2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:236

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے یا ان کا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو تو تم پر کچھ گناہ نہیں ہاں ان کو دستور کے مطابق کچھ خرچ ضرور دو (یعنی) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگ دسست اپنی حیثیت کے مطابق، نیک لوگوں پر یہ ایک طرح کا حق ہے

آیت نمبر : 236۔ اس میں گیارہ مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لا جناح علیکم ان طلقتم النسآء “ یہ بھی مطلقات کے احکام میں سے ہیں۔ جماع اور بیوی کے پاس جانے سے قبل طلاق دینے والے سے حرج کے اٹھا دینے کے بارے یہ خبر کی ابتدا ہے، چاہے مہر مقرر کیا گیا ہو یا نہ مقرر کیا جائے، جب رسول اللہ ﷺ نے ذوق اور قضائے شہوت کی غرض سے شادی کرنے سے منع فرما دیا اور پاکدامنی کی طلب اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی التجا اور صحبت دوام کے ارادہ سے شادی کرنے کا حکم ارشاد فرمایا تو مومنین کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جس کسی نے عورت کے پاس جانے سے قبل طلاق دی تو وہ اس مکروہ عمل کے جز میں واقع ہونے والا ہے، تو اس بارے میں حرج کو اٹھانے اور ختم کرنے کے لئے یہ آیت نازل ہوئی، بشرطیکہ اصل نکاح حسین مقصد پر ہو۔ اور ایک قوم نے کہا ہے : (آیت) ” لاجناح علیکم “ اس کا معنی ہے کہ اس میں تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم حیض کے وقت میں طلاق بھیجو، بخلاف مدخول بہا عورت کے، کیونکہ غیر مدخول بہا پر عدت نہیں ہوتی۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 318 دارالکتب العلمیہ) مسئلہ نمبر : (2) مطلقات چار ہیں : (1) مطلقہ مدخول بہا جس کے لئے مہر مقرر کیا جائے تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم اس سے پہلی آیت میں ذکر کیا ہے کہ اس سے مہر میں سے کوئی شے واپس نہیں لی جائے گی اور یہ کہ اس کی عدت تین حیض ہے۔ (2) مطلقہ غیر مدخول بہا جس کے لئے مہر مقرر نہ کیا جائے، پس یہ آیت اسی کے بارے میں ہے اور اس کے لئے کوئی مہر نہیں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے متعہ دینے کا حکم ارشاد فرمایا ہے اور سورة الاحزاب میں بیان فرمایا ہے کہ غیر مدخول بہا کو جب طلاق دی جائے تو اس پر کوئی عدت نہیں، عنقریب اس کا ذکر آئے گا۔ (3) مطلقہ غیر مدخول بہا جس کے لئے مہر مقرر کیا جائے۔ اس کا ذکر آیت کے بعد کیا ہے جبکہ فرمایا : (آیت) ” وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضۃ (البقرۃ : 237) ترجمہ : اور اگر تم طلاق دو انہیں اس سے پہلے کہ تم انہیں ہاتھ لگاؤ اور مقرر کرچکے تھے ان کے لئے مہر) (4) مطلقہ مدخول بہا جس کے لئے مہر مقرر نہ کیا جائے اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر اپنے اس ارشاد میں فرمایا ہے : (آیت) ” فما استمتعتم بہ منھن فاتوھن اجورھن فریضۃ “۔ (النسائ : 24) ترجمہ : پس جو تم نے لطف اٹھایا ہے ان سے تو دو ان کو ان کے مہر جو مقرر ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اور اس کے بعد والی آیت میں ایسی مطلقہ کا ذکر کیا ہے جسے چھوئے جانے سے قبل اور مہر مقرر کیے جانے سے قبل طلاق دے دی جائے اور اس مطلقہ کا جسے چھوئے جانے سے پہلے اور مہر مقرر کیے جانے سے قبل طلاق دی جائے۔ پس پہلی کے لئے متعہ مقرر کیا ہے اور دوسری کے لئے نصف مہر، کیونکہ عورت کو گرہ کا کھلنا اور اس حلت میں عیب اور نقص پڑنا لاحق ہوا ہے جو مرد کو عقد کے سبب حاصل ہوئی تھی اور مس مہر واجب کے بالمقابل ہوتا ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) جب اللہ تعالیٰ نے مطلقہ کی حالت کو یہاں دو قسموں میں تقسیم کردیا ایک ایسی مطلقہ جس کا مہر مقرر کیا گیا ہو اور دوسری ایسی مطلقہ جس کے لئے مہر مقرر نہ کیا جائے تو یہ اس پر دلیل ہے کہ نکاح کی تفویض جائز ہے اور اس سے مراد ہر وہ نکاح ہے جو مہر کا ذکر کیے بغیر کیا جائے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور اس کے بعد مہر مقرر کردیا جاتا ہے، پس اگر وہ مقرر کردیا جائے تو وہ عقد کے ساتھ مل جاتا ہے اور یہ جائز ہے اور اگر وہ نہ مقرر کیا جائے اور طلاق ہوجائے تو پھر بالاجماع مہر واجب نہیں ہوتا۔ (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1، صفحہ : 218، دارالفکر) قاضی ابوبکر بن عربی نے یہی کہا ہے۔ اور مہدوی نے حماد بن ابی سلیمان سے نقل کیا ہے کہ جب آدمی عورت کو طلاق دے اور اس سے دخول نہ کیا ہو اور انہ ہی اس کے لئے مقررہ مہر ہو تو اسے نصف مہر مثل پر مجبور کیا جائے اور اگر عقد نکاح کے بعد اور طلاق واقع ہونے سے پہلے مہر مقرر کردیا گیا تو امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے : طلاق کے سبب وہ نصف نہ ہوگا کیونکہ وہ عقد کے ساتھ واجب نہیں ہوا اور یہ اس ارشاد باری کے ظاہر کے خلاف ہے : (آیت) ” وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضۃ “۔ (البقرۃ : 237) اور یہ خلاف قیاس بھی ہے کیونکہ عقد کے بعد مقرر کردہ مہر عقد کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے پس یہ ضروری ہے کہ یہ طلاق کے ساتھ نصف ہوجائے۔ اس کی اصل یہ ہے کہ مقرر کردہ مہر عقد کے ساتھ ملا دیا جائے۔ مسئلہ نمبر : (4) اگر مہر مقرر کرنے سے پہلے موت واقع ہوجائے تو ترمذی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے ذکر کیا ہے کہ ان سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایسی عورت سے شادی کی جس کے لئے مہر مقرر نہ کیا اور اس کے ساتھ دخول نہ کیا یہاں تک کہ مرگیا تو حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : اس کے لئے اس جیسی عورتوں کا مثل ہوگا نہ اس میں کمی ہوگی اور نہ زیادتی اور اس پر عدت ہوگی اور اس کے لئے میراث بھی ہوگی، تو حضرت معقل بن سنان اشجعی کھڑے ہوئے اور کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہم میں سے ایک عورت بروع بنت واشق کے بارے میں اسی طرح فیصلہ فرمایا جیسے تم نے کیا ہے۔ تو اس سے سے حضرت ابن مسعود ؓ بہت خوش ہوئے ترمذی (رح) نے کہا ہے : حضرت ابن مسعود ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے اور آپ سے کئی اسناد سے مروی ہے اور حضور نبی مکرم ﷺ کے اصحاب میں سے بعض اہل علم اور ان کے سوا دوسروں کا اسی پر عمل ہے اور ثوری، احمد اور اسحاق (رح) بھی اسی طرح کہتے ہیں۔ اور حضور نبی رحمت ﷺ کے اصحاب میں سے بعض اہل علم جن میں حضرت علی ابن ابی طالب، حضرت زید بن ثابت حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین شامل ہیں نے کہا ہے کہ جب آدمی کسی عورت شادی کرے اور اس کے ساتھ دخول نہ کرے اور نہ اس کے لئے مہر مقرر کرے یہاں تک کہ مرجائے تو انہوں نے کہا : اس کے لئے میراث ہوگی اور اس کے لئے مہر نہیں ہوگا اور اس پر عدت ہوگی، یہی امام شافعی کا قول ہے اور کہا ہے : اگر بروع بنت واشق کی حدیث ثابت ہے تو پھر یقینا وہ حجت ہے جو حضور نبی کریم ﷺ سے مروی ہے اور امام شافعی (رح) کے بارے میں روایت بھی ہے کہ انہوں نے اس کے بعد مصر میں اپنے اس قول سے رجوع کرلیا اور بروع بنت واشق کی حدیث کے مطابق بیان کیا۔ (1) (جامع ترمذی، کتاب النکاح، جلد 1، صفحہ 136، وزارت تعلیم) میں (مفسر) کہتا ہوں : بروع کی حدیث ثابت کرنے میں اختلاف ہے، پس قاضی ابو محمد عبدا الوہاب نے ابن ابی زید کے رسالہ کی شرح میں کہا ہے کہ بروع بنت واشق کی حدیث کو حفاظ حدیث اور ائمہ اہل علم نے رد کردیا ہے اور واقدی نے کہا ہے : یہ حدیث مدینہ منورہ میں پیش ہوئی تو علماء میں سے کسی نے اسے قبول نہیں کیا اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے جیسا کہ ہم نے آپ سے اور ابن منذر سے ذکر کیا ہے، ابن منذر نے کہا ہے : حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے قول کی مثل رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور اسی کے مطابق ہم کہتے ہیں اور بیان کیا کہ یہی ابو ثور اور اصحاب الرائیرحمۃ اللہ علہیم کا قول ہے۔ اور زہری، اوزاعی، مالک، شافعی رحمۃ اللہ علہیم سے حضرت علی، حضرت زید بن ثابت، حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے قول کی مثل ذکر کیا گیا ہے۔ اور اس مسئلہ میں ایک تیسرا قول بھی ہے اور وہ یہ کہ اس کے لئے میراث نہیں ہوگی یہاں تک کہ مہر ہو (یعنی مہر کے بغیر میراث نہیں ہو سکتی) مسروق نے یہی کہا ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : جو موقف امام مالک (رح) نے اختیار کیا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ مہر مقرر ہونے سے پہلے نکاح میں تفریق ہے پاس اس میں مہر واجب نہیں اور اس کی اصل طلاق ہے لیکن جب حدیث صحیح ہے تو اس کے مقابلے میں قیاس فاسد ہے اور ابو محمد عبدالحمید نے ایسا مذہب بیان کیا ہے جو حدیث سے موافقت رکھتا ہے۔ الحمد للہ۔ اور ابو عمر (رح) نے کہا ہے : حدیث بروع کو عبدالرزاق نے ثوری عن منصور عن ابراہیم عن علقمہ عن ابن مسعود ؓ کی سند سے بیان کیا ہے اور اس میں ہے : پس معقل ابن سنان کھڑے ہوئے اور اس میں ابن مہدی نے ثوری عن فراس عن الشعبی عن مسروق عن عبداللہ کی سند سے بیان کیا اور کہا : معقل بن یسار اور میرے نزدیک صحیح اس کا قول ہے جس نے معقل بن سنان کہا ہے نہ کہ معقل بن یسار (2) (ابن ماجہ، باب الرجل یتذد ولا یفرض لھا فیموت، حدیث نمبر 1880، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) کیونکہ معقل بن یسار قبیلہ مزینہ کا آدمی ہے اور یہ حدیث ایسی عورت کے بارے ہے جس کا تعلق قبیلہ اشجع سے ہے نہ کہ مزینہ سے۔ اور اسی طرح اسے داؤد نے شعبی عن علقمہ سے روایت کیا ہے اور اس میں ہے پس اشجع کے لوگوں نے کہا اور معقل بن سنان یوم حرہ میں شہید میں ہوئے اور یوم حرہ کے بارے میں شاعر کہتا ہے۔ الا تلکم الانصار تبکی سرا تھا واشجع تبکی معقل بن سنان : خبردار ! وہ انصار اپنے شیروں کو رو رہے ہیں اور بنی اشجع معقل بن سنان کر رو رہے ہیں۔ مسئلہ نمبر : (5) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” مالم تمسوھن “ اس میں ما بمعنی الذی ہے۔ یعنی اگر تم نے ان عورتوں کو طلاق دی جنہیں تم نے مس نہیں کیا اور (آیت) ” تمسوھن “۔ کو ثلاثی سے تاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے اور یہ نافع، ابن کثیر، ابو عمر، عاصم اور ابن عامر کی قرات ہے اور حمزہ اور کسائی نے تماسوھن باب مفاعلہ سے پڑھا ہے کیونکہ وطی دونوں کے ساتھ مکمل ہوتی ہے اور کبھی باب مفاعلہ میں فاعل بمعنی فعل بھی آتا ہے، جیسے طارقت النعل (میں نے نعل کھٹکھٹائے) اور عاقبت اللص (میں نے چور کو سزا دی) اور پہلی قرات اس باب میں مفاعلہ کے معنی کا تقاضا کرتی ہے اس معنی کے اعتبار سے جو مس سے سمجھا گیا ہے اور ابو علی نے اسے ترجیح دی ہے کیونکہ اس معنی کے افعال اس وزن پر ثلاثی آئے ہیں، جیسا کہ نکح، سفد، قرع، دفط اور ضرب الفحل (ان تمام میں جفتی کرنے اور وطی کرنے کا معنی مشترک ہے) اور دونوں قراتیں حسن ہیں۔ اور (آیت) ” اوتفرضوا “ میں او کے بارے کہا گیا ہے کہ یہ بمعنی واؤ ہے، یعنی مالم تمسوھن ولم تفرضولھن “ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” وکم من قریۃ اھلکنھا فجآء ھا باسنا بیاتا اوھم قآئلون “۔ (الاعراف) ترجمہ : اور کتنی بستیاں تھیں برباد کردیا ہم نے انہیں، پس آیا ان پر عذاب رات کے وقت یا جب وہ دوپہر کو سو رہے تھے۔ اور اسی طرح یہ ارشاد ہے : (آیت) ” وارسلنہ الی مائۃ الف او یزیدون “۔ یہ ویزیدون کے معنی میں ہے۔ (الصافات) (اور ہم نے بھیجا تھا انہیں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف) اور ارشاد گرامی ہے (آیت) ” ولا تطع منھم اثما اوکفورا “۔ بمعنی وکفورا ہے (الدھر) (اور نہ کہنا مانئے ان میں سے کسی بدکار یا احسان فراموش کا) اور یہ قول : (آیت) ” وان کنتم مرضی او علی سفر او جآء احد منکم من الغائط “۔ (النسائ : 43) یہ بمعنی وجاء احد من الغائط وانتم مرضی او مسافرون ہے۔ (اور اگر ہو تم بیمار یا سفر میں یا آئے کوئی تم میں سے قضائے حاجت سے) اور یہ ارشاد : (آیت) ” الا ما حملت ظھورھما اوالحوایا اوما اختلط بعظم “۔ (الانعام : 146) اور اسی کے مثل دیگر ارشادات۔ (مگر جو اٹھا رکھی ہو ان کی پشتوں یا آنتوں نے یا جو ملی ہوئی ہو ہڈی کے ساتھ) اور اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس پر اس کے مہر مفروض کا عطف کیا ہے اور فرمایا ہے : (آیت) ” وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضۃ “۔ پس اگر پہلا ارشاد مس سے قبل مفروض لھا کی طلاق کے بیان کے لئے ہوتا تو اس کا وہ دوبارہ ذکر نہ فرماتا۔ مسئلہ نمبر : (6) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ومتعوھن “۔ اس کا معنی ہے تم انہیں کوئی ایسی شی دو جوان کے لئے متعہ بن سکتی ہو۔ حضرت ابن عمر، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت حسن بن ابی حسن، حضرت سعید بن جبیر، حضرت ابوقلابہ، حضرت زہری، حضرت قتادہ، حضرت ضحاک بن مزحم رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے اسے وجوب پر محمول کیا ہے۔ اور ابو عبید، امام مالک بن انس اور ان کے اصحاب اور قاضی شریح رحمۃ اللہ علہیم وغیرہم نین اسے ندب پر محمول کیا ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 319 دارالکتب العلمیہ) پہلے قول والوں نے مقتضائے امر سے استدلال کیا ہے (یعنی الامر للوجوب) اور دوسرا قول کرنے والوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے استدلال کیا ہے : حقا علی المحسنین اور علی المتقین “ اور اگر یہ واجب ہوتا تو پھر اس کا اطلاق تمام مخلوق پر ہوتا اور پہلا قول اولی اور بہتر ہے، کیونکہ امر کے عمومات میں ہے متعوھن کے قول میں امتاع ہے اور امتاع کی اضافت انکی طرف لام تملیک کے ساتھ ہے۔ اس ارشاد میں وللملقات متاع اس میں وجوب ندب سے زیادہ سے ظاہر ہے اور قولہ : علی المتقین یہ اس کے ایجاب کی تاکید ہے کیونکہ ہر ایک پر واجب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے میں اور اس کی نافرمانی اور معصیت کرنے میں اس سے ڈرے، تحقیق اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا ہے : (آیت) ” ھدی للمتقین “ یہ ہدایت ہے متقی لوگوں کے لئے۔ مسئلہ نمبر : (7) اور قول باری تعالیٰ : (آیت) ” ومتعوھن “۔ کی ضمیر متصل میں اختلاف ہے کہ عورتوں میں سے ان سے کون مراد ہیں ؟ تو حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، حضرت جابر بن زید، حضرت حسن رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین حضرت امام شافعی، حضرت امام احمد، حضرت عطاء حضرت اسحاق اور اصحاب الرائے رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے ایسی مطلقہ عورت کے لئے متعہ واجب ہے جس کے پاس جانے اور اس کا مہر مقرر کیے جانے سے پہلے اسے طلاق ہوجائے اور اس کے سو ادوسری عورتوں کے حق میں مستحب ہے۔ اور امام مالک (رح) اور آپ کے اصحاب نے کہا ہے : ہر مطلقہ عورت کے حق میں متعہ مستحب ہے اگرچہ اس سے دخول کیا گیا ہو، مگر اس کے حق میں کہ جس کے ساتھ دخول نہ کیا گیا اور اس کے لئے مہر مقرر کیا گیا تو اس کے لئے وہی کافی ہے جو اس کے لئے مقرر کیا گیا ہے اور اس کے لئے کوئی متعہ نہ ہوگا۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 319 دارالکتب العلمیہ) اور ابو ثور نے کہا ہے اس کے لئے بھی اور ہر مطلقہ عورت کے لئے متعہ ہے اور اہل علم نے اس پر اجماع کیا ہے وہ عورت جس کے لئے مہر مقرر نہ کیا گیا اور اس کے ساتھ دخول بھی نہ کیا گیا تو اس کے لئے متعہ کے سوا کوئی شے نہیں ہے۔ زہری نے کہا ہے : اس کے لئے متعہ کا فیصلہ قاضی کرے گا اور جمہور لوگوں نے کہا ہے : قاضی اس کے لئے اس کے بارے فیصلہ نہیں کرے گا۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 319 دارالکتب العلمیہ) میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ اجماع بلاشبہ صرف آزاد عورت کے حق میں ہے، پس رہی لونڈی جب اسے مس کیے جانے اور مہر مقرر ہونے سے قبل طلاق دے دی جائے تو جمہور کا موقف یہ ہے کہ اس کے لئے متعہ ہوگا امام اوزاعی اور ثوری نے کا ہے : اس کے لئے کوئی متعہ نہیں ہے کیونکہ وہ اس کے آقا کے لئے ہوگا اور وہ اپنی مملوکہ کو طلاق کے سبب پہنچنے والی تکلیف کے مقابلے میں کسی مال کا مستحق نہیں ہے۔ رہا امام مالکرحمۃ اللہ علیہ کے مذہب کا ربط تو ابن شعبان نے کہا ہے : متعہ طلاق کے غم کے بدلے ہوتا ہے، اسی لئے وطی سے پہلے یا بعد خلع لینے والی عورت، مبارات کرنے والی اور لعان کرنے والی کے لئے کوئی متعہ نہیں ہوتا، کیونکہ یہ وہ ہے جس نے خود طلاق کو اختیار کیا ہے۔ اور ترمذی، عطا اور نخعی رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے : خلع لینے والی عورت کے لئے متعہ ہے اور اصحاب الرائے نے کہا ہے : لعان کرنے والی عورت کے لئے متعہ ہے، ابن قاسم نے کہا ہے : فسخ کئے گئے نکاح میں کوئی متعہ نہیں ہے۔ ابن المواز نے کہا ہے : ایسا نکاح جس کا عقد صحیح ہونے کے بعد اس میں فسخ داخل ہوجائے تو اس میں متعہ نہیں ہے۔ مثلا زوجین میں سے ایک دوسرے کا مالک ہوجائے۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 319 دارالکتب العلمیہ) ابن قاسم نے کہا ہے : اس کی اصل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” وللمطلقت متاع بالمعروف “ پس یہ حکم طلاق کے ساتھ مختص ہے فسخ اس میں شامل نہیں، اور ابن وہب نے مالکرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ وہ عورت جسے اختیار دیا گیا، اس کے لئے متعہ ہے بخلاف اس لونڈی کے جو کسی غلام کے نکاح میں آزاد ہوجائے تو اسے اپنے نفس کے بارے اختیار ہوگا پس اس صورت میں اس کے لئے متعہ نہیں ہوگا رہی وہ آزاد عورت جسے اختیار دیا گیا یا جو مالک ہوجائے یا مرد اس پر کسی لونڈی سے شادی کرے تو وہ ان تمام صورتوں میں اپنے نفس کی مختار ہوتی ہے اور اس کے لئے متعہ بھی ہوتا ہے کیونکہ زوج فرقت کا سبب بنتا ہے۔ مسئلہ نمبر : (8) امام مالک (رح) نے فرمایا : ہمارے نزدیک مقدار کے قلیل اور کثیر ہونے کے اعتبار سے متعہ کی کوئی معروف حد نہیں ہے (1) (مؤطا امام مالک جلد 1 صفحہ 522، وزارت تعلیم) البتہ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے، حضرت ابن عمر ؓ نے کہا ہے : کم سے کم وہ مقدار جو متعہ میں دینی جائز ہے وہ تیس درہم یا ان کے مشابہ کوئی شے ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سب سے اعلی اور ارفع متہ خادم ہے پھر لباس ہے اور پھر نفقہ ہے، حضرت عطا نے کہا ہے : اوسط متعہ قمیص، دوپٹہ اور چادر ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا : یہی اس کی کم سے کم مقدار ہے۔ ابن محیریز نے کہا ہے : صاحب دیوان پر تین دینار ہوں گے اور غلام پر متعہ ہوگا۔ اور حسن نے کہا ہے : ہر کوئی اپنی قدر کے مطابق متعہ ادا کرے گا کوئی خادم کے ساتھ، کوئی کپڑوں کے ساتھ کوئی ایک کپڑے کے ساتھ اور کوئی نفقہ کے ساتھ، اسی طرح امام مالک (رح) بن انس بھی کہتے ہیں اور یہی قرآن کریم کا متقتضا ہے، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے نہ اس کی مقدار مقرر کی ہے اور نہ اس کی حد بیان فرمائی ہے، بیشک اس نے ارشاد فرمایا ہے ؛ (آیت) ” علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ “۔ (مقدور والے پر اس کی حیثیت کے مطابق اور تنگدست پر اس کی حیثیت کے مطابق ہے) حضرت حسن بن علی ؓ نے بیس ہزار اور ایک زقاق (مشکیزہ) شہد بطور متعہ دیا، اور شریح نے پانچ سو درہم بطور متعہ دیئے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلاشبہ عورت کی حالت کا بھی اعتبار کیا جائے گا، بعض شوافع نے یہی کہا ہے، انہوں نے کہا ہے : اگر ہم صرف مرد کی حالت کا اعتبار کریں تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ اگر وہ دو عورتوں سے شادی کرے ان میں سے ایک شریف اور اعلی ہو اور دوسری ادنی اور گھٹیا ہو پھر وہ مس کرنے سے پہلے ہی دونوں کو طلاق دے دے اور دونوں کے لئے واجب ہو رہا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے خلاف ہے : (آیت) ” متاعا بالمعروف “۔ (متعہ دو مناسب طریقہ کے ساتھ) اور اس سے یہ لازم آتا ہے کہ انتہائی دولتمند اور خوشحال آدمی جب کسی کمینی اور گھٹیا عورت سے شادی کرے کہ وہ اس کی مثل ہوجائے، کیونکہ اس نے جب اسے دخول اور مہر مقرر ہونے سے پہلے طلاق دے دی تو مرد کی حالت اور عورت کے مہر مثل کے اعتبار سے اس پر متعہ لازم ہوگا، پس اس طرح متعہ اس کے مہر مثل کا کئی گنا ہوجائے گا، نتیجتا وہ دخول سے قبل اس کے اس مہر کے کئی گنا کا مستحق ہوجائے گا جس مہر مثل کا وہ دخول کے بعد مستحق ہوگی جس میں استعمال کی انتہاء ہے اور وہ وطی ہے۔ اصحاب الرائے وغیرہم نے کہا ہے : وہ عورت جسے دخول اور مہر مقرر جانے سے پہلے طلاق دی جاتی ہے اس کا متعہ نصف مہر مثل ہے اس کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ مہر مثل عقد کے سبب لازم ہوا ہے اور متعہ مہر مثل کا ہی بعض ہے پس یہ اس کے لئے اسی طرح واجب ہوگا جیسے مہر مسمی کا نصف واجب ہوتا ہے جبکہ طلاق قبل از دخول ہو اور اس کی تردید رب العالمین کا یہ ارشاد کرتا ہے : (آیت) ” علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ “۔ اور یہ تحدید چھوڑنے پر دلیل ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 319 دارالکتب العلمیہ) اور اللہ تعالیٰ ہی حقائق الامور کے بارے جاننے والا ہے۔ اور ثعلبی نے حدیث ذکر کی ہے۔ بیان کیا ہے کہ یہ آیت ” لاجناح علیکم ان طلقتم النسآء “۔ الآیہ انصار کے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس نے بنی حنیفہ کی ایک عورت سے شادی کی اور اس کے لئے مہر مقرر نہ کیا پھر اسے چھونے سے پہلے ہی طلاق دے دی تب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تو اسے متعہ دے اگرچہ وہ تیری ٹوپی ہی ہو “ متعھا ولو بقلنوتک “۔ (1) (معالم التنزیل، جلد 1، صفحہ 324، دارالفکر) اور دارقطنی نے سوید بن غفلہ سے روایت کیا ہے کہ عائشہ خثعمیہ حضرت امام حسن بن علی بن ابی طالب ؓ کے نکاح میں تھی جب حضرت علی ؓ شہید ہوئے اور امام حسن ؓ کی خلاف کی بیعت کرلی گئی تو اس نے کہا : اے امیر المومنین ! تجھے خلافت مبارک ہو، تو آپ نے فرمایا : حضرت علی ؓ شہید کردیے گئے ہیں اور تو خوشی کا اظہار کر رہی ہے ! اذھبی فانت طالق ثلاثا “۔ تو جا تجھے تین طلاقیں ہیں۔ راوی کا بیان ہے کہ اس نے اپنا کمبل لپیٹ لیا اور بیٹھ گئی یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی، پس آپ نے اس کی طرف بطور متعہ دس ہزار اور اس کے مہر میں سے جو ابھی باقی تھا وہ سب بھیج دیا، تو اس نے کہا : متاع قلیل من حبیب مفارق : جدا ہونے والے محبوب کی نسبت متعہ انتہائی قلیل ہے۔ پس جب آپ کے پاس اس کا یہ قول پہنچا تو آپ رونے لگے اور فرمایا : اگر میں نے اپنے جد امجد سے نہ سنا ہوتا یا میرے باپ نے مجھے بتایا ہے کہ انہوں نے میرے جد امد سے سنا۔ آپ فرماتے ہیں : وہ آدمی جس نے اپنی بیوی کو تین مبہم یا اقراء کے وقت تین طلاقیں دیں تو وہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے سوا کسی اور زوج سے شادی کرلے، تو میں اس کی طرف رجوع کرلیتا۔ (2) (سنن دارقطنی، کتاب الطلاق :، جلد 4، صفحہ : 30، دارالمحاسن قاہرہ) ایک روایت میں ہے کہ قاصد نے انہیں اس کی خبر دی اور وہ ررونے لگے اور فرمایا : اگر میں نے اسے طلاق کے ساتھ مکمل جدا نہ کردیا ہوتا تو میں اس کے طرف رجوع کرلیتا، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : جس آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں ہر طہر کے وقت ایک طلاق یا ہر مہینے کے شروع میں ایک طلاق یا اسے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں تو وہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ کسی اور خاوند سے شادی کرلے (ایما رجل طلق امراتہ ثلاثا عند کل طھر تطلیقۃ او عند راس کل شھر تطلیقۃ اوطلقھا ثلاثا جمیعا لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ) (3) (سنن دارقطنی، کتاب الطلاق :، جلد 4، صفحہ : 30، دارالمحاسن قاہرہ) مسئلہ نمبر : (9) وہ آدمی جو متعہ سے جاہل اور ناواقف ہو یہاں تک کہ کئی سال گزر گئے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے دے اگرچہ وہ شادی بھی کرلے، اور اگر وہ عورت فوت ہوجائے تو اس کے ورثا کو دے۔ اسے ابن مواز نے ابن قاسم سے روایت کیا ہے۔ اور اصبغ نے کہا ہے : اگر عورت فوت ہوجائے تو پھر اس پر کوئی شے لازم نہیں ہے کیونکہ متعہ طلاق کی وجہ سے پہنچنے والے غم کے سبب عورت کو تسلی دینے کے لئے ہے اور وہ مقصود فوت ہوچکا ہے اور پہلے قول کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک حق ہے جو مرد کے ذمہ ثابت ہوچکا ہے۔ لہذا وہ دیگر حقوق کی طرح عورت سے اس کے ورثاء کی طرف منتقل ہوجائے گا اور یہ ان کے مذہب میں متعہ کے واجب ہونے کا احساس ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ واللہ اعلم مسئلہ نمبر : (10) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” علی الموسع قدرہ وعلی المقتر قدرہ “۔ یہ متعہ کے وجوب پر ددلیل ہے، جمہور نے اسے ” الموسع “ یعنی واؤ کے سکون اور سین کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 319 دارالکتب العلمیہ) اور اس سے مراد وہ ہے جس کی حالت میں وسعت اور خوشحالی ہو، کہا جاتا ہے : فلاں ینفق علی قدرہ یعنی فلاں اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرتا ہے اور ابو حیوہ نے اسے واؤ کے فتحہ اور سین کی شد اور فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ (یعنی الموسع) ابن عامر، حمزہ، کسائی اور عاصم نے حفص کی روایت میں دونوں مقامات پر دال کو فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ (یعنی قدرہ) اور ابن کثیر، نافع، ابو عمرو، اور عاصم نے ابوبکر کی روایت میں قدرہ یعنی دونوں جگہوں پر دال کو سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ابو الحسن الاخفش وغیرہ نے کہا ہے : یہ دونوں ہم معنی ہیں، دونوں لغتیں فصیح ہیں۔ اور اسی طرح ابو زید نے بیان کیا ہے۔ کہتے ہیں : خذ قدر کذا و قدر کذا۔ دونوں کا معنی ایک (یعنی اتنی مقدار لے لو) اور کتاب اللہ میں پڑھتے ہیں : (آیت) ” فسالت اودیۃ بقدرھا (الرعد : 17) ترجمہ : پس بہنے لگیں وادیاں اپنے اپنے اندازے کے مطابق) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” وما قدروا اللہ حق قدرہ “۔ (الانعام : 91) ترجمہ : اور نہ قدر پہچانی انہوں نے اللہ کی جیسے حق تھا اس کی قدر پہچاننے کا) اگر دال کو حرکت دی جائے تو بھی جائز ہے اور ” المقتر “ کا معنی ہے قلیل المال (یعنی ایسا آدمی جس کے پاس مال کم ہو، وہ تنگدست ہو) متاعا یہ مصدر ہونے کی بنا پر منصوب ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 319 دارالکتب العلمیہ) یعنی متعوھن متاعا۔ تم انہیں خرچہ دو ” بالمعروف “ یعنی جس طرح شریعت میں بیان کیا گیا ہے میانہ روی وغیرہ۔ مسئلہ نمبر : (11) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” حقا علی المحسنین “۔ یعنی یہ نیکوکاروں کا فرض ہے۔ کہا جاتا ہے : حققت علیہ القضاء احققت ‘ یعنی میں نے فیصلہ اس پر لازم کردیا۔ اس میں اس پر دلیل ہے کہ متعہ واجب ہے کیونکہ اس کے بارے حکم دیا گیا ہے اور قول باری تعالیٰ ” حقا “ وجوب کی تاکید کے لئے ہے۔ اور (آیت) ” علی المحسنین “۔ اور (آیت) ” علی المتقین “۔ کا معنی ہے علی المؤمنین “ یعنی مومنین پر لازم ہے۔ اسی لئے یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی یہ کہے : لست بمحسن ولامتق (کہ میں محسن اور متقی نہیں) اور لوگوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ تمام محسنین اور متقین ہوں، پس وہ اللہ تعالیٰ کے فرائض ادا کرنے کے ساتھ محسن ہوتے ہیں اور وہ اس کی نافرمانی سے اجتناب کرتے ہیں تاکہ وہ جن ہم میں داخل نہ ہوں، پس تمام مخلوق پر واجب ہے کہ وہ محسنین اور متقین ہوں اور حقا یہ متاعا کی صفت ہے یا پھر مصدر ہونے کی بنا پر منصوب ہے اور اسے امر کی تاکید لئے لایا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 2:237

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے پہلے طلاق دے دو لیکن مہر مقرر کرچکے ہو تو آدھا مہر دینا ہوگا ہاں اگر عورتیں مہر بخش دیں یا مرد جن کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے (اپنا حق) چھوڑ دیں (اور پورا مہر دے دیں تو ان کو اختیار ہے) اور اگر تم مرد لوگ ہی اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیزگاری کی بات ہے اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

آیت نمبر : 237۔ اس میں آٹھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) لوگوں نے اس آیت میں اختلاف کیا ہے، پس ایک جماعت نے کہا ہے، اس میں سے امام مالک (رح) وغیرہ ہیں کہ یہ مہر مقر مقرر ہونے کے بعد متعہ کے حکم سے مطلقہ کو نکالنے والی ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اسے شامل ہے (آیت) ” ومتعوھن “ اور حضرت ابن مسیب ؓ نے کہا ہے : اس آیت کو سورة الاحزاب کی آیت نے منسوخ کردیا ہے، کیونکہ وہ ہر حس مطلقہ کے متعہ کو متضمن ہے جس کے ساتھ دخول نہیں ہوا اور حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے : اس آیت نے اپنے سے پہلی آیت کو منسوخ کیا ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 320 دارالکتب العلمیہ) میں (مفسر) کہتا ہوں : حضرت سعید ؓ اور حضرت قتادہ ؓ کا قول محل نظر ہے کیونکہ نسخ کی شروط موجود نہیں ہیں اور انہیں جمع کرنا ممکن ہے اور ابن القاسم (رح) نے المدونہ میں کہا ہے : متعہ اس ارشاد کے مطابق ہر مطلقہ کے لئے ہے : (آیت) ” وللمطلقت متاع بالمعروف “۔ اور غیر مدخول بہا کے لئے اس آیت کے مطابق ہے جو سورة الاحزاب میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ساتھ اس مطلقہ کو اس حکم سے مستثنی کردیا ہے جس کے لئے مہر مقرر کیا گیا اور اسے قبل از دخول طلاق ہوگئی اور اس کے لئے صرف اس مہر کا نصف ثابت کیا جو اس کے لئے مقرر کیا گیا۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 320 دارالکتب العلمیہ) اور علماء کے ایک فریق نے کہا ہے ان میں سے ابو ثور ہیں کہ عموما ہر مطلقہ کے لئے متعہ ہے اور اس آیت نے یہ بیان کیا ہے کہ جس کے لئے مہر مقرر کیا گیا ہے وہ اس میں سے نصف بھی لے گی اور آیت سے اس کے متعہ کو ساقط کرنا مراد نہیں ہے بلکہ اس کے لئے متعہ اور نصف مہر ہے (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 320 دارالکتب العلمیہ) مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فنصف ما فرضتم “۔ یعنی جو مہر تم نے مقرر کیا اس کا نصف واجب ہے یعنی بالاجماع مہر میں سے نصف خاوند کے لئے ہے اور نصف عورت کے لئے اور نصف دو میں سے ایک جز ہے۔ پس کہا جاتا ہے : ’ نصف الماء القدح یعنی پانی پیالے کے نصف تک پہنچ گیا، اور نصف الازار الساق “۔ چادر پنڈلی کے نصف تک ہوگی، ہر وہ شے جو اپنے نصف تک پہنچ جائے تو تحقیق وہ اس کا نصف ہوگئی۔ جمہور نے ” فنصف “۔ رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور ایک جماعت نے ” فنصف “ یعنی فا کو نصف کے ساتھ پڑھا ہے معنی یہ ہے کہ تم نصف دو ۔ حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت زید بن ثابت ؓ نے ” فنصف “ تمام قرآن میں نون کو ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ بھی ایک لغت ہے۔ اور اسی طرح اصمعی نے ابو عمرو بن العلاء سے قرات روایت کی ہے (4) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 320 دارالکتب العلمیہ) کہا جاتا ہے : نصف ونصف و نصیف۔ یہ تینوں نصف کے بارے میں لغات ہیں اور حدیث میں ہے : لوان احدکم انفق مثل احدذھبا مابلغ مد احدھم ولا نصیفہ، ای نصفہ (1) (صحیح بخاری، کتاب المناقب، جلد 1، صفحہ 518، وزارت تعلیم، صحیح بخاری، باب : قول النبی لو کنت متخذا حدیث نمبر : 3397، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) (یعنی اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کی مثل سونا خرچ کرے تو وہ ان میں سے کسی کے مد کو نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس کے نصف کو) اور نصیف کا معنی القناع (اوڑھنی دوپٹہ) بھی ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) جب آدمی نے عورت کو مہر دے دیا پھر اسے قبل از دخول طلاق دے دی اور مہر عورت کے قبضے میں بڑھتا رہا تو امام مالک نے فرمایا ہے : کل سامان جو مرد نے اسے بطور مہر دیا یا غلام تو دونوں کی بڑھوتری دونوں (مرد وعورت) کے لئے ہوگی اور اس کا نقصان بھی دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا۔ اور اس کی ہلاکت بھی ان دونوں پر اکٹھی پڑے گی، اس صورت میں اس میں سے عورت پر کوئی شے نہ ہوگی۔ اور اگر اس نے اسے سونے یا چاندی کی معینہ مقدار بطور مہر دی اور اس نے اس کے ساتھ غلام یا گھر خرید لیا یا اس کے عوض ان کا کچھ حصہ خرید لیا یا اس کے سوا خوشبو یا گھر کا سازوسامان یا اس کے علاوہ کوئی ایسی شے خریدی جس میں عورت کا تصرف ہو اپنی حاجت و ضرورت کے لئے اور مرد کے ساتھ اس گھر میں رہنے کی خاطر اپنے معاملات کی اصلاح کے لئے، تو وہ تمام کا تمام اسی کے قائم مقام ہے کہ اگر وہ اسے وہی بطور مہر دیتا اور اس کی نمو اور کمی دونوں کے درمیان منقسم ہوگی، اور اگر اس نے اسے قبل از دخول طلاق دی تو پھر اس کے لئے نصف کے سوا کچھ نہیں ہے اور نہ عورت پر یہ لازم ہے کہ وہ مرد کو اس مہر کا نصف بطور قرض ادا کرے جس پر اس نے قبضہ کیا ہے، اور اگر عورت نے کامل مہر یا اس کے کچھ حصہ کے ساتھ کوئی شے خریدی تو وہ اس کے ساتھ مختص ہوجائے گی اور عورت پر مرد کے لئے اس مہر کا نصف بطور قرض ہوگا جس پر عورت نے قبضہ کیا ہے اور اسی طرح اگر عورت نے کسی غیر سے غلام یا گھر خرید لیا اس ہزار کے عوض جو مرد نے اسے بطور مہر دیا تھا پھر اسے دخول سے پہلے طلاق دے دی تو وہ اس پر ہزار کے نصف کے لئے رجوع کرسکتا ہے۔ مسئلہ نمبر : (4) اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ جس نے اپنی بیوی کے ساتھ مجامعت کی پھر فوت ہوگیا درآنحالیکہ اس کے لئے مہر مقرر کیا گیا تھا تو اس عورت کے لئے وہ کامل مہر مسمی ہوگا اور میراث بھی ہوگی اور اس پر عدت بھی ہوگی۔ اور علماء نے ایسے آدمی کے بارے میں اختلاف کیا ہے جو عورت کے ساتھ خلوت تو اختیار کرتا ہے اور اس سے مجامعت نہیں کرتا یہاں تک کہ اسے جدا کردیا، تو علماء کوفہ اور امام مالک (رح) نے کہا ہے : اس پر تمام مہر واجب ہوگا اور عورت پر عدت بھی ہوگی، کیونکہ حضرت ابن مسعود ؓ کی حدیث ہے، انہوں نے کہا : خلفائے راشدین نے اس آدمی کے بارے میں فیصلہ فرمایا جس نے دروازہ بند کرلیا یا پردہ لٹکا لیا تو اس عورت کے لئے میراث ہوگی اور اس پر عدت بھی ہوگی۔ (2) یہ مرفوع روایت ہے اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے، اس کا بیان سورة النساء میں آئے گا۔ اور امام شافعی کامل مہر واجب نہیں کرتے اور نہ ہی عورت پر عدت ہوگی جبکہ دخول نہ ہو، ظاہر قرآن کریم اس کی تائید کرتا ہے۔ شریح نے کہا ہے : میں نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بابا یا سترا کا ذکر کیا ہو، جبکہ آپ کا خیال یہ ہے کہ چونکہ مرد نے عورت کو مس نہیں کیا لہذا اس کے لئے نصف مہر ہوگا۔ یہی حضرت ابن عباس ؓ کا مذہب ہے، اور اس بارے میں ہمارے علماء کا موقف عنقریب سورة النساء میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ رب کریم کے اس ارشاد کے تحت : وقد افضی بعضکم الی بعض۔ مسئلہ نمبر : (5) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الا ان یعفون اویعفوا الذی بیدہ عقدہ النکاح “۔ الایۃ۔ اس میں (آیت) ” الا ان یعفون “۔ استثنا منقطع ہے۔ کیونکہ ان کا نصف معاف کرنا ان کے لینے کی جنس میں سے نہیں ہے۔ اور ” یعفون “ کا معنی یترکن (وہ چھوڑ دیتی ہیں) اور تصفحن (وہ درگزر کرتی ہیں) ہے اور اس کا وزن یفعلن ہے، معنی یہ ہے مگر یہ کہ وہ اس نصف کو چھوڑ دیتی ہیں جو ان کے لئے زوج پر واجب ہوتا ہے اور ان داخل ہونے کے باوجود نون ساقط نہیں ہوا، کیونکہ مضارع میں جمع مؤنث کا صیغہ رفع، نصب اور جزم کی صورت میں ایک ہی حالت پر رہتا ہے اور یہ ضمیر ہے علامت اعراب نہیں ہے۔ پس اسی وجہ سے نون ساقط نہیں ہوا، کیونکہ اگر نون ساقط ہوجائے تو پھر مذکر کے ساتھ اس کا اشتباہ لازم آئے۔ اس آیت میں معاف کرنے والیوں میں ہر وہ عورت ہے جو اپنی ذات کے معاملہ کی خود مالک ہوتی ہے پس اللہ تعالیٰ نے انہیں مہر ثابت ہوجانے کے بعد اسے ساقط کرنے کی اجازت دی ہے، کیونکہ اسے خالص ان کا حق بنایا ہے، پس وہ اس میں قائم رکھنے اور ساقط کرنے کا تصرف کرسکتی ہیں جیسے چاہیں جبکہ وہ اپنے نفسوں کے معاملہ کی ماملک ہیں اور وہ بالغ، عاقل اور ہدایت یافتہ بھی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور فقہاء وتابعین کی ایک جماعت نے کہا ہے : اس باکرہ عورت کا معاف کرنا بھی جائز ہوتا ہے جس کا کوئی ولی نہ ہو اور اسے سحنون نے المدونہ میں ابن قاسم کے سوا کسی اور سے بیان کیا ہے اس کے بعد کہ ابن قاسم نے ذکر کیا ہے کہ اس کا نصف مہر کو ساقط کرنا جائز نہیں ہے۔ رہی وہ جو باپ یا وصی کے زیر پر وش رہی تو اس کا اپنے نصف مہر کو ساقط کرنا جائز نہیں۔ یہ ایک ہی قول ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں جسے میں جانتا ہوں۔ مسئلہ نمبر : (6) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” اویعفوا الذی بیدہ “۔ اس کا عطف پہلے پر ہے، وہ مبنی ہے اور یہ معرب ہے اور حسن نے ” او یعفو واؤ کو ساکن پڑھا ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 321 دارالکتب العلمیہ) گویا کہ انہوں نے واؤ پر فتحہ کو ثقیل سمجھا ہے، لوگوں نے اس ارشاد کے معنی مراد بہ میں اختلاف کیا ہے : (آیت) ” اویعفوا الذی بیدہ عقدۃ النکاح “۔ پس دارقطنی نے حضرت جبیر بن مطعم (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بنی نصر کی ایک عورت سے شادی کی اور پھر دخول سے پہلے ہی اسے طلاق دے دی اور اس کی طرف کامل مہر بھیج دیا اور فرمایا : میں اسے معاف کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : (آیت) ” الا ان یعفون اویعفوا الذی بیدہ عقدہ النکاح “۔ (بقرہ 237) اور میں اس سے معاف کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں (2) (سنن دارقطنی، کتاب النکاح :، جلد 4، صفحہ : 279، دارالمحاسن قاہرہ) اور انہوں نے اس قول باری تعالیٰ کی تاویل کی : (آیت) ” او یعفو الذی بیدہ عقدۃ النکاح “۔ مراد اپنی ذات ہے ہر حال میں طلاق سے پہلے بھی اور طلاق کے بعد بھی۔ یعنی یا وہ معاف کر دے جس کے ہاتھ میں اپنے نکاح کی گرہ ہے (یعنی عبارت ہے) عقدۃ نکاحہ، پھر جب لام داخل کیا گیا تو ہاء کو حذف کردیا گیا، جیسا کہ اس ارشاد میں ہے : (آیت) ” فان الجنۃ ھی الماوی “ ای ماواہ۔ نابغہ نے کہا ہے : لھم شیۃ لم لعطھا اللہ غیرھم من الجود والاحلام غیر عوازب : اس میں الاحالم اصل میں احلامھم ہے۔ اسی طرح قول باری تعالیٰ : (آیت) ” عقدۃ النکاح “ اصل میں عقدۃ نکاحہ ہے۔ دارقطنی نے حضرت قتیبہ بن سعید کی حدیث سے مرفوع روایت بیان کی ہے کہ ابن لہیعہ نے عمرو بن شعیب سے، انہوں نے اپنے باپ کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت ذکر کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ولی عقدۃ النکاح الزوج “۔ (1) (سنن دارقطنی، کتاب النکاح :، جلد 4، صفحہ : 279، دارالمحاسن قاہرہ) کہ نکاح کی گرہ کا ولی زوج ہے۔ یہ حضرت علی، حضرت ابن عباس، حضرت سعید بن مسیب اور قاضی شریح رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے بھی مسند بیان کی گئی ہے فرمایا : اسی طرح نافع بن جبیر، محمد بن کعب، طاؤس، مجاہد، شعبی، اور سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علہیم نے بھی کہا ہے اور اس کے سوا نے حضرت مجاہد اور حضرت ثوری رحمۃ اللہ علہیم کا اضافہ کیا ہے۔ اسے امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے اختیار کیا ہے اور امام شافعی (رح) کے قول سے بھی یہی صحیح ہے، یہ تمام کے تمام عورت کے مہر میں سے کسی شے پر ولی کے لئے کوئی حق نہیں دیکھتے، اس پر اجماع ہونے کی وجہ سے کہ ولی اگر زوج کو طلاق سے پہلے مہر سے بری کر دے تو یہ جائز نہیں اور اسی طرح طلاق کے بعد بھی ہے۔ اور اس پر بھی اجماع ہے کہ ولی اس کے مال میں سے کوئی شے ہبہ کرنے کا مالک نہیں ہوتا اور مہر بھی اس کا مال ہے۔ اس پر بھی اجماع ہے کہ اولیاء میں سے وہ بھی ہیں جن کا معاف کرنا جائز نہیں ہوتا اور وہ چچا کے بیٹے اور بھائیوں کے بیٹے ہیں، اسی طرح باپ بھی ہے۔ واللہ اعلم۔ اور ان میں سے وہ بھی ہے جس نے کہا وہ ولی ہے، اسے دارقطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی بیان کیا ہے۔ (2) (سنن دارقطنی، کتاب النکاح :، جلد 3، صفحہ : 280، دارالمحاسن قاہرہ) انہوں نے کہا ہے : یہی ابراہیم، علقمہ اور حسن رحمۃ اللہ علہیم کا قول ہے اور اس کے سوا حضرت عکرمہ، طاؤس، عطا، ابو الزناد، زید بن اسلم، ربیعہ، محمد بن کعب، اب شہاب، اسود بن یزید، شعبی، قتادہ، مالک اور شافعی کے قدیمی قول نے اس میں اضافہ کیا ہے۔ اور باپ کے لئے اپنی باکرہ بیٹی کا نصف مہر معاف کرنا جائز ہوتا ہے جب اسے طلاق ہوجائے، چاہے وہ حیض کی عمر کو پہنچے یا نہ پہنچے۔ عیسی بن دینار نے کہا ہے : وہ اس میں سے کسی شے کے لئے اپنے باپ کی طرف رجوع نہیں کرے گی اور اس پر دلیل یہ ہے کہ اس سے مراد ولی ہے، بیشک اللہ تعالیٰ نے آیت کے اولی حصہ میں ارشاد فرمایا ہے۔ (آیت) ” وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضۃ (البقرۃ : 237) پس ازواج کا ذکر کیا اور اس خطاب کے ساتھ انہیں خطاب فرمایا : پھر فرمایا : (آیت) ” الا ان یفون “۔ پس عورتوں کا ذکر کیا، (آیت) ” اویعفوا الذی بیدہ عقدہ النکاح “۔ تو یہ تیسرا حصہ ہے اسے اس زوج کی طرف نہیں لوٹایا یا جائے گا جس کا ذکر پہلے ہوا مگر یہ کہ اس کے سوا کوئی موجود نہ ہو، حالانکہ وہ پایا گیا ہے اور وہ ولی ہے اور وہی مراد ہے، اس کا یہ معنی مکی نے بیان کیا ہے اور اسے ابن عربی نے ذکر کیا ہے۔ اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” الا ان یعفون “۔ اور یہ معلوم شدہ ہے کہ ہر عورت معاف نہیں کرسکتی، کیونکہ صغیرہ اور وہ عورت جس پر پابندی ہو ان کے لئے معاف کرنے کا اختیار نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ نے دونوں قسموں کو بیان فرمایا دیا اور فرمایا (آیت) ” الا ان یعفون “۔ یعنی اگر وہ اس کے اہل ہوں (آیت) ” اویعفوا الذی بیدہ عقدہ النکاح “۔ اور اس سے مراد ولی ہے کیونکہ اس میں اختیار اسی کے پاس ہے۔ اور اسی طرح ابن وہب، اشہب، ابن عبدالحکم اور ابن قاسم نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے کہ وہ اپنی باکرہ بیٹی کے حق میں باپ ہے اور اپنی لونڈی کے حق میں آقا ہے۔ اور بلاشبہ ولی کا معاف کرنا جائز ہوتا ہے جب کہ وہ صائب الرائے لوگوں میں سے ہو اور اس کا معاف کرنا جائز نہیں ہوتا جبکہ وہ بیوقوف اور احمق ہو۔ اور اگر کہا جائے : ہم تسلیم نہیں کرتے کہ اس سے مراد ولی ہے بلکہ اس سے مرد زوج ہے اور یہ اسم اس کے زیادہ قریب ہے کیونکہ یہ ولی کی نسبت عقد کرنے کا زیادہ مالک ہوتا ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ ہم تسلیم نہیں کرتے کہ باکرہ بیٹی حق میں باپ کی نسبت زوج عقد کا زیادہ مالک ہوتا ہے، بلکہ وہاں تو صرف باکرہ کا باپ مالک ہوتا ہے نہ کہ زوج، کیونکہ جس پر عقد کیا گیا ہے وہ باکرہ کی بضع ہے اور زوج اس کا عقد کرنے کا مالک نہیں ہوتا بلکہ باپ اس کا مالک ہوتا ہے۔ اور شریح نے بھائی کے نصف مہر معاف کرنے کو جائز قرار دیا ہے اور اسی طرح عکرمہ نے کہا ہے : اس کا معاف کرنا بھی جائز ہے جس نے دونوں کے درمیان عقد نکاح کیا چاہے وہ چچا ہو یا باپ ہو یا بھائی ہو، اگرچہ وہ ناپسند بھی کرے۔ ابو نہیک اور شعبی نے او یعفو واو کو الف کے مشابہ قرار دے کر اسے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس کی مثل شاعر کا قول بھی ہے : فما سودتنی عامر عن وراثہ ابی اللہ ان اسمو بام ولا اب : اس میں اسمو کی واؤ کو سکون کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ مسئلہ نمبر : (7) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وان تعفو اقرب للتقوی “۔ یہ مبتدا اور خبر ہے۔ اور تعفو دراصل تعفو وا ہے پہلی واؤ کو ساکن کردیا گیا اس پر حرکت ثقیل ہونے کی وجہ سے، پھر التقائے ساکنین کی وجہ سے اسے حذف کردیا گیا اور حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق یہ خطاب مردوں اور عورتوں کو ہے اور مردوں کو اس میں غلبہ دیا گیا ہے۔ اور لام بمعنی الی ہے یعنی اقرب الی التقوی۔ اور جمہور نے اسے تعفوتاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ابو نہیک اور شعبی نے وان یعفوا یاء کے ساتھ قرات کی ہے، یہ ضمیر اسی کی طرف راجع ہے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 321 دارالکتب العلمیہ) میں (مفسر) کہتا ہوں : اسے وان تعفون تاء کے ساتھ نہیں پڑھا گیا کہ یہ عورتوں کے لئے ہو۔ اور جمہور نے ” ولا تئسؤا الفضل “ کو واؤ کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یحی بن یعمر نے اسے کسرہ دیا ہے۔ اور حضرت علی، مجاہد، ابو حیوہ، ابن ابی عبلہ رحمۃ اللہ علہیم نے ولا تناسوا الفضل پڑھا ہے۔ اور یہ قرات معنی کو پختہ کرنے والی ہے، کیونکہ یہ تناسی (بھولنے کا بہانہ کرنا) کا محل ہے نہ کہ نسیان کا مگر تشبیہ کی بنا پر۔ مجاہد نے کہا ہے : الفضل سے مراد مرد کا کل مہر کو مکمل کرنا ہے یا عورت کا اپنے نصف مہر کو چھوڑ دینا ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 322 دارالکتب العلمیہ) مسئلہ نمبر : (8) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان اللہ بما تعملون بصیر “۔ یہ خبر اپنے ضمن میں محسن کے لئے وعدہ اور غیر محسن کے لئے محرومی لئے ہوئے ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 322 دارالکتب العلمیہ) یعنی اللہ تعالیٰ پر تمہارا معاف کرنا اور تمہارا پورا پورا طلب کرنا مخفی نہیں ہے۔