Ayah 2:278مسئلہ نمبر : (29) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا مابقی من الربوا ان کنتم مؤمنین “۔ ظاہر یہ ہے کہ وہ اس سود کو باطل کر دے جس پر قبضہ نہیں ہوا ہے، اگرچہ آیت تحریم کے نازل ہونے سے پہلے اس کا عقد ہوچکا ہو، اور جب اس پر قبضہ ہوچکا ہو تو پھر اس کے فسخ کے پیچھے نہ پڑے۔
تحقیق کہا گیا ہے کہ یہ آیت بنی ثقیف کے سبب نازل ہوئی، انہوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کے ساتھ اس پر معاہدہ کیا تھا کہ انکے سود کا مال جو لوگوں پر ہے تو وہ انہیں کے لئے ہے اور جو لوگوں کا ان پر ہے تو وہ ان سے ختم کردیا گیا ہے، پھر جب ان کے سود کی مقررہ مدتیں آپہنچیں تو انہوں نے اہل مکہ کی طرف تقاضا کے لئے (پیغام) بھیجا، قرضے بنی عبدہ کے تھے اور وہ بنو عمرو بن عمیر ثقیف میں سے تھے اور یہ بنی مغیرہ مخزومیوں پر تھے، اور بنو مغیرہ نے کہا : ہم کوئی شے نہیں دیں گے کیونکہ ربا ختم کردیا گیا ہے، اور انہوں نے اپنا معاملہ حضرت عتاب بن اسید ؓ کے سامنے پیش کیا اور انہوں نے یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کی طرف لکھا، اور یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اسے حضرت عتاب ؓ کی طرف لکھ بھیجا اور ثقیف نے بھی اس کے بارے جان لیا اور وہ (سود کا مطالبہ کرنے) سے رک گئے، یہی آیت کا سبب نزول ہے اور یہ اس مجموعے کا اختصار ہے جو ابن اسحاق، ابن جریج اور سیدی وغیرہم نے روایت کیا ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ تم اپنے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے درمیان کوئی آڑ اور رکاوٹ بنا لو اپنے ما بقی ربا کو چھوڑ کر اور اس سے درگزر کرکے۔
مسئلہ نمبر : (30) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان کنتم مؤمنین “۔ یہ اس بنا پر ثقیف کے حق میں شرط محض ہے کیونکہ یہ حکم ان کے اسلام میں داخل ہوتے ہی پہلے پہل نازل ہوا اور جب ہم آیت کو ان کے بارے میں مقدر قرار دیں جن کا ایمان پختہ ہوچکا تھا تو پھر یہ مبالغہ کی جہت پر شرط مجازی ہے جیسا کہ تو اس کے بارے میں کہتا ہے جس کی ذات کو تو ابھارنے کا ارادہ رکھتا ہو۔
اگر تو مرد ہے تو تو اس طرح کر “۔ اور نقاش نے مقاتل بن سلیمان سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ اس آیت میں ان بمعنی اذ ہے، ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ مردود ہے اور لغت میں معروف نہیں ہے، اور ابن فورک نے کہا ہے : یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا “۔ سے مراد حضور ﷺ “ سے پہلے دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ایمان لانا ہو اور (آیت) ” ذروا ما بقی من الربوا ان کنتم مؤمنین “ میں حضور نبی مکرم ﷺ کے ساتھ ایمان لانا مراد ہو، کیونکہ اس کے بغیر پہلا ایمان نفع نہیں دے گا اور یہ اس کے سبب مردو ہے جو آیت کے سبب نزول میں بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 2:279مسئلہ نمبر : (31) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ “۔ یہ وعید ہے اگر انہوں نے سود نہ چھوڑا اور جنگ قتل کی دعوت دیتی ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے روایت کیا ہے کہ قیامت کے دن سود کھانے والے کو کہا جائے گا : جنگ کے لئے اپنے ہتھیار لے لے، اور حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی کہا ہے : جو کوئی سود پر قائم رہے اور اس سے باز نہ آئے تو مسلمانوں کے امام پر لازم ہے کہ وہ اس سے سود کا مال واپس لے لے پس اگر وہ باز آجائے۔ (تو فبہا) اور نہ وہ اسے قتل کر دے۔
اور حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے سود لینے والوں کو قتل کی دھمکی دی ہے اور انہیں مباح قرار دیا ہے جہاں بھی وہ پکڑے جائیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہے : اگر تم باز نہ آئے تو تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے والے ہو یعنی تم ان کے دشمن ہو۔
ابن خویز منداد نے کہا ہے : اگر کسی شہر والوں نے سود پر اسے حلال سمجھتے ہوئے صلح کرلی تو وہ مرتد ہوگئے اور انکے بارے میں حکم مرتدین کے حکم کی طرح ہوگا۔ اور اگر وہ اسے حلال نہ سمجھیں تو امام وقت کے لئے ان سے جنگ لڑنا جائز ہے۔ کیا آپ جانتے نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں اعلان فرمایا ہے
(آیت) ” فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ “۔
ترجمہ پھر وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جانب سے اعلان جنگ سن لیں۔
اور ابوبکر نے حضرت عاصم (رح) سے ” وازنوا “ پڑھا ہے، اس معنی کی بنیاد پر کہ تم اپنے سوا کو بتا دو کہ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے حالت جنگ میں ہو۔
مسئلہ نمبر : (32) ابن بکیر نے بیان کیا ہے کہ ایک آدمی حضرت امام مالک بن انس ؓ کے پاس آیا اور کہا : اے ابا عبداللہ ! میں نے ایک آدمی کو نشہ کہ حالت میں دیکھا، وہ گالی گلوچ کر رہا تھا اور چاہتا تھا کہ وہ چاند کو پکڑ لے، سو میں نے کہا میری بیوی کو طلاق اگر ابن آدم (انسان) کے پیٹ میں شراب سے بڑھ کر کوئی بری شے داخل ہوتی ہو، تو آپ نے اسے فرمایا : تو واپس چلا جا یہاں تک کہ میں تیرے مسئلہ میں غور وفکر کرلوں، پھر وہ دوسرے دن آیا، تو آپ نے اسے پھر فرمایا : تو واپس لوٹ جا یہاں تک کہ میں تیرے مسئلہ میں غور وفکر کرلوں، وہ پھر تیسرے دن آیا تو آپ نے اسے فرمایا : تیری بیوی کو طلاق ہوچکی ہے میں نے کتاب اللہ اور حضور نبی مکرم ﷺ کی سنت میں خوب چھان بین کی، گہری غور وفکر کی تو میں نے سود سے بڑھ کر کوئی بری شے نہ دیکھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں جنگ کا اعلان کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (33) یہ آیت اس پر دلیل ہے کہ سود کھانا اور اس کے مطابق کاروبار کرنا گناہ کبیرہ میں سے ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے ہم اسے بیان کریں گے۔
حضور نبی مکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” یاتی علی الناس زمان لایبقی احد الا اکل الربا ومن لم یا کل الربا اصابہ غبارہ “۔ (لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ کوئی باقی نہیں رہے گا مگر وہ سود کھائے گا اور جس نے نہ کھایا تو اس کا غبار اس تک پہنچ جائے گا)
اور دارقطنی نے حضرت عبداللہ ابن حنظلہ غسیل الملائکہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : لدرھم ربا اشد عند اللہ تعالیٰ من ست وثلاثین زنیۃ فی الخطیئۃ “۔ (سود کا ایک درہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک گناہ میں چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ شدید ہے)
اور آپ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” الربا تسعۃ وتسعون بابا ادناھا کا تیان الرجل بامہ (1) (ابن ماجہ، باب التغلیظ فی الرباء حدیث نمبر 2264، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (سود کے ننانوے دروازے ہیں اور ان میں سے ادنی آدمی کا اپنی ماں کے ساتھ زنا کرنے کی مثل ہے) اور حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : سود کھانے والا، کھلانے والا، اسے لکھنے والا اور اس کی شہادت دینے والا سب پر حضور نبی مکرم ﷺ کی زبان سے لعنت کی گئی ہے۔
اور امام بخاری نے ابو جحیفہ ؓ سے روایت کیا ہے (2) (صحیح بخاری، باب ثمن الکلب، حدیث نمبر : 2084، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) کہ انہوں نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے خون کے ثمن (قیمت) کتے کے ثمن اور بدکاری کی کمائی سے منع فرمایا ہے اور سود کھانے اور کھلانے والے پر (بال) گودنے اور گدوانے والی پر اور تصویر بنانے والے پر لعنت کی ہے۔ نھی رسول اللہ ﷺ عن ثمن الدم وثمن الکلب وکسب البغی ولعن اکل الربا ومؤکلہ والواشمۃ والمستوشمۃ والمصور “۔ (اور صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو اور ان میں سے ہے۔۔۔۔ واکل الربا اور سود کھانے والا،
اور مصنف ابی داؤد میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے (3) ( جامع ترمذی، کتاب البیوع، حدیث نمبر 1127، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اسے لکھنے والے اور اس پر شاہد بننے والے سبھی پر لعنت کی ہے۔
مسئلہ نمبر : (34) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وان تبتم فلکم رؤوس اموالکم “۔ الایۃ، ابو داؤد نے سلیمان بن عمرو سے اور انہوں نے اپنے باپ سے روایت بیان کی ہے (4) (سنن ابی داؤد، باب فی وضع الرباء حدیث نمبر 2896، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) کہ انہوں نے کہا : میں نے حجتہ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” خبردار سنو بیشک دور جاہلت کے سودوں میں سے تمام سود ختم کردیئے گئے ہیں تمہارے لئے اصل مال ہوں گے نہ تم ظلم کرو اور نہ ہی تم پر ظلم کیا جائے گا ، ‘ اور آگے پوری حدیث بیان کی، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں توبہ کے ساتھ اپنے راس الاموال کی طرف لوٹا دیا اور انہیں فرمایا : سود لینے میں ” تم ظلم نہ کرو “ اور تم پر یہ ظلم نہیں کیا جائے گا “۔ کہ تمہارے رأس الاموال میں سے کوئی شے روک لی جائے اور تمہارے اموال ختم ہوجائیں۔
اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ تم پر ٹال مٹول کرکے ظلم نہیں کیا جائے گا، کیونکہ غنی کا ٹال مٹول کرنا بھی ظلم ہے (1) (صحیح بخاری، باب الحوالۃ، حدیث نمبر 2125، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) پس معنی یہ ہوا کہ فیصلہ سود ختم کرنے کے ساتھی ہی ہوگا اور اسی طرح صلح کا طریقہ ہے اور یہی صلح کے زیادہ مشابہ شے ہے، کیا آپ جانتے نہیں کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے جب کعب بن مالک کی طرف ابن ابی حدرد کے قرض میں نصف ختم کرنے کے بارے ارشارہ کیا اور کعب نے کہا : جی ہاں، تو رسول اللہ ﷺ نے دوسرے کو فرمایا : ” اٹھ اور اسے ادا کر دے “ پس علماء نے آپ ﷺ کے امر بالقضاء کو مصالحات میں سنت کے طور پر لیا ہے، عنقریب سورة النساء میں صلح کا بیان آئے گا اور ان کا جن میں صلح جائز ہوتی ہے اور جن میں جائز نہیں ہوتی، انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر : (35) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وان تبتم فلکم رئوس اموالکم “۔ یہ تاکید ہے اس (ربا) کو باطل کرنے کی جس پر قبضہ نہیں کیا گیا اور اس رأس المال کو لینے کی جس میں سود نہیں، پس بعض علماء نے اس پر استدلال کیا ہے کہ ہر وہ شے جو بیع پر قبضہ کرنے سے پہلے ان چیزوں میں سے طاری ہو جو عقد کی تحریم کو ثابت کرتی ہیں تو وہ عقد کو باطل کر دے گی، جیسا کہ جب کوئی مسلمان شکار خریدے پھر مشتری یا بائع قبضہ سے پہلے اسے حرام کر دے تو بیع باطل ہوجائے گی، کیونکہ اس پر قبضہ سے پہلے وہ شے طاری ہوچکی ہے جس نے عقد کے حرام ہونے کو ثابت کردیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس (ربا) کو باطل قرار دیا ہے جس پر قبضہ نہیں ہوا، کیونکہ اس پر وہ طاری ہوچکی ہے جس نے قبضہ سے پہلے اس کی تحریم کو ثابت کردیا ہے اور اگر اس پر پہلے قبضہ کرلیا گیا ہو پھر اس پر کوئی اثر نہ پڑے گا، یہ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مذہب ہے اور یہی امام شافعی (رح) کے اصحاب کا بھی قول ہے اور اس کے ساتھ اس پر استدلال کیا جاتا ہے کہ قبضہ سے پہلے بائع کے ہاتھ میں مبیع کا ہلاک ہوجانا اور مبیع میں قبضہ کا ساقط ہوجانا عقد کے باطل ہونے کو واجب کرتا ہے بخلاف بعض سلف کے اور یہ اختلاف امام احمد سے روایت کیا جاتا ہے،
اور اس کے قول کے مطابق جاری ہو سکتا ہے جو یہ کہتا ہے : بیشک ربا میں عقد فی الاصل منعقد ہوچکا تھا اور پھر وہ قبضہ سے پہلے طاری ہونے والے اسلام کے سبب باطل ہوگیا اور رہے وہ جنہوں نے اصل میں ربا کے انعقاد کا انکار کیا ہے تو (ان کے نزدیک) یہ کلام صحیح نہیں ہے وہ یہ کہ سود (تمام) ادیان میں حرام کردیا گیا ہے اور وہ جو دور جاہلیت میں اس کا کاروبار کرتے تھے تو وہ مشرکین کی عادت تھی اور ربا میں سے جس پر انہوں نے قبضہ کرلیا ہے وہ ان مالوں کے جمع ہونے کی جگہ میں ہے جو ان تک غصب اور سلب کے ذریعہ پہنچے ہیں تو اس پر کوئی تعرض نہ کیا جائے گا، پس اس بناء پر استشہاد صحیح نہیں ہوگا ان مسائل میں جو انہوں نے ذکر کئے ہیں اور ہم سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتوں کا ربا کی تحریم پر مشتمل ہونا مشہور ہے اور کتاب اللہ میں مذکور ہے، جیسا کہ اس قول باری تعالیٰ میں یہودیوں کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔
(آیت) ” واخذھم الربوا وقد نھوا عنہ “۔ (النساء : 161)
ترجمہ : اور بوجہ ان کے سود لینے کے حالانکہ منع کئے گئے تھے اس سے۔
اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کے قصہ میں مذکور ہے کہ ان کی قوم نے ان کا انکار کیا اور کہا :
(آیت) ” اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبدابآؤنا او ان نفعل فی اموالنا مانشؤا “۔ (ہود : 87)
ترجمہ ؛ کیا تمہاری نماز تمہیں حکم دیتی ہے کہ ہم چھوڑ دیں انہیں جن کی عبادت کرتے ہو اہمارے دادا یا نہ تصرف کریں اپنے مالوں میں جیسے ہم چاہیں)
پس اس بنا پر اس سے استدلال درست نہ ہوگا، ہاں اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ عقود جو دارالحرب میں واقع ہوں جب امام وقت ان پر غالب آئے تو وہ فسخ کے احکام جاری نہیں کرے گا اگرچہ وہ عقود فاسدہ ہی ہوں۔
مسئلہ نمبر : (36) ارباب ورع وزہد میں سے بعض غلو کرنے والوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ حلال مال میں جب حرام مال اس طرح مل جائے کہ تمیز ممکن نہ رہے پھر وہ ملے جلے مال میں سے حرام مال کی مقدار مال نکال دے تو پھر بھی (مابقی مال) حلال اور پاک نہ ہوگا، کیونکہ یہ ممکن ہے کہ جو مال نکالا گیا ہے وہ حلال ہو اور جو باقی ہے وہ حرام ہو، ابن عربی (رح) نے کہا ہے : یہ دین میں غلو ہے، کیونکہ ہر وہ مال جس میں تمیز کرنا (اور اسے علیحدہ علیحدہ کرنا) ممکن نہ رہے تو پھر اس سے مقصود اس کی مالیت ہوتی ہے نہ کہ اس کا عین، اور اگر مال ضائع ہوجائے تو پھر اس کی مثل مال اس کے قائم مقام ہوتا ہے، دونوں قسم کے مالوں کا مخلوط ہوجانا اس کی تمیز اور علیحدگی کے اعتبار سے اتلاف اور ضیاع ہی ہے جیسا کہ ہلاک کردینا اس کے عین (ذات) کے لئے اتلاف اور ضیاع ہے اور مثل ضائع ہونے والے مال کے قائم مقام ہوتی ہے اور یہ حسا اور معنی بین اور واضح ہے، واللہ اعلم۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : ہمارے علماء نے کہا ہے اموال حرام میں سے جو آدمی کے قبضہ میں ہو اگر وہ سود کا مال ہے تو اس سے توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اسے اس کے پاس واپس لوٹا دے جس پر سود لگایا تھا اور اگر وہ حاضر نہ ہو تو اسے تلاش کرے اور اگر اسے پانے سے مایوس ہوجائے تو پھر چاہیے کہ وہ اسے صدقہ کر دے اور اگر اس نے وہ مال ظلما لیا ہو تو جس کے ساتھ اس نے ظلم کیا ہے اس کے ساتھ بھی اسے اسی طرح معاملہ کرنا چاہئے اور اگر اس پر معاملہ مشتبہ ہوجائے اور وہ یہ نہ جان سکے کہ جو مال اس کے قبضے میں ہے اس حلال میں سے حرام کتنا ہے تو جو مال اس کے قبضے میں ہے اس میں سے وہ مقدار تلاش کرے جس کا لوٹانا اس پر واجب ہے، یہاں تک کہ اسے اس میں کوئی شک نہ رہے کہ جو مال باقی ہے وہ خالص اس کا اپنا ہے، پس جو مال اس نے اپنے قبضے سے زائل کیا اسے وہ ان لوگوں کو واپس لوٹائے گا جن کے بارے میں یہ معروف ہو کہ اس نے اس پر ظلم کیا ہے یا اس سے بطور سود مال لیا ہے اور اگر وہ اسے آدمی کو پانے سے مایوس ہوجائے تو پھر اس کی طرف سے وہ مال صدقہ کر دے۔
اور اگر مظالم اس کے ذمہ کا احاطہ کئے ہوئے ہوں اور وہ یہ جانتا ہو کہ اس پر جو کچھ واجب الادا ہے وہ اسے کثیر ہونے کے سبب کبھی بھی ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھے گا تو اس کی توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو کچھ اس کے پاس موجود ہے وہ سب اپنی ملکیت سے زائل کر دے، چاہے مساکین کو دے دے اور چاہے تو ایسے کاموں میں خرچ کر دے جو عام مسلمانوں کی منفعت اور صلاح کے لئے ہوں، یہاں تک کہ اس کے پاس کوئی شے باقی نہ رہے، سوائے اس کم سے کم لباس کے جس میں نماز جائز ہوتی ہے اور وہ اتنا کپڑا ہے جو شرمگاہ کو ڈھانپ سکے اور وہ ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے، اور ایک دن کی خوراک (باقی رہ جائے) کیونکہ یہ وہ مقدار ہے جو اضطراری حالت میں دوسرے کے مال سے لینا واجب ہوتی ہے، اگرچہ وہ اسے ناپسند کرے جس سے وہ لے رہا ہے اور اکثر علماء کے قول کے مطابق یہاں مفلس علیحدہ اور جدا ہوگیا، کیونکہ مفلس کے پاس لوگوں کے اموال کسی زیادتی یا ظلم کی وجہ سے نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے وہ مال اس کے حوالے کر رکھے ہوتے ہیں پس اس کے لئے اتنا مال چھوڑ دیا جائے گا جو اسے چھپا لے گا اور وہ وہ ہے جو اس کے لباس کی ہئیت وکیفیت میں ہو۔
اور ابو عبید وغیرہ یہ کہتے ہیں کہ وہ مفلس کے لئے لباس نہ چھوڑے مگر وہ کم سے کم مقدار جو نماز میں اسے کافی ہو اور وہ وہ ہے جو اسے ناف سے گھٹنے تک ڈھانپ لے، پھر جب بھی کوئی شے اس کے ہاتھ میں آئے اسے وہ اپنے ہاتھ سے نکال دے اور اس سے وہ کچھ روک کر نہ رکھے سوائے اس مقدار کے جو ہم نے ذکر کردی ہے، یہاں تک کہ وہ جان لے، اور کون اس کی حالت کو جان سکتا ہے کہ اس نے وہ ادا کردیا ہے جو اس کے ذمہ واجب الادا ہے۔
مسئلہ نمبر : (37) یہ وہ وعید ہے جس کے سبب اللہ تعالیٰ نے سود کھانے کی صورت میں جنگ سے ڈرایا دھمکایا ہے اور اسی کی مثل حضور نبی کریم ﷺ کی جانب سے بٹائی پر کھیتی کرنے کے بارے میں بھی وارد ہے، ابو داؤد نے روایت کیا ہے اور کہا ہے : یحییٰ بن معین اور ابن رجانے ہمیں خبر دی ہے اور ابن رجا نے کہا ہے کہ مجھے ابن خیثم نے ابو الزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس نے بٹائی پر کھیتی کرنے کو نہ چھوڑا تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی جانب سے اعلان جنگ سن لے۔ “ پس یہ بٹائی پر کھیتی کرنے سے روکنے پر دلیل ہے اور مخابرہ سے مراد زمین کو نصف یا تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض لینا ہے اور اسے مزارعت کہا جاتا ہے، اور امام مالک (رح) کے تمام اصحاب، امام شافعی (رح) امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے متبعین اور داؤد رحمۃ اللہ علہیم نے اس پر اجماع کیا ہے کہ زمین ثلث اور ربع پر دینا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس پیداروار کے جز پر جو زمین سے حاصل کی جائے گی، کیونکہ وہ مجہول ہے، مگر امام شافعی (رح) اور آپ کے اصحاب اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے کہ زمین کو اناج کے عوض کرائے پر دینا جائز ہے بشرطیکہ مقدار معلوم ہو، کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” پس جو شے معلوم ہو اس کی ضمانت ہوسکتی ہو تو اس کے عوض کوئی حرج نہیں ہے۔ “
اسے مسلم نے بیان کیا ہے اور محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم نے یہی موقف اپنا یا ہے اور امام مالک (رح) اور آپ کے اصحاب نے اس سے منع کیا ہے کیونکہ مسلم نے حضرت رافع بن خدیج ؓ سے یہ بھی روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں زمین کی کھیتی پکنے سے پہلے فروخت کردیتے تھے اور ہم زمین ثلث، ربع اور مقررہ اناج کے عوض کرائے پر دیتے تھے، پس ایک دن میرے چچاؤں میں سے ایک آدمی ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسے معاملے سے منع کیا ہے جو ہمارے لئے باعث نفع تھا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول معظم ﷺ کی اطاعت وفرمانبرداری ہمارے لئے زیادہ نفع بخش ہے اور آپ ﷺ نے ہمیں اس سے منع کیا ہے کہ ہم زمین کی کھیتی پکنے سے پہلے فروخت کردیں اور ہم زمین ثلث، ربع، اور مقررہ اناج کی شرط پر کرائے پر دیں اور آپ نے زمین کے مالک کو حکم دیا ہے کہ وہ خود کاشت کرے یا اسے مزارعت پر دے دے، اور آپ نے اس کے کرائے کو اور جو کچھ اس کے سوا ہے اسے ناپسند کیا ہے، انہوں نے کہا ہے : پس زمین کا کرایہ اناج میں سے کسی شے کے ساتھ جائز نہیں ہے کسی بھی حال میں چاہے وہ شے کھائی جانے والی ہو یا پی جانے والی، کیونکہ یہ طعام کے بدلے طعام ادھار بیچنے کے معنی میں ہے اور اسی طرح زمین کا کرایہ ان کے نزدیک اس شے سے دینا بھی جائز نہیں ہے جو زمین سے نکلے گی اگرچہ وہ کھایا اور پیا جانے والا طعام نہ بھی ہو، سوائے لکڑی، کا نے اور ایندھن کی لکڑی کے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ بیع مزابنہ کے معنی میں ہے۔ (بیع مزابنہ سے مراد بغیر کیل اور وزن کے صرف اندازے کے ساتھ کسی شے کی بیع کرنا ہے) یہی وہ ہے جو امام مالک (رح) اور آپ کے اصحاب سے محفوظ ہے۔
اور ابن سحنون نے مغیرہ بن عبد الرحمن مخزومی مدنی سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ زمین کو اس اناج کے عوض کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جو اس سے نہ پیدا ہوتا ہو اور یحییٰ بن عمر نے مغیرہ سے روایت کیا ہے کہ وہ جائز نہیں ہے، جیسا کہ تمام اصحاب مالک (رح) کا قول ہے۔
اور ابن حبیب نے ذکر کیا ہے کہ ابن کنانہ کہتے تھے : زمین کو ایسے شے کے عوض کرائے پر نہیں دیا جائے گا کہ جب وہ شے زمین میں لوٹائی جائے تو وہ اگ پڑے، اور اس کے سوا تمام ایسی اشیاء کے عوض کرائے پر دینے کوئی حرج نہیں ہے جو کھائی جاتی ہوں اور ان کے عوض جو نہ کھائی جاتی ہوں چاہے وہ زمین سے پیدا ہوں یا نہ ہوں، اور اسی طرح یحییٰ بن یحییٰ نے بھی کہا ہے اور کہا ہے : بیشک یہ امام مالک (رح) کے قول میں سے ہے۔ (ابن حبیب نے) کہا ہے اور ابن نافع کہا کرتے تھے : زمین کو طعام وغیرہ میں سے ہر شے کے عوض کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جو زمین سے پیدا ہو یا نہ پیدا ہو، ما سوائے گندم اور اس جیسی اجناس کے، کیونکہ یہ محاقلہ ہے جس سے منع کیا گیا ہے، (اور محاقلہ سے مراد کھیتی کو پکنے سے پہلے فروخت کردینا ہے۔ )
اور امام مالک (رح) نے الموطا میں کہا ہے وہ آدمی جو اپنی سفید زمین اس سے حاصل ہونے والی پیداوار کے ثلث اور ربع کے عوض دے دیتا ہے تو یہ اس میں سے ہے جس میں دھوکہ داخل ہے کیونکہ پیداوار ایک بار کم ہوتی ہے اور دوسری بار زیادہ ہوتی ہے اور بسا اوقات بالکل کچھی بھی نہیں ہوتا تو زمین کا مالک مقررہ کرایہ ترک کرنے والا ہوجائے گا، بیشک اس کی مثال اس آدمی کی مثل ہے جس نے کسی مزدور کو معین شے کے عوض سفر کے لئے اجرت پر لیا پھر مستاجر نے اجیر کو کہا : میں اپنے اس سفر سے جو نفع حاصل کروں گا اس کا دسواں حصہ تجھے دوں گا وہی تیرے لئے اجرت ہوگی، تو نہ یہ حلال ہے اور نہ اسے ایسا کرنا چاہیے۔
امام مالک (رح) نے کہا ہے کسی آدمی کو نہیں چاہیے کہ وہ اپنی ذات کو، اپنی زمین کو، اپنی کشتی اور اپنے جانور کو اجرت پر دے مگر ایسی معلوم شے کے عوض جو زائل اور ہلاک نہ ہو اور امام شافعی، امام ابوحنیفہ (رح) اور ان دونوں کے اصحاب رحمۃ اللہ علہیم بھی یہی کہتے ہیں۔
امام احمد بن حنبل، لیث ثوری، اوزاعی، حسن بن حی، امام ابو یوسف، اور امام محمد رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے : کوئی حرج نہیں ہے کہ کوئی آدمی اپنی زمین کسی کو اس سے حاصل ہونے والی پیداوار کے ایک جز مثلا ثلث اور ربع وغیرہ کی شرط پر دے دے، یہی ابن عمر ؓ اور طاؤس (رح) کا قول ہے، اور انہوں نے خیبر کے واقعہ سے استدلال کیا ہے اور وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے وہاں کے باسیوں کو ہی اپنی زمینوں پر ان سے حاصل ہونے والی پیداوار اور پھلوں میں سے نصف کی شرط پر عامل مقرر کیا، امام احمد نے کہا ہے کہ کھیت کے کرائے سے نہی کے بارے میں حضرت رافع بن خدیج ؓ کی حدیث مضطرب الالفاظ ہے اور وہ صحیح نہیں ہے اور قصہ خیبر کے بارے قول اولی اور ارجح ہے اور وہ حدیث صحیح ہے۔ (1) (صحیح بخاری، باب اذا لم یشترط السنین فی المزارعۃ، حدیث نمبر 2161، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
تابعین کی ایک جماعت اور ان کے بعد آنے والوں نے اسے جائز قرار دیا ہے کہ آدمی اپنی کشتی سواری کسی کو دے جس طرح کہ وہ اپنی زمین اس جز کے بدلے دیتا ہے جو اس پیداوار میں سے ہو جو اللہ تعالیٰ اسے محنت کے سبب عطا فرمائے گا، اور انہوں نے اس میں اپنی اصل اور بنیاد اس مضاربت کو بنایا ہے جس پر اجماع ہے۔ اس کا بیان انشاء اللہ تعالیٰ سورة المزمل میں اس ارشاد کے تحت آئے گا : (آیت) ” واخرون یضربوں فی الارض یبتغون من فضل اللہ “۔
اور امام شافعی (رح) نے حضرت ابن عمر ؓ کے قول کے بارے کہا ہے کہ ہم بٹائی پر کھیتی کرتے تھے اور ہم اس میں کوئی حرج نہ دیکھتے تھے یہاں تک کہ ہمیں حضرت رافع بن خدیج ؓ نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، یعنی ہم زمین اس سے حاصل ہونے والی پیداوار کے بعض کے عوض کرائے پر دیتے تھے، امام شافعی (رح) نے فرمایا : اس میں قصہ خیبر والی حدیث کا نسخ ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : جو شے امام شافعی (رح) کے نسخ کے بارے قول کو صحیح قرار دیتی ہے وہ وہ روایت ہے جسے ائمہ نے روایت کیا ہے اور الفاظ دارقطنی کے ہیں، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے محاقلہ (پکنے سے پہلے کھیتی فروخت کردینا) مزابنہ (اندازے سے بیع کرنا) مخابرہ (بٹائی پر کھیتی کا کام کرنے) اور الثنایا (عقد بیع کے وقت مبیع میں سے مجہول شے کی اسثنا کردینا) سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ 0 جس شے کی استثناء کی گئی ہے) وہ معلوم ہو، یہ روایت صحیح ہے، اور ابو داؤد نے حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت بیان کی ہے (2) (سنن ابی داؤد، باب فی المغابرۃ، حدیث نمبر 2958، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) کہ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے، میں نے پوچھا، مخابرہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ تو زمین نصف یا تہائی یا چوتھائی پداوار کے عوض لے لے۔
مسئلہ نمبر : (38) یہ قراتوں کے بیان میں ہے۔ جمہور نے مابقی میں یا کو متحرک پڑھتا ہے اور حسن نے اسے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی کی مثل جریر کا قول ہے :
ھو الخلیفۃ فارضوا مارضی لکم ماضی العزیمۃ مافی حکمہ جنف۔
اور عمر بن ربیعہ نے کہا ہے :
کم قد ذکرتک لو اجزی بذکرکم یا اشبہ الناس کل الناس بالقمر
انی لاجدل ان امسی مقابلہ حبا لرؤیۃ من اشبھت فی الصور
اس کی اصل ما رضی اور ان امسی ہے، اور انہوں نے انہیں سکون دیا ہے اور شعر میں ایسا کثرت سے ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں یا کو الف کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے تو جس طرح الف پر حرکت نہیں آسکتی تو اسی طرح یہاں یا پر بھی حرکت نہیں آسکتی، اور اس لغت میں سے جس کی طرف دعوت دینا میں پسند کرتا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میں تجھے اس کی نصیحت کروں وہ واؤ اور یا کو ساکن کرنا ہے حسن نے ما بقی الف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ لغت طی ہے وہ جاریہ کے لئے اجاراۃ اور ناصیۃ کے لئے ناصاۃ بولتے ہیں۔ اور شاعر کا قول ہے :
لعمرک لا اخشے التصعلک مابقی علی الارض قیسی یسوق الاباعرا
ابو السمال نے تمام قراء کے درمیان سے من الربوا “ را مشددہ کے کسرہ با کے ضمہ اور واؤ کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور ابو الفتح عثمان بن جنی نے کہا ہے : دو اعتبار سے یہ حرف شاذ ہے، ایک تو اس اعتبار سے کہ اس میں کسرہ سے ضمہ کی طرف خروج ہے اور دوسرا اس اعتبار سے کہ اس میں اسم کے آخر میں ضمہ کے بعد واؤ واقع ہے اور مہدوی نے کہا ہے : اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے الف کو پر پڑھا ہے تو وہ اس سے اس واؤد کی طرف جھک گئی جس سے الف ہے اور سوائے اس وجہ کے کسی پر اسے محمول نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ کلام میں کوئی اسم نہیں جس کے آخر میں واؤ ساکن ہو اور اس سے پہلے ضمہ ہو، کسائی اور حمزہ نے الربا میں را میں کسرہ کے محل کی وجہ سے امالہ کیا ہے، اور باقیوں نے با کے فتحہ کی وجہ سے اسے تفخیم کے ساتھ پڑھا ہے۔
ابو بکر نے عاصم اور حمزہ سے ” فاذنوا “ پڑھا ہے یعنی تم آگاہ ہوجاؤ، (یہ کونوا علی اذن) یہ تیرے اس قول سے ہے : انی علی علم (میں جانتا ہوں) اسے ابو عبید نے اصمعی سے بیان کیا ہے، اور اہل لغت نے بیان کیا ہے کہ کہا جاتا ہے : اذنت بہ اذنا، ای علمت بہ، یعنی میں نے اس کے بارے جان لیا، اور مفسرین میں سے حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا ہے : (آیت) ” فاذنوا “ کا معنی ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے جنگ یقینی سمجھو، اور یہ بمعنی الاذن ہے اور ابو علی وغیرہ نے قراۃ المد کو ترجیح دی ہے اور کہا ہے : کیونکہ جب انہیں ان دوسروں کو خبردار کرنے کے بارے حکم دیا گیا جو اس سے آگاہ نہیں تو لامحالہ انہوں نے انہیں بتایا۔ مزید کہا : پس ان کے بتانے میں ان کا علم ہے اور ان کے علم میں ان کا اعلام (بتانا) نہیں ہے۔ اور علامہ طبری نے قراۃ القصر کو ترجیح دی ہے، کیونکہ یہ ان کے ساتھ مختص ہے، بیشک انہیں مد کی قرات پر اپنے سوا کو آگاہ کرنے کے بارے حکم دیا گیا ہے اور تمام قراء نے (آیت) ” لا تظلمون “ تا کے فتحہ کہ ساتھ اور ولا تظلمون “ تا کے ضمہ کے ساتھ قرات کی ہے اور مفضل نے عاصم سے لا تظلمون، ولا تظلمون یعنی پہلی میں تا کو ضمہ کے ساتھ اور دوسرے میں تاکہ فتحہ کے ساتھ روایت کیا ہے اور ابو علی نے کہا ہے، جماعت کی قرات ترجیح یافتہ ہے کیونکہ یہ (آیت) ” وان تبتم کے قول سے مناسبت رکھتی ہے ان میں کہ دونوں فعلوں کی اسناد فاعل کی طرف ہے اور تظلمون تاء کے فتحہ کے ساتھ بھی آتا ہے اور یہ اپنے ماقبل سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
Ayah 2:280آیت نمبر : 280۔
اس میں نو مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وان کان ذو عسرۃ “۔ جب اللہ تعالیٰ نے سود لینے والوں کو ان کے اصل اموال کے بارے حکم فرمایا درآنحالیکہ وہ ان کے پاس ہو جو مال کو پانے والے ہوں تو تنگدستی کی حالت میں خوشحال ہونے تک مہلت دینے کا ارشاد فرمایا اور وہ یہ کہ ثقیف نے جب اپنے ان اموال کا مطالبہ کیا جو بنی مغیرہ پر قرض تھے تو بنی مغیرہ نے تنگدستی کا عذر پیش کیا اور کہا : ہمارے پاس کوئی شے نہیں ہے اور انہوں نے اپنے پھلوں کے تیار ہونے کے وقت تک مہلت کا مطالبہ کیا، تب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” وان کان ذو عسرۃ “۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 376)
مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وان کان ذو عسرۃ “۔ اس ارشاد کے ساتھ (آیت) ” ون تبتم فلکم رؤس اموالکم “ صاحب قرض کے اپنے مدیون (مقروض) سے مطالبہ کے ثبوت اور اس کی رضا کے بغیر اس کا مال لینے کے جائز ہونے پر دلالت کرتا ہے اور اس پر بھی دلالت کرتا ہے کہ غریم جب امکان کے باوجود قرض ادا کرنے سے رکا رہے تو وہ ظالم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ (آیت) ” فلکم رؤس اموالکم “۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے اپنے راس المال کے مطالبہ کو جائز قرار دیا ہے تو جب اس کے لئے مطالبہ کا حق ہے تو پھر وہ جس پر قرض ہے لامحالہ اسے ادا کرنا اس پر واجب ہے۔
مسئلہ نمبر : (3) مہدوی اور بعض علماء نے کہا ہے یہ آیت اس طریقہ اور رواج کے لئے ناسخ ہے جو زمانہ جاہلیت میں تنگدست کو بیچنے کے بارے میں تھا اور مکی نے بیان کیا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے ابتدائے اسلام میں اس کے بارے حکم فرمایا تھا،
ابن عطیہ نے کہا ہے : پس اگر حضور نبی مکرم ﷺ کا فعل ثابت ہے تب تو یہ نسخ ہے ورنہ یہ نسخ نہیں ہے (2) (ایضا) امام طحاوی نے کہا ہے : ابتدائے اسلام میں قرض میں آزاد آدمی کو بیچ دیا جاتا تھا جب اس کے پس اتنا مال نہ ہوتا جسے وہ اپنے قرض میں ادا کرسکتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کردیا اور ارشاد فرمایا : (آیت) ” وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ “۔ اور انہوں نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جسے دارقطنی نے مسلم بن خالد زنجی کی حدیث سے روایت کیا ہے انہوں نے بیان کیا ہمیں زید بن اسلم نے ابن البیلمانی سے اور انہوں نے سرق سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا : ایک آدمی کا مجھ پر کچھ مال تھا، یا کہا مجھ پر قرض تھا، پس وہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے گیا اور آپ نے میرے لئے کوئی مال نہ پایا تو آپ نے مجھے اس سے یا فرمایا اس کے لئے فروخت کردیا، بزار نے اسے اس سے طویل سند کے ساتھ بیان کیا ہے اور مسلم ابن خالد الزنجی اور عبدالرحمن بن البیلمانی دونوں قابل حجت نہیں ہیں اور اہل علم کی ایک جماعت نے کہا ہے : ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” فنظرۃ الی میسرۃ “ تمام لوگوں کے لئے عام ہے، پس ہر وہ جو تنگدست ہوا سے مہلت دی جائے، اور یہی قول حضرت ابوہریرہ ؓ حسن اور عام فقہاء رحمۃ اللہ علہیم کا ہے۔
نحاس نے کہا ہے : اس آیت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں سے سب سے اچھا قول حضرت عطاء ضحاک اور ربیع بن خیثم کا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ یہ آیت ہر تنگدست کے لئے ہے کہ اسے ربا اور تمام قرضوں میں مہلت دی جائے گی اور یہ قول تمام اقوال کو جامع ہے کیونکہ یہ جائز ہے کہ یہ آیت عام ناسخ ہو ربا کے بارے میں نازل ہوئی ہو پھر دوسرے قرضوں کا حکم بھی اس کے حکم کی طرح ہوگیا ہو، اور اس لئے بھی کہ رفع کے ساتھ قرات اس معنی میں ہے وان وقع ذوعسرہ من الناس اجمعین “ (اور اگر تمام لوگوں میں سے مقروض تنگدست واقع ہو۔ )
اور حضرت ابن عباس اور شریح رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے کہا ہے : یہ آیت ربا کے بارے میں خاص ہے اور رہے قرضے اور دیگر تمام معاملات تو اس میں مہلت نہیں ہے بلکہ وہ یا تو ان کے مالکوں کو ادا کرے گا یا اس سے اسے محبوس کرو جائے گا یہاں تک کہ وہ اسے پورا کر دے اور یہی ابراہیم کا قول ہے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے :
(آیت) ” ان اللہ یامرکم ان تؤدوا الامنت الی اھلھا “۔ الآیہ (النساء : 58)
ترجمہ : بیشک اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے تمہیں کہ (ان کے) سپرد کرو امانتوں کو جو ان کے اہل ہیں) ۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ قول اس پر مرتب ہوتا ہے جب فقر و افلاس شدید اور ذلیل ورسوا کرنے والا نہ ہو اور اگر وہ اس کے فقدان اور فقر کی حالت بالکل صریح اور واضح ہو تو پھر بالضرور اس کے لئے مہلت کا حکم ہوگا (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 377 دارالکتب العلمیہ)
مسئلہ نمبر : (4) جس آدمی کے قرض زیادہ ہوں اور اس کے قرض خواہ اپنے مال کا مطالبہ کریں تو حاکم کے لئے جائز ہے کہ وہ اسے اپنے کل مال سے فارغ کر دے اور اس کے لئے اتنا مال چھوڑ دے جو اس کی حاجت اور ضرورت کو پورا کرسکے، ابن نافع نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ اس کے لئے نہیں چھوڑے گا مگر صرف اتنا جو اسے ڈھانپ سکتا ہو۔ اور مشہور یہ ہے کہ وہ اس کے لئے اتنا مروجہ لباس چھوڑ دے گا جس میں کوئی شے فالتو اور اضافی نہ ہو اور اس سے اس کی چادر نہیں چھینی جائے گی بشرطیکہ وہ اسے بطور تہبند پہنتا ہو، اور اس کی بیوی کا لباس چھوڑنے میں اور اگر وہ عالم ہے تو اس کی کتابیں فروخت کرنے میں اختلاف ہے، اس کے لئے نہ گھر چھوڑا جائے گا اور نہ خادم اور نہ ہی جمعہ کا لباس چھوڑا جائے گا جبکہ اس کی قیمت کم نہ ہو اور اس وقت اسے محبوس کرنا حرام ہوتا ہے اور اس میں اصل اور بنیاد اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (آیت) ” وان کان ذو عسرۃ فنظرۃ الی میسرۃ “۔ ائمہ نے روایت بیان کی ہے اور الفاظ مسلم شریف کے ہیں حضرت ابو سعید خدری ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مقدس میں ایک آدمی کو ان پھلوں میں نقصان ہوگیا جو اس نے خریدے تھے تو اس کا قرض بہت بڑھ گیا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تصدقوا علیہ تو اس پر صدقہ کرو پس لوگوں نے اس کے لئے صدقہ دیا لیکن وہ اس مقدار کو نہ پہنچ سکا جس سے اس کا قرض پورا ہو سکتا ہو تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے قرض کا مطالبہ کرنے والوں کو فرمایا :
(آیت) ” خذوا ماوجدتم ولیس لکم الا ذالک۔
ترجمہ : تم جو پاؤ وہ لے لو اور تمہارے لئے اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
اور مصنف ابی داؤد میں ہے پس رسول اللہ ﷺ نے اس کے غرماء (قرض کا مطالبہ کرنے والے) کے لئے یہ زائد نہیں کہا کہ ” وہ ان کے لئے اپنا مال چھوڑ دے “ اور یہ نص ہے، پس رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کو محبوس کرنے کا حکم ارشاد نہیں فرمایا : اور وہ حضرت معاذ بن جبل ؓ تھے جیسا کہ شریح نے کہا ہے اور نہ ہی اسے لازم پکڑنے (یعنی اس کے ساتھ ساتھ رہنے) کا حکم فرمایا : بخلاف امام اعظم ابو حنفیہ (رح) کے کیونکہ انہوں نے کہا ہے : وہ اس کے ساتھ ساتھ رہیں گے کیونکہ ممکن ہے اس کا مال ظاہر ہوجائے اور قرض خواہ اسے مال کمانے کا پابند نہیں کرے گا اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کردی ہے۔ وباللہ توفیقنا۔
مسئلہ نمبر : (5) امام مالک، شافعی، ابوحنیفہ وغیرھم رحمۃ اللہ علہیم کے قول کے مطابق مفلس کو محبوس کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کے پاس مال کا نہ ہونا ظاہر ہوجائے اور امام مالک (رح) کے نزدیک اسے محبوس نہ کیا جائے گا اگر اس پر یہ وہم نہ ہو کہ اس نے اپنا مال غیب کردیا ہے اور اس کا جھگڑالو ہونا بھی ظاہر نہ ہو اور اسی طرح اسے محبوس نہ کیا جائے گا اگر اس کی تنگدستی درست ہو جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (6) اور اگر مفلس کا کا مال جمع کرلیا جائے پھر وہ قرض کا مطالبہ کرنے والوں تک پہنچنے سے پہلے اور بیع سے پہلے ضائع ہوجائے تو مفلس پر اس کی ضمانت ہوگی اور قرض خواہوں کا قرض اس کے ذمہ ثابت رہے گا اور اگر حاکم نے اس کا مال فروخت کردیا اور اس کے ثمن پر قبضہ کرلیا تو پھر قرض خواہوں کے قبضہ سے پہلے وہ ثمن ضائع ہوگئے تو اس کی ضمانت ان پر ہو گی اور مفلس اس سے بری الذمہ ہوگا اور محمد بن عبدالحکم نے کہا ہے اس کی ضمانت ہمیشہ مفلس سے لی جائے گی یہاں تک کہ وہ غرماء تک پہنچ جائے۔
مسئلہ نمبر : (7) العسرہ کا معنی ہے مال نہ ہونے کہ جہت سے حال کا تنگ ہونا اور اسی سے جیش عسرہ ہے۔ (یعنی وہ لشکر جس کے پاس مالی حالت تنگ تھی) اور النظرہ کا معنی التاخیر (مہلت دینا) ہے۔ اور المیسرہ مصدر بمعنی الیسر (خوشحال ہونا) ہے، اور ذو اس کان تامہ کی وجہ سے مرفوع ہے جو بمعنی وجد اور حدث ہے۔ یہ سیبویہ اور بوعلی وغیرہما کا قول ہے، اور سیبویہ نے کہا ہے :
فدی لبئی ذھل بن شیبان ناقتی اذا کان یوم ذو کواکب اشھب :
اور نصب بھی جائز ہے۔ مصحف ابی بن کعب ؓ میں ہے (آیت) ” وان کان ذو عسرۃ “ اس کا معنی کی بنا پر ” کہ اگر مطلوب (مقروض) تنگ دست ہو اور اعمش نے ” وان کان معسرا فنظرۃ “ پڑھا ہے۔ ابو عمر والدانی نے احمد بن موسیٰ سے روایت کیا ہے اور اسی طرح حضرت ابی بن کعب ؓ کے مصحف میں ہے، نحاس، مکی اور نقاچ نے کہا ہے : اس قرآت پر آیت کا لفظ اہل ربا کے ساتھ مختص ہوجائیگا اور جمہور نے ذو پڑھا ہے ان کی قرات کے مطابق یہ آیت ان تمام کے بارے میں عام ہے جن پر قرض ہو اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔
اور مہدوی نے بیان کیا ہے کہ مصحف عثمان ؓ میں ” فان کا ذو عسرۃ “۔ فا کے ساتھ ہے اور معتمر نے حجاج الوراق سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا مصحف عثمان ؓ میں ” وان کان ذا عسرۃ “ ہے، اسے نحاس نے ذکر کیا ہے اور جماعت کی قرات نظرۃ ظا کے کسرہ کے ساتھ ہے اور مجاہد، ابو رجا اور حسن نے ” فنظرۃ “ ظاء کو سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ بنی تمیم کی لغت ہے اور وہی ہیں جو کہتے ہیں فی، کرم زید ‘ بمعنی کرم زید اور وہ کہتے ہیں کبد بمعنی کبد، اور اکیلے نافع نے میسرۃ سین کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور جمہور نے اسے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔
نحاس نے حضرت مجاہد اور حضرت عطا سے ” فناظرہ الی میسر ھی یعنی صیغہ امر اور میسر میں سین کو ضمہ، راء کو کسرہ اور درج کلام میں یاء کو ثابت رکھتے ہوئے بیان کیا ہے اور ” فناظرۃ “ بھی پڑھا گیا ہے۔ ابو حاتم نے کہا ہے : فناظرۃ “ جائز نہیں ہے، اور سورة النمل میں ہے، کیونکہ وہ ایک عورت ہے جس نے اس کے ساتھ اپنی ذات کے بارے کلام کیا ہے۔ یہ ” نظرت تنظر فھی ناظرۃ “ سے ہے اور جو سورة البقرہ میں ہے وہ التاخیر بمعنی مہلت دینا سے ہے۔ یہ تیرے اس قول سے ہے۔ انظرتک بالدین، یعنی میں نے تیرا قرض موخر کردیا ہے اور اسی سے یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
(آیت) ” فانظرنی الی یوم یبعثون “۔ (الحجر)
ترجمہ : پھر مہلت دے مجھے اس دن تک جب مردے (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے۔
ابو اسحاق الزجاج نے اسے جائز قرار دیا ہے اور کہا ہے : یہ مصادر کے اسماء میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :
(آیت) ” لیس لوقعتھا کاذبۃ “ (واقعہ)
ترجمہ : نہیں ہوگا جب یہ برپا ہوگی (اسے) کوئی جھٹلانے والا۔
اور اسی طرح یہ ارشاد ہے۔
(آیت) ” تظن ان یفعل بھا فاقرہ “۔ (القیامہ)
ترجمہ : خیال کرتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ سلوک ہوگا۔
اور اسی طرح خائنۃ الاعین وغیرہ ہے۔
مسئلہ نمبر : (8) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وان تصدقوا “۔ یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر خیر ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ کے ساتھ تنگدست پر صدقہ کرنے کو مستحب قرار دیا ہے اور اسے مہلت دے کر اسے بہتر بنا دیا ہے، سدی، ابن زید اور ضحاک نے یہی کہا ہے۔
اور علامہ طبری نے کہا ہے اور دوسروں نے کہا ہے : آیت کا معنی یہ ہے کہ تمہارا غنی اور فقیر پر صدقہ کرنا تمہارے لئے بہتر ہے اور پہلا قول صحیح ہے اور آیت میں غنی داخل نہیں ہے۔
مسئلہ نمبر : (9) ابو جعفر طحاوی (رح) نے حضرت بریدہ بن خصیب ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس نے تنگدست مقروض کو مہلت دی اس کے لئے ہر دن کے عوض صدقہ (کا ثواب) ہے “ پھر میں نے عرض کی (کیا) ہر دن کے عوض اس کی مثل صدقہ (کرنے کا ثواب) ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” ہر دن کے عوض صدقہ ہیں جب تک قرض کی ادائیگی کا وقت نہ آپہنچے اور ادائیگی کا وقت آجانے کے بعد اگر اس نے اسے مؤخر کردیا تو اس کے لئے ہر دن کے عوض اس کی مثل صدقہ (کرنے کا ثواب) ہے۔ “
اور مسلم نے حضرت ابو مسعود سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ ” تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کا محاسبہ کیا گیا تو اس کے لئے خیر اور نیکی میں سے کوئی شے نہ پائی گئی سوائے اس کے کہ وہ لوگوں کے ساتھ معاملات کرتا تھا اور خوشحال تھا تو وہ اپنے غلاموں کو حکم دیتا تھا کہ وہ تنگدست سے چشم پوشی کریں، اسے معاف کریں آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا : ہم اس سے زیادہ اس کا حق رکھتے ہیں کہ ہم اسے معاف کردیں۔ “
حضرت ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے مقروض کو تلاش کیا تو وہ آپ سے چھپ گیا پھر آپ نے اسے پالیا تو اس نے کہا : بلاشبہ میں تنگدست ہوں۔ آپ نے پوچھا : کیا اللہ تعالیٰ کی قسم، اس نے کہا : (ہاں) اللہ کی قسم، آپ نے بیان کیا : بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ بیان فرماتے ہوئے سنا ہے : من سرہ ان ینجیہ اللہ من کرب یوم القیامۃ فلینفس عن معسر اویضع عنہ (جسے یہ شے خوش کرے کہ اللہ تعالیٰ اسے یوم قیامت کی تکالیف سے نجات عطا فرمائے تو اسے چاہیے کہ وہ تنگدست مقروض کو مہلت دے یا اس سے قرض بالکل ساقط کردے (یعنی معاف کر دے)
ابو الیسر الطویل کی حدیث میں ہے اور ان کا نام کعب بن عمرو ہے، کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس نے کسی تنگدست کو مہلت دی یا اس سے قرض ساقط کردیا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے (عرش کے) سایہ میں جگہ عطا فرمائے گا۔ ’ من انظر معسر او وضع عنہ اظلہ اللہ فی ظلہ “ ان احادیث میں اس کے بارے ترغیب موجود ہیں جس کے بارے نص بیان کی گئی ہے اور حضرت ابو قتادہ ؓ کی حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ قرض کا مالک اپنے مقروض کی تنگدستی کا علم رکھتا ہو یا اس کا گمان ہو تو اس پر اس کا مطالبہ حرام ہے، اگرچہ حاکم کے پاس اس کی تنگدستی ثابت نہ بھی ہو۔
اور انظار المعسر کا معنی ہے اسے مہلت دینا یہاں تک کہ وہخوشحال ہوجائے اور الوضع عنہ سے مراد اس کے ذمہ سے قرض کو ساقط کرنا ہے اور دونوں معنوں کو ابو الیسر نے اپنے مقروض کے لئے اس طرح جمع کیا کہ اس کے بارے تحریر مٹا دی اور اسے کہہ دیا : اگر تو ادائیگی کی وسعت پائے تو تو اسے ادا کر دے ورنہ تو بری الذمہ ہے۔
Ayah 2:281آیت نمبر : 281۔
کہا گیا ہے : بیشک یہ آیت حضور نبی کریم ﷺ کے وصال سے نوراتیں قبل نازل ہوئی پھر اس کے بعد کوئی شے نازل نہ ہوئی، ابن جریج نے یہی کہا ہے، ابن جبیر اور مقاتل نے کہا ہے : سات راتیں پہلے نازل ہوئی اور تین راتوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور یہ بھی روایت ہے کہ یہ آیت آپ ﷺ کے وصال سے تین ساعتیں قبل نازل ہوئی اور آپ ﷺ نے فرمایا : ” میرے پاس حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) آئے اور کہا اسے دوسواسی نمبر آیت کے بعد رکھ دو ۔ “
میں (مفسر) کہتا ہوں کہ حضرت ابی بن کعب، حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت قتادہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے روایت ہے کہ آخر میں جو آیت نازل ہوئی وہ یہ ہے ؛ (آیت) ” لقد جآء کم رسول من انفسکم “ الی آخر الآیۃ۔ اور پہلا قول زیادہ معروف، بہت زیادہ اصح اور زیادہ مشہور ہے، اور اسے ابو صالح نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا ہے : قرآن کریم میں سے جو آخر میں نازل ہوا وہ یہ آیت ہے : (آیت) ” واتقوا یوم ترجعون فیہ الی اللہ ثم توفی کل نفس ماکسبت وھم لا یظلمون (281) اور حضرت جبریل امین (علیہ السلام) نے حضور نبی مکرم ﷺ کو کہا : اے محمد ! ﷺ اسے سورة البقرہ میں دو سو اسی آیت کے آخر میں رکھو “۔ اسے ابوبکر انباری نے ” کتاب الرد “ میں ذکر کیا ہے، اور یہی حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے کہ یہ آیت آخر میں نازل ہوئی، اور حضور نبی مکرم ﷺ اس کے بعد اکیس دن تک باحیات رہے، اس کا بیان سورة اذا جآء نصر اللہ والفتح “۔ کے آخر میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اور یہ آیت تمام لوگوں کے لئے نصیحت ہے اور ایسا حکم ہے جو ہر انسان کے ساتھ خاص ہے اور یوما مفعول ہونے کی بنا پر منصوب ہے نہ کہ ظرف ہونے کی بناء پر (آیت) ” ترجعون فیہ الی اللہ “ یہ اس کی صفت ہے۔
ابوعمرو نے اسے تا کے فتحہ اور جیم کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی کی مثل یہ ارشاد ہے : (آیت) ” ان الینا ایابھم “۔ (الغاشیہ) (بےشک انہیں (آخر) ہمارے پاس ہی لوٹ کر آنا ہے) اور حضرت ابی ؓ کی قرات پر قیاس کرتے ہوئے یوما تصیرون فیہ الی اللہ (یعنی وہ دن جس میں تم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹو گے) اور باقیوں نے اسے تا کے ضمہ اور جیم کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ مثلا،
(آیت) ” ردوا الی اللہ “۔ (انعام : 62)
ترجمہ ؛ پھر لوٹائیں جائیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف۔
(آیت) ” ولئن رددت لی ربی “۔
ترجمہ : اور اگر مجھے اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا۔
اور یہ حضرت عبداللہ ؓ کی قرات کے اعتبار سے ہے۔ یوما تردون فیہ الی اللہ (یعنی وہ دن جس میں تم اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤگے۔
اور حسن نے یرجعون “ یا کے ساھ پڑھا ہے یہ اس معنی کی بنا پر ہے کہ تمام لوگ لوٹائیں جائیں گے۔
ابن جنی نے کہا ہے : گویا اللہ تعالیٰ نے مومنین کے ساتھ اس بنا پر نرمی اور مہربانی فرمائی کے وہ ان کی طرف رجعت کے ذکر کے ساتھ متوجہ ہوا، کیونکہ یہ ان میں سے ہے جس کے ساتھ دل پھٹنے لگتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا : (آیت) ” واتقوا یوما “۔ پھر رجعت کے ذکر میں ان کے ساتھ نرمی فرماتے ہوئے غیب کی طرف رجوع فرمایا اور جمہور علماء نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ دن جس سے ڈرایا گیا ہے یہ قیامت قائم ہونے، حساب و کتاب اور پوری پوری جزا ملنے کا دن ہے، ایک قوم نے کہا ہے : اس سے مراد موت کا دن ہے۔
ابن عطیہ نے کہا ہے : آیت کے الفاظ کے حکم کے مطابق پہلا قول زیادہ صحیح ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد : (آیت) ” الی اللہ “ میں مضاف محذوف ہے، اس کی تقدیر عبارت ہے الی حکم اللہ وفصل قضائہ (یعنی تم لوٹائے جاؤ گے اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی تقدیر کے فیصلے کی طرف) وھم یعنی جمع ضمیر کل کے معنی پر محمول ہے نہ کہ لفظ پر، مگر حسن کی قرات میں یرجون ہے تو اس کے مطابق وھم میں ضمیر یرجعون میں جمع ضمیر کی طرف لوٹ رہی ہے، اور اس آیت میں اس پر نص ہے کہ ثواب اور عقاب کس اعمال کے متعلق ہیں اور یہ جبریہ کا رد ہے اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔