2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:78

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ اپنے خیالات باطل کے سوا (خدا کی) کتاب سے واقف ہی نہیں اور وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں

آیت نمبر 78 اس میں چار مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: منھم امیون یعنی یہود میں سے۔ بعض نے فرمایا : یہود اور منافقین میں سے جو نہ لکھتے تھے نہ پڑھتے تھے۔ امیون کا واحد امی ہے۔ یہ الامۃ الامیۃ کی منسب ہے یعنی جو امت اپنی ماؤں کی ولادت کی اصل پر ہوتے ہوئے، لکھنا پڑھنا نہ سیکھے۔ اسی سے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : انا امۃ لا نکتب ولا نحسب (4) ۔ ہم امی امت ہیں نہ ہم لکھتے ہیں نہ حساب لگاتے ہیں۔ انہیں امیون کہا گیا کیونکہ انہوں نے ام الکتاب کی تصدیق نہیں کی یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے (1) ۔ حضرت ابو عبیدہ نے کہا : انہیں امیون کہا گیا کیونکہ کتاب کا نزول ان پر ہوا تھا گویا وہ ام الکتاب کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔ گویا فرمایا : ومنھم اھل الکتاب لا یعلمون الکتاب۔ ان میں اہل کتاب جو کتاب کو نہیں جانتے۔ عکرمہ اور ضحاک نے کہا یہ عرب کے نصاریٰ ہیں بعض نے فرمایا : یہ اہل کتاب کی ایک قوم ہے۔ ان کی کتاب کو نہیں جانتے۔ عکرمہ اور ضحاک نے کہا یہ عرب کے نصاریٰ ہیں بعض نے فرمایا : یہ مجوسی ہیں۔ میں کہتا ہوں : پہلا قول اظہر ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا یعلمون الکتب الا امانی یہاں الا بمعنی لکن ہے یہ مستثنیٰ منقطع ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مالھم بہ من علم الا اتباع الظن (النساء : 157) نہیں ان کے اس امر کا کوئی صحیح علم بجز اس کے کہ وہ پیروی کرتے ہیں گمان کی) ۔ نابغہ نے کہا : حلفت یمیناً غیر ذی مثنویۃ ولا علمٍ الا حسن ظن بصاحبٍ میں نے قسم اٹھائی جس میں استثناء نہیں اور علم نہیں تھا مگر ساتھ پر حسن ظن کی۔ ابو جعفر، شیبہ اور اعرج نے الا امانی یاء کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ایک یاء کو تخفیف کی خاطر حذف کرد یا۔ ابو حاتم نے کہا : ہر لفظ جو اس طرح ہو کہ ایک مشدد ہو تو اس میں تشدید و تخفیف جائز ہے جیسے اثافی، اغانی، امانی وغیرہ۔ اخفش نے کہا : یہ اس طرح ہے جیسے مفتاح کی جمع کہا جاتا ہے : مفاتیح، ومفاتح۔ یہ جمع کی یاء ہے۔ نحاس نے کہا : معتل میں حذف اکثر ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا : وھل یوجع او یکشف العمی ثلاث الاثانی والرسوم البلاقع کیا تین چیزیں تسلیم کو لوٹاتی ہیں یا اندھے پن کو کھولتی ہیں، چولہے کے پتھر، بقیہ بنیادیں جو کھنڈر بن چکی ہیں۔ الامانی، یہ امنیۃ کی جمع ہے اس کا معنی تلاوت ہے اصل میں امنویۃ، افعولۃ کے وزن پر تھا واو کو یا میں ادغام کیا گیا یا کی وجہ سے نون کو کسرہ دیا گیا ہے تو امنیۃ بن گیا۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا اذا تمنی القی الشیطن فی امنیتہ (الحج : 53) یعنی جب وہ تلاوت کرتا ہے تو اس کی تلاوت میں شیطان ڈالتا ہے۔ کعب بن مالک نے کہا تھا : تمنی کتاب اللہ اذل لیلۃ واخرہ لاقی حمام المقادر اس نے رات کے ابتدائی حصہ اور آخری حصہ میں تلاوت کی۔ ایک اور شاعر نے کہا : تمنی کتاب اللہ اخر لیلۃ تمنی داؤد الزبور عل رسل اس نے رات کے آخری حصہ میں کتاب اللہ کی تلاوت کی جس طرح حضرت داؤد (علیہ السلام) نے زبور کی تلاوت آہستہ آہستہ کی۔ الامانی کا معنی جھوٹ بھی ہے۔ حضرت عثمان ؓ کا قول ہے : ما تمنیت منذا سلمت (1) ، جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے جھوٹ نہیں بولا ہے۔ کسی عربی نے ابن وأب کو کہا تھا جب وہ بیان کر رہا تھا : أھذا شیء رویتہ ام شیء تمنیتہ۔ کیا یہ وہ چیز ہے جو تم نے کسی سے روایت کی ہے یا تو نے خود گھڑی ہے۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد نے الامانی کی تفسیر اسی مفہوم میں کی ہے (2) ۔ الامانی ہر اس چیز کو بھی کہتے ہیں جس کی انسان تمنا اور خواہش کرتا ہے۔ قتادہ نے کہا : الا امانی یعنی وہ اللہ تعالیٰ پر ایسی تمنا کرتے ہیں جو ان کے لئے نہیں ہے (3) ۔ بعض نے فرمایا : الامانی کا معنی التقدیر ہے کہا جاتا ہے : منی لہ یعنی اس کے لئے مقدر کیا گیا۔ یہ جوہری کا قول ہے۔ ابن بحر نے یہ حکایت کیا ہے۔ شاعر کا قول بیان کیا ہے : لا تامنن وان امسیت فی حرم حتی تلاقی ما یمنی لک المانی تو امن میں نہ ہو اگرچہ تو شام حرم میں گزارے حتیٰ کہ تو وہ پالے جو تقدیر بنانے والے نے تیری تقدیر میں لکھی ہے۔ مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان ھم الا یظنون، ان بمعنی ما نا فیہ ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان الکفرون الا فی غرور۔ (الملک) اس آیت میں ان، ما نافیہ کے معنی میں ہے اور یظنون کا معنی ہے وہ جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ انہیں اس چیز کی صحت کا علم ہی نہیں ہے جو وہ تلاوت کرتے ہیں۔ وہ تو اپنے علماء کے مقلد ہیں اس میں جو وہ پڑھتے ہیں۔ ابوبکر انباری نے کہا : ہمیں احمد بن یحییٰ نحوی نے بتایا کہ عرب ظن کو علم، شک اور کذب کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ فرمایا : جب علم کے دلائل قائم ہوجائیں اور وہ شک کے دلائل سے زیادہ ہوں تو ظن یقین ہوگا، اور جب یقین کے دلائل اور شک کے دلائل برابر ہوں تو ظن شک ہوگا۔ جب شک کے دلائل یقین کے دلائل سے زیادہ ہوں تو ظن کذب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وان ھم الا یظنون یعنی وہ جھوٹ بولتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 4: ہمارے علماء نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے علماء یہود کے بارے میں بتایا کہ وہ تحریف کرتے ہیں اور تبدیلی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اس کا قول حق ہے : فویلٌ للذین یکتبون الکتب بایدیھم الآیہ (البقر :79) (سو ہلاکت ہو ان کے لئے جو لکھتے ہیں کتاب اپنے ہاتھوں سے ) ۔ جب معاملہ ان کی طرف متوجہ ہوا، اور علماء کی رعیت بری ہوگئی اور وہ دنیا پر حرص و لالچ کرنے لگے اور انہوں نے ایسی چیزیں طلب کیں جو لوگوں کے رخ ان کی طرف پھیر دیں تو انہوں نے اپنی شریعت میں بدعتوں کا نکالا اور شریعت کو بدل ڈالا۔ پھر انہیں تورات کے ساتھ لاحق کردیا۔ اپنے بیوقوف لوگوں کو کہا : یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ وہ ان کی طرف سے یہ قبول کرلیں اور ان کی ریاست مستحکم ہوجائے اور اس کے ذریعے وہ دنیا کا مال ومتاع حاصل کریں اور جو کچھ انہوں نے اختراع کیا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ انہوں نے کہا پس لیس علینا فی الامیین سبیل وھم العرب یعنی ہم پر امیوں کے بارے میں کوئی گرفت نہیں ہے اور وہ عرب ہیں یعنی جو کچھ ہم ان کے مال سے لے لیں وہ ہمارے لئے حلال ہے اور ان کی اختراع میں سے یہ بھی تھا کہ انہوں نے لا یضرنا ذنب فنحن احباءہ وابناءہ۔ ہمیں کوئی گناہ مضر نہیں ہم اللہ تعالیٰ کے محبوب اور اس کے بیٹے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس نازیبات سے بلند ہے تورات میں تھا : یا احباری ویا ابناء رسلی۔ (اے میرے علماء اور میرے رسولوں کی اولاد) تو انہوں نے اسے بدل ڈولا اور یہ لکھا : یا احبانی ویا ابنائی (یعنی اے میرے محبوبو ! اے میرے بیٹو ! ) اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کو نازل فرمایا : و قالت الیھود والنصریٰ نحن ابنٰؤا اللہ واحبآ ؤہ قل فلم یعذبکم بذنوبکم (المائدہ :18) یہود نے کہا : ہمیں اللہ تعالیٰ عذاب نہیں دے گا۔ اگر وہ عذاب دے گا تو چالیس دن عذاب دے گا جتنے دن ہم نے بچھڑے کی عبادت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا : وقالوا لن تمسنا النار الا ایاماً معدودۃً قل اتحذتم عند اللہ عھداً (البقرہ :80) (اور انہوں نے کہا ہرگز نہ چھوئے گی ہمیں (دوزخ کی) آگ بجز گنتی کے دن۔ آپ فرمائیے کیا لے رکھا ہے تم نے اللہ سے کوئی وعدہ۔ ) ابن مقسم نے کہا : عھداً سے مراد توحید ہے۔ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : الا من اتخذ عند الرحمٰن عھدًا (مریم :87) اس آیت میں عھداً سے مراد لا الہ الا اللہ ہے۔ فلن یخلف اللہ عھدہ ام تقولون علی اللہ مالا تعلمون۔ (البقرہ) تب تو خلاف ورزی نہ کرے گا اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کی یا (یونہی) بہتان باندھتے ہو اللہ پر جو تم جانتے ہی نہیں) پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹا ثابت کیا اور فرمایا : بلیٰ من کسب سیئۃً واحاطت بہ خطیئتہ فاولئک اصحب النار ھم فیھا خلدون۔ والذین امنوا وعملوا الصلحت اولئک اصحب الجنۃ ھم فیھا خلدون۔ (البقرہ) ہاں (ہمارا قانون یہ ہے) جس نے جان بوجھ کر برائی کی اور گھیر لیا اس کو اس کی خطا نے تو وہی دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہی جنتی ہیں وہ اس جنت میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ دوزخ اور جنت میں خلودکفر اور ایمان کے اعتبار سے ہے نہ کہ اس اعتبار سے جو انہوں نے کہا۔
Ayah 2:79

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

تو ان لوگوں پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب لکھتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ یہ خدا کے پاس سے (آئی) ہے تاکہ اس کے عوض تھوڑی سی قیمت (یعنی دنیوی منفعت) حاصل کریں، ان پر افسوس ہے اس لیے کہ (بےاصل باتیں) اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور (پھر) ان پر افسوس ہے اس لئے کہ ایسے کام کرتے ہیں

آیت نمبر 79 اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: فویلٌ، ویل کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ کیا ہے۔ حضرت عثمان بن عفان نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ یہ آگ کا پہاڑ ہے (1) ۔ حضرت ابو سعید خدری نے روایت کیا ہے کہ ویل دو پہاڑوں کے درمیان جہنم میں ایک وادی ہے جس میں گرنے والا چالیس سال گرتا جائے گا۔ (1) سفیان اور عطا بن یسار سے مروی ہے کہ اس آیت میں ویل سے مراد ایک وادی ہے جو جہنم کے فنا میں ہے اس میں دوزخیوں کی پیپ چلتی ہے (2) ۔ بعض نے فرمایا : جہنم میں ایک حوض ہے۔ الزہراوی نے دوسروں سے حکایت کیا ہے کہ یہ جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے (3) ، الویل، عذاب کی تکلیف ہے۔ خلیل نے کہا : اس تکلیف کی شدت ہے۔ اصمعی نے کہا : ویل سے مراد افسوس کا اظہار کرنا ہے۔ اور الویح سے مراد رحم کا اظہار کرنا ہے۔ سیبویہ نے کہا : جو ہلاکت میں واقع ہو اس کے لئے ویل اور جو ہلاکت کے قریب ہو اس کے لئے ویح استعمال ہوتا ہے۔ ابن عرفہ نے کہا ویل سے مراد غم ہے۔ کہا جاتا ہے : تویل الرجل جب وہ ویل پکارے یہ غم اور مصیبت کے وقت کہا جاتا ہے۔ اس سے ہے فویلٌ للذین یکتبون الکتب بایدیھم۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کی اصل ہلاکت ہے ہر وہ شخص جو ہلاکت میں واقع ہوا ہو وہ ویل کو پکارتا ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : یویلتنا مال ھذا الکتب (الکہف :49) ویل اور ویلہ دونوں کا معنی ہلاکت ہے اس کی جمع ویلات ہے۔ شاعر نے کہا : لہ الویل ان امسی ولا ام ہاشم ایک اور نے کہا : فقالت لک الویلات انک مرجلی ویل پر رفع ابتدا کی وجہ سے ہے۔ اس کو مبتدا بنانا جائز ہے اگرچہ نکرہ ہے کیونکہ اس میں دعا کا معنی ہے۔ اخفش نے کہا : فعل کے اضمار کی بنا پر نصب بھی جائز ہے یعنی الزمھم اللہ ویلاً ۔ فراء نے کہا : الویل اصل میں وئ تھا یعنی غم۔ جیسے تو کہتا ہے : وی لفلان یعنی کے لئے غم۔ عربوں نے اس کے ساتھ لام ملا دیا اور پھر اس سے اسے مقدر کیا اور اسے اعراب دیا۔ اس میں بہتر یہ ہے کہ جب یہ مضاف نہ ہو تو اس پر رفع ہو کیونکہ یہ وقوع کا تقاضا کرتی ہے اور دعا کے معنی پر نصب بھی صحیح ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے۔ خلیل نے کہا : صرف ان الفاظ کا مبنی ہونا سنا گیا ہے : ویح وویس وویہ وویک وویل وویب۔ یہ تمام الفاظ قریب المعنی ہیں، بعض نے ان کے درمیان فرق کیا ہے۔ یہ مصادر ہیں ان کو عرب فعل کے ساتھ نہیں بولتے۔ الجرمی نے کہا : اور ان کلمات میں سے جن کو نصب مصادر کی نصب کی طرح دمی جاتی ہے وہ ویلہ، عولہ، ویحہ اور ولیسہ ہیں جب ان کے ساتھ لام کو داخل کرے گا تو تو رفع دے گا اور کہے گا : ویلٌ لہ، وویحٌ لہ۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : للذین یکتبون کتاب معروف ہے اور سب سے پہلے جس نے قلم کے ساتھ لکھا اور قلم کے ساتھ تحریر لکھی وہ حضرت ادریس (علیہ السلام) تھے اور یہ بات حضرت ابو ذر کی حدیث میں آئی ہے جسے الآجری وغیرہ نے نقل کیا ہے۔ بعض علماء نے کہا حضرت آدم (علیہ السلام) کو کتاب کا فن دیا گیا تو وہ آپ کی اولاد میں وراثت ہوگیا۔ مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بایدیھم یہ تاکید ہے کیونکہ یہ معلوم شدہ ہے کہ کتابت (لکھائی) ہمیشہ ہاتھ کے ساتھ ہوتی ہے یہ اس ارشاد کی مثل ہے : ولا طئرٍ یطیر یجناحیہ (انعام : 38) اس آیت میں جناح کا ذکر تاکید کے لئے ہے کیونکہ پرندہ اڑتا ہی پروں کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویقولون بافواھھم۔ وہ اپنے مونہوں سے بولتے ہیں تو بولنا تو وہتا ہی منہ کے ساتھ ہے اس لئے یہاں افواھھم تاکید کے لئے ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : بایدیھم ان کے جرم کے بیان کے لئے ہے اور ان کے اعلانیہ یہ کام کرنے کے اثبات کے لئے ہے جو خود کسی کام کو شدت سے سر انجام دیتا ہے وہ ان لوگوں سے ہوتا ہے جس کے وہ کام سپرد نہ ہوا گرچہ اس کی رائے موجود ہو۔ ابن سراج نے کہا بایدیھم یہ کنایہ ہے کہ یہ ان کی اپنی طرف سے تھا ان پر نازل نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ ہاتھوں کے لکھنے میں حقیقت نہ تھی۔ (1) مسئلہ نمبر 4: اس آیت اور اس سے پہلے والی آیت میں تبدیلی، تغییر اور شرع میں زیادتی کرنے سے ڈرایا گیا ہے۔ پس جس نے اللہ دین میں کوئی بدعت نکالی، کوئی ایسی تبدیلی کی جو دین میں سے نہیں ہے اور دین میں وہ جائز نہ ہو تو وہ اس سخت وعید اور عذاب الیم میں داخل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو ڈرایا جب آپ نے آخر زمانہ میں جو ہونے والا ہے، اسے جان لیا۔۔۔۔ فرمایا : خبردار ! تم میں سے اہل کتاب بہتر ملتوں میں جدا جدا ہوئے اور یہ امت تہتر ملتوں میں تقسیم ہوگی سوائے ایک کے سب دوزخ کی آگ میں جائیں گے۔۔۔۔ اور آپ ﷺ نے اپنی طرف سے دین میں کوئی ایسی بات ایجاد کرنا جو قرآن وسنت اور اصحاب کی سنت کے مخالف ہوگی تو وہ لوگوں کو اس کے ساتھ گمراہ کریں گے۔ جس سے نبی کریم ﷺ نے ڈرایا تھا وہ واقع ہوا اور عام ہوا۔ پھیلا اور کثرت سے پھیلا۔ انا للہ وانا الیہ رجعون۔ مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لیشتروا بہ ثمناً قلیلاً اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو قلت کی صفت سے بیان فرمایا جو وہ لیتے تھے۔ اس لئے کہ یا تو وہ فنا ہونے والی تھی اور اس کو ثبات نہیں تھا یا وہ حرام تھی کیونکہ حرام میں بھی برکت نہیں ہوتی اور وہ اللہ کی بارگاہ میں نہیں بڑھتا۔ ابن اسحاق اور کلبی نے کہا : تورات میں رسول اللہ ﷺ کی یہ صفت ذکر تھی ربعۃ اسمر (درمیانہ قد اور گندمی رنگ) اور انہوں نے اسے آدم سبطاً طویلاً کے الفاظ سے بدل ڈالا یعنی گندمی سیدھے بالوں والا لمبے قد والا۔ وہ اپنے ساتھیوں اور متبعین کو کہتے : اس نبی کی صفت دیکھو جو آخر زمانہ میں مبعوث ہوگا۔ اس کی صفت تو اس کے مشابہ نہیں ہے۔ یہود کے مشائخ اور علماء کے لئے ریاست اور کمائی تھی۔ پس انہیں اندیشہ ہوا کہ اگر وہ صحیح صحیح بیان کریں گے تو ان کے کھانے بند ہوجائیں گے اور ریاست چلی جائے گی اس وجہ سے انہوں نے تحریف کی۔ (2) پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فویلٌ لھم مما کتبت ایدیھم وویلٌ لھم مما یکسبون۔ بعض علماء نے فرمایا : مما یکسبون سے مراد ان کے کھانے ہیں۔ بعض نے فرمایا : گناہ ہیں اور ان کے فعل کی تغلیظ کے لئے ویل کو دوبارہ ذکر کیا۔
Ayah 2:80

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:80 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی، ان سے پوچھو کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا ؟ (نہیں) بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں

آیت نمبر 80 اس میں تین مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقالوا یعنی یہود نے کہا : لن تمسنا النار الا ایاماً معدودۃً اس کے نزول کے سبب میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے کہا : نبی کریم ﷺ نے یہود سے پوچھا : دوزخی کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : ہم۔ پھر تم ہمارے پیچھے آؤ گے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تو نے جھوٹ بولا تم جانتے ہو کہ ہم تمہارے پیچھے نہیں آئیں گے۔ پس اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی (1) ۔ یہ ابن زید کا قول ہے۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ آئے تو یہود کہتے تھے : یہ دنیا سات ہزار (سال) ہے۔ لوگوں کو دنیا کے ہر ہزار سال کے لئے آخرت کے دنوں میں سے ایک دن آگ میں عذاب دیا جائے گا یہ کل سات دن ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یہ مجاہد کا قول ہے (2) ۔ ایک طائفہ نے کہا : یہود نے کہا : تورات میں ہے کہ جہنم کی مسافت چالیس سال ہے وہ ہر روز ایک سال کی مسافت طے کریں گے حتیٰ کہ اس مسافت کو مکمل کرلیں گے تو جہنم ختم ہوجائے گی۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے یہ روایت کیا ہے (3) ۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ یہود نے کہا کہ انہوں نے تورات میں یہ لکھا ہوا پایا ہے کہ جہنم کے دونوں کناروں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے یہاں تک کہ لوگ زقوم کے درخت تک پہنچیں گے اور یہود نے کہا : ہمیں عذاب دیا جائے گا حتیٰ کہ ہم زقوم کے درخت تک پہنچیں گے پھر جہنم ختم ہوجائے گی۔ حضرت ابن عباس اور قتادہ سے بھی مروی ہے کہ یہود نے کہا : اللہ تعالیٰ نے قسم اٹھائی ہے کہ وہ انہیں چالیس دن آگ میں داخل کرے گا جتنے دن انہوں نے بچھڑے کی عبادت کی تھی۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹا ثابت کیا (4) جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اس آیت میں امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا رد ہے جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ارشاد دعی الصلوۃ ایام اقرائک (5) (توا پنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے) سے استدلال کیا ہے کہ حیض کی مدت اتنی ہے جس کو ایام حیض کہا جاتا ہے۔ اس کی کم از کم مدت تین دن ہے اور زیادہ سے زیادہ دس دن (٭) ۔ احناف کہتے ہیں : جو تین دن سے کم ہو اسے یوما اور یومین سے تعبیر کیا جاتا ہے جو دس سے زائد ہوا سے احد عشر یوماً کہا جاتا ہے اس میں ایام نہیں کہا جاتا تین سے دس تک کے اسمائے اعداد کے ساتھ ایام کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فصیام ثلثۃ ایامٍ فی الحج (البقرہ :196) پھر تین دنوں کے روزے حج میں تمتعوا فی دارکم ثلثۃ ایام (ہود :65) تم لطف اٹھا لو اپنے گھروں میں دن۔ سخرھا علیھم سبع لیالٍ (الحاقہ :7) (مسلط کردیا اسے ان پر سات راتیں) ۔ ثمنیۃ ایامٍ حسوماً (الحاقہ :7) (آٹھ دن جو جڑوں سے اکھیڑنے والی تھی) تو احناف کو کہا جائے گا اللہ تعالیٰ نے روزے کے بارے میں ایاماً معدودتٍ فرمایا اس سے پورا مہینہ مراد ہے۔ اور فرمایا لن تمسنا النار الا ایاماً معدودۃً (البقرہ :80) اس ایاماً معدودتٍ سے مراد چالیس دن ہیں اور جب ایام کسی عارض کی طرف مضاف ہوں تو اس سے تعداد کی تحدید مراد نہیں ہوتی بلکہ کہا جاتا ہے : ایام مشیک وسفرک واقامتک۔ اگرچہ تیس اور بیس دن بھی ہوں، جو عدد تو چاہے مراد لے سکتا ہے۔ شاید وہ مراد لیا جو عورت کے لئے معتاد تھا اور عورت کی عادت چھ دن یا سات دن ہوتی ہے۔ پس آپ ﷺ نے کلام اس کے مطابق فرمایا۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل اتحذتم، اتخذ کے بارے میں کلام گزر چکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ عند اللہ عھدًا کیا تم نے پہلے نیک عمل کیا ہے تم ایمان لائے تم نے اطا عت کی کہ تم آگ سے نکلنے کے مستحق ہو۔ یا تم نے اس کی وحی سے پہچانا ہے جس میں اس نے تم سے عہد کیا ہے۔ فلن یخلف اللہ عھدہ ام تقولون علی اللہ ما لا تعلمون۔ یہ توبیخ اور تقریع ہے۔
Ayahs 2:81–82

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

ہاں جو برے کام کرے اور اسکے گناہ (ہر طرف سے) اس کو گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں وہ جنت کے مالک ہوں گے (اور) ہمیشہ اس میں (عیش کرتے) رہیں گے

آیت نمبر 81 تا 82 اس میں تین مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بلیٰ یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا تم نے ذکر کیا ہے۔ سیبویہ نے کہا بلیٰ اور نعم اسم نہیں ہیں۔ یہ بل وغیرہ کی طرح دونوں حرف ہیں۔ یہ ان کے قول لن تمسنا النار کا رد ہے۔ کو فیوں نے کہا : اس کی اصل بل ہے جس کا معنی پہلی کلام سے اضراب ہوتا ہے۔ اس پر یا کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ وقف عمدہ ہوجائے یا ایجاب اور انعام کا معنی اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہے (1) ۔ پس بل انکار کے رد پر دلالت کرتا ہے اور یا ما بعد کے ایجاب پر دلالت کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں : اگر کوئی کہے : الم تاخذ دینار ًا ؟ (کیا تو نے دینار نہیں لیا ؟ ) تو کہے گا : نعم تو معنی لا ہوگا یعنی میں نے نہیں لیا کیونکہ تو نے نفی کو ثابت کیا اور جب تو کہے : بلی تو معنی ہوگا میں نے دینار لیا۔ فراء نے کہا : جب کوئی شخص اپنے ساتھی سے کہے : مالک علی شیء (تیرے لئے مجھ پر کچھ نہیں ہے) دوسرا کہے : نعم تو یہ تصدیق ہوگی اس کے لئے اس پر کچھ نہیں ہے۔ اگر وہ کہے : بلیٰ تو یہ اس کے قول کا رد ہوگا۔ تقدیر یوں ہوگی : بلی لی علیک (کیوں نہیں میرے لئے تجھ پر ہے) قرآن میں ہے : الست بربکم قالوا بلیٰ ۔ اگر وہ نعم کہتے تو کافر ہوتے۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سیئۃً اس سے مراد شرک ہے۔ ابن جریج نے کہا : میں نے عطا سے کہا من کسب سیئۃ سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے کہا : شرک (1) اور پھر یہ آیت بطور دلیل پڑھی ومن جاء بالسیئۃ فکبت وجوھھم فی النار (النمل : 90) (جو برائی لے کر آئے گا تو ان کو منہ کے بل اوندھا پھینک دیا جائے گا آگ میں) اسی طرح حسن اور قتادہ نے کہا : خطیئۃ کبیرہ ہے۔ (2) مسئلہ نمبر 3: جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بلیٰ من کسب سیئۃً واحاطت بہ خطیئتہ تو یہ دلیل ہے کہ دو شرطوں پر یہ حکم معلق ہے، دونوں شرطوں سے کم کے ساتھ حکم مکمل نہیں ہوگا۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا (فصلت :30) (بےشک وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر (اس پر) استقامت اختیار کی) اسی طرح نبی کریم ﷺ نے سفیان بن عبد اللہ ثقفی کو کہا، جب انہوں نے کہا تھا یا رسول اللہ ! مجھے اسلام میں کوئی ایسی بات بتائیں کہ اس کے متعلق آپ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : قل امنت باللہ ثم استقم (تو کہہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا پھر اس پر قائم رہ) اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ اس مفہوم میں کلام گزر چکی ہے اور جو کچھ علماء نے ولا تقربا ھذہ الشجرۃ فتکونا من الظلمین۔ (البقرہ :35) کے ضمن میں فرمایا وہ بھی گزر چکا ہے۔ نافع نے خطیئاتہ، یعنی جمع پڑھا ہے باقی قراء نے مفرد پڑھا ہے اور معنی کثرت ہے مثلاً اللہ تعالیٰ کا ارشاد وان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا (ابراہیم : 34) یہاں نعمۃ مفرد ہے لیکن معنی کثرت ہے۔
Ayah 2:83

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہنا تو چند شخصوں کے سوا تم سب (اس عہد سے) منہ پھیر کر پھر بیٹھے

آیت نمبر 83 اس میں دس مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل ان الفاظ کے بیان میں کلام گزر چکی ہے، یہاں جس میثاق کا ذکر ہے اس کے بارے میں اختلاف ہے۔ مکی نے کہا : یہ وہ میثاق ہے جو اس وقت لیا گیا جب لوگوں کو چیونٹیوں کی طرح حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ سے نکالا گیا۔ بعض نے فرمایا : یہ وہ میثاق ہے جو ان سے لیا گیا جبکہ وہ زندگی میں عقلاء تھے۔ انبیاء کرام کی زبانوں کے ذریعے۔ وہ یہ ارشاد ہے : لا تعبدون الا اللہ (1) (تم عبادت نہیں کرنا مگر اللہ کی) اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی توحید کا اثبات ہے اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہے اور جو کچھ اس نے اپنی کتب میں نازل کیا اس کے مطابق عمل کرنا ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا تعبدوں سیبویہ نے کہا : لا تعبدون، قسم کے متعلق ہے۔ معنی یہ ہے کہ جب تم نے ان سے حلف لیا اللہ کی قسم تم عبادت نہیں کرتے مگر اللہ کی۔ مبرد، کسائی اور فراء نے اس کو جائز قرار دیا۔ حضرت ابی اور حضرت ابن مسعود نے لا تعبدوا نہی کا صیغہ پڑھا ہے (2) اسی وجہ سے کلام امر کے صیغہ کے ساتھ متصل ہے۔ فرمایا قوموا وقولوا۔ اقیموا وآتوا۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ حال ہے یعنی ہم نے ان سے میثاق لیا دراں حالیکہ وہ توحید کے اظہار کرنے والے تھے یا وہ معاند نہیں تھے۔ یہ قطرب اور مبرد کا قول ہے۔ یہ ابن کثیر، حمزہ اور کسائی کی قراءت پر یعبدون (یاء کے ساتھ) پر صحیح ہوتا ہے۔ فراء، زجاج اور ایک جماعت نے کہا (3) اس کا معنی ہے اخذنا میثاقھم بالایعبدوا الا اللہ وبان یحسنوا للوالدین وبالایسکفوا الدماء (ہم نے ان سے میثاق لیا کہ وہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے یہ کہ وہ والدین سے حسن سلوک کریں گے، یہ کہ وہ خون ریزی نہیں کریں گے) پھر ان اور با کو حذف کیا گیا تو فعل کو رفع دیا گیا ان دونوں کے نہ ہونے کی وجہ سے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افغیر اللہ تامرونی (الزمر :64) مبرد نے کہا : یہ خطاب ہے جو عربی میں مضمر ہوتا ہے وہ ظاہر عامل کی طرح عمل کرتا ہے تا کہتا ہے : وبلد قطعت یعنی رب بلد۔ میں کہتا ہوں : یہ خطا نہیں ہے بلکہ دونوں وجہیں صحیح ہیں، ان دونوں وجوہ پر سیبویہ نے یہ شعر پڑھا ہے : الا ایھذا الزاجری احضر الوغی وان اشھد اللذات ھل انت مخلدی اس شعر میں احضر پر نصب اور رفع دونوں پڑھے گئے ہیں۔ نصب ان کے اضمار کی بنا پر اور رفع ان کے حذف کی بنا پر۔ مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وبالوالدین احساناً یعنی ہم نے انہیں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے حق کو توحید کے ساتھ ذکر کیا ہے کیونکہ انسان کی تخلیق اول اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور تخلیق ثانی (تربیت) والدین کی طرف سے ہوتی ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے شکر کو اپنے شکر کے ساتھ ملا یا ہے فرمایا : ان اشکرلی ولوالدیک (لقمان : 14) والدین سے احسان کا مطلب ان سے حسن معاشرت، ان کے لئے تواضع، ان کے حکم کی پیروی، ان کے وصال کے بعد ان کے لئے مغفرت کی دعا، ان سے محبت کرنے والوں سے تعلقات قائم کرنا وغیرہ ہے۔ تفصیلی بیان انشاء اللہ سورة اسراء میں آئے گا۔ مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وذی القربی اس کا عطف والدین پر ہے القربیٰ بمعنی قرابت ہے یہ مصدر ہے جیسے الرجعی، العقبیٰ (1) یعنی ہم نے اپنے قریبی رشتہ داروں سے احسان کا حکم دیا۔ تفصیلی بیان سورة القتال میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الیتمیٰ یہ بھی معطوف ہے۔ یہ یتیمہ کی جمع ہے جیسے ندامی، ندیم کی جمع ہے۔ انسانوں میں الیتیم باپ کا نہ ہونا ہے اور جانوروں میں ماں کا نہ ہونا ہے (2) ۔ ماوردی نے حکایت کیا ہے کہ یتیم اسے کہا جاتا ہے جس کی ماں نہ ہو۔ پہلا قول معروف ہے اس کا اصل معنی جدا ہونا ہے۔ صبی یتیمہ یعنی وہ بچہ جو اپنے سے جدا ہوگیا۔ بیت یتیم جس کے آگے پیچھے کوئی شعر نہ ہو۔ درۃ یتیمۃ ٌ، ایسا موتی جس کی مثال نہ ہو۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی الابطاء (تاخیر کرنا) ہے۔ یتیم کو اس لئے کہا جاتا ہے کہ نیکی اس سے مؤخر ہوجاتی ہے۔ کہا جاتا ہے : یتم ییتم یتما جیسے عظم یعظم۔ اور یتم یتیم یتماً ویتماً جیسے سمع یسمع۔ فراء نے دو وجہیں ذکر کی ہیں : قد ایتمہ اللہ۔ اللہ نے اسے یتیم بنایا۔ یہ آیت یتیم پر شفقت کرنے پر اور اس کی کفالت اور اس کے مال کی حفاظت کرنے پر برانگیختہ کر رہی ہے۔ اس کا بیان سورة نساء میں آئے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اپنے یتیم کی کفالت کرنے والا یا کسی غیر کے یتیم کی کفالت کرنے والا اور میں اور وہ جنت میں ان دوانگلیوں کی طرح اکٹھے ہوں گے۔ مالک نے سایہ اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے۔ امام حافظ ابو محمد عبد الغنی بن سعید نے حسن بن دینار ابو سعید بصری، جو حسن بن واصل، کی حدیث نقل کی ہے، فرمایا : ہمیں اسود بن عبد الرحمن نے بتایا انہوں نے ہضان سے روایت کیا انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت کیا، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جس قوم کے پیالے پر یتیم نہ بیٹھے ان کے پیالے کے قریب شیطان ہوتا ہے۔ عبد الغنی نے حسین بن قیس کی حدیث بھی نقل کی ہے اور وہ ابو علی حسبی ہے۔ انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے ایک یتیم مسلمان کو اپنے کھانے اور پینے میں شریک کیا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اسے سیر کردے گا تو اس کے یقیناً سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے مگر یہ کہ وہ کوئی ایسا عمل کرے جو بخشا نہ جاتا ہو۔ اور اللہ تعالیٰ جس کی دو محبوب چیزیں لے لے گا اور وہ صبر کرے گا اور ثواب کی امید رکھے گا تو اس کے سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ صحابہ نے پوچھا : کریمناہ (دو محبوب چیزوں) سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : اس کی آنکھیں اور جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں گی وہ ان پر خرچ کرے گا اور ان سے حسن سلوک کرے گا حتیٰ کہ ان کی شادی ہوجائے یا وہ فوت ہوجائیں تو یقیناً اس کے تمام گناہ معاف کر دئیے جائیں گے مگر یہ کہ وہ کوئی ایسا عمل کرے جو بخشا نہ جاتا ہو۔ ایک بدو جس نے ہجرت کی تھی اس نے کہا : یا رسول اللہ ! جس کی دو بیٹیاں ہوں اس کا کیا حکم ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خواہ دو بیٹیاں ہوں اس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔ حضرت ابن عباس جب یہ حدیث بیان کرتے تھے تو وہ فرماتے تھے : اللہ کی قسم ! یہ حدیث کے غرائب اور غرر سے ہے۔ (1) مسئلہ نمبر 6: سبابہ وہ انگلی ہوتی ہے جو انگوٹھے سے ملی ہوئی ہوتی ہے۔ زمانہ جاہلیت میں اسے سبابہ کہا جاتا تھا کیونکہ وہ اس کے ذریعے گالی دیتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نعمت دی تو انہوں نے اس نام کو ناپسند کیا اور انہوں نے اس کا نام المشیرہ رکھا کیونکہ وہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اشارہ کرتے تھے، اس کو مباحہ بھی کہا جاتا ہے اس کا یہ نام حضرت وائل بن حجر وغیرہ کی حدیث میں آیا ہے لیکن لغت زمانہ جاہلیت میں جو معروف تھا اس کے مطابق چلتی رہی اور وہ غالب رہی۔ رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کے مطابق مروی ہے کہ ان میں سے المشیرہ، درمیانی انگلی سے بڑی تھی، اور درمیانی انگلی، المشیرہ سے چھوٹی تھی پھر بنصردرمیانی سے چھوٹی تھی۔ یزید بن ہارون نے روایت کیا ہے، فرمایا : ہمیں عبد اللہ بن مقسم الطائفی نے بیان کیا۔ انہوں نے فرمایا : مجھے میری پھوپھی سارہ بنت مقسم نے بتایا کہ انہوں نے حضرت میمونہ بنت کردم کو سنا، انہوں نے فرمایا : میں اس حج کے موقع پر نکلی جو رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی سواری پر دیکھا، میرے باپ نے آپ ﷺ سے کچھ چیزوں کے متعلق پوچھا۔ میں نے دیکھا میں تعجب کرتی تھی۔۔۔۔ جب کہ میں بچی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی اس انگلی کی لمبائی پر جو انگوٹھے کے ساتھ ملی ہوئی ہے وہ تمام انگلیوں سے بڑی تھی۔ پس نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد انا وھو کھا تین فی الجنۃ اور دوسری حدیث میں ہے احشرانا وابوبکر وعمر یوم القیامۃ ھکذا (میں، ابوبکر اور عمر قیامت کے روز اس طرح اٹھائے جائیں گے) اپنی تین انگلیوں سے اشارہ فرمایا۔ آپ نے مخلوق کی منازل اور مخلوق پر جھانکنے کا ارادہ فرمایا اور فرمایا : ہم اس طرح اٹھیں گے اور ہم اوپر سے جھانک رہے ہوں گی۔ اسی طرح یتیم کی کفالت کرنے والے کا مرتبہ بلند ہوگا۔ جو رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کی شان کو نہیں جانتا اس نے حدیث کی تاویل انضمام واقتراب سے کی ہے یعنی درجے ملے ہوئے ہوں گے اور یہ معنی بعید ہے کیونکہ رسل، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی منازل متفرق اور مختلف ہوں گی مسئلہ نمبر 7: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : المسکین یہ بھی معطوف ہے یعنی ہم نے انہیں مساکین کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں حاجت نے ساکن کردیا ہو اور انہیں ذلیل کردیا ہو۔ یہ صدقہ، مواسات، مساکین کے احوال جاننے اور ضعیفوں کی خبر گیری کرنے کو متضمن ہے (کی کفالت کے لئے) کوشش کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ میرا خیال ہے آپ ﷺ نے فرمایا : بہنوں کے لئے محنت مزدوری کرنا اللہ کے راستہ میں جہاد سے افضل ہے۔ مسئلہ نمبر 8: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقولوا للناس حسناً ، حسناً کو معنی کے اعتبار سے نصب مصدر کی بنا پر ہے کیونکہ اس کا معنی ہے تمہارے قول اچھا ہو۔ بعض نے فرمایا : تقدیر عبارت اس طرح ہے : وقولوا للناس قولاً ذاحسن، یہ مصدر ہے معنی کے اعتبار سے نہیں۔ حمزہ اور کسائی نے حسناً ، حاء اور سین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اخفش نے کہا : دونوں کا معنی ایک ہے، جیسے بخل اور مخل۔ الرشد اور الرشد کا معنی ایک ہے۔ اخفش نے حکایت کیا ہے : حسنیٰ یعنی بغیر تنوین کے فعلی کے وزن پر۔ نحاس نے کہا اور یہ عربی زبان میں جائز نہیں، ایسے صیغہ کو الف، لام کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے جیسے الفضلی، الکبریٰ ، الحسنیٰ ۔ یہ سیبویہ کا قول ہے۔ عیسیٰ بن عمر نے حسنا حاء اور سین کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ جیسے الحلم۔ حضرت ابن عباس نے کہا تم انہیں لا الہ الا اللہ کہو اور انہیں اس کا حکم دو ۔ ابن جریج نے کہا : یعنی تم حضرت محمد ﷺ کے معاملہ میں لوگوں سے سچی بات کہو اور آپ ﷺ کی صفات میں تبدیلی نہ کرو۔ سفیان ثوری نے کہا : لوگوں کو نیکی کا حکم دو اور انہیں برائی سے روکو۔ ابو العالیہ نے کہا : انہیں اچھی بات کہو اور اچھا بدلہ دو اس سے جو تم چاہتے ہو کہ تمہیں بدلہ دیا جائے۔ یہ تمام مکارم اخلاق پر ابھارنا ہے (1) ۔ پس انسان کو چاہئے کہ لوگوں کے ساتھ اس کا کلام نرم ہو اس کا چہرہ ہر فاسق وفاجر کے لئے، سنی اور بدعتی کے لئے مسکراتا اور کھلا ہوا ہو لیکن دین میں مداہنت نہ کرے اور ایسی کلام نہ کرے کہ وہ یہ سمجھے کہ اس کے مذہب سے راضی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو فرمایا : فقولا لہ قولاً لیناً (طہ : 44) (اس سے نرم لہجہ میں بات کرو) کوئی قائل، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) سے افضل نہیں ہے اور کوئی فاجر فرعون سے زیادہ خبیث نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو اس کے ساتھ نرم کلام کرنے کا حکم دیا۔ طلحہ بن عمر نے کہا : میں نے عطا سے کہا تیرے پاس مختلف خواہشات کے لوگ جمع ہوتے ہیں اور میرے اندر تیزی اور سختی ہے میں ان کو سخت کلام کہتا ہوں۔ حضرت عطا نے کہا : تم ایسا مت کیا کرو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وقولوا للناس حسناً اس آیت میں یہود ونصاریٰ بھی داخل ہیں تو پھر حنیفی (مسلمان) کا کیسا حکم ہوگا۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا : تو فحش کلام کرنے والی نہ ہوجا، کیونکہ بیشک فحش اگر مرد ہوتا تو برا مرد ہوتا۔ بعض علماء نے فرمایا : الناس سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں جیسے اس ارشاد میں ہے : ام یحسدون الناس علیٰ ما اتھم اللہ من فضلہ (النساء :54) گویا یوں ارشاد فرمایا : قولوا للنبی ﷺ حسنا نبی کریم ﷺ سے اچھی بات کہو۔ مہدوی نے قتادہ سے حکایت کیا ہے کہ وقولوا للناس حسناً کا ارشاد، آیت السیف (قتال والی آیت) سے منسوخ ہے (2) ۔ ابو نصر عبد الرحیم بن عباس سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یہ آیت ابتدا میں نازل ہوئی پھر اسے آیۃ السیف نے منسوخ کردیا۔ ابن عطیہ نے کہا : (3) یہ آیت دلیل ہے کہ ابتداء اسلام میں اس امت کو اس جیسے الفاظ سے خطاب کیا گیا۔ بنی اسرائیل کے متعلق خبر اور جو انہیں حکم دیا گیا وہ اس میں منسوخ نہیں ہے۔ واللہ اعلم مسئلہ نمبر 9: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واقیموا الصلوٰۃ واتوا الزکوٰۃ اس کے بارے میں قول گزر چکا ہے اس میں خطاب بنی اسرائیل کے لئے ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : (4) وہ لوگ اپنی زکوٰۃ کو ایک جگہ رکھتے تھے جو قبول ہوتی اس پر آگ نازل ہوتی اور جو قبول نہ ہوتی اس پر آگ نازل نہ ہوتی۔ ان کی زکوٰۃ حضرت محمد ﷺ کی امت کی زکوٰۃ جیسی نہ تھی۔ میں کہتا ہوں : یہ بات نقل کی محتاج ہے جیسا کہ یہ بات ان کے مال غنیمت میں ثابت ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : زکوٰۃ جس کا انہیں حکم دیا گیا تھا وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اخلاص تھا۔ (1) مسئلہ نمبر 10: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم تولیتم یہ حضرت محمد ﷺ کے زمانہ کے یہود کو خطاب ہے، ان کی طرف نسبت کی گئی ہے حالانکہ ان کے اسلاف نے پیٹھ پھیری تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب حق سے اعراض میں ان کے راستہ پر تھے اور ان کی مثل تھے جیسا کہ کہا جاتا ہے شنثنۃ ٌ اعرافھا من اخزم۔ یہ وہ خصلت ہے جو مجھے اخزم سے معلوم ہوئی۔ (یہ ابو اخزم الطائی کا قول ہے اس نے اپنے بیٹے اخزم کو عاق کردیا تھا تو اخزم کے بیٹوں نے اپنے دادا کو مارا تو اس نے کہا : یہ خصلت میں اخزم سے ہی جانتا ہوں) الا قلیلاً جیسے عبد اللہ بن سلام اور اس کے ساتھی۔ قلیلاً استثناء کی بنا پر منصوب ہے اور المستثنیٰ سیبویہ کے نزدیک منصوب ہوتا ہے کیونکہ وہ مفعول کے مشابہ ہوتا ہے۔ محمد بن یزید نے کہا : یہ حقیقت میں مفعول ہے معنی یہ ہے استثنیت قلیلاً میں نے چند آدمیوں کی استثنا کی۔ وانتم معرضون یہ مبتدا خبر ہیں۔ الاعراض اور تولی کا ایک معنی ہے لفظ میں دونوں کے درمیان مخالفت ہے۔ بعض نے فرمایا : تولی جسم کے ساتھ ہوتا ہے اور اعراض دل کے ساتھ ہوتا ہے۔ مہدوی نے کہا : و انتم معرضون حال ہے کیونکہ اس میں تولی، اعراض پر دلالت کر رہا ہے۔
Ayah 2:84

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں کشت و خون نہ کرنا اور اپنے کو ان کے وطن سے نہ نکالنا تو تم نے اقرار کرلیا اور تم (اس بات کے) گواہ ہو

آیت نمبر 84 اس میں دو مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اذ اخذنا میثاقکم اس پر کلام گزر چکی ہے۔ لا تسفکون دماء کم اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں اور معنی کے اعتبار سے بعد والے بھی داخل ہیں۔ لا تسفکون، اعراف میں لا تعبدون کی طرح ہے، طلحہ بن مصرف اور شعیب بن حمزہ نے فا کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ بھی ایک لغت ہے۔ ابو نہیک نے تاء کے ضمہ فاء کی تشدید اور سین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے (2) ۔ السفک کا معنی انڈیلنا، بہانا ہے پہلے گزر چکا ہے۔ ولا تخرجون یہ معطوف ہے انفسکم، النفس ماخوذ ہے النفاسۃ سے۔ انسان کا نفس، انسان کی چیز سے افضل ہے۔ انذار اس منزل کو کہتے ہیں جس میں ٹھہرنے کے لئے مکان بنے ہوئے ہوں بخلاف کوچ کرنے کی منزل کے۔ خلیل نے کہا : ہر وہ جگہ جہاں کوئی قوم اترے وہ ان کے لئے دار ہے اگرچہ وہ مکانات نہ بھی ہوں۔ بعض علماء نے فرمایا : دار کو دار اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے رہنے والوں پر چکر لگاتا ہے۔ اسی طرح الحائط کو حائط کہتے ہیں کہ وہ اسے گھیرے ہوئے ہوتی ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے۔ اقررتم یہ اقرار سے ہے۔ یعنی تم نے اس میثاق کا اقرار کیا جو تم سے اور تمہارے پہلوں سے لیا گیا تھا۔ وانتم تشھدون یہ الشھادت سے ہے یعنی اس پر تم اپنے دلوں کے گواہ ہو۔ بعض نے فرمایا : شہادت بھی حضور ہے یعنی تم خون ریزی کے وقت اور گھروں سے نکالنے کے وقت موجود تھے۔ مسئلہ نمبر 2: اگر کہا جائے کہ کیا کوئی اپنا خون بہاتا ہے اور اپنے آپ کو گھر سے نکالتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب ان کی ملت ایک تھی اور ان کا معاملہ ایک تھا اور وہ امم میں ایک شخص کی مانند تھے تو بعض کا بعض کو قتل کرنا اور بعض کا بعض کو نکالنا، اپنے آپ کو قتل کرنے اور اپنے آپ کو نکالنے سے بنایا۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد قصاص ہے یعنی کوئی کسی کو قتل کرتا تو اس سے قصاص لیا جاتا اس نے اپنا ہی خون بہایا۔ اسی طرح جو زنا کرتا اور جو مرتد ہوتا تو اس کا خون مباح ہوجاتا۔ وہ فساد برپا کرتا تو اسے جلاوطن کیا جاتا، یہ گویا اس نے اپنے آپ کو ہی اپنے گھر سے نکالا۔ یہ اسی تاویل پر ہے جس میں بہت بعد ہے اگرچہ معنی صحیح ہے۔ معاملہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے تورات میں عہد لیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو قتل نہیں کریں گے نہ ایک دوسرے کو جلا وطن کریں گے اور نہ غلام بنائیں گے۔ اسی طرح دوسری طاعات کا ان سے عہد لیا تھا۔ (1) میں کہتا ہوں : یہ سب کام ہم پر بھی حرام ہیں، یہ تمام فتنے ہم بھی واقع ہوئے ہیں۔ فانا اللہ وان الیہ راجعون۔ قرآن حکیم میں ہے : اویلبسکم شیعاً ویذیق بعضکم باس بعضٍ (انعام :65) (خلط ملط کرے تمہیں مختلف گروہوں میں اور چکھائے تم میں سے بعض کو شدت دوسروں کی) اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ ابن خویز منداد نے کہا : جائز ہے کہ اس سے مراد ظاہر ہو، کوئی انسان خوش کشی نہ کرے، اور بیوقوفی کی وجہ سے اپنے گھر سے نہ نکلے جس طرح کہ ہندو اپنے آپ کو قتل کرتے ہیں یا انسان انتہائی پریشانی اور مصیبت کے وقت خود کشی کرلیتا ہے یا صحراء میں گھومتا رہتا ہے، دین سے ناواقفی اور عقل میں کمی کی وجہ سے گھروں میں نہیں آتا۔ یہ تمام صورتوں کو حکم شامل ہے۔ روایت ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون نے دس صحابہ کی موجودگی میں بیعت کی اور سب نے یہ عزم کیا کہ وہ بوریا کا لباس پہنیں گے، صحرا میں گھومیں گے اور گھروں میں نہیں آئیں گے، گوشت نہیں کھائیں گے اور اپنی عورتوں کے پاس نہیں جائیں گے۔ نبی کریم ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ حضرت عثمان بن مظعون کے گھر آئے، اسے گھر پر نہ پایا، ان کی بیوی سے فرمایا : مجھے عثمان کے بارے میں یہ کیا بات پہنچی ہے ؟ بیوی نے اپنے خاوند کا راز افشا کرنا اور رسول اللہ ﷺ سے جھوٹ بولنا ناپسند کیا۔ اس نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ اگر آپ کو کوئی بات پہنچی ہے تو وہ اسی طرح ہے جس طرح آپ کو پہنچی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تم عثمان کو کہنا کیا میری سنت کی مخالفت کرتے ہو یا میری ملت کے علاوہ کسی ملت پر ہو۔ میں نماز بھی پڑھتا ہوں، سوتا بھی ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں، افطار بھی کرتا ہوں، عورتوں کے پاس بھی جاتا ہوں، گھروں میں بھی پناہ لیتا ہوں، گوشت بھی کھاتا ہوں جو میری سنت سے انحراف کرے گا وہ مجھ سے نہیں ہوگا۔ حضرت عثمان اور آپ کے ساتھ اپنی حالت سے واپس لوٹ آئے۔ (2)
Ayahs 2:85–86

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کردیتے ہو اور اپنے میں سے بعض لوگوں پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کر کے انہیں وطن سے نکال بھی دیتے ہو اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آئیں تو بدلا دے کر انکو چھڑا بھی لیتے ہو حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم کو حرام تھا (یہ) کیا (بات ہے کہ) تم کتاب (خدا) کے بعض احکام کو تو مانتے ہو اور بعض سے انکار کئے دیتے ہو تو جو تم میں سے ایسی حرکت کریں ان کو سزا اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ دنیا کی زندگی میں تو رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب میں ڈال دئیے جائیں ؟ اور جو کام تم کرتے ہو خدا ان سے غافل نہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی خریدی سو نہ تو ان سے عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو (اور طرح کی) مدد ملے گی

آیت نمبر 85 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم انتم ھؤلاء، انتم مبتدا ہے اس کو اعراب نہیں دیا جاتا کیونکہ یہ ضمیر ہے۔ انتم میں تا کو ضمہ دیا جاتا ہے، کیونکہ واحد مذکر مخاطب کے صیغہ میں تا مفتوح ہوتی ہے واحد مونث مخاطب میں تا مکسور ہوتی ہے۔ پس جب تو تثنیہ یا جمع کا صیغہ بنائے گا تو صرف ضمہ باقی ہے۔ ھؤلاء قتبی نے کہا : اس کی تقدیر یا ھؤلاء ہے۔ نحاس نے کہا : یہ سیبویہ کے قول کے مطابق خطاب ہے، اور ھذا اقبل جائز نہیں ہے۔ زجاج نے کہا : ھؤلاء بمعنی الذین ہے، تقتلون یہ صلہ میں داخل ہے یعنی ثم انتم الذین تقتلون۔ بعض نے فرمایا : ھؤلاء مبتدا ہے اور انتم خبر مقدم ہے اور تقتلون، ھؤلاء سے حال ہے۔ بعض نے فرمایا : اعنی کے اضمار کے ساتھ ھؤلاء منصوب ہے (1) ۔ زہری نے تقتلون پہلی تامضموم اور دوسری کو شد کے ساتھ پڑھا ہے اسی طرح فلم یقتلون انبیاء اللہ میں پڑھا ہے، یہ خطاب موجودہ لوگوں کو ہے۔ یہ ان کے اسلاف کی طرف لوٹانے کا احتمال نہیں رکھتا۔ یہ بنی قینقاع، قریظہ اور نضیر یہود کے بارے میں نازل ہوئی۔ بنو قینقاع، قریظہ کے دشمن تھے اور اوس، بنی قینقاع کے حلیف تھے۔ خزرج، بنی قریظہ کے حلیف تھے۔ نضیر (2) ، اوس اور خزرج بھائی تھے اور قریظہ اور نضیر آپس میں بھائی بھائی تھے۔ پھر وہ جدا جدا ہوگئے وہ ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے پھر جنگ ختم ہوتی تو وہ اپنے قیدیوں کا فدیہ دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس پر شرم دلائی اور فرمایا : وان یاتوکم اسری تفدوھم (3) (اگر وہ آئیں تمہارے پاس قیدی بن کر (تو بڑے پاکباز بن کر) ان کا فدیہ ادا کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تظھرون اس کا معنی تتعاونون (معاونت کرنا) ہے۔ یہ الطھر ہے مشتق ہے کیونکہ بعض، بعض کو تقویت دیتا ہے تو وہ اس کے لئے پیٹھ کی طرح ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا : تظاھرتم استاہ بیت تجمعت علی واحدٍ لازلتم قرن واحد اس شعر میں تظاھر کا معنی مدد کرنا ہے۔ الاثم اس فعل کو کہتے ہیں جس کا کرنے والا مذمت کا مستحق ہوتا ہے۔ العدوان ظلم میں زیادتی کرنا اور ظلم میں تجاوز کرنا۔ اہل مدینہ اور اہل مکہ نے تظاھرون ظا کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے وہ تا کو ظا میں ادغام کرتے ہیں ان کے قرب کی وجہ سے، اصل میں تتظاھرون تھا۔ کو فیوں نے تظاھرون تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ انہوں نے پہلی تا کی دلالت کی وجہ سے دوسری تا کو حذف کردیا اسی طرح وان تظاھرا علیہ کو پڑھا ہے۔ قتادہ نے تظھرون علیھم پڑھا ہے، یہ سب تعاون کے معنی کی طرف راجع ہیں۔ اس سے ہے وکان الکافر علی ربہ ظھیراً ۔ (الفرقان) (اور کافر اپنے رب کے مقابلہ میں (ہمیشہ شیطان کا) مددگار ہوتا ہے) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والملئکۃ بعد ذلک ظھیرٌ۔ (التحریم) (سارے فرشتے اس کے علاوہ مدد کرنے والے ہیں) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان یاتوکم اسری تفدوھم وھو محرمٌ علیکم اخراجھم۔ اس میں چھ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان یاتوکم اسری یہ شرط ہے اور اس کا جواب تفدوھم ہے اور اسری کی نصب حال کی بنا پر ہے۔ ابو عبید نے کہا : ابو عمرو کہتے تھے جو ان کے ہاتھوں میں تھا وہ اسری تھا، اور جو قیدی ہو کر آئیں وہ اسریٰ ہیں۔ اہل لغت میں یہ معروف نہیں جو ابو عمرو نے کہا ہے۔ یہ اس طرح ہے جیسے تو کہتا ہے : سکاریٰ ، سکریٰ ۔ اکثر کی قراءت اساریٰ ہے۔ حمزہ نے اسے اسریٰ فعلی کے وزن پر پڑھا ہے۔ یہ اسیر کی جمع ہے، اسیر بھی مامور ہے، فعلی، فعیل کی جمع ہے۔ جیسے تو کہتا ہے قتیل سے قتلی، جریح سے جرحیٰ ۔ ابو حاتم نے کہا اساریٰ جائز نہیں ہے۔ زجاج نے کہا : اساریٰ جیسے کہا جاتا ہے سکاریٰ ، فعلی ہی اصل ہے اور فعالی اس پر داخل ہے۔ محمد بن یزید سے حکایت ہے، فرمایا : کہا جاتا ہے : اسیرٌ، اسراء، جیسے ظریف سے ظرفاء۔ ابن فارس نے کہا : اسیر کی جمع میں اسریٰ ، اساریٰ کہا جاتا ہے دونوں طرح پڑھا گیا ہے بعض نے فرمایا : اساری (ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ) مسئلہ نمبر 2: الاسیر، یہ الاسار سے مشتق ہے اس سے مراد وہ چمڑے کی رسی ہے جس کے ساتھ محمل کو باندھا جاتا ہے، اس کو اسیر اس لئے کہتے ہیں کیونکہ اس کو باندھا جاتا ہے۔ عرب کہتے ہیں : قد اسر قتبہ، اس نے پالان کو باندھا پھر ہر پکڑی گئی چیز کو اسیر کہتے ہیں اگرچہ اسے باندھا نہ بھی گیا ہو۔ اعشی نے کہا : وقیدنی الشعر فی بیتہ کما قید الآسرات الحمارا مجھے شعر نے اس طرح قید کردیا جس طرح عورتیں پالان کی لکڑی کو قید کئے ہوئے ہوتی ہیں۔ یعنی انا فی بیتہ۔ اس سے اس کی مراد انتہا کو پہنچنا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد وشدد نا اسرھم (الدہر :28) میں اسر سے مراد خلق ہے۔ اسرۃ الرجل، آدمی کا خاندان، گروہ۔ کیونکہ وہ ان سے قوت حاصل کرتا ہے۔ مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے تفدوھم۔ نافع، حمزہ اور کسائی نے اسی طرح پڑھا ہے اور باقی قراء نے تفدوھم پڑھا ہے یہ فداء سے ہے الفداء کا معنی قیدی کا فدیہ طلب کرنا ہے۔ جوہری نے کہا : الفداء کو جب فا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا جائے تو یہ ممدود اور مقصور ہوتا ہے اور فتحہ کے ساتھ پڑھا جائے تو صرف مقصور ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے : قم فدی لک ابی۔ اور عربوں میں سے جو فا کو کسرہ دیتے ہیں اسے فداء تنوین کے ساتھ پڑھتے ہیں خصوصاً جب اس کے ساتھ لام جارہ ہو۔ پس وہ کہتے ہیں : فداء لک۔ کیونکہ یہ نکرہ ہے اس سے وہ دعا کا معنی مراد لیتے ہیں۔ اصمعی نے نابغہ کا یہ شعر پڑھا ہے : مھلاً فداءٍ لک الاقوام کلھم وما اثمر من مال ومن ولدٍ کہا جاتا ہے : فداہ وفاداہ تو کوئی عطیہ دے پھر اسے ختم کر دے۔ فداہ بنفسہ وفداہ یفدیہ جب کہا میں نے تیرا فدیہ دیا۔ تفادوا، یعنی بعض نے بعض کو فدیہ دیا۔ الفدیۃ، الفدی، الفداء تمام کا معنی ایک ہے۔ وفادیت نفسی یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب تو کوئی چیز دینے کے بعد اسے چھوڑ دے۔ یہ بمعنی فدیت ہے، اسی سے حضرت عباس کا نبی کریم ﷺ سے عرض کرنا ہے : فادیت نفسی وفادیت عقیلاً میں نے اپنا فدیہ دیا ہے اور عقیل کا فدیہ دیا ہے۔ یہ دونوں فعل دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتے ہیں، ان میں سے دوسرا حرف جر کے ساتھ ہے۔ تو کہتا ہے : فدیت نفسی بما لی وفایتہ بمالی (1) ۔ شاعر نے کہا : قفی فادی اسیرک ان قومی وقومک ما اریٰ لھم اجتماعا تو ٹھہر جا اور اپنے قیدی کا فدیہ دے دے میری اور تیری قوم میں ان کا اجتماع میں نہیں دیکھتا۔ مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وھو محرمٌ علیکم اخراجھم۔ ھو مبتدا ہے یہ اخراج سے کنایہ ہے، محرمٌ خبر ہے اور اخراجھم، ھو سے بدل ہے، اگر تو چاہے تو ھو ضمیر کو الحدیث اور القصہ سے کنایہ بنا دے اور اس کا ما بعد جملہ خبر ہو، یعنی والامر محرم علیکم اخراجھم، پس فاخراجھم دوسرا مبتدا ہوگا اور محرم اس کی خبر ہوگی اور پھر جملہ ھو کی خبر ہوگا۔ اور محرم میں جو ضمیر نائب فاعل ہے وہ الاخراج کی طرف لوٹ رہی ہے یہ بھی جائز ہے کہ محرم مبتدا ہو اور اخراجھم اس کا نائب فاعل، محرم کی خبر کے قائم مقام ہے پھر جملہ ھو کی خبر ہو۔ فراء نے کہا : ھو عماد ہے یہ بصریوں کے نزدیک خطا ہے اس کا کوئی معنی نہیں کیونکہ عماد اول کلام میں نہیں ہوتا اور ضمہ کے چقل کی وجہ سے ھاء کے سکون کے ساتھ وھو بھی پڑھا جاتا ہے۔ جس طرح شاعر نے کہا : فھو لا تنمی رمیتہ ما لہ لا عد من نفرہ اس میں فھو کو ھا کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اسی طرح اس سے پہلے لام اور ثم لائے تو بھی ھا ساکن کر دے۔ ہمارے علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ان سے چار عہد لئے تھے : قتل نہ کرنا، جلا وطن نہ کرنا، مدد نہ کرنا اور قیدیوں کا فدیہ دینا۔ انہوں نے سوائے فدیہ کے حکم کے سب سے اعراض کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں توبیخ فرمائی جو پڑھی جاتی ہے۔ فرمایا : افتومنون ببعض الکتاب (تورات) وتکفرون ببعض۔ میں کہتا ہوں : اللہ کی قسم ! ہم نے فتنوں کی وجہ سے تمام احکام کو ترک کردیا۔ اور ہم نے ایک دوسرے کی مدد کی مسلمانوں پر افسوس بلکہ کافروں پر افسوس۔ ہم نے اپنے بھائیوں کو ذلیل ورسوا چھوڑ دیا ان پر مشرکین کے احکام جاری ہیں۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ ہمارے علماء نے فرمایا : قیدیوں کا فدیہ دینا واجب ہے اگرچہ ایک درہم بھی باقی نہ ہو۔ ابن خویز منداد نے کہا : یہ آیت قیدیوں کے چھڑانے کے وجوب کو اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہے، نبی کریم ﷺ کے ارشادات بھی اس کے متعلق وارد ہیں، آپ نے قیدیوں کو چھرایا اور ان کو چھرانے کا حکم دیا (1) ، اسی پر مسلمان کا عمل جاری ہے اور اس پر اجماع منعقد ہے۔ بیت المال سے قیدیوں کو چھڑوانا واجب ہے اگر بیت المال نہ ہو تو تمام مسلمانوں پر یہ فرض ہے۔ جس نے بھی یہ فریضہ ادا کردیا باقی لوگوں سے ساقط ہوجائے گا۔ مسئلہ نمبر 5: فما جزأء من یفعل ذلک منکم الا خزیٌ فی الحیوۃ الدنیا یہ مبتدا اور خبر ہیں الخذی کا معنی رسوائی ہے۔ جوہری نے کہا : خذی یخذی خذیاً جب کوئی ذلیل ورسوا ہوجائے۔ ابن سکیت نے کہا وہ مصیبت میں واقع ہوا۔ اخذاہ اللہ اللہ تعالیٰ نے اسے رسوا کیا۔ خذی، یخذیٰ خذایۃً جب کوئی حیا کرے۔ فھو خذیان، قوم خذایا وامرء ۃٌ خذیا۔ مسئلہ نمبر 6: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یوم القیمۃ یردون عام قراء کی قراءت یردون یا کے ساتھ ہے۔ حسن نے تردون تا خطاب کے ساتھ پڑھا ہے۔ الی اشد العذاب وما اللہ بغافلٍ عما تعملون اس سے پہلے کلام گزر چکی ہے۔ اسی طرح اولئک الذین الشتروا اس پر بھی کلام ہوچکی ہے اعادہ کی ضرورت نہیں یوم کو نصب یردون کی وجہ سے ہے۔