2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:54

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:54 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنے قوم کے لوگوں سے کہا کہ بھائیو ! تم نے بچھڑے کو (معبود) ٹھیرانے میں (بڑا) ظلم کیا ہے تو اپنے پیدا کرنے والے کے آگے توبہ کرو اور اپنے تئیں ہلاک کر ڈالو، تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے حق میں یہی بہتر ہے، پھر اس نے تمہارا قصور معاف کردیا، وہ بیشک معاف کرنے والا (اور) صاحب رحم ہے

آیت نمبر 54 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا قال موسیٰ لقومہ قوم، صرف مردوں کی جماعت کو کہتے ہیں جس میں عورتیں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا یسخر قوم من قومٍ (الحجرات : 11) پھر فرمایا : ولا نساءٌ من نسأءٍ (الحجرات :11) زہیر نے کہا : وما ادری وسوف اخال ادری اقوم آل حصن ام نساء اس شعر میں اقوم سے مراد شاعر نے مرد لئے ہیں عورتوں کا علیحدہ ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولوطاً اذ قال لقومہ (اعراف :80) یہاں صرف مرد مراد ہیں عورتیں نہیں کبھی قوم کا اطلاق مردوں اور عورتوں پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انا ارسلنا نوحاً الیٰ قومہ (نوح :1) اسی طرح ہر نبی کو عورتوں اور مردوں دونوں کی طرف مبعوث کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لقوم منادیٰ مضاف ہے۔ لقوم میں یا کو حذف کیا گیا ہے کیونکہ حذف کا مقام ہے اور کسرہ اس کے حذف پر دلالت کررہا ہے یہ یا تنوین کے قائم مقام ہوتی ہے۔ پس تو اسے حذف کر دے گا جس طرح تنوین کو مفرد اسم سے حذف کیا جاتا ہے۔ غیر قرآن میں اس کا سکون کے ساتھ اثبات بھی جائز ہے۔ تو کہے گا : یا قومی کیونکہ یہ اسم ہے اور حالت جری میں ہے، اگر تو چاہے تو اس یا کو فتحہ دے اگر چاہے تو اس کے ساتھ ھا لاحق کر دے۔ تو کہے : یا قومیہ اگر چاہے تو اسے الف سے بدل دے کیونکہ یہ اخف ہے اور تو کہے : یا قوما اگر چاہے تو تو کہے : یا قوم بمعنی یا ایھا القوم، اگر تو اسے نکرہ بنائے تو تو اسے نصب دے گا اور تنوین دے گا، قوم کا واحد امرءٌ ہے جو اس کے لفظ پر نہیں ہے تو کہتا ہے : قوم، اقوام، اقاوم یہ جمع الجمع ہے، یہاں قوم سے مراد بچھڑے کے پجاری ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں اللہ تعالیٰ کے امر سے خطاب فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انکم ظلمتم انفسکم یہاں جمع کثرت کی جگہ پر جمع قلت کو ذکر کیا اور کبھی جمع کثرت کو جمع قلت کی جگہ رکھا جاتا ہے اور جمع قلت کو کثرت کی جگہ رکھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثلثۃ قروءٍ (البقرہ : 228) اور ارشاد فرمایا : فیھا ما تشتھیہ الانفس (الزخرف :71) ان آیات میں جمع قلت کی جگہ جمع کثرت اور کثرت کی جگہ جمع قلت کا وزن ذکر فرمایا ہے۔ جو کوئی فعل کرتا ہے اس کا ضرر (نقصان) اس کی طرف لوٹتا ہے تو کہا جاتا ہے : انما اسأت الی نفسک۔ تو نے اپنے نفس پر برا کیا۔ ظلم کا اصل معنی کسی چیز کو غیر موضوع جگہ پر رکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : باتخاذکم العجل بعض ارباب معانی نے کہا : ہر انسان نے اپنے آپ پر جلدی کی جس نے اسے ساقط کردیا اور نفس کی خواہش کی مخالفت کی وہ اس کے ظلم سے بری ہوا۔ صحیح یہ ہے کہ انہوں نے حقیقت میں بچھڑے کی عبادت کی تھی جیسا کہ قرآن حکیم نے بیان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتوبوا الی بارئکم جب ان سے کہا گیا کہ تم اپنے پروردگار کی طرف توبہ کرو تو انہوں نے کہا : کیسے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فاقتلوا انفسکم۔ ارباب الخواطر نے کہا : اپنے نفسوں کو اطاعات کے ساتھ مطیع کرو اور انہیں شہوات سے روکو۔ صحیح یہ ہے کہ حقیقت میں قتل کرنے کا حکم تھا اور قتل کا مطلب حرکت کو مارنا ہے۔ قتلت الخمر یعنی اپنی کے ساتھ اس کی شدت کو ختم کردیا۔ سفیان بن عینیہ نے کہا : توبہ اللہ تعالیٰ کی ان خاص نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے صرف اس امت کو انعام کی، دوسری امتوں کو یہ نعمت عطا نہ فرمائی۔ بنی اسرائیل کی توبہ قتل کرنا تھا۔ اس پر اجماع ہے کہ ان بچھڑے کے بچاریوں میں سے ہر ایک کو اپنے ہاتھ سے اپنے نفس کو قتل کرنے کا حکم نہیں تھا۔ زہری نے کہا : جب انہیں کہا گیا : فتوبوا الیٰ بارئکم فاقتلوا انفسکم تو وہ دو صفوں میں کھڑے ہوگئے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے حتیٰ کہ انہیں کہا گیا : اب رک جاؤ۔ یہ عمل مقتول کے لئے شہادت تھا اور زندہ کے لئے توبہ تھا، جیسا کہ پیچھے گزرا ہے۔ بعض مفسرین نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان پر تاریکی بھیج دی تو تاریکی میں وہ ایک دوسرے کو قتل کرتے رہے۔ بعض علماء نے فرمایا : جنہوں نے بچھڑے کی عبادت کی تھی وہ ایک صف میں کھڑے ہوئے اور جنہوں نے عبادت نہیں کی تھی وہ ہتھیار لے کر ان میں داخل ہوئے اور انہیں قتل کردیا (1) ۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ ستر آدمی کھڑے ہوئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تھے اور انہوں نے بچھڑے کے پجاریوں کو قتل کیا کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ والوں نے بچھڑے کی عبادت نہیں کی تھی یہ بھی روایت کیا جاتا ہے کہ حضرت یوشع بن نون ان کے پاس گئے جبکہ وہ سب گھٹنے کھڑے کر کے ہاتھوں یا کپڑے سے کلاوہ مار کر بیٹھے تھے۔ حضرت یوشع نے کہا : وہ ملعون ہوگا جو اپنا کپڑا یا ہاتھ کھولے گا یا اپنے قاتل کی طرف نظر اٹھا کر دیکھے گا یا اپنے ہاتھ سے بچاؤ کرے گا یا پاؤں سے بچاؤ کرے گا۔ پس ان میں سے کسی نے اپنا کپڑا نہ کھولا حتیٰ کہ ان میں قتل کیا گیا جو قتل کیا گیا اور ہر شخص نے اپنے قریب والے کو قتل کیا۔ یہ نحاس وغیرہ نے ذکر کیا ہے۔ پس جنہوں نے بچھڑے کی عبادت نہیں کی تھی پہلے قول کے مطابق انہیں اپنوں کو قتل کرنے کی سزا دی گئی کیونکہ انہوں نے برائی کو روکا نہیں تھا۔ جب وہ غیر اللہ کی عبادت کر رہے تھے اور وہ علیحدہ ہو کر بیٹھ گئے تھے۔ ان پر واجب تھا کہ وہ بچھڑے کی عبادت کرنے والوں کو قتل کریں (2) ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے اپنے بندوں میں جب برائی پھیل جائے اور اسے روکا نہ جائے تو تمام کو سزا دی جاتی ہے۔ جریر نے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس قوم میں گناہوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے جبکہ وہ اس برائی کو روک سکتے تھے لیکن انہوں نے روکا نہیں تو اللہ تعالیٰ تمام پر عذاب نازل فرماتا ہے (3) ۔ ابن ماجہ نے اپنی سنن میں نقل فرمایا۔ اس مفہوم پر کلام آگے آئے گی۔ جب ان میں قتل کی کثرت ہوگئی اور وہ ستر ہزار تک پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرمایا۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے قتل کو اٹھا لیا کیونکہ انہیں اپنوں کو قتل کی مشقت دی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ پر اسلام کے بعد توبہ سے افضل انعام نہیں فرمایا۔ قتادہ نے فاقیلوا انفسکم۔۔۔ اقالہ سے مشتق کیا ہے۔۔۔۔ یعنی قتل کے ساتھ اپنی لغزش کا بدلہ دو ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بارئکم، البارئ کا معنی الخالق یعنی پیدا کرنے والا ہے ان دونوں کے درمیان فرق ہے۔ الباری نئے سرے سے پیدا کرنے والا ہوتا ہے اور الخالق ایک حال سے دوسرے حال کی طرف نقل کرنے والا ہوتا ہے۔ البریۃ کا معنی الخلق (مخلوق) ہے۔ یہ فعیل بمعنی مفعول ہے لیکن اسے ہمزہ نہیں دیا جاتا۔ ابو عمرو نے بارئکم ہمزہ کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے، وہ تمہیں شعور دیتا ہے، تمہاری مدد کرتا ہے اور تمہیں حکم دیتا ہے۔ نحویوں کا اس کے متعلق اختلاف ہے۔ بعض وصل میں ضمہ اور کسرہ کے ساکن کردیتے ہیں اور یہ شعر میں ہوتا ہے، ابو العباس المبرد نے کہا : کلام اور شعر میں معرب حرف میں متواتر حرکات کے ساتھ ساکن کرنا جائز نہیں۔ ابو عمرو کی قراءت غلط ہے۔ نحاس وغیرہ نے کہا : یہ قدماء ائمہ نحونے جائز قرار دیا ہے انہوں نے بطور دلیل یہ اشعار ذکر کیے ہیں۔ اذا اعوججن قلت صاحب قوم بالدو امثال السفین العوم امرؤ القیس نے کہا : فالیوم اشرب غیر مستحقب اثماً من اللہ ولا اغل ایک اور شاعر نے کہا : قالت سلیمی اشترلنا سویقا (1) ایک اور نے کہا : رحت وفی رجلیک ما فیھا وقد بداھنک من المئذر (2) جس نے معرب کے حرف میں سکون دینے کا انکار کیا اس کی حجت یہ ہے کہ یہ جائز نہیں ہے کیونکہ وہ اعراب کی علامت ہوتا ہے۔ ابو علی نے کہا : بنا کی حرکت کو تو الی الحرکات کے ساتھ ساکن کرنے کے جواز میں نحویوں کا اختلاف نہیں ہے۔ برأ، یہ تبری الشیء من الشیء سے مشتق ہے جس کا معنی ایک شے کا دوسری چیز سے جدا ہونا ہے۔۔۔۔ الخلق عدم سے وجود کی طرف جدا ہوئی۔ اسی سے برأت من المرض برءًا۔ تو مرض سے شفایات ہوا دوسرے لوگ کہتے ہیں برئت من المرض برأاور برأت منک ومن الدیون، والعیوب براء ۃً ۔ میں تجھ سے، قرضوں سے، عیوب سے بری ہوا۔ اسی سے المبارأۃ للمرأۃ۔ عورت کو جدا کرنا ہے۔ قد بار أشری کہ وامرأتہ، اپنے شریک اور اپنی بیوی کو جدا کردیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتاب علیکم اس کلام میں حذف ہے، اس تقدیر پر یہ ہے : ففعلتم فتاب علیکم یعنی تم نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے تم سے درگزر فرمایا۔ یعنی تم میں سے باقی لوگوں پر نظر کرم فرمائی۔ انہ ھو التواب الرحیم اس کا معنی گزر چکا ہے۔ الحمد للہ۔
Ayahs 2:55–56

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:55 in the Quran reader

اور جب تم نے (موسی سے) کہا کہ موسیٰ جب تک ہم خدا کو سامنے نہ دیکھ لیں گے تم پر ایمان نہیں لائیں گے تو تم کو بجلی نے آگھیرا اور تم دیکھ رہے تھے

ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:56 in the Quran reader

پھر موت آجانے کے بعد ہم نے تم کو از سر نو زندہ کردیا تاکہ احسان مانو

آیت 55 اس میں پانچ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ قلتم یہ معطوف ہے۔ یموسیٰ ندا مفرد ہے لن تؤمن لک۔ ہم تیری تصدیق نہیں کریں گے۔ حتیٰ نری اللہ جھرۃً بعض علماء نے فرمایا : یہ وہ ستر آدمی تھے جن کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اختیار کیا تھا۔ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام انہیں سنایا تو انہوں نے اس کے بعد کہا : لن نؤمن لک انبیاء پر ایمان لانا ان کے معجزات کے ظہور کے بعد واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر آسمان سے آگ بھیجی اور انہیں جلا دیا۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو تو اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کردیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ثم بعثنکم من بعد موتکم (پھر ہم نے جلد اٹھایا تمہیں مرجانے کے بعد) ان ستر آدمیوں کا واقعہ انشاء اللہ سورة اعراف میں آئے گا۔ ابن فورک نے کہا : یہ احتمال ہے کہ ان کی سزا اس وجہ سے ہو کہ انہوں نے رؤیت کی طلب کو اس کے صحیح طریقہ سے خارج کردیا تھا کہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : ارنا اللہ جھرۃً اور یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قدرت میں نہیں تھا۔ (1) اللہ تعالیٰ کی رؤیت (دیکھنے) کے جواز میں اختلاف ہے اکثر بدعتی لوگ دنیا وآخرت میں اس کا انکار کرتے ہیں اور اہل سنت وجماعت دنیا وآخرت میں اس کے جواز کے قائل ہیں اور آخرت میں اس کے وقوع کے قائل ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے رؤیت کا طلب کرنا محال کا طلب کرنا بنایا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے رؤیت کا سوال کیا تھا، مزید کلام اس رؤیت کے متعلق سورة انعام اور سورة اعراف میں آئے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جھرۃً یہ مصدر ہے حال کی جگہ میں اس کا معنی علانیۃ (واضح) ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی عیاناً ہے۔ یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے۔ الجھر کا اصل معنی ظہور (ظاہر ہونا) ہے اسی سے الجھر بالقرأۃ ہے یعنی قراءت کو ظاہر کرنا المجاھر بالمعاصی۔ علانیہ گناہ کرنے والا۔ رأیت الامیر جھاراً وجھرہً یعنی میں نے امیر کو دیکھا جبکہ وہ کسی چیز سے چھپا ہوا نہ تھا۔ حضرت ابن عباس نے جھرۃً ھاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا۔ یہ دونوں لغتیں ہیں مثلاً زھرۃ زھرۃٌ۔ الجھر میں جو وجہیں ہیں ایک یہ صفت ہے ان کے خطاب کی جو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا، انہوں نے بھی اعلانیہ یہ کہا۔ اس ترکیب کلام میں تقدیم وتاخیر ہوگی۔ تقدیر عبارت اس طرح ہوگی : واذا قلتم جھرۃً یا موسیٰ ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ صفت ہے اس کی جو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کی رویت کا سوال کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو سامنے دیکھ لیں۔ اس صورت میں کلام میں تقدیم و تاخیر نہ ہوگی۔ الجھر کے ساتھ مؤکد فرمایا تاکہ آنکھوں سے دیکھنے اور خواب میں دیکھنے میں فرق ہوجائے۔ مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاخذتکم الصعقۃ۔ الصعقۃ کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی نے اسے الصعقۃ پڑھا ہے، یہ تمام قرآن میں ابن محیصن کی قراءت ہے۔ وانتم تنظرون یہ جملہ حال ہے۔ کہا جاتا ہے : کیف یموتون وھم ینظرون (وہ مرے کیسے تھے جبکہ وہ دیکھ رہے تھے) اس کا جواب یہ ہے کہ عرب کہتے ہیں : دور آل فلاں تراءی یعنی آل فلاں کے گھر آمنے سامنے ہیں۔ بعض نے فرمایا : تنظرون کا معنی ہے : تم اپنے حال، موت اور الصعقۃ کے آثار نازل ہوئے تم انہیں دیکھ رہے تھے۔ مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم بعثنکم من بعد موتکم یعنی ہم نے زندہ کیا۔ قتادہ نے کہا : وہ مرگئے تھے ان کی روحیں چلی گئی تھیں پھر وہ اپنی عمریں پوری کرنے کے لئے لوٹائے گئے (1) ۔ نحاس نے کہا : یہ قریش کے اس شخص کے خلاف حجت ہے جو دوبارہ اٹھنے پر ایمان نہیں رکھتا اور اہل کتاب کے خلاف حجت ہے کیونکہ انہوں نے اس کی خود خبر دی۔ لعلکم تشکرون تاکہ تم شکر ادا کرو جو اس نے تمہارے ساتھ کیا کہ مرنے کے بعد زندہ کیا۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ ایسی موت مرگئے تھے کہ اس سے غیر عبرت حاصل کرے۔ پھر انہیں بھیجا گیا۔ البعث کا اصل معنی الارسال ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : البعث کا اصل معنی کسی شی کو اپنے محل سے اٹھانا ہے۔ کہا جاتا ہے : بعثت الناقۃ یعنی میں نے اونٹنی کو حرکت دی۔ امرؤ القیس نے کہا : وفتیان صدق بعثت بسحرۃ فقاموا جمیعا بین عاث ونشوان اس شعر میں بعث بمعنی حرکت دینا، اٹھانا استعمال ہوا ہے۔ عشرہ نے کہا : وصحابۃ ثم الانوف بعثتھم الیلاً وقد مال الکری بطلاھا اس میں بھی بعث اٹھانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : بعثنکم من بعد موتکم یعنی ہم نے تمہاری جہالت کے بعد تمہیں تعلیم دی۔ میں کہتا ہوں : پہلا قول اصح ہے کیونکہ اصل حقیقت ہے، وہ موت، سزا کی موت تھی اسی معنی میں یہ ارشاد ہے : الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوفٌ حذر الموت فقال لھم اللہ موتوا ثم احیاھم (البقرہ : 243) جیسا کہ آگے آئے گا۔ مسئلہ نمبر 5: الماوردی نے کہا : اس میں اختلاف ہے کہ جو مرنے کے بعد لوٹایا گیا اور وہ احوال دیکھنے کے بعد لوٹایا گیا جو معرفت پر مجبور کردیتے ہیں کیا وہ مکلف باقی رہے گا ؟ اس کے متعلق دو قول ہیں : 1۔ ان کا مکلف ہونا باقی ہے تاکہ کوئی عاقل مکلف ہونے سے خالی نہ ہو۔ 2۔ مکلف ہونے کا سقوط استدلال کے ساتھ معتبر ہے، اضطرار کے ساتھ نہیں۔ میں کہتا ہوں : پہلا قول صحیح ہے کیونکہ بنی اسرائیل نے جب ہوا میں پہاڑ دیکھا کہ وہ ان پر گرنے والا ہے اور آگ انہیں گھیرے ہوئے تھی تو اس چیز نے انہیں ایمان کی طرف مجبور کردیا اور ان پر تکلیف کا باقی ہونا ثابت ہے۔ اسی طرح حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کا معاملہ تھا ان کا مکلف نہ ہونا محال ہے۔
Ayah 2:57

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 2:57 in the Quran reader

اور بادل کا تم پر سایہ کیے رکھا اور (تمہارے لئے) من وسلوٰی اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں ان کو کھاؤ پیو (مگر تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی) اور وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ تے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے

آیت نمبر 57 اس میں آٹھ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وظللنا علیکم الضمام یعنی ہم نے بادل کو تم پر چھتری کی مانند کردیا۔ الغمام جمع ہے غمامۃ کی جیسے سحابۃ اور سحاب۔ یہ اخفش سعید نے کہا ہے۔ فراء نے کہا : غمائم بھی جائز ہے اس سے مراد بادل ہیں کیونکہ وہ آسمان کو ڈھانپ دیتے ہیں۔ ہر وہ چیز جو ڈھانپی گئی ہو وہ مغموم ہے۔ اسی سے المغموم علی عقلہ اور غم الھلال ہے جب چاند کو بادل ڈھانپ دے۔ الغین بھی الغیم کی مثل ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : انہ لیعان علی قلبی۔ میرے دل پر چھا جائے۔ صاحب العین نے کہا : غین علیہ کا مطلب اسے ڈھانپا گیا۔ الغین گھنے درختوں کو کہتے ہیں۔ سدی نے کہا : الغمام سفید بادلوں کو کہتے ہیں (1) ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ اس لئے یہ کیا تھا تاکہ دن کے وقت انہیں سورج کی گرمی سے بچائے اور دن کے آخر میں بادل چھٹ جاتا تاکہ وہ چاند سے رات کے وقت روشنی حاصل کریں۔ مفسرین نے نقل کیا ہے کہ یہ ان پر مصر اور شام کے درمیان تیہ کے صحراء میں ہوا تھا جب انہوں نے جبار لوگوں کے شہر میں داخل ہونے اور ان سے جنگ کرنے سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا : فاذھب انت وربک فقائلا (المائدہ :24) پس انہیں اسی جگہ سزا دی گئی چالیس سال پانچ چھ فراسخ میں گھومتے رہے۔ روایت ہے کہ وہ دن کو چلتے تھے اور رات کو ٹھہرتے تھے۔ پس وہ وہاں ہی صبح کرتے جہاں گزشتہ کل صبح کرتے تھے، جب وہ تیہ میں جمع تھے تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : ہمارے لئے کھانا کون لائے گا، اللہ تعالیٰ نے ان پر من وسلویٰ اتارا۔ پھر انہوں نے کہا : ہمیں سورج کی گرمی سے کون بچائے گا اللہ تعالیٰ نے ان پر بادلوں کا سایہ کردیا۔ پھر انہوں نے کہا : ہم چراغ کس کے ساتھ جلائیں گے، اللہ تعالیٰ نے ان کے محلے کے درمیان ایک نور کا ستون بنا دیا۔ مکی نے ذکر کیا ہے کہ وہ آگ کا ستون تھا۔ انہوں نے کہا : ہمارے لئے پانی کون لائے گا، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پتھر پر عصا مارنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا : ہمارے لئے لباس کون لائے گا، انہیں ایسا لباس دیا گیا جو نہ پرانا ہوتا، نہ بوسیدہ ہوتا اور نہ میلا ہوتا اور بچوں کے بڑھنے کے مطابق ان کے کپڑے بڑے ہوتے جاتے۔ واللہ اعلم (2) مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانزلنا علیکم المن والسلوٰی۔ المن کے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کیا ہے۔ اس کی تعیین کئی اقوال پر ہے : بعض نے کہا : ترنجبین ہے۔ یہ نحاس نے ذکر کیا ہے۔ الطرنجبین (طا کے ساتھ بھی کہا جاتا ہے) یہ اکثر مفسرین کا قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : المن سے مراد میٹھی گوند ہے۔ بعض نے فرمایا : شہد ہے بعض نے فرمایا : میٹھی شراب ہے۔ بعض نے فرمایا : باریک روئی ہے۔ یہ وہب بن منبہ سے مروی ہے۔ بعض نے فرمایا : المن مصدر ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بغیر کسی تھکن اور کھیتی باڑی کے احسان فرمایا اس تمام کو شامل ہے (3) ۔ اسی سے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : الکمأۃ من المن الذی انزل علی بنی اسرائیل وماء ھا شفاء للعین (4) وفی روایۃ من المن الذی انزل اللہ علی موسیٰ ۔ یعنی کھمبی اس من میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر نازل کیا۔ کھمبی کا پانی آنکھ کے لئے شفا ہے۔ ایک روایت میں ہے، اس من میں سے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیا۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ ہمارے علماء نے فرمایا : یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ کھمبی اس میں سے ہے جو اللہ نے بنی اسرائیل پر نازل کیا یعنی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے تیہ کے صحرا میں پیدا فرمایا تھا۔ ابو عبیدہ نے کہا : کھمبی کو المن کے ساتھ تشبیہ دی ہے کیونکہ اس میں بیج ڈالنے، پانی لگانے اور دیکھ بھال کرنے کی مشقت نہیں۔ پس یہ کھمبی بنی اسرائیل کے من سے ہے کیونکہ یہ بغیر مشقت کے ملی تھی۔ روایت ہے کہ ان پر من فجر کے طلوع ہونے سے لے کر سورج کے طلوع ہونے تک اولوں کی طرح اترتا تھا۔ ہر شخص اپنے لئے اس دن کی خوراک لے لیتا تھا، جو اس سے ذخیرہ کرتا تھا وہ خراب ہوجاتا تھا، مگر جمعہ کے دن وہ ہفتہ کے دن کے لئے ذخیرہ کرتے تھے تو وہ خراب نہیں ہوتا تھا، کیونکہ ہفتہ ان کی عبادت کا دن تھا، ہفتہ کے دن ان پر کچھ نازل نہیں ہوتا تھا۔ (1) مسئلہ نمبر 3: نبی کریم ﷺ نے نص فرمائی کہ کھمبی کا پانی آنکھ کے لئے شفا ہے۔ بعض علمائے طب نے فرمایا : آنکھ میں جو حرارت ہوتی ہے اس کو ٹھنڈا کرنے کے لئے صرف اس کا پانی استعمال کیا جاتا ہے اور کسی اور مرض کے لئے دوسری دوا میں مرکب ہو کر استعمال ہوتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ آنکھ کی ہر مرض کے لئے خالص اس کا پانی استعمال کرنے کا نظریہ رکھتے تھے (2) ۔ یہ ایسا ہے جیسا کہ ابو وجزہ تمام امراض کے لئے شہد استعمال کرتے تھے حتیٰ کہ آنکھوں کی تکلیف کے لئے بھی شہد استعمال کرتے تھے۔ اس کا بیان سورة النحل میں ہوگا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اہل لغت نے کہا : الکم واحد ہے، اس کا تثنیہ کمأن ہے اور تین ہو تو اکمؤ کہا جاتا ہے اور جب زیادہ ہوں تا کمأۃ (تاء کے ساتھ) آتا ہے۔ شجرۃ اور شجر کے برعکس استعمال ہوتا ہے۔ المن اسم جنس ہے لفظوں میں اس کا واحد نہیں ہے جیسے الخیر اور الشر۔ یہ اخفش نے کہا ہے۔ مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : السلوٰی۔ السلوٰی کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ بٹیر ہے۔ یہ ضحاک کا قول ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : باجماع مفسرین السلوٰی پرندہ ہے۔ ہذلی نے غلطی کی ہے، اس نے کہا : وقاسمھا باللہ جھداً لانتم الذمن السلوی اذا ما نشورھا اس نے اس شعر میں سلوی سے شہد مراد لیا ہے۔ میں کہتا ہوں : ابن عطیہ نے مفسرین کے اجماع کا جو دعویٰ کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ مؤرج جو لغت اور تفسیر کے علماء میں سے ہے انہوں نے کہا : السلوٰی سے مراد شہد ہے اور اس نے ہذلی کے مذکور شعر سے استدلال کیا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا ہے کہ لغت کنانہ اس طرح ہے۔ اس کو سلوی کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس سے تسلی ہوتی ہے۔ اسی سے عین السلوان ہے (بیت المقدس میں ایک چشمہ ہے جس سے برکت حاصل کی جاتی ہے۔ ) جیسے شعر میں ہے : لو اشرب السلوان ما سلیت ما بی غنی عنک وان غنیت اسی طرح جوہری نے کہا : السلوی۔ شہد ہے اس نے بھی ہذلی کا بیت ذکر کیا ہے۔ الذ من السلوی اذا ما نشورھا اور انہوں نے غلطی کا ذکر نہیں کیا۔ السلوانۃ، یہ ایک سپی ہے۔ لوگ کہتے ہیں جب اس پر بارش کا پانی ڈالا جائے اور پھر عاشق اس کو پی لے تو اسے تسلی ہوجاتی ہے۔ اس پانی کا نام سلوان ہے۔ بعض نے فرمایا : السلوان ایک دوا ہے جس کو غمگین پیتا ہے تو اس کو تسلی ہوتی ہے۔ اطباء اس کو مفرح کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : سلیت وسلوت یہ دو لغتیں ہیں۔ وھو فی سلوۃٍ من العیش، وہ خوشحال زندگی میں ہے۔ یہ ابو زید سے مروی ہے۔ مسئلہ نمبر 5: السلوٰی کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ جمع ہے یا مفرد ہے۔ اخفش نے کہا : یہ لفظاً جمع ہے اس کا واحد نہیں ہے جیسے الخیر اور الشر ہے اور اس کا واحد سلویٰ بھی جمع سلویٰ کے مشابہ ہے جیسے کہتے ہیں دفلی یہ واحد اور جمع کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ سمانی شکاعی یہ بھی واحد اور جمع کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ خلیل نے کہا : اس کا واحد سلواۃ ہے جیسے اس شعر میں ہے : (1) انی لتعرونی لذکرک ھذۃٌ کما انتقص السلواۃ من بلل القطر کسائی نے کہا : السلوی واحد ہے اور اس کی جمع سلاویٰ ہے۔ (2) مسئلہ نمبر 6: السلوٰی کا عطف، المن پر ہے۔ اس میں اعراب ظاہر نہیں ہے کیونکہ اسم مقصور ہے اور اسم مقصور میں اعراب ظاہر نہ کرنا واجب ہوتا ہے کیونکہ ہمیشہ اس کے آخر میں الف ہوتا ہے۔ خلیل نے کہا : الف، ہوائی حرف ہے اس کا کوئی مستقر نہیں ہے یہ حرکت کے مشابہ ہے اس کی حرکت محال ہے۔ فراء نے کہا : اگر الف کو حرکت دی جائے تو یہ ہمزہ ہوجاتا ہے۔ مسئلہ نمبر 7: کلوا من طیبت ما رزقنکم اس میں حذف سے تقدیر کلام اس طرح ہے : وقلنا کلوا۔ اختصار اً ظاہر کی دلالت کی وجہ سے حذف کیا گیا۔ الطیبات کا لفظ یہاں حلال اور لذیذ دونوں معانی میں ہے۔ (3) مسئلہ نمبر 8: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما ظلمونا اس سے پہلے فعصوا مقدر کیا جائے گا۔ انہوں نے نعمتوں کے مقابل شکر نہ کیا۔ ولکن کانوا انفسھم یظلمون بلکہ انہوں نے نعمتوں کے مقابلہ میں گناہوں کا ارتکاب کر کے اپنے اوپر ظلم کیا۔
Ayah 2:58

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:58 in the Quran reader

اور جب ہم نے ان سے کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو خوب کھاؤ (پیو) اور (دیکھنا) دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور حطۃ کہنا ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے

آیت نمبر 58 اس میں نو مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ قلنا ادخلوا ھذہ القریۃ، قلنا سے الف کو حذف کیا گیا ہے اس کے سکون اور اس کے بعد دال کے سکون کی وجہ سے۔ اور وہ الف جس کے ساتھ ابتدا کی گئی ہے دال سے پہلے وہ الف وصل ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ھذہ القریۃ یعنی شہر۔ شہر کو قریۃ اس لئے کہتے ہیں کیونکہ اس میں اجتماع ہوتا ہے۔ اسی سے ہے : قریت الماء فی الحوض میں نے حوض میں پانی جمع کیا اس پانی کا نام قرئ ہوتا ہے، اسی طرح جس کے ساتھ مہمان نوازی کی جائے اسے قرئ کہتے ہیں۔ یہ جوہری کا قول ہے۔ المقراۃ، حوض کے لئے بولا جاتا ہے۔ القری، پانی کی گزرگاہ کے لئے اور القرا پیٹھ کے لئے۔ اسی سے یہ مصرعہ ہے : لاحق بطنٍ بقرأ سمین المقاری : بڑے پیالے کہا۔ کہا : عظام المقاری ضیفھم لا یفزع المقاری کا واحد مقراۃ ہے۔ ان تمام الفاظ کا معنی جمع کرنا ہے۔ القریۃ (قاف کے کسرہ کے ساتھ) یمن کی لغت ہے۔ اس کی تعیین میں اختلاف ہے۔ جمہور علماء نے کہا : یہ بیت المقدس ہے۔ بعض نے کہا : بیت المقدس میں سے اریحا ہے۔ عمر بن شیبہ نے کہا : یہ بادشاہوں کی رہائش گاہ تھی (1) ۔ ابن کیسان نے کہا : شام کا شہر ہے۔ ضحاک نے کہا : الرملہ، اردن، فلسطین اور تدمر ہے۔ یہ دوسری نعمت ہے۔ ان کے لئے شہر میں داخل ہونا مباح کردیا اور ان سے تیہ کی سرگردانی ختم کردی۔ مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فکلوا یہ امر اباحت کے لئے ہے۔ رغدًا کثیر اور واسع، یہ مصدر محذوف کی صفت ہے یعنی اکلاً رغداً ۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ رغدًا حال ہو جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ وہ زمین بڑی بابرکت اور زیادہ غلہ دینے والی تھی اس لئے فرمایا : رغداً (2) مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وادخلوا الباب سجدًا، باب کی جمع ابواب ہے اور اس کی جمع البوبۃ بھی بناتے ہیں۔ شاعر نے کہا : ھتاک اخبیتہ ولاج أبوبۃ یخلط بالبر منہ الجد واللینا اگر اسے مفرد ذکر کے تو پھر جائز نہیں۔ اس کی مثل نبی کریم ﷺ کا قول ہے : مرحباً بالقوم۔۔۔ او بالوفد۔۔۔ خبر خذایا ولا ندامیٰ (1) ۔۔۔۔ تبوبت بواباً یعنی میں نے دربان بنایا۔ ابواب مبوبۃ جیسے کہتے ہیں اصناف مصنفۃ۔۔۔ ھذا شیء من بابتک۔ یہ تمہارے لئے مناسب ہے۔ سجدہ کا معنی گزر چکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ الحمد للہ۔ وہ دروازہ جس سے انہیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا وہ بیت المقدس میں تھا۔ آج وہ باب حطہ کے نام سے مشہور ہے۔ مجاہد وغیرہ سے یہ مروی ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد اس قبہ کا دروازہ ہے جس کی طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل نماز پڑھتے تھے۔ سجدًا حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس کا مطلب رکوع کی حالت میں جھکتے ہوئے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے : تواضع کرتے ہوئے، کوئی متعین ہیئت مراد نہیں ہے۔ مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقولوا اس کا عطف ادخلوا پر ہے۔ حطۃ ٌ جمہور کی قراءت مرفوع ہے اس بنا پر کہ مبتدا محذوف ہے۔ یعنی مسئلتنا حطۃ ٌ یا اس کا یہ اعراب حکایۃٌ ہے اور اخفش نے کہا : حطہ کو منصوب بھی پڑھا گیا ہے اس تقدیر پر احطط عنا ذنوبنا حطۃ ً (ہمارے گناہ معاف فرما دے۔ ) نحاس نے کہا : حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ انہیں کہا گیا کہ تم لا الہ الا اللہ کہو (2) ۔ ایک اور حدیث ان سے مروی ہے کہ انہیں کہا گیا : قولوا مغفرۃً نصب کی تفسیر یعنی قولوا شیئاً یحط ذنوبکم تم ایسی شے کہو جو تمہارے گناہ معاف کر دے۔ جس طرح کہا جاتا ہے : قل خیراً ۔ ائمہ قراء اس پر رفع ہی پڑھتے ہیں یہ لغت کے اعتبار سے اولیٰ ہے۔ اس کی وجہ وہ ہے جو عربوں سے بدل کر معنی میں حکایت کیا گیا ہے۔ احمد بن یحییٰ نے کہا : کہا جاتا ہے بدلتہ یعنی میں نے اسے تبدیل کیا اور میں نے اس کی شخصیت کو زائل نہیں کیا ابدلتہ یعنی میں نے اس شخص اور عین کو بدل دیا۔ جیسا کہ شاعر نے کہا : عذل الامیر للامیر المبدل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال الذین لا یرجون لقأءنا ائت بقران غیر ھذأ او بدلہ (یونس :15) (اور کہنے لگتے ہیں وہ جو توقع نہیں رکھتے ہم سے ملنے کی کہ لے آئیے (دوسرا) قرآن اس (قرآن) کے علاوہ یا ردوبدل کر دیجئے ) ۔ حضرت ابن مسعود کی حدیث ہے، انہوں نے کہا حطۃ ٌ یہ رفع کی بنا پر تفسیر ہے۔ یہ تمام نحاس کے اقوال ہیں۔ حسن اور عکرمۃ نے کہا : حطۃ ٌ کا معنی حط ذنوبنا ہے۔ انہیں یہ کہے گا حکم دیا گیا لا الہ الا اللہ کہو تاکہ اس کی وجہ سے ان کے گناہ گر جائیں۔ ابن جبیر نے کہا : اس کا معنی استغفار ہے (3) ۔ ابان بن تغلب نے کہا : اس کا مطلب تو یہ ہے۔ شاعر نے کہا : فاز بالحطۃ التی جعل اللہ بھا ذنب عبدہ مغفوراً اس نے ایسی توبہ پائی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کے گناہوں کو معاف فرمایا۔ ابن الفارس نے “ الجمل ” میں کہا کہ حطۃ یہ ایسا کلمہ ہے جس کا بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا۔ اگر وہ یہ کہتے تو ان کے گناہ معاف ہوجاتے۔ جوہری نے بھی “ الصحاح ” میں یہی کہا ہے۔ میں کہتا ہوں : یہ احتمال ہے کہ انہیں بعینہ یہی لفظ کہنے کا مکلف کیا گیا ہو، حدیث سے بھی ظاہر ہے۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بنی اسرائیل کو کہا گیا : دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو (1) اور حطۃ ٌ کہو تمہارے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ تو انہوں نے اس حکم کو بدل ڈالا وہ دروازے سے اپنی سرینیں گھسیٹتے ہوئے داخل ہوئے اور انہوں نے کہا : حبۃٌ فی شعرۃ یعنی (جو میں نے دانہ ) ۔ یہ حدیث بخاری نے بھی نقل کی ہے۔ فرمایا : انہوں نے حکم کو بدل ڈالا۔ انہوں نے کہا : حطۃ حبۃ فی شعرۃ اور صحیحین کے علاوہ میں ہے : حنطۃ فی شعر۔ اور کہا گیا ہے : انہوں نے کہا : ھطا سمھاثا۔ یہ عبرانی لفظ ہے اس کی تفسیر سرخ گندم ہے۔ یہ ابن قتیبہ نے حکایت کیا ہے اور یہ ہر وی نے سدی اور مجاہد سے حکایت کیا ہے۔ ان کا مقصد ہے اس کے خلاف کرنا تھا جو اللہ نے انہیں حکم دیا تھا۔ پس انہوں نے نافرمانی کی، سرکشی کی اور استہزاء کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں عذاب کے ساتھ سزا دی۔ ابن زید نے کہا : یہ عذاب طاعون تھا ان کے ستر ہزار آدمی ہلاک ہوگئے تھے۔ روایت ہے کہ دروازہ چھوٹا بنایا گیا تھا تاکہ وہ جھکتے ہوئے داخل ہوں تو وہ اپنی سرینیں گھسیٹتے ہوئے داخل ہوئے۔ مسئلہ نمبر 6: بعض علماء نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ منصوص علیہا اقوال کو شریعت میں تبدیل کرنا، اس سے خالی نہیں ہوگا کہ اس لفظ کا یا اس کے معنی کا مکلف بنایا گیا ہوگا۔ اگر اس لفظ کا مکلف بنایا گیا ہو تو اس کو تبدیل کرنا جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حکم کو تبدیل کرنے والے کی مذمت کی ہے، اور اگر معنی کا مکلف بنایا گیا ہو تو اس کو ایسی چیز سے تبدیل کرنا جائز ہوگا جو اس معنی کو ادا کرے، اسے ایسی چیز سے تبدیل کرنا جائز نہ ہوگا جو اس معنی سے ہی اسے خارج کردے۔ (2) علماء کا اس معنی میں اختلاف ہے۔ امام مالک، امام شافعی اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہم سے حکایت کیا گیا ہے کہ عالم کے لئے خطاب کے مواقع پر حدیث بالمعنی کا نقل کرنا جائز ہے لیکن مکمل طور پر معنی کے ساتھ مطابقت ہو، یہ جمہور کا قول ہے، بہت سے علماء نے الفاظ کو بدلنے سے منع کیا ہے۔ ان میں سے ابن سیرین، قاسم بن محمد اور رجا بن حیوہ ہیں۔ مجاہد نے کہا : حدیث میں اگر تو چاہے تو کمی کر لیکن اس میں اضافہ نہ کر۔ حضرت مالک بن انس رسول اللہ ﷺ کی حدیث میں تا اور یا میں بھی سختی کرتے تھے۔ اس بنا پر ائمہ حدیث کی ایک جماعت لفظ کو تبدیل کرنا بھی جائز قرار نہیں دیتی حتیٰ کہ وہ غلط سن لیتے تھے اور اس کو جانتے تھے لیکن اسے بدلتے نہیں تھے۔ ابو مجلز نے قیس بن عباد سے روایت کیا ہے، فرمایا : حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا : جس نے کوئی حدیث سنی پھر اس نے اسے اسی طرح بیان کیا جس طرح اس نے سنی تھی تو وہ سلامت رہا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو اور حضرت زید بن ارقم سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ اس طرح تقدیم وتاخیر، کمی بیشی میں اختلاف ہے کیونکہ بعض علماء معنی کا اعتبار کرتے ہیں بعض لفظ کا اعتبار کرتے ہیں بعض اس میں سختی کرتے ہیں اور لفظ کو نہیں چھوڑتے۔ یہ دین میں احوط، اتقی اور اولیٰ ہے لیکن اکثر علماء کی سیرت سے معلوم ہے وہ واقعات کو مختلف الفاظ میں بیان کرتے تھے۔ اور یہ نہیں تھا مگر اس لئے کہ وہ اپنی توجہ معانی پر رکھتے تھے اور وہ احادیث پر تکرار اور احادیث کے لکھنے کا التزام نہیں کرتے تھے۔ حضرت واثلہ بن اسقع سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا : جو کچھ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا ہم نے تمہاری طرف اسے نقل کیا، تمہارے لئے معنی کافی ہے۔ قتادہ نے حضرت زرارہ بن اوفی سے کہا : میں نبی کریم ﷺ کے کئی صحابہ سے ملا، انہوں نے مجھے الفاظ مختلف بیان کیے لیکن معنی ایک تھا۔ نخعی، حسن اور شعبی حدیث بالمعنی بیان کرتے تھے۔ حسن نے کہا : جب تو معنی صحیح بیان کرے تو تیرے لئے کافی ہے۔ سفیان ثوری نے کہا : جب میں تمہیں کہوں کہ میں تمہیں اسی طرح بیان کرتا ہوں جس طرح میں نے سنا تو میری تصدیق نہ کرو وہ معنی ہے۔ وکیع نے کہا : اگر معنی میں وسعت نہ ہوگی تو لوگ ہلاک ہوجائیں گے۔ علماء کا عجمیوں کے لئے ان کی زبان میں شریعت کو نقل کرنے پر اور ان کے لئے ترجمہ کرنے پر اجماع ہے۔ یہ نقل بالمعنی ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ایسا ہی کیا ہے جو اس نے گزشتہ قوموں کی خبریں بیان کی ہیں۔ پس اس نے قصص بیان کئے۔ بعض قصص کو مختلف جگہوں پر مختلف الفاظ میں بیان فرمایا جبکہ معنی ایک ہے۔ ان قصص کو ان کی زبان میں عربی زبان کی طرف منتقل کیا اور وہ تقدیم وتاخیر، حذف، الغا، کمی بیشی میں ان کے مخالف ہیں۔ جب عربی کو عجمی زبان میں بدلنا جائز ہے تو عربی میں بدلنا بدرجہ اولیٰ جائز ہے اسی معنی سے حسن اور امام شافعی نے حجت پکڑی ہے۔ یہ اس بات میں صحیح ہے۔ اگر کہا جائے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اسے شاداب رکھے جس نے میری بات کو سنا پھر اسے آگے پہنچایا جس طرح اس کو سنا تھا (1) ۔ اور نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ نے ایک شخص کو اپنے بستر پر سونے کے وقت کی دعا سکھائی۔ آمنت بکتابک الذی أنزلت ونبیک الذی ارسلت (2) ۔ اس شخص نے دوبارہ یہ الفاظ پڑھے تو اس نے کہا : ورسولک الذی ارسلت۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ونبیک الذی ارسلت کہو۔ روایت بالمعنی کے عدم جواز کے قائل علماء کہتے ہیں : کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ نبی کریم ﷺ نے جسے دعا سکھائی اسے لفظ کی مخالفت کی اجازت نہ دی اور فرمایا : اسی طرح ادا کرو جس طرح سنا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ فأدا ھا کما سمعھا کے ارشاد میں مراد اس کا حکم ہے اس کا لفظ نہیں ہے کیونکہ لفظ کا اعتبار نہیں اور تیری رہنمائی کرتا ہے یہ اصول کہ خطاب سے مراد اس کا حکم ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : فرب حامل فقہ غیر فقیہ ورب حامل فقہ الی من ھوا فقتہ منہ یعنی بہت سے فقہ حاصل کرنے والے فقیہ نہیں ہوتے اور بہت سے فقہ حاصل کرنے والے اس کی طرف پہنچاتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ ہوتا ہے۔ پھر یہ حدیث بعینہ مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہے جبکہ معنی ایک ہے اگرچہ تمام الفاظ کا مختلف اوقات میں نبی کریم ﷺ سے صادر ہونا ممکن ہے لیکن اغلب یہی ہے کہ یہ ایک حدیث ہے جو مختلف الفاظ سے نقل کی گئی ہے یہ جواز کی واضح دلیل ہے۔ رہا نبی کریم ﷺ کا اس شخص کو رسولک کے لفظ سے نبیک کے لفظ کی طرف لوٹانا، اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کا لفظ زیادہ مدح کا باعث تھا ان دونوں صفات میں ہر صفت کا خاص موقع محل ہے۔ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ رسول کا اسم تمام پر واقع ہوتا ہے اور نبی کا اسم صرف انبیاء کرام کے لئے بولا جاتا ہے۔ رسولوں کو انبیاء سے فضیلت دی گئی ہے کیونکہ وہ نبوت و رسالت کو جمع کرتے ہیں۔ جب ونبیک فرمایا تو ایسی نعت ذکر فرمائی جو زیادہ مدح کا باعث تھی پھر اسے الذی ارسلت فرما کر رسالت کے ساتھ مقید فرمایا۔۔۔۔ پس رسولک کے قول سے نبیک کے قول کی طرف اگر اسے لوٹایا ہے تو یہ اس لئے ہے تاکہ نبوت و رسالت کو جمع کرے۔ یہ کلام کہنا پسندیدہ نہیں ہے کہ تو کہے : ھذا رسول فلان الذی ارسلہ ھذا قتیل زیدالذی قتلہ، کیونکہ ان عبارات میں معنی کا تکرار ہے کیونکہ بعد والی کلام پہلے معنی کو ہی مفید ہے۔ یہ کہنا بہتر ہے : ھذا رسول عبد اللہ الذی ارسلہ الی عمرو وھذا قتیل زید الذی قتلہ بالامس اوفی وقعۃ کذا۔ یعنی یہ عبد اللہ کا پیغام رساں ہے جسے اس نے عمرو کی طرف بھیجا ہے یہ زید کا مقتول ہے جسے اس نے کل قتل کیا تھا یا فلاں واقعہ میں قتل کیا تھا۔ اگر کہا جائے کہ جب پہلے راوی کے لئے رسول کریم ﷺ کے الفاظ بدلنا جائز ہے تو دوسرے راوی کے لئے راوی کے الفاظ بدلنا بھی جائز ہوگا اور یہ باریک فرق اور خفا کی وجہ سے حدیث کو کلیۃً ختم کرنے کی طرف پہنچا دے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ روایت بالمعنی کا جواز معنی کی مطابقت اور مساوات کے ساتھ مشروط ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے، اگر معنی سے مطابقت نہ ہو تو جائز نہیں ہے۔ ابن عربی نے کہا : اس مسئلہ میں اختلاف صحابہ اور تابعین کے زمانہ کی طرف نظیر کرنے سے متصور ہوتا ہے کیونکہ وہ مادری زبان کی معرفت میں برابر تھے۔ رہا بعد والے لوگوں کا حکم ہم اس میں شک نہیں کرتے کہ یہ جائز نہیں ہے کیونکہ طبائع بدل چکی ہے، مفہوم مختلف ہوچکے ہیں، عادتیں تبدیل ہوچکی ہیں یہی حق ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : ابن عربی نے ایک انوکھی بات کی ہے کیونکہ جب جواز معنی کی مطابقت کے ساتھ مشروط ہے تو پھر صحابہ، تابعین اور دوسرے لوگوں کے درمیان فرق نہ رہا۔ اسی وجہ سے اصولیین اور محدثین میں سے کسی نے یہ تفریق نہیں کی۔ ہاں اگر ابن عربی کہتے کہ ان کے زمانہ میں مطابقت بہت بعید ہے تو یہ بہتر ہوتا۔ واللہ اعلم مسئلہ نمبر 7: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نغفرلکم خطیکم نافع نے یا مضموم کے ساتھ پڑھا ہے اور ابن عامر نے تا مضموم کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ مجاہد کی قراءت ہے باقی قراء نے نون کے ساتھ پڑھا ہے اور نون پر نصب پڑھی ہے یہ زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اس سے پہلے واذ قلنا ادخلوا ہے۔ پس نغفر اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دینے پر جاری ہے، تقدیر کلام اس طرح ہوگی : قلنا ادخلوا الباب سجداً نغفر۔ نیز بعد میں بھی سنزید نون کے ساتھ آرہا ہے۔ خطیکم یہ اکثر کے قول کے مطابق ہے۔ یہ اپنے باب پر ہے اور جن علماء نے تغفرتا کے ساتھ پڑھا ہے ان کی وجہ یہ ہے کہ لفظ خطیکم مونث ہے اس لئے صیغہ بھی مؤنث ہوگا، کیونکہ یہ خطیئۃٌ کی جمع مکسر ہے اور یا پڑھنے کی وجہ سے جب فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ آگیا تو فعل کا مذکر کرنا جائز ہوتا ہے جیسا کہ پیچھے فتلقیٰ ادم من ربہ کلمتٍ (البقرہ :37) میں گزرا ہے یا اور تا بہتر ہیں، اگرچہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دینے کا ذکر ہے واذ قلنا میں کیونکہ یہ تو معلوم ہے کہ گناہوں کو بخشنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، پس نون سے استغنا کیا اور فعل کو معاف شدہ خطاؤں کی طرف لوٹایا۔ مسئلہ نمبر 8: خطایا جو کہ خطیئۃٌ کی جمع ہے اس کی اصل میں اختلاف ہے۔ خطیئۃٌ ہمزہ کے ساتھ ہے۔ خلیل نے کہا : خطایا اصل میں خطایئی تھا پھر قلب کیا گیا اور کہا گیا : خطائیی یعنی ہمزہ پہلے یا بعد میں پھر یا کو الف سے بدلا گیا خطاء اہو گیا جب دو الف جمع ہوئے جن کے درمیان ہمزہ ہے تو ہمزہ الف کی جنس سے بدل گیا پھر گویا تین الف جمع ہوگئے پھر ہمزہ کو یا سے بدلا گیا تو ہوگیا خطایا۔ سیبویہ کا مذہب یہ ہے کہ اصل خطایئی ہے پھر یا کو ہمزہ بنایا گیا جس طرح مداین میں یا کو ہمزہ بنایا گیا تو خطائیی ہوگیا۔ پھر ایک کلمہ میں دو ہمزے جمع نہیں ہوتے۔ پس دوسرے ہمزہ کو یا سے بدلا گیا تو خطائی ہوگیا پھر پہلی صورت کی طرح عمل کیا گیا۔ فراء نے کہا : خطایا جمع خطیہ (بغیر ہمزہ کے) ہے۔ جیسے تو کہتا ہو : ھدیۃ وھدایا۔ فراء نے کہا : اگر خطایا، خطیئۃٌ (مہموزہ) جمع ہوتا تو تو خطاء کہتا۔ کسائی نے کہا : اگر اس کی جمع مہموزہ ہو تو ایک ہمزہ دوسرے ہمزہ میں ادغام ہوجائے گا جیسے تو کہتا ہے : دواب۔ مسئلہ نمبر 9: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وسنزید المحسنین یعنی جنہوں نے بچھڑے کی عبادت نہیں کی ان کے احسان میں ہم اضافہ کردیں گے۔ کہا جاتا ہے : دوسرے دن کے لئے من وسلویٰ جمع کرنے کی خطائیں معاف کردیں گے اور جس نے دوسرے دن کے لئے من وسلویٰ جمع نہیں کیا ان کے احسان میں اضافہ کردیں گے۔ کہا جاتا ہے : جو گنہگار ہے اس کی خطائیں معاف کردیں گے اور جو محسن ہے اس کے احسان میں اضافہ کردیں گے۔ یعنی ہم ان کے پاس سابقہ احسان پر احسان کا اضافہ کردیں گے۔ محسنین، احسن سے اسم فاعل ہے۔ المحسن وہ ہوتا ہے جس کا توحید کا عقدہ صحیح ہو اور اپنے آپ کو چلانے میں خوبصورت ہو اور اپنے فرائض کی ادائیگی کی طرف متوجہ ہو، مسلمانوں سے اپنے شر کو روکے۔ حدیث جبریل میں ہے، احسان کیا ہے ؟ فرمایا : تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اگر تو اسے نہ دیکھ سکے تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ جبریل نے کہا : آپ نے سچ فرمایا (1) ۔ اس حدیث کو مسلم نے نقل کیا ہے۔
Ayah 2:59

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 2:59 in the Quran reader

تو جو ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا تھا بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے

آیت نمبر 59 اس میں چار مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فبدل الذین ظلموا قولاً ، الذین محل رفع میں ہے یعنی ان میں سے ظالموں نے بدلا اور بات سے جو انہیں کہا گیا تھا۔ یہ اس طرح ہے کہ انہیں کہا گیا تھا کہ تم کہو : حطۃ ٌ تو انہوں نے کہا حنطۃ جس طرح کہ پہلے گزر چکا ہے۔ انہوں نے ایک حرف کلام سے زیادہ کردیا۔ پس وہ مصیبت سے دو چار ہوئے، اس میں یہ آگاہی دی کہ دین میں زیادتی اور شریعت میں اپنی ایجاد عظیم خطرہ اور شدید نقصان کا باعث ہے۔ یہ ایک کلمہ کی تبدیلی کی وجہ سے ہوا جو توبہ سے تعبیر تھا وہ ایسے بڑے عذاب کا موجب بنا پھر تمہارا کیا خیال ہے جو معبود کی صفات میں تبدیلی کرتے ہیں۔ یہ قول کی تبدیلی کی سزا تھی حالانکہ قول، عمل سے کم ہوتا ہے، تو جو فعل میں تبدیلی کرتے ہیں ان کا کیا حشر ہوگا۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فبدل، بدل اور ابدل کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ عسی ربنا ان یبدلنا دونوں طرح پڑھا گیا ہے۔ جوہری نے کہا : ابدلت الشیء غیرہ۔ تو نے کسی چیز کو دوسری چیز سے بدل ڈالا۔ بدلہ اللہ من الخوف امناً ، اللہ تعالیٰ نے اس کے خوف کو امن سے بدل دیا، تبدیل الشیء کسی چیز کو تبدیل کرنا اگرچہ اس کا بدل نہ بھی لایا جائے۔ استبدل الشیء بغیرہ وتبدلہ بہ۔ جب ایک چیز کی جگہ دوسری چیز بدل دے، المبادلہ کا معنی تبادلہ کرنا۔ الابدال، ایسے نیک لوگوں کو کہتے ہیں جن سے دنیا خالی نہیں ہوتی۔ جب ان میں سے کوئی ایک فوت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو ابدال بنا دیتا ہے۔ ابن درید نے کہا، واحد، بدیل ہے اور البدیل کا معنی بدل ہے۔ بدل الشیء غیرہ کسی چیز کو دوسری چیز سے بدلنا۔ کہا جاتا ہے : بدل، بدل۔ یہ دونوں لغتیں ہیں۔ جیسے شبہٌ، شبہٌ۔ مثلٌ، اور مثلٌ۔ نکلٌ، اور نکلٌ۔ ابو عبید نے کہا : ان چار حروف کے علاوہ فعلٌ اور فعل نہیں سنا گیا۔ البدل اس تکلیف کو بھی کہتے ہیں جو دونوں ہاتھوں اور پیروں میں ہوتی ہے۔ بدل، یبدل بدلاً بھی استعمال ہوتا ہے مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فانزلنا علی الذین ظلموا معاملہ کی بڑائی کی وجہ سے ظلموا کے لفظ کو مکرر ذکر کیا ضمیر ذکر نہیں فرمائی۔ تکرار دو قسموں پر ہوتا ہے کلام کے مکمل ہونے کے بعد استعمال ہوتا ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے اور فویل للذین یکتبون الکتب بایدیھم (البقرہ : 79) پھر بعد میں فرمایا قلیلاً فویل لھم مما کتبت ایدیھم (البقرہ :79) مما کتبوا نہیں فرمایا۔ ویل کا لفظ ان کے فعل کی تغلیظ کے لئے دوبارہ ذکر فرمایا۔ اسی سے خنساء کا قول ہے : تعرقنی الدھر نھسًا وحزاً واؤ جعنی الدھر قرعاً وغمزاً یعنی زمانہ نے مجھے بڑی بڑی مصیبتوں اور چھوٹی چھوٹی تکلیفوں سے دو چار کیا۔ دوسری قسم کی تکرار کی یہ ہوتی ہے کہ ضمیر کی جگہ پر کلام کے مکمل ہونے سے پہلے اسم ظاہر کا تکرار کیا جاتا ہے جیسے الحأقۃ۔ ما الحأقۃ۔ (الحاقہ) القارعۃ۔ ما القارعۃ۔ (القارعہ) اگر تعظیم وتفخیم کا ارادہ نہ کیا جاتا تو قیاس کا تقاضا یہ تھا الحاقۃ ما ھی، القارعۃ ماھی۔ اس کی مثل ہے فاصحب المیمنۃ ما اصحب المیمنۃ۔ (الواقعہ) واصحب المشئمۃ ما اصحب المشئمۃ۔ (الواقعہ) اصحب المیمنۃ کو ان کے بڑے ثواب کو پانے کی وجہ سے اظہار شان کے لئے مقرر ذکر کیا اور اصحب المشئمۃ کو ان کے عذاب الیم کے پانے کی وجہ سے مکررذکر کیا ہے۔ اسی قسم سے شاعر کا قول ہے : لیت الغراب غداۃ ینعب دائباً کان الغراب مقطع الاوداج اس شعر میں شاعر نے الغراب کو دو دفعہ ذکر کیا۔ عدی بن زید نے دونوں معانی کو جمع کیا ہے۔ اس نے کہا : لا اری الموت یسبق الموت شیء نغض الموت ذا الغنی والفقیرا شاعر نے موت کے لفظ کو تین مرتبہ ذکر کیا۔ یہ پہلی قسم سے ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا : الاحبذا ھندٌ وارض بھا ھند وھند اتی من دونھا النأی والبعد اس میں شاعر نے محبوب کی عظمت شان کے لئے اس کا تین دفعہ ذکر کیا۔ مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : رجزاً جمہور کی قرأت رجزاً را کے کسرہ کے ساتھ ہے اور ابن محیصن نے را کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ الرجذ کا معنی عذاب ہے اور سین کے ساتھ رجس ہو تو اس کا معنی بدبو اور گندگی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فزادتھم رجساً الیٰ رجسھم (توبہ : 125) یعنی بدبو کو ان کی بدبو کی طرف زیادہ کردیا۔ یہ کسائی کا قول ہے۔ فراء نے کہا : الرجذ سے الرجس ایک چیز ہے۔ ابو عبید نے کہا : جیسے کہا جاتا ہے السدغ، الذدغ اسی طرح رجس اور رجز ہم معنی ہیں۔ فراء نے کہا : بعض نے کہا الرجز (را کے ضمہ کے ساتھ) ایک بت کا نام ہے جس کی وہ عبادت کرتے تھے۔ اس کے ساتھ بھی اس ارشاد میں پڑھا گیا ہے : الرجز فاھجر۔ اور الرجز (را اور جیم کے فتحہ کے ساتھ) یہ شعر کی ایک قسم ہے۔ خلیل نے شعر ہونے کا انکار کیا ہے۔ یہ الرجز سے مشتق ہے جو اونٹ کے پیچھے حصہ کو لاحق کرتی ہے جب اسے لاحق ہوتی ہے تو اس کی رانیں کا نپنے لگتی ہیں۔ بما کانوا یفسقون یعنی یفسقھم۔ الفسق کا معنی نکلنا ہے۔ یہ پیچھے گزر چکا ہے۔ ابن وثاب اور نخعی نے یفسقون سین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔