Ayah 2:245آیت نمبر : 245۔
اس میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا “۔ جب اللہ تعالیٰ نے حق کی راہ پر جہاد اور قتال کرنے کا حکم ارشاد فرمایا کیونکہ شریعت میں سے کوئی شے (حکم) نہیں ہے مگر اس کی حفاظت اور اس کے دفاع میں قتال جائز ہوتا ہے اور ان میں عظیم تر دین اسلام ہے جیسا کہ امام مالک نے کہا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں (اپنا مال) خرچ کرنے پر برانگیختہ کیا، پس اس خبر میں اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جنگ کرنے والا بھی داخل ہے (اور لشکر کی تیاری میں سامان خرچ کرنے والا بھی) کیونکہ وہ بھی ثواب کی امید پر یہ مال دیتا ہے جیسا کہ حضرت عثمان غنی ؓ نے جیش عسرہ (غزوہ تبوک) میں کیا (1) (سنن ترمذی، باب فی مناقب عثمان بن عفان، حدیث نمبر 3633، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور من مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور ذا اس کی خبر ہے، اور الذی اس کی صفت ہے اور اگر چاہے تو بدل بنا لے۔
جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابو الدحداح ؓ نے اپنے رب سے سے ثواب چاہتے ہوئے اپنا مال صدقہ کرنے بہت تیزی اور جلدی کی، ہمیں شیخ الفقہ، امام محدث، قاضی ابو عامر یحییٰ بن عامر بن احمد بن منیع الاشعری نسبا ومذہبا، قرطئبہ میں۔ اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ لوٹائے، ربیع الثانی 228 ھ میں میری طرف سے ان پر قرات کے دوران انہوں نے خبر دی اور کہا : ہمیں ابو اجازہ نے خبر دی، فرمایا : میں نے ابو عبداللہ بن سعدون سے سماع کرتے ہوئے ابوبکر عبدالعزیز بن خلف بن مدین الازدی پر پڑھا، اس نے کہا : ہمیں ابوالحسن علی بن مہران نے بیان کیا اور کہا : ہمیں ابو الحسن محمد بن عبداللہ ابن زکریا بن حیوہ النیشاپوری (متوفی) 366 ھ نے بیان کیا اور کہا ہمیں میرے چچا ابو زکریا یحی ابن زکریا نے خبر دی اور کہا : ہمیں محمد بن معاویہ بن صالح نے بتایا کہ ہمیں خلف بن خلیفہ نے حمید الاعرج عن عبداللہ بن الحارث عن عبداللہ بن مسعود ؓ کی سند سے حدیث بیان کی ہے، انہوں نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا “۔ تو حضرت ابوالدحداح ؓ نے عرض کی ؛ یا رسول اللہ ﷺ کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض کا ارادہ فرما رہا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں اے ابوالدحداح، تو انہوں نے عرض کی، اپنا دست مبارک مجھے دکھائیں اور پھر آپ نے اسے دراز کیا، تو انہوں نے عرض کی ،: بلاشبہ میں نے اللہ تعالیٰ کو وہ باغ بطور قرض دے دیا جس میں چھ سو کھجور کے درخت ہیں پھر چلتے ہوئے آئے یہاں تک کہ اس باغ کے پاس آگئے اور ام دحداح اپنے بچوں سمیت اس میں تھی، تو آپ نے اسے آواز دی : اے ام دحداح ! اس نے کہا : لبیک (میں حاضر ہوں) آپ نے فرمایا : تو باہر نکل آ، میں نے اپنا وہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا ہے (2) (شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 250، دارالکتب العلمیہ) جس میں چھ سو درخت ہیں۔
اور حضرت زید بن اسلم ؓ نے بیان کیا ہے : جب یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا “۔ تو حضرت ابو الدحداح نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں، یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ ہم سے قرض طلب فرما رہا ہے، حالانکہ وہ تو قرض سے غنی اور بےنیاز ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہاں وہ تمہیں اس کے عوض جنت میں داخل فرمانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ “ تو انہوں نے عرض کی : بلاشبہ اگر میں اپنے رب کو قرض پیش کر دوں تو وہ اس کے عوض میرا ضامن ہوجائے گا اور میری بچی الدحداحہ کو بھی میرے ساتھ جنت میں پہنچا دے گا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہاں “ تو انہوں نے عرض کی پھر اپنا ہاتھ مجھے دیجئے پس رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ انہیں دیا تو انہوں نے کہا : بلاشبہ میرے دو باغ ہیں ان میں سے ایک سافلہ (نچلی زمین) میں ہے اور دوسرا عالیہ (بلند زمین) میں، قسم بخدا میں ان کے سوا کسی شے کا مالک نہیں ہوں، تحقیق میں نے وہ دونوں باغ اللہ تعالیٰ کو قرض دے دیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تو ان میں سے ایک اللہ تعالیٰ کے لئے دیدے اور دوسرے کو اپنے اپنے بال بچوں کی گزر اوقات کے لئے رکھ لے۔ “ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں آپ کو گواہ بنا کرلیتا ہوں : میں نے ان میں سے زیادہ اچھا اور بہتر اللہ تعالیٰ کے لئے دیدیا اور وہ وہ باغ ہے جس میں چھ سو درخت ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تب اللہ تعالیٰ اس کے عوض تجھے جنت کی جزا عطا فرمائے گا ، “ پھر ابو الدحداح ؓ چل پڑے یہاں تک کہ ام الدحداح کے پاس آپہنچے اور وہ اپنے بچوں کے ساتھ باغ میں درختوں کے نیچے گھوم پھر رہی تھی تو آپ کہنے لگے :
ھداک ربی سبل الرشاد الی سبیل الخیر والسداد :
بینی من الحائط بالوداد فقد مضی قرضا الی التناد :
اقرضتہ اللہ علی اعتمادی بالطوع لا من ولا ارتداد :
الا رجاء الضعف فی المعاد فارتحلی بالنفس والاولاد :
والبر لا شک فخیر زاد قدمہ المرء الی المعاد :
تو ام الدحداح نے کہا : تو نے نفع بخش سودا کیا ہے اللہ تعالیٰ تجھے اس میں برکت عطا فرمائے جو تو نے خریدا ہے، پھر ام الدحداح نے آپ کو جواب دیا اس طرح کہا :
بشرک اللہ بخیر وفرح مثلک ادی مالدیہ ونصح :
قدمتع اللہ عیالی ومنح بالعجوۃ السوداء والزھوالبلح :
والعبد یسعی ولہ ماقد کدح طول اللیالی وعلیہ ما اجترح :
پھر ام الدحداح اپنے بچوں کے پاس آئی، جو کچھ ان کے مونہوں میں تھا اسے نکالنے لگی اور جوان کے پاس خوشوں میں تھا اسے بھی جھاڑ دیا یہاں تک کہ وہ دوسرے باغ میں منتقل ہوگئی اور حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” کتنے ہی پھلوں سے لدے ہوئے بھاری بھر کم درخت اور وسیع گھر ابو الدحداح کے لئے ہیں “۔ (1) (شعب الایمان، جلد 3، صفحہ 250، دارالکتب العلمیہ)
مسئلہ نمبر : (2) ابن عربی نے کہا ہے : مخلوق خالق کے حکم، اس کی حکمت، اس کی قدرت، اس کی مشیت اور اس کی قضا وقدر کے مطابق تقسیم ہوگئی جب انہوں نے یہ آیت سنی پس وہ تینوں حصوں میں بٹ گئے۔
پہلا گروہ انتہائی کمینہ اور رذیل ہے۔ انہوں نے کہا : بیشک محمد (مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رب فقیر اور ہمارا محتاج ہے اور ہم غنی ہیں، پس یہ ایسی جہالت ہے جو کسی بھی صاحب عقل پر مخفی نہیں، سو اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول سے ان کا رد کیا : (آیت) ” لقد سمع اللہ قول الذین قالوا ان اللہ فقیر ونحن اغنیآء۔ (آل عمران : 181)
اور دوسرا گروہ وہ ہے کہ جب اس نے یہ قول سنا تو اس نے بخل اور کنجوسی کو ترجیح دی اور مال میں رغبت کو مقدم سمجھا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کچھ خرچ نہ کیا، نہ انہوں نے کسی قیدی کو چھڑایا اور نہ کسی کی معاونت کی، اطاعت وپیروی سے سستی اور کوتاہی کرتے ہوئے اور اس دنیا کی طرف میلان رکھتے ہوئے۔
اور تیسرا گروہ وہ ہے جس نے یہ قول سنا تو اس کی پیروی اور تعمیل میں جلدی کی اور ان میں سے ایک قبول کرنے والے نے تو اپنے مال کی طرف تیزی سے بڑھنے کو ترجیح دی جیسا کہ حضرت ابوالدحداح ؓ وغیرہ۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قرضا حسنا “۔ القرض کا معنی ہے : اسم لکل مایلتمس علیہ الجزاء یعنی قرض ہر اس شے کا نام ہے جس پر وہ جزا کا طالب ہوتا ہے۔ اقرض فلان فلانا یعنی فلاں نے فلاں کو وہ عطا کیا جس کے بدل کا وہ اس سے تقاضا کرسکتا ہے۔ لبید نے کہا :
واذا جو زیت قرضا فاجزہ انما یجزیالغتی لیس الجمل :
جب تجھے بطور قرض جزا دی جائے تو تو اس کی جزا دے بلاشبہ جوان ہی جزا اور بدلہ دیتا ہے نہ کہ اونٹ۔
اور القرض یعنی قاف کے کسرہ کے ساتھ یہ بھی ایک لغت ہے جسے کسائی نے بیان کیا ہے اور استقرضت من فلان کا معنی ہے میں نے اس سے قرض طلب کیا پس اس نے مجھے قرض دے دیا، اور اقترضت منہ کا معنی ہے میں نے قرض لیا، اور زجاج نے کہا ہے : لغت میں قرض کا معنی ہے ” البلاء الحسن والبلاء السی ‘۔ یعنی اچھی آزمائش اور بری آزمائش، امیہ نے کہا ہے :
کل امری سوف یجزی قرضہ حسنا او سیئا ومدینا مثل مادانا :
ہرآدمی کو اس کے قرض کا بدلہ دیا جائے گا چاہے وہ حسن ہو یا سئیہ ہو اور جس کو قرض دیا گیا ہے وہ قرض دینے والے کی مثل ہے۔
اور دوسرے شاعر نے کہا ہے :
تجازی القروض بامثالھا فبالخیر خیرا وبالشر شرا ‘:
قرضوں کا بدلہ ان کی مثلوں کے ساتھ ہی دیا جائے گا پس اچھائی کا بدلہ اچھائی کے ساتھ اور شرکا بدلہ شر کے ساتھ ہوگا۔
اور کسائی نے کہا ہے : قرض سے مراد وہ اچھے یا برے اعمال ہیں جو گزر گئے اور کلمے کا اصل معنی قطع کرنا اور کاٹنا ہے اور اسی سے المقراض القوم : اس کا معنی ہے ان کا اثر ختم ہوگیا اور وہ ہلاک ہوگئے اور یہاں پر القرض اسم ہے اور اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر یہاں اقراضا ہوتا۔
اس آیت میں قرض کی استدعا کا مفہوم یہ ہے کہ یہ لوگوں کی تقریب الی الفہم اور انہیں ایسے انداز سے مانوس کرنے کے لئے ہے جسے وہ سمجھ سکتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ تو الغنی الحمید ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بندہ مومن کی وہ عطا جس کے عوض وہ آخرت میں ثواب کی امید رکھتا ہے اسے قرض کے ساتھ تشبیہ دی ہے جیسا کہ اس نے جنت کے حصول میں جان اور مال دینے کو بیع اور شرا سے تشبیہ دی ہے، اس کا بیان سورة براءت میں آئے گا، انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت سے مراد صدقہ پر اور فقراء اور محتاج لوگوں پر مال خرچ کرنے اور ان پر وسعت و خوشحالی لانے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں دین کی مدد ونصرت کرنے پر ابھارنا اور برانگیختہ کرنا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے کنایۃ فقیر کو اپنی ذات کے ساتھ ذکر کیا ہے صدقہ کی ترغیب دیتے ہوئے، اس کی علت یہ ہے کہ اس کی ذات حاجات سے منزہ اور پاک ہے جیسا کہ اس نے مریض بھوکے اور پیاسے کو کنایۃ اپنی ذات سے تعبیر کیا ہے حالانکہ اس کی ذات نقائص وآلام سے پاک ہے۔
اور صحیح حدیث میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے خبر ہے (یعنی حدیث قدسی ہے) کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم کے بیٹے ! میں بیمار ہوا اور تو نے میری عیادت نہ کی اور میں نے تجھ سے کھانا طلب کیا اور تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا اور میں نے تجھ سے پانی طلب کیا اور تو نے مجھے پانی نہ پلایا ، “ تو یہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! میں تجھے کیسے پلا سکتا تھا حالانکہ تو رب العالمین ہے ؟ تو رب العالمین فرمائے گا : میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی طلب کیا اور تو نے اسے نہ پلایا، بلاشبہ اگر تو نے اسے پلا دیتا تو اسے میرے پاس پاتا (1) (صحیح مسلم کتاب السیر والصلۃ والادب، جلد 2، صفحہ 318، وزارت) اور اسی طرح ان چیزوں میں بھی ہے جو اس سے پہلے ہیں۔ اسے مسلم اور بخاری نے روایت کیا ہے اور یہ سب کی سب اس کے لئے محل شرف میں واقع ہیں جس کے بارے اسے ترغیب دینے کے لئے کنایۃ ذکر کیا جس کو اس کے ساتھ خطاب کیا گیا۔
مسئلہ نمبر : (4) قرض لینے والے پر قرض کو واپس لوٹانا واجب ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں کچھ خرچ کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ضائع نہ ہوگا بلکہ وہ بالیقین ثواب لوٹائے گا اور اس نے جزا کو مبہم رکھا ہے اور حدیث شریف میں ہے :” اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کیا گیا (مال) سات سو گنا اور اس سے بھی زیادہ تک بڑھا دیا جاتا ہے (2) (جامع ترمذی کتاب الجہاد، جلد 1، صفحہ 196، وزارت، جامع ترمذی، باب ماجاء فی فضل النفقۃ فی الخ، حدیث 1550، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
جیسا کہ اس کا بیان اس سورة میں اس ارشاد کے تحت آئے گا۔
(آیت) ” مثل اللہ الذین ینفقون اموالھم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ انبتت سبع سنابل “۔ الآیہ (بقرہ : 261) اور یہاں فرمایا : (آیت) ” فیضعفہ لہ اضعافا کثیرۃ “۔ (بقرہ : 245) اور اس کی نہ کوئی انتہا ہے اور نہ کوئی حد۔
مسئلہ نمبر : (5) قرض کا ثواب بہت زیادہ ہے، کیونکہ اس میں ایک مسلمان کے لئے وسعت اور کشادگی لانا ہے، ابن ماجہ نے اپنی سنن میں حضرت انس بن مالک ؓ سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں نے شب معراج جنت کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا : صدقے کا اجر اس کی دس مثل ہے اور قرض کا اجر اٹھارہ مثل، تو میں نے حضرت جبرایل امین (علیہ السلام) کو کہا : قرض میں کیا ہے کہ وہ صدقہ سے افضل ہے ؟ تو انہوں نے کہا : کیونکہ سائل سوال کرتا ہے اور اس کے پاس (کچھ مال موجود ہوتا ہے) اور قرض لینے والا بغیر حاجت کے قرض کا مطالبہ نہیں کرتا (3) (سنن ابن ماجہ کتاب الصدقات، جلد 1، صفحہ 177، وزارت تعلیم، سنن ابن ماجہ، باب القرض، حدیث نمبر 2421، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
محمد بن خلف عسقلانی، یعلی، سلیمان بن یسیر نے قیس بن روی سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ سلیمان بن اذنان نے علقمہ کو ایک ہزار دریم انکی عطا (وظیفہ) تک قرض دیے پھر جب ان کی عطا کا وقت نکل گیا تو انہوں نے ان سے اس کا تقاضا کیا اور اس پر شدت اور سختی کا اظہار کیا، تو انہوں نے وہ پورا کردیا، گویا علقمہ ناراض ہوگئے اور کئی مہینے ٹھہرے رہے (اور ان سے نہ ملے) پھر ان کے پاس آئے اور کہا : مجھے ایک ہزار درہم میری عطا تک قرض دیجئے، انہوں نے کہا ہاں بڑی عزت و کرامت سے، اے ام عتبہ وہ تھیلا لاؤ جس پر مہر لگی ہوئی ہے اور وہ تمہارے پاس ہے، راوی کا بیان ہے : چناچہ وہ لے کر آئی تو انہوں نے کہا : قسم بخدا یہ تمہارے وہی دراہم ہیں جو تم نے مجھے دیے تھے، میں نے ان میں سے ایک درہم بھی نہیں ہلایا، تو آپ نے کہا : تیرے باپ کی قسم ! جو تو نے میرے ساتھ سلوک کیا کس نے تجھے اس پر ابھارا ؟ تو انہوں نے کہا : میں نے تم سے سنا ہے کہ تم حضرت ابن مسعود ؓ سے بیان کرتے ہو کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو دو بار قرض دیتا ہے تو وہ اس کے ایک بارصدقہ دینے کی طرح ہے (1) (سنن ابن ماجہ، کتاب الصدقات، جلد 1، صفحہ 177، وزارت تعلیم) “ فرمایا مجھے ابن مسعود ؓ نے اسی طرح خبر دی ہے۔
(ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ روایت اس طرح مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جو مسلمان بھی کسی مسلمان کو ایک دفعہ قرض دیتا ہے وہ اس کے دو دفعہ صدقہ کے برابر ہوجاتا ہے۔ “ اسے ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے اور بیہقی نے مرفوع اور موقوف روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر : (6) آدمی کا قرض ایک کا بدلہ ایک ہوتا ہے، یعنی وہ اس پر اتنا ہی لوٹائے گا جتنا اس نے اسے قرض دیا ہے اور اہل علم نے اس پر اجماع کیا ہے کہ دنانیر، دراہم، گندم، جو، کھجور، کشمش اور ہر وہ شے طعام میں سے جس کی مثل موجود ہے اسے قرض کے طور پر لینا جائز ہے اور مسلمانوں نے اپنے نبی مکرم ﷺ سے نقل کرتے ہوئے اس پر اجماع کیا ہے کہ قرض میں زیادتی کی شرط لگانا ربا ہے، اگرچہ وہ چارے کی ایک مٹھی ہو، جیسا کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان کیا ہے یا ایک دانہ ہو اور جو چیز قرض کے طور پر لی ہے اس سے افضل واپس لوٹاناجائز ہے، بشرطیکہ اس کی شرط نہ لگائی جائے، کیونکہ یہ احسان کے باب سے ہے۔ البکر کے بارے میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے : ” بیشک تم میں سے اچھا وہ ہے جو قضا کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے۔ (2) (سنن ابن ماجہ، کتاب الصدقات، جلد 1، صفحہ 176، وزارت تعلیم) اسے ائمہ نے روایت کیا ہے، یعنی بخاری اور مسلم وغیرہما نے۔
پس رسول اللہ ﷺ نے اس کی تعریف کی ہے جس نے ادائیگی اچھے طریقہ سے کی اور اسے مطلق قرار دیا اور اسے کسی صفت سے مقید نہ کیا اور اسی طرح آپ ﷺ نے البکر کے بارے میں فیصلہ فرمایا اور اس سے مراد وہ ہے جو چوتھے سال میں داخل ہو، کیونکہ وہ اس میں اپنے رباعیہ دانت گرا دیتا ہے اور یہ وہ دانت ہیں جو ثنایا سے ملے ہوتے ہیں اور یہ چاروں رباعیات کہلاتے ہیں، امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے اس سے منع کیا ہے اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔
مسئلہ نمبر : (7) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جس نے قرض لیا ہے وہ قرض دینے والے کو کچھ ہدیہ وغیرہ دے اور نہ ہی قرض دینے والے کو اسے قبول کرنا حلال ہے مگر یہ کہ پہلے بھی دونوں کی عادت ہو (کہ وہ ہدیہ اور تحفہ وغیرہ دیتے رہتے ہوں) سنت اسی طرح ہے، ابن ماجہ نے بیان کیا ہے کہ ہشام بن عمار، اسماعیل بن عیاش، عتبہ بن حمید الضبی نے یحییٰ بن ابی اسحاق الہنائی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو اپنے بھائی کو مال قرض کے طور پر دیتا ہے اور وہ اسے کچھ ہدیہ دیتا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی ایک اپنے بھائی کو قرض دے اور وہ اسے ہدیہ دے یا اسے اپنی سواری پر سوار کرے تو وہ اسے نہ قبول کرے اور نہ اس کی سواری پر سوار ہو مگر یہ کہ ان دونوں کے درمیان اس سے پہلے بھی یہ عادت جاریہ ہو (1) (سنن ابن ماجہ، کتاب الصدقات، جلد 1، صفحہ 177، وزارت تعلیم، سنن ابن ماجہ، باب القرض، حدیث نمبر 2422، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
مسئلہ نمبر : (8) قرض مال میں سے ہوتا ہے، تحقیق ہم اس کا حکم بیان کرچکے ہیں اور یہ عزت وآبرو سے بھی ہوتا ہے، حضور نبی کریم ﷺ سے حدیث مروی ہے : ” کیا ہم میں سے کوئی ابو ضمضم کی طرح ہونے سے عاجز ہوگا کہ جب وہ اپنے گھر سے نکلتا تو کہتا : اے اللہ ! میں نے اپنی عزت تیرے بندوں پر صدقہ کردی ‘ (2) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1، صفحہ : 231، دارالفکر)
اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے : ” تو اپنی عزت اپنے فقر و افلاس کے دن کے لئے قرض دے دے۔ “ مراد یہ ہے کہ جو کئی تجھے گالی گلوچ دے تو تو اس سے حق نہ لے اور نہ تو اس پر حد قائم کر یہاں تک کہ قیامت کا دن آجائے جو وافر اجر دینے والا ہے۔
اور امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے : عزت کو صدقہ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اور امام مالک (رح) سے مروی ہے، ابن عربی (رح) نے کہا ہے : یہ فاسد ہے، حضور ﷺ نے حدیث صحیح میں کہا ہے : ” بیشک تمہارے خون اور تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تم پر حرام ہیں۔ (3) (صحیح بخاری، کتاب المغازی، جلد 2، صفحہ 632، وزارت تعلیم) ۔ “ الحدیث۔ اور یہ تقاضا کرتی ہے کہ یہ تینوں محرمات اس میں ایک کے قائم مقام ہیں کہ انکا احترام کرنا آدمی کے لئے فرض اور لازم ہے۔
مسئلہ نمبر : (9) قولہ تعالیٰ (آیت) ” حسنا “۔ واقدی نے کہا ہے : جس کی ذات کو اچھا شمار کیا جائے اور عمرو بن عثمان صدفی نے کہا ہے کہ اس کے ساتھ نہ احسان جتلایا جائے اور نہ وہ اسے اذیت اور پریشانی میں مبتلا کرے۔
اور سہل بن عبداللہ نے کہا ہے : وہ اپنے قرض میں کسی عوض کا اعتقاد نہ رکھتا ہو۔
مسئلہ نمبر : (10) قولہ تعالیٰ (آیت) ” فیضعفہ لہ “۔ عاصم وغیرہ نے فیضاعفہ الف اور فاء کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے ابن عامر اور یعقوب نے عین کو مشدد بغیر الف کے اور فاء کو نصب کے ساتھ پڑھا ہے۔
ابن کثیر، ابو جعفر اور شیبہ نے تشدید اور فاء کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسروں نے الف کے ساتھ اور فاء کو مرفوع پڑھا ہے جنہوں نین اسے رفع دیا ہے انہوں نے یقرض کے ساتھ ملایا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ تقدیر عبارت ” ھو یضاعفہ “ ہے اور جنہوں نے منصوب پڑھا ہے تو انہوں نے فاء کے ساتھ استفہام کا جواب بنایا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے ان مضمر ہے، تشدید اور تخفیف دونوں لغتیں ہیں، اور تشدید کی دلیل ” اضعافا کثیرۃ ہے کیونکہ تشدید کثرت بیان کرنے کے لئے ہوتی ہے اور حسن اور سدی نے کہا ہے : ہم اس تضعیف (کئی گنا) کو نہیں جانتے مگر صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ اس کا ارشاد گرامی ہے : (آیت) ” ویؤت من لدنہ اجر عظیما “۔ (النسائ)
حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا ہے : یہ جہاد کے نفقہ کے بارے میں ہے اور ہم حساب لگاتے تھے اور حضور نبی مکرم ﷺ ہمارے درمیان تھے کہ ایک آدمی کا خرچہ اپنی ذات پر اور اپنے رفقاء پر اور اپنی سواری پر بیس لکھا تھا۔
مسئلہ نمبر : (11) قولہ تعالیٰ (آیت) ” واللہ یقبض ویبصط “۔ یہ ہر شے میں عام ہے پس وہی تنگ کرنے والا ہے اور وہی فراخ اور کشادہ کرنے والا ہے، ہم نے ” شرح الاسماء الحسنی فی الکتاب الاسنی “ میں ان دونوں پر بحث کی ہے۔ (آیت) ” والیہ ترجعون “ یہ وعید ہے کہ وہ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا دے گا۔
Ayah 2:246آیت نمبر : 246۔
قتال اور جنگ پر برانگیختہ کرنے کے بارے میں دوسرا قصہ بیان فرمایا جو بنی اسرائیل میں پیش آیا، الملاء کا معنی ہے اشراف لوگ، گویا کہ وہ شرف وعزت سے بھرے ہوئے ہیں اور زجاج نے کہا ہے : انہیں یہ نام دیا گیا کیونکہ وہ ان چیزوں سے بھرے ہوئے تھے جن کی انہیں ضرورت اور احتیاج ہوتی تھی۔
اور اس آیت میں الملاء سے مراد قوم ہے، کیونکہ معنی اس کا تقاضا کرتا ہے اور الملاء اسم جمع ہے جیسا کہ قوم اور رھط وغیرہ۔
اور الملا کا معنی خلق بھی ہے اور اسی معنی میں حدیث طیبہ ہے : احسنو الملاء فکلکم سیروی، (1) (صحیح مسلم، کتاب المساجد، جلد 1، صفحہ 240، وزارت تعلیم) اسے مسلم نے روایت کیا ہے (تم اخلاق اچھے کرلو تو تم تمام کے تمام سیراب (خوشحال) ہوجاؤ گے)
قولہ تعالیٰ (آیت) ” من بعد موسیٰ “۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے وصال کے بعد (آیت) ” اذ قالوا لنبی لھم ابعث لنا ملکا “۔ کہا گیا ہے کہ وہ نبی حضرت شمویل بن بال بن علقمہ تھے اور وہ ابن العجوز کے لقب سے معروف تھے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت شمعون تھے، سدی نے یہی کہا ہے اور بلاشبہ کہا گیا ہے کہ ابن العجوز لقب اس لئے تھا کہ اس کی ماں بوڑھی تھی تو اس نے اللہ تعالیٰ کی بارگارہ میں بیٹے کی التجا کی حالانکہ وہ بوڑھی اور بانجھ ہوچکی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اور اسے وہ عطا فرما دیا اور انہیں سمعون بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس بڑھیا نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تھی کہ وہ اسے بیٹا عطا فرمائے تو رب کریم نے اس کی دعا سن لی اور بڑھیا نے بچے کو جنم دیا، پس اس نے اس کا نام سمعون رکھا، وہ کہتی : اللہ تعالیٰ نے میری دعا سن لی ہے اور سین عبرانی زبان میں شین ہوجاتی ہے اور وہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے۔
اور مقاتل نے کہا ہے کہ وہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نسل میں سے تھے اور حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے کہ وہ حضرت یوشع بن نون تھے، ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ ضعیف ہے، کیونکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ہے درمیان میں لوگوں کی کئی امتیں ہیں، اور حضرت یوشع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے غلام تھے۔ (1) اور محاسبی نے ذکر کیا ہے کہ ان کا نام اسماعیل تھا، واللہ اعلم
یہ آیت بنی اسرائیل کی اس قوم کے بارے خبر ہے جنہیں ذلت نے آلیا اور دشمن نے ان پر غلبہ پالیا تو انہوں نے جہاد کے بارے اجازت طلب کی کہ انہیں اس کا حکم دیا جائے اور جب انہیں حکم دیا گیا تو ان میں سے اکثر نے بزدلی کا مظاہرہ کیا اور قلیل لوگ ڈٹے رہے، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی نصرت سے نوازا۔ اور حدیث میں ہے کہ یہ مذکورہ لوگ وہی ہیں جنہیں موت دی گئی اور پھر وہ زندہ کردیے گئے۔ واللہ اعلم۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” لقاتل یہ نون اور جزم کے ساتھ اور جمہور قراء کی قرات جو اب امر کی بنا پر ہے اور ضحاک اور ابن ابی عبلہ نے یاء کے ساتھ اور فعل کو مرفوع پڑھا ہے (یعنی یقاتل) اور یہ الملک کی صفت کے محل میں ہے۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” قال ھل عسیتم “۔ اور یہ عسیتم بھی ہے یعنی فتحہ اور کسرہ کے ساتھ دو لغتیں ہیں، دوسری کے مطابق حضرت نافع نے قرات کی ہے اور باقیوں نے پہلی کے مطابق (یعنی فتحہ کے ساتھ) اور یہی مشہور ہے۔
ابو حاتم نے کہا ہے : کسرہ کی کوئی وجہ (اور علت) نہیں ہے اور اس کے ساتھ حسن اور طلحہ نے پڑھا ہے۔
مکی نے اسم فاعل میں کہا ہے : عس اور یہ ماضی میں سین کے کسرہ پر دلالت کرتا ہے اور سین پر فتحہ یہ لغت مشہورہ ہے۔ ابو علی نے کہا ہے : کسرہ کی وجہ عربوں کا یہ قول ہے : ھو عبس بذلک “ مثلا حر اور شج۔ اور یہ فعل اور فعل دونوں کے وزن پر آیا ہے جیسا کہ نعم اور نعم میں ہے اور اسی طرح عسیت اور عسیت ہے، پس اگر فعل کی نسب اسم ظاہر کی طرف کی جائے تو عسیتم میں قیاس یہ ہے کہ کہا جائے : عسی زید، مثلا رضی زید، اور اگر یہ کہا جائے تو یہ قیاس کے مطابق ہے اور اگر نہ کہا جائے تو پھر جائز ہے کہ دونوں لغتیں لے لی جائیں، اور دونوں میں سے ایک دوسری کی جگہ استعمال ہوتی رہے، اور اس کلام کا معنی یہ ہے کیا تم پیٹھ پھیرنے اور فرار اختیار کرنے کے قریب ہو ؟ (آیت) ” ان کتب علیکم القتال الا تقاتلوا “۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 330 دارالکتب العلمیہ)
زجاج نے کہا ہے : (آیت) ” الا تقاتلوا “ یہ محل نصب میں ہے ‘ یعنی ھل عسیتم مقاتلہ (کیا تم لڑائی نہ کرنے کے قریب ہو) (آیت قالوا ومالنا الا نقاتل فی سبیل اللہ “ اخفش نے کہا ہے : اس میں ان زائدہ ہے۔ اور فراء نے کہا ہے کہ یہ اپنے معنی پر محمول ہے یعنی وما منعنا (یعنی کون سی شے ہمارے لئے رکاوٹ ہے) جیسا کہ آپ کہتے ہیں : مالک الا تصلی ؟ مامنعک یعنی کون سی شے تیرے لئے نماز پڑھنے سے رکاوٹ ہے۔
اور کہا ہے : معنی یہ ہے ہمارے لئے اس میں کون سی شے ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے راستے میں جنگ نہیں کریں گے، نحاس نے کہا : یہ معنی زیادہ عمدہ اور اچھا ہے۔ اور ” ان “ محل نصب میں ہے۔ (آیت) ” وقد اخرجنا من دیارنا “۔ یہ علت بیان ہو رہی ہے اور اسی طرح (آیت) ” وابنائنا بھی ہے یعنی اپنی اولادوں کے سبب سے (ہم ضرور لڑیں گے)
قولہ تعالیٰ (آیت) ” فلما کتب علیہم القتال “ یعنی جب ان پر فرض کردیا گیا (آیت) ” تولوا “ اللہ تعالیٰ خبر دی ہے کہ جب اس نے ان پر قتال فرض کیا اور انہوں نے حقیقت کو دیکھا تو جنگ لڑنے کے بارے میں ان کے افکار تبدیل ہوگئے اور ان کی جانیں نکلنے لگیں، ” تولوا “ یعنی ان کی نیتیں مضطرب ہوگئیں اور ان کے عزائم ڈھیلے پڑگئے، یہ حال ہے ان امتوں کا جو بڑی خوشھال اور متنعم تھیں اور انہوں نے خوشحالی کے اوقات میں جنگ کی تمنا کرتے ہوئے دعا کی درخواست کی اور جب جنگ چھڑ گئی تو انہوں نے بزدلی دکھائی اور اپنی طبع کی پیروی کی۔
اسی وجہ سے حضور نبی مکرم ﷺ نے ایسی دعا سے اپنے اس ارشاد کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ ” تم دشمن سے ملاقات کی تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت کی التجا کرو اور جب تمہارے ان سے آمنا سامنا ہوجائے تو پھر تم ثابت قدم رہو (1) (صحیح بخاری کتاب الجہاد، جلد 1، صفحہ 424) اسے ائمہ نے روایت کیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان میں سے قلیل لوگوں کی خبر دی کہ وہ پہلی نیت پر ثابت اور مستحکم رہے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جنگ کرنے پر انکے ارادے برقرار رہے۔
Ayah 2:247آیت نمبر : 247۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” وقال لھم نبیھم ان اللہ قد بعث لکم طالوت ملکا “۔ یعنی تم نے جو اللہ تعالیٰ سے مانگا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہاری دعا کو قبول کرلیا ہے اور طالوت پانی پلاتے تھے بعض نے کہا : وہ چمڑا رنگنے کا کام کرتے تھے اور بعض نے کہا ہے : وہ اجرت پر کام کرتے تھے اور عالم بھی تھے پس اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہی بلند کردیا جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔ وہ حضرت بنیامین کے قبلے سے تھے اور وہ نہ تو نبوت کے قبیلے سے تھے اور نہ ہی بادشاہت کے قبیلے سے اور نبوت بنی لاوی میں تھی اور بادشاہت یہودا کے قبیلے میں تھی، سو اسی وجہ سے انہوں نے انکار کیا۔
حضرت وہب بن منبہ نے کہا ہے : جب بنی اسرائیل کے گروہ نے حضرت شمویل بن بال (علیہ السلام) سے کہا جو کہا : تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں التجا کی کہ وہ ان کی طرف ایک امیر اور بادشاہ بھیجے اور اس پر راہنمائی بھی فرمائے، تو اللہ تعالیٰ انہیں فرمایا : تم اپنے اس سینگ کی طرف دیکھو جس میں تمہارے گھر میں تیل پڑا ہے جب کوئی آدمی تمہارے پاس آئے اور وہ تیل جوش مار کر آواز نکالنے لگے تو سینگ میں ہے تو وہی بنی اسرائیل کا بادشاہ ہوگا اور اس تیل میں سے کچھ اس کے سر پر اگا دو اسے ان پر بادشاہ مقرر کر دو ۔
فرمایا : طالوت چمڑے کی دباغت کا کام کرتے تھے، ان کا جانور گم ہوگیا اور وہ اس کی تلاش میں نکلے اور حضرت شمویل (علیہ السلام) کے گھر کا قصد کیا تاکہ وہ اپنے لئے جانور کے معاملہ میں دعا کرائیں یا ان کے پاس کوئی ایسا ذریعہ پالیں کہ امید لگ جائے، تو تیل میں جوش پیدا ہوگیا جیسا ان کا گمان تھا، بیان کیا، پس حضرت شمویل (علیہ السلام) اس کے پاس کھڑے ہوئے اور اسے اٹھا لیا اور اس میں سے کچھ تیل طالوت کے سر پر لگا دیا اور اسے فرمایا : تو ان بنی اسرائیل کا بادشاہ اور امیر ہیں جن کے بارے اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے۔ (1) (جامع البیان للطبری، جلد 2، صفحہ، 718۔ 719، داراحیاء التراث العربیۃ) پھر بنی اسرائیل کو فرمایا :” بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے طالوت کو بادشاہ اور امیر مقرر کیا ہے۔
طالوت اور جالوت یہ دونوں عجمی اسم ہیں اور دونوں معرب ہیں، اسی لئے یہ دونوں منصرف نہیں (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 332 دارالکتب العلمیہ) اسی طرح داؤد بھی ہے۔ ان کی جمع طوالیت، جو الیت اور دواوید ہے۔ اور اگر کسی آدمی کا نام طاؤس اور راقوذ رکھا جائے تو یہ دونوں منصرف ہوں گے اگرچہ یہ دونوں عجمی ہیں۔
اس کے اور پہلے کے درمیان فرق یہ ہے کہ آپ کہہ سکتے ہیں : الطاؤس پس الف لام داخل ہوتے ہیں اور یہ عربی میں غیر منصرف بنا دیتے ہیں اور یہ انہیں متمکن نہیں بنا سکتے (یعنی طالوت اور جالوت کو)
قولہ تعالیٰ (آیت) ” انی یکون لہ الملک علینا “۔ یعنی وہ کیسے ہمارا امیر بن سکتا ہے حالانکہ ہم اس سے زیادہ بادشاہت کا حق رکھتے ہیں ؟ وہ انبیاء (علیہم السلام) کو تکلیف پہنچانے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے تکبر اور انکار کے بارے میں اپنے طریقے پر چلتے رہے اور انہوں نے کہا : ” انی “ یعنی کون سی جہت سے، پس ” انی “ یہ ظرف ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے۔
حالانکہ ہم بادشاہ کے قبیلے سے ہیں اور وہ اس طرح نہیں ہے اور وہ فقیر اور مفلس ہے، پس انہوں نے اس اقوی سبب کو چھوڑ دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور پہلے سے اس کا فیصلہ ہے۔ یہاں تک کہ ان کے نبی (علیہ السلام) نے اس قول کے ساتھ ان پر حجت اور دلیل بیان فرمائی : (آیت) ” ان اللہ اصطفہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اسے چن لیا ہے اور یہی حجت قاطعہ ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کے لئے طالوت کو چننے کی علت بھی بیان فرمایا دی اور وہ اس کی علم میں کشادگی اور وسعت ہے جو انسان کی بقا ہے اور وہ جسم ہے جو جنگ میں اس کا معاون اور مقابلے کے وقت اس کا سامان جنگ ہے۔ پس یہ آیت امام کی صفت اور امام کے احوال کے بیان کو متضمن ہے اور بلاشبہ اس کے لئے علم، دین اور قوت کو ہونا ضروری ہے نہ کہ نسب کا، پس اس میں علم اور فضائل نفس کے ساتھ نسب کا کوئی حصہ نہیں ہے اور بلاشبہ یہ نسب پر متقدم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس نے طالوت کو اس پر علم اور اس کی قوت کی وجہ سے اختیار اور ترجیح دی ہے، اگرچہ نسب کے اعتبار سے وہ اعلی اور اشرف ہیں۔ اور سورت کے پہلے حصہ میں امام اور اس کی شرائط کا ذکر گزر چکا ہے جو کافی ہے اور دوبارہ اس کے بیان کی حاجت نہیں اور یہ آیت اس میں اصل ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے اس وقت طالوت بنی اسرائیل میں سب سے بڑا عالم تھا اور بڑا خوبصورت اور طاقتور انسان تھا اور وہ اتنا جسیم تھا کہ دشمن بھی اس سے خوف کھاتے تھے۔ کہا گیا ہے کہ اس کا نام طالوت اس کی قدومامت طویل ہونے کی وجہ سے تھا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جسم کی زیادتی سے مراد خیر اور شجاعت کے اوصاف کی کثرت ہے اور اس سے جسم کا عظیم ہونا مراد نہیں ہے، کیا آپ شاعر کے قول کی طرف نہیں دیکھتے :
تری الرجل النحیف فتزدریہ وفی اثوابہ اسد فصور :
ویعجبک الطریر فتبتلیہ فیخلف ظنک الرجل الطریر :
وقدعظم البعیر بغیر لت فلم یستغن بالعظم البعیر :
میں (مفسر) کہتا ہوں : اسی معنی میں حضور نبی مکرم ﷺ کا اپنی زواج مطہرات کے لئے ارشاد ہے : ” تم میں سے سے زیادہ تیزی کے ساتھ مجھے وہ ملے گی جس کا ہاتھ تم میں سے زیادہ طویل ہوگا “۔ پس وہ آپس میں طوالت کو دیکھنے لگیں تو ان میں حضرت زینب پہلے فوت ہوئیں کیونکہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرتی تھیں اور صدقہ کرتی تھیں (1) (صحیح مسلم، کتاب الفضائل، الفضائل، جلد 2 صفحہ 291، وزارت تعلیم، صحیح، بخاری کتاب الزکاۃ، حدیث نمبر 1331، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اسے مسلم نے بیان کیا ہے :
اور بعض تاویل کرنے والوں نے کہا ہے کہ علم سے مراد جنگ کا علم ہے اور یہ بغیر دلیل کے عام کی تخصیص ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : علم کی زیادتی اس اعتبار سے تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی فرمائی اور یہ اس بنا پر ہے کہ طالوت نبی ہوں۔ اس کا بیان آگے ائے گا،
قولہ تعالیٰ (آیت) ” واللہ یؤتی ملکہ من یشآئ “۔ بعض تاویل کرنے والوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ رب العالمین کا یہ ارشاد حضور نبی مکرم ﷺ کے لئے ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ شمویل (علیہ السلام) کے قول میں سے ہے اور یہی زیادہ ظاہر ہے آپ نے انہیں یہ تب کہا جب آپ نے دلائل میں ان کی سرکشی اور ان کے جھگڑنے کو دیکھا تو ارادہ کیا کہ آپ اپنی کلام کو ایسی قطعی دلیل سے مکمل کریں جس پر کوئی اعتراض نہ ہو سکتا ہو، تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” واللہ یؤتی ملکہ من یشآئ “۔ (اور اللہ تعالیٰ اپنا ملک عطا فرما دیتا ہے جسے چاہتا ہے) اور دنیوی ملک کی اضافت اللہ تعالیٰ طرف مملوک کی اضافت مالک کی طرف کرنے کی طرح ہے پھر ان کے لئے رشک اور تنبیہ کی بنا پر ان کی طرف سے سوال کے بغیر فرمایا (آیت) ” ان ایۃ ملکہ “ یہ احتمال رکھتا ہے کہ انہوں نے آپ سے اس قول پر صدق پر دلیل طلب کی ہے : (آیت) ” ان اللہ قدبعث لکم طالوت ملکا “۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : پہلا قول سیاق آیت کے مطابق زیادہ ظاہر ہے اور دوسرا بنی اسرائیل کے اخلاق ذمیمہ کے زیادہ مشابہ ہے، یہ موقف طبری نے اختیار کیا ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 332 دارالکتب العلمیہ)
(المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 332 دارالکتب العلمیہ)
Ayah 2:248آیت نمبر : 248۔
(آیت) ” وقال لھم نبیھم ان ایۃ ملکی ان یاتیکم التابوت “۔ یہ بمعنی اتیان التابوت ہے، یعنی تابوت کا آنا ان کی بادشاہی کی نشانی ہے اور تابوت (صندوق) کے بارے جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت آدم (علیہ السلام) پر نازل فرمایا (اتار) اور وہ آپ کے پاس رہا، یہاں تک کہ (وراثۃ) چلتے چلتے حضرت یعقوب (علیہ السلام) تک پہنچ گیا بنی اسرائیل اس کی برکت سے ان پر غالب آتے تھے جو کوئی ان سے جنگ لڑتے حتی کہ بنی اسرائیل نافرمان ہوگئے تو ان سے تابوت چھین لیا گیا اور عمالقہ نے اسے چھینا تھا، سدی کے قول کے مطابق وہ جالوت اور اس کے ساتھی تھے اور انہوں نے ان سے تابوت چھین لیا۔
، میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ اس پر سب سے بڑی دلیل ہے کہ نافرمانی (گناہوں کی کثرت) ذلت و رسوائی کا سبب ہے اور یہ بالکل بین اور واضح ہے۔
نحاس نے کہا ہے کہ تابوت میں نشانی اس طور پر تھی کہ یہ مروی ہے اس میں سے رونے کی آواز سنائی دیتی تھی، پس جب وہ اسے سنتے تو وہ جنگ کے لئے چل پڑتے تھے اور جب یہ آواز پرسکون ہوجاتی تو نہ وہ چلتے اور نہ ہی تابوت چلتا۔
اور یہ قول بھی ہے کہ وہ اسے میدان جنگ میں رکھتے تھے اور وہ مسلسل غالب آتے رہے یہاں تک کہ وہ نافرمان اور گستاخ ہوگئے تو وہ مغلوب ہوگئے اور ان سے تابوت لے لیا گیا اور وہ ذلیل ورسوا ہوگئے، پس جب انہوں نے ہلاکت اور اپنا ذکر ختم ہونے کی علامت دیکھی تو ان میں سے بعض نے اسے ناپسند کیا اور وہ اپنے معاملات میں مشاورت کرنے لگے یہاں تک کہ ان کی ایک جماعت اس پر جمع ہوگئی کہ وہ اپنے وقت کے نبی (علیہ السلام) کو عرض کریں کہ ہمارے لئے کوئی امیر مقرر کر دو ، پھر جب نبی (علیہ السلام) نے انہیں یہ بتایا تمہارا بادشاہ طالوت ہے تو انہوں نے اس میں رجوع کرلیا (یعنی رائے بدل لی) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں خبر دی ہے پس جب انہیں دلیل کے ساتھ خاموش کرا دیا گیا تو انہوں نے اس پر بینہ طلب کرلیا، یہ طبری کا قول ہے اور جب انہوں نے اپنے نبی (علیہ السلام) سے اس پر شہادت طلب کی جو انہوں نے کہا، تو انہوں نے اپنے رب سے دعا کی تو اس کے سبب اس قوم پر بیماری نازل ہوئی جنہوں نے تابوت لے لیا تھا، اس میں کچھ اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے اسے اپنے کنیسہ (عبادتگاہ) میں رکھا، اس میں بت تھے تو وہ بت صبح کے وقت اوندھے پڑے تھے۔
اور ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے اسے اپنے بت خانہ میں بڑے بت کے نے نیچے رکھا، پس انہوں نے صبح اس حال میں کی کہ وہ بت کے اوپر پڑا ہوا تھا تو انہوں نے اسے اٹھایا اور اسے بت کی ٹانگوں کے ساتھ باندھ دیا اور پھر صبح اس حال میں کی کہ بت کے دونوں ہاتھ اور اس کی دونوں ٹانگیں کٹی ہوئی تھیں اور تابوت کے نیچے پڑی ہوئی تھیں پس انہوں نے اسے اٹھایا اور ایک قوم کے گاؤں میں جا کر رکھ دیا تو اس قوم کی گردنوں میں درد ہونے لگی،
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے اسے ایک قوم کے پاخانہ کی جگہ رکھا تو وہ بواسیر کی بیماری میں مبتلا ہونے لگے اور جب ان کی تکلیف بہت بڑھ گئی جس حالت میں وہ تھی تو انہوں نے کہا : یہ تکلیف نہیں ہے مگر اسی تابوت کی وجہ سے۔ پس ہمیں چاہئے کہ ہم اسے بنی اسرائیل کی طرف واپس لوٹا دیں، چناچہ انہوں نے اسے دو بیلوں کے درمیان ریڑھے پر رکھا اور انہیں بنی اسرائیل کے شہروں کی طرف بھیج دیا اور اللہ تعالیٰ نے فرشتے بھیجے وہ بیلوں کو ہانکتے رہے یہاں تک کہ وہ دونوں بنی اسرائیل میں داخل ہوگئے، یہ لوگ طالوت کی حکمرانی میں تھے تو انہوں مدد ونصرت کا یقین ہوگیا، اس روایت میں یہی ملائکہ کا تابوت کو اٹھانا ہے، یہ بھی روایت ہے کہ ملائکہ اسے اٹھا کر لائے اور حضرت یوشع بن نون نے اسے ریگستان میں رکھ دیا اور یہ روایت بھی ہے کہ انہوں نے ہوا میں تابوت دیکھا یہاں تک کہ وہ ان کے درمیان اتر گیا، ربیع بن خثیم نے یہی کہا ہے۔
اور وہب بن منبہ نے بیان کیا ہے کہ اس تابوت (صندوق) کی مقدار تقریبا تین ہاتھ لمبائی اور دو ہاتھ چوڑائی تھی، کلبی نے کہا ہے : یہ شمسار کی لکڑی سے بنا ہوا تھا جس سے کنگھیاں بنائی جاتی ہیں، اور حضرت زید بن ثابت ؓ نے التابوہ پڑھا ہے اور یہ بھی اس کی لغت ہے اور لوگ آپ کی قرات پر اسے تا کے ساتھ پڑھتے ہیں اور یہ گزر چکا ہے اور آپ سے التیبوت بھی مروی ہے، نحاس نے اسے ذکر کیا ہے اور حمید بن قیس نے یحملہ یا کے ساتھ پڑھا ہے۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” فیہ سکینۃ من ربکم وبقیۃ “ اور بقیہ کے بارے میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے پس سکینہ ” فعیلۃ کے وزن پر ہے یہ سکون، وقار اور طمانینت سے لیا گیا ہے پس یہ قول ” فیہ سکینۃ “ یہ تمہارے دلوں کے سکون کا سبب ہے اس میں جو طالوت کے بارے تم میں اختلاف ہے اور اسی کی طرح یہ ارشاد ہے (آیت) ” فانزل اللہ سکینتہ علیہ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس پر وہ نازل فرمایا جس کے سبب اس کے دل کو سکون ہوا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سین مراد یہ ہے کہ تابوت ان کے دلوں کے سکون کا سبب تھا، پس وہ جہاں بھی ہوئے انہیں اس کے پاس سکون و اطمینان ملا، جب تابوت جنگ میں ان کے ساتھ ہوتا تھا وہ اس سے قطعا نہ بھاگتے تھے۔
وہب بن منبہ نے کہا ہے : سکینہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی جانب سے خاص روح ہے جو کلام کرتی تھی، جب ان کا کسی امر میں اختلاف ہوجاتا تو وہ اس کی وضاحت اور بیان کے ساتھ بولتی تھی جو وہ ارادہ رکھتے تھے اور جب وہ جنگ میں چیخ مارتی تو کامیابی و کامرانی ان کے لئے ہوجاتی تھی،
اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے بیان کیا ہے یہ بہت تیز رفتار ہوا تھی اس کا چہرہ انسان کے چہرے کی مثل تھا اور آپ ؓ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے کہا کہ یہ ایسی ہوا تھی جو ناہموار جگہوں سے بڑی تیزی کے ساتھ گزرتی اس کے دو سر تھے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 333 دارالکتب العلمیہ)
اور حضرت مجاہد ؓ نے کہا ہے : یہ ایک بلی کی طرح کا حیوان تھا اس کے دو پر تھے، دم تھی اور اس کی آنکھیں چمکدار تھیں اور جب یہ کسی لشکر کی طرف دیکھتا تو وہ شکست کھا جاتا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے : یہ جنت سے لائی ہوئی سونے کی ایک طشتری تھی جس میں حضرات انبیاء علیہم الصلوت والتسلیمات کے دل دھوئے جاتے تھے، سدی نے یہی کہا ہے۔
اور ابن عطیہ نے کہا ہے : صحیح یہ ہے کہ تابوت میں انبیاء کرام علیہم الصلوت والتسلیمات کی باقی رہ جانے والی کچھ اشیاء (تبرکات) اور ان کی علامات اور نشانیاں تھیں لوگ اس کے پاس سکون حاصل کرتے تھے، اس سے انس رکھتے تھے اور قوت و طاقت حاصل کرتے تھے۔ (2) (صحیح مسلم، کتاب فضائل القرآن، جلد 1، صفحہ 268، وزارت تعلیم)
میں (مفسر) کہتا ہوں : صحیح مسلم میں حضرت براء ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی سورة الکہف پڑھ رہا تھا اور اس کے ساتھ گھوڑا اور رسیوں کے ساتھ بنداھا ہوا تھا تو اس آدمی پر بادل سا چھا گیا اور وہ گھومتا رہا اور اس کے قریب آتا گیا اور اس کا گھوڑا اس کے سبب خوف سے بدکنے اور اچھلنے کودنے لگے، جب صبح ہوئی تو وہ حضور نبی رحمت ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اس کا تذکرہ کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہ سکینہ ہے جو قرآن کے سبب نازل ہوا “۔ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث میں ہے کہ حضرت اسید بن حضیر ؓ ایک رات اپنے مربد (کھجور خشک کرنے کی جگہ) میں قرآن کریم پڑھ رہے تھے۔ الحدیث، اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” وہ ملائکہ تھے جو تیری تلاوت سن رہے تھے اور اگر تو پڑھتا رہتا تو وہ صبح اس حال میں کرتے کہ لوگ انہیں دیکھ سکتے جو ان سے مخفی رہتے ہیں (3) (صحیح مسلم، کتاب فضائل القرآن، جلد 1، صفحہ 269، وزارت تعلیم، صحیح بخاری، باب فضل سورة کہف، حدیث نمبر 4625، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، ایضا، صحیح بخاری، فضل المعوذات، حدیث نمبر 4630، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اسے بخاری اور مسلم نے بیان کیا ہے۔ پس رسول اللہ ﷺ نے ایک بار سکینہ کے نزول اور ایک بار ملائکہ کے نازل ہونے کے بارے فرمایا تو یہ اس پر دلیل ہے کہ سکینہ اس سایہ میں تھا اور وہ ہمیشہ ملائکہ کے ساتھ اترتا ہے اور اس میں ان کے لئے بھی حجت ہے جنہوں نے کہا کہ سکینہ روح ہے یا ایسی شے ہے جس کی روح ہے، کیونکہ قرآن کا سننا صحیح نہیں ہوتا مگر اس کے لئے جو عقل رکھتا ہے۔ واللہ اعلم۔
قولہ تعالیٰ (آیت) ” وبقیۃ “ بقیۃ کے بارے مختلف اقوال ہیں
سو کہا گیا ہے : (اس میں) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا، حضرت ہارون (علیہ السلام) کا عصا اور تختیوں کے ٹکڑے تھے کیونکہ وہ ٹوٹ گئی تھیں، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں پھینکا تھا، حضرت ابن عباس ؓ نے یہی بیان کیا ہے اور عکرمہ نے یہ زائد کہا ہے کہ اس میں تورات بھی تھی،
اور ابو صالح نے کہا ہے : بقیۃ سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا، آپ کا لباس، حضرت ہارون (علیہ السلام) کے کپڑے اور تورات کی دو تختیاں ہیں۔
اور عطیہ بن سعد نے کہا ہے : اس سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کا عصا، دونوں کے کپڑے اور تختیوں کے ٹکڑے ہیں۔
اور ثوری (رح) نے کہا ہے : لوگوں میں سے کچھ کہتے ہیں کہ البقیۃ سے مراد سونے کی طشتری میں دو قفیز من (وہ کھانا جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا، حضرت ہارون (علیہ السلام) کا عمامہ شریف اور تختیوں کے ٹکڑے ہیں اور ان میں سے بعض کہتے ہیں : عصا اور نعلین مراد ہیں۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 334 دارالکتب العلمیہ)
جو کچھ اس بارے روایت ہے اس کا معنی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب اپنی قوم کے پاس تختیاں لے کر آئے اور آپ نے انہیں بچھڑے کی عبادت کرتے ہوئے پایا تو آپ نے غصے میں آکر وہ تختیاں پھینک دیں اور وہ ٹوٹ گئیں، پس آپ نے ان میں جو صحیح تھیں انہیں نکال لیا اور جو ٹوٹ گئیں تھیں ان کے ٹکڑے اٹھا لیے اور انہیں تابوت میں رکھ دیا۔
اور ضحاک (رح) نے کہا ہے البقیۃ سے مراد جہاد کرنا اور دشمنوں سے قتال کرنا ہے۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : تابوت کے بارے میں ان میں سے کوئی امر ہو، یا تو اس میں لکھا ہوا ہے اور یا پھر اس کی ذات کو لانا ہی اس کے بارے امر کی طرح ہے، اور تبرک کی نسبت آل موسیٰ اور آل ہارون (علیہما السلام) کی طرف اس حیثیت سے کی گئی کہ حکم ایک قوم سے دوسری قوم کی طرف لکھا ہوا تھا اور وہ تمام کے تمام آل موسیٰ اور آل ہارون (علیہما السلام) ہی تھے اور کسی آدمی کی آل سے مراد اس کے قرابتدار ہوتے ہیں (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 334 دارالکتب العلمیہ) یہ پہلے گزر چکا ہے۔