Ayah 2:125آیت نمبر 125
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ جعلنا البیت مثابۃً للناس وامناً اس میں دو مسئلہ ہیں :
مسئلہ نمبر 1: جعلنا بمعنی صیرنا ہے کیونکہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے یہ پہلے گزر چکا ہے۔ البیت سے مراد کعبہ ہے۔ مثابۃ کا معنی ہے مرجع کہا جاتا ہے ثاب یثوب مثاباً ومثابۃً وثؤوباً وثوباناً ۔ مثابۃ مصدر ہے اس کے ساتھ صفت بیان کی گئی ہے اس سے مراد وہ جگہ ہے جس کی طرف لوٹا جاتا ہے۔ ورقہ بن نوفل نے کعبہ کے بارے میں کہا :
مثاباً لافناء القبائل کلھا تخب الیھا الیعملات الذوامل (1)
کعبہ تمام قبائل کا مرجع ہے اس کی طرف اونٹ آہستہ چلنے والے آتے ہیں۔
اعمش نے مثابات جمع پڑھا ہے (2) ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہ ثواب سے ہو یعنی لوگوں کو وہاں ثواب دیا جاتا ہے۔ مجاہد نے کہا : کوئی شخص اس سے اپنا مطلوب پورا نہیں کرتا۔ شاعر نے کہا :
جعل البیت مثاباً لھم لیس منہ الدھر یقضون الوطر
کعبہ کو لوگوں کے لئے لوٹنے کی جگہ بنایا گیا ہے لوگ اس سے اپنی خواہش پوری نہیں کرتے۔
اصل میں مثوبۃ تھا واو کی حرکت ثا کو دی گئی پھر واو ثاب یثوب کی اتباع میں الف سے بدل گئی اور اسے مفعول ثانی کی وجہ سے نصب دی گئی ہے، مبالغہ کے لئے ۃ کا اضافہ کیا گیا ہے کیونکہ کثرت سے لوٹنے والے ہوتے ہیں بہت کم ہے کہ کوئی بیت اللہ سے جدا ہوتا ہے مگر وہ کہتا ہے کہ ابھی اس نے اپنی حاجت پوری نہیں کی۔ یہ نسابہ اور علامۃ کی طرح ہے۔ یہ اخفش کا قول ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : یہ مصدر کی تانیث کی ھاء ہے، مبالغہ کے لئے نہیں ہے۔ (1)
اگر کہا جائے کہ ہر شخص جو دوبارہ اس کی طرف نہیں آتا۔ اس کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ لوٹنا ایک مرتبہ آنے والے کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ لوگوں سے خالی نہیں ہوتا لوگوں سے قصد کرنے والے معدوم نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : امناً امام ابوحنیفہ اور فقہاء کی ایک جماعت نے اس سے استدلال کیا ہے کہ محصن اور چور پر حرم کی حدود میں حد قائم نہیں کی جائے گی جب وہ حرم میں پناہ لے گا۔ اور اپے قول کی تائید اس آیت سے کی ہے : ومن دخلہ کان امناً (آل عمران :97) گویا فرمایا : جو بیت اللہ میں داخل ہوجائے اسے امن دو ۔ اور صحیح، حرم میں حدود کا قائم کرنا ہے۔ یہ منسوخ ہے کیونکہ اس میں اتفاق ہے کہ بیت اللہ میں قتل نہیں کیا جائے گا اور بیت اللہ سے باہر قتل کیا جائے گا۔ اختلاف اس میں ہے کہ حرم میں قتل کیا جائے گا یا نہیں۔ حرم پر بیت کے اسم کا اطلاق حقیقۃً نہیں ہوتا اور علماء کا اجماع ہے کہ اگر حرم میں کوئی قتل کرے گا تو اسے حرم میں قتل کیا جائے گا اگر کسی نے حد کا موجب جرم کیا تو اس سے جرم میں بدلا لیا جائے گا۔ اگر حرم میں کوئی جنگ کرے گا تو اس سے جنگ کی جائے اس کی جگہ اسے قتل کیا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ نے کہا : جو حرم کی طرف پناہ لے گا اسے حرم میں قتل نہیں کیا جائے گا نہ اس کا پیچھا کیا جائے گا اسے ہمیشہ تنگ کیا جائے گا حتیٰ کہ وہ مرجائے یا حرم سے باہر آجائے۔
اور ہم اسے تلوار سے قتل کرتے ہیں اور وہ اسے بھوک کے ذریعے قتل کرتے ہیں۔ پس اس سے سخت قتل کون سا ہے ؟ امناً یہ استقبال کعبہ کے امر کی تاکید ہے یعنی بیت المقدس میں یہ فضیلت نہیں ہے نہ لوگ اس کا حج کرتے ہیں، جو حرم میں پناہ لے تو وہ حملہ سے امن میں ہوجاتا ہے، مزید بیان سورة مائدہ میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتخذوامن مقام ابرٰھم مصلی اس میں تین مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: واتخذوانافع اور ابن عامر نے خبر کے اعتبار سے خاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متبعین میں سے جنہوں نے مقام ابراہیم کو مصلی بنایا ان کے متعلق خبر ہے۔ اس کا عطف جعلنا پر ہے۔ یعنی جعلنا البیت مثابة واتخذوہ مصلی۔ ہم نے بیت اللہ کو لوٹنے کی جگہ بنایا اور لوگوں نے اسے مصلی بنایا۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ اذ کی تقدیر پت معطوف ہے، گویا یوں فرمایا : واذ جعلنا البیت مثابة واذاتخذوا۔
پہلی ترکیب پر ایک جملہ ہے اور دوسری ترکیب پر دو جملے ہیں۔ جمہور قراء نے اسے اتخذوا امر کے صیغہ کے اعتبار سے خاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ انہوں نے پہلے کلام سے اسے الگ کیا ہے اور انہوں نے جملہ کا جملہ پر عطف کیا ہے، مہدوی نے کہا : اذکروا نعمتی پر اس کا عطف جائز ہے گویا یہ یہود سے فرمایا جارہا ہے۔ یا اس کا عطف اذجعلنا کے معنی پر ہے کیونکہ اس کا معنی ہے اذکروا اذجعلنا یا اس کا عطف مثابة کے معنی پر ہے کیونکہ مثابة کا معنی ہے ثوبوا۔ (لوٹ کر آؤ)
مسئلہ نمبر 2: حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے کہا : میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی ہے۔ مقام ابراہیم میں، پردے کے بارے میں اور بدر کے قیدیوں کے بارے میں۔ اس روایت کو مسلم وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ بخاری نے یہ روایت حضرت انس سے روایت کی ہے، فرمایا : حضرت عمر نے فرمایا : میں نے تین چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی موافقت کی ہے یا فرمایا : میرے رب نے تین چیزوں میں میری موافت کی ہے۔۔۔۔ الحدیث۔۔۔۔ ابوداؤد نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے، فرمایا : حضرت عمر ؓ نے فرمایا : میں چار چیزوں میں اپنے رب کی موافقت کی۔ میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! اگر آپ مقام کے پیچھے نماز پڑھیں تو یہ آیت نازل ہوگئی واتخذوا من مقام ابرٰھیم مصلی میں نے عرض کی یارسول اللہ ﷺ ! اگر آپ اپنی ازواج مطہرات کو پردے کا حکم دے دیں کیونکہ ان کے پاس نیک اور فاخر ہر قسم کے لوگ آتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی : واذسالتموھن متاعا فسئلو ھن من ورآء حجاب (احزاب : 53) اور یہ احسن الخالقین تو اللہ تعالیٰ کیطرف سے یہ الفاظ نازل ہوئے : فتبٰرک اللہ احسن الخٰلقین۔ (المومنون)
میں نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے پاس گیا۔ میں نے کہا : تم رک جاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو تم سے بہتر عورتیں عطا فرمادے گا تو یہ آیت نازل ہوئی : عسیٰ ربه ان طلقکن (التحریم :5)
میں کہتا ہوں : اس روایت میں بدر کے قیدیوں کا ذکر نہیں ورنہ مقام، المقام لغب میں قدموں کی جگہ کو کہتے ہیں۔ نحاس نے کہا : مقام یہ قام یقوم سے ہے۔ مصدر ہوگا اور جگہ کا اسم اور مقام، اقام سے ہے۔ زہیر کا قول ہے :
و فیھم مقامات حسن وجوھھم واندیة ینتابھا القول والفعل
ان میں اہل مقام ہیں جن کے چہرے خوبصوت ہیں اور مجالس ہیں جن میں قول وفعل پے در پے ہوتا ہے۔ اس شعر میں مقامات سے مراد اہل مقامات ہیں۔
المقام کی تعیین میں بہت سے مختلف اقوال ہیں۔ ان میں سے اصح یہ ہے کہ وہ پتھر آج لوگ جس کو پہچانتے ہیں جن کے پاس لوگ طواف قدوم کی دو رکعتیں پڑھتے ہیں یہ حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت ابن عباس، حضرت قتادہ وغیرہ کا قول ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر کی طویل حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب بیت اللہ کو دیکھا تو رکن کو استلام کیا پھر تین چکروں میں رمل کیا، اور چار چکر آرام سے چلے پھر مقام ابراہیم کی طرف گئے اور یہ آیت پڑھی۔ واتخذوا من مقام ابراٰھیم مصلی۔ پھر رکعتیں پڑھیں ان میں سورة قل ھواللہ احد۔ اور قل یایھا الکٰفرون۔ پڑھی۔ یہ دلیل ہے کہ طواف کی دو رکعتیں اور دوسری اہل مکہ کے لئے افضل ہیں اور من وجہ یہ دلیل ہے کہ مسافروں کے لئے طواف افضل ہے۔ اس کا بیان آگے آئے گا۔ بخاری میں ہے : مقام سے مراد وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چڑھے تھے جب ان پتھروں کو اٹھانے سے کمزور پڑگئے تھے جو کعبہ کی تعمیر میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) آپ کو پیش کرتے تھے۔ آپ کے قدم اس پتھر میں دھنس گئے تھے۔ حضرت انس نے کہا : میں نے المقام میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی انگلیوں، ایڑھی اور قدموں کے نیچے اٹھی ہوئی جگہ کا نشان دیکھا، لیکن لوگوں کے ہاتھوں کے چھونے نے اس اس نشان کو ختم کردیا ہے۔ قشیری نے یہ بیان کیا ہے۔ سدی نے کہا : المقام سے مراد وہ پتھر ہے جو اسماعیل کی بیوی نے حضرت ابراہیم کے قدموں کے نیچے رکھا تھا۔ جب اس نے حضرت ابراہیم کا سر دھویا تھا۔ حضرات ابن عباس، مجاہد، عکرمہ اور عطا سے مروی ہے، مقام سے مراد مکمل حج ہے، عطا سے مروی ہے، عرفہ، مزدلفہ اور جمار ہے۔ یہ شعبی اور نخعی کا قول ہے۔ مجاہد نے کہا : پورا حرم مقام ابراہیم ہے۔
میں کہتا ہوں : صحیح پہلا قول ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں ثابت ہے۔ ابونعیم نے محمد بن سوقه عن محمد بن المنکدر عن جابر کے سلسلہ سے روایت کیا ہے۔ حضرت جابر نے فرمایا : نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو رکن اور مقام یا دروازے اور مقام کے درمیان دیکھا وہ دعا مانگ رہا تھا اے اللہ ! فلاں کو بخش دے۔ نبی کریم ﷺ نے اسے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ اس شخص نے کہا : مجھے ایک شخص نے اس مقام میں دعا کرنے کے لئے کہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا، لوٹ جا تیرے ساتھی کی بخشش ہوگئی۔ ابو نعیم نے اس سند سے بھی روایت نقل کی ہے : حدثناہ احمد بن محمد احمد بن ابراھیم القاضی، قال حدثنا محمد بن عاصم بن یحییٰ الکاتب، قال حدثنا عبدالرحمن بن القاسم القطان الکوفی، قال حدثنا الحارث بن عمران الجعفری عن محمد بن سوقه۔
ابو نعیم نے کہا : اسی طرح یہ عبدالرحمٰن نے حارث سے انہوں نے محمد سے انہوں نے حضرت جابر سے روایت کی ہے۔ حارث کی حدیث محمد عن عکرمہ عن ابن عباس کی سند سے معروف ہے۔ مصلی کا معنی ایسی جگہ جہاں دعا کی جائے۔ یہ مجاہد کا قول ہے بعض نے فرمایا : نماز کی جگہ جس کے قریب نماز پڑھی جائے۔ یہ قتادہ کا قول ہے۔ بعض نے فرمایا : قبلہ جس کے پاس امام کھڑا ہوتا ہے۔ یہ حسن کا قول ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعھدنا الی ابرٰھم واسمٰعیل ان طھرا بیتی للطآئفین والعٰکفین والرکع السجود اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: وعھدنا بعض نے فرمایا : اس کا معنی امرنا (ہم نے حکم دیا) ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی اوحینا (ہم نے وحی کی) ان طھرا، ان حرف جر کے حذف کی تقدیر کے ساتھ محل نصب میں ہے۔
سیبویہ نے کہا : ان بمعنی ای مفسرہ ہے اس کا اعراب میں کوئی محل نہیں ہے۔ کو فیوں نے کہا : عھدنآ بمعنی قول ہے۔ طھرا بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے : بتوں سے پاک کرو۔ یہ مجاہد اور زہری سے مروی ہے۔ حضرات عبید بن عمیر اور سعید بن جبیر نے کہا : آفات اور ریب سے پاک کرو۔ بعض نے فرمایا : کفار سے پاک کرو۔ سدی نے کہا : طہارت اور طہارت کی نیت سے اس کی بنیاد رکھو اور تعمیر کرو۔ اس قول کی مثل اسس علی التقویٰ ہے۔ یمان نے کہا : اس کا معنی ہے : اسے خوشبو لگاؤ اور دھونی دو ۔ بیتی، بیت کی اضافت اپنی طرف کی، یہ شرف و تکریم بخشنے کے لئے ہے، یہ مخلوق کی خالق کی طرف اور مملوک کی مالک کی طرف اضافت ہے۔ حضرات حسن، ابن ابی اسحاق، اہل مدینہ، ہشام اور حفص نے بیتی یاء کے فتحہ کیساتھ پڑھا ہے، دوسرے قراء نے یاء سکون کیساتھ ہے
مسئلہ نمر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : للطآئفین اس کا ظاہر مطلب تو یہ ہے کہ جو بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں، یہ عطا کا قول ہے۔ حضرت سعید بن جبیر نے کہا : اس کا معنی ہے مسافروں کے لئے جو مکہ میں وادر ہوتے ہیں۔ اس میں بعد ہے والعٰکفین جو اس شہر کے ہیں اور جو مسافر ہیں۔ یہ عطا سے مروی ہے۔ اسی طرح کا قول للطآیفین کے بارے میں ہے لغت میں عکوف لزوم اور کسی شے کی طرف متوجہ ہونے کو کہتے ہیں۔ جیسا کہ شاعر نے کہا :
عکف النبیط لیعبون الفنزجا
نبطی لوگ رقص کرنے کی طرف متوجہ ہوئے۔
مجاہد نے کہا : العاکفون سے مراد مجاور ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : نمازی ہیں۔ جو بغیر طواف کے بیٹھنے والے ہیں۔ یہ تمام معانی قریب قریب ہیں۔ الرکع السجود کعبہ کے پاس نماز پڑھنے والے۔ رکوع و سجود کو خاص طور پر ذکر فرمایا کیونکہ یہ دونوں نمازی کو اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب کرنے والے ہوتے ہیں۔ رکوع و سجود کا لغوی معنی پہلے گزرچکے ہے۔
مسئلہ نمبر 3: جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان طھرا بیتی اس میں اللہ تعالیٰ کے تمام گھر شامل ہیں۔ ان کا حکم بھی تطہیر ونظامت میں اس جیسا ہوگا، کعبہ کا خاص طور پر ذکر فرمایا کیونکہ اس وقت وہاں اور کوئی گھر نہ تھا یا اس لئے کہ اس کی حرمت زیادہ ہے۔ پہلا معنی اظہر ہے۔ قرآن میں ہے : فی بیوتٍ اذن اللہ ان ترفع (النور :36) اس آیت کے تحت دوسری مساجد کا حکم آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
حضرت عمر بن خطاب ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے مسجد میں ایک شخص کی آواز سنی۔ حضرت عمر نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ کیا تو جانتا ہے تو کہاں ہے ؟ حضرت حذیفہ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی، ڈرانے والوں کے بھائی، اے رسولوں کے بھائی ! اپنی قوم کو ڈراؤ کہ وہ میرے گھروں میں سے کسی گھر میں داخل نہ ہوں مگر سلیم دلوں کے ساتھ، سچی زبانوں کے ساتھ، پاکیزہ ہاتھوں کے ساتھ، صاف شرمگاہوں کے ساتھ اور میرے گھروں میں سے کسی گھر میں داخل نہ ہوں جب تک کہ انہوں نے کسی پر ظلم کیا ہو۔ کیونکہ میں اس پر لعنت کرتا ہوں جب تک وہ میرے سامنے کھڑا رہتا ہے حتیٰ کہ وہ ظلم سے چھینی ہوئی چیز مظلوم کو واپس کر دے۔ پس میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ سنتا ہے، میں اس کی بصارت بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ دیکھتا ہے اور وہ میرے اولیاء واصفیاء میں سے ہوجاتا ہے اور انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ میرا پڑوسی بن جاتا ہے۔
مسئلہ نمبر 4: اس آیت میں امام شافعی، امام ابو حنیفہ، ثوری اور سلف کی جماعت نے بیت اللہ کے اندر فرض نماز اور نفل نماز کے جواز پر استدلال کیا ہے۔ امام شافعی نے فرمایا : اگر بیت اللہ کے درمیان کسی دیوار کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے گا تو اس کی نماز جائز ہوگی۔ اگر اس نے دروازے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی جبکہ دروازہ کھلا ہوا تھا تو اس کی نماز باطل ہے۔ اسی طرح جس نے کعبہ کی چھت پر نماز پڑھی تو اس کی نماز باطل ہے کیونکہ کعبہ کا کوئی حصہ اس کے سامنے نہ تھا۔ امام مالک نے فرمایا : اس کے اندر فرض اور سنن ادا نہیں کی جائیں گی۔ اس میں نفل پڑھے جائیں گے مگر اس نے فرض کعبہ کے اندر پڑھے تو وقت میں دوبارہ پڑھے گا۔ اصبغ نے کہا : وہ ہمیشہ لوٹائے گا۔
میں کہتا ہوں : یہی صحیح ہے کیونکہ مسلم نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے (1) ، فرمایا : مجھے حضرت اسامہ بن زید نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کی تمام اطراف میں دعا مانگی اور اس میں نماز نہ پڑھی حتیٰ کہ کعبہ سے نکل آئے۔ جب باہر آئے تو کعبہ کی طرف منہ کر کے دو رکعتیں پڑھیں اور فرمایا : یہ قبلہ ہے اور یہ نص ہے۔
اگر کہا جائے کہ بخاری میں حضرت ابن عمر سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ ، حضرت اسامہ بن زید، حضرت بلال، حضرت عثمان بن طلحہ حجبی بیت اللہ میں داخل ہوئے اور اپنے اوپر دروازہ بند کرلیا۔ جب دروازہ کھولا تو میں پہلا شخص تھا جو اندر داخل ہوا۔ میں حضرت بلال سے ملا۔ میں نے ان سے پوچھا : کیا اندر رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی تھی ؟ حضرت بلال نے کہا : ہاں دو یمنی ستونوں کے درمیان پڑھی تھی۔ مسلم نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اس میں دو ستونوں کو اپنی بائیں جانب اور ایک ستون کو دائیں جانب اور تین ستونوں کو پیچھے رکھا، اس وقت بیت اللہ چھ ستونوں پر تھا۔
ہم کہتے ہیں : ہو سکتا ہے صلی بمعنی دعا ہو۔ جس طرح حضرت اسامہ نے کہا کہ آپ ﷺ نے دعا کی۔ یہ بھی احتمال ہے کہ صلی سے مراد نماز ہی ہو، جب اس میں احتمال آگیا تو اس سے احتجاج ساقط ہوگیا۔
اگر کہا جائے کہ ابن منذر وغیرہ نے حضرت اسامہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : نبی کریم ﷺ نے کعبہ میں تصاویر دیکھیں تو میں ڈول میں آپ کے پاس پانی لے آیا۔ آپ ﷺ نے وہ پانی ان تصاویر پر مارا۔ اس حدیث کو ابو داؤد طیالسی نے نقل کیا ہے۔ فرمایا : ہمیں ابن ابی ذئب نے عبد الرحمٰن بن مہران سے روایت کر کے بتایا، فرمایا : ہمیں عمیر مولیٰ ابن عباس نے حضرت اسامہ بن زید سے روایت کر کے بتایا، فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس کعبہ میں داخل ہوا۔ آپ ﷺ نے تصاویر دیکھیں، فرمایا : آپ ﷺ نے پانی کا ڈول منگوایا۔ میں آپ کے پاس پانی لے کر آیا تو آپ ان تصاویر کو مٹانے لگے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ اس قوم کو قتل کرے جو ان کی تصاویر بناتے ہیں جو کچھ پیدا نہیں کرتے۔
اس میں احتمال ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس وقت نماز پڑھی ہو جب حضرت اسامہ پانی لینے گئے ہوں اور حضرت بلال نے وہ عمل دیکھا ہو جو حضرت اسامہ نے نہ دیکھا۔ پس جو ثابت کرنے والا ہوتا ہے وہ نفی کرنے والے سے اولیٰ ہوتا ہے۔ حضرت اسامہ نے خود کہا : لوگوں نے حضرت بلال کے قول کو لیا اور میرے قول کو چھوڑ دیا۔ مجاہد نے حضرت عبد اللہ بن صفوان سے روایت کیا ہے فرمایا : میں حضرت عمر بن خطاب سے پوچھا رسول اللہ ﷺ جب کعبہ میں داخل ہوئے تو کیسے عمل کیا ؟ حضرت عمر نے کہا : دو رکعت نماز پڑھی۔
ہم کہتے ہیں : یہ نوافل پر محمول ہے ہم کعبہ میں نوافل کی صحت میں علماء کا اختلاف نہیں جاتے۔ چاہے فرض تو اس کے ہم قائل نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جہت کو اپنے ارشاد فولوا وجوھکم شطرہ میں متعین فرمایا۔ اس کا بیان آگے آئے گا۔ اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد، جب آپ باہر نکلے، ھذہ القبلۃ۔ تو آپ نے اس کی تعیین فرمائی جس طرح اللہ تعالیٰ نے تعیین فرمائی تھی۔ اگر کعبہ کے اندر فرض صحیح ہوتے تو آپ ھذہ القبلۃ نہ فرماتے۔ اس طرح احادیث کو جمع کرنا صحیح ہوجاتا ہے۔ اور یہ بعض احادیث کو ساقط کرنے سے اولیٰ ہے۔ پس کوئی تعارض نہیں ہے۔ الحمد للہ
مسئلہ نمبر 5: اسی طرح کعبہ کی چھت پر نماز پڑھنے میں اختلاف ہے۔ امام شافعی نے تو وہی فرمایا ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے۔ امام مالک نے فرمایا : جو کعبہ کی چھت پر نماز پڑھے وہ وقت میں دوبارہ پڑھے۔ اور بعض اصحاب مالک سے مروی ہے کہ وہ ہر حال میں اعادہ کرے (خواہ وقت موجود ہو یا وقت گزر چکا ہو) امام ابوحنیفہ نے فرمایا : جس نے کعبہ کی چھت پر نماز پڑھی اس پر کچھ واجب نہیں۔
مسئلہ نمبر 6: اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ بیت اللہ کے پاس نماز پڑھنا افضل ہے یا اس کا طواف کرنا افضل ہے۔ امام مالک نے فرمایا : باہر سے آنے والوں کے لئے طواف افضل ہے اور اہل مکہ کے لئے نماز افضل ہے، یہ حضرات ابن عباس، عطا اور مجاہد سے ذکر کیا گیا ہے۔ جمہور علماء کا قول ہے کہ نماز افضل ہے، حدیث میں ہے۔ اگر خشوع کرنے والے مرد، رکوع کرنے والے بوڑھے، دودھ پینے والے بچے اور چرنے والے جانور نہ ہوتے تو ہم تم پر عذاب نازل کرتے۔ ابوبکر احمد بن علی بن ثابت الخطیب نے اپنی کتاب (السابق واللاحق) میں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم میں خشوع کرنے والے مرد، چرنے والے جانور، دودھ پینے والے بچے نہ ہوتے تو مجرموں پر عذاب نازل کردیا جاتا۔ اس میں بوڑھے رکوع کرنے والوں کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت ابو ذر کی حدیث میں ہے : نماز بہتر چیز ہے تو زیادہ پڑھ یا کم پڑھ (تیری مرضی) اس کو الا پر جری نے ذکر کیا ہے۔ نماز اور سجدہ کی فضیلت میں اخبار بہت زیادہ ہیں جو جہمور کے قول کی تائید کرتی ہیں۔ واللہ اعلم
Ayah 2:126آیت نمبر 126
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بلداً امناً اس سے مراد مکہ ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد اور دوسرے لوگوں کے لئے امن اور خوشحال زندگی کی دعا مانگی (1) ۔ روایت ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے جبریل سے فرمایا : شام سے طائف کو اکھیڑ۔ پس جبریل نے طائف کے ساتھ بیت اللہ کے اردگرد سات چکر لگائے۔۔۔۔ طائف کو طائف اسی لئے کہا جاتا ہے (2) ۔۔۔۔۔ پھر طائف کو تہامہ میں اتارا، مکہ اور اس کے قریب کا علاقہ اس وقت چٹیل تھا۔ نہ پانی تھا نہ کوئی نبات۔ پس اللہ تعالیٰ نے مکہ کے اردگرد کے علاقہ جیسے طائف وغیرہ میں برکت ڈال دی اور اس میں قسم قسم کے پھل اگائے۔ اس کا بیان انشاء اللہ سورة ابراہیم میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر 2: علماء کا اختلاف ہے کہ مکہ حضرت ابراہیم کے سوال سے حرم بنایا پہلے سے ہی حرم تھا۔ اس میں دو قول ہیں : پہلا قول یہ ہے کہ یہ ہمیشہ جابر مسلطین سے، خسوف اور زلزلوں سے اور دوسرے تمام حوادث سے جو شہروں پر نازل ہوتے ہیں سے حرم تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سرکش نفوس میں اس کی تعظیم اور ہیبت ڈال دی جس کی وجہ سے مکہ کے رہنے والے دوسرے لوگوں سے امن کی وجہ سے ممتاز ہوگئے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید پر ایک بہت بڑی علامت رکھ دی جس کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ اس میں کتا اور شکار جمع ہوتے ہیں اور کتا شکار پر حملہ نہیں کرتا اور نہ شکار اس سے ڈرتا ہے، حتیٰ کہ جب وہ دونوں حرم سے نکل جاتے ہیں تو کتا اس شکار پر حملہ کرتا ہے اور وہ بھاگنے لگتا ہے۔
حضرت ابراہیم نے دعا مانگی تھی کہ مکہ کو قحط، بنجر ہونے اور حملوں سے امن والا بنا اور اس کے رہنے والوں کو پھلوں سے رزق عطا فرما۔ اس کا یہ مطلب نہیں جیسا کہ بعض لوگوں نے گمان کیا کہ اس کا خون بہانا بھی منع ہے جس کا قتل کرنا لازم ہوچکا ہے۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مقصود سے بہت بعید ہے حتیٰ کہ کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے دعا مانگی تھی کہ ان کی شرع میں اس شخص کا قتل کرنا حرام ہو جو حرم میں پناہ لے۔ یہ انتہائی بعید قول ہے۔
دوسرا قول۔ مکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا سے پہلے دوسرے شہروں کی طرح حلال تھا اور آپ کی دعا سے حرماً امناً بنا جیسا مدینہ طیبہ رسول اللہ ﷺ کی تحریم سے امن والا بنا اس سے پہلے حلال تھا۔
پہلے مقالہ والوں نے حضرت ابن عباس کی حدیث سے استدلال کیا، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا : یہ شہر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے دن حرمت والا بنایا یہ قیامت تک اللہ تعالیٰ کی حرمت کی وجہ سے حرام ہے، اس میں جنگ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہ تھی اور نہ میرے لئے حلال ہے مگر دن کی ایک گھڑی۔ یہ قیامت تک اللہ تعالیٰ کی حرمت کے ساتھ حرام ہے، اس کا نہ کاٹنا توڑا جائے گا نہ اس کا شکار ڈرایا جائے گا نہ اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے گی مگر جو اس کا اعلان کرے اور نہ اس کی خشک گھاس کاٹی جائے گی۔ حضرت عباس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! اذخر گھاس کی استثنا فرمائیں کیونکہ وہ ہمارے لوہاروں کے لئے اور ہمارے گھروں کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے اذخر گھاس کی استثناء فرما دی۔ (1)
اسی طرح کی حدیث ابو شریح کی ہے۔ ان دونوں حدیثوں کو مسلم نے نقل کیا ہے (2) ۔ صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم بنایا اور اہل مکہ کے لئے دعا کی، میں نے مدینہ کو حرم بنایا جس طرح حضرت ابراہیم نے مکہ کو حرم بنایا، میں نے اس کے صاع اور اس کے مد کے لئے اس کے دو مثل کی دعا کی جو حضرت ابراہیم نے اہل مکہ کے لئے دعا کی۔ ابن عطیہ نے کہا : ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہیں۔ کیونکہ پہلی حدیث اس کے متعلق خبر دے رہی ہے جو مکہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کے علم سابق میں تھا اور اس کے فیصلہ میں تھا اور وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی مدت ہے اور ایمان کے ساتھ افق کو آباد کرنے کے اوقات کی حرمت ہے۔
اور دوسری حدیث میں حضرت ابراہیم کا اس کی حرمت کی تجدید اور اس کے مٹنے کے بعد، اس کے اظہار کی خبر ہے۔ پہلا قول نبی کریم ﷺ نے فتح مکہ کے دوسرے دن مومنوں پر مکہ کی حرمت کی تعظیم کی خبر دیتے ہوئے فرمایا اور اس کی تحریم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی اور مدینہ طیبہ کی تحریم کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بطور مثال ذکر فرمایا۔ لا محالہ مدینہ کی تحریم بھی اللہ کی طرف سے ہوگی اور اس کی قضا کے نفاذ سے اور اس کے سابق علم سے ہوگی۔ طبری نے کہا (3): مکہ حرام تھا اس کا اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو مکلف نہ کیا حتیٰ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کا سوال کیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے حرم بنا دیا۔
مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وارزق اھلہ من الثمرت من امن، رزق کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ ثمرات، ثمرۃ کی جمع ہے یہ بھی پہلے گزر چکا ہے من امن یہ اھل سے بدل ہے اور کل سے بدل بعض ہے۔ الایمان کا معنی تصدیق ہے یہ پہلے گزر چکا ہے۔ قال ومن کفر، من محل نصب میں ہے۔ تقدیر اس طرح ہے : وارزق من کفر۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ محل رفع میں ہو مبتدا کی حیثیت سے اور یہ شرط ہے اور خبر فامتعہ ہو اور یہ جواب ہے۔
اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ یہ قول اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف سے ہے۔ حضرت ابی بن کعب اور اسحٰق وغیرہما نے کہا (4): یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور انہوں نے فامتعہ ہمزہ کے ضمہ، میم کے فتحہ اور تا کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ ثم اضطرہ ہمزہ کے قطع اور را کے ضمہ کے ساتھ۔ ابن عامر کے سوا قراء سبعہ نے اسی طرح پڑھا ہے۔ ابن عامر نے میم کے سکون اور تا کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو اسحاق الزجاج نے حکایت کیا ہے کہ ابی کی قراءت میں فنمتعہ قلیلاً ثم نضطرہ یعنی نون کے ساتھ ہے (1) ۔ حضرات ابن عباس، مجاہد اور قتادہ نے کہا : یہ قول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے انہوں نے فامتعہ کو ہمزہ کے فتحہ اور میم کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ پھر ثم اضطرہ کو الف کے وصل اور را کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے گویا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مومنین کے حق میں دعا فرمائی اور کفار کے خلاف دعا کی (2) ۔ اس صورت میں قال کی ضمیر کا مرجع حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے اور قال کو دوبارہ ذکر کیا کلام کی طوالت کی وجہ سے یا اس لئے کہ آپ مومنین کے لئے دعا مانگنے نکلے اور کفار کے خلاف دعا کرنے میں داخل ہوئے۔ جمہور کی قراءت پر قال کا فاعل اللہ تعالیٰ کا اسم ہے۔ نحاس نے اس کو اختیار کیا۔ ہمزہ کے فتحہ اور میم کے سکون اور الف کے وصل کے ساتھ قراءت شاذ ہے، نسق کلام اور تفسیر دونوں اس کے خلاف پر دلالت کرتی ہے۔ رہا نسق کلام تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق خبر دی کہ انہوں نے کہا : رب اجعل ھذا بلداً امناً اے میرے رب ! اس کو امن والا شہر بنا۔ پھر یہ عرض کی : وارزق اھلہ من الثمرت من امن منھم باللہ والیوم الاخر۔ ان دونوں کے درمیان قال کے ساتھ فاصلہ نہیں کیا پھر اس کے بعد فرمایا : قال ومن کفر یہ اللہ کی طرف سے جواب تھا۔ اس کے بعد قال ابراھیم نہیں فرمایا۔
رہی تفسیر تو حضرت ابن عباس، حضرت سعید بن جبیر اور حضرت محمد بن کعب سے صحیح مروی ہے۔ حضرت ابن عباس کے الفاظ یہ ہیں : حضرت ابراہیم نے جو لوگ ایمان لائے تھے صرف ان کے لئے دعا فرمائی کفار کے لئے نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ وہ کافروں کو بھی اسی طرح رزق دے گا جس طرح ایمان والوں کو رزق دے گا اور وہ انہیں تھوڑا عرصہ لطف اندوز کرے گا پھر انہیں آگ کے عذاب کی طرف مجبور کرے گا۔ ابو جعفر نے کہا اللہ تعالیٰ فرمایا : کلا نمد ھؤلاء وھؤلاء من عطاء ربک (اسراء : 20) (ہر ایک کی ہم امداد کرتے ہیں (جو طالب دنیا ہیں) اور ان کی بھی ( جو طالب آخرت ہیں)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وامم سنمتعھم (کچھ قومیں ہوں گی ہم لطف اندوز کریں گے انہیں۔ )
ابو اسحاق نے کہا : حضرت ابراہیم کو معلوم تھا کہ ان کی اولاد میں کفار بھی ہوں گے اس لئے آپ نے دعا میں مومنین کو خاص فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا لا ینال عھدی الظلمین۔ (نہیں پہنچتا میرا وعدہ ظالموں تک )
Ayah 2:127آیت نمبر 127
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ یرفع۔۔۔۔ واسمعیل، القواعد سے مراد اس کی بنیادیں ہیں۔ یہ ابو عبیدہ اور فراء کا قول ہے۔ کسائی نے کہا : اس سے مراد دیواریں ہیں، معروف بنیاد ہے۔ حدیث میں ہے : نیت اللہ کو جب گرایا گیا تو اس سے بڑے بڑے پتھر نکلے۔ ابن زبیر نے کہا : یہ وہ پتھر ہیں جن سے حضرت ابراہیم نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی۔ بعض نے فرمایا : وہ بنادیں مٹ گئی تھیں پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان پر مطلع فرمایا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : بیت اللہ کو ان ارکان پر رکھا گیا تھا جو آپ نے دیکھے تھے اور دنیا کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے۔ پھر زمین کو اس کے نیچے سے پھیلایا گیا۔
القواعد کا واحد قاعدہ ہے اور القواعد من النساء کا واحد قاعد ہے۔ علماء کا اختلاف ہے کہ سب سے پہلے کس نے کعبہ کی بنیاد رکھی۔ بعض نے فرمایا : ملائکہ نے سب سے پہلے اس کی بنیاد رکھی۔ جعفر بن محمد سے مروی ہے، فرمایا : میرے باپ سے بیت اللہ کی تخلیق کے آغاز کے بارے میں پوچھا گیا جب کہ میں بھی موجود تھا تو میرے والد صاحب نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جب فرمایا : انی جاعل فی الارض خلیفۃ (البقرہ : 30) (میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں) تو فرشتوں نے کہا : کیا تو اسمیں اسے خلیفہ بناتا ہے جو اس میں فساد برپا کرے گا اور خونریزی کرے گا جبکہ ہم تیری حمد کے ساتھ پاکی بیان کرتے ہیں اور تیری تقدیس کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں پر ناراض ہوا تو انہوں نے اس کے عرش کے ذریعے پناہ طلب کی۔ انہوں نے عرش کے اردگرد سات چکر لگائے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا : میرے لئے زمین میں ایک گھر بناؤ۔ بنی آدم میں سے جس پر میں ناراض ہوں گا وہ اسکی پناہ لے گا اور اس کے اردگرد طواف کرے گا جس طرح تم نے میرے عرش کے اردگرد طواف کیا۔ پس میں اس سے راضی ہوجاؤں گا جس طرح میں تم سے راضی ہوا، پس فرشتوں نے بیت اللہ بنایا۔ عبد الرزاق نے ابن جریج سے انہوں نے عطا اور ابن مسیب وغیرہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو وحی فرمائی کہ جب تو نیچے زمین پر اترے تو میرے لئے ایک گھر بنا پھر اس کو گھیرلے جس طرح تو نے ملائکہ کو دیکھا کہ انہوں نے میرے عرش کو گھیرا تھا جو آسمان میں تھا۔
عطا نے کہا : لوگوں کا خیال ہے حضرت آدم (علیہ السلام) نے کعبہ کو پانچ پہاڑوں سے بنایا : حرا، طور، سینا، لبنان، جودی اور طور سینا۔ اس کی ربض حرا سے تھی۔ خیل نے کہا : الریض سے یہاں مراد پتھر سے بنی ہوئی بیت اللہ کی گول بنیاد ہے۔ اسی وجہ سے مدینہ کے اردگرد کی جگہ کو ربض کہا جاتا ہے۔ مارودی نے عطا سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) جنت سے زمین کی طرف اترے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے کہا : اے آدم ! تو جا اور میرے لئے ایک گھر بنا اور اس کا طواف کر اور اس کے پاس مجھے یاد کر جس طرح تو نے ملائکہ کو میرے عرش کے اردگرد کرتے دیکھا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) چلتے ہوئے آئے اور زمین ان کے لئے لپیٹی گئی تھی اور جنگل ان کے لئے سکیڑے گئے تھے آپ جہاں قدم رکھتے تھے وہ جگہ آباد ہوجاتی تھی حتیٰ کہ آپ بیت حرام کی جگہ پر پہنچے۔ جبریل نے اپنے پر زمین پر مارے اور نچلی ساتوں زمین پر قائم بنیاد کو ظاہر کردیا۔ پس ملائکہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرف پتھر پھینکے۔ وہ اتنے بڑے تھے کہ تیس آدمی انہیں نہیں اٹھاسکتے تھے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے پانچ پہاڑوں سے کعبہ بنایا جس طرح ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔
بعض اخبار میں مروی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے لئے جنت کے خیموں سے ایک خیمہ اتارا گیا وہ کعبہ کی جگہ پر لگایا گیا تاکہ آپ اس سے سکون حاصل کریں اور اس کا طواف کریں وہ خمیہ باقی رہا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی روح قبض فرمائی تو پھر اٹھا لیا گیا۔ یہ حضرت وہب بن منبہ کے طریق سے ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ ایک بیت (گھر) اتارا گیا آپ اس کا طواف کرتے تھے اور آپ کی اولاد میں سے مومنین، غرق کے زمانہ تک طواف کرتے رہے پھر اللہ تعالیٰ نے اسے اٹھا لیا تو وہ آسمان میں ہوگیا اسی گھر کو بیت المعور کہا جاتا ہے۔ قتادہ سے روایت ہے جسے حلیمی نے اپنی کتاب ” منہاج القرآن “ میں ذکر کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا : جو معنی قتادہ نے بیان کیا وہ جائز ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ ایک گھر اتار گیا یعنی وہ طولا، عرضا اور بلندی کے اعتبار سے بہت المعمور کی مقدار کا تھا پھر حضرت آدم (علیہ السلام) سے کہا گیا : اتنا بناؤ اور کوشش کرو کہ یہ اس کے بالمقابل ہو، وہ کعبہ کی جگہ کے سامنے تھا۔ پس آپ نے اس میں کعبہ بنایا۔ رہا وہ خیمہ یہ جائز ہے کہ وہ اتارا گیا ہو اور کعبۃ کی جگہ لگایا گیا ہو۔ جب کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا گیا تو آپ نے کعبہ تعمیر کیا اور کعبہ کے اردگرد حضرت آدم (علیہ السلام) کے دل کے لئے طمانیت تھی جب تک آپ زندہ رہے وہ خمیہ قائم رہا پھر اسے اٹھا لیا گیا۔ پس یہ اخبار اس طرح متفق ہوجاتی ہے۔ یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی بنا ہے۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسے بنایا۔ ابن جریج نے کہا : لوگوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ایک بادل بھیجا جس میں ایک سر تھا۔ اس سر نے کہا : اے ابراہیم ! تیرا رب تجھے حکم دیتا ہے کہ تو اس بادل کی مقدار لے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اسے دیکھنا شروع کیا اور اس کی مقدار خط کھینچ دیا۔ پھر اس سر نے کہا : تو نے کردیا۔ پھر آپ نے اس جگہ کی کھدائی کی اور زمین میں قائم اساس کو ظاہر کیا۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت ابراہیم کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا تو آپ شام سے نکلے اور آپ کے ساتھ آپ کا بیٹا اسماعیل اور اس کی ماں ہاجرہ بھی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ سکینت (ہوا) کو بھیجا جس کی ایک زبان تھی جس کے ساتھ وہ کلام کرتی تھی۔ صبح کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس کے ساتھ چلتے جب وہ چلتی اور اس کے ساتھ آپ واپس آجاتے جب وہ واپس آتی، حتیٰ کہ وہ سکینت حضرت آدم (علیہ السلام) کو لے کر مکہ تک پہنچ گئی۔ اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا : میری جگہ پر بنیاد رکھو۔ پس حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہما السلام) نے دیواریں بلند کیں حتیٰ کہ حجر اسود کی جگہ پہنچ گئے۔ حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل سے کہا : اے میرے بیٹے ! میرے لئے ایک پتھر تلاش کر جسے میں لوگوں کے لئے علامت بناؤں۔ حضرت اسماعیل ایک پتھر لے آئے جسے آپ نے پسند نہ فرمایا اور فرمایا اور کوئی پتھر تلاش کرو۔ آپ تلاش کرتے رہے پھر آپ خود آئے اور حجراسود لے آئے اور اسے اپنے جگہ پر رکھ دیا۔ حضرت اسماعیل نے کہا : اے میرے اباجان ! یہ پتھر تمہارے پاس کون لایا ہے۔ حضرت ابراہیم نے کہا : وہ جو مجھے تیرے سپرو نہیں کرتا۔ حضرت ابن عباس نے کہا : جبل ابو قبیس نے پکارا اے ابراہیم، اے خلیل الرحمن ! تیرے لئے میرے پاس ایک ودیعت ہے وہ تم لے لو۔ تو وہ جنت کے یاقوت میں سے ایک سفید پتھر تھا وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ جنت سے اترا تھا۔ جب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے بیت اللہ کی بنادیں بلند کیں تو چکور شکل کا ایک بادل آیا جس میں ایک سر تھا اس بادل نے آواز دی میری مقدار پر بلند (تعمیر) کرو۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعمیر ہے۔ روایت ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بیت اللہ تعمیر کرنے پر جزا عطا فرمائی۔
حکیم ترمذی نے روایت کیا ہے کہ ہمیں عمر بن ابی عمر نے بتایا انہوں نے کہا : مجھے نعیم بن حماد نے بتایا انہوں نے کہا : ہمیں عبد الوہاب بن ہمام نے بتایا جو عبد الرزاق کے بھائی تھے، انہوں نے ابن جریج سے انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے حضرت ابن عاس سے روایت کیا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : پہلے گھوڑے بھی دوسرے وحشی جانوروں کی طرح وحشی تھے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل کی بنادیں بلند کرنے کی اجازت دی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں تم دونوں کو ایک خزانہ دینے والا ہوں جو میں نے تم دونوں کے لئے ذخیرہ کر رکھا ہے پھر حضرت اسماعیل کو وحی فرمائی کہ تم اجیاد کی طرف جاؤ اور دعا مانگو تمہارے پاس خزانہ آجائے گا آپ اجیاد کی طرف گئے۔۔۔ وہاں گھوڑے رہتے تھے۔۔۔ آپ نہیں جانتے تھے کہ دعا کہ ہے اور خزانہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہام فرمایا۔ پس سطح زمین پر کوئی گھوڑا باقی نہ رہا جو عرب کی زمین پر رہتا تھا مگر وہ آپ کے پاس آگیا۔ تمام گھوڑوں کو اپنی پیشانیوں پر آپ کو قدرت بخشی اور ان کو آپ کا مطیع کردیا۔ پس تم ان پر سوار رہو اور انہیں چارہ ڈالو کیونکہ یہ برکت ہیں یہ تمہارے باپ اسماعیل کی میراث ہیں۔ الفرس کو عربی اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اسماعیل (علیہ السلام) کو دعا کا حکم دیا گیا تھا اور آپ نے دعا فرمائی۔
عبد المنعم بن ادریش نے حضرت وہب بن منبہ سے روایت کیا ہے فرمایا : جس نے سب سے پہلے مٹی اور پتھر سے کعبہ بنایا وہ حضرت شیث (علیہ السلام) تھے، رہی قریش کی تعمیر کعبہ تو وہ مشہور ہے اور اس میں سانپ کو خبر مذکور ہے۔ سانپ انہیں کعبہ گرانے سے روکتا تھا، حتیٰ کہ تمام قریش مقام ابراہیم کے پاس جمع ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑ گڑائے اور عرض کی : اے ہمارے پروردگار ! ہمیں نہ ڈرا ہم تیرے گھر کی تشریف و تزئین کا ارادہ رکھتے ہیں اگر تو اس سے راضی ہے تو فبہا ورنہ جو تو چاہے کر۔ انہوں نے آسمان سے پرندے کے پروں کی پھڑ پھڑاہٹ سنی۔ دیکھا تو گدھ سے بڑا ایک پرندہ تھا جس کی پیٹھ سیاہ تھی پیٹ اور پاؤں سفید تھے اس نے اپنے نیچے سانپ کی گدی میں گاڑھے پھر اس کو لے اڑا وہ سانپ اتنی بڑی دم کھینچتا گیا حتیٰ کہ وہ پر ندا سے اجیاد کی طرف لے گیا۔ پھر قریش نے کعبہ کو گرایا اور پھر اسے وادی کے پتھروں سے بنانے لگے جن کو قریش اپنی گردنوں پر اٹھا کر لاتے تھے۔ قریش نے اس کو آسمان کی طرف بیس ہاتھ بلند کیا، اسی اثنا میں نبی کریم ﷺ اجیاد سے پتھر اٹھا کر لا رہے تھے آپ کے اوپر ایک چادر تھی۔ چادر آپ پر تنگ ہوگئ۔ آپ نے چادر کو کندھے پر اٹھانا شروع کیا تو چادر کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے شرمگاہ ظاہر ہوگئی۔ ندا آئی اے محمد ! ﷺ اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ لے۔ اس کے بعد آپ ﷺ کبھی برہنہ نہ دیکھے گئے۔ کعبہ کی تعمیر اور نزول قرآن کے درمیان پانچ سال کا فاصلہ تھا۔ آپ کی ہجرت اور تعمیر کعبہ کے درمیان پندرہ سال کا فاصلہ تھا۔
یہ عبد الرزاق نے معمر سے انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عثمان سے انہوں نے ابو الطفیل سے روایت کیا ہے۔ معمر بن الزھری سے مروی ہے حتیٰ کہ جب قریش نے کعبہ بنا لیا اور حجر اسود رکھنے کی جگہ پہنچے تو قریش اس کو رکھنے میں جھگڑنے لگے کہ کون سا قبیلہ اسے اٹھا کر رکھے گا ؟ حتیٰ کہ ان کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ انہوں نے کہا : آؤ ہم اس کا فیصلہ تسلیم کرلیں جو اس گلی سے سب سے پہلے ہمارے پاس آئے گا۔ اس پر صلح ہوگی۔ نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے آپ ابھی جوان تھے آپ کے اوپر ایک دھاری دار چادر تھی۔ انہوں نے آپ کو ثالث مقرر کردیا۔ آپ نے پتھر کو ایک کپڑے میں رکھنے کا حکم دیا پھر ہر قبیلہ کے سردار کو حکم دیا اور اسے کپڑے کی ایک طرف ایک عطا فرمائی پھر آپ اوپر چڑھے۔ تمام سرداروں نے وہ پتھر آپ کو اٹھا کردیا اور آپ ﷺ نے اسے اپنی جگہ پر لگا دیا۔
ابن اسحاق نے کہا : مجھے یہ بیان کیا گیا ہے کہ قریش نے حجر اسود میں، سریانی زبان میں لکھی ایک تحریر پائی وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ کیا ہے حتیٰ کہ ایک یہودی نے انہیں پڑھا کر سنائی۔ اس میں یہ لکھا تھا، میں اللہ ہوں، مکہ کا مالک۔ میں نے اس کو اس دن پیدا کیا تھا جس دن میں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا اور چاند اور سورج کو صورت بخشی تھی اور میں نے اسے سات املاک سے گھیرا ہوا ہے، یہ زائل نہ ہوگا حتیٰ کہ اس کے ابو قبیس اور احمر پہاڑ زائل ہوجائیں گے۔ اس کے رہنے والوں کے لئے پانی اور دودھ میں برکت رکھی گئی ہے۔ ابو جعفر محمد بن علی سے مروی ہے، فرمایا : کعبہ کا دروازہ عمالقہ، جرہم اور حضرت ابراہیم کے دور میں زمین پر تھا حتیٰ کہ قریش نے اسے تعمیر کیا (تو دروازہ اونچا کردیا) ۔
مسلم نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : یہ کعبہ کے ساتھ والی دیوار کعبہ سے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں۔ میں نے عرض کی : انہوں نے اس کو کعبہ میں داخل کیوں نہیں کیا ؟ آپ نے فرمایا : تیری قوم کے پاس خرچ کم ہوگیا تھا۔ میں نے عرض کی : اس کا دروازہ بلند کیوں ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تیری قوم نے یہ اس لئے کہا تھا تاکہ جنہیں چاہیں داخل کریں اور جنہیں چاہیں منع کریں اگر تمہاری قوم کا زمانہ جاہلیت قریب نہ ہوتا مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ ان کے دل انکار کریں گے تو میں اس دیوار کو کعبہ میں داخل کردیتا، اور اس کے دروازے کو زمین سے ملا دیتا۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر سے روایت کیا ہے، فرمایا : میری خالہ حضرت عائشہ نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اے عائشہ ! اگر تیری قوم کا زمانہ شرک قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا دیتا اور اس کو زمین سے ملا دیتا اور اس کے دو دروازے بناتا۔ ایک مشرق سے اور ایک مغرب سے اور اس میں چھ ہاتھ حطیم سے زیادہ کرتا کیونکہ قریش نے اسے چھوٹا بنایا تھا جہاں انہوں نے کعبہ بنایا تھا۔
عروہ اپنے باپ سے اور وہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں۔ فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو توڑ دیتا اور اسے ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر بناتا کیونکہ قریش نے جب کعبہ تعمیر کیا تو چھوٹا کردیا اور میں اس کا خلف بناتا۔ بخاری میں ہشام بن عروہ نے کہا : یعنی (بابا) دروازہ بناتا۔ بخاری میں یہ بھی ہے کہ میں اس کے دروازے بناتا یہ قریش کی بنا ہے پھر جب اہل شام نے حضرت عبد اللہ بن زبیر پر حملہ کیا اور ان کے جلاؤ نے کعبہ کو کمزور کردیا۔ تو حضرت ابن زبیر نے اسے گرایا اور حضرت عائشہ ؓ کی حدیث کے مطابق بنایا۔ اس میں پانچ ہاتھ حطیم سے زیادہ کیا حتیٰ کہ وہ بنیاد ظاہر کردی اور لوگوں نے اسے دیکھا اور اس پر کعبہ کی تعمیر کی۔ کعبہ کا طول اٹھا رہ ہاتھ تھا جب اس میں زیادتی کی تو لمبائی کم کردی پھر اسکی لمبائی میں دس ہاتھ کا اضافہ کیا اور اس کے دو دروازے بنائے۔ ایک میں سے لوگ داخل ہوتے دوسرے سے نکل جاتے اسی طرح صحیح مسلم میں ہے۔ حدیث کے الفاظ مختلف ہیں۔
سفیان نے داؤد بن شابورعن مجاہد کے سلسلہ سے ذکر کیا ہے کہ مجاہد نے کہا : جب حضرت ابن زبیر نے کعبہ کو گرانے اور دوبارہ تعمیر کرنے کا ارادہ کیا تو آپ نے لوگوں کو کہا : کعبہ کو گرا دو ۔ لوگوں نے اسے گرانے سے انکار کیا اور وہ ڈر گئے کہ کہیں عذاب نہ آجائے۔ مجاہد نے کہا : ہم منیٰ کی طرف نکل گئے اور ہم وہاں تین دن ٹھہرے رہے اور عذاب کا انتظار کرتے رہے۔ فرمایا : حضرت عبد اللہ بن زبیر خود کعبہ کی دیوار پر چڑھے۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ آپ کو کچھ نہیں ہوا تو لوگوں نے حوصلہ باندھا۔ فرمایا : لوگوں نے کعبہ کو گرایا۔ جب اسے حضرت عبد اللہ بن زبیر نے بنایا تو اس کے دو دروازے بنائے۔ ایک دروازے سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرے سے نکل جاتے اور اس میں دیوار والی طرف سے چھ ہاتھ کا اضافہ کیا اور اس کے طول میں نو ہاتھ کا اضافہ کیا۔ مسلم نے اپنی حدیث میں کہا : جب حضرت عبد اللہ بن زبیر شہید ہوئے تو حجاج نے عبد الملک بن مروان کو اس کے متعلق بتانے کے لئے خط لکھا اور اسے بتایا کہ ابن زبیر نے کعبہ کو اس بنیاد پر تعمیر کیا جس کی طرف اہل مکہ میں سے عادل لوگوں نے دیکھا۔ عبد الملک نے اس کی طرف لکھا کہ ہم ابن زبیر کی کسی چیز کو باقی رکھنے والے نہیں جو اس نے اس کی لمبائی میں زیادتی کی ہے اس کو برقرار رکھو اور جو اس نے حطیم سے زیادتی کی، اس کو پہلی بنا پر لوٹا دو اور جو اس نے دروازہ کھولا تھا اسے بند کر دو ۔ پس حجاج نے اسے توڑا اور پہلی بنا پر لوٹا دیا۔
ایک روایت میں ہے، عبد الملک نے کہا : میں گمان نہیں کرتا کہ ابا خبیب (ابن زبیر) نے حضرت عائشہ ؓ سے سنا ہے جو وہ کہتا ہے کہ اس نے حضرت عائشہ ؓ سے سنا ہے۔ حارث بن عبد اللہ نے کہا : کیوں نہیں میں نے یہ حضرت عائشہ ؓ سے سنا تھا، اس نے کہا : تو نے اسے کیا کہتے ہوئے سنا ؟ انہوں نے کہا : حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہاری قوم نے بیت اللہ کی عمارت کم کردی ہے۔ اگر ان کے شرک کا زمانہ قریب نہ ہوتا تو میں اسے لوٹا دیتا جو انہوں نے چھوڑ دیا تھا اگر میرے بعد تیری قوم کو اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا خیال آئے تو ادھر آؤ میں تجھے دکھاؤں جو انہوں نے کعبہ میں سے چھوڑ دیا ہے۔ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ کو سات ہاتھ کے قریب دکھایا۔
ایک اور روایت میں ہے، عبد الملک نے کہا : اگر میں اس کے گرانے سے پہلے یہ حدیث سن لیتا تو میں اسے حضرت ابن زبیر کی بنیاد پر چھوڑ دیتا۔ یہ کعبہ کی تعمیر کے بارے میں آثار مروی ہیں۔ روایت ہے کہ رشید نے حضرت مالک بن انس کے سامنے ذکر کیا کہ وہ حجاج کی تعمیر کعبہ کو گرانا چاہتا ہے اور اسے حضرت ابن زبیر کی تعمیر پر لوٹا نا چاہتا ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے اور حضرت ابن زبیر نے اس کی پیروی کی تھی۔ امام مالک نے رشید کو کہا : اے امیر المومنین ! میں تجھے اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تم اس گھر کو بادشاہوں کے لئے کھونا نہ بناؤ، ہر آنے والا بیت اللہ کو توڑ دے گا اور نئی تعمیر کرے گا اور اس کی ہیت لوگوں کے دلوں سے چلی جائے گی۔
واقدی نے ذکر کیا ہے کہ ہمیں معمر نے ہمام بن منبہ سے روایت کرکے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسعد حمیری کو گالی دینے سے منع فرمایا۔ یہ تبع تھا یہ پہلا شخص تھا جس نے بیت اللہ کو غلاف پہنایا تھا اور یہ دوسرا تبع تھا۔ ابن اسحاق نے کہا : پہلے قباطی کپڑے پہنائے جاتے تھے پھر یمنی چادریں بنائی جاتی تھیں اور جس نے سب سے پہلے دیباج (ریشم) کا کپڑا پہنایا وہ حجاج تھا۔ علماء نے فرمایا : کعبہ کے غلاف سے کوئی چیز نہیں لینی چاہئے کیونکہ وہ کعبہ کو ہدیہ کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی چیز کم نہیں کی جائے گی۔ حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ کعبہ کی خوشبو میں سے کوئی چیز لینا شفا حاصل کرنے کے لئے مکروہ ہے۔ جب وہ خادم کو کوئی چیز لیتے ہوئے دیکھتے تو اسے سر کے پیچھے طمانچہ مارتے وہ اسے تکلیف پہنچانے میں کمی نہیں کرتے تھے۔ عطا نے کہا : ہم میں سے کوئی جب اس سے شفا طلب کرنے کا ارادہ کرتا تو وہ خوشبو لے آتا اس کو پتھر کے ساتھ مس کرتا پھر اسے اٹھا لیتا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ربنا تقبل منا معنی ہے وہ دونوں کہہ رہے تھے : ربنا تقبل یقولان کو حذف کیا گیا ہے۔ حجرت ابی اور حضرت عبد اللہ بن مسعود کی قراءت میں اسی طرح ہے : راذ یرفع ابراھیم القواعد من البیت واسماعیل و یقولان ربنا تقبل منا۔ اسماعیل کی تفسیر یہ ہے : اسمع یا اللہ (اے اللہ ! سن لے) کیونکہ ایل، سریانی زبانی میں اللہ کو کہتے ہیں۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے رب سے دعا مانگی تو کہا : اسمع یا ایل (اے اللہ ! سن لے میری فریاد) جب اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور بچہ عطا فرمایا تو اس کا نام اپنی دعا کے ساتھ رکھا۔ یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انک انت السمیع العلیم یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے دو اسم ہیں۔ ان کی تفصیل ہم نے اپنی کتاب الاسنی فی شرح اسماء اللہ الحسنی میں کردی ہے۔