2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:71

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 2:71 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا خدا فرماتا ہے کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ہو ، نہ تو زمین جوتتا ہو اور نہ کھیتی کو پانی دیتا ہو، اس میں کسی طرح کا داغ نہ ہو، کہنے لگے اب تم نے سب باتیں درست بتادیں، غرض (بڑی مشکل سے) انہوں نے اس بیل کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرنے والے تھے نہیں

آیت نمبر 71 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال انہ یقول انھا بقرۃٌ لا ذلولٌ جمہور علماء نے لا ذلول کو بقرۃٌ کی صفت کی بنا پر مرفوع پڑھا ہے۔ اخفش نے کہا : لا ذلولٌ، بقرۃٌ کی صفت ہے اور اس پر نصب بھی جائز ہے۔ ابو عبد الرحمٰن السلمی نے لا ذلول کو نفی کی بنا پر منصوب پڑھا ہے اور خبر مضمر ہے اور یہ تقدیر بھی جائز ہے : لا ھی ذلولٌ لا ھی تسقی الحرث وھی مسلمۃ۔ لا ذلول کا مطلب ہے : اسے کام نے مطیع نہ بنایا ہو۔ کہا جاتا ہے : بقرۃ مذللۃ بینۃ الذل، انتہائی مطیع گائے۔ رجل ذلیل بین الذل (3) ، انتہائی مطیع شخص، یعنی وہ گائے سخت ہو اس کو کام پر نہ لگایا گیا ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تثیر الارض یہ بھی بقرہ کی صفت کی وجہ سے محل رفع میں ہے یعنی ھی بقرۃ لا ذلول مثیرۃٌ (4) ۔ حسن نے کہا : وہ گائے وحشی تھی (5) ۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ وصف بیان فرمایا لا ذلولٌ تثیر الارض والا تسقی الحرث یعنی کھیتی کو پانی پلانے کے لئے اس کو عادی نہ بنایا گیا ہو اور نہ اس پر پانی لایا جاتا ہو۔ اس پر وقف بہتر ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : تثیر علیحدہ فعل ہے۔ اس کا معنی ہے : زمین چیرتی ہو اور اس سے کھیتی کو پانی نہ لگایا جاتا ہو (1) ۔ اس تاویل پر لا ذلولٌ پر وقف ہوگا پہلا قول دو وجوہ سے اصح ہے۔ ایک وجہ تو وہ ہے جو نحاس نے حضرت علی بن سلیمان سے روایت کی ہے کہ تثیر کو علیحدہ کلام بنانا جائز نہیں کیونکہ اس کے بعد لا تسقی الحرث آرہا ہے اگر یہ مستانفہ جملہ ہوتا تو واو اور لا کے ساتھ جمع نہ کیا جاتا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر وہ زمین جوتتی ہو تو پھر وہ کام کی وجہ سے مطیع ہوگی حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لا ذلولٌ، وہ کام پر لگانے کی وجہ سے مطیع نہ ہو۔ میں کہتا ہوں : یہ احتمال ہے کہ تثیر الارض عمل شمار نہ ہوتا ہو اس کے خوش ہونے اور نشاط کی وجہ سے جیسا کہ امرؤ القیس نے کہا : یھیل ویذری تربہ ویثیرہ اثارۃ نباث الھواجر مخمس وہ مٹی کو پھاڑتا ہے جس طرح گرمی میں پانچ اونٹوں والا آدمی مٹی کو چیرتا ہے تاکہ گیلی مٹی تک پہنچ جائے۔ اس صورت میں تثیرمستانفہ ہوگا۔ ولا تسقی الحرث اس پر معطوف ہوگا۔ اثارۃ الارض، مٹی کو حرکت دینا، اسے کریدنا۔ اسی سے حدیث پاک ہے : اثیروا القرأن فانہ علم الاولین والاخرین، قرآن کو کھولو (پڑھو) کیونکہ یہ پہلے اور پچھلے لوگوں کا علم ہے۔ ایک روایت میں ہے : من اراد العلم فلیثور القرأن جو علم کا ارادہ رکھتا ہے وہ قرآن کی تلاوت کرے۔ پہلے یہ گزر چکی ہے۔ قرآن میں ہے : أثار والارض یعنی انہوں نے کھیتی باڑی کے لئے زمین کو الٹ پلٹ لیا، الحرث وہ زمین جس میں کھیتی باڑی کی جائے۔ مسئلہ : اس آیت میں دلیل ہے کہ حیوان کو اس کی صفات سے مقید کیا جاسکتا ہے جب اس کی صفت بیان کردی جائے اور وہ صفات سے مقید کردیا جائے تو اس میں بیع سلم جائز ہے۔ یہی قول امام مالک اور ان کے اصحاب کا ہے اور امام اوزاعی، لیث اور امام شافعی کا ہے۔ اسی طرح ہر وہ چیز جس کی صفت بیان ہوسکی ہے اس کی بیع سلم جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں گائے کا وصف بیان فرمایا جو تعیین کے قائم مقام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عورت دوسری عورت کا اپنے خاوند کے سامنے اس طرح حلیہ بیان نہ کرے حتیٰ کہ گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے۔ یہ حدیث مسلم نے نقل کی ہے (2) ۔ نبی کریم ﷺ نے صفت کو دیکھنے کے قائم مقام رکھا ہے اور آپ ﷺ نے قتل خطا کی دیت کو اس کے ذمہ کیا ہے جس نے دیت کو ایک مدت تک بطور قرض، اپنے اوپر لیا ہے اور فوراً ادا کرنا ضروری قرار نہیں دیا۔ یہ کوفی علماء، امام ابوحنیفہ (الف) اور ان کے اصحاب، ثوری اور حسن بن صالح کے قول کا رد ہے جو کہتے ہیں : حیوان کی بیع سلم جائز نہیں ہے۔ حضرت ابن مسعود، حضرت حذیفہ اور حضرت عبد الرحمٰن بن سمرہ سے مروی ہے، حیوان کی صفت کی حقیقت پر آگاہی نہیں ہو سکتی جیسے اس کا چلنا اور حرکت کرنا کیونکہ صفات کے اعتبار سے اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بیع سلم کا حکم اور اس کی شرائط اس سورت کے آخرت میں آیت الدین کے ضمن میں آئیں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مسلمۃٌ یعنی ھی مسلمۃٌ۔ اس کا وصف ہونا بھی جائز ہے یعنی وہ گائے لنگڑے پن اور تمام عیوب سے سلامت ہو۔ یہ قتادہ اور ابو العالیہ کا قول ہے (1) ۔ مسلمۃٌ من العمل، عمل سے سلامت نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے عمل سے نفی فرمائی ہے۔ حسن نے کہا : اس کے پاؤں سلامت ہوں ان میں کام کا کوئی اثر نہ ہو۔ (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا شیۃ فیھا اس میں ایسا رنگ نہ ہو جو اس کے کثیر رنگ کے مخالف ہو۔ یہ گائے ساری زرد ہو نہ اس میں سفیدی ہو نہ سرخی ہو اور نہ سیاہی ہو۔ جیسا کہ فرمایا : فاقع الونھا۔ شیۃ اصل میں وشی تھا واو کو حذف کیا گیا جیسا کہ یشی سے حذف کیا گیا اصل میں یوشی تھا۔ اس کی مثال زنۃ، عدۃ اور صلۃ ہیں۔ الشیۃ، وشی الثوب سے مشتق ہے جب کپڑ دو رنگوں پر بنا گیا ہو۔ ثورٌ موشی جس بیل کے منہ میں اور بائیوں میں سیاہی ہو۔ ابن عرفہ نے کہا : الشیۃ سے مراد رنگ ہے، چغلخور کو واش نہیں کہا جاتا حتیٰ کہ وہ کلام کو تبدیل کر دے اور اس میں مزید اپنی طرف سے رنگ بھر دے اور اسے مختلف اقسام پر کر دے اور اس میں سے جو چاہے مزین کر دے۔ الوشی، کا معنی کثرت بھی ہے۔ وشی بنو فلان اس کا مطلب ہے۔ وہ زیادہ ہوگئے۔ کہا جاتا ہے : فرس ابلق، کبش أخرج، تیسٌ ابرق، غراب ابقع اور ثورٌ اشیہ، ان میں ہر ایک کا معنی چتکبرا ہے، یہ اہل لغت کی نص ہے۔ (3) گائے میں یہ اوصاف ذکر کرنا اس لئے تھا کہ انہوں نے سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کی اللہ کا دین آسان ہے۔ انبیاء کرام اور علماء وغیرہ سے بغیر ضرورت سوال کرنا مذموم ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ اس گائے کے قصص میں بہت سی روایات مروی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی اسرائیل کا ایک شخص تھا۔ اس کا بچہ پیدا ہوا۔ اس کی ایک بچھڑی تھی اس نے اسے ایک جنگل میں چھوڑ دیا اور کہا : اے اللہ ! میں یہ بچھڑی تیری بارگاہ میں ودیعت کرتا ہوں اس بچے کے لئے۔ وہ شخص فوت ہوگیا، جب وہ بچہ بڑا ہوا تو اس کی ماں نے اسے کہا : وہ ماں کا بڑا فرمانبردار تھا، تیرے باپ نے تیرے لئے ایک بچھڑی اللہ کی بارگاہ میں ودیعت کی تھی، تم جاؤ اور وہ لے آؤ۔ وہ لڑکا گیا۔ جب گائے نے اسے دیکھا تو وہ اس کے پاس آگئی حتیٰ کہ اس نے اس کو سینگوں سے پکڑ لو۔ وہ گائے وحشی بنی ہوئی تھی، اس نے اسے اپنی ماں کی طرف کھینچنا شروع کیا۔ بنی اسرائیل اسے راستہ میں ملے تو انہوں نے اس گائے کو اس صفت پر پایا جس کا انہیں حکم دیا گیا تھا۔ انہوں نے اس سے سودا کیا تو اس نے ان سے بہت زیادہ قیمت مانگی۔ عکرمہ کی روایت کے مطابق اس کی قیمت تین دینار تھی۔ وہ سب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے اور کہا : یہ شخص ہم سے بہت زیاد قیمت مانگتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں کہا : اس کی ملکیت کے بارے میں اسے راضی کرو۔ پس انہوں نے وہ گائے اس سے اس کے وزن کے مطابق خریدی۔ یہ عبیدہ کا قول ہے۔ سدی نے کہا : دس مرتبہ وزن کے ساتھ خریدی۔ بعض نے کہا : اس کی کھال ونانیر سے بھر کردینے کے بدلے میں خریدی۔ مکی نے ذکر کیا ہے کہ یہ گائے آسمان سے نازل ہوئی تھی وہ زمین کی گائیوں میں سے نہیں تھی۔ (1) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالوا الئن جئت بالحق یعنی تو نے حق کو بیان کیا۔ یہ قتادہ کا قول ہے (2) ۔ اخفش نے کہا : قالوا الئن الف وصلی کو قطعی بنایا جیسے کہا جاتا ہے : یا اللہ۔ ایک اور وجہ حکایت کی ہے : قالوا لان۔ واو کے اثبات کے ساتھ اس کی مثال اہل مدینہ اور ابو عمرو کی قراءت ہے عاداً اولیٰ کو فیوں نے قالوا الآن ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اہل مدینہ کی قراءت قال لان ہمزہ کی تخفیف کے ساتھ اور التقائے ساکنین کی وجہ سے واو کے حذف کے ساتھ۔ زجاج نے کہا الآن مبنی برفتحہ ہے یہ باقی تمام کلمات کے مخالف ہے جن میں الف، لام ہوتا ہے کیونکہ الف اور لام غیر عہد کے لئے داخل ہوتے ہیں تو کہتا ہے : انت الی الآن ھنا اس کا معنی ہے : تو اس وقت تک یہاں ہے پس اس کو مبنی بنایا گیا ہے جس طرح ھذا کو مبنی بنایا گیا ہے اور نون کو التقائے ساکنین کی وجہ سے فتحہ دیا گیا ہے۔ یہ زمانہ حال سے عبارت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما کا دوا یفعلون سیبویہ نے کا د ان یفعل کو عسی کی مشابہت کی وجہ سے جائز قرار دیا ہے۔ یہ بحث سورت کے آغاز میں گزر چکی ہے۔ یہ خبر ہے کہ انہوں نے گائے کو ذبح میں تاخیر کی اور اللہ تعالیٰ کے امر کو جلدی پورا نہ کیا۔ قرظی محمد بن کعب نے کہا : اس کی وجہ قیمت کا مہنگا ہونا تھا۔ بعض نے کہا : اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں خوف تھا کہ قاتل کا پتہ چل جائے گا، یہ حضرت وہب بن منبہ نے کہا ہے۔ (3)
Ayah 2:72

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا اور پھر اس میں باہم جھگڑنے لگے لیکن جو بات تم چھپا رہے تھے خدا اس کو ظاہر کرنے والا تھا

آیت نمبر 72 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ قتلتم نفسًا فادرءتم یہ کلام قصہ کی ابتدا پر مقدم ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے : واذ قتلتم نفساً فادرأتم فیھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں اس طرح کا حکم دیتا ہے، یہ اس ارشاد کی طرف ہے الحمد للہ الذی انزل علیٰ عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجاً ۔ (الکہف) اس کی تقدیر اس طرح ہے : انزل علی عبدہ الکتاب قیماً ولم یجعل لہ عوجا۔ اس کی مثالیں بہت سی ہیں جو ہم نے قصہ کے آغاز میں بیان کردی ہیں۔ اس شخص کے قتل کے سبب کے متعلق دو قول ہیں : پہلا قول یہ ہے کہ اس شخص کی ایک خوبصورت بیٹی تھی۔ اس نے پسند کیا کہ اس کے چچا کا بیٹا اس سے نکاح کرے لیکن چچا نے اسے منع کیا۔ پس اس نے اسے قتل کردیا اور پھر اپنے شہر سے اٹھا کر دوسرے شہر میں پھینک دیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس نے میراث طلب کرنے کی خاطر اسے قتل کیا۔ وہ فقیر تھا اس نے کسی خاندان پر اس کے قتل کا دعویٰ کردیا۔ عکرمہ نے کہا : بنی اسرائیل کی ایک مسجد تھی اس کے بارہ دروازہ تھے۔ ہر دروازہ ایک قوم کے لئے تھا۔ وہ اس سے داخل ہوتے تھے۔ پس انہوں نے ایک خاندان میں ایک مقتول پایا، ہر قوم نے دوسری قوم پر دعویٰ کیا پھر وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جھگڑتے ہوئے آئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃً (البقرہ :67) ادارأتم کا معنی ہے : تم نے اختلاف کیا اور جھگڑا کیا۔ یہ مجاہد کا قول ہے (1) ۔ تدارًتم اس کی اصل ہے تا کو دال میں ادغام کیا گیا، مدغم کے ساتھ ابتدا کرنا جائز نہیں کیونکہ وہ ساکن ہوتا ہے اس لئے الف زیادہ کیا گیا۔۔۔۔ واللہ مخرجٌ۔ یہ مبتدا خبر ہیں۔ ما کنتم یہ مخرجٌ کی وجہ سے منصوب ہے۔ اضافت کی وجہ سے تنوین کا حذف کرنا بھی جائز ہے۔ تکتمون یہ کان کی کبر کی جگہ ہے اس میں عائد محذوف ہے تقدیر کلام اس طرح ہے : تکتمونہ۔ اس قول کی بنا پر کہ اس نے میراث کی خاطر قتل کیا تھا تو اس وقت جان بوجھ کر قتل کرنے والا وارث نہیں ہوتا تھا۔ یہ عبیدہ سمانی نے روایت کیا ہے (2) ۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اس شخص نے اپنے چچا کو میراث کی خاطر قتل کیا تھا (3) ۔ ابن عطیہ نے کہا : ہماری شریعت میں بھی اسی طرح ہے۔ امام مالک نے مؤطا میں بیان کیا ہے کہ احیحہ بن الجلاح کا واقعہ اس کے چچا کے بارے میں یہی قاتل کے وارث نہ ہونے کا سبب بنا تھا۔ پھر اسلام میں یہ قانون ثابت رہا جس طرح بہت سی چیزیں زمانہ جاہلیت کی ثابت رہیں (4) ۔ اس میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں کہ جان بوجھ کر قتل کرنے والا دیت اور میراث کا وارث نہ ہوگا مگر ایک فرقہ جمہور سے جدا ہوا وہ سب بدعتی ہیں۔ اور خطا قتل کرنے والا دوسری میراث سے وارث ہوگا، دیت سے وارث نہ ہوگا۔ یہ امام مالک، اوزاعی، ابو ثور اور امام شافعی کا قول ہے کیونکہ ایسے شخص پر تہمت نہیں ہوتی کہ اس کو میراث کے لئے قتل کیا ہے اور مال لینے کے لئے قتل کیا ہے۔ سفیان ثوری، امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے کہا : امام شافعی کا بھی دوسرا قول یہی ہے عمداً اور خطا قتل کرنے والا نہ مال سے وارث ہوگا نہ دیت سے وارث ہوگا۔ یہی قول شریح، طاؤس، شعبی اور نخعی کا ہے۔ شعبی نے حضرت عمر، حضرت علی اور حضرت زید ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : جان بوجھ کر قتل کرنے والا اور خطاً قتل کرنے والا کسی چیز کا وارث نہ ہوگا۔ مجاہد سے دونوں قول مروی ہیں۔ بصریوں کے ایک طائفہ نے کہا : قتل خطا میں دیت اور باقی مال دونوں سے وارث ہوگا۔ یہ ابو عمر نے حکایت کیا ہے۔ امام مالک کا قول اصح ہے جیسا کہ آیۃ المواریث میں اس کا بیان آئے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 2:73

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

تو ہم نے کہا اس بیل کا کوئی سا ٹکڑا مقتول کو مارو اسی طرح خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تم کو (اپنی قدرت کی) نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو

آیت نمبر 73 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فقلنا اضربوہ ببعضھا بعض علماء نے فرمایا : بعض سے مراد زبان ہے کیونکہ وہ کلام کا آلہ ہے۔ بعض نے کہا : ریڑھ کی ہڈی، کیونکہ اس سے انسان کی تخلیق مرکب کی جاتی ہے۔ بعض نے فرمایا : ران ہے، بعض نے فرمایا : کوئی ہڈی ہے، کوئی کاٹا ہوا عضو ہے، جب اسے گائے کا کوئی ٹکڑا لگایا گیا تو وہ زندہ ہوگیا اور اس نے اپنے قاتل کے متعلق خبر دی پھر مردہ ہوگیا جس طرح پہلے تھا۔ مسئلہ : امام مالک (رح) نے قسامت کے قول کی صحت پر مقتول کے قول کا (میرا خون فلاں پر ہے یا مجھے فلاں نے قتل کیا ہے) ابن وہب اور ابن قاسم کی روایت سے استدلال کیا ہے۔ امام شافعی اور جمہور علماء نے مقتول کے قول سے استدلال سے منع کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں : یہی صحیح ہے کیونکہ مقتول کا قول میرا خون فلاں پر ہے یا مجھے فلاں نے قتل کیا ہے یہ ایک خبر ہے جو صدق وکذب کا احتمال رکھتی ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ مدعیٰ علیہ کا خون معصوم ہے اور اس کو مباح کرنا ممنوع ہے مگر یقین کے ساتھ اور احتمال کے ہوتے ہوئے یقین نہیں ہو سکتا۔ پس مقتول کے قول کا اعتبار باطل ہے۔ رہا بنی اسرائیل کا مقتول تو وہ معجزہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے زندہ کرنے کی خبر دی تھی۔ وہ اپنے قاتل کے متعلق پختہ سچی خبر دینے کا متضمن ہے اس میں کوئی احتمال نہیں ہے۔ پس یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ ابن عربی نے کہا : اس شخص کے زندہ کرنے میں معجزہ تھا۔ جب وہ زندہ ہوگیا تو اس کا کلام قبول ورد میں دوسرے لوگوں کے کلام کی طرح ہوگیا۔ یہ ایک دقیق علم کا فن ہے جس کو صرف امام مالک ہی سمجھ سکتے ہیں، قرآن میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جب وہ خبر دے گا تو اس کا صدق واجب ہوگا۔ ہو سکتا ہے انہیں اس کے ساتھ قسامت کا بھی حکم دیا ہو۔۔۔ امام بخاری، امام شافعی اور علماء کی ایک جماعت نے اس کو بعید سمجھا ہے۔ انہوں نے کہا : خون کے بارے اس کا قول کیسے معتبر ہوگا حالانکہ اس کا قول ایک درہم کے بارے بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ مسئلہ : قسامت کے حکم میں علماء کا اختلاف ہے۔ سالم، ابو قلابہ، عمر بن عبد العزیز اور حکم بن عینیہ سے اس کے حکم کے بارے میں توقف مروی ہے۔ امام بخاری کا میلان بھی اسی طرف ہے کیونکہ انہوں نے قسامت کی حدیث اپنی جگہ پر ذکر نہیں کی۔ جمہور علماء نے کہا : قسامت کا حکم نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے پھر اس کے حکم کی کیفیت میں اختلاف ہے۔ ایک طائفہ نے کہا : پہلے دعویٰ کرنے والے قسمیں اٹھائیں گے۔ جب وہ قسمیں اٹھا دیں گے تو وہ مستحق ہوجائیں گے اگر وہ انکار کریں گے تو مدعیٰ علیہم پچاس قسمیں اٹھائیں گے اور بری ہوجائیں گے۔ یہ اہل مدینہ، لیث، امام شافعی، امام احمد اور ابو ثور کا قول ہے۔ اس کی دلیل حویصہ اور محیصہ والی حدیث ہے۔ اس کو امام مالک وغیرہ نے تخریج کیا ہے۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ مدعیٰ علیہم سے پہلے قسم لی جائے گی۔ پس وہ قسمیں اٹھا دیں گے تو وہ بری ہوجائیں گے۔ حضرت عمر بن خطاب، شعبی اور نخعی سے یہی مروی ہے، ثوری اور کو فیوں نے بھی کہا ہے اور ان علماء نے شعبہ بن عبید عن بشیر بن یسار کی حدیث سے حجت پکڑی ہے جس میں ہے مدعیٰ علیہم پہلے قسمیں اٹھائیں اور وہ یہود تھے۔ اور اس حدیث سے حجت پکڑی ہے جسے ابو داؤد نے عن الزھری عن ابی سلمہ بن عبد الرحمن عن رجال من الانصار کے سلسلہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہود سے فرمایا : اور پہلے ان سے آغاز کیا، کیا تم میں سے پچاس آدمی قسمیں اٹھائیں گے ؟ انہوں نے انکار کیا۔ آپ نے پھر انصار سے فرمایا : (تم قسمیں اٹھا کر) اپنا حق طلب کرو۔ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ ہم غیب پر (کیسے) قسمیں اٹھائیں ؟ رسول اللہ ﷺ نے دیت یہود پر لازم فرمائی کیونکہ مقتول ان کے درمیان پایا گیا تھا، اور نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد سے حجت پکڑی ہے کہ “ قسم مدعیٰ علیہ پر ہے (1) ” پس مدعیٰ علیہ متعین کیے گئے۔ ان علماء نے فرمایا : یہ قطعی اصل ہے دعوی میں جس کی حکمت پر شرع نے تنبیہ فرمائی ہے “ اگر لوگوں کو ان کے متعلق دیا جاتا تو لوگ دوسرے لوگوں کے خون اور مالوں کا دعویٰ کرتے لیکن قسم مدعیٰ علیہ پر ہے۔” پہلے مقالہ والوں نے ان کا جواب اس طرح دیا ہے کہ سعید بن عبید کی حدیث یہود کے آغاز کرانے میں اہل حدیث کے نزدیک وہم ہے۔ اسے نسائی نے نقل کیا ہے اور انہوں نے فرمایا : اس روایت میں سعید کا متابع کوئی نہیں اور حضرت بشیر عن سہیل کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مدعین سے آغاز فرمایا۔ حضرات یحییٰ بن سعید، ابن عینیہ، حماد بن زید، عبد الوہاب الثقفی، عیسیٰ بن حماد اور بشیر بن المفضل یہ سات افراد ہیں انہوں نے اس حدیث کو مسند ذکر کیا ہے۔ اگرچہ اس حدیث کو امام مالک نے مرسل ذکر کیا لیکن حفاظ کی ایک جماعت نے اسے متصل ذکر کیا ہے۔ یہ حدیث سعید بن عبید کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ ابو محمد الاصیلی نے کہا : خبر واحد کے ساتھ ایک جماعت کی خبر پر معارضہ کرنا جائز نہیں اس کے ساتھ ساتھ سعید بن عبید نے اپنی حدیث میں کہا : نبی کریم ﷺ نے صدقہ کے اونٹوں سے سو اونٹ اس کی دیت دی اور صدقہ دیت میں نہیں دیا جاتا اور صدقہ کے ذریعے غیر اہل سے صلح نہیں کی جاتی۔ ابو داؤد کی حدیث مرسل ہے اس کے ساتھ احادیث صحیحہ متصلہ کا معارضہ نہیں کیا جاسکتا اور اصل میں تمسک کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ حکم خونوں کی حرمت کے لئے بنفسہ اصل ہے۔ ابن منذر نے کہا : یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بینہ (دلیل) کو مدعی اور قسم کو مدعیٰ علیہ پر جاری فرمایا اور اس کے ظاہر کے ساتھ حکم لگانا واجب ہے مگر اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں یا اپنے نبی کی زبان پر کسی چیز کے بارے میں حکم کو خاص کر دے تو اس خبر سے اس کی استثناء کی جائے گی۔ ان چیزوں میں کتاب اللہ جس پر دلالت کرتی ہے مقذوف کی حد، قاذف کو لازم کرنا جب اس کے پاس چار گواہ نہ ہوں جو قاذف کی صداقت کی گواہی دیں۔ اس بارے میں جو اس نے مقذوف پر تہمت لگائی۔ اسی طرح جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تو اسے اس سے حد کو ساقط کرنے کے ساتھ خاص فرمایا جب کہ وہ چار مرتبہ شہادت دے، اور ان دلائل میں سے جس کو سنت نے خاص کیا ان میں نبی کریم ﷺ کا قسامت کے ساتھ فیصلہ کرنا ہے۔ ابن جریج نے عطاء عن ابی ہریرہ کے سلسلہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : دعویٰ کرنے والے پر گواہ پیش کرنا ہے اور قسم منکر پر ہے مگر قسامت میں (ایسا نہیں) اس حدیث کو دار قطنی نے نقل کیا ہے۔ امام مالک نے اس مسئلہ کے لئے مؤطا میں جس دلیل سے حجت پکڑی ہے اس میں کفایت ہے، وہاں غور کرو۔ مسئلہ : قسامت کے ساتھ قصاص کے وجوب میں بھی اختلاف ہے۔ ایک طائفہ نے اس کے ساتھ قصاص واجب کیا ہے۔ یہ امام مالک، لیث، احمد اور ابو ثور کا قول ہے۔ اس کی وجہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے جو آپ نے حویصہ محیصہ اور عبد الرحمٰن کو فرمایا کیا تم قسم اٹھاؤ گے اور تم اپنے ساتھ کے خون کے مستحق ہوجاؤ گے (2) ۔ ابو داؤد نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے سلسلہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بنی نضر بن مالک کے ایک شخص کو قسامت کی وجہ سے قتل کیا۔ دار قطنی نے کہا : عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کا نسخہ صحیح ہے۔ اسی طرح ابو عمر عبد البر نے عمرو بن شعیب کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور اس سے حجت پکڑی ہے۔ امام بخاری نے فرمایا : میں نے علی بن مدینی، احمد بن حنبل، حمیدی، اسحاق بن راہویہ کو دیکھا وہ اس حدیث سے حجت پکڑتے تھے۔ دار قطنی نے “ السنن ” میں یہی کہا۔ ایک جماعت نے کہا : ایک جماعت نے کہا : قسامت کے ساتھ قصاص نہیں ہے اس سے دیت واجب ہوتی ہے۔ یہ حضرت عمر اور حضرت ابن عباس سے مروی ہے یہی نخعی اور حسن کا قول ہے۔ یہی نظریہ ثوری، کو فیوں، امام شافعی اور اسحاق کا ہے۔ ان علماء نے اس روایت سے حجت پکڑی ہے جو امام مالک سے ابن ابی لیلیٰ بن عبد اللہ عن سہل بن ابی حثمہ کے سلسلہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انصار کو فرمایا : تم اپنے ساتھی کی دیت دے دو یا اعلان جنگ کرو۔ ان علماء نے فرمایا : یہ دیت پر دلیل ہے نہ کہ قصاص پر اور یہ علماء فرماتے ہیں : نبی کریم ﷺ کا حویصہ وغیرہ کو یہ کہنا کہ تم اپنے ساتھی کے خون کے مستحق ہوجاؤ گے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ تم اپنے مقتول کے خون کی دیت کے مستحق ہوجاؤ گے کیونکہ یہود ان کے اصحاب نہیں تھے اور جو اپنے ساتھی کی دیت کا مستحق ہوگا وہی اس کے خون کا مستحق ہوگا کیونکہ کبھی دیت قتل عمد میں لی جاتی ہے۔ پس یہ خون کا استحقاق ہوگا۔ مسئلہ : قسامت کا موجب جب اللوث ہے اس کا ہونا ضروری ہے اور اللوث سے مراد ایسی علامت ہے جو قتل کے مدعی کی سچائی کو ظن پر غالب کر دے۔ مثلاً ایک عادل آدمی کا قتل کے دیکھنے پر گواہی دینا یا مقتول اپنے خون میں لت پت دیکھا گیا اور جس پر تہمت لگائی ہے وہ اسی طرح ہے یا اس کے قریب ہے اس پر قتل کے آثار ہیں۔ اللوث، اس کے متعلق قول میں اختلاف ہے۔ امام مالک نے فرمایا : وہ مقتول کا قول ہے کہ میرا خون فلاں کے پاس ہے۔ ایک عادل گواہ لوث ہے۔ اسی طرح ابن القاسم کی روایت مالک سے ہے۔ اشہب نے مالک سے روایت کیا ہے کہ ایک غیر عادل شاہد اور ایک عورت کے ساتھ قسم لی جائے گی۔ ابن وہب نے روایت کیا ہے کہ عورتوں کی گواہی لوث ہے۔ محمد نے ابن قاسم سے روایت کیا ہے کہ دو عورتوں کی گواہی لوث ہے نہ کہ ایک عورت کی گواہی۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا : اللوث میں بہت زیادہ اختلاف ہے۔ مذہب مشہور یہ ہے کہ وہ عادل شاہد ہے۔ محمد نے کہا : یہی میرے نزدیک محبوب ہے۔ فرمایا : ابن القاسم اور ابن عبد الحکم نے اسی کو اختیار کیا۔ عبد الملک بن مروان سے مروی ہے کہ مجروح اور مضروب جب ہے کہ میرا خون فلاں پر ہے اور پھر وہ مرجائے تو قسامت ہے۔ امام مالک اور لیث بن سعد کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک نے بنی اسرائیل کے مقتول سے حجت پکڑی ہے۔ اس نے کہا تھا : مجھے فلاں نے قتل کیا۔ امام شافعی نے فرمایا : اللوث ایک گواہ ہے یا تو وہ دلیل لائے اگرچہ وہ عادل نہ بھی ہوں۔ ثوری اور کو فیوں نے صرف مقتول کے پائے جانے کے ساتھ قسامت کو ثابت کیا ہے اور انہوں نے مقتول کے قول کی رعایت اور ایک گواہ کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ وہ کہتے ہیں : جب مقتول ایک قوم کے محلہ میں پایا گیا اور اس پر قتل کا اثر بھی ہے تو اس جگہ کے لوگ حلف اٹھائیں گے کہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا اور دیت ان (اہل محلہ) پر ہوگی اور جب اس پر قتل کا کوئی اثر نہ ہوگا تو عاقلہ پر کچھ نہ ہوگا مگر یہ کہ کسی ایک کے خلاف بینہ (دلیل) قائم ہوجائے۔ سفیان نے کہا : ہمارے نزدیک اس پر اجماع ہے۔ یہ ضعیف قول ہے۔ انہوں نے اہل علم کی مخالفت کی ہے۔ اس میں ان سے پہلے کوئی ایسا قول کرنے والا نہیں ہے۔ یہ قول قرآن وسنت کے مخالف ہے کیونکہ اس میں عاقلہ پر بغیر دلیل اور بغیر اقرار کے مال کو لازم کرنا ہے۔ امام مالک اور امام شافعی کا نظریہ ہے کہ مقتول جب کسی قوم کے محلہ میں پایا جائے تو وہ رائیگاں ہے کسی قریبی گھر والے کو نہیں پکڑا جائے گا کیونکہ کبھی مقتول قتل کیا جاتا ہے پھر اسے کسی دوسرے قوم کے دروازے پر ڈال دیا جاتا ہے تاکہ وہ ملوث ہوجائیں۔ پس ایسی صورت میں مؤاخذہ نہیں ہوگا حتیٰ کہ وہ اسباب جو قسامت کے وجوب میں علماء نے مقرر کیے ہیں وہ پائے جائیں۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے کہا : اس میں فیصلہ کو مؤخر کیا جائے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس میں فیصلہ فرمائے گا۔ مسئلہ : قاسم بن مسعدہ نے کہا : میں نسائی سے کہا امام ماک قسامت کا قول نہیں کرتے مگر لوث کے ساتھ، پھر انہوں نے قسامت کی حدیث کیوں ذکر کی ہے۔ اس میں لوث کا ذکر تو نہیں ہے۔ نسائی نے کہا : مالک نے انصار اور یہود کے درمیان جو عداوت تھی اسے لوث کے قائم مقام رکھا ہے اور لوث اور میت کے قول کو عداوت کے قائم مقام رکھا ہے۔ ابن ابی زید نے کہا : اس کی اصل بنی اسرائیل کے قصہ میں ہے جب اللہ تعالیٰ اس شخص کو زندہ فرمایا جس کو گائے کا کوئی حصہ لگایا گیا تھا اور اس نے کہا تھا : مجھے فلاں نے قتل کیا ہے اور عداوت بھی لوث (علامت) ہے۔ امام شافعی نے فرمایا : ہم مقتول کے قول کو لوث نہیں سمجھتے جیسا کہ پیچھے گزرا ہے۔ امام شافعی نے فرمایا : جب دو قوموں میں عداوت ظاہر ہو جیسا کہ انصار اور یہود کے درمیان عداوت تھی اور مقتول کسی ایک فریق میں پایا گیا ہو اور ان کے درمیان اور کوئی قوم نہ ہو تو قسامت اس میں واجب ہوگی۔ مسئلہ : اس مقتول کے بارے اختلاف ہے جو اس محلہ میں پایا گیا جس کے باشندے کرائے دار ہیں۔ اصحاب الرائے نے کہا : قسامت مالکوں پر ہوگی، رہائشی لوگوں پر کچھ نہ ہوگا، اگر وہ مالکان اپنے مکانات بیچ دیں پھر کوئی مقتول پایا گیا تو دیت مشتری پر ہوگی رہنے والوں پر کچھ نہ ہوگا۔ اگر گھروں کے مالکان غائب ہوں اور انہوں نے اپنے گھر کرائے پر دے دئیے ہوں تو قسامت اور دیت غائب مالکان پر ہوگی، رہائشیوں پر کچھ نہ ہوگا جن کے درمیان وہ مقتول پایا گیا۔ پھر یعقوب نے اس قول سے رجوع کرلیا۔ اس نے کہا : قسامت اور دیت گھروں میں رہنے والوں پر ہوگی۔ اس قول کو ابن ابی لیلیٰ سے حکایت کیا ہے اور انہوں نے اس سے بھی حجت پکڑی ہے کہ اہل خیبر عمال تھے اور رہائشی تھے (مالکان نہیں تھے) وہ کام کرتے تھے۔ پس مقتول ان میں پایا گیا۔ ثوری نے کہا : ہم کہتے ہیں : وہ اصل مالکوں پر ہوگا۔ امام احمد نے کہا : ابن ابی لیلیٰ کا قول قسامت میں ہے نہ کہ دیت میں ہے۔ امام شافعی نے فرمایا : یہ سب برابر ہیں، نہ دیت ہے نہ قصاص ہے مگر ایسی دلیل کے ساتھ جو قائم ہوجائے یا کوئی ایسی بات پائی جائے جو قسامت کو ثابت کرے تو اولیاء قسم دیں گے۔ ابن منذر نے کہا : یہ قول اصح ہے۔ مسئلہ : قسامت میں پچاس سے کم آدمی قسم نہیں اٹھائیں گے کیونکہ حویصہ اور محیصہ کی حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا : “ تم میں پچاس سے کم آدمی قسم نہیں اٹھائیں گے ان میں سے کسی ایک پر۔ ” اگر مستحق پچاس ہوں تو ان میں سے ہر ایک ایک قسم اٹھائے گا۔ اگر ان کی تعداد پچاس سے کم ہو یا ان میں سے کوئی ایسا شخص قسم اٹھانے سے انکار کرے جس کا معاف کرنا جائز نہیں تو ان کی تعداد کے مطابق ان پر قسمیں لوٹائی جائیں گی اور قتل عمد میں دو مردوں سے کم قسم نہیں اٹھائیں گے۔ مردوں میں سے ایک اور عورتیں قسم نہیں اٹھائیں گی، اولیاء قسم اٹھائیں گے اور وہ قسم اٹھائیں گے جن سے اولیاء مدد طلب کرتے ہوں گے عصبہ میں سے اور یہ پچاس قسمیں اٹھائیں گے۔ یہ امام مالک، امام لیث، امام ثوری، امام اوزاعی، امام احمد اور داؤد کا مذہب ہے۔ مطرف نے مالک سے روایت کیا ہے کہ مدعیٰ علیہ کے ساتھ کوئی قسم نہیں اٹھائے گا اور وہی خود قسمیں اٹھائیں گے جیسا کہ اگر وہ ایک ہو یا زیادہ ہوں تو پچاس قسمیں اٹھائیں گے اور اپنے آپ کو قسموں کے ذریعے بری کریں گے۔ یہ امام شافعی کا قول ہے۔ امام شافعی نے فرمایا : قسم نہیں اٹھائے گا مگر وارث خواہ قتل عمد ہو یا قتل خطا ہو۔ مال پر قسم نہیں اٹھوائی جائے گی اور اس کا مستحق نہ ہوگا مگر جس کے لئے بذات خود مالک ہو یا ورثاء میں سے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ملک بنائی ہو اور ورثاء اپنی اپنی میراث کے مطابق قسمیں اٹھائیں گے۔ یہ ابو ثور کا قول ہے۔ ابن منذر نے اس کو اختیار کیا اور یہی صحیح ہے کیونکہ جس پر دعویٰ نہیں کیا گیا اس کے لئے کوئی سبب نہیں ہے کہ اس کی طرف اس میں قسم متوجہ ہو (یعنی اس سے قسم لی جائے) ۔ قسم سے مقصود دعویٰ سے برأت ہے اور جس پر دعویٰ ہی نہیں کیا گیا وہ بری ہے۔ امام مالک نے قتل خطا میں فرمایا : اس میں مردوں میں سے اور عورتوں میں سے ایک قسم لی جائے گی۔ جب پچاس قسمیں ایک سے یا زیادہ سے مکمل ہوجائیں گے تو قسم اٹھانے والا میراث کا مستحق ہوگا اور جو قسم سے انکار کرے گا وہ کسی چیز کا مستحق نہ ہوگا۔ اگر وہ آجائے جو غائب تھا اور قسم اٹھا دے جو اس پر واجب تھی تو وہ میراث کا مستحق ہوگا۔ یہ امام مالک کا مشہور قول ہے اور امام مالک سے ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ وہ قتل خطا میں قسامت نہیں دیکھتے تھے۔ قسامت کے مسائل، اس کی فروع اور احکام اور اختلاف کتب فقہ میں موجود ہیں اور جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اس میں کفایت ہے۔ مسئلہ : اس گائے کے قصہ میں دلیل ہے کہ ہم سے پہلے لوگوں کی شریعت ہمارے لئے بھی شریعت ہے۔ متکلمین اور فقہاء کی ایک قوم نے اسے اختیار کیا ہے۔ کرخی نے اسے اختیار کیا ہے۔ ابن بکیر قاضی جو ہمارے علماء سے ہیں انہوں نے اس پر نص قائم کی ہے۔ قاضی ابو محمد عبد الوہاب نے کہا : یہ وہ ہے جس کا تقاضا مالک کے اصول کرتے ہیں اور ان کا اختلاف ان کی کتب میں موجود ہے۔ امام شافعی کا میلان بھی اسی طرح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فبھدھم اقتدہ (انعام :90) (ان کی ہدایت کی اقتداء کرو) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کذلک یحی اللہ الموتیٰ یعنی طرح اس نے اس شخص کو مرنے کے بعد زندہ کیا اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر مرنے والے کو زندہ کرے گا، اس میں کاف محل نصب میں ہے کیونکہ وہ مصدر محذوف کی صفت ہے۔ ویریکم ایتہ یعنی اپنی علامات اور اپنی قدرت لعلم تعقلون تاکہ سمجھ جاؤ۔ اس کا مفہوم پہلے گزر چکا ہے۔ یعنی تم اس کی نافرمانی سے رک جاؤ۔ عقلت نفسی عن کذا یعنی میں نے اپنے نفس کو اس چیز سے روکا۔ المعاقل، قلعے۔
Ayah 2:74

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:74 in the Quran reader

پھر اسکے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے گویا وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی نکلنے لگتا ہے اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گرپڑتے ہیں اور خدا تمہارے عملوں سے بیخبر نہیں

آیت نمبر 74 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم قست قلوبکم من بعدذلک، القسوہ کا معنی صلابت، شدت اور خشکی ہے۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی آیات کا یقین اور ان کی طرف لوٹنے سے محروم ہونا ہے (1) ۔ ابو العالیہ اور قتادہ وغیرہ نے کہا : اس سے مراد تمام بنی اسرائیل کے دل ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مقتول کے ورثاء کے دل مراد ہیں کیونکہ جب وہ زندہ ہوا اور اس نے اپنے قاتل کی خبر دی اور پھر فوت ہوگیا تو انہوں نے اس کے قتل کا انکار کردیا اور کہا کہ اس نے جھوٹ بولا ہے اس کے بعد کہ وہ اتنی بڑی نشانی دیکھ چکے تھے، پہلے کبھی ان کے دل اتنے اندھے نہ تھے اور کبھی اپنے نبی کی سخت تکذیب نہیں کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم اس کے قتل کے بارے میں نافذ ہوگیا (2) ۔ ترمذی نے حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ذکر کے بغیر کلام زیادہ نہ کرو کیونکہ کلام کی کثرت، اللہ کے ذکر کے بغیر دل کو سخت کردیتی ہے اور اللہ سے زیادہ دور سخت دل ہے۔ مسند البزار میں حضرت انس سے مروی ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : چار چیزیں شقاوت (بدبختی) سے ہیں : آنکھوں کا جامد ہونا ( یعنی آنسو نہ آنا) دل کی سختی، لمبی امید اور دنیا کا لالچ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فھی کالحجارۃٍ او اشد قسوۃً بعض علماء نے فرمایا : او بمعنی واو ہے جس طرح فرمایا اثماً او کفوراً ۔ (الدہر) عذراً او نذراً ۔ (المرسلات) ان دونوں آیتوں میں او بمعنی واو ہے۔ شاعر نے کہا : نال الخلافۃ او کا نت لہ قدراً اس مصرعہ میں او بمعنی واو ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : او بمعنی بل ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وارسلنہ الیٰ مائۃ الفٍ او یزیدون۔ (الصافات) اس کا معنی بل یذیدون ہے (3) ۔ شاعر نے کہا : بدت مثل قرن الشمس فی رونق الضحی وصور تھا او انت فی العین املح اس شعر میں او بمعنی بل ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی مخاطب پر ابہام کرنا ہے۔ اسی سے ابو الاسود الدؤلی کا قول ہے : احب محمداً حبا شدیداً وعباساً و حمزۃ او علیاً فان یک حبھم رشداً اصبہ ولست بمخطئ ان کان غیاً (1) میں حضرت محمد ﷺ ، عباس، حمزہ اور علی سے شدید محبت کرتا ہوں، اگر ان کی محبت رشدوہدایت ہے تو میں اسے پالوں گا اور میں خطا کرنے والا نہیں ہوں اگر وہ بہت دور بھی ہوگی۔ ابو الاسود کو کوئی شک نہیں کہ ان نفوس قدسیہ کی محبت رشدو ہدایت ہے اس نے صرف ابہام کا قصد کیا ہے۔ ابو الاسود نے جب یہ شعر کہے تو اس سے پوچھا گیا : تجھے شک ہے ؟ اس نے کہا : ہرگز نہیں۔ پھر اس نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے استشہاد کیا وانا او ایاکم لعلیٰ ھدًی او فی ضللٍ مبین۔ (سبا) ہم یا تم (دونوں میں سے ایک ہدایت پر ہے اور دوسرا کھلی گمراہی میں ہے) ابو الاسود نے کہا : جس نے یہ خبر دی ہے (2) کیا اسے شک تھا۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی تخییر ہے یعنی تم ان کو پتھروں کے ساتھ تشبیہ دو تب بھی تم صحیح ہوگے یا پتھروں سے سخت چیز سے تشبیہ دو تب بھی تم صحیح ہو گے۔ یہ اس طرح کا کلام ہے : جالس الحسن او أبن سیرین، تعلم الفقہ او الحدیث او النحو (حسن کے پاس بیٹھ یا ابن سیرین کے پاس بیٹھ۔ فقہ حاصل کر، یا حدیث، یا نحو) بعض علماء نے فرمایا : او شک کے معنی میں ہے۔ اس کا معنی ہے : اے مخاطبین ! تمہاری نظر میں اگر ان کی قسوت کو دیکھتے تو تم شک میں مبتلا ہوجاتے کہ کیا یہ پتھروں کی مانند ہیں یا پتھروں سے سخت ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : اس آیت کا بھی یہی معنی ہے : الیٰ مائۃ الفٍ او یزیدون۔ (الصافات) ایک گروہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے یہ مراد لیا ہے کہ ان میں کچھ ایسے ہیں جن کے دل پتھر کی مانند ہیں اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جن کے دل پتھر سے زیادہ سخت ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ دو گروہ ہیں (3) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : او اشد، اشد، کالحجارۃ میں کاف کی جگہ پر عطف کی وجہ سے مرفوع ہے کیونکہ معنی یہ ہے کہ وہ پتھر کی مثل ہیں یا اس سے زیادہ سخت اور حجارۃ پر عطف کی وجہ سے اشد پر فتحہ جائز ہے اور قسوۃً ، تمییز کی بنا پر منصوب ہے۔ ابو حیوہ نے قساوۃ پڑھا ہے، معنی دونوں کا ایک ہی ہے۔ (4) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان من الحجارۃ لما یتفجر منہ الانھر وان منھا لما یشقق فیخرج منہ المأء، الانفجار کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ یشقق اصل میں یتشقق ہے تاء کو شین میں ادغام کیا گیا ہے۔ یہ ان چشموں سے عبارت ہے جو اتنے بڑے نہ ہوں کہ وہ نہریں بن جائیں۔ یا پتھروں سے عبارت ہے جو پھٹ جاتے ہیں اگرچہ ان میں وسیع پانی جاری نہ ہو۔ ابن مصرف نے ینشقتی (نون) کے ساتھ پڑھا ہے اور دونوں جگہ لما یتفجر اور لما یتشقق میں لما کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہ قراءت قابل توجہ نہیں ہے۔ مالک بن دینار نے ینفجرنون اور جیم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ قتادہ نے کہا : پتھر نے عذر پیش کیا اور بنی آدم میں سے شقی لوگوں نے عذر پیش نہ کیا (1) ۔ ابو حاتم نے کہا : لما یتفجر تاء کے ساتھ بھی جائز ہے اور لما تشقق تاء کے جائز نہیں کیونکہ جب کہا : تتفجر تو الانھار کی تانیث کی وجہ سے اسے مؤنث ذکر لیکن تشقتی میں ایسی صورت نہیں ہے۔ نحاس نے کہا : جو ابو حاتم نے انکار کیا ہے معنی کے اعتبار سے وہ جائز ہے، کیونکہ اس کا معنی ہے : وان منھا لحجارۃً تتشقق۔ اور یشقق کو لفظ ما کے اعتبار سے مذکر ذکر کیا گیا ہے۔ الشق کی جمع الشقوق ہے۔ یہ اصل میں مصدر ہے۔ تو کہتا ہے : بید فلان ورجلیہ شقوق۔ فلاں کے ہاتھوں اور پاؤں میں دراڑیں ہیں۔ تو شقاق نہ کہہ کیونکہ الشقاق ایک بیماری ہے جو جانوروں کو لاحق ہوتی ہے وہ پھٹن ہے۔ یہ جانوروں کی کلائیوں کو لاحق ہوتی ہے اور کبھی ان کی پنڈلیوں اور ہاتھوں تک پہنچ جاتی ہے۔ یعقوب سے مروی ہے، الشق سے مراد الصبح بھی ہے اور لما یتفجر میں ما محل نصب میں ہے کیونکہ یہ ان کا اسم ہے اور لام تاکید کے لئے ہے۔ منہ لفظ ما کے اعتبار سے اور معنی کے اعتبار سے منھا بھی جائز ہے۔ اسی طرح وان منھا لما یشقق فیخرج منہ الماء ہے۔ قتادہ نے ان کو دونوں جگہ مخففہ من مثقلہ پڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان منھا لما یھبط من خشیۃ اللہ۔ یعنی پتھروں میں کچھ ایسے ہیں جو تمہارے دلوں سے زیادہ نفع مند ہیں کیونکہ ان سے پانی نکلتا ہے وہ خشیت سے گر پڑتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : جو پتھر پہاڑ کی چوٹی سے گرتا ہے، جو نہر پتھر سے پھوٹتی ہے اور اس سے جو پانی نکلتا ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے ہوتا ہے، اسی کے متعلق قرآن نازل ہوا۔ اسی کی مثل ابن جریج سے مروی ہے (2) ۔ بعض متکلمین نے وان منھا لما یھبط من خشیۃ اللہ کے تحت فرمایا : کہ اس سے مراد وہ اولے ہیں جو بادل سے گرتے ہیں۔ بعض نے فرمایا : ھبوط (گرنا) یہ مجاز ہے۔ یہ اس طرح ہے کہ پتھروں کی تخلیق سے دل عبرت حاصل کرتے ہیں ان کی طرف دیکھ کر دلوں میں تواضع پیدا ہوتی ہے۔ تو دیکھنے والے کی تواضع کو ان پتھروں کی طرف مضاف کیا گیا۔ جیسا کہ عرب کہتے ہیں : ناقۃ تاجرۃٌ۔ یعنی ایسی اونٹنی جو بھیجی جاتی ہے جو اسے دیکھے گا خریدنے کے لئے (3) ۔ طبری نے ایک گروہ سے حکایت کیا ہے کہ پتھروں کے لئے خشیت یہ استعارہ ہے جیسے یرید ان ینقص میں دیوار کے لئے استعارہ ہے۔ اسی طرح زید الخیل نے کہا : لما اتی خبر الزبیر تواضعت سورة المدینۃ والجبال الخشع جب حضرت زبیر کی خبر پہنچی تو مدینہ کی دیواریں اور پہاڑ جھک گئے۔ ابن بحر نے ذکر کیا ہے کہ ان منھا میں ضمیر دلوں کی طرف راجع ہے نہ کہ پتھروں کی طرف یعنی دلوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو خشیت الٰہی کی وجہ سے جھک جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں : جو کچھ تاویلات کی گئی ہیں لفظ اس کا احتمال رکھتا ہے، پہلا قول صحیح ہے یہ کوئی ممتنع نہیں ہے کہ بعض جمادات کو معرفت عطا کی جائے اور وہ سمجھ جائیں۔ جیسے اس کھجور کے خشک تنے کی روایت ہے جس کے ساتھ نبی کریم ﷺ خطبہ دینے کے لئے ٹیک لگاتے تھے۔ جب آپ ﷺ اس سے دور ہٹ گئے تو وہ رونے لگ گیا (1) ۔ اور یہ ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ایک پتھر جو مجھ پر زمانہ جاہلیت میں سلام کرتا تھا میں اب بھی اسے پہچانتا ہوں (٭) ۔ اسی طرح روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ثبیر پہاڑ نے مجھے کہا : اتر جائیں، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ آپ کو میری پشت پر قتل کردیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مجھے عذاب دے گا (٭٭) ۔ غار حرا نے آپ ﷺ کو ندا دی تھی یا رسول اللہ ! میری طرف تشریف لے آئیں۔ قرآن حکیم میں ہے : انا عرضنا الامانۃ علی السموت والارض والجبال (احزاب :72) (ہم نے پیش کی یہ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے سامنے) اور فرمایا : لو انزلنا ھذا القران علیٰ جبل لرایتہ خاشعاً متصدعاً من خشیۃ اللہ (الحشر :21) (اگر ہم نے اتارا ہوتا اس قرآن کو کسی پہاڑ پر تو آپ اس کو دیکھتے کہ ہو جھک جاتا اور پاش پاش ہوجاتا اللہ کے خوف سے) اس کا مزید بیان سورة سبحان میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما اللہ بغافلٍ عما تعملون اہل حجاز کی لغت پر بغافل محل نصب میں ہے اور تمیم کی لغت پر محل رفع میں ہے اور با تاکید کے لئے ہے عما تعملون یعنی تمہارے عمل سے وہ غافل نہیں ہے ہر چھوٹا بڑا جو بھی سر زد ہوتا ہے اسے وہ تم پر شمار کرے گا۔ فمن یعمل مثقال ذرۃٍ خیراً یرہ۔ ومن یعمل مثقال ذرۃٍ شرًا یرہ۔ (الزلزلۃ) (پس جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا) اس میں ماء عائد کا محتاج نہیں مگر یہ کہ اسے الذی کے معنی میں کیا جائے۔ اسم کے طول کی وجہ سے عائد کو حذف کیا گیا ہے یعنی من الذی تعملونۃ۔ ابن کثیر نے یعملون یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس صورت میں خطاب حضرت محمد ﷺ کے لئے ہوگا۔ (2)
Ayah 2:75

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:75 in the Quran reader

(مومنو ! ) کیا تم امید رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہارے (دین کے) قائل ہوجائیں گے (حالانکہ) ان میں سے کچھ لوگ کلام خدا (یعنی تورات) کو سنتے پھر اس کے بعد سمجھ لینے کے اس کو جان بوجھ کر بدل دیتے رہے ہیں ؟

آیت نمبر 75 اس میں چار مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افتطمعون ان یؤمنوا لکم یہ استفہام ہے اس میں انکار کا معنی ہے۔ گویا مومنوں کو یہود کے اس ٹولہ کے ایمان سے مایوس کرنا ہے یعنی اگر انہوں نے کفر کیا ہے تو ان کے لئے اس میں پہلے مثال موجود ہے۔ خطاب نبی کریم ﷺ کے اصحاب کو ہے۔ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ انصار یہود کے اسلام قبول کرنے کے حریص تھے کیونکہ ان کے درمیان حلف اور معاہدہ تھا (3) ۔ بعض نے فرمایا : خطاب صرف نبی کریم ﷺ کو ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے، یعنی آپ پریشان نہ ہوں اس پر کہ وہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو بتا دیا کہ یہ ان برے لوگوں میں سے ہیں جو گزر چکے ہیں۔ ان محل نصب میں ہے یعنی فی ان یومنوا۔ یومنوا ان کے ساتھ منصوب ہے۔ اسی وجہ سے نون کو اس سے حذف کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے : طمع فیہ طمعا وطما عیۃ (مخفف) فھو طمع، بروزن فعل۔ اطعمہ فیہ غیرہ، تعجب میں کہا جاتا ہے : طمع الرجل میم کے ضمہ کے ساتھ یعنی وہ زیادہ لالچ والا ہوگیا۔ الطمع لشکر کی خوراک کو بھی کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے : امرھم الامیر باطماعھم یعنی امیر نے لشکر کے رزق کا حکم دیا امرأۃ مطماع ایسی عورت جو لالچ کرتی ہے لیکن غلبہ نہیں پاتی۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقد کان فریقٌ منھم۔ الفرق اسم جمع ہے لفظاً اس کا واحد نہیں ہے اور اس کی جمع قلت افرقۃٌ اور جمع کثرت افرقاء ہے۔ یسمعون، کان کی خبر ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ خبر منھم ہو اور یسمعون فریق کی صفت ہو۔ اس میں بعد ہے۔ کلم اللہ۔ یہ جماعت کی قراءت ہے۔ اعمش نے کلم اللہ پڑھا ہے یعنی کلمہ کی جمع (1) ۔ سیبوبہ نے کہا : میں جانتا ہوں کہ ربیعہ کے کچھ لوگ منھم کو میم کے کسرہ کی اتباع میں ھاء کو کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہیں اور ان کے نزدیک درمیان میں ساکن اس اتباع سے روکنے والا نہیں۔ کلم اللہ، یسمعون کا مفعول ہے اور اس سے مراد ستر افراد ہیں جنہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے چنا تھا۔ پس انہوں نے اللہ تعالیٰ کلام سنا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی نہ کی۔ انہوں نے اپنی قوم کے سامنے اپنی باتوں کو بدل ڈالا۔ یہ ربیع اور ابن اسحاق کا قول ہے اور اس قول میں ضعف ہے (2) ۔ اور جنہوں نے کہا کہ ستر آدمیوں نے وہ سنا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سنا تھا۔ اس نے غلطی کی ہے۔ اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فضیلت اور کلام کرنے کے ساتھ ان کی خصوصیت کو ختم کردیا ہے (3) ۔ سدی وغیرہ نے کہا : وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے، ان کے اذہان مختلط ہوگئے۔ انہوں نے امید رکھی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کلام سنیں گے اور وہ ان کے لئے لوٹائیں گے۔ جب وہ فارغ ہوئے اور باہر نکلے تو ایک گروہ نے اللہ کے کلام کو بدل ڈالا جو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے سنا تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان احدٌ من المشرکین استجارک فاجرہ حتی یسمع کلم اللہ (توبہ :6) (اگر کوئی شخص مشرکوں میں سے پناہ طلب کرے آپ سے تو پناہ دیجئے اسے تاکہ وہ سنے اللہ کا کلام) ۔ اگر یہ کہا جائے کہ کلبی نے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اپنے رب سے سوال کریں کہ وہ انہیں اپنا کلام سنائے۔ پس انہوں نے برق کی آواز کی طرح آواز سنی انی انا اللہ لا الہ الا اللہ الحی القیوم اخرجتکم من مصر بید رفیعۃ وذراع شدیدۃ، من اللہ ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو حی، قیوم ہے میں نے تمہیں مصر سے نکالا بلند ہاتھوں اور سخت بازوؤں کے ساتھ۔ میں کہتا ہوں : یہ حدیث باطل ہے صحیح نہیں ہے۔ یہ ابن مروان نے کلبی سے روایت کی ہے اور وہ دونوں ضعیف ہیں قابل حجت نہیں ہے۔ تمام اولاد آدم سے کلام کے ساتھ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کو خاص کیا گیا تھا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے کلام کی ہے اور انہیں بھی اپنا کلام سنایا ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ان پر فضیلت نہ رہی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اس کا فرمانا حق ہے۔ انی اصطفیتک علی الناس برسلتی وبکلامی (اعراف :144) یہ زیادہ واضح قول ہے۔ مسئلہ نمبر 3: اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو کیسے پہچانا جبکہ انہوں نے اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کا خطاب نہیں سنا تھا بعض علماء نے فرمایا آپ نے کلام سنا جس میں حروف اور آوازیں نہ تھیں۔ اور نہ اس میں تقطیع تھی نہ نفس۔ اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جان گئے کہ یہ بشر کا کلام نہیں ہے یہ رب العالمین کا کلام ہے۔ بعض دوسرے علماء نے فرمایا : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسا کلام سنا جو کسی جہت سے نہیں تھا، اور انسان کا کلام تو چھ جہتوں میں سے کسی جہت سے سنا جاتا ہے، تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جان گئے کہ یہ بشر کا کلام نہیں ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : آپ کا پورا جسم قوت سماعت بن گیا حتیٰ کہ اس کے ساتھ آپ نے اللہ تعالیٰ کا کلام سنا تو آپ جان گئے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ بعض نے فرمایا : معجزہ نے دلالت کی کہ جو انہوں نے سنا ہے وہ اللہ کا کلام ہے۔ اور یہ اس طرح ہے کہ انہیں کہا گیا : اپنا عصا ڈالو تو انہوں نے عصا ڈال دیا وہ بہت بڑا سانپ بن گیا تو یہ صدق حال پر ان کے علامت تھا۔ اور وہ جس نے انہیں کہا انی انا ربک وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ بعض نے فرمایا : انہوں نے اپنے دل میں کوئی بات چھپائی ہوئی تھی جس پر صرف علام الغیوب ہی واقف ہو سکتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خطاب میں اس پوشیدہ بات کی خبر دی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جان گئے جو اس سے مخاطب ہے اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ مزید بیان سورة القصص میں نودی من شاطئ الواد الایمن فی البقعۃ المبرکۃ من الشجرۃ (القصص :30) کے تحت آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم یحرفونہ مجاہد اور اور سدی نے کہا : اس سے مراد یہود کے علماء ہیں جو تورات میں تحریف کرتے تھے حرام کو حلال اور حلال کو حرام کرتے تھے اپنی خواہشات کے مطابق (1) ۔ من بعد ما عقلوہ یعنی پہچاننے اور جاننے کے بعد۔ یہ ان کو توبیخ ہے یعنی یہ یہود، ان کے آباء و اجداد برائی اور عناد کا اظہار کرتے ہوئے گزر گئے یہ ان کے طریقوں پر ہیں پھر تم کیسے ان کے ایمان کی طمع کرتے ہو۔ یہ کلام دلالت کرتا ہے کہ حق جاننے والا معاند، ہدایت سے دور ہوتا ہے کیونکہ وہ وعدہ اور وعید کو جان چکا ہوتا ہے لیکن پھر بھی اسے یہ علم اپنے عناد سے نہیں روکتا۔
Ayahs 2:76–77

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جس وقت آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں کیا تم سمجھتے نہیں ؟

اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں خدا کو سب معلوم ہے ؟

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنایہ منافقین کے بارے میں ہے۔ لقوا کی اصل لقیوا ہے پہلے یہ گزر چکا ہے۔ واذا خلا بعضھم الی بعضٍ یہ آیت یہود کے بارے میں ہے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا پھر منافقت کی تھی وہ مومنین کو بیان کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کے آباء و اجداد کو عذاب دیا گیا تھا۔ یہود نے انہیں کہا : اتحدثونھم بما فتح اللہ علیکم یعنی تم پر اللہ تعالیٰ نے جو عذاب کا فیصلہ فرمایا تاکہ وہ کہیں کہ ہم تم سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ معزز ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس اور سدی سے مروی ہے (1) ۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت علی ؓ خیبر کی جنگ کے موقع پر قریظہ کے پاس گئے تو آپ نے سنا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بک رہے ہیں۔ حضرت علی ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ انہیں تبلیغ نہ کریں۔ آپ ﷺ نے منہ پھیرلیا۔ پھر فرمایا : میں گمان کرتا ہوں تو نے ان سے میری گستاخی سنی ہے، اگر وہ مجھے دیکھ لیں گے تو رک جائیں گے۔ آپ ﷺ یہود کے پاس گئے۔ جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو وہرک گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا : اے بندروں اور خنازیر کی اولاد ! تم نے عہد توڑ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں رسوا کرے اور تم پر اپنا عذاب نازل کرے۔ انہوں نے کہا : آپ جاہل نہیں تھے اور ہم پر جہالت کا اظہار نہ کریں۔ یہ آپ کو کس نے بتایا ہے ؟ یہ خبر ہماری طرف سے نکلی ہے یہ معنی مجاہد سے بھی مروی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا خلا، خلا اصل میں خلو تھا واو متحرک ما قبل مفتوح کی وجہ سے واو الف سے بدل گئی۔ خلاء کا معنی سورت کے آغاز میں گزر چکا ہے۔ فتح کا معنی حکم ( فیصلہ کرنا) اور عربوں کے ہاں الفتح کا لفظ القضاء اور الحکم کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیر الفتحین۔ (اعراف) اس آیت میں فاتحین کا معنی حاکمین (فیصلہ کرنے والے) ہے۔ میرے اور تیرے درمیان قاضی ہے۔ قاضی کو فتاح کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ظالم کے خلاف مظلوم کی مدد کرتا ہے۔ الفتح کا معنی مدد کرنا ہی ہے۔ اسی سے ہے : یستفتحون علی الذین کفروا (البقرہ :89) وہ کافروں کے خلاف مدد طلب کرتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان تستفتحوا فقد جأء کم الفتح (انفال :19) چیزوں کے درمیان فرق کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ (2) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لیحأجوکم لام کی کی وجہ سے منصوب ہے۔ اگر تو چاہے تو ان کے اضمار کے ساتھ نصب دے نصب کی ملامت نون کا حذف ہے۔ یونس نے کہا : عربوں میں سے کچھ لوگ لام کی کو فتحہ دیتے ہیں۔ اخفش نے کہا : کیونکہ فتحہ اصل ہے۔ خلف الاحمر نے کہا : یہ بنی العنبر کی لغت ہے۔ لیحاجوکم کا معنی لیعیروکم ہے (وہ تمہیں عار دلائیں گے) وہ کہیں گے ہم اللہ کی بارگاہ میں تم سے زیادہ معزز ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : وہ تم پر تمہارے قول سے حجت پکڑیں گے وہ کہیں گے تم نے اس کا انکار کیا اس کی سچائی پر واقفیت کے بعد۔ بعض علماء نے فرمایا : یہود کا ایک شخص اپنے مسلمان دوست کو یہ تلقین کرتا تھا کہ تم دین محمد ﷺ کو مضبوطی سے پکڑے رکھو کیونکہ وہ سچا نبی ہے : عند ربکم بعض علماء نے فرمایا : یعنی آخرت میں۔ جیسا کہ فرمایا : ثم انکم یوم القیمۃ عند ربکم تختصمون۔ (الزمر بعض علماء نے فرمایا : اس کا مطلب ہے عند ذکر ربکم، بعض نے فرمایا : عند بمعنی فی ہے یعنی وہ تم سے تمہارے رب کے بارے جھگڑیں گے۔ پس وہ تم سے زیادہ حقدار ہوجائیں گے تم پر اپنی حجت کے ظہور کی وجہ سے۔ حسن سے مروی ہے، الحجۃ مطلق سیدھی کلام کو کہتے ہیں۔ اسی سے محجۃ الطریق ہے (یعنی راستہ کا درمیان) جاججت فلاناً فحججۃ۔ میں نے فلاں سے جھگڑا کیا اور حجت کے ساتھ میں اس پر غالب آگیا۔ اسی سے حدیث میں ہے : فحج آدم موسیٰ (1) ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) حجت کے ساتھ غالب آگئے : افلا تعقلون بعض علماء نے فرمایا : یہ احبار (علماء) کا اپنے پیروکاروں کو کلام ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنین کو خطاب ہے۔ یعنی تم اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ بنی اسرائیل ایمان نہیں لائیں گے جبکہ وہ ان احوال میں ہیں (2) پھر انہیں توبیخ فرمائی۔ اولا یعلمون یہ استفہام، توبیخ و تقریع کے معنی میں ہے۔ جمہور علماء نے یعلمون یا کے ساتھ پڑھا ہے، ابن محیصن نے تا کے ساتھ پڑھا ہے مومنین کو خطاب ہے وہ جو انہوں نے اپنا کفر چھپا رکھا تھا اور وہ جو انہوں نے اعلانیہ انکار کیا تھا۔ (3)