2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:24

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:24 in the Quran reader

لیکن اگر (ایسا) نہ کرسکو اور ہرگز نہیں کرسکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہونگے، (اور جو) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے

آیت نمبر 24 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فان لم تفعلوا یعنی اگر تم یہ چیلنج پورا نہ کرسکو۔ ولن تفعلوا یعنی تم اس کی ہرگز طاقت نہیں رکھو گے۔ اس صورت میں صدقین پر وقف، وقف تام ہوگا۔ اکثر مفسرین نے کہا : آیت کا معنی یہ ہے تم اپنے حمایتیوں کو بلاؤ اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو اور تم ایسا ہرگز نہیں کرسکو گے۔ اگر تم ایسا نہ کرسکو تو آگ سے ڈرو۔ اس تفسیر پر صدقین پر وقف مکمل نہ ہوگا۔ اگر کہا جائے کہ لم پر ان کیسے داخل ہوا حالانکہ ایک عامل، دوسرے عامل پر داخل نہیں ہوتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان لفظ میں عاملہ نہیں ہے۔ پس یہ لم پر داخل ہوگیا جیسے کہ یہ ماضی پر داخل ہوجاتا ہے، لم میں یہ عمل نہیں کر رہا جس طرح یہ ماضی میں عمل نہیں کرتا۔ پس ان لم تفعلوا کا معنی ہے : ان ترکتم الفعل اگر تم یہ فعل چھوڑ دو ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولن تفعلوا۔ لن کے ساتھ فعل منصوب ہے عربوں میں سے کچھ لوگ اسے جزم دیتے ہیں۔ ابو عبیدہ نے جزم والا قول ذکر کیا ہے۔ اسی سے نابغہ کا شعر ہے۔ فلن اعرض ابیت اللعن بالصفد (1) میں جناب کے فضائل عطا کی خاطر بیان نہیں کر رہا۔ حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث میں ہے، جب انہیں خواب میں آگ کی طرف جا یا گیا۔ حضرت ابن عمر نے کہا : مجھے کہا گیا : لن ترع (تم نہ ڈرو) یہ اسی لغت کے مطابق ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ولن تفعلوا میں ان کے ارادوں کو ابھارنا اور ان کے نفوس کو حرکت دینا ہے تاکہ اس کے بعد ان کا عجز پھر سے ظاہر ہوجائے، یہ ان غیوب سے ہے جن کی خبر قرآن نے ان کے وقوع سے پہلے دی (2) ۔ ابن کیسان نے کہا : ولن تفعلوا ان کو اس بات سے روکنا ہے کہ یہ قرآن حق ہے اور وہ اپنے اس گمان میں سچے نہیں ہیں کہ یہ قرآن جھوٹ ہے اور یہ گھڑا گیا ہے اور یہ جادو ہے اور یہ شعر ہے اور یہ پہلے لوگوں کے قصے، کہانیاں ہے وہ علم کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ اس کی مثل ایک سورت بھی پیش نہیں کرسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فاتقوا النار یہ فان لم تفعلوا کا جواب ہے یعنی نبی کریم ﷺ کی تصدیق اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے آگ سے بچو۔ التقویٰ کا معنی پہلے گزر چکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تمیم اور اسد قبائل کی لغت فتقوا النار ہے۔ سیبویہ نے بیان کیا ہے : تقی یتقی جیسے قضیٰ یقضی۔ النار مفعول ہے التی اس کی صفت ہے۔ التی میں تین لغات ہیں التی، اللیت (تاء کے کسرہ کے ساتھ) اللت (تاء کے سکون کے ساتھ) یہ مؤنث کے لئے اسم مبہم ہے اور یہ معرفہ ہے اس کو نکرہ بنانے کے لئے اس سے الف لام ہٹانا جائز نہیں ہے اور اس کا مفہوم مکمل نہیں ہوتا مگر صلہ کے ساتھ۔ اس کے تثنیہ میں بھی تین لغات ہیں : اللتان، اللتا (نون کے حذف کے ساتھ) اللتان (نون کی تشدید کے ساتھ) اس کی جمع میں پانچ لغات ہیں : اللاتی، یہ قرآن کی لغت ہے، اللات (تاء کے کسرہ کے ساتھ بغیر یاء کے) اللواتی، واللوات (بغیر یاء کے ) ۔ ابو عبیدہ نے کہا : من اللواتی واللتی واللاتی زعمن ان قد کبرت لداتی ان سب کا گمان ہے کہ وہ سب عمر رسیدہ ہوچکی ہیں۔ اللوا، (تاء کے سقوط کے ساتھ) یہ جوہری نے حکایت کیا ہے۔ ابن شجری نے یہ زیادہ کیا ہے اللائی (ہمزہ اور یاء کے اثبات کے ساتھ) اور اللاء ( ہمزہ کے کسرہ اور یاء کے حذف کے ساتھ) واللا (ہمزہ کے حذف کے ساتھ) اگر تو اس کی جمع الجمع بنائے تو تو اللاتی میں کہے گا : اللواتی۔ اور اللائی میں کہے گا : اللوائی۔ اور جوہری نے کہا : التی کی تصغیر اللتیا (فتح اور تشدید کے ساتھ ) ۔ الراجز نے کہا : بعد اللتیا واللتیا والتی اذا عل تھا انفس تردت ان کے بعد جب وہ بلند پر پہنچیں بعض شعراء نے التی پر حرف ندا داخل کیا اور حرف ندا ایسے اسم پر داخل نہیں ہوتا جس پر الف لام ہوتا ہے مگر صرف یا اللہ میں۔ گویا اس نے اسے اسم جلالت سے تشبیہ دی ہے اس حیثیت سے الف لام اس سے بھی جدا نہیں ہوتا۔ شاعر نے کہا : من اجلک یا التی تیمت قلبی وانت بخیلۃ بالود عنی تیری وجہ سے اے وہ محبوبہ ! تو نے میرے دل کو غلام بنا لیا ہے جبکہ مجھ سے محبت کرنے میں بخل کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے : وقع فلان واللتیا والتی۔ یہ دونوں مصیبت کے اسماء میں سے ہیں۔ یعنی فلاں مصیبت میں واقع ہوا۔ الوقود، اس کا معنی لکڑی، ایندھن ہے، جبکہ واو کے فتحہ کے ساتھ ہو اور واو کے ضمہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی روشن ہوتا ہے۔ الناس اس میں عموم ہے لیکن مراد خاص لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ وہ آگ کا ایندھن ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس آگ سے بچائے۔ الحجارۃ یہ سیاہ گندھک کا پتھر ہے۔ حضرت ابن مسعود اور فراء سے یہ مروی ہے، اس پتھر کو خاص کیا گیا ہے کیونکہ یہ عذاب دینے میں پانچ اعتبار سے دوسرے تمام پتھروں سے زیادہ ہے، جلدی جلتا ہے، بدبودار ہے، دھواں زیادہ ہوتا ہے، بدن کے ساتھ سختی سے چمٹ جاتا ہے، جب گرم ہوتا ہے تو باقی تمام پتھروں سے زیادہ گرم ہوتا ہے (1) ۔ وقودھا الناس والحجارۃ میں یہ کوئی دلیل نہیں ہے انسان اور پتھر کے علاوہ اس آگ میں کچھ نہ ہوگا۔ کیونکہ دوسری آیات میں جنوں اور شیاطین کے آگ میں ہونے کا ذکر ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : الحجارۃ سے مراد بت ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم (الانبیاء :98) (تم اور جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کو چھوڑ کر جہنم کا ایندھن ہیں ) ۔ اس اعتبار سے پتھر اور لوگ آگ کا ایندھن ہوں گے یہ آگ کی بڑائی کے لئے ذکر فرمایا ہے کہ وہ آگ اتنی سخت ہے کہ لوگوں کو جلانے کے ساتھ ساتھ پتھروں کو بھی جلا دیتی ہے۔ پہلی تاویل پر انہیں آگ اور پتھروں کے ساتھ عذاب دیا جائے گا۔ حدیث پاک میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ہر اذیت دینے والا آگ میں ہے اور اس تاویل میں دو وجہیں ہیں : (1) جو دنیا میں لوگوں کو اذیت دے گا اللہ تعالیٰ آخرت میں اسے آگ سے عذاب دے گا۔ (2) وہ لوگ جو دنیا میں درندوں وغیرہ کو آگ میں عذاب دیتے ہیں وہ دوزخیوں کی سزا کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ بعض اہل تاویل کا یہ خیال ہے کہ یہ آگ جو پتھروں کے ساتھ خاص ہے یہ خاص کافروں کی آگ ہے۔ واللہ اعلم۔ مسلم نے حضرت عباس بن عبد المطلب سے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابو طالب آپ کی حفاظت کرتے ہیں اور آپ کی مدد کرتے ہیں، کیا یہ خدمت انہیں کچھ نفع دے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں۔ میں نے اسے آگ کی سختیوں میں پایا پھر میں نے اسے چھوٹے سے گڑھے کی طرف نکال دیا۔ ایک روایت میں ہے اگر میں نہ ہوتا تو وہ آگ کے نچلے درجے میں ہوتے (1) ۔ وقود یہ ترکیبی اعتبار سے مبتدا ہے اور النار اس کی خبر ہے اور الحجارۃ اس پر معطوف ہے۔ حضرات حسن، مجاہد، طلحہ بن مصرف نے اسے وقو دو او کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ایندھن ہے اور واو کے ضمہ ساتھ ہو تو اس کا معنی جلانا ہے۔ کہا جاتا ہے : وقدت النار تقد وقوداً ووقداً وقدۃً ووقیداً ووقداً ووقداناً یعنی آگ روشن ہوئی، اوقد تھا انا واستو قد تھا میں نے آگ کو جلایا۔ الاتقاد، التوقد کی مثل ہے یعنی روشن ہونا۔ اسم ظرف موقد ہے جیسے مجلس، النار موقدۃ، آگ جلائی گئی۔ الوقدۃ۔ سخت گرمی کو کہتے ہیں یہ دس دن یا پندرہ دن ہیں۔ نحاس نے کہا : اس صورت میں اسے وقود واو کے فتحہ کے ساتھ پڑھنا واجب ہے کیونکہ اس کا معنی ایندھن ہے۔ لیکن اخفش نے کہا : حکایت کیا گیا ہے کہ بعض عرب وقود اور دقود دونوں کو ایندھن اور مصدر کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ نحاس نے کہا : اکثر علماء کا پہلا قول ہے۔ مثال دی کہ وضوء واو کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی پانی ہے اور ضمہ کے ساتھ ہو تو مصدر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اعدت للکفرین اس ارشاد کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ کافروں کے علاوہ اس میں داخل نہ ہوں گے حالانکہ حقیقت ایسی نہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ دوسرے مواقع پر گنہگاروں کے لئے وعید آئی ہے اور احادیث جو شفاعت کو ثابت کرتی ہیں ان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ گنہگار مسلمان بھی آگ میں جائیں گے۔ اس آیت میں اہل حق کے قول کی دلیل ہے کہ آگ موجود ہے اور تخلیق ہوچکی ہے جبکہ معتزلہ کا قول اس کے مخالف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ابھی تخلیق نہیں ہوئی ہے۔ اسی قول کو قاضی منذر بن سعید البلوطی الاندلسی نے بھی اختیار کیا ہے۔ مسلم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے، فرمایا : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اچانک آپ ﷺ نے ایک آواز سنی۔ نبی کریم ﷺ نے پوچھا : تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ ایک پتھر ہے جو ستر سال پہلے سے دوزخ کی آگ میں پھینکا گیا ہے وہ اب تک آگ میں گرتا ہے حتیٰ کہ اس کی گہرائی تک پہنچ گیا ہے (1) ۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آگ اور جنت کا مناطرہ ہوا۔ آگ نے کہا : میرے اندر جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا : میرے اندر ضعیف اور مسکین لوگ داخل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے آگ کو فرمایا : تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ جس کو چاہوں گا عذاب دوں گا اور جنت سے فرمایا : تو میری رحمت ہے جس کو چاہوں گا تیرے ساتھ اس پر رحمت کروں گا۔ تم میں سے ہر ایک نے بھرنا ہے (2) ۔ مسلم نے اس کا مفہوم نقل کیا ہے۔ کہا جاتا ہے : احتجت بمعنی تحتج ہے۔ اس کی وجہ حضرت ابن مسعود کی حدیث کا مفہوم ہے۔ نیز نبی کریم ﷺ کو جنت اور دوزخ نماز کسوف میں دکھائی گئیں۔ اسی طرح شب معراج میں جنت اور دوزخ کو دیکھا اور آپ ﷺ جنت میں داخل بھی ہوئے (3) ۔ پس جو اس کا مخالف قول کرے اس کا کوئی اعتبار نہیں سب توفیق اللہ کی طرف سے ہے۔ اعدت یہ ہو سکتا ہے کہ یہ النار سے معدۃ کے معنی میں حال ہو اور قد مضمر ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : او جاء وکم حصرت صدورھم (النساء :90) اس کا معنی ہے : قد حصرت صدورھم۔ حالانکہ قد مضمر ہے قد کے اضمار کا قول اس لئے کیا ہے کیونکہ ماضی قد کے ساتھ حال ہوتا ہے۔ اس صورت میں الحجارۃ پر وقف تام نہ ہوگا اور یہ بھی جائز ہے کہ اعدت کا ماقبل کلام سے کوئی تعلق نہ ہو، جیسے فرمایا وذلکم ظنکم الذی ظننتم بربکم اردکم (فصلت :23) (اور تمہارے اس گمان نے جو تم اپنے رب کے بارے میں کیا کرتے تھے انہیں ہلاک کردیا) ۔ سبحستانی نے کہا : اعدت للکفرین، التی کے صلہ سے ہے جیسا کہ سورة آل عمران میں فرمایا واتقوا النار التی اعدت للکفرین۔ (آل عمران) (اور ڈرو اس آگ سے جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لئے) ابن انباری نے کہا : یہ غلط ہے کیونکہ سورة بقرہ میں التی کا صلہ وقودھا الناس موجود ہے۔ پس اسے دوسرے صلہ کے ساتھ ملانا جائز نہیں اور سورة آل عمران میں اعدت کے علاوہ کوئی صلہ ہے ہی نہیں۔
Ayah 2:25

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:25 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خوشخبری سنادو کہ ان کے لئے (نعمت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، جب انہیں ان میں سے کسی قسم کا میوہ کھانے کو دیا جائیگا تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا اور ان کو ایک دوسرے کے ہمشکل میوے دیئے جائیں گے اور وہاں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور وہ بہشتوں میں ہمیشہ رہیں گے

آیت نمبر 25 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وبشر الذین امنوا اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: جب اللہ تعالیٰ نے کفار کی جزا کا ذکر فرمایا تو مومنین کی جزا کا بھی ذکر فرمایا، تبشیر کا مطلب ہے : ایسی چیز کی خبر دینا جس کا اثر جلد پر ظاہر ہو۔ پہلی خبر جو تجھ پر وارد ہوتی ہے اس کے ساتھ جلد میں تبدیلی ظاہر ہوتی ہے پھر یہ عام طور پر خوشی کے لئے استعمال ہونے لگا ایسی خبر کی قید کے ساتھ جس کی بشارت دی گئی ہو اور کبھی غیر مقید بھی استعمال ہوتا ہے اور غم اور شر کے لئے تبشیر استعمال نہیں ہوتا مگر اس شر پر قید کے ساتھ جس کی بشارت دی گئی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فبشرھم بعذاب الیم۔ (الانشقاق) (تو انہیں خوشخبری سنا دیجئے دردناک عذاب کی ) ۔ کہا جاتا ہے : فأبشر، واستبشر وبشریشر جب کوئی خوشی ہو تو اس وقت بولا جاتا ہے۔ وجہ بشیر اس کو کہا جاتا ہے جو خوبصورت ہو اور جس کی خوبصورتی بالکل واضح ہو۔ البشری جو کچھ خوشخبری والے کو دیا جاتا ہے۔ تباشیر الشیء چیز کا ابتدائی حصہ۔ مسئلہ نمبر 2: علماء کا اس پر اجماع ہے کہ مکلف (عاقل بالغ) جب یہ کہے کہ جو میرے غلاموں میں سے اس بات کی بشارت دے گا وہ آزاد ہے۔ ایک غلام نے پہلے اسے بشارت دی پھر دوسرے غلاموں نے بشارت دی تو ان میں سے پہلا آزاد ہوگا دوسرا نہیں۔ اس میں اختلاف ہے کہ جب کوئی کہے میرے غلاموں میں سے جس نے مجھ فلاں بات کی خبر دی تو وہ آزاد ہے، تو کیا اس میں دوسرا پہلے کی مانند ہے ؟ شوافع نے کہا : ہاں کیونکہ ان میں سے ہر ایک مخبر ہے۔ ہمارے علماء (مالکی) نے کہا : نہیں کیونکہ مکلف اس خبر کا قصد کرتا ہے جو بشارت ہوتی ہے اور یہ پہلے غلام کے ساتھ خاص ہے اور یہ عرفاً معلوم ہے۔ پس قول کو عرف کی طرف پھیرنا واجب ہے۔ محمد بن الحسن نے اخبرنی اور حدثنی کے قول میں فرق کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا جب کوئی شخص کہے : جس غلام نے مجھے فلاں خبر دی یا مجھے ایسا ایسا بتایا تو وہ آزاد ہے اور اس کی کوئی نیت نہیں ہے، پس اس کے غلام نے اسے کتاب، یا کلام یا پیغام رسانی کے ذریعے وہ خبر دی تو وہ غلام آزاد ہوجائے گا کیونکہ یہ خبر ہے اس کے بعد اس کے کسی غلام نے بھی خبر دی تو وہ بھی آزاد ہوجائے گا کیونکہ اس نے کہا تھا جو غلام مجھے خبر دے گا وہ آزاد ہے، اگر سب غلام یہ خبر دیں گے تو سب آزاد ہوجائیں گے۔ اگر اس نے قسم اٹھاتے وقت بالمشافہ کلام کے ذریعے خبر دینے کا ارادہ کیا تھا تو ان میں سے صرف وہی آزاد ہوگا جو بالمشافہ کلام کے ساتھ وہ خبر دے گا اور جب کہے : ای غلام لی حدثنی۔ تو یہ بالمشافہ گفتگو کرنے پر محمول ہوگا ان میں سے کوئی آزاد نہیں ہوگا۔ مسئلہ نمبر 3 : وعملوا الصلحت اس ارشاد میں اس شخص کا رد ہے جو کہتا ہے کہ ایمان صرف طاعات کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ اگر ایمان صرف اعمال ہوتے تو دوبارہ وعملوا الصلحت ذکر نہ کیا جاتا (1) ۔ پس جنت ایمان اور عمل صالح کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : جنت ایمان کے ساتھ حاصل ہوگی اور درجات کا استحقاق اعمال صالحہ کے ساتھ ہوگا۔ واللہ اعلم ان لھم یہ بشر کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ معنی یہ ہے کہ ایمان والوں کو بشارت دو ان کے لئے باغات ہیں الخ یعنی اس سے پہلے باء لام تھا۔ جب حرف جر ساقط ہوگیا تو فعل نے عمل کیا۔ کسائی اور اکثر بصری علماء نے کہا : ان باء کے اضمار کے ساتھ حالت جری میں ہے۔ جنت، ان کے اسم کی حیثیت سے محل نصب میں ہے۔ ان اور اس کا معمول، مفعول ثانی ہے۔ جنت سے مراد باغات ہیں، جنت کہا جاتا ہے کیونکہ اپنے درختوں کے ساتھ جو کچھ ان کے اندر ہوتا ہے اسے چھپا لیتے ہیں۔ اسی سے مجن (ڈھال) الجنین (پیٹ کا بچہ) اور جنت ہے۔ تجری یہ جنت کی صفت ہے یہ مرفوع ہے کیونکہ یہ فعل مستقبل ہے۔ یاء سے ضمہ حذہ کیا گیا ہے کیونکہ ضمہ یاء پر ثقیل ہے۔ الانھر۔ اس سے مراد ماء الانھار (نہروں کا پانی) ہے چلنے کی نسبت حجاز کی وجہ سے نہروں کی طرف کی گئی ہے، کیونکہ چلتا صرف پانی ہے۔ ماء کا لفظ اختصار کی خاطر حذف کیا گیا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وسئل القریۃ (یوسف : 82) اصل اھل القریہ ہے۔ شاعر نے کہا : نبئت ان النار بعدک اوقدت واستب بعدک یا کلیب المجلس مجھے بتایا گیا ہے کہ تیرے بعد آگ جلائی گئی۔ اے کلیب ! تیرے بعد اہل مجلس نے ایک دوسرے کو گالیاں دیں۔ اس شعر میں المجلس سے مراد اہل مجلس ہیں۔ اھل کو حذف کیا گیا۔ النھریہ أنھرت سے مشتق ہے جس کا معنی ہے : وسیع ہونا۔ اسی سے قیس ابن خطیم کا قول ہے : ملکت بھا کفی فانھرت فتقھا یری قائم من دونھا ما وراء ھا (1) میں نے اپنے نیزے کے ساتھ اپنے ہاتھ کو قوت دی۔ پس اس کا سوراخ بہت وسیع ہوگیا اس کے پیچھے کھڑا ہونے والا اس کے دوسری طرف والی چیزوں کو دیکھتا تھا۔ اسی سے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : ما انھر الدم وذکراسم اللہ علیہ فکلوہ۔ (2) جو چیز ذبح کو کھلا کر دے حتیٰ کہ نہر کی طرح خون بنا دے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو اسے کھاؤ۔ نھر کی جمع نھر اور انھار ہے۔ نھر، نھر زیادہ پانی کو کہتے ہیں۔ ابو ذؤیب نے کہا : اقامت بہ فابتنت خیمۃ علی قصب وفرات نھر وہ ٹھہری اور اس نے وسیع پانیوں پر اور میٹھے پانیوں پر خیمہ لگایا۔ روایت ہے کہ جنت کی نہروں کی نالیاں نہیں ہیں بلکہ وہ جنت کی سطح پر قدرت الٰہیہ سے منضبط ہو کر چلتی ہیں (3) جہاں اہل جنت چاہیں گے وہ چلتی رہیں گی۔ الانھر پر وقف حسن ہے لیکن تام نہیں کیونکہ کلما رزقوا منھا من ثمرۃ، جنت کے وصف سے ہے (رزقاً ) مصدر ہے۔ الرزاق کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ من قبل سے مراد ہے دنیا میں۔ اس میں دو وجوہ ہیں : (1) وہ کہیں گے یہ وہی ہے جس کا دنیا میں ہم سے وعدہ کیا گیا ہے (2) یہ وہ رزق ہے جو دنیا میں ہمیں دیا گیا ہے۔ یہ وہ اس لئے کہیں گے کیونکہ جنت کے پھلوں کا رنگ دنیا کے پھلوں جیسا ہوگا۔ جب وہ انہیں کھائیں گے تو اس کا ذائقہ مختلف پائیں گے۔ بعض علماء نے فرمایا : من قبل یعنی جنت میں جو پہلے دیا گیا، کیونکہ انہیں رزق دیا جائے گا پھر دوبارہ رزق دیا جائے گا جب انہیں دن کے آغاز میں کھانے اور پھلوں کے ساتھ رزق دئیے جائیں گے تو وہ اس سے کھائیں گے پھر دن کے آخر میں اس رزق سے دیا جائے تو وہ کہیں گے یہ تو ہمیں پہلے دیا گیا تھا یعنی ہم دن کے آغاز میں کھاچکے ہیں کیونکہ اس کا رنگ اس کھانے کے مشابہ ہوگا لیکن جب اسے کھائیں گے تو صبح والے کھانے سے اس کا ذائقہ مختلف پائیں گے۔ واتوا یہ اتیت سے مجہول کا صیغہ ہے۔ ایک جماعت نے اسے ہمزہ کے ضمہ اور تاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ہارون الاعور نے واتوا یعنی حمزہ اور تاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ پہلی قراءت میں ضمیر اہل جنت کے لئے ہے اور دوسری میں خدام کے لئے ہے۔ بہ متشابھا یہ بہ کی ضمیر سے حال ہے یعنی دیکھنے میں بعض بعض کے مشابہ ہوں گے اور ذائقہ میں مختلف ہوں گے (1) ۔ یہ حضرات ابن عباس، مجاہد اور حسن وغیرہم کا قول ہے۔ حضرت عکرمہ نے کہا : وہ پھل دنیا کے پھلوں کے مشابہ ہوں گے لیکن صفات میں ان سے مختلف ہوں گے (2) ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ وہ تعجب کی بنا پر کہیں گے دنیا میں کوئی جنت کی چیزوں کے مشابہ نہیں سوائے اسماء کے۔ گویا وہ تعجب کریں گے جب وہ پھلوں کی خوبصورتی اور ان کی عظیم تخلیق کو دیکھیں گے۔ قتادہ نے کہا : متشابھا کا مطلب ہے : وہ سارے عمدہ ہیں ان میں کوئی گھٹیا نہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کتبا متشابھا (الزمر : 23) اور دنیا کے پھلوں کی طرح نہیں ہیں جو مشابہ نہیں کیونکہ دنیا میں کچھ بہتر ہوتے ہیں اور کچھ بہتر نہیں ہوتے۔ ولھم فیھا ازواج یہ مبتدا خبر ہے، أزواج جمع ہے زوج کی۔ مرد کا زوج عورت ہے اور عورت کا زوج مرد ہے (3) ۔ اصمعی نے کہا : عرب زوجۃ نہیں کہتے۔ الفراء نے بیان کیا ہے کہ کہا جاتا ہے : زوجۃ۔ فرزدق نے کہا : وان الذی یسعٰی لیفسد زوجتی کساعٍ الی اسد الشری یستبیلھا تاکہ ان کا پیشاب ہاتھ میں لے۔ وہ شخص جو کوشش کرتا ہے تاکہ میری بیوی کو خراب کرے وہ اس شخص کی طرح ہے جو شیروں کی کچھار کی طرف کوشش کرتا ہے تاکہ ان کا پیشاب ہاتھ میں لے۔ حضرت عمار بن یاسر نے حضرت عائشہ ؓ کی شان میں کہا تھا : اللہ کی قسم ! میں جانتا ہوں وہ دنیا و آخرت میں نبی کریم ﷺ کی زوجہ (محترمہ) ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں آزمائش میں ڈالا ہے (4) ۔ یہ حدیث بخاری نے ذکر کی ہے۔ کسائی نے اس کو پسند کیا ہے۔ مطھرۃ۔ یہ ازواج کی صفت ہے۔ مطھرۃ، طاہرۃ سے زیادہ جامع اور بلیغ ہے۔ اس طہارت سے مراد حیض، تھوک اور دوسری عورتوں کی ناپسند یدہد چیزوں سے پاک ہونا ہے۔ عبد الرزاق نے ذکر کیا ہے، فرمایا : مجھے ثوری نے ابن ابی نجیح سے روایت کر کے بتایا اور ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ مطھرۃ یعنی وہ نہ پیشاب کریں گی نہ پاخانہ، نہ بچے جنم دیں گی نہ انہیں حیض آئے گا نہ ان کو مٹی آئے گی نہ وہ تھوکیں گے۔ ہم نے اپنی کتاب “ التذکرہ ” میں اہل جنت کی صفات اور جنت کی صفات اور اس کی نعمتوں کے وصف کے عنوان کے تحت ان سب چیزوں کو ذکر کردیا ہے۔ الحمد للہ وھم فیھا خلدون۔ ھم مبتدا ہے خلدون اس کی خبر ہے۔ ظرف لغو ہے۔ غیر قرآن میں خالدین کو نصب حال کی حیثیت سے بھی جائز ہے۔ الخلود سے مراد بقا ہے، اسی سے حبۃ الخلد ہے یعنی ہمیشہ رہنے والی جنت کبھی یہ زیادہ مدت کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، اس سے عربوں کا قول دعا کے بارے میں ہے : خلد اللہ ملکہ اس کی بادشاہی کو طوالت عطا فرمائی۔ زہیر نے کہا : الا لا اری علی الحوادث باقیا ولا خالداً الا الجبال الرواسیا خبردار ! میں حوادث کو باقی رہنے والا اور لمبی مدت رہنے والا نہیں دیکھتا سوائے ان پہاڑوں کے جو زمین میں گڑھے ہوئے ہیں۔ آیت میں جو خلود کا لفظ استعمال ہوا ہے ہمیشہ ہمیشہ رہنے کے معنی میں ہے۔
Ayah 2:26

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ Open ayah 2:26 in the Quran reader

خدا اس بات سے عار نہیں کرتا کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کسی چیز (مثلاً مکھی مکڑی وغیرہ) کی مثال بیان فرمائے جو مومن ہیں وہ یقین کرتے ہیں کہ وہ ان کے پروردگار کی طرف سے سچ ہے اور جو کافر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس مثال سے خدا کی مراد ہی کیا ہے، اس سے (خدا) بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت بخشتا ہے اور گمراہ بھی کرتا ہے تو نافرمانوں ہی کو

آیت نمبر 26 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان اللہ لا یستحی ان یضرب مثلاً حضرت ابن عباس نے حضرت ابو صالح کی روایت میں فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے منافقین کے لئے یہ دو مثالیں دیں (یعنی مثلھم کمثل الذی اس تو قد نارًا (البقرہ : 17) اورأو کصیب من السماء (البقرہ : 19) تو انہوں نے کہو : اللہ تعالیٰ کی ذات مثالیں بیان کرنے میں بلند اور اعلیٰ ہے، اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ آیت نازل فرمائی۔ عطا کی روایت میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے، فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے خداؤں کا ذکر کیا اور فرمایا : یسلبھم الذباب شیئاً لا یستنقذوہ منہ (الحج : 73) (اور اگر چھین لے ان سے مکھی بھی کوئی چیز تو وہ نہیں چھڑا سکتے اسے اس مکھی سے) اور ان کے خداؤں کے حیلہ کو ذکر کیا تو اسے مکڑی کا جالا بیان فرمایا۔ وہ کہنے لگے : کیا تو نے دیکھا اللہ تعالیٰ نے مکھی اور مکڑی کا ذکر کیا ہے اس قرآن میں جو محمد ﷺ پر نازل فرمایا ہے، وہ اس سے کیا چاہتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل فرمائی۔ حضرات حسن اور قتادہ نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مکھی اور مکڑی کا ذکر کیا اور اس کے ساتھ مشرکین کے لئے مثال دی تو یہودی ہنسے اور کہا : کیا یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے مشابہ ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یستحی اصل میں یستحیی تھا عین اور لام کلمہ حرف علت تھے تو لام کلمہ میں تعلیل کی گئی۔ ضمہ یا پر ثقیل تھا تو اسے ساکن کردیا۔ اسم فاعل بھی اسی طرح ہے مستحی جمع مستحیون مستحیین۔ ابن محیصن نے یستحی حاء کے کسرہ اور ایک یا ساکنہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابن کثیر سے مروی ہے (یہ تمیم اور بکر بن وائل کی لغت ہے) اس میں پہلی یا کی حرکت حا کی طرف نقل کی گئی اور اسے ساکن کردیا پھر ضمہ دوسری یا پر ثقیل تھا تو اسے بھی ساکن کردیا پھر التقائے ساکنین کی وجہ سے ایک یا کو حذف کردیا گیا۔ اسم فاعل مستیح ہے جمع مستحون اور مستحین ہے۔ یہ جوہری نے کہا : اس آیت میں یستحیی کے معنی کرنے میں متأولین کا اختلاف ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ لا یخشی کے معنی میں ہے (یعنی اللہ نہیں ڈرتا) ۔ طبری نے اس معنی کو ترجیح دی ہے، قرآن میں ہے : تخشی الناس واللہ احق ان یخشہ (احزاب : 37) یہاں تخشی بمعنی تستحیی ہے۔ دوسرے علماء نے فرمایا : یہ لا یترک کے معنی کسی شے سے رکنا ہے قبح کے مواقع کے خوف سے اور یہ معنی اللہ تعالیٰ کے لئے بیان کرنا محال ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ام سلمہ سے مروی ہے، فرمایا : حضرت ام سلیم نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! ان اللہ لا یستحی من الحق۔ (1) اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اس میں حیاء کا حکم نہیں دیتا اور اس کے ذکر سے نہیں رکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان یضرب مثلاً ما، یضرب کا معنی یبین (بیان کرنا) ہے، ان اپنے فعل کے ساتھ من کے حذف کی تقدیر کے ساتھ محل نصب میں ہے (مثلاً ) یضرب کی وجہ سے منصوب ہے (بعوضۃ) کے نصب کی چار وجوہ ہیں : 1۔ (ما) زائدہ ہے اور بعوضۃً ، مثلاً سے بدل ہے۔ 2۔ (ما) نکرہ ہے مثلاً سے بدل ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے اور بعوضۃً (ما) کی صفت ہے اور ما کی صفت ہے اور جنس نکرہ کے ساتھ لگائی جاتی ہے اس کے ابہام کی وجہ سے کیونکہ وہ بمعنی قلیل ہوتا ہے یہ فراء، زجاج اور ثعلب کا قول ہے (2) ۔ 3۔ حرف جار کے اسقاط کی تقدیر پر اسے نصب دی گئی ہے۔ اس کا معنی یہ ہوگا : ان یضرب مثلاً ما بین بعوضۃً ۔ بین کو حذف کیا گیا اور اس کا اعراب بعوضۃ کو دیا گیا۔ فا بمعنی الی ہے یعنی جو اس سے بڑی چیز ہے یہ کسائی اور فراء کا قول ہے۔ ابو العباس نے کہا : یا احسن الناس ما قرناً الی قدمٍ ولا حبال محب واصل تصل اے وہ ذات جو سر سے قدم تک تمام لوگوں سے زیادہ حسین ہے ! محب واصل کا کوئی رشتہ پہنچنے والا نہیں۔ اس شعر میں ما قرناً سے مراد ما بین قرنٍ ہے، جب بین کو ساقط کردیا تو اس کو منصوب کردیا۔ 4۔ یضرب بمعنی یجعل ہو۔ اس صورت میں بعوضۃ مفعول ثانی ہوگا۔ ضحاک، ابراہیم بن ابی عبلہ، رؤبہ بن حجاج نے بعوضہ رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ تمیم کی لغت ہے۔ ابو الفتح نے کہا : اس کی وجہ یہ ہے کہ ما اسم ہے جو الذی کے قائم مقام ہے اور بعوضۃ کو مبتدا کے اضمار پر رفع دیا گیا ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی : لا یستحی ان یضرب الذی ھو بعوضۃ مثلاً ۔ پس موصول کی طرف لوٹنے والی ضمیر کو حذف کردیا اور وہ ھو مبتدا ہے، اس کی مثل بعض قراء کی قراءت ہے : تما ما علی الذی احسن یعنی علی الذی ھو احسن۔ ھو مبتدا محذوف ہے۔ سیبویہ نے بیان کیا ہے : ما انا بالذی قائل لک شیئاً یعنی ھو قائل۔ (1) نحاس نے کہا : ما میں حذف زیادہ قبیح ہے الذی میں حذف کی نسبت کیونکہ الذی کے لئے تو ایک ہی وجہ ہے، اس کے ساتھ زیادہ طویل ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے : ضربت لہ مثلاً کا معنی ہے : مثلت لہ مثلاً میں نے اس کے لئے مثال دی ھذہ الاینیۃ علی ضرب واحد (تمام عمارتیں ایک جیسی ہیں) علی مثال واحد ونوع واحد۔ الضرب کا معنی نوع (قسم) ہے۔ البعوضۃ یہ بعض سے فعولہ کے وزن پر ہے۔ بعض کا معنی ہے اس نے گوشت کاٹ لیا۔ کہا جاتا ہے : یضع اور بعض ہم معنی ہیں۔ قد بغضتہ تبعیضاً ، میں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کیا تو وہ ٹکڑے ہوگیا۔ البعوض سے مراد مچھر ہے۔ اس کا واحد بعوضۃٌ اس کو بعوضہ اس کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ یہ جوہری وغیرہ کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فما فوقھا پہلے گزر چکا ہے کہ فا بمعنی الی ہے اور جنہوں نے پہلے ما کو صلہ زائدہ بنایا ہے اس نے دوسرے ما کو اس پر معطوف کیا ہے۔ کسائی اور ابو عبیدہ وغیرہما نے کہا : فما فوقھا کا معنی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ما دونھا ہے (2) ، عینی جو چیز چھوٹے ہونے میں اس سے زیادہ ہو۔ کسائی نے کہا : یہ کلام میں تیرے اس قول کی مانند ہے اتراہ قصیراً ؟ (کیا تو اسے چھوٹا دیکھتا ہے) ۔ کہنے والا کہتا ہے : او فوق ذالک یعنی جتنا تو اسے دیکھ رہا ہے وہ اس سے بھی چھوٹا ہے۔ قتادہ اور ابن جریج نے کہا : فما فوقھا کا مطلب ہے اس سے بڑی چیز (3) ، اور (انہ) کی ضمیر کا مرجع المثل ہے یعنی مثل حق ہے۔ حق، باطل کے خلاف ہوتا ہے حق کی جمع حقوق ہے۔ الحقۃ، حا کے فتحہ کے ساتھ اس سے زیادہ خاص ہے۔ کہا جاتا ہے : ھذہ حقتی یعنی یہ میرا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واما الذین کفروا بنی تمیم اور بنی عامر کی لغت اما میں ایما ہے۔ وہ تضعیف کی کراہت کی وجہ سے ایک میم کو یا سے بدل دیتے ہیں۔ اس بنا پر عمر بن ابی ربیعہ کا شعر پڑھا جاتا ہے : رأت رجلاً ایما اذ الشمس عارضت فیضحی و ایما بالعشی فیخصر اس نے ایک شخص دیکھا جب سورج چڑھتا تو وہ گرم ہوتا جب شام ہوتی تو وہ ٹھنڈا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فیقولون ما ذا اراد اللہ بھذا مثلاً نحویوں کا ما ذا کے متعلق اختلاف ہے۔ یہ ایک اسم کے قائم مقام ہے۔ معنی یہ ہوگا : ای شیء اراد اللہ۔ (1) (اللہ تعالیٰ کس چیز کا ارادہ فرماتا ہے) ۔ اس صورت میں اراد کی وجہ سے محل نصب میں ہوگا۔ ابن کیسان نے کہا : یہ عمدہ قول ہے۔ بعض نے فرمایا : ما اسم تام ہے مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے اور ذا بمعنی الذی ہے اور یہ مبتدا کی خبر ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہوگی ما الذی ارادہ اللہ بھذا مثلاً ۔ ان کے اس کلام کا مطلب استفہام کے لفظ کے ساتھ انکار ہے اور مثلاً قطع کی بنا پر منصوب ہے۔ تقدیر عبارت ہے : اراد مثلاً یہ ثعلب کا قول ہے۔ ابن کیسان نے کہا : یہ اس تمیز کی بنا پر منصوب ہے جو حال کی جگہ واقع ہوتی ہے (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یضل بہ کثیراً ویھدی بہ کثیراً بعض علماء نے فرمایا کہ کفار کے قول کا معنی یہ ہے کہ اس مثال سے اللہ کی مراد کیا ہے جس کے ساتھ وہ لوگوں کو گمراہی کی طرف اور ہدایت کی طرف تفریق کرتا ہے (3) ۔ بعض نے فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے۔ یہ زیادہ بہتر قول ہے کیونکہ وہ اقرار کرتے تھے کہ ہدایت اس کی طرف سے ہے۔ معنی یہ ہوگا آپ فرمائیے اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ بہتیروں کو گمراہ کرتا ہے بہتیروں کو ہدایت دیتا ہے یعنی توفیق دیتا ہے اور محروم کرتا ہے۔ اس میں معتزلہ کے قول کا رد ہے جو پہلے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ گمراہی پیدا کرتا ہے نہ ہدایت۔ وہ کہتے ہیں : اس آیت کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کا نام گمراہ رکھتا ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے : فسقت فلاناً یعنی میں نے اس کا نام فاسق رکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کو گمراہ نہیں کرتا، یہ ان کا اضلال میں طریقہ ہے۔ یہ مفسرین کے اقوال کے خلاف ہے اور لغت میں بھی اس کا احتمال نہیں کیونکہ کہا جاتا ہے : جب کوئی کسی کا نام ضال رکھے تو کہتے ہیں ضللہ، اور جب کسی کا نام رکھے تو اضلہ نہیں کہا جاتا لیکن اس آیت کا معنی وہی ہے جو مفسرین نے بیان فرمایا کہ بہت سے لوگوں کو اس کے ذریعے محروم فرماتا ہے ان کے کفر کی جزا دیتے ہوئے۔ وما یضل بہ الا الفسقین کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے، الفسقین کو نصب فعل کی وجہ سے دی گئی ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے : وما یضل احداً الا الفاسقین الذین سبق فی علمہ انہ لا یھدیھم۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ گمراہ نہیں کرتا مگر فاسقین کو جن کے متعلق پہلے ہی اس کے علم میں ہے کہ اس نے انہیں ہدایت کی توفیق نہیں دینی ہے۔ اور استثناء کی بنا پر الفسقین کو نصب جائز نہیں کیونکہ استثنا ہمیشہ کلام کے مکمل ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ نوف بکالی نے کہا : حضرت عزیر (علیہ السلام) نے اپنے رب سے عرض کیا : الٰہی ! تو نے مخلوق پیدا کی ہے تو جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو حضرت عزیر (علیہ السلام) سے کہا گیا : اس سوال سے اعراض کرو تم اس سوال کو چھوڑ دو ورنہ میں تمہارا مرتبہ نبوت ختم کر دوں گا، جو میں کرتا ہوں اس کے متعلق مجھ سے سوال نہیں کیا جاتا لوگوں سے ان کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ الضلا، اس کا اصل معنی ہلاک ہونا ہے۔ کہا جاتا ہے : ضل الماء فی اللبن جب پانی دودھ میں مل کر ختم ہوجائے، اسی سے یہ ارشاد ہے : ء اذا ضللنا فی الارض (السجدہ :10) سورة فاتحہ میں بحث گزر چکی ہے۔ فسق کی اصل، کلام عرب میں کسی چیز سے خروج ہے۔ کہا جاتا ہے : فسقت الرطبۃ جب پھل اپنے پردے سے باہر آجائے اور چوہیا اپنی بل سے باہر آجائے۔ الفویسقۃ چوہیا کو کہتے ہیں۔ حدیث شریف میں ہے : خمس فواسق یقتلن فی الحل والحرم الحیۃ والغراب الابقع والفارۃ والکلب العقور والحدیا (1) ۔ پانچ چیزیں فواسق ہیں انہیں حل وحرم میں قتل کیا جائے گا : سانپ، کالا کوا، چوہا، کاٹنے والا کتا اور چیل۔ یہ حدیث حضرت عائشہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے اور اسے مسلم نے نقل کیا ہے۔ ایک روایت میں سانپ کی جگہ بچھو کا ذکر ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ان کی اذیت کی وجہ سے ان کا نام فواسق رکھا ہے جیسا کہ آئندہ انشاء اللہ ذکر آئے گا۔ فسق الرجل یفسق ویفسق۔۔۔۔ عن الاخفش۔۔۔۔ فسقا وفسوقاً یعنی نکلا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ففسق عن امر ربہ (الکہف :50) (یعنی اپنے رب کے حکم سے نکل گیا) ۔ ابن اعرابی نے کہا ہے کہ اس نے جاہلیت کے کلام اور اشعار میں کبھی فاسق کا لفظ نہیں سنا۔ فرمایا : یہ عجیب ہے۔ یہ عربی کلام ہے اس کو ابن الفارس اور جوہری نے بیان کیا ہے۔ میں کہتا ہوں : ابوبکر انباری نے اپنی کتاب “ الزاھر ” میں ذکر کیا ہے جب وہ فسق کے معنی پر گفتگو کر رہے تھے۔ شاعر کا قول ہے : یذھبن فی نجد وغورا غائراً فواسقاً عن قصدھا جوائراً وہ نجد میں گئیں اور نشیبی علاقہ میں چلی گئیں اپنے مقصود سے نکل کر ٹیڑھے راستہ پر نکل گئیں۔ الفسیق ہمیشہ فسق کا ارتکاب کرنے والا، ندا کرنے والا وقت۔ کہا جاتا ہے : یا فسق ویا خبث۔ مراد ہوتا ہے : یایھا الفاسق ویایھا الخبیث۔ عرف شرعی میں فسق کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی طاعت سے نکلنا۔ کبھی اس شخص پر اس کا اطلاق ہوتا ہے جو کفر کے ساتھ نکلتا ہے اور اس پر بھی جو نافرمانی کے ساتھ نکلتا ہے۔
Ayah 2:27

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 2:27 in the Quran reader

جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں

آیت نمبر 27 اس آیت میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الذین یہ فاسقین کی لغت ہونے کی بنا پر منصوب ہے اگر تو چاہے تو مبتدا محذوف کی خبر بنا کر حالت رفع میں کر دے یعنی ھم الذین۔ اس کی مزید بحث پہلے گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ینقضون النقض کسی دیوار، یا رسی یا عہد کو توڑ دینا۔ النقاضۃ، بالوں کی رسی کو توڑ دینا۔ المناقضۃ، ایسا کلام جس کے معنی میں تناقض ہو۔ النقیضۃ فی الشعی ایسا شعر جو کسی کے جواب میں کہا جائے۔ النقض۔ توڑی ہوئی چیز۔ علماء کا اس عہد کی تعیین میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم سے لیا تھا جب انہیں آدم کی پیٹھ سے نکالا تھا۔ بعض نے فرمایا : یہ اللہ کی اپنی مخلوق کو وصیت اور اس کا امر ہے جو اس نے انہیں اپنی اطاعت کا حکم دیا ہے اور نہی ہے جو اس نے اپنے رسل کی زبان کے ذریعے اپنی کتب میں اپنی معصیت سے روکا ہے اور اس کا نقض اس کے احکام پر عمل کا ترک ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد وہ دلائل ہیں جو اس نے آسمانوں، زمین اور دوسری اپنی کرشمہ سازیوں کے ذریعے اپنی واحدانیت پر دئیے ہیں یہ عہد کے قائم مقام ہیں اور ان کا توڑنا ان میں غوروفکر کو ترک کرنا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد وہ عہد ہے جو ان لوگوں سے کیا گیا جنہیں کتاب دی گئی تھی کہ وہ محمد ﷺ کی نبوت کو بیان کریں اور ان کے امر کو نہ چھپائیں۔ اس صورت میں یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں ہوگی۔ ابو اسحاق الزجاج نے کہا : اس عہد سے مراد وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیاء اور ان کے متبعین سے لیا کہ وہ نبی مکرم ﷺ کا انکار نہ کریں۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے واذا اخذا للہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتب و حکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتؤ منن بہ ولتنصرنہ قالء اقررتم واخذتم علیٰ ذلکم اصری (آل عمران : 81) میں کہتا ہوں : اس آیت کے ماقبل اور مابعد کا ظاہر دلالت کرتا ہے کہ یہ آیت کفار کے بارے میں ہے۔ یہ پانچ اقوال ہیں اور دوسرا قول سب کو جامع ہے۔ مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من بعد میثاقہ، میثاق اس عہد کو کہا جاتا ہے جس کو قسم کے ساتھ مؤکد کیا گیا ہو۔ الوثاقہ والمعاھدہ (٭) سے مفعال کا وزن ہے۔ اس کا معنی عقد اور باندھنے میں شدت کرنا۔ اصل پر اس کی جمع المواثیق ہے کیونکہ میثاق کی اصل موثاق ہے۔ ما قبل کسرہ کی وجہ سے واؤ یاء سے بدل گئی، اس کی جمع میاثق اور میاثیق بھی آتی ہے۔ ابن عربی نے کہا : حمی لا یحل الدھر الا باذننا ولا نسال الأقوام عھد المیاثیق چراگاہ ہمارے اذن کے بغیر زمانہ اسے حلال نہیں کرتا اور قوموں سے عہدو پیمان کا مطالبہ نہیں کرتے۔ الموثق، المیثاق، المواثقۃ سب کا معنی معاہدہ ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومیثاقہ الذی واثقکم بہ (المائدہ :7) ( اور اس کے وعدہ کو جو اس نے پختہ کیا تھا تم سے ) ۔ مسئلہ نمبر 4: ویقطعون، القطع یہ معروف ہے۔ قطع تعلقی میں مصدر القطیعۃ استعمال ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے : قطیعۃ فھو رجل قطع وقطعۃ جیسے ھمزۃٌ۔ قطعت الحبل قطعاً میں نے رسی کو توڑ دیا۔ قصعت النھر قطوعا۔۔۔۔ قطعت الضیر قصوعا و قصٰاعاً وقطاعاً جب کوئی پرندہ ایک شہر سے نکل کر دوسرے شہر میں چلا جائے۔ اصاب الناس قطعۃ جب لوگوں کے پانی کم ہوجائیں۔ ورجل بہ قطع جب آدمی کا سانس تھکاوٹ کی وجہ سے متواتر پے در پے آنے لگے۔ مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما امر اللہ بہ ان یوصل اس میں (ما) یقطعون کی وجہ سے محل نصب میں ہے اور اگر تو چاہے تو ان کو ما سے بدل بنا دے اور اگر چاہے تو بہ میں جو ضمیر ہے اس سے (ان) کو بدل بنا دے۔ یہ ترکیب بہتر ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ نئلا یوصل ہو یعنی کراھۃ ان یوصل۔ اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس چیز کو ملانے کا حکم دیا ؟ بعض نے فرمایا : صلہ رحمی۔ بعض نے فرمایا : صلہ رحمی۔ بعض نے فرمایا : قول کو عمل کے ساتھ ملانے کا حکم ہے۔ پس انہوں نے قول وعمل کو جدا جدا کردیا۔ اس طرح کہ جو انہوں نے نے کہا اس پر عمل نہیں۔ بعض نے فرمایا : تمام انبیاء کی تصدیق کو ملانے کا حکم دیا۔ پس انہوں نے بعض انبیاء کی تصدیق اور بعض کی تکذیب کر کے اس کو توڑا۔ بعض نے فرمایا : یہ اللہ کے دین اور زمین میں اس کی عبادت، شریعت کا قائم کرنا اور شرعی حدود کی حفاظت کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ یہ ہر اس صورت کو شامل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا۔ یہ جمہور علماء کا قول ہے اور الرحم اس کا ایک جز ہے۔ مسئلہ نمبر 6 : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویفسدون فی الارض یعنی وہ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور افعال میں ظلم کرتے ہیں کیونکہ ان کے افعال ان کی شہوات کے مطابق ہوتے ہیں (1) ۔ یہ فساد کی حد ہے۔ اولئک ھم الخسرون۔ یہ مبتدا خبر ہیں۔ اور ھم زائدہ ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ ھم دوسرا مبتدا ہو اور الخسرون اس کی خبر ہو اور پھر مبتدا خبر دونوں پہلے مبتدا کی خبر ہوں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ الخاسر وہ شخص ہے جو فلاح وفوز میں سے اپنا حصہ ہی کم کر دے۔ الخسران کا مطلب نقصان ہے خواہ وہ میزان میں ہو یا کسی اور چیز میں۔ جریر نے کہا : ان سلیطا فی الخسار انہ اولاد قوم خلقوا اقنہ بے شک سلیط خسارے میں ہے وہ ایک قوم کی اولاد ہے جو غلام پیدا کئے گئے ہیں۔ یعنی اپنے حظوظ اور شرف میں کمی کرنے کی وجہ سے خسارہ میں ہیں۔ جوہری نے کہا : خسرت الشیء واخسرتہ کا معنی ہے : کمی کرنا۔ الخساروالخسارۃ والخیسری۔ کا معنی گمراہ ہونا اور ہلاک ہونا ہے۔ ہلاک ہونے والے کو خاسر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو خسارہ دینے والا ہے اور وہ جنت میں اپنی منزل سے روکے گئے ہیں۔ مسئلہ نمبر 7: اس آیت میں دلیل ہے کہ عہد کو پورا کرنا، اس کا التزام کرنا ہے اور ہر عہد جس کو انسان نے اپنے اوپر لازم کیا ہو اسے کے لئے توڑنا حلال نہیں ہے، خواہ وہ مسلمان کے ساتھ ہو یا کسی غیر مسلم کے ساتھ ہو اللہ تعالیٰ نے عہد توڑنے والے کی مذمت کی ہے۔ فرمایا : اوفوا بالعقود (المائدہ :1) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے کہا واما تخافن من قوم خیانۃ فانبذ الیھم (انفال : 58) پس اللہ تعالیٰ نے غدر (عہد شکنی) سے منع فرمایا ہے اور یہ نہیں ہوتا مگر عہد توڑنے کی وجہ سے جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔
Ayah 2:28

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:28 in the Quran reader

(کافرو ! ) تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو جس حال میں کہ تم بےجان تھے تو اس نے تم کو جان بخشی پھر وہی تم کو مارتا ہے پھر وہی تم کو زندہ کرے گا پھر تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

آیت نمبر 28 کیف حالت کے متعلق سوال ہے۔ یہ اسم ہے اور تکفرون کی وجہ سے محل نصب میں ہے یہ مبنی برفتحہ ہے اس کو ساکن ہونا تھا کیونکہ اس میں اس استفہام کا معنی ہے جس کا معنی تعجب ہے۔ پس اس کو حروف سے مشابہت دی گئی اور فتح کی خفت کی وجہ سے اس کے لئے فتحہ اختیار کیا گیا یعنی یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن پر تعجب کرنا واجب ہے جب انہوں نے کفر کیا حالانکہ ان پر حجت ثابت ہوچکی ہے۔ اگر کہا جائے کہ یہ خطاب اہل کتاب کو ہونا کیسے جائز ہے کیونکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کا انکار نہیں کرتے تھے۔ اس کا جواب پہلے گزر چکا ہے کہ جب انہوں نے محمد ﷺ کی نبوت کو تسلیم نہ کیا اور جو کچھ آپ احکام لے کر آئے اس کی تصدیق نہ کی تو انہوں نے شرک کیا کیونکہ انہوں نے یہ اقرار نہ کیا کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جو یہ گمان کرے کہ قرآن انسان کا کلام ہے اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور وہ عہد کو توڑنے والا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : کیف کا لفظ تو لفظ استفہام ہے لیکن معنی استفہام نہیں بلکہ یہ تقریر اور توبیخ کے لئے ہے یعنی تم کیسے اس کی نعمت کا انکار کرتے ہو جبکہ اس کی قدرت یہ ہے (1) ۔ الواسطی نے کہا : اس کلام کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انہیں حد درجہ کی توبیخ فرمائی کیونکہ مردوں اور جمادات سے اس کا صانع کسی چیز میں جھگڑا نہیں کرتا۔ منازعت (جھگڑا) ہیاکل روحانیہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وکنتم امواتاً یہ واو حالیہ ہے اور قدمضمرۃ ہے۔ زجاج نے کہا : تقدیر عبارت وقد کنتم ہے۔ پھر قد حذف ہوگیا۔ فراء نے کہا امواتاً ، کنتم کی خبر ہے۔ فاحیاکم ثم یمیتکم یہاں وقف تام ہے۔ ابو حاتم نے اسی طرح کہا پھر فرمایا : ثم یحییکم اہل تاویل نے ان دو موتوں اور دو زندگیوں کی ترتیب میں اختلاف کیا ہے اور انسان کے لئے کتنی موتیں اور کتنی زند گیا ہیں اس میں بھی علماء کا اختلاف ہے۔ حضرات ابن عباس اور ابن مسعود نے فرمایا : یعنی تم تخلیق سے پہلے معدوم تھے۔ فاحیاکم اس نے تمہیں پیدا کیا۔ ثم یمیتکم پھر تمہاری عمروں کے مکمل ہونے کے وقت تمہیں موت دے گا ثم یحییکم پھر تمہیں قیامت کے روز زندہ کرے گا۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ قول اس آیت سے مراد ہے۔ کفار کو اس قول سے انکار نہیں تھا کیونکہ وہ ان دونوں چیزوں کا اقرار کرتے تھے (2) ، جب کفار کے نفوس کو یقین تھا کہ وہ معدوم تھے اور پھر دنیا میں انہیں پیدا کیا پھر اس دنیا میں انہیں مارنے کا بھی یقین تھا تو ان پر دوبارہ زندہ کرنے کا لزوم قوی ہوگیا۔ اب ان کا آخرت میں اٹھنے کا انکار ایسا دعویٰ تھا جس پر کوئی دلیل نہ تھی۔ دوسرے علماء نے کہا : اس تاویل پر قبر کی زندگی دنیا کی زندگی کے حکم میں ہوگا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس زندگی کا کوئی اعتبار نہیں جس میں اس کی موت کا اعتبار نہیں کیا گیا جسے دنیا میں اللہ تعالیٰ نے مارا پھر دنیا میں ہی اللہ تعالیٰ نے اسے زندہ کیا۔ بعض علماء نے فرمایا : کنتم امواتا یعنی آدم کی پیٹھ میں تم مردہ تھے پھر اس نے تمہیں اس کی پیٹھ سے چیونٹیوں کی صورت میں نکالا ثم یمیتکم پھر تمہیں دنیا کی موت دے گا پھر تمہیں اٹھائے گا۔ بعض نے فرمایا کنتم امواتاً یعنی تم مردوں کی صلبوں اور عورتوں کے رحموں میں نطفہ کی صورت میں تھے پھر اس نے تمہیں رحموں سے نقل کیا فاحیاکم اور تمہیں زندگی بخشی ثم یمیتکم پھر تمہیں اس زندگی کے بعد موت دے گا پھر سوال کے لئے تمہیں زندہ کرے گا پھر تمہیں قبر میں موت دے گا پھر حشر کی طرف لے جانے کے لئے نشر کی زندگی دے گا۔ یہ ایسی زندگی ہے جس کے بعد موت نہیں۔ میں کہتا ہوں : اس تاویل پر تین موتیں اور تین زندگیاں ہوں گی اور ان کا آدم کی پیٹھ میں مروہ ہونا اور ان کا آدم کی پیٹھ سے نکلنا اور ان پر گواہی دینا مگر ان کے باپوں کی صلبوں اور مادؤں کی رحموں میں ان کا نطفہ نہ ہونا اس صورت میں چار موتیں اور چار زندگیاں ہوجائیں گی۔ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے پہلے لوگوں کو ذروں کی صورت میں پیدا کیا پھر انہیں موت دی۔ اس صورت میں پانچ موتیں اور پانچ زندگیاں ہوجائیں گی چھٹی موت امت محمد ﷺ کے مجرموں کے لئے جب وہ آگ میں داخل ہوں گے کیونکہ حضرت ابو سعید خدری کی حدیث میں ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رہے دوزخی جو دوزخ والے ہیں وہ اس میں نہ مریں گے نہ زندہ ہوں گے لیکن کچھ لوگ جنہیں آگ لگے گی ان کے گناہوں کے سبب پھر اللہ انہیں موت دے گا حتیٰ کہ جب وہ کوئلہ بن جائیں تو اذن شفاعت ہوگا انہیں گروہوں کی صورت میں لایا جائے گا پھر جنت کی نہروں پر انہیں بکھیر دیا جائے گا۔ پھر کہا جائے گا : اے اہل جنت ! ان پر پانی بہاؤ۔ پس اس طرح ان پر گوشت پیدا ہوجائے گا جیسے سیلاب کی مٹی پر بوٹی پیدا ہوجاتی ہے۔ ایک شخص نے کہا : گویا کہ رسول اللہ ﷺ جنگل میں بکریاں چراتے تھے (1) ۔ (مسلم) میں کہتا ہوں : آپ ﷺ کے ارشاد اماتہ اللہ اماتۃ ً (اللہ پھر انہیں موت دے گا) اس سے حقیقۃ موت مراد ہے کیونکہ مصدر کے ساتھ تاکید لگائی گئی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ بھی جائز ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے نیند طاری کر کے انہیں عذاب سے غائب کردیا ہو اور یہاں حقیقی موت مراد نہ ہو لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ نحویوں کا اجماع ہے کہ جب فعل کی مصدر کے ساتھ تاکید لگائی گئی ہو تو وہاں مجاز مراد نہیں ہوتا بلکہ حقیقت مراد ہوتی ہے جیسے کلم اللہ موسیٰ تکلیما۔ (النساء) جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔ بعض علماء نے فرمایا اس آیت کا معنی یہ ہے کہ کنتم امواتاً یعنی تم گمنام تھے فاحیاکم اس نے زندگی بخشی کہ تمہارا ذکر کیا گیا اور تم اس دین اور اس نبی کریم ﷺ سے مشرف ہوئے جو تمہارے پاس آیا۔ پھر وہ تمہیں موت دے گا۔ پس تمہارا ذکر ختم ہوجائے گا پھر تمہیں بعث کے لئے زندہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ثم الیہ ترجعون پھر اس کے عذاب کی طرف، اپنے کفر کی وجہ سے لوٹنا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ معنی ہے کہ زندگی کی طرف اور سوال کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کما بد انا اول خلق نعیدہ (الانبیاء : 104) پس اس کا دوبارہ زندہ کرنا ان کے ابتدا میں زندہ کرنے کی طرح ہے اور یہی رجوع ہے اور ترجعون اکثر قراء کی قراءت ہے۔ یحییٰ بن یعمر، ابن ابی اسحٰق، مجاہد، ابن محیص، سلام بن یعقوب نے حرف مضارع کو فتح اور جیم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے جہاں بھی یہ لفظ آیا ہے۔