Ayah 2:165آیت نمبر 165
جب اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیت میں ایسی چیز کی خبر دی جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت اور عظیم سلطانی پر دلیل تھی۔ تو آپ نے بتایا کہ ان آیات قاہرہ کے باوجود ذوی عقول میں سے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کا مدمقابل بناتے ہیں۔ انداء کا واحد ند ہے یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اس سے مراد وہ بت اور مورتیاں ہیں جن کی وہ اس طرح عبادت کرتے تھے جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے حالانکہ وہ عاجز ہیں۔ یہ مجاہد کا قول ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یحبونھم کحب اللہ یعنی وہ اپنے بتوں سے اس طرح محبت کرتے ہیں جس طرح مومنین اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس اور سدی نے کہا : انداد سے مراد وہ رؤساء ہیں جن کی پیروی کی جاتی تھی وہ اللہ کی نافرمانی میں ان کی اطاعت کرتے تھے۔ یحبونھم میں ضمیر اس قول کے مطابق اصل پر ہے اور پہلے قول کے مطابق ضمیر بتوں کے لئے ہے۔ یہ غیر اصل پر ہے۔ ابن کیسان اور زجاج نے کہا : اس کا مطلب ہے وہ محبت میں بتوں اور اللہ تعالیٰ کے درمیان برابری کرتے ہیں۔ ابو اسحاق نے کہا یہ صحیح قول ہے اور اسکی صحت پر دلیل والذین امنوا۔۔۔ حبا للہ ہے۔ ابو رجاء نے یحبونھم یاء کی فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے، اسطرح جہاں بھی قرآن میں آیا ہے یہ بھی ایک لغت ہے۔ کہا جاتا ہے۔ حببت الرجل فھو محبوب۔ فراء نے کہا : ابو تراب نے کہا :
احب لحبھا السودان حتی حببت لحبھا سود الکلاب
میں اس کی محبت کی وجہ سے کالے لوگوں سے محبت کرتا ہوں حتیٰ کہ اس کی محبت کی وجہ سے کالے کتوں سے بھی محبت کرتا ہوں۔ اور من، من یتخذ میں مبتدا کی حیثیت سے محل رفع میں ہے اور یتخذوا حد کا صیغہ من کے لفظ کے اعتبار سے ہے۔ اور غیر قرآن میں معنی کے اعتبار سے ہتخذوں بھی جائز ہے اور یحبونھم معنی کے اعتبار سے ہے اور یحبھم لفظ کے اعتبار سے ہوگا اور یہ یتخذ میں جو ضمیر ہے اس سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یعنی محبین کے معنی میں ہے۔ اگر تو چاہے تو انداد کے نعت بنا دے یعنی محبوبۃ کے معنی میں۔ کعب میں کاف محذوب کی صفت ہے یعنی یحبو نھم حبا کحب اللہ۔
والذین امنوا اشد حبا للہ یعنی بت پرست جتنی اپنے بتوں اور تابعین اپنے متبوعین سے محبت کرتے ہیں مومنین اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس سے کہیں زیادہ محبت کرتے ہپیں۔ بعض علماء نے فرمایا : والذین امنوا اشد حبا للہ کیونکہ اللہ تعالیٰ پہلے ان سے محبت کرتا ہے پھر وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔ پس جو محبت کی وجہ سے اس کی محبت کی گواہی دیتا ہے اس کی محبت اتم ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یحبھم ویحبونہ (المائدہ : 54) مومنین کی اللہ تعالیٰ سے محبت اور اللہ تعالیٰ کی مومنین سے محبت کا بیان سورة آل عمران میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولو یری الذین ظلموا اذ یرون العذاب۔ اہل مدینہ اور اہل شام کی قراءت تا کے ساتھ ہے۔ اہل مکہ، اہل کوفہ اور ابو عمرو نے یا کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ ابو عبید کا اختیار ہے۔ اس آیت میں اشکال اور حذف ہے۔ ابو عبید نے کہا : اس کا معنی ہے اگر ظالم دنیا میں آخرت کا عذاب دیکھ لیتے تو جان لیتے جب وہ اسے دیکھتے کہ ساری قوت اللہ کے لئے ہے۔ اور اس بنا پر یری بصر کی رؤیت پر محمول ہوگا۔
نحاس نے معانی قرآن میں کہا ہے : یہ قول وہ ہے جس پر اہل تفسیر کا نظریہ ہے اور اعراب القرآن میں فرمایا : محمد بن یزید سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا : یہ تفسیر جو ابو عبید نے کی ہے بعید ہے۔ اس کی عبارت اس میں عمدہ نہیں ہے کیونکہ کلام مقدر کی جاتی ہے۔ ولو یری۔۔۔ العذاب۔ گویا اس نے اس کو مشکوک بنایا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو واجب کیا ہے۔ لیکن تقدیر عبارت اس طرح ہے اور یہی اخفش کا قول ہے۔ ولو یری الذین ظلموا ان القوۃ اللہ۔ اور یری بمعنی یعلم ہے یعنی اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قوت کی حقیقت اور اس کے عذاب کی شدت کی حقیقت کو جان لیتے تو حقیقۃ وہ جان لیتے کہ قوت اللہ کے لئے ہے اور یہ دو مفعولوں کے قائم مقام ہیں۔ والذین، یری کا فاعل ہے۔ اور لو کا جواب محذوف ہے تاکہ انہیں خدا بنانے کا نقصان واضح ہوجائے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ولو تری اذ وقفوا علی ربھم (انعام : 30) ولو تری اذ وقفوا علی النار (انعام :27) اور لو کا جواب نہیں ہے۔
زہری اور قتادہ نے کہا : اضمار، وعید کے لئے سخت ہے اس کی مثال، قائل کا قول ہے : لو رایت فلانا والسیاط تاخذہ !۔ اور جنہوں نے تاء کے ساتھ پڑھا ہے ان کی تقدیر یہ ہے : ولو تری یا محمد الذین ظلموا۔ یعنی اے پیارے محمد ! ﷺ اگر تم ظالموں کو اس حال میں دیکھتے جب وہ عذاب کو دیکھتے اور اس سے گھبراہٹ کے وقت انہیں دیکھتے اور اس کی عظمت کو دیکھتے تو یہ اقرار کرتے کہ قوت اللہ کے لئے ہے۔ پس جواب اس طریق پر مضمر ہے اور وہی ان کا عامل ہے۔ دوسری تقدیر یہ ہے کہ اے محمد ! ﷺ اگر آپ ظالموں کو اس کے عذاب دیکھنے اور اس سے گھبراہٹ کی حالت میں دیکھتے تو آپ جان لیتے کہ ساری قوت اللہ کے لئے ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس کو جان لیا تھا لیکن خطاب آپ کو ہے اور مراد آپ کی امت ہے کیونکہ ان میں سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے علم کی تقویت کے لئے اس قسم کا مشاہدہ کے محتاج ہوتے ہیں اور یہ معنی ہونا بھی جائز ہے۔ اے محمد ! ﷺ اس ظالم کو فرمائیے۔ بعض نے فرمایا : ان مفعول لا جلہ کی حیثیت سے منصوب ہے یعنی ان القوۃ للہ جمیعا سیبویہ نے استشہاد کا یہ شعر پڑھا ہے۔
واغفر عوراء الکریم ادخارہ واعرض عن شتم اللئیم تکرما
یہ ادخار، لادخار کے معنی میں ہے۔ معنی ہے کہ اے محمد ! ﷺ اگر آپ ظالموں کو عذاب دیکھنے کی حالت میں دیکھتے کیونکہ قوت اللہ کے لئے ہے تو آپ ان کی سزا کا مبلغ جان لیتے اور جو عذاب ان پر نازل ہوا اس کو عظیم جانتے۔ اذ، داخل ہوا ہے جب کہ ماضی میں امر ثابت کرنے کے لئے آتا ہے مقصود امر کو قریب ثابت کرنا اور اس کے وقوع کی تصحیح ہے۔ ابن عامر نے یرون یاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ حسن، یعقوب، شیبہ، سلام اور ابو جعفر نے ان القوۃ اور ان اللہ کو ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ نئے کلام کے اعتبار سے یا قول کی تقدیر پر۔ یعنی اگر تو ظالموں کو دیکھے جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو وہ کہیں گے : ساری قوت اللہ کے لئے ہے۔ اس آیت سے ثابت ہے کہ قوت اللہ کے لئے ہے بخلاف معتزلہ کے قول کے وہ صفات قدیمہ کے معافی کی نفی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے قول سے بلند وبالا ہے۔
Ayah 2:166آیت نمبر 166
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذتبرا الذین اتبعوا اس سے مراد سردار اور رؤساء ہیں وہ کفر پر اپنے متبعین سے براءت کریں گے۔ حضرت قتادہ، عطا اور ربیع سے مروی ہے۔ قتادہ اور سدی کا یہ قول بھی ہے کہ اس سے مراد گمراہ کرنے والے شیاطین ہیں جو انسانوں سے براءت کریں گے۔ بعض نے فرمایا : یہ ہر متبوع میں عام ہے وراوا العذاب یعنی اتباع کرنے والے اور جن کی اتباع کی گئ بعض نے فرمایا : دنیا میں عذاب کو آنکھوں سے دیکھنے کے وقت۔ بعض نے فرمایا : آخرت میں پیشی اور سوال کے وقت۔
میں کہتا ہوں : یہ دونوں ہوں گے۔ وہ موت کے وقت اس ذلت کو دیکھیں گے جس کی طرف وہ لوٹائے جائیں گے اور آخرت میں عذاب الیم کا مزہ چکھیں گے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وتقطعت بھم الاسباب سے مراد وہ تمام تعلقات ہیں جن کے ذریعے وہ دنیا سے ملتے ہیں خواہ وہ رشتہ داری کے تعلقات ہیں یا کوئی اور۔ یہ مجاہد وغیرہ سے مروی ہے۔ اسباب کا واحد سبب ہے اور اس کو معنی خلق ہے۔ السبب کا اصل معنی وہ رسی ہے جس کے ساتھ کسی شے کو باندھا جاتا ہے اور پھر اسے کھینچا جاتا ہے۔ پھر ہر اس چیز کے لئے استعمال ہونے لگا جو کسی چیز کو کھینچے۔ سدی اور ابن زید نے کہا : اسباب سے مراد اعمال ہیں اور سببکا معنی کنارہ بھی ہے۔ اس سے زبیر کا قول ہے :
ومن ھاب اسباب المنایا ینلنہ ولو رام اسباب السماء یسلم
جو موت کے اسباب سے ڈرا انہوں نے اسے پا لیا۔ اگر وہ آسمانی اسباب کا قصد کرتا تو سلامت رہتا۔
Ayah 2:167آیت نمبر 167
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقال الذین اتبعوا لو ان لنا کرۃ، ان، محل رفع میں ہے یعنی اگر ہمارے لئے لوٹنا ہوتا۔ فنتبرا منھم یہ تمنا کا جواب ہے۔ الکرۃ، سے مراد ایک حالت کی طرف لوٹنا ہے یعنی اتباع کرنے والے کہیں گے : اگر ہمیں دنیا کی طرف لوٹا یا جاتا حتیٰ کہ ہم نیک عمل کرتے اور ان سے بری ہوجاتے۔ کما تبراء وا منا کاف مصدر محذوف کی صفت کے اعتبار سے محل نصب میں ہے۔ اس کا حال کے اعتبار سے منصوب ہونا بھی جائز ہے۔ متبرئین اس کی تقدیر ہوگی۔ التبرء کا معنی ہے : جدا ہونا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کذلک یریھم اللہ اعمالھم حسرٰت علیھم کاف محل رفع میں ہے یعنی امراسی طرح ہے یعنی جس طرح اللہ انہیں عذاب دکھائے گا اسی طرح اللہ انہیں ان کے اعمال دکھائے گا یریھم اللہ بعض علماء نے فرمایا یہ آنکھ سے دیکھنا ہے۔ یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے پہلا مفعول ھم ضمیر ہے اور دوسرا اعمالھم ہے اور حسرت حال ہے۔ یہ ابھی احتمال ہے کہ یہ رویۃ قلب سے ہو اس صورت میں حسرت تیسرا مفعول ہوگا۔ اعمالھم۔ ربیع نے کہا : اس سے مراد ان کے برے اعمال ہیں جن کا انہوں نے ارتکاب کیا پس ان کے لئے ان اعمال کی وجہ سے دوزخ واجب ہے، حضرت ابن مسعود اور سدی نے کہا : اس سے مراد اعمال صالحہ ہیں جن کو انہوں نے چھوڑ دیا، پس وہ جنت سے محروم ہوگئے۔ اس قول میں احادیث روایت کی گئی ہیں۔ سدی نے کہا : ان کے لئے جنت بلند کی جائے گی۔ پس وپ اسے دیکھیں گے اور جنت میں اپنے گھروں کو دیکھیں گے۔ اگر وہ اللہ کی اطاعت کرتے تو انہیں وہ گھر ملتے، پھر ان کے گھر مومنین کے درمیان تقسیم کئے جائیں گے تو اس وقت وہ شرمندہ ہوں گے۔ یہ اعمال ان کی طرف مضاف کئے گئے ہیں کیوں کہ انہیں ان کا حکم دیا گیا تھا اور اعمال فاسدہ کی ان کی طرف نسبت اس اعتبار سے ہے کہ انہوں نے ان کا ارتکاب کیا۔ الحسرۃ کی جمع الحسرات ہے جیسے تمرۃ اور تمرات، جفنۃ اور جفنات، شھوۃ اور شھوات۔ یہ اس صورت میں ہے جب اسم ہو۔ جب تو اسے نعت بنائے گا تو تو اس کو ساکن کرے گا جیسے ضخمۃ وضحمات، عبلۃ وعبلات۔ الحسرۃ فوت شدہ چیز پر اعلیٰ درجہ کی ندامت کو کہتے ہیں۔ الحسر کا معنی افسوس کا اظہار کرنا ہے۔ کہا جاتا ہے : حسرت علیہ، سین کے کسرہ کے ساتھ۔ احسر حسرا وحشرۃ۔ یہ اس چیز کے لئے استعمال ہوتا ہے جو تھک جائے اور اس کی قوت ختم ہوجائے جیسے اونٹ تھک جائے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ حسر سے مشتق ہے جس کا معنی ہے : کھل جانا، اسی سے الحاسر فی الحرب ہے وہ شخص جنگ میں جس کے پاس زرہ نہ ہو۔ الانحسار کا معنی انکشاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما ھم بخرجین من النار یہ کفار کے ہمیشہ دوزخ میں رہنے کی دلیل ہے، کفار دوزخ سے کبھی نہیں نکلیں گے۔ یہ اہل سنت کا علماء کا قول ہے اور ان کی دلیل یہ آیت ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ولا یدخلون۔۔۔۔۔ الخیاط (اعراف : 40) (اور نہ داخل ہوں گے جنت میں جب تک نہ داخل ہو اونٹ سوئی کے ناکہ میں) ۔
Ayah 2:168آیت نمبر 168
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یایھا الناس بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت ثقیف، خزاعہ اور بنی مدلج کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ انہوں نے اپنے اوپر جانوروں میں سے کچھ حرام کئے تھے۔ لفظ عام ہے اور یہاں طیب سے مراد حلال ہے یہ لفظ کے اختلاف کی وجہ سے تاکید ہے۔ یہ طیب کے بارے میں امام مالک کا قول ہے۔ امام شافعی نے فرمایا : طیب سے مراد ہے جس سے لذت حاصل کی جائے۔ یہ تنویع ہے اسی وجہ سے گندے حیوان کے کھانے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کا بیان سورة انعام اور سورة اعراف میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حللا طیبا، حللا حال ہے۔ بعض نے فرمایا : مفعول ہے حلال کو حلال کہنے کی وجہ یہ ہے اس سے منع کی گرہ کھل جاتی ہے ت۔ حضرت سہل بن عبد اللہ نے کہا : نجات تین چیزوں میں ہے : حلال کھانا، فرائض ادا کرنا اور نبی کریم ﷺ کی پیروی کرنا، ابو عبد اللہ ساجی نے کہا : اس کا نام سعید بن زید تھا۔۔۔ پانچ خصال کے ساتھ علم مکمل ہوتا ہے : (1) اللہ تعالیٰ کی معرفت (2) حق کی معرفت (3) اللہ تعالیٰ کے لئے عمل میں اخلاص (4) سنت پر عمل (5) حلال کھانا۔ اگر ان میں سے ایک خصلت بھی نہ پائی جائے تو عمل بلند نہیں ہوتا۔ حضرت سہل نے کہا : حلال کھانا ہو ہی نہیں سکتا مگر علم کے ساتھ۔ اور مال حلال نہیں ہوسکتا حتیٰ کہ وہ چھ چیزوں سے پاک ہو : سود، حرام، السحت یہ مجمل اسم ہے۔۔۔ خیانت، مکروہ اور شبہ۔
مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تتبعوا یہ نہی ہے۔ خطوت الشیطن، خطوت جمع ہے خطوۃ اور خطوۃ کی، دونوں کا معنی ایک ہے۔ فراء نے کہا الخطوات خطوۃ کی (خاء کے فتحہ کے ساتھ) جمع ہے خطوۃ (خاء کے ضمہ کے ساتھ) دو قدموں کے درمیان کے فاصلہ کو کہتے ہیں۔ جوہری نے کہا : جمع قلت خطوات اور خطوات ہے اور جمع کثرت خطا ہے اور الخطوۃ (خاء کے فتحہ کے ساتھ) مصدر ہے۔ جمع خطوات اور خطاء ہے جیسے رکوۃ اور رکاء ہے۔ امرء القیس نے کہا :
لھا وثبات کو ثب الظباء فواد خطاء و واد مطر
ابو السماء العدوی اور عبید بن عمیر نے خطوات (خا اور طا کے فتحہ کے ساتھ) پڑھا ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب، قتادہ، اعرج، عمرو بن میمون اور اعمش نے خطؤات خا اور طا کے ضمہ اور واؤ پر ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اخفش نے کہا : قراءت کرنے والوں کا نظریہ یہ ہے کہ یہ خطیئۃ کی جمع ہے یہ الخطاء سے ہے الخطو سے نہیں ہے۔ جنہور کی قراءت پر معنی یہ ہوگا : شیطان کے پیچھے نہ چلو اور اس کے اعمال پر نہ چلو۔ اور جس عمل کے بارے شرع کا حکم وارد نہیں وہ شیطان کی طرف منسوب ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : خطوات الشیاطین سے مراد شیطانی اعمال ہیں۔ مجاہد نے کہا : شیطان کی خطائیں ہیں۔ سدی نے کہا : اس سے مراد شیطان کی اطاعت ہے۔ ابو مجلز نے کہا : یہ گناہوں کی نذریں ہیں۔ میں کہتا ہوں : صحیح یہ ہے کہ یہ لفظ عام ہے۔ سنن اور شرائع کے علاوہ تمام بدعات اور گناہوں کو شامل ہے۔ شیطان کے بارے تفصیلی گفتگو ہوچکی ہے۔
مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہ لکم عدو مبین اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ شیطان دشمن ہے اور اللہ تعالیٰ کی خبرحق اور سچ ہے۔ عقلمند پر واجب ہے کہ وہ اس دشمن سے بچے جس کی عداوت حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ سے ظاہر ہے۔ اس نے اپنی پوری عمر انسان کے احوال کے خراب کرنے میں خرچ کردی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے بچنے کا حکم فرمایا۔
ارشاد فرمایا : ولا تتبعوا۔۔۔۔ مبین۔ اور نہ پیروی کرو شیطان کے قدموں کی بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
انما یامرکم۔۔۔۔۔ مالا تعلمون۔ (البقرہ) ” وہ تو حکم دیتا ہے تمہیں فقط برائی اور بےحیائی کا اور یہ کہ بہتان باندھو اللہ پر جو تم جانتے ہی نہیں “۔ اور فرمایا : الشیطن یعدکم۔۔۔۔ بالفحشاء (البقرہ : 268) شیطان ڈراتا ہے تمہیں تنگ دستی سے اور حکم کرتا ہے تم کو بےحیائی کا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ویرید الشیطن۔۔۔ بعیدا۔ (النساء) ” چاہتا ہے شیطان کہ بہکا دے انہیں بہت دور تک “۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انما یرید الشیطن۔۔۔۔۔ منتھون۔ (المائد) ” یہی تو چاہتا ہے شیطان کہ ڈال دے تمہارے درمیان عداوت اور بعض شراب اور جوئے کے ذریعے اور روک دے تمہیں یاد الٰہی سے اور نماز سے “۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انہ عدو مضل مبین۔ (القصص) ” وہ دشمن کھلا گمراہ کرنے والا ہے “۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان الشیطن لکم عدو۔۔۔۔ السعیر۔ (فاطر) ” یقینا شیطان تمہارا ! دشمن ہے تم بھی اسے (اپنا) دشمن سمجھا کرو وہ فقط اس لئے (سرکشی کی) دعوت دیتا ہے اپنے گروہ کو تاکہ وہ جہنمی بن جائیں “۔
یہ ڈرانے میں حد ہے۔ اس کی مثالیں قرآن میں کثیر ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر نے فرمایا : شیطان نچلی زمین میں باندھا ہوا ہے جب وہ حرکت کرتا ہے تو زمین میں پر دو شخصوں یا زیادہ کے درمیان شر اس کے تحرک سے ہوتا ہے۔ ترمذی نے حضرت ابو مالک اشعری کی حدیث نقل کی ہے، اس میں ہے : میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کو یاد کرو کیونکہ اس کی مثال اس شخص کی مثل ہے جس کے پیچھے دشمن جلدی سے نکلتا ہے حتیٰ کہ وہ شخص ایک محفوظ قلعہ میں آتا ہے اور دشمنوں سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے۔ اسی طرح بندہ شیطان سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا مگر اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Ayah 2:169آیت نمبر 169
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انما یامرکم بالسوء والفحشاء سؤ کو سؤ اس لئے کہا جاتا ہے : آدمی اپنے مقابل کو برے انجام سے پریشان کرتا ہے۔ سوء، ساء یسؤ سوء اور مساءۃ کا مصدر ہے، جب کوئی کسی کو پریشان کرے۔ سؤتہ فسیئ جب اس نے اسے پریشان کیا تو وہ پریشان ہو یا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سیئت وجوہ الذین کفروا (الملک : 27) شاعر نے کہا :
ان یک ھذا الدھر قد ساءنی فطالما قد سرنی الدھر
الامر عندی فیھما واحد لذاک شکر ولذاک صبر
اگر اس زمانہ نے مجھے پریشان کیا ہے تو اس نے مجھے خوش بھی کیا تھا۔ میرے نزدیک دونوں حالتوں میں معاملہ ایک ہے۔ خوشی کے لئے شکر ہے اور تکلیف اور پریشانی کے لئے صبر ہے۔ الفحشاء برے منظر کو کہتے ہیں۔ جیسے شاعر نے کہا :
وجید کجید الریم لیس بفاحش (اور اس کی گردن، ہرن کی گردن کی طرح ہے وہ بری نہیں ہے)
پھر یہ لفظ برے معانی کے لئے استعمال ہونے لگا۔ شرع ہی کسی چیز کو حسین اور قبیح بناتی ہے، ہر وہ چیز جس سے شریعت نے منع فرمایا وہ فحشاء میں سے ہے۔ مقاتل نے کہا : قرآن میں فحشاء کا ذکر جہاں بھی آیا ہے اس سے مراد زنا ہے سوائے اس ارشاد کے الشیطن یعدکم۔۔۔۔ بالفحشاء (البقرہ : 268) یہاں فحشاء سے مراد زکاۃ نہ دینا ہے۔ میں کہتا ہوں : اس بنا پر بعض علماء نے کہا السؤ وہ جرم ہے جس میں حد نہیں اور الفحشاء وہ گناہ ہے جس میں حد ہے۔ حضرت ابن عباس وغیرہ سے یہ مروی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان تقولوا علی اللہ مالا تعلمون طبری نے کہا : کہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو انہوں نے بحیرہ اور سائبہ میں سے حرام کی تھیں اور انہیں اپنی طرف سے شرح بنایا تھا۔ وان تقولوا بالسوء والفحشاء پر عطف کی بنا پر محل جر میں ہے۔
Ayah 2:170آیت نمبر 170
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ نے فرمایا : واذا قیل لھم، ھم ضمیر سے مراد کفار عرب ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ یہ یہود کے بارے میں نازل ہوئی۔ یہ طبری کا قول ہے : لھم میں ضمیر، یا ایھا الناس میں جو الناس ہے اس کی طرف راجع ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : من یتخذ من دون اللہ میں جو من ہے اس کی طرف راجع ہے اور اتبعوا ما انزل اللہ یعنی قول و عمل میں قرآن کی اتباع کرو۔ قالوا بل نتبع۔۔۔ اباءنا، الفینا کا معنی ہے ہم نے پایا۔ شاعر نے کہا :
فالفیتہ غیر مستعتب ولا ذاکر اللہ الا قلیلا
میں نے اسے نہ تو بہ کرنے والا اور نہ اللہ کا ذکر کرنے والا پایا مگر تھوڑا۔
مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اولوکان ابآؤھم الف استفہام کے لئے ہے اور واو کو فتحہ دیا گیا ہے کیونکہ یہ واو عاطفہ ہے، جملہ کا عطف جملہ پر ہے کیونکہ فساد کی غایت التزام میں یہ ہے کہ وہ کہیں ہم اپنے آباء کی پیروی کریں گے اگرچہ وہ نہ بھی سمجھتے تھے۔ پس انہوں نے اپنے نظریہ سے چمٹے رہنے اور اس کے التزام کو ثابت کیا کیونکہ یہی ان کے آباء کی حالت تھی۔
مسئلہ : ہمارے علماء نے فرمایا : اس آیت کے الفاظ کی قوت، تقلید کے ابطال کا تقاضا کرتی ہے اسکی مثل یہ آیت بھی ہے۔ واذا قیل لھم۔۔۔۔۔ علیہ اباءنا (المائدہ : 104) (جب کہا جاتا ہے انہیں کہ آؤ اس کی طرف جو نازل کیا ہے اللہ نے اور آؤ (اس کے) رسول کی طرف تو کہتے ہیں : کافی ہے ہمیں جس پر پایا ہم نے اپنے باہ دادا کو) ۔ یہ آیت اور اس سے پہلے والی آیت اپنے ماقبل سے متصل ہیں۔ یہ اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عربوں کی جہالت کے متعلق خبر دی کہ انہوں نے اپنی بیوقوفانہ آراء سے بحیرہ، سائبہ اور وصیلہ جانوروں کی حرمت کا فیصلہ کیا۔ اور انہوں نے حجت اس سے پکڑی کہ یہ ایک ایسا امر ہے جس پر انہوں نے اپنے آباء کو پایا اور اس میں ان کی اتباع کی اور اس کو چھوڑ دیا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر نازل کیا اور جس کا اس نے اپنے دین میں حکم دیا۔ پس لھم میں ضمیر دونوں آیتوں میں کفار عرب کی طرف لوٹے گی۔
مسئلہ نمبر 3: بعض علماء نے اسی آیت کی وجہ سے تقلید کی مذمت کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفار کی مذمت فرمائی کیونکہ انہوں نے باطل میں اپنے آباء کی اتباع کی تھی اور کفر و معصیت میں ان کی پیروی کی تھی۔ یہ مذمت تقلید باطل میں تو صحیح ہے لیکن حق میں تقلید کرنا اصول دین میں سے ایک اصل ہے اور مسلمانوں کی عصمتوں میں سے ایک عصمت (حفاظت) ہے۔ جاہل جو خوف غور و فکر سے قاصر ہوتا ہے وہ اس کی طرف پناہ لیتا ہے۔ علماء کا اصول کے مسائل میں اس کے جواز میں اختلاف ہے جیسا کہ آگے آئے گا اور فروعی مسائل میں اس کا جواز صحیح ہے۔
مسئلہ نمبر 4: علماء کے نزدیک تقلید کی حقیقت یہ ہے کہ کسی کے قول کو بغیر دلیل کے قبول کرنا۔ اس معنی کے اعتبار سے جس نے نبی کریم ﷺ کے معجزات میں غور و فکر کے بغیر نبی کریم ﷺ کا قول قبول کیا وہ مقلد ہے اور جس نے معجزات میں غوروفکر کرکے آپ نے قول کو قبول کیا وہ مقلد نہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : جو کسی کے قول کی صحت کو نہیں جانتا اس کے فتویٰ کی صحت کا اعتقاد کرنا تقلید ہے۔ لغت میں یہ قلادۃ البعیر (اونٹ کا ہار) سے ماخوذ ہے۔ عرب کہتے ہیں : قلدت البعیر، جب تو اس کے گلے میں ایسی رسی ڈالے جس کے ساتھ اس کو چلایا جائے۔ گویا مقلد اپنے تمام امور اپنے قائد کے سپرد کردیتا ہے۔ اسی وجہ سے شاعر نے کہا
وقلدوا امرکم للہ درکم ثبت الجنان بامر الحرب مضطلعا
مسئلہ نمبر 5: تقلید یہ تو علم کا طریق ہے، نہ علم تک یہ پہنچانے والی ہے، نہ اصول میں ہے، نہ فروع میں ہے۔ یہ جمہور عقلاء اور علماء کا قول ہے جبکہ حشویہ اور ثعلبیہ جہال سے حکایت ہے کہ یہ (تقلید) حق کی معرفت کا ذریعہ ہے اور یہ واجب ہے اور غور و فکر حرام ہے۔ اور ان پر ہمارے علماء نے جو حجت پیش کی ہے وہ کتب اصول میں ہے۔
مسئلہ نمبر 6: عام آدمی پر فرض ہے کہ وہ احکام کے استنباط میں احکام کے اصول میں مشغول نہ ہو کیونکہ اسے اس کی اہلیت نہیں ہے اور یہ حکم اس کے لئے ہر اس دینی معاملہ میں ہے جس کو وہ خود نہیں جانتا اور وہ محتاج ہوتا ہے اپنے زمانہ اور اپنے شہر کے بڑے عالم کی طرف جانے کا۔۔۔ پس وہ ہر نئے مسئلہ کو اس سے پوچھے اور اس کو فتویٰ کی پیروی کرے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون (النحل) (پوچھو اہل علم سے اگر تم (خود حقیقت حال کو) نہیں جانتے) ۔
اس شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنے وقت کے بڑے عالم سے پوچھنے کی کوشش کرے تاکہ اکثر لوگوں کا اس پر اتفاق واقع ہو اور عالم پر بھی فرض ہے کہ وہ کسی بھی جدید مسئلہ میں کسی دوسرے عالم کی تقلید کرے جس میں دلیل و نظر کی وجہ اس پر مخفی ہوگئی ہے وہ اس میں غور وفکر کرنے کا ارادہ کرے حتیٰ کہ وہ مطلوب تک پہنچ جائے۔ پس اس کے پاس وقت تنگ ہو اور اسے عبادت کے فوت ہونے کا خوف ہو یا حکم کے ضیاع کا خوف ہو، خواہ وہ دوسرا مجتہد صحابی ہو یا کوئی اور ہو۔ قاضی ابوبکر اور محققین کی جماعت کا یہی قول ہے۔
مسئلہ نمبر 7: ابن عطیہ نے کہا : عقائد میں تقلید کے ابطال پر امت کا اجماع ہے۔ قاضی ابوبکر بن عربی، ابو عمر و عثمان بن عیسیٰ بن درب اس الشافعی جیسے علماء کا قول اس کے خلاف ذکر کیا ہے۔ ابن درب اس نے اپنی کتاب ” الانتصار “ میں کہا ہے کہ بعض علماء نے کہا : توحید کے امر میں تقلید جائز ہے۔ یہ غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیی کا ارشاد ہے : انا وجدنا اباءنا علی امۃ (زخرف :22) اللہ تعالیٰ نے ان کی اپنے آباء کی تقلید پر اور رسل کی اتباع ترک کرنے پر ان کی مذمت کی ہے جیسے اہل بدعت نے اپنے بڑوں کی تقلید کی اور دین میں حضرت محمد ﷺ کی اتباع کو ترک کیا کیونکہ ہر مکلف پر توحید کے امر کا سیکھنا فرض ہے اور ضروری ہے اور یہ کتاب و سنت سے ہی حاصل ہوتا ہے جس طرح آیت توحید میں ہم نے بیان کیا تھا۔ اللہ یھدی من یرید (الحج)
ابن درب اس نے کہا : اکثر اہل زیغ کا قول یہ ہے کہ جو کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑتا ہے وہ مقلد ہے۔ یہ ان کی خطا ہے بلکہ یہ ان کے زیادہ لائق ہے ان کے مذہب کے مناسب ہے، کیونکہ انہوں نے اپنے رہنماؤں اور بڑوں کے قول کو قبول کیا جن میں انہوں نے اللہ کی کتاب اور رسول اللہ کی سنت اور اجماع صحابہ کی مخالفت کی ہے۔ پس یہ ان میں داخل ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد سے مذمت کی ہے۔ ربنا انا اطعنا۔۔۔۔ لعنا کبیرا ( سورة احزاب) (اے ہمارے رب ہم نے پیروی کی اپنے سرداروں کی اور اپنے بڑے لوگوں کی پس ان ظالموں نے ہمیں بہکا دیا سیدھی راہ سے الخ)
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انا وجدنا ابآءنا۔۔۔۔۔ مھتدون۔ (زخرف) پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا۔ قل اولو جئتکم۔۔۔۔۔۔ بہ کفرون۔ (زخرف) (اس نبی نے فرمایا : اگر میں لے آؤں تمہارے پاس زیادہ درست چیز اس سے جس پر پایا ہے تم نے اپنے باپ دادا کو (تب بھی ؟ ) انہوں نے جواب دیا : ہم جو دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے اس کو نہیں مانتے۔ پھر نبی کریم ﷺ کو فرمایا : فانتقمنا منھم پس ہم نے انتقام لیا ان سے۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ ہدایت ان احکام میں ہے جو رسل (علیہم السلام) لے کر آئے۔
اہل اثر کا قول ان کے عقائد کے بارے میں نہیں ہے کہ ہم نے اپنے ائمہ اور آباء اور لوگوں کو کتاب و سنت اور صالحین کے اجماع پر پایا۔ اور کفار نے کہا : ہم نے اپنے آباء کو پایا اور ہم نے اپنے سادات اور بڑوں کی ایک راستہ میں اطاعت کی۔ چونکہ مسلمانوں نے اپنی اطاعت کو قرآن اور متابعت رسول کی طرف منسوب کیا جبکہ کافروں نے اپنے جھوٹ کو اہل باطل کی طرف منسوب کیا پس وہ گمراہی میں زیادہ ہوگئے۔ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تعریف فرمائی۔ ارشاد فرمایا : انی ترکت ملۃ۔۔۔۔۔۔ وعلی الناس (یوسف) (میں نے چھوڑ دیا ہے دین اس قوم کا جو نہیں ایمان لاتے اللہ پر نیز وہ آخرت کا انکار کرنے والے ہیں اور میں تو پیروکار بن گیا اپنے باپ دادا ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے دین کا، نہیں روا ہمارے لئے کہ ہم شریک ٹھہرائیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو (توحید پر ایمان) تو اللہ تعالیٰ کا خاص احسان ہے) ۔
جبکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے آباء وحی کے متبعین تھے اور یہی دین خالص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پسند کیا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اپنے آباء کی پیروی کرنا ان کی مدح کی صفات سے ہے۔ اور آپ وہ نہیں لائے جو وہ لائے تھے، اعراض کا ذکر اور اعراض کا جواہر کے ساتھ تعلق اور ان کا ان سے بدلنا پس یہ دلیل ہے کہ ان میں ہدایت نہیں اور نہ ان کے وضع کرنے والوں میں ہدایت ہے۔
ابن حصار نے کہا : ان کے ساتھ تلفظ دو سو سال بعد مامون کے زمانہ میں ظاہر ہوا تھا جب پہلی کتب کے ترجمے کئے گئے اور ان میں عالم کے قدیم اور حدوث میں اختلاف ظاہر ہوا اور جوہر اور اس کا ثوبت، عرض اور اس کی ماہیت میں اختلاف ظاہر ہوا۔ پس بدعتوں اور ان لوگوں نے جن کے دلوں میں کجی تھی۔ انہوں نے ان اصطلاحات کی حفاظت کی طرف جلدی کی اور ان کے ذریعے اہل سنت پر اغراب کا قصد کیا اور اہل ملت میں سے کمزور لوگوں پر شبہات کو داخل کرنے کا ارادہ کیا۔ معاملہ اسی طرح چلتا رہا حتیٰ کہ بدعت غالب آئی اور بدعتی ایک گروہ بن گیا اور سلطان پر معاملہ ملتبس ہوگیا حتیٰ کہ امیر نے خلق قرآن کا قول کیا اور لوگوں کو اس پر مجبور کیا اور امام احمد بن حنبل کو اس کی مخالفت پر سزا دی۔ اہل سنت کے علماء شیخ ابو الحسن اشعری، عبد اللہ بن کلاب اور ابن مجاہد، محاسبی اور دوسرے ان جیسے علماء نے ان کو جواب دینے کا بیڑا اٹھایا اور بدعتوں کے ساتھ ان کی اصطلاحات میں غور و خوض کیا پھر ان کے ساتھ جنگ کی اور ان کے ہتھیاروں کے ساتھ انہیں قتل کیا جو مسلمان کتاب و سنت کو پکڑنے والے تھے اور ملحدین کے شبہات سے اعراض کرنے والے تھے۔ انہوں نے جوہر اور عرض میں غور نہ کیا اور اسی پر سلف صالحین تھے۔
میں کہتا ہوں : جس نے اب متکلمین کی اصطلاح میں غور و فکر کیا حتیٰ کہ اس کے ساتھ دین کا دفاع کیا اس کا مرتبہ انبیاء کے مرتبہ کے قریب ہے۔۔۔ اور جو غالی متکلمین میں سے ان لوگوں کے راستہ پر چلا جنہوں نے اثر کو مضبوطی سے پکڑا اور علم کلام کی کتب کے درس پر برانگیختہ کیا اور وہ حق کو صرف ان اصطلاحات کے واسطہ سے پہچانتا تھا تو وہ مذموم ہوگیا کیونکہ انہوں نے سابقہ ائمہ کے راستہ کو چھوڑ دیا۔۔۔ دلیل اور حجت کے ساتھ جھگڑنا یہ تو قرآن میں واضح ہے۔ اس کا بیان آگے آئے گا۔
Ayah 2:171آیت نمبر 171
اللہ تعالیٰ نے کفار کو وعظ کرنے والے اور ان کو دعوت دینے والے کو اس چروا ہے کے ساتھ تشبیہ دی جو بکریوں اور اونٹوں کو آواز دیتا ہے۔۔۔ وہ داعی حضرت محمد ﷺ تھے۔۔۔ اور وہ جانور صرف اس کی آواز اور ندا کو سنتے ہیں اور جو وہ کہتا ہے اس کو سمجھتے نہیں ہیں اسی طرح حضرت ابن عباس، مجاہد، عکرمہ، سدی، زجاج، فراء اور سیبویہ نے اس کی اسی طرح تفسیر کی ہے۔ یہ انتہائی ایجاز کے ساتھ کلام ہے۔ سیبویہ نے کہا : ان کفار کو پکارنے والے سے تشبیہ نہیں دی بلکہ جانوروں سے تشبیہ دی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اے محمد ! ﷺ تیری مثال اور کفار کی مثال ان جانوروں کو آواز دینے والے اور ان جانوروں کی ہے جو سمجھتے نہیں ہیں۔ پس معنی کی دلالت کو حذف کیا گیا ہے۔ ابن زید نے کہا : اس کا معنی ہے کہ کفار کی اپنے پتھر کے خداؤں کو پکارنے کی مثال رات کے درمیان میں چیخنے والے کی ہے۔ پس صدی اس کو جواب دیتی ہے وہ ان کو آواز دیتا ہے جو سنتے نہیں ہیں اور وہ ایسا جواب دیتا ہے جس کی حقیقت نہیں ہے اور نفع بخش نہیں ہے۔ قطرب نے کہا : اس کا معنی ہے کفار کا انہیں پکارنا جو ان کی بات سمجھتے ہی نہیں ہیں جس طرح چرواہا اپنی بکریوں کو آواز دیتا ہے وہ نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہیں۔ طبری نے کہا : اس سے مراد کافروں کا پانے بتوں کو پکارنے کی مثال اس شخص کی ہے جو دور سے کسی چیز کو پکارتا ہے اور دوری کی وجہ سے اس کی آواز نہیں سنی جاتی۔ پس پکارنے والے کے لئے صرف پکار اور ندا ہے جو اسے مشقت اور تھکن میں ڈالتی ہے۔ ان تینوں تاویلات میں کفار کو پکارنے والے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے اور بتوں کو جانوروں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ النعیق کا معنی بکریوں کو جھڑکنا اور ان کو آواز دینا ہے۔ کہا جاتا ہے : نعق الراعی بغنمہ ینعق نعیقا ونعاقاً ونعقاناً ۔ یعنی چرواہا اپنی بکریوں پر چلایا اور انہی جھڑکا۔ اخطل نے کہا :
انعق بضانک یا جریر فانما منتک نفسک فی الخلاء ضلالا
شاعر نے یہاں آواز دینے کے معنی میں یہ لفظ استعمال کیا۔ یعنی اے جریر ! اپنی بکریوں کو آواز دے۔
قتبی نے کہا : جریر بھیڑیں چرانے والا نہیں تھا۔ اس نے یہ ارادہ کیا کہ بنی کلیب کو بھیڑیں چرانے کی وجہ سے عار دلائل جاتی تھی اور جریر ان میں سے تھا، وہ ان کی جہالت میں تھا۔ عرب جہالت میں بکریوں کے چروا ہے سے مثال دیتے تھے وہ کہتے تھے : اجھل من راعی الضان، وہ بھیڑیں چرانے والے سے بھی زیادہ جاہل ہے۔ قتبی نے کہا : جو اس آیت کا یہ معنی بیان کرتا ہے یہ اس کا اپنا مذہب ہے مگر ہماری معلومات کے مطابق علماء میں سے کسی کا یہ نظریہ نہیں۔
ندابعید کے لئے اور دعا قریب کیلئے ہوتی ہے اسی وجہ سے نماز کی اذان کو ندا کہا جاتا ہے کیونکہ وہ دور والوں کے لئے ہوتی ہے۔ ندا کو کبھی نون کے ضمہ کے ساتھ بولا جاتا ہے جبکہ اصل نون پر کسرہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کفار کو تشبیہ دی کہ وہ گونگے، بہرے اور اندھے ہیں۔ یہ سورت کی ابتدا میں گزر چکا ہے۔
Ayah 2:172آیت نمبر 172
یہ پہلے امر کی تاکید ہے اور یہاں تفضیل کے لئے مومن کو ذکر کے ساتھ خاص فرمایا اور کھانے سے مراد ہر اعتبار سے انتفاع ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اکل سے مراد معروف کھانا ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ قبول نہیں فرماتا مگر پاک کو اور اللہ تعالیٰ نے مومنین کو اسی بات کا حکم فرمایا جو اس نے رسولوں کو فرمایا تھا۔ ارشاد فرمایا یایھا الرسل۔۔۔۔۔ تعملون علیم۔ (المومنون) اے میرے پیغمبر و ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھے کام کرو بیشک میں جو اعمال تم کر رہے ہو ان سے خوب واقف ہوں۔ اور ارشاد فرمایا : یایھا الذین امنوا کلوا من طیبت ما رزقنکم۔ اے ایمان والو ! کھاؤ ان پاک چیزوں کو جو ہم نے دی ہیں تمہیں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا : ایک شخص لمبا سفر کرتا ہے، پراگندہ بال ہے، غبار آلود ہے وہ ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کرتا ہے اور کہتا ہے : یا رب یارب ! جبکہ اس کا کھانا حرام ہے اور مشروب حرام ہے اور اس کا لباس حرام ہے اور حرام کی غذا دی گئی ہے تو اس کی دعا کیسے قبول ہوگی۔ واشکروا للہ ان کنتم ایاہ تعبدون شکر کا معنی گزر چکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔