2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:44

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:44 in the Quran reader

(یہ) کیا (عقل کی بات ہے کہ) تم لوگوں کو نیکی کرنے کو کہتے ہو اور اپنے تئیں فراموش کیے دیتے ہو حالانکہ تم کتاب (خدا) بھی پڑھتے ہو کیا تم سمجھتے نہیں ؟

آیت نمبر 44 اس میں نو مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اتامرون الناس بالبر یہ استفہام ہے اس کا معنی زجروتوبیخ ہے (1) اور اہل تاویل کے نزدیک اس سے مراد علماء یہود ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مدینہ طیبہ کے یہودی اپنے کسی سسرالی رشتہ والے یا کسی قرابت دار یا کسی رضاعی رشتہ دار کو کہتے جو مسلمانوں میں سے ہوتا تو اس دین پر قائم رہ جس پر تو ہے، جس کا تجھے یہ شخص حکم دیتا ہے اس سے ان کی مراد حضرت محمد ﷺ ہوتے۔ کیونکہ اس کا امر حق ہے وہ لوگوں کو اس کا حکم دیتے تھے اور خود ایسا نہیں کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہود کے علماء اپنے مقلدین اور اپنے پیروکاروں کو تورات کی پیروی کا حکم دیتے تھے اور حضرت محمد ﷺ کی صفات کے انکار میں تورات کی مخالفت کرتے تھے (2) ۔ ابن جریج نے کہا : علماء یہود لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ابھارتے تھے اور خود گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے۔ ایک گروہ نے کہا : وہ لوگوں کو صدقہ پر ابھارتے تھے اور خود گناہوں کا ارتکاب کرتے تھے۔ ایک گروہ نے کہا : وہ لوگوں کو صدقہ پر ابھارتے تھے اور خود بخل کرتے تھے (3) ۔ یہ تمام معانی قریب قریب قریب ہیں۔ بعض اہل اشارات نے فرمایا : اس کا مطلب یہ ہے کہ کیا تم لوگوں سے معانی کے حقائق کا مطالبہ کرتے ہو اور تم اس کے نقوش کے ظاہر کی مخالفت کرتے ہو۔ مسئلہ نمبر 2: جس شخص کی یہ صفت ہو وہ سخت عذاب میں ہوگا۔ حماد بن سلمہ نے علی بن زید سے انہوں نے حضرت انس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس رات مجھے سیر کرائی گئی میں کچھ لوگوں کے اوپر سے گزرا جن کے ہونٹ آگ کی قینچوں سے کاٹے جا رہے تھے۔ میں نے کہا : اے جبریل ! یہ کون لوگ ہیں ؟ جبریل نے کہا : یہ اہل دنیا کے خطباء ہیں لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہیں اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہیں حالانکہ یہ کتاب کی تلاوت کرتے ہیں کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے (4) کہا جائے گا : تم کون ہو ؟ وہ کہیں گے : ہم وہ لوگ ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے۔ میں کہتا ہوں : اس حدیث میں اگرچہ کمزوری ہے کیونکہ اس کی سند میں خصیب بن جحد رہے امام احمد اسے ضعیف کہتے تھے۔ اس طرح ابن معین نے یہ حدیث ابو غالب عن ابی امامہ صدی بن عجلان الباہلی کے سلسلہ سے روایت کی ہے۔ ابو غالب وہ جس کے بارے میں یحییٰ بن معین نے بیان کیا ہے کہ حزور القرشی مولیٰ خالد بن عبد اللہ بن اسید ہے۔ بعض نے فرمایا : باہلہ کا غلام تھا بعض نے فرمایا : عبد الرحمن حضرمی کا غلام تھا۔ تجارت کے لئے شام میں آتا جاتا تھا۔ یحییٰ بن معین نے کہا : یہ صالح الحدیث ہے۔ مسلم نے اپنی صحیح میں اس حدیث کے ہم معنی حضرت اسامہ بن زید سے روایت کیا ہے، فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا : قیامت کے روز ایک شخص کو لایا جائے گا پھر اسے دوزخ میں ڈالا جائے گا پھر جلدی سے اس کے پیٹ سے انتڑیاں باہر آجائیں گی وہ ان کے اردگرد اس طرح گھومے گا جیسے گدھا چکی کے اردگرد گھومتا ہے، دوزخی لوگ اس پر جمع ہوجائیں گے اور کہیں گے : اے فلاں ! تجھے کیا ہوا کیا تو ہمیں نیکی کا حکم نہیں دیتا تھا اور برائی سے منع نہیں کرتا تھا ؟ وہ کہے گا : کیوں نہیں میں نیکی کا حکم دیتا تھا اور خود نیکی نہیں کرتا تھا اور برائی سے منع کرتا تھا لیکن خود برائی سے رکتا نہیں تھا (1) (آگے مصنف نے حدیث کے الفاظ کا مفہوم بیان کیا ہے میں نے وہ حدیث کے ترجمہ میں لکھ دیا ہے) میں کہتا ہوں : یہ حدیث اور آیت کریمہ کے الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ جو نیکی اور بدی کو جانتا ہے اور ہر ایک کے قیام کے وجوب سے باخبر ہے اسے بےعلم سے زیادہ سزا ملے گی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی حرمات کی اہانت کرنے والا ہے اور اس کے احکامات کو خفیف سمجھنے والا ہے اور وہ ان لوگوں سے ہے جو اپنے علم سے نفع حاصل نہیں کرتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے زیادہ سخت عذاب قیامت کے دن اس عالم کو ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے اپنے علم سے نفع نہیں پہنچایا۔ اس حدیث کو ابن ماجہ نے اپنی سنن میں ذکر کیا ہے (2) ۔ مسئلہ نمبر 3: اے قاری ! اللہ تجھے توفیق بخشے ! جان لے کہ اس آیت میں توبیخ نیکی کے فعل کے ترک کے سبب سے ہے نہ کہ نیکی کے حکم کے سبب ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اس قوم کی مذمت فرمائی ہے جو نیک اعمال کا حکم دیتے ہیں اور ان پر خود عمل نہیں کرتے انہیں سخت توبیخ فرمائی ہے جو قیامت تک سارا زمانہ پڑھی جائے گی۔ فرمایا : اتامرون الناس بالبر منصور الفقیہ نے کہا اور خوب کہا : ان قوماً یامرونا بالذی لا یفعلونا لمجانین وان ھم لم یکونوا یصرعونا بے شک ایک قوم ہمیں اس بات کا حکم دیتی ہے جسے وہ خود نہیں کرتے۔ وہ نادان ہیں اگرچہ وہ گرتے نہیں ہیں۔ ابو العتابیہ نے کہا : وصفت التقی حتی کا نک ذوتقی وریح الخطایا من ثیابک تسطع تو نے تقویٰ کی اس طرح صفت بیان کی حتیٰ کہ یوں لگا کہ تو صاحب تقویٰ ہے جبکہ تیرے کپڑوں سے گناہوں کی بدبو چھائی ہوئی ہے ابو الاسود الاؤلی نے کہا : لائنہ عن خلق وتاتی مثلہ عارٌ علیک اذا فعلت عظیم وأبداً بنفسک فانھا عن غیھا فان انتھت عنہ فانت حکیم وھناک یقبل ان و عظمت ویقتدی بالقول منک وینفع التعلیم تو ایسے خلق سے منع نہ کر جبکہ خود تو ایسا کرے، جب تو ایسا کرے گا تو تجھ پر یہ بڑی عار ہوگا۔ تو اپنے نفس سے آغاز کر اسے گمراہی سے روک اگر تیرا نفس گمراہی سے رک جائے گا تو تو حکیم ہوگا۔ اس وقت تیری بات قبول کی جائے گی اگر تو وعظ کرے گا اور تیری بات کی اقتدا کی جائے گی اور تعلیم نفع دے گی۔ ابو عمرو بن مطر نے کہا : میں ابو عثمان الحیری الزاہد کی مجلس میں حاضر تھا۔ وہ گھر سے باہر آئے اور اس جگہ بیٹھ گئے جہاں وہ وعظ ونصیحت کے لئے بیٹھا کرتے تھے، وہ خاموش بیٹھے رہے حتیٰ کہ ان کی خاموشی لمبی ہوگئی۔ ایک شخص نے انہیں آواز دی جو ابو العباس کے نام سے مشہور تھے تو اپنے سکوت میں کچھ کہنا چاہتا ہے۔ تو ابو عثمان نے یہ شعر پڑھا : وغیر تقی یامر الناس بالتقی طبیب یداوی و الطبیب مریض جو خود غیر متقی ہے وہ لوگوں کو تقویٰ کا حکم دیتا ہے، طبیب لوگوں کا علاج کرتا ہے حالانکہ طبیب خود مریض ہے۔ ابو عمرو نے کہا : رونے اور چیخنے کے ساتھ آوازیں بلند ہوگئیں۔ مسئلہ نمبر 4: ابراہیم النحعی نے کہا : تین آیات کی وجہ سے میں وعظ ونصیحت ناپسند کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اتامرون الناس بالبر (الایۃ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لم تقولون ما لا تفعلون۔ ( الصف) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما ارید ان اخالقکم الیٰ ما انھکم عنہ (ہود :88) ( میں ارادہ نہیں کرتا کہ میں تمہاری مخالف کروں جس سے میں تمہیں منع کرتا ہوں) ۔ مسلم بن عمرو نے کہا۔ ما أقبع التذھید من واعظ یزھد الناس ولا یزھد لو کان فی تزھیدہ صادقاً اضحیٰ وامسیٰ بیتہ المسجد ان رفض الدنیا فیما بالہ یستمنح الناس ویسترفد والرزق مقسوم علی من تری ینال الابیض والاسود اس واعظ کا لوگوں کو زہد کی تلقین کرنا کتنا برا ہے جو لوگوں کو زہد کی تلقین کرتا ہے اور خود زہد اختیار نہیں کرتا، اگر وہ زہد کی تلقین میں سچا ہوتا تو صبح وشام اس کا گھر مسجد ہوتا۔ اگر وہ دنیا کو چھوڑ چکا ہوتا تو وہ لوگوں سے عطیہ طلب نہ کرتا اور بخشش نہ مانگتا۔ رزق تقسیم ہوچکا ہے ان لوگوں پر جنہیں تو دیکھتا ہے، سفید اور سیاہ اسے حاصل کر رہا ہے۔ حسن نے مطرف بن عبد اللہ سے کہا : اپنے دوستوں کو نصیحت کرو۔ مطرف نے کہا : میں وہ کہنے سے ڈرتا ہوں جو میں کرتا نہیں۔ حسن نے کہا : اللہ تجھ پر رحم فرمائے، ہم میں سے کون ہے جو وہی کرتا ہے جو وہ کہتا ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ وہ اپنے اس حال کے ساتھ کامیاب ہوجائے، کوئی شخص نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے منع نہ کرے۔ امام مالک نے ربیعہ بن ابی عبد الرحمٰن سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضرت سعید بن جبیر کو یہ فرماتے سو کہ اگر آدمی نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے منع نہ کرے تاکہ اس میں کوئی ایسی بات نہ پائی جائے تو پھر کوئی نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے منع نہ کرے۔ امام مالک نے فرمایا، انہوں نے سچ فرمایا، کون ہے وہ جس میں ایسی بات نہ ہو ( یعنی ہر شخص نیکی کا حکم دیتا ہے اور خود پوری طرح نیکی نہیں کرتا۔ ) مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے بالبر یہاں البر سے مراد طاعت اور عمل صالح ہے۔ البر کا معنی سچائی بھی ہے۔ البر، لومڑی کے بچے کو بھی کہتے ہیں۔ البرء بکریوں کے ہانکنے کو بھی کہتے ہیں۔ عرب کہتے ہیں : لا یعرف ھراً من برٍ یعنی بکریوں کے چرواہے نہیں جانتے کہ کون بکریوں کو ہانک کرلے گیا ہے (اور اس کا لفظ معنی ہے : وہ بلی اور چوہے میں فرق نہیں کرسکتا) یہ مشترک لفظ ہے۔ شاعر نے کہا : لا ھم رب ان بکراً دونکا یبرک الناس ویفجرونکا “ یترک الناس ” سے شاعر نے یہ ارادہ کیا ہے لوگ تجھے عطیہ دیتے ہیں۔ مابعد شعر میں البر کا معنی دل ہے۔ اکون مکان البر منہ ودونہ واجعل مالی دونہ واوامرہ البربا کے ضمہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی معروف ہے (یعنی گندم) اور با کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی اجلال اور تعظیم کرنا ہے۔ اسی سے ہے ولد برٌوبار یعنی بچہ اپنے والدین کی تعظیم کرتا ہے اور ان کی عزت کرتا ہے۔ مسئلہ نمبر 6: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وتنسون انفسکم اپنے آپ کو ترک کرتے ہیں۔ النسیان (نون کے کسرہ کے ساتھ) اس کا معنی کبھی ترک کرنا ہوتا ہے اور یہاں یہی معنی مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نسوا اللہ فنسیھم (توبہ :67) (جب انہوں نے بھلا دیا تو اللہ نے انہیں فراموش کردیا) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلما نسوا ما ذکروا بہ (انعام :44) (جب انہوں نے بھلا دیا اسے جس کے ساتھ نصیحت کی گئی تھی ) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تنسوا الفضل (البقرہ : 237) اور تم آپس میں فضل کو نہ بھولو۔ یہ یاد اور حفظ کا متضاد ہے۔ اسی مفہوم میں حدیث ہے نسی آدم فنسیت ذریتہ (1) ، حضرت آدم بھولے تو آپ کی اولاد بھی بھولی۔ اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ کہا جاتا ہے : رجل نسیان، کسی چیز کو بہت زیادہ بھولنے والا شخص۔ وقد نسیت الشیء نسیاتاً (بکسر نون کہے گا) تو نسیاناً نہیں کہے گا۔ کیونکہ النسیان، یہ نسا کا تثنیہ ہے جس کا معنی رگ ہے۔ انفس یہ نفس کی جمع ہے اور جمع قلت ہے۔ النفس کا معنی روح بھی ہے۔ کہا جاتا ہے : خرجت نفسہ اس کی روح نکل گئی۔ ابو خراش نے کہا : نجا سالم والنفس منہ بشدقہ ولم ینج الاجفن سیف ومئزراً سالم نے نجات پائی جبکہ اس کی سانس اس کے ہونٹ کے کنارے پر تھی اور اس نے تلوار کی میان اور چادر کے ساتھ نجات پائی۔ النفس سے مراد روح ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہے : اللہ یتوفیٰ الانفس حین موتھا (الزمر : 42) (اللہ تعالیٰ قبض کرتا ہے روحوں کو جن کی موت کا فیصلہ کرتا ہے ) ۔ اکثر علماء کے نزدیک اس آیت میں الانفس سے مراد ارواح ہیں۔ اس کا بیان آگے آئے گا۔ حضرت بلال نے نبی کریم ﷺ سے کہا تھا : اخذ بنفسی یا رسول اللہ الذی اخذ بنفسک۔ (1) میری روح کو بھی اس نے قبض کرلیا جس نے آپ کی روح کو قبض کرلیا۔۔۔۔ یہ ابن شہاب کی حدیث میں ہے، اور حضرت زید بن اسلم کی حدیث میں ہے : ان اللہ قبض ارواحنا ولو شاء لرد ھا الینا فی حین غیر ھذا۔۔۔۔ (2) اللہ تعالیٰ نے ہماری روحوں کو قبض کرلیا اگر وہ چاہتا تو اس وقت کے علاوہ ہماری طرف انہیں لوٹا دیتا، یہ دونوں روایات امام مالک نے روایت کی ہیں۔ یہ معنی اولیٰ ہے جو کچھ اس کے بارے میں کہا گیا ہے۔ النفس سے مراد خون بھی ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے : سالت نفسہ اس کا خون بہہ پڑا۔ شاعر نے کہا : تسیل علی حد السیوف نفوسنا ولیست علی غیر ظبات تسیل ہمارے خون تلواروں کی انیوں پر بہتے ہیں، تلواروں کی انیوں کے بغیر یہ بہتے ہی نہیں۔ ابراہیم نخعی نے کہا : ما لیس لہ نفس سائلۃ وہ جانور جس کا بہنے والا خون نہیں ہوتا وہ پانی میں مرجائے تو وہ پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ النفس سے مراد جسد بھی ہوتا ہے۔ شاعر نے کہا : نبئت ان بنی سحیم ادخلوا ابیاتھم تامور نفس المنذر مجھے بتایا گیا ہے کہ بنی سحیم نے اپنے گھروں میں منذر کے جسم کا خون داخل کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 7: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وانتم تتلون الکتب جو سمجھے تو اس کے لئے یہ بڑی توبیخ ہے۔ تتلون کا معنی پڑھنا ہے۔ الکتب سے مراد تورات ہے۔ جس نے یہود کی طرح عمل کیا وہ ان کی مثل ہے تلاوہ کی اصل اتباع ہے۔ اسی وجہ سے یہ قراءت (پڑھنے) کے معنی میں استعمال ہوتا ہے کیونکہ بعض کلام حروف میں بعض کے تابع ہوتا ہے حتیٰ کہ وہ ترتیب پر ہوجاتا ہے۔ کہا جاتا ہے : تلوتہ، تلواً میں نے اس کی اتباع کی۔ تلوت القرآن تلاوۃً ۔ میں نے قرآن کی تلاوت کی۔ تلوت الرجل تلواً کسی کو رسوا کرنا۔ التلیۃ التلاوۃ (تاء کے ضمہ کے ساتھ) اس کا معنی بقیہ ہے۔ کہا جاتا ہے : تلیت لی من حقی تلاوۃ وتلیۃ ً یعنی میں نے اپنے لئے اپنے حق سے باقی رکھا۔ اتلیت، ابقیت (میں نے باقی چھوڑا) تتلیت حقی۔ میں نے اپنے حق کا پیچھا کیا حتیٰ کہ اسے پورا وصول کرلیا۔ ابو زید نے کہا : تلی الرجل جب انسان زندگی کے آخری سانسوں میں ہو۔ مسئلہ نمبر 8: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افلا تعقلون یعنی تم اپنے نفسوں کو ہلاکت کی جگہوں سے نہیں روکتے۔ العقل کا معنی روکنا ہے، اسی سے عقال البعیر ہے، اونٹ کی رسی جو اسے حرکت سے روکتی ہے۔ العقل کا معنی دیت ہے کیونکہ وہ مقتول کے ولی کو قاتل کے قتل سے روکتی ہے۔ اسی سے ہے : اعتقال البطن واللسان، پیٹ اور زبان کو روکنا۔ اسی وجہ سے قلعہ کو معقل کہا جاتا ہے۔ العقل، یہ جہالت کی نقیض ہے، العقل اس کپڑے کو کہتے ہیں جسے عربوں کی عورتیں بناتی تھیں اس کے ساتھ ہودج کو لپیٹا جاتا تھا۔ علقمہ نے کہا : عقلاً ورقماً تکاد الطیر تخطفہ کأنہ من دم اجواف مدموم سرخ، منقش کپڑا قریب تھا پرندے اسے اچک لیتے، گویا وہ پٹیوں کے خون سے سرخ کیا گیا ہے۔ المدموم سے مراد سرخ ہے اور اس شعر میں یہی معنی مراد ہے، اور المدموم سے مراد چربی سے بھرا ہوا اونٹ وغیرہ کو بھی کہتے ہیں۔ بعض نے فرمایا : یہ دو چادریں ہیں۔ ابن فارس نے کہا : وہ کپڑا جس کا نقش طول میں ہوا سے عقل کہتے ہیں اور جس کا نقش گول ہو اسے رقم کہتے ہیں۔ زجاج نے کہا : عاقل وہ ہے جو اس پر عمل کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا ہے اور جاہل وہ ہے جو احکام الٰہیہ پر عمل نہ کرے۔ مسئلہ نمبر 9: اہل حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عقل مخلوق اور موجود ہے نہ وہ قدیم ہے نہ معدوم ہے کیونکہ اگر معدوم ہوتی تو اس کے ساتھ متصف ہونے کے ساتھ بعض ذوات مختص نہ ہوتیں جب اس کا وجود ثابت ہے تو اس کے قدیم ہونے کا قول محال ہے کیونکہ اس بات پر دلیل قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی قدیم نہیں ہے جیسا کہ بیان اسی سورت میں اور دوسری سورتوں میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ فلاسفہ کا نظریہ یہ ہے کہ عقل قدیم ہے پھر بعض فلاسفہ کہتے ہیں کہ عقل بدن میں ایک جوہر لطیف ہے اس سے اس کی شعاعیں پھیلتی ہیں جس طرح گھر میں چراغ کی شعاعیں پھیلتی ہیں۔ اس کے ذریعے معلومات کے حقائق کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ جوہر بسیط ہے یعنی غیر مرکب ہے پھر اس کے محل کے متعلق اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ دو چادریں ہیں۔ ابن فارس نے کہا : وہ کپڑا جس کا نقش طول میں ہوا سے عقل کہتے ہیں اور جس کا نقش گول ہو اسے رقم کہتے ہیں۔ زجاج نے کہا : عاقل وہ ہے جو اس پر عمل کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیا ہے اور جاہل وہ ہے جو احکام الہٰیہ پر عمل نہ کرے۔ مسئلہ نمبر 9: اہل حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عقل مخلوق اور موجود ہے نہ وہ قدیم ہے نہ معدوم ہے کیونکہ اگر معدوم ہوتی تو اس کے ساتھ متصف ہونے کے ساتھ بعض ذوات مختص نہ ہوتیں جب اس کا وجود ثابت ہے تو اس کے قدیم ہونے کا قول محال ہے کیونکہ اس بات پر دلیل قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی قدیم نہیں ہے جیسا کہ بیان اسی سورت میں اور دوسری سورتوں میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ فلاسفہ کا نظریہ یہ ہے کہ عقل قدیم ہے پھر بعض فلاسفہ کہتے ہیں کہ عقل بدن میں ایک جوہر لطیف ہے اس سے اس کی شعاعیں پھیلتی ہیں جس طرح گھر میں چراغ کی شعاعیں پھیلتی ہیں۔ اس کے ذریعے معلومات کے حقائق کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ جوہر بسیط ہے یعنی غیر مرکب ہے پھر اس کے محل کے متعلق اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : عقل کا محل دماغ ہے کیونکہ دماغ حس کا محل ہے۔ بعض فرماتے ہیں : اس کا محل دل ہے کیونکہ دل حیات کا معدن اور حواس کا مادہ ہے۔ عقل کے بارے میں یہ قول کہ یہ جوہر ہے، یہ فاسد ہے اس حیثیت سے کہ جو اہر ہم مثل ہوتے ہیں۔ اگر جوہر عقل ہوتا تو ہر جو ہر عقل ہوتا۔ بعض علماء نے فرمایا : عقل اشیاء کا ادراک کرنے والی ہے معانی کے حقائق میں سے اشیاء جس پر قائم ہیں۔ یہ قول اگرچہ پہلے قول کے زیادہ قریب ہے، لیکن اس جہت سے درست ہونے سے دور ہے کہ ادراک زندہ کی صفات سے ہے، اور عقل عرض ہے اس سے یہ چیز محال ہے جیسا کہ اس کا ملتذ اور مشتہیی ہونا محال ہے۔ شیخ ابو الحسن اشعری، استاذ ابو اسحاق اسفرائینی وغیرہما فرماتے ہیں : عقل، علم ہے اس دلیل سے کہ یہ نہیں کہا جاتا : عقلت و ما علمت او علمت وما عقلت (میں نے سمجھا اور جانا نہیں یا میں نے جانا اور سمجھا نہیں) قاضی ابوبکر نے کہا : واجبات کے وجود، جائزات کے جواز اور مستحیلات کے استحالہ کے علوم ضروریہ کا نام عقل ہے، یہ ابو المعالی نے “ الارشاد ” میں اختیار فرمایا ہے اور “ البرہان ” میں انہوں نے یہ اختیار فرمایا کہ عقل ایک صفت ہے جس کے ذریعے علوم کا ادراک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے قاضی کے مذہب پر اعتراض کیا اور قاضی کے مذہب کے فساد پر استدلال کیا۔ “ البرہان ” میں محاسبی سے حکایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : عقل ایک فطرت ہے، استاذ ابوبکر نے امام شافعی، ابو عبد اللہ بن مجاہد ے سے حکایت کیا ہے کہ ان دونوں نے فرمایا : علق تمییز کا آلہ ہے۔ ابو العباس القلاسی سے حکایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : عقل تمییز کی قوت ہے۔ محاسبی سے حکایت کیا کہ انہوں نے فرمایا : عقل انوار اور بصائر ہیں پھر ان اقوال کو مرتب کیا اور چند محامل پر انہیں معمول کیا۔ فرمایا : اولیٰ یہ ہے کہ یہ نقل امام شافعی اور ابن مجاہد سے صحیح نہیں ہے کیونکہ آلہ کیونکہ آلہ تو مثبت چیز میں استعمال ہوتا ہے اور اعراض میں اس کا استعمال مجازاً ہے۔ اسی طرح جنہوں نے کہا کہ یہ قوت ہے (یہ بھی صحیح نہیں ہے) کیونکہ قوت سے صرف قدرت سمجھی جاتی ہے۔ قلانسی نے جو اطلاق کیا ہے وہ عبارات میں حجاز کی بناء پر ہے، اسی طرح محاسبی کا قول ہے عقل نہ تو صورت ہے نہ نور ہے بلکہ اس کے ذریعے انواروبصائر کو حاصل کیا جاتا ہے۔ آیت توحید کے تحت اس کے فائدہ کا بیان انشاء اللہ اسی سورت میں آئے گا۔
Ayah 2:45

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ Open ayah 2:45 in the Quran reader

اور (رنج و تکلیف میں) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو، اور بیشک نماز گراں ہے مگر ان لوگوں پر (گراں) نہیں جو عجز کرنے والے ہیں

آیت نمبر 45 “ اور مدد لو صبر اور نماز سے اور بیشک نماز ضرور بھاری ہے مگر عاجزی کرنے والوں کے لئے نہیں ”۔ اس آٹھ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ، الصبر کا لغوی معنی روکنا ہے۔ قتل فلان صبراً ، فلاں باندھا گیا اور روکا گیا حتیٰ کہ تلف ہوگیا۔ صبرت نفسی علی الشیء میں نے اپنے آپ کو اس کام یہ روکا۔ المصبورۃ۔ وہ جس سے منع کیا گیا ہو۔ حدیث میں اس سے مراد وہ جانور ہے جو موت پر روکا گیا ہو، اسی کو المجثمہ بھی کہتے ہیں۔ عشرہ نے کہا : فصبرت عارفۃ لذالک حرۃ ترسو اذا نفس الجبان تطلع میں نے اس وجہ سے آزاد عارفہ سے اپنے آپ کو روکا جو ٹھہری ہوئی تھی جبکہ بزدل کا نفس جھانک رہا تھا۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ نے اطاعت پر صبر کرنے کا حکم دیا اور کتاب اللہ میں مخالفت سے رکے رہنے کا حکم دیا ہے۔ فرمایا : واصبروا۔ کہا جاتا ہے : فلاں صابر عن المعاصی جب کوئی گناہوں سے بچے اور طاعت پر قائم رہے، جو کچھ صبر کے بارے میں کہا گیا اس میں یہ قول بہتر ہے۔ نحاس نے کہا : جو مصیبت پر صبر کرے اسے صابر نہیں کہا جاتا بلکہ کہا جاتا ہے صابر علی کذا، اس پر صبر کرنے والا ہے۔ جب مطلق صابر کہا جائے تو پھر اس کا اطلاق اس پر ہوتا ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب۔ (الزمر) مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والصلوٰۃ تمام عبادات میں سے الصلوٰۃ (نماز) کو خاص طور پر ذکر فرمایا اس کے ذکر کی بلند کے لئے۔ نبی کریم ﷺ کو جب کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو آپ نماز کی طرف پناہ لیتے۔ اسی سے وہ روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس کو ان کے بھائی قسم کی موت کی خبر دی گئی۔۔۔۔ بعض نے فرمایا : ان کی بیٹی کی موت کی خبر دی گئی۔۔۔۔ جبکہ وہ سفر میں تھے تو انہوں نے انا للہ وان الیہ راجعون پڑھا اور کہا یہ پوشیدہ چیز تھی اللہ تعالیٰ نے اسے ڈھانپ دیا۔ یہ مؤنث تھی اللہ تعالیٰ نے اس کی کفایت فرمائی یہ اجر ہے جو اللہ تعالیٰ نے بھیجا۔ پھر راستہ سے ایک طرف ہوگئے اور نماز پڑھی۔ پھر اپنی سواری کی طرف واپس آئے اور یہ پڑھ رہے تھے واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ اس تاویل پر نماز سے مراد شریعت ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : لغت میں اپنے عرف پر اس کا معنی دعا ہے۔ پس اس تاویل پر یہ آیت اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مشابہ ہوگی اذا لقیتم فئۃ ً فاثبتوا واذکر وا اللہ (انفال :45) کیونکہ ثبات سے مراد صبر ہے۔ ذکر سے مراد دعا ہے اور تیسرا قول مجاہد نے کیا اس آیت میں الصبر سے مراد روزہ ہے، اسی وجہ سے رمضان کو شھر الصبر کہا جاتا ہے۔ پس اس قول کی مناسبت سے روزہ اور نماز مناسب ہیں کیونکہ روزہ شہوات سے روکتا ہے اور دنیا میں دم دلچسپی پیدا کرتا ہے نماز برائیوں اور منکرات سے روکتی ہے اس میں خشوع کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس میں قرآن پڑھا جاتا ہے جو قرآن آخرت کی یاد دلاتا ہے (1) ۔۔۔۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 4: اذیتوں پر صبر کرنا اور طاعات پر صبر کرنا یہ نفس کے جہاد سے ہے اور نفس کی شہوات کو ختم کرنے اور لالچ سے اسے روکنے کے باب سے ہے۔ یہ انبیاء کرام اور صالحین کے اخلاق میں سے ہے۔ یحییٰ بن الیمان نے کہا : صبر یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے تجھے عطا فرمایا اس کے علاوہ کی تمنا نہ کر اور رضا یہ ہے تو اپنی دنیا وآخرت کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر راضی ہو۔ شعبی نے کہا : حضرت علی ؓ نے فرمایا : صبر کا ایمان سے اس طرح کا تعلق ہے جو سر کا تعلق جسم سے ہے۔ طبری نے کہا : حضرت علی ؓ نے سچ فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان دل کی معرفت، زبان کے اقرار اور عمل بالجوارح کا نام ہے جو عمل بالجوارح پر صبر نہیں کرتا وہ ایمان کے اطلاق کا مستحق نہیں ہوتا اور عمل بالشرائع پر قائم رہنا بالکل ایمان کے ساتھ اس کا وہی تعلق ہے جو سر کا جسم کے ساتھ تعلق ہے کہ انسان کا جسم مکمل نہیں ہوتا مگر یہ کہ سر موجود ہو۔ مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ نے اعمال کی جزا کا ذکر فرمایا اور اعمال کے لئے جزا کی ایک حد ذکر فرمائی۔ فرمایا : من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا (انعام : 160) (جو کوئی لائے گا ایک نیکی تو اس کے لئے دس ہوں گی) اور اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خرچ کرنے کی جزا سے زیادہ بیان فرمائی۔ فرمایا : مثل الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ کمثل حبۃٍ (البقرہ : 261) (مثال ان لوگوں کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں ایسی ہے جیسے ایک دانہ) اور صبر کرنے والوں کا اجر بغیر حساب کے بنایا۔ اور صبر کرنے والوں کی مدح بیان فرمائی، فرمایا : انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب۔ (الزمر) (صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بےحساب دیا جائے گا ) ۔ اور فرمایا : ولمن صبر وغفر ان ذلک لمن عزم الامور۔ (الشوریٰ ) (اور جو شخص (ان مظالم پر) پر صبر کرے اور (طاقت کے باوجود) معاف کر دے تو یقیناً یہ بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ ) بعض علماء نے فرمایا : انما یوفی الصبرون (الزمر : 10) میں صابرون سے مراد روزے دار ہیں کیونکہ صحیح سنت سے نبی کریم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد مروی ہے، الصیام لی وانا اجزی بہ (2) (روزہ میرے لئے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا) روزے کا ثواب ذکر نہیں فرمایا جس طرح کہ صبر کی جزا ذکر نہیں فرمائی۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 6: صبر کی فضیلت۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا وصف صبر سے بیان فرمایا جیسا کہ حضرت ابو موسیٰ کی حدیث میں ہے جو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے بیان فرمائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : لیس احدٌ اولیس شیء اصبر علی اذی سمعہ من اللہ تعالیٰ انھم لیدعون لہ ولداً وانہ لیعافیھم ویرزقھم (3) ۔ (اللہ تعالیٰ سے کوئی اذیت پر زیادہ صبر کرنے والا نہیں جسے وہ سنتا ہے، مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹا ہونے کا قول کرتے ہیں لیکن پھر وہ انہیں عافیت بھی دیتا ہے اور انہیں رزق بھی دیتا ہے۔ ) اس حدیث کو بخاری نے نقل کیا ہے۔ ہمارے علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے صبر کے ساتھ وصف بیان فرمایا تو صبر سے مراد حلم ہے اور حلم سے متصف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سزا کے مستحقین کو فوری سزا نہیں دیتا اس میں تاخیر فرماتا ہے۔۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ کا صبر کے ساتھ موصوف ہونا قرآن میں وارد نہیں ہے بلکہ حدیث حضرت ابو موسیٰ میں وارد ہے اہل سنت نے صبر کی تاویل حلم سے کی ہے۔ یہ ابن فورک وغیرہ کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں الصبور کا لفظ آیا ہے یہ مجرموں سے حلم میں مبالغہ کے اظہار کے لئے ہے۔ مسئلہ نمبر 7: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانھا لکبیرۃ ضمیر کے مرجع میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا مرجع صرف طور پر نماز ہے کیونکہ یہ نفوس پر اتنی بھاری ہوتی ہے جتنا روزہ بھاری نہیں ہوتا، یہاں صبر سے مراد روزہ ہے اور نماز میں نفوس کی قید ہے اور روزہ میں شہوت کو ختم کرنا ہے۔ پس جو ایک شہوت سے یاد و شہوتوں سے رکا ہوا ہے وہ اس شخص کی مانند نہیں جو تمام شہوات سے روکا گیا ہے۔ پس روزہ دار کو عورتوں، کھانے اور پینے کی شہوت سے روکا جاتا ہے پھر تمام شہوات کلام، چلنے اور مخلوق سے ملنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں پھر ان اشیاء کی وجہ سے وہ تسلی پاتا ہے جن سے اسے روکا گیا ہوتا ہے، جبکہ نمازی ان تمام شہوات سے رکتا ہے، اس کے تمام اعضاء نماز کے ساتھ مقید ہوتے ہیں اور تمام شہوات سے دور ہوتا ہے۔ جب صورت حال یہ ہے تو نماز نفس پر زیادہ بھاری اور مشکل ہوئی، اسی وجہ سے فرمایا : یہ بہت بھاری ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : انھا کی ضمیر سے مراد دونوں (صبر اور نماز) ہیں لیکن اغلب سے کنایہ فرمایا اور وہ نماز ہے جیسے ارشاد فرمایا : والذین یکنزون الذھب والفضۃ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ (توبہ :34) (اور جو لوگ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا، چاندی اور نہیں خرچ کرتے اسے اللہ کی راہ میں۔ ) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا راوا تجارۃًاو لھوا انفضوا الیھا (الجمہ :11) (جب دیکھا کسی تجارت یا تماشا کو تو اس کی طرف گئے) پہلی آیت میں ضمیر کو الفضۃ کی طرف لوٹایا کیونکہ وہ اغلب اور اعم ہے، اور دوسری آیت میں تجارت کی طرف لوٹایا کیونکہ وہ افضل اور اہم ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : صبر چونکہ نماز میں داخل ہے اس لئے ضمیر نماز کی طرف لوٹا دی جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ (توبہ :62) اس آیت میں لم یرضوھما نہیں فرمایا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا میں داخل ہے۔ اسی طرح شاعر نے کہا : ان شرخ الشباب والشعر الاسو دما لم یعاص کان جنونا اس شعر میں لم یعاصیا نہیں فرمایا اور ضمیر شباب کی طرف لوٹا دی کیونکہ شعر اس میں داخل ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : ضمیر ہر ایک کی طرف لوٹائی لیکن اختصار اً حذف کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وجعلنا ابن مریم وانہ ایۃً (مومنون : 50) اس آیت میں آیتین نہیں فرمایا اسی طرح شاعر کا قول ہے : فمن یک امسٰی بالمدینۃ رحلہ فأنی وقیار بھا لغریب اور ایک شاعر نے کہا : لکل ھم من الھموم سعہ والصبح والمسی لا فلاح معہ پہلے شعر میں لغریب سے مراد لغربیان ہے اور دوسرے شعر میں لا فلاح معھما مراد ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : ضمیر کا مرجع عبادت ہے جو معنی کے اعتبار سے صبر اور صلاۃ کے ذکر کو اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہے۔ بعض نے فرمایا : ضمیر کا مرجع مصدر ہے، اور وہ الاستعانۃ ہے جس کا تقاضا استعینوا ارشاد کر رہا ہے۔ بعض نے فرمایا : ضمیر کا مرجع حضرت محمد ﷺ کی اجابت ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ جس چیز کی طرف بلاتے تھے ان میں سے صبر اور صلاۃ بھی ہے۔ بعض نے فرمایا : ضمیر کا مرجع کعبہ ہے کیونکہ نماز کا حکم اس کی طرف ہے۔ کبیرۃٌ سے مراد بھاری اور مشکل ہے اور یہ (ان) کی خبر ہے، غیر قرآن میں وانہ لکبیرۃ بھی جائز ہے۔ الا علی الخشعین مگر ڈرنے والوں پر نماز خفیف (ہلکی) ہے۔ ارباب المعانی نے کہا اس سے مراد یہ ہے کہ مگر جن کی ازل میں اجتباء اور ہدایت کے خصائص کے ساتھ تائید کی گئی ان پر بھاری نہیں۔ مسئلہ نمبر 8: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے علی الخشعین، خاشعون جمع ہے خاشع کی اس سے مراد تواضع کرنے والا ہے اور الخشوع نفس کی اس ہیئت کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے اعضاء میں سکون اور تواضع ظاہر ہوتی ہے۔ قتادہ نے کہا : خشوع دل میں ہوتا ہے، اور وہ نماز میں خوف اور آنکھوں کا جھکانا ہے۔ زجاج نے کہا : الخاشع وہ ہے جس پر خشوع اور ذلت کا اثر دکھائی دے جیسے خشوع الدار بعد الاقواء، یہ اصل ہے۔ نابغہ نے کہا : رماد ککحل العین لأیا ابینہ ونؤیٌ کجذم الحوض اثلم خاشع مکان خاشعٌ ایسا مکان جس کے لئے رہنمائی نہ پائی جاسکے۔ خشعت الاصوات، یعنی آواز ساکن ہوگئیں۔ خشعت خراشی صدرہ۔ یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب سینہ سے لیس دار تھوک باہر پھینکے۔ خشع لبصرہ یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی اپنی نظر کو جھکا دے۔ الخشعۃ، زمین کا نرم ٹکڑا۔ حدیث پاک میں ہے : کا نت خشعۃ علی الماء ثم دحیت بعد، کعبہ پانی پر ایک نرم ٹکڑا تھا پھر بعد میں اس سے زمین پھیلائی گئی۔ بلدۃ خاشعۃ ایسا شہر جو غبار آلود ہو اس میں کوئی اترنے والا نہ ہو۔ سفیان ثوری نے کہا : میں اعمش سے خشوع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا : اے ثوری ! تو لوگوں کا امام بننا چاہتا ہے اور تو خشوع کو نہیں جانتا۔ میں نے ابراہیم نخعی سے خشوع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا : اے اعمش ! تو لوگوں کا امام بننا چاہتا ہے اور تو خشوع بھی نہیں جانتا۔ خشوع موٹی خوراک کھانا، موٹا لباس پہننا اور سر جھکانا نہیں ہے بلکہ خشوع یہ ہے کہ تو شریف اور گھٹیا کو حق میں برابر دیکھے اور ہر اس فرض کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے جو تجھ پر فرض ہے۔ حضرت عمر بن خطاب نے ایک نوجوان کو دیکھا وہ سر جھکائے ہوئے تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا : اے فلاں ! اپنا سر اٹھا کیونکہ خشوع اس سے زائد نہیں ہوتا جو دل میں ہوتا ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے فرمایا : خشوع دل میں ہوتا ہے اپنے ہاتھوں کو مسلم آدمی کے لئے نرم کرے اور تو نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہ ہو۔ یہ معنی اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت اچھی طرح آئے گا : قد افلح المؤمنون۔ الذین ھم فی صلاتھم خشعون۔ (مومنون) جس نے لوگوں کے لئے اس سے زیادہ خشوع ظاہر کیا جو اس کے دل میں ہے تو اس نے نفاق پر نفاق ظاہر کیا۔ حضرت سہل بن عبد اللہ نے کہا : خاشع اس وقت تک نہیں ہوگا حتیٰ کہ ہر بال اس کے جسم پر خشوع کا اظہار کرے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربھم (الزمر :23) میں کہتا ہوں : یہ خشوع محمود ہے، کیونکہ خوف جب دل کو لاحق ہوتا ہے تو ظاہر خشوع کو ثابت کرتا ہے، ایسا شخص ظاہری خشوع کو دور کرنے کا مالک نہیں ہوتا، تو اسے دیکھے گا وہ سر جھکائے ہوئے متأدب اور متذلل ہوگا۔ نیک لوگ اس قسم سے جو ان پر ظاہر ہوتا تھا اسے چھپانے کی کوشش کرتے تھے۔ مذموم خشوع وہ ہے جس میں تکلف ہوتا ہے، جان بوجھ کر رونا اور سر جھکانا ہوتا ہے جیسا کہ جہلاء کرتے ہیں تاکہ انہیں عزت واحترام کی نظر سے دیکھا جائے، یہ شیطان کا دھوکا ہے اور انسان کے نفس کا فریب ہے۔ حضرت حسن نے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمر بن خطاب کے پاس سانس لیا گویا وہ پریشان ہے۔ حضرت عمر نے اسے مکا مارا۔ حضرت عمرؓ جب بولتے تھے تو اپنی آواز سناتے تھے، جب چلتے تھے تو تیز چلتے تھے جب مارتے تھے تو سخت مارتے تھے آپ سچے احکام پر عمل کرنے والے تھے اور سچا خشوع رکھنے والے تھے۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کیا ہے، فرمایا : الخاشعون سے مراد سچے مومن ہیں۔
Ayah 2:46

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 2:46 in the Quran reader

جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

آیت نمبر 46 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الذین یظنون، الذین محل جر میں ہے کیونکہ یہ خاشعین کی صفت ہے اور قطع کے اعتبار سے اس کو محل رفع میں کرنا بھی جائز ہے۔ جمہور علماء کے نزدیک یہاں ظن بمعنی یقین ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انی ظننت انی ملقٍ حسابیہ۔ (الحاقہ) (مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : النار فظنوا انھم مواقعوھا (الکہف :53) (وہ خیال کریں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں ) ۔ درید بن الصمہ نے کہا : فقلت لھم ظنوا بالفی مدجج سراتھم فی الفارسی المسرد (1) شاعر نے یہاں ظن بمعنی یقین استعمال کیا ہے۔ ابو داؤد نے کہا : رب ھم فرجتہ بغریم وغیوب کشف تھا بظنون یعنی میں نے کتنے ہی غیوب کو یقین کے ساتھ کھولا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس آیت میں ظن اپنے معنی میں صحیح ہے۔ کلام میں ان کے گناہوں کو چھپایا گیا ہے گویا وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی توقع رکھتے ہیں حالانکہ وہ گنہگار ہیں۔ یہ مہدوی اور ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ تعسف ہے۔ فراء نے کہا : ظن کبھی جھوٹ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ بصری علماء اس معنی کو نہیں جانتے۔ ظن کی اصل اور اس کا فائدہ “ شک ہونا ” ہے جبکہ اپنے معتقدات میں سے کسی ایک کی طرف میلان ہو۔ کبھی ظن یقین کے معنی میں ہوتا ہے جیسا کہ اس آیت اور دوسری آیات میں ہے لیکن جو امر حس کی طرف نکلے اس کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔ مثلاً عرب جو شخص دکھائی دے رہا ہو موجود ہو اس کے لئے یہ نہیں کہتے اظن ھذا انساناً ، تو اس کا استعمال اس صورت میں پائے گا جو ابھی حس کے دائرے میں نہ ہو۔ جیسا کہ اس آیت اور شعر میں ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : النار فظنوا انھم مواقعوھا (الکہف :53) کبھی یقین بمعنی ظن ہوتا ہے۔ اس کا بیان سورت کے آغاز میں ہوچکا ہے۔ تو کہتا ہے : سؤت بہ ظناً ، واسأت بہ الظن (میں نے اسے برا گمان کیا) جب معرف باللام ہو تو الف داخل کراتے ہیں اور ملقوا ربھم سے مراد ہے جزاء ربھم بعض علماء نے فرمایا : یہ باب مفاعلہ ہے حالانکہ یہ عمل ایک طرف سے ہے۔ (فرمایا) یہ اس طرح ہے : عافاہ اللہ۔ انھم ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ ہے اس کا پہلے ان پر عطف ہے اور قطع کے اعتبار سے اس پر کسرہ پڑھنا بھی جائز ہے الیہ سے مراد الی ربھم ہے بعض نے فرمایا الی جزاءہ ہے۔ رجعون یہ دوبارہ اٹھنے، جزا اور ملک اعلی کے سامنے پیش ہونے کا اقرار ہے۔
Ayah 2:47

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:47 in the Quran reader

اے یعقوب کی اولاد میرے وہ احسان یاد کرو جو میں نے تم پر کئے تھے اور یہ کہ میں نے تم کو جہان کے لوگوں پر فضلیت بخشی تھی

آیت نمبر 47 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یبنی اسراء یل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم اس کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ وانی فضلتکم علی العلمین اس سے مراد ان کے اپنے زمانہ کے لوگ ہیں اور ہر زمانہ کے لوگ ایک عالم ہیں۔ بعض نے فرمایا : تمام لوگوں پر فضیلت مراد ہے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء بنائے، یہ ان کا خلاصہ ہے۔ دوسروں کے لئے یہ شرف نہیں۔
Ayah 2:48

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:48 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جب کوئی کسی کے کچھ بھی کام نہ آئے اور نہ کسی کی سفارش منظور کی جائے اور نہ کسی سے کسی طرح کا بدلہ قبول کیا جائے اور نہ لوگ (کسی اور طرح) مدد حاصل کرسکیں

آیت نمبر 48 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واتقوا یوما لا تجزی نفس عن نفس شیئًا یہ امر ہے اور اس کا معنی وعید ہے، تقویٰ پر کلام پہلے گزر چکا ہے۔ یوماً سے مراد ان دن کا عذاب اور ہول ہے۔ اس سے مراد قیامت کا دن ہے، یوماً کی نصب اثقوا کی وجہ سے ہے، غیر قرآن میں یوم لا تجزی اضافت کے ساتھ بھی جائز ہے۔ کلام میں حذف ہے اس میں نحویوں کا اختلاف ہے۔ بصریوں نے کہا : تقدیر عبارت اس طرح ہے : یوماً لا تجزی فیہ نفسٍ پھر فیہ کو حذف کیا گیا۔ جیسا کہ شاعر نے کہا : ویوما شھدناہ سلیماً و عامراً اس دن سلیم اور عامر قبیلوں میں حاضر تھے۔ اصل میں شھدنا فیہ تھا۔ کسائی نے کہا : یہ خطا ہے فیہ کا حذف جائز نہیں لیکن تقدیر اس طرح ہے : واتقوا یوما لا تجزیہ نفس تھا پھر ضمیر کو حذف کیا گیا اور ضمیر کا حذف کرنا جائز ہے کیونکہ ظروف کا ان کے نزدیک حذف کرنا جائز نہیں ہے اور فرمایا : یہ کہنا جائز نہیں ہے : ھذا رجلاً قصدت ولا رایت رجلاً ارغب۔ جبکہ تیری مراد یہ ہو قصدت الیہ وارغب فیہ۔ فرمایا : اگر یہ جائز ہوتا تو یہ بھی جائز ہوتا : الذی تکلمت زید۔۔۔۔ یعنی تکلمت فیہ زید۔ فراء نے کہا : ضمیر اور فیہ کا حذف کرنا جائز ہے۔ مہدوی نے حکایت کیا ہے کہ سیبویہ، اخفش اور زجاج کے نزدیک دونوں وجہیں جائز ہیں۔ لا تجزی نفس عن نفس شیئًا کا مطلب یہ ہے کہ کسی دوسرے کے گناہ کی وجہ سے کسی سے مؤاخذہ نہ ہوگا اور کوئی نفس دوسرے کا دفاع نہیں کرسکے گا۔ جزی عنی ھذا الامر یجزی جیسے تو کہتا ہے قضیٰ عنی۔ واجتزأت بالشیء اجتزاء کہا جاتا ہے جب تو کسی کی کفایت کرے۔ شاعر نے کہا : فان الغدر فی الاقوام عارٌ وان الحر یجزء بالکراع اقوام میں غدر عار ہے، بیشک آزاد شخص جانور کے بازو پر کفایت کرتا ہے۔ حضرت عمر ؓ کی حدیث میں ہے : اذا اجریت الماء علی الماء جزیٰ عنک۔ جب تو پیشاب کے اوپر پانی بہا دے گا تو اس پر مکان کی طہارت کا حکم جاری ہوگا تجھے اس جگہ کو دھونے کی ضرورت نہیں اور کپڑے وغیرہ کے ساتھ پانی کو خشک کرنے کی ضرورت نہیں جیسا کہ اکثر لوگ کرتے ہیں۔ ابو بردہ بن نیار سے قربانی کے بارے میں صحیح حدیث میں ہے لن تجزی عن احد بعدک (1) ۔ یعنی تیرے علاوہ کسی کے لئے بکری کا چھوٹا بچہ کفایت نہیں کرے گا۔ لا تجزی کا معنی لا تقضی، لا تغنی اور لا تکفی ہے۔ یعنی وہ ادا نہیں کرے گا، فائدہ نہیں دے گا اور کفایت نہیں کرے گا اگر اس پر کسی کا حق نہ ہوگا اگر اس پر کسی کا حق ہوگا تو وہ اس کی نیکیوں کے اختیار کے بغیر کفایت کرے گا اور ادا کرے گا اور فائدہ دے گا۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اپنے بھائی پر اس کی عزت وغیرہ کے سلسلہ میں ظلم کیا ہو وہ آج ہی اس سے معاف کرا لے اس سے پہلے کہ نہ کوئی دینار ہوگا اور نہ درہم ہوگا، اگر اس عمل کا صالح ہوگا تو اس کے ظلم کی مقدار اس سے عمل صالح لیا جائے گا اگر اس کی نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کے گناہوں میں سے گناہ لے کر ظالم کے نامہ اعمال میں داخل کئے جائیں گے (2) ۔ یہ حدیث بخاری نے نقل کی ہے اس کی مثل مفلس کے بارے میں حدیث ہے۔ ہم نے “ تذکرہ ” میں ذکر کردی ہے۔ اسے مسلم نے تخریج کیا ہے اسے تجزنی تاء کے ضمہ اور ہمزہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ جزی اور اجزیٰ کا معنی ایک ہے۔ بعض نے ان کے درمیان فرق کیا ہے انہوں نے کہا : جزی بمعنی قضی ہے کا فا اور اجزیٰ بمعنی اغنی وکفیٰ ہے۔ اجزانی الشی یجزئنی یعنی کفانی اس نے میری کفایت کی۔ شاعر نے کہا : لو اجزأت امر العالمین ولم یکن لیجزی الا کامل وابن کامل تو نے تمام لوگوں کے معاملات کی کفایت کی اور کوئی کفایت نہیں کرتا سوائے کامل اور ابن کامل کے۔ مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا یقبل منھا شفاعۃ، شفاعۃٌ، شفع سے مشتق ہے جس کا معنی دو ہے۔ تو کہتا ہے : کان وتراً فشفعتہ شفعا وہ طاق تھا میں نے اسے جفت بنا دیا۔ اسی سے الشفعہ ہے کیونکہ اپنے شریک کی ملک کو اپنی ملک سے ملا دیتا ہے۔ الشفیع، شفعہ کرنے والے کو کہتے ہیں اور شفاعت کرنے والے کو کہتے ہیں۔ ناقۃ شافع ایسی اونٹنی جس کا حمل اور بچہ متواتر جمع ہوجائیں۔ تو کہتا ہے : شفعت الناقۃ شفعاً ۔ ناقۃ شفوع اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو ایک ہی مرتبہ دوہنے میں دو برتن بھرنے والی ہو۔ استشفعتہ الی فلانٍ یعنی میں نے اس سے سوال کیا کہ وہ میری اس کے پاس سفارش کرے۔ تشفعت الیہ فی فلانٍ فشفعنی۔ میں نے اسے فلاں کے پاس سفارش کرنے کے لئے کہا تو اس نے میری سفارش کی۔ پس شفاعت تب ہوگی جب تیرا غیر تیرے مرتبہ اور تیرے وسیلہ کے ساتھ ملے۔ یہ حقیقت میں جس کے پاس سفارش کی گئی ہے اس کے پاس شفیع کی منزلت و مرتبہ کا اظہار ہے اور اس کی منفعت مشفوع (جس کی سفارش کی گئی ہے) کو پہنچانا ہے۔ مسئلہ نمبر 4: اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ شفاعت حق ہے۔ معتزلہ نے اس کا انکار کیا ہے وہ کہتے ہیں : گنہگار مومنین جو آگ میں داخل ہوں گے وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے لیکن اخبار ظاہر میں ہے کہ موحدین گنہگار انبیاء کرام کی امتوں میں سے ہوں گے انہیں ملائکہ، انبیاء، شہداء اور صالحین میں سے سفارش کرنے والوں کی سفارش پہنچے گی۔ قاضی نے معتزلہ کا رد کرتے ہوئے دو چیزوں سے استدلال کیا ہے : (1) وہ اخبار جو معنی میں متواتر ہیں۔ (2) ان اخبار کے قبول کرنے پر سلف کا اجماع۔ کسی بھی زمانہ میں کسی شخص سے ان احادیث کا انکار ظاہر نہیں ہوا۔ شفاعت پر مبنی روایات اور ان کی صحت اور قبولیت پر علماء کا اتفاق، اہل حق کے عقیدہ کی صحت اور معتزلہ کے دین کے فساد پر قطعی دلیل ہے۔ اگر وہ کہیں کہ کتاب اللہ میں ایسی نصوص وارد ہیں جو ان اخبار کو رد کرتی ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ما للظلمین من حمیم ولا شفیع یطاع۔ (غافر) (نہ ہوگا ظالموں کے لئے کوئی دوست نہ ایسا سفارشی جس کی سفارش مانی جائے) وہ کہتے ہیں : گناہ کبیرہ کرنے والے ظالم ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من یعمل سوءًا یجز بہ (النساء : 123) (جو عمل کرے گا برے اسے سزا ملے گی) ولا یقبل منھا شفاعۃٌ (البقرہ :48) (اس سے شفاعت قبول نہ کی جائے گی) ہم کہتے ہیں : یہ آیات ہر ظالم کے لئے عام نہیں ہیں اور عموم کے لئے وضع نہیں ہے اور یہ آیات ہر برے عمل کرنے والے اور ہر نفس کے لئے نہیں ہیں ان سے مراد کافر لوگ ہیں نہ کہ مومنین۔ اس کی دلیل وہ اخبار ہیں جو شفاعت کے متعلق وارد ہیں، نیز اللہ تعالیٰ نے بعض اقوام کے لئے شفاعت کو ثابت کیا ہے اور بعض اقوام سے شفاعت کی نفی کی ہے۔ کافروں کی صفت میں فرمایا : فماتنفعھم شفاعتۃ الشفعین۔ (مدثر) (اور نہ نفع دے گی انہیں سفارش کرنے والوں کی سفارش) اور فرمایا : ولا یشفعون الا لمن ارتضیٰ (الانبیاء :28) (اور سفارش نہیں کریں گے مگر اس کے لئے جسے وہ پسند فرمائے) اور فرمایا : ولا تنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ (سبا : 23) (اور نہ نفع دے گی سفارش اس کے ہاں مگر جس کے لئے اس نے اجازت دی ہو) ہم نے ان تمام آیات سے جان لیا کہ شفاعت مومنوں کو نفع دے گی کافروں کو نفع نہ دے گی اور مفسرین کا اجماع ہے کہ اتقوا یوما لا تجزی نفس عن نفس شیئًا ولا یقبل منھا شفاعۃ ٌسے مراد نفس کا فرۃ ہے نہ کہ ہر نفس، اگر ہم ہر ظالم گنہگار کے لئے عذاب کے عموم کا قول کریں بھی تو ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔ اس کی دلیل وہ اخبار ہیں جو ہم نے روایت کی ہیں اور دوسری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء (النساء : 48) (اور بخش دیتا ہے جو اس کے علاوہ ہے جس کو چاہتا ہے) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہ لا یا یبئس من روح اللہ الا القوم الکفرون۔ (یوسف) (بلاشبہ مایوس نہیں ہوتے رحمت الٰہی سے مگر کافر لوگ۔ ) اگر وہ کہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا یشفعون الا لمن ارتضیٰ (الانبیاء : 28) اور فاسق پر تو رضا نہیں ہوتی۔ ہم کہیں گے : اللہ تعالیٰ نے لمن لا یر ضی نہیں فرمایا بلکہ لمن ارتضیٰ (الانبیاء : 28) فرمایا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جن کے لئے شفاعت کو پسند کرے گا وہ توحید پرست ہوں گے۔ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : لا یملکون الشفاعۃ الا من اتخذ عند الرحمٰن عھدًا۔ (مریم) (انہیں کوئی اختیار نہیں ہوگا شفاعت کا بجزان کے جنہوں نے خداوند رحمن سے کوئی وعدہ لے لیا ہے) نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق سے کیا عہد ہے ؟ فرمایا : وہ ایمان لائیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں (1) ۔ مفسرین نے کہا : مگر جس نے لا الہ الا اللہ کہا۔ اگر وہ کہیں کہ جس پر اللہ راضی ہوتا ہے وہ تو بہ کرنے والا جس نے اللہ کی بارگاہ میں لوٹنے کا عہد کیا اس کی دلیل یہ ہے کہ فرشتے ان کے لئے مغفرت کرتے ہیں۔ اور فرمایا : فاغفر للذین تابوا سبیلک (غافر :7) (بخش دے انہیں جنہوں نے (کفر سے) توبہ کی ہے اور پیروی کی ہے تیرے راستہ کی) اسی طرح انبیاء کرام کی شفاعت توبہ کرنے والوں کے لئے ہے اہل کبائر کے لئے نہیں ہے۔ ہم کہیں گے : تمہارے نزدیک اللہ پر توبہ قبول کرنا واجب ہے جب اللہ تعالیٰ گنہگار کی توبہ قبول کرے گا تو شفاعت اور استغفار کی ضرورت ہی نہ ہوگی۔ اہل تفسیر کا اس بات پر اجماع ہے کہ فاغفر للذین تابوا (غافر :7) سے مراد یہ ہے کہ ان کی مغفرت فرما جنہوں نے شرک سے توبہ کی واتبعوا سبیلک (غافر :7) یعنی مومنین کے راستہ کی اتباع کی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ ان کی مغفرت کرے ان کے گناہوں سے نہ کہ شرک سے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء (النساء : 48) (اور بخش دیتا ہے جو اس کے علاوہ ہے جس کو چاہتا ہے۔ ) اگر وہ کہیں کہ ساری امت نبی کریم ﷺ کی شفاعت میں رغبت رکھتی ہے، اگر یہ اہل کبائر کا خاصہ تھی تو ان کا سوال باطل ہوا۔ ہم کہیں گے ہر مسلمان رسول اللہ ﷺ کی شفاعت طلب کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے رغبت رکھتا ہے کہ اسے شفاعت نصیب ہو کیونکہ ہر شخص کا عقیدہ ہے کہ وہ گناہوں سے سلامت نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس پر جو فرض کیا ہے وہ اسے شفاعت نصیب ہو کیونکہ ہر شخص کا عقیدہ ہے کہ وہ گناہوں سے سلامت نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس پر جو فرض کیا ہے وہ اسے پوری طرح ادا کرنے والا نہیں ہے بلکہ ہر شخص اپنے بارے میں نقص کا معترف ہے اسی وجہ سے ہر شخص سزا سے ڈرتا ہے اور نجات کی امید رکھتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا : کوئی شخص نجات نہیں پائے گا مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ﷺ آپ بھی بغیر رحمت الٰہیہ کے نجات نہیں پائیں گے ؟ فرمایا : “ میں بھی نجات نہیں پاؤں گا مگر مجھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ڈھانپ دیا ہے (1) ”۔ مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا یقبل ابن کثیر اور ابو عمرو نے تقبل تاء کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ شفاعت مؤنثت ہے۔ باقی قراء نے مذکر یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ کیونکہ شفاعت بمعنی شفیع ہے۔ اخفش نے کہا : تذکیر (مذکر کا صیغہ) بہتر ہے کیونکہ تو نے فعل اور فاعل کے درمیان فرق کیا ہے جس طرح کہ پیچھے فتلقیٰ ادم من ربہ کلمتٍ (البقرہ : 37) میں گزرا ہے۔ مسئلہ نمبر 6: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا یؤخذ منھا عدل، عدلٌ سے مراد فدیہ ہے۔ العدل عین کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی الفداء ہے اور عین کے کسرہ کے ساتھ ہو تو اس کا معنی المثل ہے۔ کہا جاتا ہے عدلٌ وعدیل اس لئے بولا جاتا ہے جو وزن اور مقدار میں تیری مثل ہو۔ کہا جاتا ہے : عدل الشیء جو چیز قدروقیمت میں دوسری چیز کے مساوی ہو اگرچہ اس کی جنس سے نہ بھی ہو۔ العدل (عین کے کسرہ کے ساتھ) جو چیز اپنی جنس سے دوسری چیز کے مساوی ہو اور جسم میں مساوی ہو۔ طبری نے حکایت کیا ہے عرب عین کے کسرہ کے ساتھ فدیہ کے معنی میں استعمال کرتے ہیں (2) اور اعدال کا واحد عدل ہی ہے (یعنی عین کے کسرہ کے ساتھ) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا ھم ینصرون۔ یعنی ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔ النصر کا معنی العون (مدد) ہے۔ الانصار، الاعوان۔ اسی سے یہ ارشاد ہے : من انصاری الی اللہ (آل عمران : 52) یعنی کون اپنی نصرت کو میری نصرت کے ساتھ ملائے گا، انتصر الرجل، آدمی نے انتقام لیا۔ النصر کا معنی آنا بھی ہے۔ کہا جاتا ہے : نصرت ارض بنی فلاں، میں فلاں کی زمین میں آیا۔ شاعر نے کہا : اذا دخل شھر الحرام فودعی بلاد تمیم وانصری ارض عامر جب شہر حرام داخل ہو تو تمیم کے شہروں کو الوداع کہہ اور عامر قبیلہ کی زمین میں آ۔ النصر کا معنی بارش بھی ہے۔ کہا جاتا ہے : نصرت الارض زمین پر بارش ہوئی۔ النصر کا معنی عطا بھی ہے۔ شاعر نے کہا : وامہ واسطار سطرم سطرا لقائل یا نصر نصرًا نصرا ان سطور کی قسم جو لکھی گئی ہیں میں کہنے والا ہوں : اے عطا، عطا، عطا۔ اس آیت کا سبب جو علماء مفسرین نے ذکر فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے کہا : ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور پیارے ہیں اور انبیاء کی اولاد ہیں، ہمارے آباء ہماری سفارش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بتایا کہ قیامت کے روز سفارشات قبول نہیں کی جائیں گی اور نہ فدیہ لیا جائے گا۔ شفاعت، فدیہ اور نصرت کا خاص طور پر ذکر فرمایا کیونکہ ان چیزوں کے بنی آدم دنیا میں عادی ہیں۔ تکلیف میں مبتلا خلاصی نہیں پاتا مگر اس کے ساتھ کہ اس کی سفارش کی جائے، یا اس کی مدد کی جائے یا فدیہ دیا جائے۔