Ayah 2:212ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” زین للذین کفروا الحیوۃ الدنیا “ میں ” الحیوۃ الدنیا “ مفعول مالم یسم فاعلہ ہونے کی بنا پر مرفوع ہے۔ اور اس سے مراد سرداران قریش ہیں (زین فعل مجہول ذکر کیا گیا ہے) مجاہد اور حمید بن قیس نے فعل کو معروف یعنی علی بناء الفاعل پڑھا ہے۔ نحاس نے کہا ہے : یہ قراءت سے شاذ ہے، کیونکہ فاعل کا پہلے ذکر موجود نہیں۔ ابن ابی عبلہ نے ” زینت “ یعنی علامت تانیث کے اظہار کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ بھی جائز ہے کیونکہ تانیث غیر حقیقی ہے۔
اور مزین کرنے والا ہی اس کا خالق اور اس کا موجد ہے اور وہی خالق الکفر بھی ہے اور اسے شیطان بھی اپنے وسوسہ اور اپنے دھوکہ کے ساتھ آراستہ کرتا ہے۔ اور یہاں خاص طور پر کافروں کا ذکر اس لئے کیا ہے کیونکہ انہوں نے تزیین (زیب و آرائش) کو مکمل طور پر قبول کرلیا ہے اور وہ دنیا کی طرف متوجہ ہوچکے ہیں اور اسی سبب سے انہوں نے آخرت سے اعراض کرلیا ہے۔ جو کچھ زمین پر ہے اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے لئے زینت بنا دیا ہے تاکہ وہ مخلوق کو آزمائے کہ ان میں سے عمل کے اعتبار سے زیادہ حسین کون ہے ؟
اور مومن وہ ہیں جو شریعت کے طریقوں پر گامزن ہیں زینت ان کے لئے باعث فتنہ نہیں۔ اور رہے کفار تو زینت ان کی مالک بن جاتی ہے کیونکہ وہ اس کے سوا کسی کو اعتقاد ہی نہیں رکھتے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس جب مال لایا گیا تو انہوں نے فرمایا : اے اللہ بلاشبہ ہم استطاعت نہیں رکھتے مگر یہ کہ ہم اس سے خوش ہوں جسے تو نے ہمارے لئے زینت بنایا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” ویسخرون من الذین امنوا “ یہ کفار قریش کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ وہ دنیوی اعتبار سے اپنی حالت کو عظیم قرار دیتے ہیں اور وہ اس پر رشک اور اظہار مسرت کرتے تھے اور حضور نبی کریم ﷺ کے غلاموں کے ساتھ تمسخر کرتے تھے۔
ابن جریج نے کہا ہے : وہ اہل ایمان کے آخرت کو طلب کرنے کے سبب ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ سبب مذاق ‘ ان کا فقر اور ان کی تنگدستی تھی (یعنی ان کے فقر وفاقہ کی وجہ سے کفار ان کا مذاق اڑاتے تھے) جب کہ حضرت بلال حضرت صہیب اور حضرت ابن مسعود رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور انہیں کی مثل دیگر جانثاران مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
پس اللہ تعالیٰ نے ان کے فعل کے قبیح اور برا ہونے کے سبب ان کے رتبہ اور درجہ کی پستی پر آگاہ کیا اور فرمایا :
(آیت) ” والذین اتقوا فوقھم یوم القیمۃ “۔
ترجمہ : یعنی وہ لوگ جنہوں نے تقوی اختیار کیا ان کی شان اور رتبہ قیامت کے دن ان سے بلند ہوگا۔ )
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : جس کسی نے کسی مومن مرد یا مومنہ عورت کو ذلیل سمجھا یا اسے اس کے فقر و افلاس اور قلت مال کی وجہ سے حقیر جانا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے مشہور کرے گا، پھر اسے رسوا کر دے گا اور جس نے کسی مومن مرد یا عورت پر بہتان لگایا یا اس کے بارے وہ کچھ کہا جو اس میں نہیں تھا، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے آگ کے ٹیلے پر کھڑا کرے گا، یہاں تک کہ وہ اس سے نکل جائے جو اس نے اس کے بارے میں کہا (یعنی بندہ مومن سے اپنے قول کی معذرت کرلے اور معافی مانگ لے) بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندہ مومن کی عظمت اور عزت واکرام مقرب فرشتے سے بھی زیادہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرنے والے مومن مرد اور توبہ کرنے والی مومنہ عورت سے زیادہ محبوب اور کوئی شے نہیں اور بلاشبہ مومن آدمی کی پہچان آسمان میں اسی طرح ہوتی ہے جس طرح ایک آدمی کی پہچان اس کے گھر والوں اور اس کی اولاد میں ہوتی ہے۔
پھر کہا گیا ہے کہ (آیت) ” والذین اتقوا فوقھم یوم القیمۃ “ کا معنی یہ ہے کہ وہ درجہ میں ان سے بلند ہوں گے۔ کیونکہ وہ جنت میں ہوں گے اور کفار جہنم میں ہوں گے۔ اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد بلند مکان ہو۔ اس اعتبار سے کہ جنت آسمان میں ہے اور جہنم اسفل السافلین میں ہے (یعنی پرہیز گار لوگ بلند مکان یعنی جنت میں ہوں گے)
اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ فضیلت اس پر ہو جو کچھ کافر ان کے بارے میں گمان کر رہے ہیں۔ (یعنی قطعا ایسا نہ ہوگا جیسا کافر گمان کرتے ہیں بلکہ ان کی شان اس سے کہیں بلند ہوگی۔ )
کیونکہ کفار تو کہتے ہیں : اگر آخرت ہوئی تو اس میں ہمارے لئے حصہ (خیر وفضل) تمہاری نسبت کہیں زیادہ ہوگا۔ اسی معنی میں حضرت خباب ؓ کی حدیث بھی ہے کہ جو واقعہ انہیں عاص بن وائل کے ساتھ پیش آیا۔ حضرت خباب ؓ فرماتے ہیں : میرا عاص بن وائل پر کچھ قرض تھا۔ میں اسکے پاس آیا تاکہ اس سے قرض کا مطالبہ کروں، تو اس نے مجھے کہا : میں تجھے ہر گز قرض ادا نہیں کروں گا یہاں تک کہ تو محمد ﷺ کے ساتھ کفر اختیار کرے۔ میں نے اسے جواب دیا : بلاشبہ میں ہر گز ان سے کفر اختیار نہ کروں گا، یہاں تک کہ تو مر جائے اور پھر تجھے اٹھایا جائے۔ تو اس نے کہا : کیا مجھے موت کے بعد (دوبارہ) اٹھایا جائے ؟ تو پھر میں تجھے قرض ادا کر دوں گا جب میں مال واولاد کی طرف لوٹ کر گیا۔ الحدیث : عنقریب یہ مکمل حدیث آئے گی۔ (1) (بخاری شریف : باب ذکر القین والحداد، حدیث نمبر 1949، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور کہا جاتا ہے : ” سخرت منہ وسخرت بہ، ضحکت منہ وضحکت بہ، وھزئت منہ وبہ “۔ یہ سب الفاظ ایک معنی میں کہے جاتے ہیں۔ اسے اخفش نے بیان کیا ہے اور اسم السخریۃ، والسخری، اور السخری ہے۔ اور ان دونوں قراتوں کے ساتھ اسے پڑھا گیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” لیتخذبعضھم بعضا سخریا “۔ (الزخرف : 32) اور (آیت) ’ فاتخذتموھم سخریا “۔ (المومنون : 110)
اور رجل ” سخرۃ “ (کا معنی ہے) وہ آدمی جس سے تمسخر کیا جاتا ہو۔ اور اگر یہی لفظ خاء کے فتحہ کے ساتھ ہو یعنی رجل سخرۃ “۔ تو مراد وہ آدمی ہے جو لوگوں سے تمسخر کرتا ہو۔ اور فلاں سخرۃ فلاں کام میں تمسخر کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے : خادمہ سخرۃ وسخرہ تسخیرا “۔ یعنی فلاں نے اسے بغیر اجرت کے کام کا مکلف اور پابند بنایا۔
ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” واللہ یرزق من یشآء بغیر حساب “۔
ضحاک نے کہا ہے : مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں بغیر کسی تاوان کے عطا فرمائے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ان کمزور لوگوں کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں بلند رتبہ عطا فرمائے گا۔ پس یہ آیت متنبہ کر رہی ہے کہ ان پر عظیم انعام ہوگا اور اللہ تعالیٰ نے انکے رزق کو بغیر حساب قرار دیا ہے اس حیثیت سے کہ وہ دائمی ہے اور لامتناہی ہے پس وہ شمار نہیں ہو سکتا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (آیت) ” بغیر حساب “ یہ اللہ تعالیٰ کے رزق کی صفت ہے۔ وہ کیسے تصرف کرتا ہے، جبکہ اس کی قدرت اتنی عظیم ہے تو وہ کسی حد و شمار کے ساتھ خرچ نہیں کرتا۔ پس اس کا سارے کا سارا افضل ہی بغیر حساب ہے اور وہ جو حساب کے ساتھ ہے وہ آدمی کے اس عمل کے مطابق ہے جو آدمی نے آگے بھیجا ہوگا (یعنی ہر عمل کی جزا تو اس کے مطابق ہوگی مگر اس کا فضل اور عطا بلاحساب ہوگی) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
(آیت) ” جزآء من ربک عطآء حسابا “۔ (النبا : 27 )
ترجمہ : یہ بدلہ ہے آپ کے رب کی طرف سے بڑا کافی انعام :
اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ جنہیں عطا کیا جاتا ہے (یعنی مرزقین) وہ انکے وہم و گمان کے بغیر ہو۔ جیسا کہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا : (آیت) ’ ویرزقہ من حیث لا یحتسب “۔ (الطلاق : 3)
ترجمہ : اور اسے (وہاں سے) رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا)
Ayah 2:213ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” کان الناس امۃ واحدۃ “ کا معنی ہے سب لوگ ایک دین پر تھے۔
حضرت ابی بن کعب اور ابن زید نے کہا ہے کہ ” الناس “ سے مراد بنی آدم (اولاد آدم) ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں روحوں کی صورت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا۔
حضرت مجاہد نے کہا ہے : ” الناس “ سے مراد صرف حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں، (پھر اس پر یہ سوال ہوتا ہے) کہ واحد کو لفظ جمع کا نام کیوں دیا گیا ہے ؟ (تو جواب یہ ہے کہ اس لئے) کیونکہ آپ ہی ساری نسل کی اصل اور بنیاد ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” الناس “ سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت مائی حوا (علیہ السلام) ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت قتادہ ؓ نے بیان کیا ہے کہ ” الناس “ سے مراد اس زمانے کے لوگ ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان تھا اور یہ دس صدیاں ہیں۔ (ان میں) وہ لوگ حق پر تھے یہاں تک کہ ان میں اختلاف ہوگیا، تب اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور انکے بعد والوں کو مبعوث فرمایا (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 285)
اور ابن ابی خیثمہ نے کہا ہے : جب سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تخلیق فرمایا اس وقت سے لے کر حضور نبی رحمت ﷺ کی بعثت تک پانچ ہزار آٹھ سو سال کا عرصہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے زیادہ ہے اور حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے مابین بارہ سو برس کی مدت ہے اور حضرت آدم (علیہ السلام) نوسوساٹھ برس تک زندہ رہے اور آپ کے زمانے میں لوگ ایک ہی دین پر تھے، وہ دین کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے اور ملائکہ ان کے ساتھ مصافحہ کرتے تھے اور وہ اسی حال پر رہے یہاں تک کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) (آسمانوں پر) اٹھالئے گئے۔ پھر ان میں اختلاف پڑگیا۔ یہ بات محل نظر ہے۔ کیونکہ صحیح روایت کے مطابق حضرت ادریس (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد ہوئے ہیں۔ کلبی اور واقدی وغیرہ ایک جماعت نے کہا ہے کہ اس سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی کشتی میں سوار ہونے والے لوگ ہیں، وہ مسلمان تھے پھر حضرت نوح (علیہ السلام) کے وصال کے بعد ان میں اختلاف ہوگیا۔
اور حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کفر پر ایک امت تھے اور اس سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کا وہ زمانہ ہے جس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا۔
اور آپ ہی سے یہ قول بھی مروی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں تمام لوگ ایک امت تھے اور وہ تمام کے تمام کافر تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت دور جاہلیت میں ہوئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) مبعوث فرمائے۔
پس ان اقوال کی بنا پر ” کان “ اپنے باب پر ہے یعنی زمانہ ماضی کے لئے جو کہ گزر چکا ہے اور وہ تمام جنہوں نے آیت میں ” الناس “ سے مراد مومنین لئے ہیں، انہوں نے کلام میں فاختلفوا فبعث “ مقدر مانا ہے۔ اور اس حذف پر دلیل یہ بیان کی ہے : (آیت) ” وما اختلف فیہ الا الذین اوتوہ “۔ یعنی تمام لوگ دین حق پر تھے، پھر ان میں اختلاف ہونے لگا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات مبعوث فرمائے، جو انہیں بشارت دینے والے ہیں جنہوں نے اطاعت وفرمانبرداری کی اور انہیں ڈرانے والے ہیں جنہوں نے نافرمانی کی۔ اور جنہوں نے ” الناس “ سے مراد کفار لئے ہیں، تو پھر انہوں نے طرف انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت ہوئی۔
اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ ” کان “ ثبوت کے لئے ہو (یعنی تامہ ہو) اور مراد ان لوگوں کے بارے میں خبر دینا ہو جو تمام کے تمام ایک جنس ہیں کہ وہ شرائع سے خالی ہونے میں اور حقائق سے جاہل اور ناواقف ہونے میں ایک امت ہوتے اگر اللہ تعالیٰ ان پر احسان نہ فرماتا اور ان کی طرف اپنے رسول بھیج کر ان پر مہربانی نہ فرماتا۔ پس اس تاویل پر ” کان “ صرف ماضی کے ساتھ خاص نہیں۔ بلکہ اس کا معنی وہی ہے جو اس ارشاد میں ہے۔ (آیت) ” وکان اللہ غفورا رحیما “۔ (النسائ : 90) اور ” امۃ “ کا لفظ ان (عربوں) کے اس قول سے ماخوذ ہے : اممت کذا یعنی میں قصد کیا۔ پس ” امۃ واحدۃ “ کا معنی یہ ہوا کہ ان کا مقصد ایک تھا۔ اور واحد کے لئے امۃ بولا جاتا ہے۔ یعنی مقصدہ غیر مقصد الناس “ اس کا مقصد لوگوں کے مقصد کے سوا ہے۔ اسی کے مطابق حضور نبی مکرم ﷺ کا حضرت قس بن ساعدہ کے بارے میں ارشاد گرامی بھی ہے ” یحشر یوم القیامۃ امۃ واحدۃ “۔ (قیامت کے دن اسے ایک امت (مقصد) پر اٹھایا جائے گا اسی طرح زید بن عمرو بن نفیل کے بارے میں فرمایا ” والامۃ القامۃ “۔ (سیدھا اور صحیح مقصد) گویا کہ تمام بدن کا مقصد یہی ہے۔
اور الامۃ اگر کسرہ کے ساتھ ہو، تو اس کا معنی نعمت ہے کیونکہ لوگ اسی (نعمت) کا ہی قصد کرتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی امام ہے کیونکہ لوگ اسی کو کرنے کا قصد کرتے ہیں جو وہ کرتا ہے۔ نحاس سے روایت ہے کہ حضرت ابی بن کعب ؓ نے کان البشر امۃ واحدۃ پڑھا ہے اور حضرت ابن مسعود ؓ نے کان الناس امۃ واحدۃ فاختلفوا فبعث قرات کی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” فبعث اللہ النبین “۔ حضرات انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات کی مجموعی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے، اور ان میں سے تین سو تیرہ رسول ہیں اور قرآن کریم میں جن کے اسمائے گرامی مذکور ہیں وہ اٹھارہ ہیں۔ اور سب سے پہلے رسول حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ اسی طرح حضرت ابو ذر ؓ کی حدیث میں مذکور ہے، اسے آجری اور ابو حاتم البستی نے روایت کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حدیث شفاعت کے مطابق اول الرسل حضرت نوح (علیہ السلام) ہیں۔ کیونکہ لوگ انہیں کہیں گے ” انت اول الرسل “ آپ پہلے رسول ہیں۔ (1) (بخاری شریف : باب قول اللہ عزوجل (آیت) ” ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ “۔ حدیث نمبر 3092 ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (بخاری شریف : باب : قول اللہ تعالیٰ وعلم ادم الاسماء کلھا حدیث نمبر : 4116 ضیاء القرآن پبلی کیشنز) بعض نے کہا ہے کہ پہلے رسول حضرت ادریس (علیہ السلام) ہیں۔ اس کا بیان سورة اعراف میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ :
ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” مبشرین ومنذرین “ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہیں اور (آیت) ” وانزل معھم الکتب “ میں کتاب سے مراد اسم جنس بمعنی کتب ہے۔
علامہ طبری نے کہا ہے : ” الکتب “ پر الف لام عہد کے لئے ہے اور اس مراد تورات ہے۔ اور ” لیحکم “ جمہور کے قول کے مطابق ” الکتب “ کی طرف مسند ہے، اور یہ ان مضمرہ کے ساتھ منصوب ہے یعنی ” لان یحکم “ یہ نسبت مجازی ہے، جیسا کہ اس ارشاد میں ہے۔
(آیت) ” ھذا کتبنا ینطق علیکم بالحق “۔ (الجاثیہ : 29)
ترجمہ : یہ ہمارا نوشتہ ہے جو بولتا ہے تمہارے بارے میں سچ)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے تاکہ ہر نبی اس کی کتاب کے مطابق فیصلے کرے۔ اور جب اس نے کتاب کے مطابق فیصلہ کیا تو گویا کتاب نے ہی فیصلہ کیا۔
عاصم جحدری کی قرات میں ”(آیت) ” لیحکم بین الناس “ ہے یعنی فعل مجہول پڑھا گیا ہے۔ اور یہ قرات شاذ ہے، کیونکہ کتاب کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔
اور یہ قول بھی ہے کہ اس کا معنی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے۔ اور پہلے فیہ کی ضمیر فیما میں ما کی طرف لوٹ رہی ہے اور دوسرے فیہ کی ضمیر الکتاب کی طرف لوٹنے کا احتمال رکھتی ہے۔ یعنی کتاب میں اختلاف نہیں کیا مگر انہیں لوگوں نے جنہیں وہ عطا کی گئی تھی۔ (آیت) ” الذین “ فعل کے سبب محل رفع میں ہے۔ اور (آیت) ” اوتوہ “ بمعنی اعطوہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ضمیر منزل علیہ کی طرف لوٹتی ہے اور وہ حضور نبی کریم ﷺ ہیں۔ یہ قول زجاج کا ہے، یعنی نبی (علیہ السلام) کے بارے میں کسی نے اختلاف نہیں کیا بجز ان لوگوں کے جنہیں اس کے بارے میں علم عطا فرمایا گیا۔
(آیت) ” بغیا بینھم “ یہ مفعول لہ ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ یعنی ھم یختلفوا الا للبغی “ انہوں نے اختلاف نہیں کیا مگر باہمی حسد کے سبب۔ اس کا معنی ومفہوم پہلے بیان ہوچکا ہے اور اس میں ان کے فعل کی سفاہت اور اس قباحت پر تنبیہ ہے جس میں وہ واقع ہوئے۔
اور ھدی کا معنی ارشد راہنمائی کرنا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت کی حق کی طرف راہنمائی فرمادی، اس طرح کہ ان کے لئے وہ کچھ بیان کردیا جس میں ان سے پہلے لوگ نے اختلاف کیا تھا۔
اور ایک گروہ نے کہا ہے : آیت کا معنی یہ ہے کہ سابقہ امتوں میں سے بعض نے بعض کی کتابوں کی تکذیب کی، تو اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کی امت کی ان تمام کی تصدیق کے لئے راہنمائی فرما دی۔
اور ایک گروہ نے کہا ہے : بیشک اللہ تعالیٰ نے مومنین کی حق کی طرف راہنمائی فرمائی ان امور میں جن میں اہل کتابین (یہود و نصاری) نے اختلاف کیا۔ ان کے قول میں سے ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یا یہودی تھے یا عیسائی۔ (یعنی یہودیوں نے کہا : وہ یہودی تھے اور عیسائیوں نے کہا : وہ عیسائی تھے)
ابن زید اور زید بن اسلم نے کہا ہے : ان کا قبلہ کے بارے میں اختلاف ہے۔ کیونکہ یہودیوں نے بیت المقدس کی طرف اور نصاری نے مشرق کی طرف (منہ کیا) اور یوم جمعہ کے بارے میں ان کا اختلاف ہوا۔ کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” یہ وہ دن ہے جس میں انہوں نے اختلاف کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں ہماری رہنمائی فرما دی، پس یہودیوں کے لئے ہفتے کا دن ہے اور عیسائیوں کے لئے اتوار کا (1) (بخاری شریف : باب : فرض الجمعۃ حدیث نمبر : 827، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور ان کے روزوں کے بارے میں جو اختلاف ہے۔ المختصر وہ تمام امور جن میں انہوں نے اختلاف کیا (ان میں اللہ تعالیٰ نے ہماری راہنمائی فرما دی)
ابن زید نے کہا ہے : انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کیا۔ پس یہودیوں نے انہیں فریہ (حیرت انگیز شخصیت) قرار دیا اور عیسائیوں نے انہیں رب بنا لیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے مومنین کی راہنمائی فرمائی تو انہوں نے انہیں اللہ تعالیٰ کا بندہ قرار دیا۔
فراء نے کہا ہے : اس عبارت میں قلب کیا گیا ہے۔ علامہ طبری نے اسے پسند کیا ہے۔ انہوں نے کہا : تقدیر عبارت یہ ہے ”
(آیت) ” فھدی اللہ الذین امنوا للحق لما اختلفوا فیہ “۔
ترجمہ : پس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی حق کی طرف راہنمائی فرمائی جس میں وہ اختلاف کرتے تھے)
ابن عطیہ نے کہا ہے : اس تقدیر عبارت کی طرف انہیں اس خوف نے دعوت دی ہے کہ لفظ یہ احتمال رکھتا ہے کہ انہوں نے حق کے بارے اختلاف کیا اور اسی (خوف) نے فراء کو ” فی نفسہ غیر حق “ (کے مفہوم) کے قریب کردیا۔ علامہ طبری نے بھی فراء سے اسے بیان کرنے میں اسی کا قصد کیا ہے۔ اور رہا کتاب اللہ کے لفظ پر بغیر ضرورت کے قلب کا دعوی کرنا، تو اس کی طرف دھکیلنے والی شے عجز اور کوتاہ نظری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کلام اپنی ذات اور وصف پر دلالت کر رہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” فھدی “ تقاضا کرتا ہے کہ بلاشبہ وہ حق تک پہنچ گئے اور ” فیہ کے کلمہ میں معنی مکمل ہوگیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے قول ” من الحق “ ‘ سے اس جنس کی وضاحت کی ہے جس میں اختلاف واقع ہوا۔
مہدوی نے کہا ہے : لفظ اختلاف کو اہتماما لفظ حق پر مقدم ذکر کیا گیا ہے جبکہ مقصود صرف اختلاف کا ذکر کرنا ہے۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : میرے نزدیک یہ قوی نہیں ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرات میں ہے ” لما اختلفوا عنہ من الحق، ای عن الاسلام “۔ یعنی اسلام سے اختلاف کیا۔ اور ” باذنہ “ کے بارے میں زجاج نے کہا ہے : اس کا معنی ہے بعلمہ “۔ یعنی اس کے علم کے ساتھ۔
نحاس نے کہا ہے : یہ غلط ہے۔ اور اس کا معنی ہے بامرہ یعنی اس کے حکم کے ساتھ۔ اور جب تو نے کسی شے کے بارے میں اجازت دی (تو اس کا مفہوم ہے) تحقیق تو انے اس کے بارے حکم دے دیا۔
پس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی راہنمائی فرمائی کہ انہیں ایسی چیزوں کے بارے میں حکم فرمایا جن کے مطابق ان کے لئے عمل کرنا واجب ہے۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ۔ (آیت) ” واللہ یھدی من یشآالی صراط مستقیم “۔ (214) میں معتزلہ کے اس قول کا رد ہے کہ بندہ اپنی ذات کی ہدایت و راہنمائی کا اہتمام خود کرتا ہے (یعنی یہ بندے کے اپنے اختیار میں ہے)
Ayah 2:214ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ “۔ میں حسبتم “ بمعنی ظننتم “ (تم نے گمان کیا) ہے۔ حضرت قتادہ، سدی اور اکثر مفسرین نے کہا : یہ آیت غزوہ خندق کے دوران نازل ہوئی جب کہ مسلمانوں کو مشقت، شدت، گرمی، سردی، تلخ اور تکلیف دہ زندگی اور طرح طرح کی تکالیف اور مصائب آپہنچے اور ان کی کیفیت یہ ہوگئی جیسا کہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا
(آیت) ” وبلغت القلوب الحناجر “۔ (الاحزاب : 10)
ترجمہ : اور کلیجے منہ کو آنے لگے :
اور بعض نے کہا ہے : یہ آیت جنگ احد کے دوران نازل ہوئی۔ اس کی مثل آل عمران میں بھی ہے۔
(آیت) ” ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یعلم اللہ الذین لجھدوا منکم “۔ (آل عمران : 142)
ترجمہ : کیا تم گمان رکھتے ہو کہ (یونہی) داخل ہوجاؤ گے جنت میں حالانکہ ابھی دیکھا ہی نہیں اللہ نے ان لوگوں کو جنہوں نے جہاد کیا تم میں سے :
اور ایک جماعت نے کہا ہے : یہ آیت مہاجرین کو تسلی اور حوصلہ دینے کے لئے نازل ہوئی جبکہ انہوں نے اپنے گھر اور اپنے اموال مشرکین کے ہاتھوں چھوڑ دیئے اور اللہ تعالیٰ اور رسول معظم ﷺ کی رضا اور خوشنودی کو انہوں نے ترجیح دی اور یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عداوت کا اظہار کیا اور اغنیاء اور مالدار لوگوں میں سے بعض نے اپنے باطن میں نفاق پیدا کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پاک کرنے کے لئے یہ آیت نازل فرمائی۔
اس آیت میں ام منقطعہ بمعنی بل ہے۔ اور بعض اہل لغت نے بیان کیا ہے کہ کبھی ام الف استفہام کے بدلے بھی آتا ہے تاکہ اس سے کلام کی ابتدا کی جائے اور ” حسبتم “ دو مفعولوں کو چاہتا ہے، لہذا علمائے نحو نے کہا ہے : (آیت) ” ان تدخلوا “ قائم مقام دو مفعولوں کے لئے ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مفعول ثانی محذوف ہے : یعنی ” احسبتم دخولکم الجنۃ واقعا “۔ اور ” لما “ بمعنی لم ہے اور ” مثل “ بمعنی شبہ ہے۔ یعنی اس طرح کے امتحان میں تمہیں نہیں ڈالا گیا جس طرح انہیں آزمایا گیا جو تم سے پہلے تھے۔ پس تم صبر کرو جیسا کہ انہوں نے صبر کیا۔
نضر بن شمیل نے بیان کیا ہے کہ ” مثل “ بمعنی صفۃ ہوتا ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ معنی اس طرح ہو : اور ابھی تک تمہیں اس طرح کی مصیبت اور شدت نہیں پہنچی، جس طرح کی آزمائش ان لوگوں پر آئی جو تم سے پہلے تھے۔
وہب نے کہا ہے : مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان ستر انبیاء (علیہم السلام) مردہ حالت میں پائے گئے اور ان کی موت کا سبب بھوک اور چچڑیاں تھیں۔ اسی آیت کی مثل یہ بھی ہے :
(آیت) ” الم (1) احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وھم لا یفتنون (2) ولقد فتنا الذین من قبلھم “۔ (العنکبوت)
ترجمہ : الف۔ لام۔ میم۔ کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ انہوں نے صرف اتنی بات پر چھوڑ دیا جائے گا کہ وہ کہیں ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا۔ اور بیشک ہم نے آزمایا تھا ان لوگوں کو جو ان سے پہلے گزرے۔
پس اللہ تعالیٰ نے انہیں صبر کی دعوت دی اور اس پر ان سے نصرت و مدد کا وعدہ فرمایا اور ارشاد فرمایا : (آیت) ” الا ان نصر اللہ قریب “۔ اور الزلزلۃ سے مراد سخت حرکت دینا ہے۔ یہ اشخاص میں بھی ہوتی ہے اور احوال میں بھی۔ کہا جاتا ہے : زلزل اللہ الارض زلزلۃ وزلزالا “ یعنی بالکسر۔ فتزلزلت۔ جب وہ حرکت کرے اور کا نپنے لگے اور ” زلزلوا “ کا معنی ہے وہ خوفزدہ کیے گئے اور حرکت دے گئے۔ اور الزلزال۔ فتحہ کے ساتھ اسم ہے۔ اور ” الزلزل “ کا معنی شدائد اور سختیاں ہیں۔
زجاج نے کہا ہے : زلزلہ کا اصل معنی کسی چیز کا اپنی جگہ سے پھسل جانا، ہٹ جانا ہے اور جب تو کہے زلزلتہ تو اس کا معنی ہے : تو نے بار بار اپنی جگہ سے ہٹایا اور پھسلایا۔
اور سیبویہ کا مذہب یہ ہے کہ زلزل دحرج کی طرح فعل رباعی ہے۔
نافع نے ” حتی یقول “ رفع کے ساتھ، جبکہ دوسروں نے اسے نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔
اور سیبویہ کا مذہب یہ ہے کہ حتی کے مابعد کلمہ پر دو اعتبار سے فتحہ اور دو اعتبار سے رفع آسکتا ہے۔ مثلا تو کہتا ہے : سرت حتی ادخل المدینۃ “ یہ منصوب ہے۔ اس شرط پر کہ سیر اور دخول دونوں اکٹھے ایک ساتھ گزر چکے ہوں۔ یعنی میں اس میں داخل ہونے تک چلتا رہا۔ ای سرت الی ان ادخلھا اور یہ غایت ہے اور اسی کے مطابق ان کی قرات ہے جنہوں نے منصوب پڑھا ہے۔
اور آیت کے سوا میں نصب کی دوسری وجہ یہ ہے ” سرت حتی ادخلھا “ ای کی ادخلھا (یعنی میں چلا تاکہ میں اس میں داخل ہوجاؤں)
اور رفع کی بھی دو وجہیں ہیں سرت حتی ادخلھا، ای سرت فادخلھا یعنی میں چلا اور اس میں داخل ہوگیا۔ تحقیق یہ دونوں سیر اور دخول اکٹھے گزر چکے ہیں۔ ” ای کنت سرت فدخلت “۔ اور یہاں (آیت میں) ” حتی “ ان مضمرہ کے ساتھ عمل نہیں کرتا، کیونکہ اس کے بعد جملہ ہے۔ جیسا کہ فرزدق نے کہا ہے : ” فیاعجبا حتی کلیب تسبنی ‘ (پس کتنی تعجب کی بات ہے کہ بنی کلیب مجھے گالیاں دیتے ہیں)
نحاس نے کہا ہے : اس بنا پر رفع کی قرات زیادہ واضح اور معنی کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے۔ ای وزلزلوا حتی الرسول یقول “ اور وہ لرز اٹھے یہاں تک کہ (اس زمانہ کا) رسول کہہ اٹھا۔ یعنی یہاں تک کہ یہ اس کا حال تھا۔ کیونکہ قول زلزلہ سے منقطع نہیں ہوا اور نصب معنی غایت کی بنا پر ہے اور اس میں وہ معنی نہیں ہے۔
مقاتل کے قول کے مطابق یہاں رسول سے مراد شعیا ہیں۔ اور وہی حضرت یسع (علیہ السلام) ہیں۔
اور کلبی نے کہا ہے : یہ ہر رسول کے بارے میں ہے جسے اپنی امت کی طرف مبعوث کیا گیا اور اس نے خوب محنت اور مشقت اٹھائی، یہاں تک کہ وہ کہہ اٹھا : اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت کب آئے گی ؟ اور ضحاک سے مروی ہے انہوں نے کہا : مراد حضور نبی کریم محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں اور اسی پر آیت کا نزول دلالت کرتا ہے۔ واللہ اعلم۔
اور آیت کے سوا میں رفع کی دوسری صورت یہ ہے ” سرت حتی ادخلھا “ یہ اس بنا پر ہے کہ چلنا ماضی میں ہو اور دخول اب (یعنی زمانہ حال میں) ہو۔
اور سیبویہ نے بیان کیا ہے : ” مرض حتی لایرجونہ، ای ھو الآن لایرجی۔ یعنی وہ بیمار ہوا اور اب اس کے بارے میں کوئی امید نہیں ہے۔ اور اسی کی مثل یہ بھی ہے ” سرت حتی ادخلھا لا امنع “ یعنی میں چلا اور اب میں داخل ہوں گا، اس سے باز نہ رہوں گا۔
مجاہد، اعرج، ابن محیصن اور شیبہ نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور حسن، ابو جعفر، ابن ابی اسحاق اور شبل وغیرہ نے نصب کے ساتھ قرات کی ہے۔
مکی نے کہا ہے : یہی پسندیدہ ہے کیونکہ قراء کی ایک جماعت اسی نظریہ پر ہے۔
اور اعمش نے ” وزلزلوا ویقول الرسول “ حتی کی بجائے واؤ کے ساتھ پڑھا ہے۔
اور حضرت ابن مسعود ؓ کے مصحف میں ہے ” وزلزلوا ثم زلزلوا ویقول “۔
اور تاویل کرنے والوں میں سے اکثر نے کہا ہے کہ آیت کے آخر تک کلام رسول اور مومنین کے قول میں سے ہے۔ یعنی انہیں مشقت پہنچی یہاں تک کہ وہ مدد ونصرت کو موخر اور دور سمجھنے لگے، تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” الا ان نصر اللہ قریب “۔ اور وہ رسول کے قول میں سے ہو سکتا ہے۔ اس بنا پر کہ انہوں نے مدد ونصرت کے جلدی آنے کا مطالبہ کیا، نہ کہ کسی شک اور ارتیاب کی بنا پر اور الرسول اسم جنس ہے
اور ایک گروہ کا کہنا ہے : کلام میں تقدیم وتاخیر ہے، اور تقدیر کلام یہ ہے :
(آیت) ” حتی یقول الذین امنوا متی نصر اللہ “۔
ترجمہ : یعنی یہاں تک کہ ایمان کہنے لگے اللہ تعالیٰ کی مدد کب آئے گی ؟ ) تو اللہ کا رسول کہتا ہے (آیت) ” الا ان نصر اللہ قریب “۔ پس رسول (علیہ السلام) کو رتبہ میں بلندی اور حیثیت کی بنا پر مقدم ذکر کیا گیا ہے اور پھر مومنین کے قول کو مقدم لایا گیا ہے ‘ کیونکہ وہ زمانے کے اعتبار سے متقدم ہیں۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ تو تحکم ہے۔ اور کلام کو اپنے ظاہر پر محمول کرنا متعذر نہیں ہے۔ اور یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ (آیت) ” الا ان نصر اللہ قریب “۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اخبار ہو اور یہ قول کے ذکر کے مکمل ہونے کے بعد بطور استیناف ہو۔
ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” متی نصر اللہ “۔ سیبویہ کے قول کے مطابق نصر اللہ مبتدا ہونے کی بنا پر مرفوع ہے۔ اور ابو العباس کے قول کے مطابق یہ فعل کے سبب مرفوع ہے۔ یعنی حتی یقع نصر اللہ۔ اور ” قریب “ ان کی خبر ہو۔
نحاس نے کہا ہے : غیر قرآن میں قریبا پڑھنا بھی جائز ہے یعنی ” مکانا قریبا “ اور قریب کا عرب نہ تثنیہ لاتے ہیں، نہ جمع اور نہ ہی اس معنی میں مونث۔
ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” ان رحمت اللہ قریب من المحسنین “۔ (الاعراف : 50) اور شاعر نے کہا :
لہ الویل ان امسی ولا ام ہاشم قریب ولا بسہاسۃ بنۃ یشکرا ‘۔
شعر میں تثنیہ مونث کے لئے قریب لایا گیا ہے۔
اور اگر تو کہے : فلان قریب لی فلاں میرے قریب ہے، تو اس کی تثنیہ اور جمع بنانا چاہے تو پھر تو کہے گا : قریہوں و اقرباء
Ayah 2:215ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” یسئلونک اس آیت کریمہ میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) اس میں اگر ہمزہ کو مخفف کردیا جائے تو اس کی حرکت سین کو دے کر اسے مفتوح پڑھا جائے اور ہمزہ کو حذف کردیا جائے تو تو اسے پڑھے گا : (آیت) ” یسلؤنک “
یہ آیت حضرت عمرو بن جموح ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ آپ شیخ کبیر (بہت زیادہ بوڑھے) تھے۔ تو عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ بلاشبہ میرا مال کثیر اور بہت زیادہ ہے، تو میں اسے کیونکر صدقہ کروں اور کس پر خرچ کروں ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” یسئلونک ماذا ینفقون ‘ (1) (اسباب النزول للواحدی، صفحہ 60)
مسئلہ نمبر : (2) ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” ماذا ینفقون “ میں مامبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔ اور ذا خبر ہے اور یہ بمعنی الذی ہے۔ اور اسم کی طوالت کے سبب اس سے ھا کو حذف کردیا گیا ہے۔ یعنی اصل عبارت اس طرح ہے : ما الذی ینفقونہ اور اگر تو چاہے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ (آیت) ” ماینفقون “ کے سبب محل نصب میں ہو۔ اور ذا، ما کے ساتھ مل کر ایک شے کے قائم مقام ہو۔ تو (اس صورت میں) ضمیر کی ضرورت نہ ہوگی۔ اور جب یہ اسم مرکب ہے تو پھر یہ محل نصب میں ہوگا۔ بخلاف شاعر کے اس قول کے :
وما ذا عسی الراشون ان یتحدثوا سوی ان یقولوا اننی لک عاشق۔
(چغلی کھانے والوں کے پاس بات کرنے کے لئے اس کے سوا کیا ہے کہ وہ کہیں : میں تیرا عاشق ہوں)
کیونکہ عسی اس میں عمل نہیں کر رہا۔ پس ماذا مرکب کلمہ ہے اور محل رفع میں ہے، کیونکہ ذا کا کوئی صلہ نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) کہا گیا ہے کہ اس میں سوال کرنے والے مومنین ہیں۔ اور معنی یہ ہے : ” وہ آپ سے پوچھتے ہیں کونسی وہ وجوہ (اور اسباب) ہیں جن میں وہ مال خرچ کرسکتے ہیں اور جو مال خرچ کرنا لازم ہو وہ اسے کہاں رکھیں ؟
ابن عطیہ نے کہا ہے : مہدوی کو سدی کے بارے میں اس مسئلہ میں وہم ہوا ہے، لہذا ان کی طرف یہ قول منسوب کردیا کہ انہوں نے کہا : یہ آیت فرض زکوۃ کے بارے میں ہے اس سے والدین کا حکم منسوخ ہوگیا۔
ابن جریج وغیرہ نے کہا ہے : یہ آیت مستحب صدقہ کے بارے میں ہے اور زکوۃ اس انفاق کے سوا ہے۔
پس اس قول کی بنا پر اس میں کوئی نسخ نہیں ہے اور یہ نفلی صدقہ کے مصارف کو بیان کر رہی ہے۔ پس خوشحال اور غنی آدمی پر واجب ہے کہ وہ اپنے محتاج اور فقیر والدین پر اتنا مال خرچ کرے جو ان دونوں کی ان کی حالت کے مطابق اصلاح کرسکے (اور ان کے لئے نفع بخش ثابت ہو) مثلا کھانا، لباس اور دیگر ضروریات حیات۔
حضرت امام مالک نے کہا ہے : بیٹے پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اپنے باپ کی شادی کرائے۔ البتہ یہ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے باپ کی بیوی کو خرچہ مہیا کرے چاہے وہ اس کی اپنی ماں ہو یا اجنبی عورت ہو۔
امام مالک (رح) نے کہا ہے : اس پر اپنے باپ کی شادی کرانا لازم نہیں کیونکہ آپ کے پیش نظر یہ ہے کہ وہ (باپ) اغلبا شادی سے مستغنی ہوتا ہے۔ ہاں اگر اسے اس کی شدید حاجت ہو تو پھر اس کی شادی کرانا بھی اس پر واجب ہے۔ اگر اس طرح نہ ہوتا تو پھر اس پر یہ واجب نہ کیا جاتا کہ وہ دونوں (یعنی باپ اور اس کی بیوی) پر خرچ کرے۔ اور عبادات میں سے وہ جو اموال سے تعلق رکھتی ہیں تو (بیٹے پر) لازم نہیں ہے کہ وہ اسے اتنا مال دے جس کے ساتھ وہ حج کرسکتا ہو ‘ یا جہاد پر جاسکتا ہو۔ البتہ اس پر یہ لازم ہے کہ وہ باپ کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے، کیونکہ صدقہ فطر نفقہ اور اسلام کی شرط کے ساتھ ضروری ہے۔
مسئلہ نمبر : (4) ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” قل ماانفقتم “۔ اس میں ” انفقتم “ کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ اور اسی طرح وما ینفقوا میں بھی ہے۔ اور یہ شرط ہے اور جواب شرط (آیت) ” فللوالدین “ ہے۔ اسی طرح ” وما تفعلوا من خیر “ شرط ہے اور اس کا جواب (آیت) ” فان اللہ بہ علیم (215) ہے۔ یتیم، مسکین اور ابن سبیل کے بارے میں گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ اور اسی آیت کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہے : (آیت) ” فات ذا القربی حقہ والمسکین وابن السبیل “۔ (الروم : 38)
حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے ” یفعلوا “ یاء کے ساتھ صیغہ غائب کی صورت میں پڑھا ہے۔ آیت کا ظاہر کا خبر ہے حالانکہ یہ جزا کے وعدہ کو متضمن ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 279)
Ayah 2:216مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” کتب “ اس کا معنی ہے :” فرض کیا گیا ہے۔ “ اس کیا گیا ہے۔ “ اس کی مثل پہلے گزر چکا ہے۔ ایک قوم نے اس کی قرات ” کتب علیکم القتل “ کی ہے۔ اور شاعر نے کہا ہے :
کتب القتل والقتال علینا وعلی الغائیات جر الذیول۔
ہمارے اوپر جنگ و قتال فرض کیا گیا ہے اور حسن و جمال والیوں پر (فقط کپڑوں کے) دامنوں کو کھینچنا۔
یہ جہاد کی فرضیت کا ذکر ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بیان فرمایا ہے : یہ وہی ہے جس کے ساتھ انہیں آزمایا گیا ہے اور اسے جنت تک پہنچنے کا وسیلہ اور ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اس میں قتال سے مراد کفار دشمنوں کے ساتھ لڑنا اور جنگ کرنا ہے اور یہ وہ چیز ہے جس کا علم انہیں قرائن احوال سے ہوا ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ جتنی مدت مکہ مکرمہ میں قیام پذیر رہے۔ آپ ﷺ کو جہاد کی اجازت نہ دی گئی اور جب آپ ہجرت فرما ہوئے تو پھر آپ کو اجازت فرما دی گئی کہ مشرکین میں سے جو کوئی آپ کے خلاف جنگ کرے۔ آپ اس کے ساتھ مقابلہ کریں اور جنگ لڑیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
(آیت) ” اذن للذین یقتلون بانھم ظلموا “ (الحج : 39)
ترجمہ : اذن دے دیا گیا ہے (جہاد کا) ان (مظلوموں) کو جن سے جنگ کی جاتی ہے اس بنا پر کہ ان پر ظلم کیا گیا)
پھر آپ کو عام مشرکین کے ساتھ جنگ لڑنے کی اجازت عطا فرما دی گئی۔ (1) (تفسیر رازی، زیر آیت ہذہ) اور علماء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ اس آیت میں مراد کون ہیں۔
تو ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس میں مراد صرف حضور نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام ہیں، پس ان پر حضور نبی مکرم ﷺ کی معیت میں جنگ فرض عین تھا۔ پھر جب شریعت مضبوط ہوگئی اور قرار پکڑ گئی تو جہاد فرض کفایہ ہوگیا۔ حضرت عطاء اور امام اوزاعی نے یہی کہا ہے۔
ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ میں نے حضرت عطا کو کہا : کیا اس آیت کے مطابق لوگوں پر جہاد کرنا واجب (فرض عین) ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : نہیں، بلاشبہ یہ ان (صحابہ کرام) پر فرض کیا گیا تھا۔ اور امت میں سے جمہور نے کہا ہے کہ جہاد کی پہلی فرضیت ہی فرض کفایہ تھی نہ کہ فرض عین، مگر یہ کہ حضور نبی مکرم ﷺ جب انہیں جہاد کے لئے نکلنے کی دعوت دیتے تھے تو ان پر اس کے لئے نکلنا لازم ہوجاتا، کیونکہ آپ ﷺ کی اطاعت وپیروی واجب (فرض عین) ہے۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : جس پر مسلسل اجماع رہا ہے وہ یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی امت کے ہر فرد پر جہاد فرض کفایہ ہے۔ جب مسلمانوں میں سے کچھ افراد یہ فریضہ ادا کردیں تو باقیوں سے ساقط ہوجاتا ہے۔ ہاں اگر دشمن (حملہ آور ہو کر) دارالاسلام میں داخل ہوجائے تو اس وقت جہاد فرض عین ہے۔ اس کا تفصیلی بیان سورة البراءۃ میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ
اور مہدوی وغیرہ نے حضرت ثوری سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جہاد تطوع ہے (یعنی نفلی عبادت ہے اس میں رضاکارانہ طور پر شامل ہونا ہوتا ہے) ابن عطیہ نے کہا ہے : میرے نزدیک یہ عبارت کسی سائل کے سوال کے جواب میں کہی گئی ہے۔ تحقیق اس نے جہاد کی تعیین کے بارے سوال کیا تو اسے کہا گیا : ” ذلک تطوع “ (کہ وہ ایک ایسا عمل ہے جس میں بتکلف اطاعت کی جاتی ہے)
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وھو کرہ لکم “ یہ مبتدا اور خبر ہے (اور معنی ہے) اور وہ مزاجوں میں ناپسند ہے۔
ابن عرفہ نے کہا ہے : الکرہ کا معنی مشقت ہے۔ اور الکرہ فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی وہ عمل ہے جس پر تجھے مجبور کیا جائے۔ یہی پسندیدہ مفہوم ہے۔ اور یہ بھی جائز کہ بالضم (الکرہ) کا معنی بالفتح (الکرہ) کی مثل ہو۔ پس یہ دونوں لغتیں ہو سکتی ہیں۔ کہا جاتا ہے : کرھت الشوء کرھا وکرھا وکراھۃ وکراھیۃ (میں نے شے کو ناپسند کیا) اور اکرھتہ علیہ اکراھا (میں نے اسے اس پر مجبور کیا)
بلاشبہ جہاد ایک مشقت ہے۔ کیونکہ اس میں مال خرچ کرنا ہوتا ہے، وطن اور اہل و عیال کو چھوڑنا ہوتا ہے اور اپنے جسم کو زخم کھانے، اعضائے بدن کو کٹوانے اور اپنی جان کو قربان کرنے کے لئے پیش کرنا ہوتا ہے۔ سو ان کی ناپسندیدگی کا سبب یہی ہے نہ کہ یہ کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فرض کو ناپسند کیا۔
حضرت عکرمہ ؓ نے اس آیت میں کہا ہے : بیشک (پہلے) انہوں نے اسے ناپسند کیا اور پھر اسے پسند کرنے لگے اور کہا : ” سمعنا واطعنا “۔ ہم نے حکم سنا اور اطاعت وپیروی کے لئے سرتسلیم خم کرلیا (1) (تفسیر بغوی، زیر آیت ہذہ) اور اس کی وجہ یہ ہے کیونکہ حکم کی پیروی مشقت کو متضمن ہوتی ہے۔ لیکن جب ثواب معلوم ہوجائے تو اس کے ضمن میں مشقتوں کو برداشت کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : دنیا میں اس کی مثال اس شے کو زائل کرنا ہے جو انسان کو تکلیف دیتی ہے، درد پہنچاتی ہے اور وہ اس سے ڈرتا ہے جیسا کہ کسی عضو کو کاٹنا، داڑھ کو نکالنا اور فصد کروانا اور پچھ لگوانا تاکہ درد اور تکلیف سے چھٹکارا حاصل ہوجائے اور صحت قائم رہ سکے۔ اور دارالخلد (جنت) میں دائمی حیات سے اور مقعد صدق میں عزت و کرامت سے افضل واعلی کوئی نعمت نہیں۔
مسئلہ نمبر : (3) قول باری تعالیٰ ہے : (آیت) ” وعسی ان تکرھوا شیئا “۔ کہا گیا ہے کہ عسی بمعنی قد ہے۔ الاصم نے یہی کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے ” واجبۃ “ (یعنی ضروری اور لازم ہونا) اور پورے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے لفظ ” عسی واجبۃ “ کے معنی میں ہے (یعنی جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی جانب ہوتی تو پھر اس میں شک کا معنی نہیں ہوتا، بلکہ بالیقین ثابت ہونے کا معنی ہوتا ہے) سوائے اس ارشاد گرامی کے :
(آیت) ” عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ “ (التحریم : 5)
ترجمہ : کچھ بعید نہیں کہ اگر نبی کریم تم سب کو طلاق دے دیں تو آپ کا رب تمہارے عوض آپ کو ایسی بیبیاں عطا فرما دے جو تم سے بہتر ہوں)
ابو عبیدہ نے کہا ہے : ” عسی “ کا لفظ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایجاب کے لئے ہے اور معنی یہ ہے : ہوسکتا ہے کہ تم جہاد میں پائی جانے والی مشقت کو ناپسند کرو حالانکہ وہ تمہارے لئے بہتر ہو، اس اعتبار سے کہ اس میں تمہیں غلبہ دے دیا جائے، تم کامیابی سے ہمکنار ہو، تم مال غنیمت حاصل کرو اور تمہیں اجر وثواب بھی دیا جائے گا۔ اور اس دوران جو فوت ہوا وہ شہادت کی موت فوت ہوگا۔ اور ہو سکتا ہے کہ تم جہاد چھوڑنے اور ترک کردینے کو پسند کرو، حالانکہ وہ تمہارے حق میں برا ہو اس اعتبار سے کہ تم پر غلبہ پالیا جائے، تمہیں ذلت ورسوائی پر مجبور کردیا جائے اور تمہارے اختیارات اور مکومت ختم کردی جائے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ صحیح اور درست ہے، اس پر کوئی غبار اور شک وشبہ نہیں۔ جیسا کہ بلاد اندلس میں اتفاق ہوا ہے، ان لوگوں نے جہاد چھوڑ دیا، انہوں نے جنگ سے بزدلی کا مظاہرہ کیا، اور اکثر اوقات میدان جہاد سے راہ فرار اختیار کی تو نتیجتا دشمن وہاں کے شہروں پر قابض ہوگئے، پھر وہاں کے باسیوں کے ساتھ کیا ہوا ؟ انہیں قیدی بنایا گیا، قتل کیا گیا، جلا وطن کیا گیا، اور غلام بنا لیا گیا۔ (آیت) ” انا للہ وانا الیہ رجعون “۔ یہ سب کچھ ہمارے ہاتھوں کا کیا ہوا تھا اور انکی کمائی تھی۔
اور حسن نے کہا ہے : آیت کا معنی ہے تم پیش آنے والی سختیوں اور مصیبتوں کو ناپسند نہ کرو کیونکہ بسا اوقات جس امر کو تو ناپسند کر رہا ہوتا ہے اسی میں تیری نجات ہوتی ہے اور بسا اوقات جس امر کو تو پسند کرتا ہے۔ اس میں تیری ہلاکت اور بربادی ہوتی ہے۔
ابو سعید الضریر نے کہا ہے :
رب امر تتقیہ جر امرا ترتضیہ خفی المحبوب منہ وبدا المکروہ فیہ :
کئی امور ہیں جن سے تو اجتناب کرتا ہے اور بچتا ہے وہ ایسے امر کو کھینچ لاتے ہیں جن سے تو راضی ہوتا ہے۔ پسندیدہ امر ان میں مخفی ہوتا ہے اور ناپسندیدہ امر ان میں ظاہر ہوتا ہے۔