فقدان کے بعد لباس ہوتا ہے اور بڑھاپے کے بعد لمبی عمر اور لباس ہوتا ہے۔
لبس العکبۃ والھودج۔ کعبہ اور ہودج کا کپڑا۔ لباس۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بالباطل باطل کلام عرب میں حق کے خلاف کو کہتے ہیں اس کا معنی زائل کرنا ہے۔ لبید نے کہا : الاکل شیءٍ ما خلا اللہ باطل، خبردار ! ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سوا زوال پذیر ہے۔
بطل الشیء یبطل بطلاً وبطولاً وبطلاناً ۔ چیز ضائع ہوگئی، خسارے میں چلی گئی۔ ابطلہ غیرہ، دوسری چیز نے اسے زائل کردیا۔ کہا جاتا ہے : ذھب دمہ بطلاً یعنی اس کا خون رائیگاں گیا۔۔۔۔ الباطل شیطان کو کہتے ہیں۔ البطل بہادر آدمی۔ اس کو البطل اس لئے کہتے ہیں کہ وہ دوسرے کی شجاعت کو زائل کردیتا ہے۔ نابغہ نے کہا :
لھم لواء بایدی ماجد بطل لا یقطع الخرق الا طرفہ سامی
ان کا جھنڈا بہادر آدمی کے ہاتھوں میں ہے، وہ پھٹا نہیں ہے مگر اس کی بلند طرف۔
المرأۃ بطلۃ۔ عورت بہادر ہے۔ قد بطل الرجل (طا کے ضمہ کے ساتھ) یبطل بطولۃ وبطالۃً ۔ یعنی وہ شخص بہادر ہوگیا۔ بطل (بفتحہ طاء) بطالۃ یعنی معطل ہوگیا فھو بطال۔
اہل تایل کا الحق بالباطل کے مراد میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس وغیرہ سے مروی ہے جو تمہارے پاس کتاب میں حق ہے اسے باطل کے ساتھ نہ ملاؤ۔ یعنی اس سے مراد تغیر وتبدل کرنا ہے۔ ابو العالیہ نے کہا : یہود نے کہا : محمد ﷺ کو مبعوث کیا گیا ہے لیکن ہماری طرف نہیں ان کا نبی کریم ﷺ کی بعثت کا اقرار کرنا اور ان کی طرف بعثت کا انکار کرنا باطل ہے۔ ابن زید نے فرمایا : الحق سے مراد تورات ہے اور باطل سے مراد وہ ہے جو انہوں نے حضرت محمد ﷺ کے ذکر کو بدلا۔ مجاہد نے کہا : یہودیت اور نصرانیت کو اسلام کے ساتھ نہ ملاؤ (1) ۔ یہ قتادہ نے کہا ہے۔ یہ قول پہلے گزر چکا ہے۔
میں کہتا ہوں : حضرت ابن عباس کا قول زیاد درست ہے، کیونکہ وہ عام ہے اس میں تمام اقوال جمع ہیں۔ واللہ المستعان۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وتکتموا الحق یہ جائز ہے کہ یہ تلبسوا پر معطوف ہو اور یہ مجزوم ہو، اور اس کا ان کے اضمار کے ساتھ منصوب ہونا بھی جائز ہے۔ تقدیر یوں ہوگی : لا یکن منکم لبس الحق وکتمانہ یعنی اگر تم حق کو چھپاتے ہو تو تمہاری طرف سے حق کا التباس اور چھپانا نہیں ہونا چاہئے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس سے مراد نبی کریم ﷺ کے امر کو چھپانا ہے حالانکہ وہ آپ ﷺ کو جانتے تھے۔ محمد بن سیرین نے کہا حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد سے ایک جماعت یثرب میں آکر اتری جب نبی اسرائیل کو دشمن کے غلبہ اور ذلت کا سامنا ہوا تھا۔ یہی گروہ اس وقت تورات کا حامل تھا وہ یثرب میں ٹھہر گئے اور وہ امید رکھتے تھے کہ ان کے درمیان حضرت محمد ﷺ ظاہر ہوں گے وہ آپ ﷺ کی نبوت کی تصدیق کرنے والے تھے، جب وہ بزرگ چلے گئے جو مومنین میں سے تھے پھر ان کی نسل سے لوگ آئے انہوں نے حضرت محمد ﷺ کا زمانہ پایا اور انہوں نے آپ کا انکار کیا حالانکہ وہ آپ ﷺ کو پہچانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فلما جاء ھم ما عرفوا کفروا بہ (البقرہ :89)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانتم تعلمون یہ جملہ حال ہے یعنی تم جانتے ہو کہ حضرت محمد ﷺ حق ہیں اور ان کا کفر عناد کی وجہ سے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے علم کی گواہی نہیں دی بلکہ انہیں اس سے منع فرمایا کہ جو وہ جانتے ہیں اسے نہ چھپائیں۔ یہ دلیل ہے کہ اسے سخت گناہ ہوتا ہے جو جانتے ہوئے گناہ کرتا ہے وہ جاہل سے زیادہ نافرمان ہوتا ہے۔ مزید بیان اتامرون الناس بالبر (البقرہ :44) کے تحت آئے گا۔