Ayah 2:204اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) ارشاد باری تعالیٰ ہے : (آیت) ” ومن الناس من یعجبک قولہ “ جب ان لوگوں کا ذکر کیا جن کی ہمتیں اور توانائیاں دنیا پر ہی محدود ومحصور ہوگئیں (یعنی ان کی صلاحتیں اور کو شیش فقط دنیا کے لئے ہی صرف ہوئیں) (یعنی) اس ارشاد گرامی میں (آیت) ” فمن الناس من یقول ربنا اتنا فی الدنیا “۔ (بقرہ : 200) اور ان مومنین کا ذکر کیا جنہوں نے دونوں جہان کی خیر اور منفعت کا سوال کیا، تو اب منافقین کا ذکر کیا، کیونکہ انہوں نے ایمان کو ظاہر کیا اور کفر کو چھپا کر رکھا۔
سدی وغیرہ مفسرین نے کہا ہے : یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کا نام ابی تھا اور اخنس اس کا لقب تھا۔ اس کا یہ لقب اس لئے تھا کیونکہ وہ غزوہ بدر کے دن اپنے حلفاء میں سے بنی زہرہ کے تین سو افراد کو ساتھ لے کر رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ کرنے سے پیچھے ہٹ گیا تھا (اور لشکر کفار سے واپس چلا گیا تھا) جیسا کہ اس کی تفصیل سورة آل عمران میں آئے گی۔ وہ انتہائی شیریں بیان اور حسین المنظر آدمی تھا۔ سو اس کے بعد وہ حضور نبی مکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور اپنا اسلام ظاہر کیا اور یہ کہا : اللہ تعالیٰ جانتا ہے میں اپنے قول میں سچا ہوں، پھر اس کے بعد بھاگ گیا۔ اس کا گزر مسلمانوں میں سے ایک قوم کی کھیتی کے پاس سے ہوا اور وہاں ساتھ گدھے بھی تھے، تو اس نے کھیتی کو جلا دیا اور گدھوں کی کونچیں کاٹ دیں۔ مہدوی نے کہا ہے : اسی کے بارے میں یہ آیات بھی نازل ہوئیں۔ (آیت) ” ولا تطع کل حلاف مھین، ھماز مشآء بنمیم، (قلم) (اور نہ بات مانیے کسی (جھوٹی) قسمیں کھانے والے ذلیل شخص کی جو بہت نکتہ چین، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے) اور (آیت) ” ویل لکل ھمزۃ لمزہ “ ، (ہمزہ) (اور ہلاکت ہے ہر اس شخص کے لئے جو (روبرو) طغنے دیتا ہے (پیٹھ پیچھے) عیب جوئی کرتا ہے) ابن عطیہ نے کہا ہے : کبھی بھی یہ ثابت نہیں ہوا کہ اخنس نے اسلام قبول کیا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ آیت منافقین کی ایک قوم کے بارے نازل ہوئی، انہوں نے ان لوگوں کے بارے میں باتیں کیں جو غزوہ رجیع میں شہید کردیے گئے یعنی حضرت عاصم بن ثابت اور حضرت خبیب وغیرہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین منافقین نے کہا : ان لوگوں پر افسوس ہے کہ نہ یہ اپنے گھروں میں بیٹھے اور نہ ہی یہ اپنے صاحب (مراد حضور نبی کریم ﷺ ہیں) کا پیغام پہنچا سکے۔ پس یہ آیت منافقین کی صفات کے بارے میں نازل ہوئی۔ پھر غزوہ رجیع میں جام شہادت نوش کرنے والوں کا ذکر اس طرح فرمایا :
(آیت) ” ومن الناس من یشری نفسہ البتغآء مرضات اللہ “۔ (بقرہ : 207)
ترجمہ : اور لوگوں میں سے وہ بھی ہے جو بیچ ڈالتا ہے اپنی جان (عزیز) بھی اللہ کی خوشنودیاں حاصل کرنے کے لئے)
حضرت قتادہ، مجاہد اور علماء کی ایک جماعت نے کہا ہے : یہ آیت ہر اس (بندے) کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس کے باطن میں کفر، نفاق، کذب یا اضرار (کسی کو نقصان اور ضرر پہنچانا) چھپا ہو اور وہ اپنی زبان سے اس کے خلاف اظہار کرتا ہو۔ پس یہ آیت عام ہے اور یہ اس حدیث سے مشابہت رکھتی ہے جو ترمذی میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بعض کتب میں ہے : بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک قوم ہوگی جن کی زبانیں شہد سے زیادہ شیریں ہوگی اور ان کے دل مبصر سے زیادہ کڑوے ہوں گے۔ وہ نرمی سے بھیڑوں کے چمڑے لوگوں کو پہنائیں گے اور وہ دین کے عوض خریدیں گے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : کیا وہ مجھے دھوکہ دیتے ہیں اور وہ مجھ پر جرات کرتے ہیں ؟ مجھے قسم ہے میں ضرور بضرور ان پر ایسا فتنہ مسلط کر دوں گا جو ان میں سے حلیم کو حیران و ششدر کر چھوڑے گا۔ (1) (المحرر الوجیز، زیر آیت ہذہ)
ارشاد باری تعالیٰ (آیت) ” ویشھد اللہ “ کا معنی یہ ہے کہ وہ کہتا ہے : اللہ تعالیٰ جانتا ہے بلاشبہ میں حق کہہ رہا ہوں، ابن محیصن نے اسے (آیت) ” ویشھد اللہ علی ما فی قلبہ “۔ یعنی یشھد میں یا اور ہا کو مفتوح اور لفظ اللہ کو مرفوع پڑھا ہے۔ اور معنی یہ ہے ” اس کی بات تجھے پسند آئی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کے قول کے خلاف کو جانتا ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔
(آیت) ” واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون “۔ (المنافقون : 1)
ترجمہ : لیکن اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ منافق قطعی جھوٹے ہیں)
حضرت ابن عباس ؓ کی قرات (آیت) ” واللہ یشھدعلی مافی قلبہ “ اور جماعت کی قرات مذمت میں زیادہ بلیغ ہے کیونکہ اس نے اپنے نفس پر اچھا کلام لازم کرنے کی قوت رکھی اور پھر اس کے باطن سے اس کے خلاف ظاہر ہوا۔ اور حضرت ابی اور حضرت ابن مسعود ؓ نے (آیت) ” ویستشھد اللہ علی مافی قلبہ “ پڑھا ہے۔ اور یہ جمہور کی قرات کی دلیل ہے۔
مسئلہ نمبر : (2) ہمارے علماء نے کہا ہے کہ اس آیت میں ان امور کے بارے میں انتہائی احتیاط برتنے پر دلیل اور تنبیہ ہے جو دین اور دنیوں امور سے متعلق ہیں اور گواہوں اور قاضیوں کے احوال کے بارے میں طلب برات پر دلیل ہے، بلاشبہ حاکم لوگوں کے ظاہر احوال پر اور جو کچھ ان کے ایمان اور مصالح میں سے ظاہر ہو اس پر عمل نہیں کرے گا یہاں تک کہ وہ ان کے باطن کے بارے میں بحث کرلے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے احوال بیان فرما دیے ہیں۔ اور بلاشبہ ان میں سے ایسے بھی ہیں جو بظاہر انتہائی خوبصورت اور حسین بات کرتے ہیں حالانکہ وہ نیت قبیح کرتے ہیں (یعنی ان کی نیت میں فتور اور برائی ہوتی ہے۔ )
پس اگر کہا جائے کہ حضور ﷺ کا یہ ارشاد گرامی اس کے معارض آتا ہے : ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں کے ساتھ قتال کروں یہاں تک کہ وہ کہیں ” لا الہ الا اللہ “ الحدیث : (1) (بخاری شریف : باب قتل من ابی قبول الفرائض الخ :، حدیث نمبر 6413، ضیاء القرآن کیشنز)
اور آپ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی اس کے خلاف ہے : ” میں اس کے لئے اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو میں سنتا ہوں “۔ (2) (بخاری شریف : باب اذا اغصب جاریۃ الخ :، حدیث نمبر 6452، ضیاء القرآن کیشنز) تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس طرح ابتدائے اسلام میں تھا جہاں کا اسلام ہی ان کی سلامتی کا باعث تھا لیکن جب فساد عام ہوگیا تو پھر یہ حکم نہ رہا۔ حضرت ابن عربی (رح) نے یہی کہا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : صحیح بات یہ ہے کہ ظاہر کے مطابق عمل کیا جائے گا یہاں تک کہ اس کا خلاف ظاہر ہوجائے۔ کیونکہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ارشاد فرمایا : صحیح بخاری میں ہے : اے لوگو ! بلاشبہ وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے، بلاشبہ اب ہم تمہیں تمہارے ان اعمال سے پکڑیں گے جو ہمارے لئے ظاہر ہوں گے۔ پس جس نے ہماے لئے خیر اور بھلائی کو ظاہر کیا تو ہم اسے امن عطا کریں گے اور ہم اسے قرب عطا کریں گے۔ اس کے اور پوشیدہ چیزوں میں سے کوئی شے ہمارے لئے (باعث تشویش) نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اس کی پوشیدہ چیزوں کے بارے میں اس کا محاسبہ فرمائے گا اور جس نے ہمارے لئے برائی کو ظاہر کیا، تو ہم نہ اسے امان دیں گے اور نہ اس کی تصدیق کریں گے، اگرچہ وہ کہے گا کہ اس کے دل اور ارادہ میں نیکی اور اچھائی ہے۔ (3) (بخاری شریف : باب الشھداء العدول، :، حدیث نمبر 2447، ضیاء القرآن کیشنز)
مسئلہ نمبر : (3) ارشاد باری تعالیٰ (آیت) ” وھو الدالخصام “ اس میں ” الد “ سے مراد سخت اور شدید جھگڑا کرنے والا ہے۔ کہا جاتا ہے : ” ھو رجل الدو امراۃ لداء “ (وہ سخت جھگڑالو مرد اور وہ سخت جھگڑالو عورت ہے۔ ) وھم اھل لدد اور وہ سخت جھگڑا کرنے والے ہیں۔ ” وقد لددت “ اس میں دال مکسور ہے (تو نے جھگڑا کیا) ” تلد “ یہ عین کلمہ کے فتح کے ساتھ ہے۔ ” لددا “ (یعنی یہ باب سمع یسمع ہے۔ ) یعنی تو سخت جھگڑالو ہوگیا۔ اور لددتہ ” الدہ “ یعنی پہلے میں دال مفتوح ہے اور دوسرے میں مرفوع ہے۔ یہ تب کہا جائے گا جب تو کسی سے جھگڑا کرے اور تو اس پر غالب آجائے۔ اور الا لدیہ الدیدین سے مشتق ہے۔ اس سے مراد گردن کی دونوں سطحیں ہیں یعنی جھگڑا میں جس جانب سے بھی پکڑ لیاجائے غلبہ پالیا جاتا ہے۔
شاعر کا قول ہے :
والد ذی حنیق علی کا نیا تغلی عداوۃ صدرہ فی مرجل۔
وہ بڑی شدت اور سختی کے ساتھ میرے گلے کو دبانے والا ہے، گویا کہ اس کے سینے کی عداوت ہنڈیا میں کھول رہی ہے۔
ایک دوسرے شاعر نے کہا :
ان تحت التراب عزما وحزما وخصیما الد ذامغلاق۔
اس میں بھی خصیما الد سخت جھگڑالو کے معنی میں ذکر کیا گیا ہے۔
آیت میں الخصام خاصم کا مصدر ہے۔ امام خلیل نے یہی کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ خصم کی جمع ہے۔ یہ قول زجاج کا ہے، جیسا کہ کلب کی جمع کلاب، صعب کی جمع صعاب اور ضخم کی جمع ضخام ہے۔ اور اس کا معنی ہے جھگڑا کرنے والوں میں سے سخت اور شدید جھگڑا کرنے والا، یعنی سخت جھگڑالو، جب وہ تجھ سے بات کرے، اور تجھ پر بات دہرائے اور تو اس کے کلام کو خوبصورت اور حسین دیکھے درآنحالیکہ اس کے باطن میں باطل ہو، یہ (معنی) اس پر دلالت کرتا ہے کہ جھگڑا کرنا جائز نہیں ہوتا مگر ایسے سبب سے جس کا ظاہر اور باطن برابر ہو۔ اور صحیح مسلم (1) (بخاری شریف : قول اللہ تعالیٰ وھو الدالخصام ؛ (بخاری شریف : قول اللہ تعالیٰ وھو الدالخصام، حدیث نمبر 2277، ضیاء القرآن کیشنز) میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں سے مبغوص ترین آدمی سخت جھگڑا کرنے والا ہے۔ “
Ayah 2:205ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” واذا تولی سعی فی الارض لیفسد فیھا “۔ کے تحت کہا گیا ہے کہ تولی اور سعی فعل قلب میں سے ہیں۔ پس تولی ‘ ضل وغضب وانف فی نفسہ “ کے معنی میں آتا ہے۔ یعنی وہ گمراہ ہوگیا، غصے ہوگیا اور اس نے اپنے دل میں اسے ناپسند کیا۔ اور سعی کا معنی ہے اس نے اپنے حیلہ اور ارادہ کے ساتھ اسلام اور اہل اسلام پر مصائب لانے کی کوشش کی۔ یہ ابن جریج وغیرہ سے منقول ہے۔
اور ایک قول یہ ہے کہ یہ دونوں آدمی کے فعل ہیں۔ پس تولیٰ بمعنی ادبر (پیٹھ پھیرنا) آتا ہے، یعنی اے محمد ﷺ اس نے پیٹھ پھیری اور وہ آپ سے چلا گیا اور سعی کا معنی ہے : اور وہ اپنے قدموں کے ساتھ چلا اور اس نے راستہ طے گیا اور اسے پامال کیا۔
حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے مروی ہے : دونوں کوششیں فساد ہیں کہا جاتا ہے : سعی الرجل یسعی سعیا۔ یعنی آدمی نے دوڑ لگائی۔ اور اسی طرح جب وہ کام کرے اور کچھ کمائے تو یہ کہا جاتا ہے : فلاں یسعی علی عیالہ “ یعنی فلاں اپنے گھر والوں کے نفع کے لئے کام کرتا ہے۔
اور ارشاد باری تعالیٰ (آیت) ” ویھلک “ یہ لیفسد “ پر معطوف ہے۔ اور حضرت ابی ؓ کی قرات میں ” ولیھلک “ ہے۔ حسن اور قتادہ نے اسے ویھلک رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس کے رفع کے بارے میں کئی اقوال ہیں۔ اس کا عطف ” یعجبک “ پر ہے (اس لئے مرفوع ہے) اور ابو حاتم نے کہا ہے : یہ سعی پر معطوف ہے، کیونکہ اس کا معنی ہے ” وہ سرتوڑ کوشش کرتا ہے اور تباہ کرتا ہے “۔ اور ابو اسحاق نے کہا ہے : یہ اصل عبارت (آیت) ” وھو یھلک ہے یعنی وہ تباہ کرتا ہے۔ اور ابن کثیر سے ” ویھلک “ یعنی یاء کے فتحہ اور کاف کے ضمہ کے ساتھ مروی ہے۔
اور (آیت) ” الحرث والنسل “ ، یھلک کے سبب دونوں مرفوع ہیں۔ اور یہی حسن، ابن ابی اسحاق، ابو حیوہ اور ابن محیصن کی قرات ہے۔ اور عبدالوارث نے اسے ابو عمرو سے روایت کیا ہے۔
اور ایک قوم نے اسے ” ویھلک “ یعنی یا اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور الحرث کو رفع دیا ہے۔ اور لغوی طور پر ” ھلک یھلک “ یہ رکن یرکن “ ، ابی یابی، سلی یسلی، قلی یقلی، اور ان کے مشابہ افعال کی مثل ہے۔ اور آیت میں مراد اخنس کا کھیتی کو جلانا اور گدھوں کو قتل کرنا ہے۔ یہ علامہ طبری کا قول ہے۔ اور ان کے علاوہ دوسرے مفسرین نے کہا : لیکن اب یہ آیت تمام لوگوں کے لئے عام ہوگئی ہے۔ پس جو بھی اس کے عمل کی طرح عمل کرے گا وہی اس لعنت اور سزا کا مستحق ہوگا۔
بعض علماء نے کہا ہے : بیشک جو گدھے کو قتل کرتا ہے یا اناج کے ڈھیر کو جلاتا ہے وہ مستوجب ملامت ہے اور یوم قیامت تک اسے یہ عیب لاحق رہے گا۔
مجاہد نے کہا ہے : مراد یہ ہے کہ ظالم زمین میں فساد برپا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بارش کو روک لیتا ہے اور وہ کھیتی اور نسل (انسانی) کو ہلاک کردیتا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : الحرث (کھیتی) سے مراد عورتیں ہیں اور النسل سے مراد اولاد ہے۔ اور یہ اس طرح ہے کیونکہ نفاق متفرق اور متضاد گفتگو اور قتال کے وقوع تک پہنچاتا ہے اور اسی میں مخلوق کی ہلاکت ہے۔
زجاج نے اس کا معنی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ السعی فی الارض کا معنی ہے سرعت اور تیزی کے ساتھ چلنا۔ اور یہ لوگوں کے درمیان (فساد کی) انگیخت اور فتنہ برپا کرنے سے عبارت ہے۔ واللہ اعلم۔
اور حدیث طیبہ میں ہے : ” بیشک لوگ جب ظالم کو دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے اللہ تعالیٰ تمام کو اپنی جانب سے دی جانے والی سزا میں شامل کرلے “۔ عنقریب اس کا بیان آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے : (آیت) ” الحرث والنسل “ لغۃ الحرث ‘ کا معنی شق کرنا اور پھاڑنا ہے۔ اور اسی سے المحراث ہے یعنی وہ آلہ (ہل) جس کے ساتھ زمین کو پھاڑا جاتا ہے۔ اور الحرث سے مراد مال کمانا اور اسے جمع کرنا ہے۔ اور حدیث طیبہ میں ہے۔ احرث لدنیاک کا نک تعیش ابدا “۔ تو اپنی دنیوی زندگی کے لئے مال کما اور جمع کر گویا تو ہمیشہ زندہ رہے گا۔ (یعنی ایسا نہ ہو کہ آدمی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور پھر بھیک مانگنے پر مجبور ہوجائے یا پھر حالات کی تلخیوں کے پیش نظر زندگی کی بازی ہار دے۔ واللہ اعلم۔
اور الحرث کا معنی کھیتی ہے اور الحراث “ کھیتی کاشت کرنے والے کو کہتے ہیں۔ تحقیق حرث واحترث یہ زرع اور ازدرع کی مثل ہے۔ اور کہا جاتا ہے : ” احرث القرآن، ای ادرسہ “ یعنی قرآن پڑھانا۔ اور ” حرشت الناقۃ واحرش تھا “۔ یعنی میں اس پر سفر کرتا رہا یہاں تک کہ وہ کمزور ہوگئی۔ اور ” حرشت النار ای حرکتھا “ میں نے آگ کو حرکت دی اور المحراث اس لکڑ کی کو کہا جاتا ہے جس کے ساتھ تنور کی آگ کو ہلایا اور حرکت دی جاتی ہے۔ جوہری سے مروی ہے۔ کہ النسل سے مراد وہ اولاد ہے جو کسی بھی مؤنث سے پیدا ہو۔ اس کا اصل معنی الخروج (نکلنا) اور السقوط (گرنا) ہے اور اسی سے ہے : ” نسل الشعروریش الطائر “۔ یعنی بال اور پرندے کے پر گر گئے۔ اس سے مستقبل کا صیغہ ” ینسل “ آتا ہے اسی کے مطابق رب کریم کا ارشاد ہے :
(آیت) ” الی ربھم ینسلون “ (یسین : 51)
ترجمہ : اپنے پروردگار کی طرف تیزی سے جانے لگیں گے۔
اسی طرح یہ ارشاد بھی ہے۔
’ (آیت) ” من کل حدب ینسلون “۔ (الانبیائ : 96)
ترجمہ : اور وہ ہر بلندی سے بڑی تیزی کے ساتھ نیچے اترنے لگیں گے)
اور امرؤالقیس کا قول ہے :
فسلی ثیابی من ثیابک تنسل :
(پس تو میرے کپڑے اپنے کپڑوں سے نکال دے تو وہ نکل جائیں گے۔ )
میں (مفسر) کہتا ہوں : آیت زمین میں ہل چلانے اور اس میں فصل کاشت کرنے پر دلالت کرتی ہے اور زمین میں درخت لگانے پر۔ یہ زراعت اور کھیتی باڑی پر ابھارنے کے لئے ہے اور طلب النسل سے مراد حیوانوں اور جانداروں کی نشوونما اور ان کا بڑھنا ہے اور اسی سے انسان کی قوت و طاقت مکمل ہوتی ہے۔ اور یہ ان کا رد ہے جنہوں نے ترک اسباب کا قول کیا ہے۔ عنقریب اسی کتاب میں اس کا بیان آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ :
ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” واللہ لا یحب الفساد “۔ 205۔ عباس بن فضل نے کہا ہے کہ فساد کا معنی خرابی اور بربادی ہے۔ حضرت سعید بن مسیب ؓ نے فرمایا : قطع الدراھم من الفساد فی الارض “ (اس نے زمین میں فساد اور خرابی کے سبب دراہم ختم کردیے۔ )
اور حضرت عطا نے کہا ہے : ایک آدمی تھا جسے عطا بن منبہ کہا جاتا تھا۔ اس نے جبہ میں احرام باندھا تو حضور نبی کریم ﷺ نے اسے حکم ارشاد فرمایا کہ وہ اسے اتار دے۔ حضرت قتادہ ؓ نے کہا : میں نے حضرت عطاء ؓ نے کہا بیشک ہم تو سنتے تھے کہ وہ اسے پھاڑ دے، تو حضرت عطاء ؓ نے کہا : (آیت) ” ان اللہ لا یحب الفساد “۔ بیشک اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : آیت اپنے عموم کے سبب ہر فساد اور بربادی کو شامل ہے، چاہے وہ زمین میں ہو یا مال میں یا دین میں اور انشاء اللہ تعالیٰ یہی صحیح ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، زیر آیت ہذہ)
یہ بھی کہا گیا ہے کہ (آیت) ” لایحب الفساد “ کا معنی ہے وہ اسے اہل اصلاح (اصلاح کرنے والوں) سے پسند نہیں کرتا یا وہ اسے دین کے اعتبار سے پسند نہیں کرتا۔ اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ معنی یہ ہو کہ وہ اس کا حکم نہیں دیتا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 2:206یہ کافر اور منافق کی صفت ہے جو اپنے بارے میں خود پسندی اور تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے اور مومن کے لئے یہ ناپسندیدہ مکروہ ہے کہ گناہ اسے ان میں سے کسی میں واقع کر دے۔
حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا ہے : کسی آدمی کے لئے بطور گناہ اتنا کافی ہے کہ اسے کوئی دوسرا بھائی کہے : ” تم اللہ سے ڈرو “ تو وہ آگے سے یہ کہہ دے : تجھ پر اپنے نفس کے بارے میں وہی لازم ہے جس کی نصیحت تو مجھے کر رہا ہے۔ (1) (محرر الوجیز، زیر آیت ہذہ)
اور ” العزۃ “ کا معنی قوت اور غلبہ ہے۔ یہ عزہ یعزہ سے مشتق ہے۔ اس کا معنی ہے : وہ اس پر غالب آگیا۔ اور اسی سے (آیت) ” وعزنی فی الخطاب “۔ (ص 92) ہے، یعنی وہ خطاب میں مجھ پر غالب آگیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں ” العزۃ “ کا معنی حمیت ہے۔ اسی کے مطابق شاعر کا قول بھی ہے :
اخذتہ عزۃ من جھلہ فتولی مغضبا فعل الضجر :
اسے اس کی دور جاہلیت کی حمیت نے آلیا، پس اس نے حالت غضب میں تنگی اور نقصان کے فعل کا ارتکاب کیا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہاں ” العزۃ “ کا معنی قوت اور شدت نفس ہے۔ یعنی اس نے اپنی ذات میں قوت و طاقت حاصل کی اور ادھر ہی جھک گیا، پس اسی قوت نے اسے گناہ میں واقع کردیا جبکہ اس نے اسے آلیا اور گناہ کو اس پر لازم کردیا۔
حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے : معنی یہ ہے کہ جب اسے کہا جائے رک جا، ٹھہر جا، تو وہ گناہ کا ارتکاب زیادہ کرتا ہے۔ اور معنی یہ ہے کہ قوت و طاقت نے اسے گناہ پر ابھارا ہے۔
اور یہ قول بھی ہے : قوت و طاقت نے اسے ایسی شے سے پکڑ لیا جو اسے گناہ میں مبتلا کر دے گا۔ یعنی اس نے قوت و طاقت اور زمانہ جاہلیت کی حمیت کے سبب کفر کا ارتکاب کیا ہے۔ اور اسی کی مثل یہ بھی ہے۔ (آیت) ” بل الذیں کفروا فی عزۃ وشقاق “۔ (ص) (لیکن یہ کفار تکبر اور مخالفت میں (اندھے ہوگئے) ہیں۔ )
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” بالاثم “ میں بابمعنی لام ہے۔ یعنی عزت وحمیت نے اسے وعظ ونصیحت قبول کرنے سے پکڑ لیا، اس گناہ کے سبب جو اس کے دل میں تھا۔ اور وہ نفاق ہے۔ اسی کے مطابق عشرہ کا قول ہے جس میں وہ ناقہ کے پسینے کی صفت بیان کرتا ہے :
وکان ربا او کحیلا معقدا حش الوقود بہ جوانب قمقم :
تو یہ بمعنی حش الوقودلہ ہے۔ یعنی بابمعنی لام ہے۔
اور یہ قول بھی ہے کہ بالمعنی مع ہے۔ یعنی حمیت نے اسے گناہ کے ساتھ پکڑ لیا۔ بس باکا معنی تاویلات کے مطابق مختلف ہوتا رہتا ہے۔
یہ ذکر کیا گیا ہے کہ کسی یہودی کا ہارون الرشید کے پاس کچھ کام تھا، وہ اس کے دروازے پر سال بھر آتا رہا لیکن وہ اپنا نہ کرسکا، پس ایک دن وہ دروازے پر کھڑا تھا، جب ہارون الرشید نکلا تو وہ دوڑ کر اس کے سامنے کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا : اے امیر المؤمنین ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ تو ہارون الرشید اپنی سواری سے نیچے اترا اور سجدے میں گرگیا ، پس جب اس نے اپنا سر اٹھایا تو اس کے کام کے بارے حکم دیا سو وہ کردیا گیا۔ جب وہ لوٹ کر آیا تو اسے کہا گیا : اے امیر المؤمنین ! تو ایک یہودی کے کہنے پر اپنی سواری سے اترا ہے ؟ اس نے جواب دیا : نہیں۔ بلکہ مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد یاد آیا :
(آیت) ” واذا قیل لہ اتق اللہ اخذتہ العزۃ بالاثم فحسبہ جھنم ‘ ولبئس المھاد “۔ (45 )
” حسبہ “ کا معنی ہے کہ اسے بطور سزا اور عذاب جہنم کافی ہے۔ جیسا کہ تو کسی آدمی کو کہتا ہے، کفاک ماحل بک تجھے وہی کافی ہے جو تجھے پیش آیا ہے اور انت تستعظم وتعظم علیہ ماحل تو عظمت طلب کرتا اس پر عظمت دی جائے گی جو تجھے پیش آیا۔ اور المھاد، المھد کی جمع ہے۔ اس سے مراد وہ جگہ ہے جو سونے کے لئے تیار کی جائے۔ اور اسی سے مھدالصبی (بچے کا جھولا) بھی ہے۔ اور جہنم کو مہاد کا نام دیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ کفار کے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس لئے کہ ان کے لیے مہاد کے بدلے جہنم ہے۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ (آیت) فبشرھم بعذاب الیم “۔ (آل عمران) اور اسی کی مثل عرب کلام میں ان کا یہ قول ہے : تحیۃ بینھم ضرب وجیع “ (ان کے درمیان تحیہ درد ناک ضرب لگانا ہے)
Ayah 2:207اس آیت میں ” ابتغآء مفعول لاجلہ ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔ جب منافقین کی کارکردگی کا ذکر کیا تو بعد میں مومینن کی کارکردگی کا ذکر فرمایا۔
کہا گیا ہے کہ یہ آیت حضرت صہیب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ کیونکہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کرکے آئے تو قریش کے کچھ لوگوں نے ان کا پیچھا اور تعاقب کیا۔ تو وہ اپنی سواری سے نیچے اتر پڑے اور ترکش میں موجود تمام تیر نکال لئے، اور اپنی قوس (تیرکمان) پکڑ لی اور فرمایا : تم جانتے ہو میں تم سے زیادہ تیر چلانے میں ماہر ہوں، اللہ تعالیٰ کی قسم ! تم مجھ تک نہیں پہنچ سکو گے یہاں کہ میں اپنے ترکش کے سارے تیر پھینک دوں۔ بعد ازاں میں اپنی تلوار سے لڑوں گا جب تک اس کی کوئی شے میرے ہاتھ میں باقی رہی پھر اس کے بعد تم جو چاہو کرو۔ تو انہوں نے کہا : ہم تجھے نہیں چھوڑ سکتے کہ تم غنا اور خوشحالی کی حالت میں ہم سے چلے جاؤ حالانکہ تم ہمارے پاس محتاج بن کر افلاس کی حالت میں آئے تھے۔ لیکن اگر تم مکہ میں موجود اپنے مال پر ہماری راہنمائی کرو تو ہم تمہارا راستہ چھوڑ دیں گے۔ انہوں نے اسی (مال کی) شرط پر آپ سے معاہدہ کیا، تو آپ نے اسے پورا کردیا۔ پس جب رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو یہ آیت نازل ہوئی :
(آیت) ” ومن الناس من یشری نفسہ ابتغآء مرضات اللہ “۔ الآیہ اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا : اے ابو یحییٰ ! نفع بخش سودا کیا ہے اور ان پر یہ (مذکورہ) آیت تلاوت فرمائی۔ اسے رزین نے روایت کیا ہے اور حضرت سعید بن مسیب ؓ نے اسے بیان کیا ہے (1) (تفسیر طبری، جلد 3، صفحہ 591)
اور مفسرین نے کہا ہے : مشرکین نے حضرت صہیب ؓ کو پکڑ لیا اور انہوں نے آپ کو بہت ستایا اور اذیت دی، تو حضرت صہیب ؓ نے انہیں فرمایا : بلاشبہ میں بوڑھا آدمی ہوں، تمہیں کوئی نقصان اور ضرر نہ پہنچے گا، میں تمہارے ساتھ رہوں یا تمہارے سوا کسی اور کے ساتھ، کیا تمہارے لئے (یہ بہتر نہیں) کہ تم میرا مال لے لو اور مجھے اور میرے دین کو چھوڑ دو ؟ تو انہوں نے اس طرح کرلیا اور آپ نے ان پر سواری اور نفقہ کی شرط لگالی تھی (یعنی میں سواری اور اپنے روز مرہ اخراجات کے لئے مناسب اپنے مال سے لے لوں گا) پس وہ مدینہ طیبہ کی طرف نکل پڑے۔ تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر فاروق ؓ ، اور کچھ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ان سے ملے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے انہیں فرمایا : اے ابو یحییٰ تیری بیع نفع بخش ہوئی، تو حضرت صہیب ؓ نے انہیں کہا : ” آپ کی بیع میں تو کبھی خسارہ نہیں ہوتا، سو یہ کیسی کلام ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تیرے بارے میں اس (آیت) نازل فرمائی ہے، پھر آپ نے ان پر یہ آیت پڑھی۔
حضرت حسن ؓ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے ؟ یہ ایک مسلمان کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جو ایک کافر سے ملا اور اسے کہا : تو کہہ ” لا الہ الا اللہ “ پس جب تو نے اسے کہہ لیا، تو تو نے اپنے مال اور اپنی جان کو بچا لیا، لیکن اس نے یہ کلمہ کہنے سے انکار کردیا، تو مسلمان نے اسے کہا : قسم بخدا ! میں ضرور بضرور اپنی جان اللہ تعالیٰ کے لئے بیچ دوں گا۔ چناچہ وہ آگے بڑھا اور اس کے ساتھ قتال کرنے لگا، یہاں تک کہ شہید ہوگیا، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت ایسے آدمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے نیکی کا حکم دیا اور منکر سے روکا۔ اسی کے مطابق حضرت عمر ؓ ، حضرت علی ؓ ، اور حضرت ابن عباس ؓ ، نے اس کی تاویل کی ہے۔ حضرت علی ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے کہ دو آدمی باہم ایک دوسرے سے لڑے۔ یعنی مغیر (تبدیلی لانے والے) نے مفسد ( فساد برپا کرنے والے) کو کہا : تو اللہ تعالیٰ سے ڈر۔ مفسد نے انکار کردیا اور اسے حمیت نے آلیا تو مغیر نے اپنی جان اللہ تعالیٰ سے بیچ ڈالی اور اس کے ساتھ لڑنے لگا، پس دونوں نے ایک دوسرے کو قتل کردیا۔
اور ابو خلیل (رح) نے کہا ہے : حضرت عمر بن خطاب ؓ نے کسی انسان کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا تو حضرت عمر بن خطاب ؓ نے پڑھا : (آیت) ” انا للہ وانا الیہ رجعون “۔ وہ آدمی اٹھا اور نیکی کا حکم دینے لگا اور برائی سے منع کرنے لگا اور خود شہید ہوگیا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ دو آدمیوں نے قاری کی اس آیت کی قرات کے وقت ایک دوسرے کو قتل کردیا، پس آپ نے ان سے اس کے بارے پوچھا تو انہوں نے اس کی یہی تفسیر بیان کی، تو حضرت عمر ؓ نے انہیں فرمایا : اے ابن عباس ! تیرا مال اللہ تعالیٰ کے لئے ہی ہے۔
اور یہ قول بھی ہے کہ یہ آیت اس کے بارے میں نازل ہوئی جو جنگ میں گھس جاتا ہے، ہشام بن عامر قسطنطینہ میں لشکر میں داخل ہوئے اور خوب قتال کیا، یہاں تک کہ شہید کردیے گئے تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) ” ومن الناس من یشری نفسہ ابتغآء مرضات اللہ “۔ اور حضرت ابو ایوب سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ (1) (تفسیر طبری، جلد 3، صفحہ 593)
اور یہ قول بھی ہے کہ یہ آیت غزوہ رجیع کے شہداء کے بارے میں نازل ہوئی اور حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے : وہ مہاجرین وانصار ہیں۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حضرت علی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جبکہ حضور نبی کریم ﷺ نے انہیں اس رات (ہجرت کی رات) اپنے بستر پر آرام کرنے کے لئے فرمایا جبکہ آپ ﷺ غار (ثور) کی طرف تشریف لے گئے تھے۔ اس کا بیان انشاء اللہ تعالیٰ سورة برات میں آئے گا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیت عام ہے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہر جہاد کرنے والے کو شامل ہے یا اپنی ذات کے بارے شہادت کی تمنا کرنے والے کو یا برائی کو تبدیل کرنے والے کو۔ اور اس کا حکم پہلے آچکا ہے جو لشکر پر حملہ آور ہو اور منکر کو تبدیل کرنے والے کا، اس کی شرائط اور اس کے احکام کا ذکر انشاء اللہ تعالیٰ سورة آل عمران میں آئے گا۔
اور ” یشری “ کا معنی یبیع (بیچ ڈالنا) ہے۔ اسی معنی میں یہ ارشاد بھی ہے : (آیت) ” وشروہ بثمن بخس “۔ (یوسف : 20) یعنی انہوں نے آپ کو کھوٹے ثمن کے عوض بیچ ڈالا۔ اور اس کا اصل معنی الا ستبدال (بدلہ میں لینا) ہے۔ اور اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :
(آیت) ” ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسم واموالھم بان لھم الجنۃ “۔ (توبہ : 111)
ترجمہ : یقینا اللہ نے خرید لی ہے ایمانداروں سے ان کی جان اور ان کے مال اس عوض میں کہ ان کے لئے جنت ہے۔ )
اور اسی معنی میں شاعر کا قول بھی ہے :
وان کان ریب الدھر امغاک فی الالی شروا ھذہ الدنیا بجناتہ الخلد :
اور ایک دوسرے شاعر کا قول :
وشریت بردا لیتنی من بعد برد کنت ھامہ :
یہاں برد غلام کا نام ہے۔ ایک اور شاعر نے کہا :
یعطی بھا ثمنا فیمنعھا ویقول صاحبھا الافاشر :
یہاں بیع النفس سے مراد اسے اللہ تعالیٰ کے اوامر (کی اطاعت) کے لئے خرچ کرنا ہے، اور ابتغاء مفعول من اجلہ ہے۔ کسائی نے مرضات تاء پر وقف کیا ہے، اور باقیوں نے ہاء کے ساتھ وقف کیا ہے۔ ابو علی نے کہا ہے : کسائی نے تا کے ساتھ یا تو ان کی لغت پر وقف کیا ہے جو کہتے ہیں طلعت اور علقت۔ اور اسی سے شاعر کا قول بھی ہے :
بل جو زیتاء کظھر الحجفت :
یا پھر اس لئے کہ جب ہی مضاف الیہ کلمہ کے ضمن میں ہے تو پھر تا کو چابت رکھنا ضروری ہے جیسا کہ وہ حالت وصل میں ثابت رہتی ہے، تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ مضاف الیہ مراد ہے۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 282) ۔ اور مرضاۃ سے مراد رضا ہے۔ کہا جاتا ہے : رضی یرضی رضاومرضاۃ۔
ایک قوم نے یہ بیان کیا ہے کہ یہ کہا جائے : شری، بمعنی اشتری ہے اور اس صورت میں آیت کو حضرت صہیب ؓ کے واقعہ کی طرف پھیرنے کی ضرورت ہوگی۔ کیونکہ انہوں نے اپنی جان کو اپنے مال کے عوض خریدا تھا، نہ کہ اسے بیچا تھا، مگر یہ کہا جاسکتا ہے : بلاشبہ حضرت صہیب ؓ کا ان کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہوجانا یہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ سے بیچنا ہے۔ پس لفظ باع (بیچنے) کے معنی پر ہی صحیح اور درست ہوگا۔
Ayah 2:208جب اللہ تعالیٰ لوگوں کے مومن، کافر اور منافق ہونے کے بارے میں بیان کرچکا تو فرمایا : تم ایک دین پر ہوجاؤ اور اسلام پر جمع ہوجاؤ اور اسی پر ثابت قدم ہوجاؤ۔ پس اس آیت میں ” السلم “ بمعنی اسلام ہے۔ مجاہد نے اسی طرح کہا ہے، اور اسے ابو مالک (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ اور اسی کے مطابق کندی شاعر کا قول بھی ہے :
دعوت عشیرتی للسلم لما رأیتھم تولوا مدبرینا ؛
میں نے اپنے خاندان کو اسلام کی دعوت دی جب میں نے انہیں دیکھا تو وہ پیٹھیں پھیر کر واپس چلے گئے۔
یعنی میں نے انہیں اسلام کی طرف دعوت دی جبکہ اہل کندہ حضور نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد اشعث بن قیس کندی کے ساتھ مرتد ہوگئے۔ کیونکہ مومنین کو کبھی بھی مسالمہ میں داخل ہونے کا حکم نہیں دیا گیا اور مسالمہ سے مراد صلح ہے۔
اور بلاشبہ حضور نبی کریم ﷺ کو کہا گیا کہ آپ صلح کے لئے مائل ہوں جبکہ وہ اس کی طرف مائل ہوں۔ اور رہا یہ کہ آپ صلح کی ابتدا کریں تو اس طرح نہیں۔ یہ قول علامہ طبری نے بیان کیا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں حکم دیا گیا ہے جو اپنی زبانوں کے ساتھ ایمان لائے کہ وہ اپنے دلوں کے ساتھ اس میں داخل ہوجائیں، طاؤس اور مجاہد نے کہا ہے کہ تم امر دین میں داخل ہوجاؤ۔ حضرت سفیان ثوری (رح) نے فرمایا : تم نیکی کی تمام اقسام میں داخل ہوجاؤ۔ اور یہ لفظ سین کے کسرہ کے ساتھ السلم پڑھا گیا ہے۔ کسائی نے کہا ہے کہ السلم اور السد “ دونوں ایک ہی معنی میں ہیں۔ اور اسی طرح یہ اکثر بصریوں کے نزدیک بھی ہے۔ اور یہ دونوں لفظ اکٹھے اسلام اور صلح کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
ابو عمرو بن العلاء نے ان دونوں کے درمیان فرق کیا ہے۔ اور یہاں اسے (آیت) ” ادخلوا فی السلم “ پڑھا اور کہا ہے : اس سے مراد اسلام ہے۔ اور وہ لفظ جو سورة انفال اور سورة محمد ﷺ میں ہے۔ اسے ” السلم “ سین کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور فرمایا : فتحہ کے ساتھ اس کا معنی مسالمہ (صلح) ہے۔
اور مبرد نے اس تفریق کا انکار کیا ہے اور عاصم جحدری نے کہا ہے کہ ” السلم “ کا معنی اسلام ‘ السلم ‘ کا معنی صلح اور ” السلم “ کا معنی الاستلام (تابعدار ہونا) ہے۔ محمد بن یزید نے ان تفریقات (الگ الگ تعبیروں) کا انکار کیا ہے اور کہا ہے : لغت اس طرح نہیں لی جاتی بلکہ یہ تو سماع کے ساتھ لی جاتی ہے نہ کہ قیاس کے ساتھ۔ اور جس نے (معانی میں) تفریق کی اسے دلیل کی ضرورت ہوگی۔ اور بصریوں نے بیان کیا ہے : فلان ” سلم وسلم وسلم “ تمام کا معنی ایک ہے۔ اور جوہری نے کہا ہے : ” السلم “ کا معنی صلح ہے چاہے فتحہ کے ساتھ ہو یا کسرہ کے ساتھ اور مذکر ہو یا مؤنث۔ اور اس کا اصل معنی الاستلام اور الانقیاد (تابعداری کرنا) سے لیا گیا ہے۔ اسی لئے صلح کے لئے کہا گیا ہے۔ زہیر نے کہا ہے :
وقد قلتما ان ندرک السلم واسعا بمال ومعروف من الامر نسلم :
تحقیق تم دونوں نے کہا : اگر ہم نے صلح کو مال اور امر بالمعروف کے بدلے زیادہ نفع بخش پالیا تو ہم صلح کرلیں گے۔
علامہ طبری نے اس کلمہ کو اسلام کے معنی پر محمول کرنے کو ترجیح دی ہے اس وضاحت کے مطابق جو پہلے گزر چکی ہے۔ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ نے اس آیت کے ضمن میں بیان فرمایا ہے : اسلام کے آٹھ حصص ہیں، ایک حصہ نماز ہے، ایک حصہ زکوۃ ہے، ایک حصہ روزہ ہے، ایک حصہ حج ہے، ایک حصہ عمرہ ہے، ایک حصہ جہاد ہے، ایک حصہ جہاد ہے، ایک حصہ امر بالمعروف ہے اور ایک حصہ نہی عن المنکر ہے۔ تحقیق وہ خائب و خاسر ہوا جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی اور معنی یہ ہے : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ! تم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ ایمان لا کر مکمل طور پر اسلام میں داخل ہوجاؤ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 282)
اور صحیح مسلم میں ہے : حضرت ابوہریر نے رسول اللہ ﷺ سے روایت بیان کی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے ! اس امت میں سے کوئی یہودی اور عیسائی میرے بارے میں نہ سنے پھر وہ مر جائے اور وہ اس دین پر ایمان نہ لائے جس کے ساتھ مجھے مبعوث فرمایا گیا تو وہ اصحاب نار میں سے ہوگا۔ “
” کافۃ “ کا معنی ہے مکمل طور پر ‘ ترکیب کلام میں یہ ” السلم “ سے یا مومنین کی ضمیر سے حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور یہ انکے اس قول سے مشتق ہے : کففت ای منعت “۔ یعنی تم میں سے کوئی بھی اسلام میں داخل ہونے سے باز نہ رہے۔ اور ” الکف “ کا معنی ہے المنع (روکنا) اور اسی سے ” کفۃ القیص “ ہے (کرتے کے دامن کے اردگرد کی گوٹ) کیونکہ یہ کپڑے کو پھیلنے اور منتشر ہونے سے روکتی ہے۔ اور اسی سے ” کفۃ المیزان “ ہے (ترازو کا پلڑا) جو کہ موزون کی جمع رکھتا ہے اور اسے بکھرنے سے روکتا ہے، اور اسی سے کف الانسان ہے (انسان کی ہتھیلی) جو کہ اس کے منافع اور نقصانات کو جمع کرتی ہے۔ اور ہر گول شے کفۃ کہلاتی ہے، اور ہر لمبی شے کفۃ کہلاتی ہے۔ اور آدمی مکفوف البصر ہے یعنی اسے دیکھنے سے روک دیا گیا ہے۔ اور جماعۃ کا کافۃ کا نام دیا جاتا ہے کیونکہ وہ متفرق اور تقسیم ہونے سے محفوظ ہوتے ہیں۔
(آیت) ” ولا تتبعوا “ یہ فعل نہی ہے اور (آیت) ” خطوت الشیطن “ یہ مفعول ہے۔ یہ پہلے گزر چکا ہے
اور حضرت مقاتل نے کہا ہے کہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے ساتھیوں نے نماز میں تورات پڑھنے کی اجازت طلب کی۔ نیز یہ کہ وہ ان بعض احکام پر عمل کریں گے تو تورات میں ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ولا تتبعوا خطوت الشیطن “۔ کیونکہ بلاشبہ سنت کی اتباع کرنا حضور نبی رحمت ﷺ کے مبعوث ہونے کے بعد شیطان کے نقش قدم پر چلنے کی بجائے بہتر اور اولی ہے۔
اور اولیٰ ہے
اور یہ بھی کہا گیا ہے : (اس کا معنی ہے) تم اس راستے پر نہ چلو جس کی طرف تمہیں شیطان دعوت دیتا ہے کیونکہ (آیت) ” انہ لکم عدو مبین “ بلاشبہ تمہارے لئے اس کی عداوت بالکل ظاہر ہے۔
Ayah 2:209ارشاد باری تعالیٰ ” فان زللتم “ کا معنی ہے اگر تم صراط مستقیم سے دور ہٹنے لگو۔ دراصل زلل یعنی پھسلاہٹ قدم میں ہوتی ہے، بعد ازاں یہ لفظ اعتقادات، آراء اور دیگر چیزوں میں (سیدھی راہ سے ہٹ جانے کے لئے) استعمال کیا جانے لگا ہے۔ کہا جاتا ہے : زل زلا و زللا وزلولا “ ، یعنی اس کا پاؤں پھسل گیا۔
ابو السمال العدوی نے ” زللتم “ لام کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اس میں یہ دونوں لغتیں ہیں، حرف کی اصل الزلق سے ہے اور معنی ہے : ” تم حق سے بھٹک گئے اور بہک گئے۔ “
اور ارشاد خدا وندی (آیت) ” من بعد ماجآء تکم البینت “ میں ” البینت “ سے مراد معجزات اور آیات قرآن ہیں۔ اگر آیت میں خطاب مومنین کو ہے اور اگر خطاب اہل کتاب کو ہے تو پھر بینات سے مراد حضور نبی کریم ﷺ کی تعریف اور آپ کے بارے وہ علامات ہیں جو انکی شریعت میں وارد ہوئی ہیں۔
آیت میں اس پر دلیل موجود ہے کہ گناہ کے بارے جاننے والے کی سزا اس کی سزا کی نسبت بہت زیادہ اور شدید ہوگی جو اس سے ناواقف اور جاہل ہو اور جس تک دعوت اسلام نہ پہنچی وہ احکام شرع کو ترک کرنے کے سبب کافر نہ ہوگا۔
نقاش نے بیان کیا ہے کہ حضرت کعب الاحبار ؓ جب اسلام لائے تو وہ قرآن کریم پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے جو قرآن پڑھا رہا تھا۔ اس نے پڑھا (آیت) ” فاعلموا ان اللہ غفور رحیم “ تو حضرت کعب ؓ نے کہا : بلاشبہ میں یہ تسلیم نہیں کرتا کہ یہ اس طرح ہو، پھر ان دونوں کے پاس سے ایک آدمی گزرا، تو حضرت کعب ؓ نے اس سے پوچھا : تم یہ آیت کس طرح پڑھتے ہو ؟ تو اس آدمی نے کہا : (آیت) ” فاعلموا ان اللہ عزیز حکیم “۔ (بقرہ : 209) تو حضرت کعب ؓ نے کہا : اسی طرح ہونا جاہئے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 282) اور ” عزیز “ کا معنی ہے (وہ زبردست ہے) یعنی جس کام کا وہ ارادہ کرتا ہے اس سے اسے روکا نہیں جاسکتا۔ اور ” حکیم “ کا مفہوم ہے کہ وہ جو فعل بھی کرتا ہے اس میں حکمت کار فرما ہوتی ہے (اس کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا)
Ayah 2:210ارشاد باری تعالیٰ ” ھل ینظرون “ یعنی اسلام میں داخل نہ ہونے والے، اور ” ھل “ یہاں سے مراد انکار ہے۔ یعنی وہ انتظار نہیں کر رہے ہیں (آیت) ” الا ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام والملئکۃ “ نظرتہ اور انتظرتہ “ ایک ہی معنی میں ہیں۔ اور النظر اور الانتظار بھی ہم معنی ہیں۔
حضرت قتادہ، ابو جعفر یزید بن قعقاع اور ضحاک نے فی ظلال من الغمام پڑھا ہے۔ اور ابو جعفر نے والملائکۃ کو الغمام پر عطف کرتے ہوئے مجرور پڑھا ہے۔ اور اس کی تقدیر عبارت ہے مع الملائکۃ یعنی ملائکہ کے ساتھ۔ عرب کہتے ہیں : اقبل الامیر فی العسکر۔ امیر آیا لشکر کے ساتھ، یعنی اس میں فی بمعنی مع ہے۔ ظلل یہ ظلۃ کی جمع مکسر ہے، جیسا کہ ظلمۃ کی جمع ظلم ہے اور اس کی جمع سالم ظللات ہے۔
سیبویہ نے یہ شعر کہا ہے :
اذا الوحش ضم الوحش فی ظللا تھا سواقط من حر وقد کان اظہرا
اس میں ظللات ظلۃ کی جمع سالم ذکر کی گئی ہے۔
اور ظلات اور ظلال یہ ظل کی جمع کثرت ہے اور اس کی جمع قلت اظلال ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ ظلال ظلۃ کی جمع ہے جیسا کہ قلتۃ کی جمع قلال ہے۔ جیسا کہ شاعر نے بھی کہا ہے :
ممزوجۃ بماء القلال “ (گھڑوں کے پانی میں ملائی گئی ہے)
اخفش سعید نے کہا ہے کہ والملائکۃ مجرور ہے۔ یہ وفی الملائکۃ کے معنی میں ہے۔ فرمایا : اس میں رفع عمدہ ہے، جیسا کہ ان آیات میں ہے : (آیت) ” ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملئکۃ (الانعام : 158) اور (آیت) ” وجآء ربک والملک صفا صفا (الفجر :) فراء نے کہ ہے : حضرت عبداللہ ؓ کی قرات میں (آیت) ” ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملئکۃ فی ظلل من الغمام “۔
حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے : ملائکہ ان پاس کی ارواح قبض کرنے لئے آئیں گے۔ اور کہا جاتا ہے کہ قیامت کے دن (وہ آئیں گے) اور یہی زیادہ ظاہر اور واضح ہے۔
ابوالعالیہ اور ربیع نے کہا ہے کہ ملائکہ ان کے پاس چھائے ہوئے بادلوں کی صورت میں آئیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے پاس آئے گا جس حالت میں چاہے گا۔
اور زجاج نے کہا ہے : کلام اس طرح ہے (آیت) ” فی ضلل میں الغمام ومن الملائکۃ “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سبحانہ کے حق میں کلام اپنے ظاہر پر نہیں ہے، بلکہ معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا امر اور اس کا حکم ان کے پاس آجائے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حساب و عذاب میں سے جس کا ان کے ساتھ وعدہ فرما رکھا ہے اس کے ساتھ چھائے ہوئے بادلوں میں ان کے پاس آجائے، جیسا کہ یہ ارشاد گرامی ہے :
(آیت) ” فاتھم اللہ من حیث لم یحتسبوا “۔ (الحشر : 2)
ترجمہ : پس ان پر اللہ (کا قہر) اس جگہ سے جگہ سے جس کا انہیں نہ آیا تھا)
یعنی اللہ نے انہیں ذلیل ورسوا کردیا۔ یہ زجاج کا قول ہے اور پہلا اخفش سعید کا قول ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ الاتیان (یعنی آنے) کا معنی راجعا الی الجزاء (جزا کی طرف رجوع کرتے ہوئے) ہو۔ اور جزا کو اسی طرح اتیان کا نام دیا گیا ہو جیسا کہ نمرود کے قصہ میں تخویف اور تعذیب کو اتیان کا نام دیا گیا ہے اور فرمایا ہے :
(آیت) ” فاتی اللہ بنیانھم من القواعد فخر علیہم السقف من فوقھم “۔ (النحل : 26)
ترجمہ : پس اللہ تعالیٰ نے ان کے (فریب) کی عمارت جڑوں سے اکھیڑ کو رکھ دی۔ پس گر پڑی ان پر چھت ان کے اوپر سے۔
اور بنی نضیر کے قصہ میں فرمایا :
(آیت) ” فاتھم اللہ من حیث لم یحتسبوا وقذف فی قلوبھم الرعب “۔ (الحشر : 2)
اور طرح فرمایا : (آیت) “ وان کان مثقال حبۃ من خردل اتینا بھا (الانبیائ : 47 )
ترجمہ : (اور اگر (کسی کا کوئی عمل) رائی کے دانے کے برابر بھی ہوگا تو ہم اسے بھی لاحاضر کریں گے۔ )
بلاشبہ اتیان ان معانی کا احتمال رکھتا ہے، کیونکہ اہل لغت کے نزدیک اتیان کا اصل معنی ” کسی شے کی طرف قصد کرنا “ ہے۔ پس آیت کا معنی یہ ہے : کیا وہ انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جزا اور بدلہ دینے کے ارادہ سے اپنی مخلوق میں سے کسی مخلوق کے ساتھ افعال میں سے کوئی فعل ظاہر فرمائے اور ان کے امور کے بارے میں فیصلہ فرمائے جو وہ فیصلہ فرما دے ؟
اور جس طرح اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کوئی فعل کیا اور اسے نزول اور استوا کا نام دیا۔ اسی طرح وہ کوئی فعل کرتا ہے اور اسے اتیان کا نام دیتا ہے اور اس کے افعال بغیر آلہ اور علت کے ہوتے ہیں کیونکہ اس کی ذات اس سے پاک ہے۔
اور حضرت ابن عباس ؓ نے ابو صالح کی روایت میں کہا ہے : یہ ان پوشیدہ اور مخفی چیزوں میں سے ہے جس کی تفسیر بیان نہیں کی جاسکتی۔ بعض ان کی تاویل سے خاموش رہے ہیں اور بعض نے تاویل کی ہے جیسا کہ ہم نے بیان کردیا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ فابمعنی با ہے یعنی ” باتیھم بظلل “۔ (یعنی وہ ان کے پاس آئے چھائے ہوئے بادلوں کے ساتھ) اور اسی کے مطابق حدیث طیبہ ہے : ” یاتیھم اللہ فی صورۃ ای بصورۃ امتحانالھم “ (1) (بخاری شریف : باب الصراط جسم جھنم، حدیث نمبر 6088، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (اللہ تعالیٰ ان کے پاس آئے گا ایک صورت میں، یعنی ایک صورت کے ساتھ ان کا امتحان لینے کے لئے) ۔
یہ جائز نہیں کہ اسے اور جو کچھ اس کے مشابہ قرآن و حدیث میں مذکور ہے اسے وجہ انتقال، حرکت اور زوال پر محمول کیا جائے، کیونکہ یہ اجرام و اجسام کی صفات میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے انتہائی بلندو برتر ہے۔ وہ ذوالجلال والا کرام ہے اور اجسام کی مماثلت سے بلند وبالا اور برتر ہے۔
” الغمام “ اس سے مراد ہے سفیدباریک بادل، اس کا یہ نام اس لئے رکھا گیا ہے کیونکہ یہ ڈھانپ لیتا ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔
(آیت) ” قضی الامر “ کو حضرت معاذبن جبل ؓ نے (آیت) ” وقضاء الامر “ پڑھا ہے۔ اور یحییٰ بن یعمر نے (آیت) ” قضی الامر “ جمع کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور جمہور نے (آیت) ” قضی الامر “ پڑھا ہے اور معنی یہ ہے کہ جزاواقع ہو اور گناہ کرنے والوں کو عذاب دیاجائے۔
ابن عامر، حمزہ اور کسائی نے (آیت) ” ترجع الامور “ صیغہ معروف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور یہی اصل ہے۔ اور اس کی دلیل (آیت) ” الآ الی اللہ تصیر الامور “۔ (الشوری : 52) اور (آیت) الی اللہ مرجعکم “ (المائدہ : 48) ہے۔ اور باقیوں نے ” ترجع “ صیغہ مجہول کی صورت میں پڑھا ہے۔ اور یہ بھی قراۃ حسنہ ہے۔ اور اس کی دلیل (آیت) ” ثم تردون “۔ (التوبہ : 94) اور (آیت) ” ثم ردوالی “ (الانعام : 62) اور (آیت) ” ولئن رددت الی ربی “۔ (الکہف : 36) ارشادات باری تعالیٰ ہیں۔ دونوں قراتیں معنی کے اعتبار سے حسن اور اچھی ہیں لیکن اصل پہلی قرات ہے اور اسے مجہول پڑھنے میں توسع ہے اور یہ فرع ہے۔ اور تمام کے تمام امور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی لوٹیں گے، پہلے بھی اور بعد والے بھی۔ اور قیامت کے دن میں اس کے ذکر کے سبب اس پر تنبیہ اور آگاہ کرنا ہے کہ دنیا میں جو کچھ بھی ملوک کے پاس ہے وہ زوال پذیر ہے۔
Ayah 2:211ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” سل بنی اسرائیل کم اتینھم من ایۃ بینۃ “۔ اس میں سل السوال سے ماخوذ ہے۔ تخفیف ہمزہ کے تحت ہمزہ کی حرکت سین کو دے کر اسے حذف کردیا، اور جب سین متحرک ہوگئی تو پھر ہمزہ وصل کی ضرورت نہ رہی (یعنی سل دراصل اسئل تھا۔ تخفیف ہمزہ کے مذکورہ قاعدہ کے تحت یہ سل ہوگیا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلام عرب میں سل میں ہمزہ وصل کے ساقط ہونے اور اسئل میں اس کے ثابت رہنے کی دو وجہیں ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک ہمزے کو حذف کرنا اور دوسرے میں اسے ثابت رکھنا ہے۔ اور قرآن مجید میں دونوں مذکور ہیں پس تو ہمزے کو ثابت رکھنے اور اسے گرانے میں خط مصحف کی اتباع کر۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس میں استعمال ہونے والے کلام کے اختلاف کے ساتھ اسے ثابت رکھنا اور اسے ساقط کرنا بھی مختلف ہوتا ہے۔ لہذا ابتدائے کلام میں ہمزہ حذف ہوجاتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” سل بنی اسرائیل “۔ اور (آیت) ” سلھم ایھم بذلک زعیم “۔ (القلم) اور حالت عطف (مراد درمیان کلام) میں ثابت رہتا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : (آیت) ” وسئل القریۃ “۔ (یوسف : 82) اور (آیت) ” وسئلو اللہ من فضلہ “۔ (النساء : 32) علی بن عیسیٰ نے یہی کہا ہے۔ اور ابو عمرو نے حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت میں اسئال اصل کے مطابق پڑھا ہے۔ اور ایک قوم نے اسئل ہمزہ کی حرکت کو سین کی طرف نقل کر کے اور ہمزہ وصل کو باقی رکھتے ہوئے پڑھا ہے۔ ان کی لغت کے مطابق جنہوں نے کہا ہے ” الحمر “ اور ” کم “ یہ محل نصب میں ہے کیونکہ یہ ” اتینھم “ کا دوسرا مفعول ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فعل مضمر کے سبب منصوب ہے۔ تقدیر عبارت ہے ” کم اتینا اتیناھم “ اور فعل کو اس سے مقدم لانا جائز نہیں کیونکہ اس کے لئے صدر کلام ضروری ہے۔ اور (آیت) ” من ایۃ “ تقدیر اول کے مطابق تمییز ہونے کی پر محل نصب میں ہے اور تقدیر ثانی کی بنا پر یہ ” اتینھم “ کا مفعول ثانی ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ ” کم “ مبتدا ہونے کی بنا پر محل رفع ہو۔ اور اس کی خبر ” اتینھم “ ہو۔ اس میں ” کم “ کی طرف لوٹنے والی ضمیر ہوگی اور تقدیر کلام یہ ہوگی کم اتینا ھموہ “ اور یہ (یعنی کم) معرب نہیں، بلکہ یہ اسم ہے کیونکہ یہ حروف کے قائم مقام ہے جب کہ اس میں استفہام کے معنی پائے جائیں۔
اور جب تو فرق کرنے لگے کم اور اسم کے درمیان، تو اختیار ہے کہ تو اسے ” من “ کے ساتھ لائے، جیسا کہ اس آیت میں ہے اور اگر تو اسے (من کو) حذف کرے تو پھر تو اسے نصب دے چاہے کم استفہامیہ ہو یا کم خبریہ۔ اور خبریہ کی صورت میں جر بھی جائز ہوتی ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
کم بجود مقرف نال العلا وکریم بخلہ قد وضعہ :
اس میں کم خبریہ کی کمییز حرف جربا کے سبب مجرور ہے۔
اور آیت سے مراد یہ ہے کہ حضور نبی رحمت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں ان کے پاس کتنی آیات و علامات آئیں جو آپ ﷺ کی پہچان کراتی ہیں اور آپ پر دلالت کرتی ہیں۔ حضرت مجاہد اور حسن وغیرھما نے کہا ہے : یعنی وہ آیات ومعجزات جنہیں لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آئے جیسا سمندر کا پھٹ جانا (اور اس میں راستوں کا بن جانا) بادلوں کا سایہ ‘ عصا مبارک اور ید موسیٰ وغیرہ ذلک۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ السلام) کو ان کے سوال کے بارے حکم ارشاد فرمایا یہ زجروتوبیخ کی بنا پر ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” ومن یبدل نعمۃ اللہ من بعد ماجآئتہ “ یہ لفظ عام ہے جو تمام عوام کو شامل ہے، اگرچہ اس کا مشار الیہ بنی اسرائیل ہیں، کیونکہ انہوں نے اسے تبدیل کیا جو ان کی کتابوں میں تھا اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں جو تھا اس کا انکار کیا۔ لیکن لفظ کا اطلاق تو اس پر ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بدلتا ہے۔
علامہ طبری نے کہا : یہاں نعمت سے مراد اسلام ہے اور یہ پہلے (معنی) کے زیادہ قریب ہے اور لفظ میں کفار قریش بھی داخل ہیں۔ کیونکہ حضور نبی رحمت ﷺ ان پر بطور احسان ونعمت ان میں مبعوث فرمائے گئے۔ لیکن انہوں نے اس نعمت کی قبولیت اور اس پر شکر کرنے کا کفر کے ساتھ بدل دیا۔
ارشاد باری تعالیٰ : (آیت) ” فان اللہ شدید العقاب “۔ یہ جملہ خبریہ یہ ہے جو کہ وعید کو متطمن ہے۔ اور ” العقاب “ عقب سے ماخوذ ہے۔ گویا کہ تعاقب کرنے والا بدلہ اور جزا دینے کے لئے اس کے نشانات قدم پر چلتا ہے۔ اسی سے عقبۃ الراکب (وہ جگہ جہاں سے سوار ہوا جاتا ہے) اور عقبۃ القدر (شوربے کا باقی حصہ جو ہانڈی والے کے لئے چھوڑا جائے) عقاب اور عقوبۃ دونوں گناہ کے بعد ہوتی ہیں۔ ” وقد عاقبہ بذنبہ “ ” تحقیق اس نے اسے اس کے گناہ کی سزا دی “۔