2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:239

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو پیادے یا سوار (جس حال میں ہو نماز پڑھ لو) پھر جب امن (و اطمینان) ہوجائے تو جس طریق سے خدا نے تم کو سکھا دیا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے خدا کو یاد کرو

آیت نمبر : 239۔ اس میں نو مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” فان خفتم “۔ یہ خوف سے ماخوذ ہے جس کا معنی گھبراہٹ اور ڈر ہے۔ ” فرجالا “۔ یعنی تم نماز پڑھو پیدل چلتے ہوئے (آیت) ” اور کبانا “ یا سوار۔ یہ رجالا پر معطوف ہے۔ اور الرجال راجل یا رجل کی جمع ہے یہ انکے اس قول سے ہے : رجل الانسان یرجل رجلا “ جب آدمی کے پاس سواری نہ ہو اور وہ اپنے قدموں پر چلے، (صفت کا صیغہ ہوگا) فھو رجل وراجل ورجل “۔ (جیم کے ضمہ کے ساتھ) یہ اہل حجاز کی لغت ہے، وہ کہتے ہیں : مشی فلان الی بیت اللہ حافیا رجلا (فلاں بیت اللہ شریف کی طرف ننگے پاؤں پیدل چلا) اسے طبری وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ ورجلان ورجیل ورجل “۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 324 دارالکتب العلمیہ) اور اس کی جمع رجال ورجلی ورجال ورجالۃ ورجالی ورجلان و رجلۃ ورجلۃ (جیم کے فتحہ کے ساتھ) وارجلۃ واراجل واراجیل کین اوزان پر بنائی جاتی ہے اور الرجل وہ جو کہ اسم جنس ہے اس کی جمع رجال بھی بنائی جاتی ہے۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 324 دارالکتب العلمیہ) مسئلہ نمبر : (2) جب اللہ تعالیٰ نے بندے کو نماز میں قنوت کی کیفیت میں کھڑے ہونے کا حکم ارشاد فرمایا اور قنوت سے مراد وقار، سکینہ اور اعضاء کا پرسکون ہونا ہے اور یہ اغلبا امن اور طمانینت کی حالت میں ممکن ہو سکتا ہے تو پھر حالت خوف کا ذکر فرمایا جو کبھی کبھار طاری ہو سکتی ہے اور بیان فرمایا کہ یہ عبادت بندے سے کسی حال میں بھی ساقط نہیں ہوتی اور اپنے بندوں کو نماز کے بارے میں رخصت عطا فرمائی کہ وہ اپنے قدموں پر پیدل چلتے ہوئے اور گھوڑے، اونٹ اور اسی طرح کی کسی شے پر سواری کرتے ہوئے اپنے سر کے اشارے کے ساتھ جس طرف منہ کرنا ممکن ہو متوجہ ہو کر نماز پڑھ لیں، یہ عطاء کا قول ہے، اور یہی اس گھبراہٹ اور خوف کی نماز ہے جب خوف شدت اور سختی کے ساتھ آدمی کی ذات پر مسلط ہوجائے جنگ کی حالت میں یا ایسا درندہ جو اسے تلاش کر رہا ہو، اس سے خوف کی حالت میں یا ایسے دشمن سے خوف ہو جو اس کا پیچھا کر رہا ہو یا ایسے سیلاب کا خوف ہو جو اسے اٹھا سکتا ہو، بالجملہ ہر وہ شے جس سے آدمی کو اپنی جان پر خوف ہو تو وہی وہ عذر مبیح ہے جسے یہ آیت متضمن ہے (4) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 322 دارالکتب العلمیہ، صحیح بخاری، کتاب تفسیر القران حدیث نمبر 4171، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) مسئلہ نمبر : (3) یہ رخصت اپنے ضمن میں علماء کا اجماع بھی لئے ہوئے ہے کہ انسان جہاں کہیں بھی ہو راستوں سے ہٹ جائے اور رخ تبدیل کرلے اور اپنی عقل کے مطابق اپنی جان بچانے کے لئے ممکنہ اقدام کرے۔ مسئلہ نمبر : (4) اس خوف کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے جس میں نماز پیادہ اور سوار پڑھنا جائز ہوجاتی ہے امام شافعی نے فرمایا : مراد ایسا خوف ہے کہ دشمن ان پر بالکل قریب آچکا ہو اور وہ اکٹھے ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہو اور مسلمان غیر محفوظ ہوں یہاں تک کہ ہتھیار تیر وغیرہ ان تک پہنچ سکتے ہوں یا اس سے بھی زیادہ دشمن ان کے قریب ہو کہ نیزے اور تلواریں ان تک پہنچ سکتی ہوں یا اس کے پاس کوئی ایسا مخبر آئے جس کی خبر کی تصدیق کی جاسکتی ہو اور وہ اسے خبر دے کہ دشمن اس کے قریب ہے اور بڑی تیزی سے وہ اس کی طرف بڑھ رہا ہے پاس اگر ان دو معنوں میں سے کوئی ایک نہ ہو تو پھر اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ صلوۃ الخوف پڑھے اور اگر خبر کی بنا پر انہوں نے صلوۃ خوف پڑھی پھر دشمن چلا گیا تو وہ نماز کا اعادہ نہ کریں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ نماز کا اعادہ کریں گے۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ ابو عمر نے کہا ہے : وہ حالت جس میں خوفزدہ ہونے والے کے لئے جائز ہوتا ہے کہ وہ نماز پڑھنے پیادہ یا سوار، قبلہ شریف کی طرف منہ کر کے یا کسی اور طرف یہ شدت خوف کی حالت ہے اور وہ حالت جس کے بارے میں آثار وارد ہیں وہ اس کے سوا ہے اور صلاۃ خوف امام کے ساتھ اور لوگوں کو تقسیم کر کے پڑھی جاتی ہے اور اس آیت میں اس کا حکم نہیں ہے اس کا بیان سورة النساء میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور امام مالک نے جنگجو دشمن کے خوف اور درندے کے خوف اور اس جیسی دیگر چیزیں مثلا حملہ کرنے والا اونٹ، سیلاب یا ہر وہ شے جس میں غالب گمان ہلاکت کا ہو، کے درمیان فرق کیا ہے کہ دشمن کے خوف کے علاوہ وقت کے اندر نماز کا اعادہ کرنا مستحب ہے اگر امن اور سکون میسر آجائے اور اکثر فقہائے امصار نے کہا ہے کہ حکم برابر ہے (چاہے خوف دشمن کا ہو یا کسی درندے وغیرہ کا) مسئلہ نمبر : (5) امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے : بلاشبہ قتال نماز کو فاسد کردیتا ہے اور حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث اس کا رد کرتی ہے اور ظاہر آیت اس پر قوی دلیل ہے، عنقریب اس کا بیان سورة النساء میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ امام شافعی (رح) نے کہا ہے : جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے بعض شروط کو ترک کرنے جواز کی رخصت عطا فرمائی ہے تو یہ اس پر دلیل ہے کہ نماز میں قتال کرنا اسے فاسد نہیں کرے گا۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر : (6) امام مالک، امام شافعی، اور علماء کی ایک جماعت رحمۃ اللہ علہیم کے نزدیک خوف کی حالت میں مسافر کی نماز سے رکعتوں کی تعداد کم نہ ہوگی۔ اور حسن بن ابی الحسن اور قتادہ وغیرہما نے کہا ہے کہ وہ ایک رکعت اشارے کے ساتھ پڑھ سکتا ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 335 دارالکتب العلمیہ) امام مسلم نے بکیر بن اخنس سے، انہوں نے حضرت مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی زبان اقدس پر شہر میں چار رکعتیں، سفر میں دو رکعتیں اور خوف کے وقت ایک رکعت نماز فرض کی ہے (1) (صحیح مسلم، کتاب الصلوۃ جلد 1، صفحہ 241، وزارت تعلیم) ابن عبدالبر نے کہا ہے : اس روایت کو بیان کرنے میں بکیر بن اخنس منفرد ہے اور وہ روایت حجت نہیں ہوتی جس میں وہ منفرد ہوتا ہے اور نماز میں اولی یہ ہے کہ اس میں احتیاط برتی جائے وہ آدمی جس نے اپنے خوف اور سفر کی حالت میں دو رکعتیں نماز پڑھ لی تو وہ اختلاف سے یقین کی طرف نکل گیا۔ اور ضحاک ابن مزاحم نے کہا ہے : وہ آدمی جسے حالت جنگ یا کسی اور حالت میں موت کا خوف ہو تو وہ ایک رکعت پڑھ سکتا ہے اور اگر اس پر بھی قادر نہ ہو تو پھر اسے چاہئے کہ دو تکبیریں کہہ لے۔ اور اسحاق بن راہویہ نے کہا ہے : اگر وہ صرف ایک تکبیر پر ہی قادر ہوا تو وہی اس کی طرف سے جائز ہوگی، اسے ابن منذر نے ذکر کیا ہے (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 325 دارالکتب العلمیہ) اور قولہ تعالیٰ (آیت) ” فاذا امنتم فاذکروا اللہ کماعلمکم “۔ یعنی (جب تمہیں امن حاصل ہوجائے) تو تم اس حکم کی طرف لوٹ جاؤ جو تمہیں ارکان کی تکمیل کے بارے دیا گیا ہے، اور مجاہد نے کہا ہے : (آیت) ” امنتم “ کا معنی ہے جب تم دارالسفر سے دارالاقامہ کی طرف نکل جاؤ، علامہ طبری نے اس کا رد کیا ہے۔ (3) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 325 دارالکتب العلمیہ) اور ایک جماعت نے کہا ہے : ” امنتم “ جب تمہارا وہ خوف زائل ہوجائے جس نے تمہیں اس نماز پر مجبور کردیا تھا۔ مسئلہ نمبر : (7) علماء نے خائف کی بنا کے بارے میں اس باب میں اختلاف کیا ہے جب وہ امن میں ہوجائے، حضرت امام مالک (رح) نے کہا ہے : اگر کسی نے ایک رکعت حالت امن میں پڑھ لی پھر اسے خوف لاحق ہوگیا تو وہ سوار ہو اور اسی پر بنا کرلے (یعنی دوسری رکعت سواری پر پڑھ لے تو نماز مکمل ہوجائے گی) اور اسی طرح اگر کسی نے حالت خوف میں سواری پر ایک رکعت پڑھ، پھر اسے امن ہوگیا، تو وہ اترے اور اسی پر بنا کرلے، یہی امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک ہے اور مزنی نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے کہا ہے : جب کوئی امن کی حالت میں نماز شروع کرے، پھر اسے خوف لاحق ہوجائے وہ منہ قبلہ شریف کی طرف کرے اور بنا نہ کرے اور اگر اس نے حالت خوف میں نماز شروع کی پھر اسے امن حاصل ہوجائے تو وہ بنا کرلے اور امام شافعی (رح) نے کہا ہے : سواری سے اترنے والا تو بنا کرسکتا ہے (لیکن) سوار ہونے والا بنا نہیں کرسکتا، اور امام ابو یوسف نے کہا ہے : وہ ان تمام صورتوں میں سے کسی میں بھی بنا نہیں کرسکتا۔ مسئلہ نمبر : (8) قولہ تعالیٰ (آیت) ” فاذکروا اللہ “ کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے تم اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں ایسی نماز کی تعلیم دی ہے جو اصل نماز کے قائم مقام ہے اور تمہاری کوئی نماز فوت نہیں ہوئی اور یہ وہی ہے جسے تم نہ جانتے تھے اور قول باری ” کما “ میں کاف بمعنی شکر ہے تو کہتا ہے : تو میرے ساتھ اسی طرح (سلوک) کر جیسے میں نے تیرے ساتھ کیا اسی طرح بدلہ اور شکر ہوگا اور ” مالم میں ما، علمکم “ کا مفعول ہے۔ مسئلہ نمبر : (9) ہمارے علماء رحمۃ اللہ علہیم نے کہا ہے : صلاۃ کا اصل معنی دعا ہے اور حالت خوف میں تو بدرجہ اولی دعا کے معنی میں ہوگی، اسی لئے خوف کے سبب نماز ساقط نہیں ہوتی اور جب خوف کے سبب نماز ساقط نہیں ہوئی تو پھر یہ زیادہ مناسب اور لائق ہے کہ یہ اس کے سوا حالت مرض یا کسی اور حالت میں ساقط نہ ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہر حال میں نمازوں پر مواظبت اور ان کی محافظت کا حکم ارشاد فرمایا ہے، چاہے صحت کی حالت ہو یا مرض کی، حضر ہو یا سفر، نماز کی قدرت ہو یا عجز خوف ہو یا امن، یہ کسی حال میں بھی مکلف سے ساقط نہیں ہوتی اور کسی قسم کا فساد اور خلل اس کی فرضیت میں حائل نہیں ہو سکتا، راہ نہیں پکڑ سکتا، مریض کا حکم سورة آل عمران کے آخر میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ، اور اس سے مقصود یہ ہے کہ نماز پڑھی جائے گی جس کیفیت میں ممکن ہوگی اور یہ کسی حال میں ساقط نہ ہوگی یہاں تک کہ اگر اسے پڑھنے کا اتفاق نہ ہو مگر آنکھ کے اشارے کے ساتھ تب بھی اسے پڑھنا لازم ہے اور اسی وجہ سے یہ تمام عبادات سے ممتاز ہے، تمام کی تمام عذروں کے سبب ساقط ہوجاتی ہیں اور ان میں رخصت حاصل ہوجاتی ہے، ابن عربی نے کہا ہے : اسی لئے ہمارے علماء نے کہا ہے : یہ مسئلہ عظمی ہے، بیشک نماز ترک کرنے والے کو قتل کردیا جائے گا، کیونکہ نماز اس ایمان کے مشابہ ہے جو کسی حال میں ساقط نہیں ہوتا اور انہوں نے اس بارے میں کہا ہے : نماز اسلام کے ستونوں میں سے ایک ہے جس کی نیابت نہ بدن کے ساتھ جائز ہوتی ہے اور نہ مال کے ساتھ (یعنی نماز کا قائم مقام کوئی اور بدنی یا مالی عبادت نہیں ہو سکتی) اور اس کے تارک کو قتل کردیا جائے گا، اس کی اصل شہادتین ہے (1) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1، صفحہ : 228، دارالفکر) تارک صلوۃ کے بارے میں علماء نے جو کچھ کہا ہے اس کا بیان سورة براۃ میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Ayah 2:240

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے مرجائیں اور عورتیں چھوڑ جائیں وہ اپنی عورتوں کے حق میں وصیت کر جائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جائے اور گھر سے نہ نکالی جائیں ہاں اگر وہ خود گھر سے نکل جائیں اور اپنے حق میں پسندیدہ کام (یعنی نکاح) کرلیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں اور خدا زبردست حکمت والا ہے

آیت نمبر : 240۔ اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا “۔ مفسرین کی ایک جماعت نے اس آیت کی تاویل میں کہا ہے کہ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے وہ اپنے فوت ہونے والے خاوند کے گھر میں ایک سال تک بیٹھی رہے گی اور جب تک وہ گھر سے نہ نکلی اس کے مال میں سے اس پر خرچ کیا جاتا رہے گا اور اگر وہ نکل گئی تو اس کا نفقہ ختم کرنے میں ورثاء پر کوئی حرج نہیں، پھر سال کی مدت کو چار مہینے اور دس دن کے ساتھ منسوخ کردیا گیا اور نفقہ کو سورة نساء میں چوتھے اور آٹھویں حصے کے ساتھ منسوخ کردیا گیا۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 326 دارالکتب العلمیہ) حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت قتادہ ؓ ، حضرت ضحاک ؓ ، حضرت ابن زید ؓ ، اور حضرت ربیع ؓ ، نے یہی کہا ہے، اور سکنی کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، امام بخاری (رح) نے حضرت ابن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان ؓ کو کہا : یہ آیت جو سورة البقرہ میں ہے : (آیت) ” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجاوصیۃ الازواجھم متاعا الی الحول غیر اخراج “۔ تحقیق اسے دوسری آیت نے منسوخ کردیا ہے آپ نے اسے کیوں نہیں لکھایا آپ نے اسے کیوں چھوڑ دیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : اے بھتیجے میں نے اس میں سے کسی شے کو اس کے مکان سے تبدیل نہیں کیا (1) (صحیح بخاری، کتاب التفسیر، جلد 2، صفحہ، 650 وزارت تعلیم) اور علامہ طبری نے حضرت مجاہد (رح) سے بیان کیا ہے : بیشک یہ آیت محکم ہے اس میں کوئی نسخ نہیں ہے اور عدت چار مہینے اور دس دن ثابت ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے وصیت بنادی اس میں سکنی سات مہینے اور بیس راتیں ہے، پس اگر عورت چاہے تو اپنی وصیت میں رہے اور اگر چاہے تو نکل جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” غیر اخراج، فان خرجن فلا جناح علیکم “۔ (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 326 دارالکتب العلمیہ) ابن عطیہ نے کہا ہے : اس تمام کا حکم نسخ متفق علیہ کے ذریعے زائل ہوچکا ہے مگر وہ جو طبری نے حضرت مجاہد (رح) کے بارے میں دعوی کیا ہے اس بارے میں طبری محل نظر ہیں۔ اور حضرت قاضی عیاض (رح) نے کہا ہے : اس پر اجماع منعقد ہے کہ سال کی مدت منسوخ ہوچکی ہے اور اس کی عدت چار مہینے اور دس دن ہے، دوسروں نے کہا : قولہ وصیۃ کا معنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے عورتوں پر زوج کے فوت ہوجانے کے بعد ایک سال تک گھروں میں رہنا واجب ہوتا ہے، پھر اسے منسوخ کردیا گیا۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : جو کچھ طبری نے حضرت مجاہد ؓ سے ذکر کیا ہے وہ صحیح ثابت ہے، بخاری نے روایت کیا ہے : ہمیں اسحاق، روح، شبل نے ابن ابی نجیح سے اور انہوں نے حضرت مجاہد ؓ سے روایت بیان کیا ہے (آیت) ” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا “۔ فرمایا : یہ عدت اپنے زوج کے گھر والوں کے پاس گزارنا واجب تھی پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمایا : (آیت) ” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجاوصیۃ الازواجھم متاعا الی الحول غیر اخراج فان خرجن فلا جناح علیکم فی مافعلن فی انفسھن من معروف “۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے تمام سال کو ساتھ مہینے اور بیس راتیں وصیت بنا دیا، اگر وہ چاہے تو اپنی وصیت میں سکونت رکھے اور اگر چاہے تو نکل جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” غیر اخراج، فان خرجن فلا جناح علیکم “۔ (3) (صحیح بخاری، کتاب تفسیر سورة بقرہ، جلد 2، صفحہ، 650، وزارت تعلیم، ایضا کتاب تفسیر القرآن حدیث نمبر 4172 ضیاء القرآن پبلی کیشنز، ایضا صحیح بخاری کتاب تفسیر القرآن، حدیث نمبر 4167 ضیاء القرآن پبلی کیشنز) مگر پہلا قول زیادہ واضح ہے کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے : ” بلاشبہ یہ عدت چار مہینے اور دس دن ہے تم میں سے کوئی زمانہ جاہلیت میں سال مکمل ہونے پر مینگنیاں بھینکتی تھی ، “ الحدیث : (4) (صحیح بخاری، کتاب الطلاق، جلد 2، صفحہ، 143 وزارت تعلیم) یہ حضور نبی کریم ﷺ کی جانب سے شریعت کے احکام نافذ ہونے سے پہلے ان عورتوں کی حالت کا بیان ہے جن کے خاوند فوت ہوجاتے تھے، پس جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں سال تک گھروں میں ہی رہنے کا حکم ارشاد فرمایا پھر اس مدت کو چار مہینے دس دن کے ساتھ منسوخ کردیا گیا یہ وضاحت کے ساتھ سنت ثابتہ میں ہے جسے اخبار آحاد سے نقل کیا گیا ہے۔ اس پر علماء مسلمین کا اجماع ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں، ابو عمر نے یہی کہا ہے، انہوں نے کہا اور اسی طرح پوری آیت ہے، پس اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی : (آیت) ” والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجاوصیۃ الازواجھم متاعا الی الحول غیر اخراج “۔ جمہور علماء کے نزدیک یہ سب منسوخ ہے، پھر بیویوں کے لئے سال بھر رہائش کی وصیت کرنے کو منسوخ کردیا گیا، سوائے ایک شاذ روایت کے جسے چھوڑ دیا گیا ہے وہ ابن ابی نجیح نے حضرت مجاہد ؓ سے روایت کی ہے اور اس پر کوئی متابع نہیں لائی گئی اور نہ صحابہ، تابعین اور انکے بعد آنے والے علمائے مسلمین میں سے کسی نے اس کے سبب چار مہینے اور دس دن پر اضافہ کیا ہے جہاں تک میں جانتا ہوں۔ اور ابن جریج نے حضرت مجاہد ؓ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے جس پر لوگوں کا عمل ہے پس اجماع منعقد ہوگیا اور اختلاف ختم ہوگیا۔ وباللہ التوفیق۔ مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ (آیت) ” وصیۃ “ حضرت نافع، ابن کثیر، کسائی، عاصم رحمۃ اللہ علہیم نے ایک روایت میں اور ابوبکر رحمۃ اللہ علہیم نے مبتدا ہونے کی بناء پر ” وصیۃ “ کو مرفوع پڑھا ہے اور اس کی خبر ” لازواجھم “ ہے۔ اور یہ معنی ہونے کا احتمال بھی ہے۔ ” علیہم وصیۃ “۔ ان پر وصیت لازم ہے اور قول باری تعالیٰ ” لازواجھم “ صفت ہوا (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 325 دارالکتب العلمیہ) علامہ طبری نے کہا ہے کہ بعض علمائے نحو نے کہا ہے کہ معنی ہے کتبت علیہم وصیۃ ان پر وصیت فرض کی گئی ہے۔ اور قولہ (آیت) ” لازواجھم “ صفت ہوگا (2) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 325 دارالکتب العلمیہ) فرمایا : اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرات میں ہے، اور ابو عمرو، حمزہ اور ابن عامر رحمۃ اللہ علہیم نے وصیۃ منصوب پڑھا ہے اور اسے فعل پر محمول کیا ہے، یعنی فلیوصوا وصیۃ پس چاہئے کہ وہ ضرور وصیت کریں پھر میت تو وصیت نہیں کرسکتی، لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ وفات کے قریب ہوں اور (آیت) ” لازواجھم “ اس قرات کی بنا پر بھی صفت ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی ہے او صی اللہ وصیۃ، اللہ تعالیٰ نے وصیت کو لازم قرار دیا ہے اور ’‘’ متاعا، متعوھن متاعا “ ہے۔ یعنی تم انہیں ضرور نفقہ ادا کرو، یا جعل اللہ لھن ذلک متاعا “۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے وہ خرچہ مقرر فرما دیا ہے، کیونکہ کلام اس پر دلالت کرتا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہو یا مصدر کے سبب جو کہ الوصیۃ ہے، جیسا کہ یہ ارشاد گرامی ہے : (آیت) ” اواطعم فی یوم ذی مسغبۃ، یتیما “۔ (البلد) یہاں متاع سے مراد اس کے سال کا نفقہ ہے۔ مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ (آیت) ” غیر اخراج “۔ اس کا معنی ہے کہ میت کے اولیاء کے لئے اور گھر کے ورثاء کے لئے عورت کو باہر نکالنا جائز نہیں ہے اور غیر اخفش کے نزدیک مصدر کی بنا پر منصوب ہے، گویا کہ یہ فرمایا لا اخراجا، اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ منصوب ہے کیونکہ یہ متاعا کی صفت ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ الموصین (وصیت کرنے والے) سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی ” متعوھن غیر مخرجات “۔ (تم انہیں نفقہ دو اس حال میں انہیں نکالا نہ جائے) اور یہ بھی کہا گیا ہے، کہ حرف جر کے حذف ہونے کے سبب منصوب ہے اصل عبارت ہے : من غیر اخراج “۔ مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ (آیت) ” فان خرجن “۔ الآیہ اس کا معنی ہے اگر وہ اپنے اختیار اور مرضی سے سال سے پہلے نکل جائیں (آیت) ” فلا جناح علیکم “ تو کسی ولی پر یا حاکم پر کسی اور پر کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس پر پورا سال اپنے خاوند کے گھر میں ٹھہرنا واجب نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا نفقہ منقطع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے یا ازواج کی خواہش کے لئے ان پر بناؤ سنگھار کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اے ورثاء ان کے بارے تمہاری نگہبانی کی ذمہ داری ختم ہوچکی ہے پھر ان پر لازم ہے کہ وہ ایک سال عدت گزرنے سے پہلے پہلے شادی نہ کریں یاعدت گزرنے کے بعد ان کی شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) ” من معروف “ مرادوہ طریقہ ہے جو شریعت سے موافقت رکھتا ہو، (آیت) ” واللہ عزیز “ یہ صفت ہے جو اس کے بارے میں وعید کا تقاضا کرتی ہے جس نے اس آیت میں بیان کردہ حد کی مخالفت کی اور عورت کو نکال دیا حالانکہ وہ نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتی، (آیت) ” حکیم “ یعنی اپنے بندوں کے امور میں سے جس کا وہ ارادہ کرتا ہے اسے خوب پختہ کرنے والا ہے۔
Ayahs 2:241–242

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان نفقہ دینا چاہئے پرہیزگاروں پر (یہ بھی) حق ہے

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

اسی طرح خدا اپنے احکام تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

آیت نمبر : 241 تا 242۔ اس آیت میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے، ابو ثور (رح) نے کہا ہے : یہ محکم آیت ہے اور متعہ ہر مطلقہ عورت کے لئے لازم ہے اسی طرح زہری نے کہا ہے (زہری نے کہا) یہاں تک کہ ایسی لونڈی کے لئے بھی جسے اس کا خاوند طلاق دے دیتا ہے۔ اسی طرح حضرت سعید بن جبیر ؓ نے کہا ہے، ہر مطلقہ کے لئے متعہ ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 326 دارالکتب العلمیہ) اور اس آیت کی وجہ سے یہی امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک ہے۔ اور امام مالک نے کہا ہے : ہر مطلقہ کے لئے متعہ ہے چاہے اسے دو طلاقیں ہوں یا ایک طلاق وہ اس کے پاس جائے یا نہ جائے اس کے لئے مہر مقرر کرے یا نہ کرے، سوائے اس عورت کے جس کے پاس جانے سے پہلے اسے طلاق ہوجائے اور اس کے لئے مہر مقرر ہو تو اس کے لئے نصف مہر کافی ہوگا اور اگر اس کے لئے مہر مقرر ہو تو اس کے لئے متعہ ہوگا چاہے وہ مہر مثلی سے کم ہو یا زیادہ اور اس متعہ کی کوئی حد نہیں ہے، اسے آپ سے ابن قاسم نے بیان کیا ہے اور ابن قاسم نے المدونہ سے پردے ڈالنے کے بارے میں نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے مطابق ہر مطلقہ کے لئے متعہ مقرر کیا ہے، پھر دوسری آیت میں اس کی استثناء کردی ہے جس کے لئے مہر مقرر کیا گیا اور اس کے ساتھ دخول نہ ہوا تو اسے متعہ سے خارج کردیا اور ابن زید نے گمان کیا ہے کہ اس آیت نے اسے منسوخ کردیا ہے، ابن عطیہ نے کہا ہے کہ ابن قاسم نے لفظ نسخ سے لفظ استثاء کی طرف فرار اختیار کیا ہے، اس محل میں استثناء کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی، بلکہ وہ تو صرف نسخ ہے جیسا کہ زید بن اسلم نے کہا ہے اور ابن قاسم نے لازم قرار دیا ہے کہ قولہ (آیت) ” وللمطلقت “۔ ہر مطلقہ کو شامل ہے، تو پھر نسخ کا قول لازم اور ضروری ہے، اور حضرت عطا بن ابی رباح ؓ وغیرہ نے کہا ہے : یہ آیت ان ثیبہ عورتوں کے بارے میں ہے جن سے جماع کیا گیا کیونکہ اس آیت کے سوا دوسری میں ان عورتوں کے لئے متعہ کا ذکر گزر چکا ہے جن کے ساتھ دخول نہیں کیا گیا، پس یہ قول اسی عورت کے بارے میں ہے جس کیلئے مس سے پہلے مہر مقر کردیا گیا یہ کبھی عموم میں داخل نہیں ہوئی، اور یہ اس بنا پر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (آیت) ” وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن “۔ یہ عورتوں میں سے اس صنف کو خاص کر رہا ہے اور جب کہا گیا ہے کہ یہ عموم اس قسم کا بھی شامل ہے تو پھر یہ نسخ ہوگا تخصیص نہیں۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 327 دارالکتب العلمیہ) اور امام شافعی (رح) نے دوسرے قول میں کہا ہے : بلاشبہ متعہ نہیں ہے مگر اس عورت کے لئے جسے قبل از دخول طلاق دی جائے اور وہاں نہ مس ہو اور نہ مہر مقرر ہو، کیونکہ جو مہر میں سے کسی شے کی مستحق ہوجائے تو وہ اپنے حق میں متعہ کی محتاج نہیں رہتی، اور حضور نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد : (آیت) ” فتعالین امتعکن “۔ (الاحزاب : 28) اس پر محمول ہے کہ یہ حضور نبی کریم ﷺ کی جانب سے ایک حسان ہے، نہ کہ آپ کے لئے واجب ہے اور قول باری تعالیٰ (آیت) ” فما لکم علیھن من عدۃ تعتدونھا فمتعوھن “۔ (الاحزاب : 49) بھی غیر مفروضہ پر محمول ہے۔ امام شافعی (رح) نے کہا ہے : وہ عورت جس کا مہر مقرر کیا جائے اس کے لئے مہر ہوگا جب اسے قبل المسیس طلاق دی جائے، اس کے لئے کوئی متعہ نہ ہوگا، کیونکہ اس نے مجامعت کے بغیر نصف مہر لے لیا ہے، اور مدخول بہا کو جب طلاق دی جائے تو اس کے لئے متعہ ہوگا، کیونکہ مہر وطی کے مقابلہ میں واقع ہوتا ہے اور متعہ عقد کے ساتھ انتہائی استعمال کے سبب (لازم ہے) اور امام شافعی نے خلع اور مبارات کرنے والی کیلئے بھی متعہ واجب کیا ہے اور امام مالک کے اصحاب نے کہا ہے : فدیہ دینے والی کے لئے کیسے متعہ ہو سکتا ہے حالانکہ وہ خود دیتی ہے تو وہ متعہ کیسے لے گی اور جدائی اور فراق کو اختیار کرنے والی کے لئے کوئی متعہ نہیں ہے چاہے، وہ خلع لینے والی ہو یا فدیہ دینے والی یا مبارات کرنے والی یا صلح کرنے والی یا لعان کرنے والی یا آزاد ہونے والی فراق اور جدائی کو اختیار کرلے، اس کیساتھ دخول ہو یا نہ ہو، اس کے لئے مہر مقرر ہو یا نہ ہو، تفصیلی بیان پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 2:243

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ پھر ان کو زندہ بھی کردیا کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

آیت نمبر : 243۔ اس میں چھ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ (آیت) ” الم تر “۔ رؤیت قلب مراد ہے، اس کا معنی ہے (آیت) ” الم تعلم “ کیا آپ نہیں جانتے اور سیبویہ کے نزدیک اس کا معنی ہے : کیا آپ آگاہ نہیں ان لوگوں کے معاملہ کے بارے، (یعنی الم تتبہ) اور یہ رؤیت (یعنی الم تر) دو مفعولوں کا محتاج نہیں ہے۔ ابو عبدالرحمن السلمی نے ” الم ترراء کی جزم کے ساتھ پڑھا ہے اور القائے حرکت کے بغیر ہی ہمزہ کو حذف کردیا گیا ہے کیونکہ اس کی اصل ہے : الم ترء۔ ان لوگوں کا قصہ یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کی ایک قوم ہے، ان میں وبا پھیل گئی، یہ ایک گاؤں میں تھے جسے داوردان کہا جاتا ہے (یہ گاؤں واسط کے مشرقی نواح میں واقع ہے اور ان کے درمیان ایک فرسخ کا فاصلہ ہے ” معجم یاقوت “ ) پس وہ ان سے بھاگتے ہوئے نکلے اور ایک وادی میں جا اترے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر موت مسلط کردی (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 327 دارالکتب العلمیہ) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے : وہ چار ہزار تھے، طاعون سے بھاگتے ہوئے نکلے اور انہوں نے کہا : ہم ایسی زمین پر آئے ہیں جہاں موت نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان تمام کو مار دیا، پھر ان کے پاس سے ایک نبی (علیہ السلام) کا گزر ہوا تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کردیا۔ اور کہا گیا ہے کہ وہ آٹھ دن تک مرے رہے اور بعض نے کہا : سات دن تک۔ واللہ اعلم۔ حضرت حسن (رح) نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں بطور سزا مدت مقررہ سے پہلے مار دیا، پھر انہوں نے باقی ماندہ عمروہ کے لئے اٹھا دیا، اور بعض نے کہا ہے : ان کے انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات میں سے ایک نبی (علیہ السلام) کے معجزہ کے اظہار کے لئے ان کے ساتھ ایسا کیا، کہا گیا ہے کہ ان کا اسم گرامی حضرت شمعون (علیہ السلام) ہے، اور نقاش نے بیان کیا ہے کہ وہ بخار سے بھاگے تھے۔ (2) ۔ اور بعض کا خیال ہے کہ وہ جہاد سے فرار ہوئے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی حضرت حزقیل (علیہ السلام) کی زبان سے جہاد کے بارے حکم ارشاد فرمایا، تو وہ جہاد میں قتال ہونے کے سبب موت سے خوفزدہ ہوگئے، پس وہ اس سے بھاگتے ہوئے اپنے گھروں سے نکل گئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں موت دے دی تاکہ وہ انہیں متنبہ کردے کہ کوئی شے انہیں موت سے نجات نہیں دلا سکتی پھر انہیں زندہ کیا اور انہیں اپنے اس ارشاد سے جہاد کے بارے حکم دیا : (آیت) ” وقاتلوا فی سبیل اللہ “ (اور تم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کرو) حضرت ضحاک نے یہی کہا ہیں۔ ابن عطیہ نے کہا ہے : یہ تمام کے تمام قصص ضعیف الاسانید ہیں، البتہ آیت سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد ﷺ کو تنبیہ اور توقیف کی عبارت میں انسانوں کو ایک قوم کے بارے خبردی ہے کہ وہ موت سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے اپنے گھروں سے نکلے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں موت دے دی اور پھر انہیں زندہ کردیا، تاکہ وہ اور انکے بعد آنے والے تمام یہ جان لیں کہ موت دینا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے کسی اور کے ہاتھ میں نہیں ہے۔ لہذا کسی ڈرنے والے کے خوف کا اور کسی دھوکہ کھانے والے کے دھوکہ کا کوئی معنی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو اپنے اس امر کا مقدمہ بنایا ہے جو اس نے حضور نبی رحمت ﷺ کی امت کے مومنوں کو جہاد کے بارے حکم فرمایا۔ یہ علامہ طبری کا قول ہے اور یہی آیت کے ظاہر الفاظ ہیں۔ قولہ تعالیٰ (آیت) ” وھم الوف “۔ جمہور نے کہا ہے : یہ الف کی جمع ہے، بعض نے کہا ہے : وہ چھ لاکھ تھے، بعض نے کہا ہے : وہ اسی ہزار تھے، حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے : وہ چالیس ہزار تھے، ابو مالک نے کہا ہے : وہ تیس ہزار تھے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 328 دارالکتب العلمیہ) سدی کا قول ہے : وہ سینتیس ہزار تھے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ستر ہزار تھے، حضرت عطا بن ابی رباح ؓ نے یہی کہا ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے بھی چالیس ہزار اور آٹھ ہزار کی روایت ہے، آپ سے اسے ابن جریج نے روایت کیا ہے، آپ سے ہی آٹھ ہزار کی روایت بھی ہے اور آپ سے چار ہزار کی روایت بھی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ تین ہزار تھے، اور صحیح یہ ہے کہ وہ دس ہزار سے زائد تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” وھم الوف “ اور یہ جمع کثرت ہے اور دس اور اس سے کم کے بارے میں الوف نہیں بولا جاتا۔ ابن زید نے الوف کے لفظ کے بارے میں کہا ہے کہ اس کا معنی ہے وھم موتلفون “ یعنی انہیں اپنی قوم کے افتراق نے نہیں نکالا اور نہ ان کے درمیان کوئی فتنہ برپا ہوا، بلکہ وہ تو ایک دوسرے سے محبت اور لفت رکھتے تھے اور الفت اس فرقت کے خلاف ہے۔ پس وہ موت سے فرار اختیار کرتے ہوئے اور اپنے خیال کے مطابق زندگی کی خواہش رکھتے ہوئے اپنے گھروں سے نکلے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی جگہ موت دے دی جو انکے گمان کے مطابق ان کے لئے جائے نجات تھی، پس اس معنی کی بنا پر الوف الف کی جمع ہے، جیسا کہ جالس کی جمع جلوس ہے۔ ابن عربی نے کہا ہے : اللہ تعالیٰ نے انہیں سزا دینے کے لئے ایک خاص مدت تک موت دی اور پھر انہیں زندہ کردیا اور سزا کے لئے موت دینے کے بعد زندگی ہے اور اپنی مدت مقررہ پر موت آنے کے بعد زندگی نہیں ہے (2) (احکام القرآن لابن العربی، جلد 1، صفحہ : 228، دارالفکر) حضرت مجاہد ؓ نے کہا ہے : جب وہ زندہ کیے گئے اور اپنی قوم کی طرف لوٹے تو وہ پہچانے جاسکتے تھے (کہ وہ مردہ تھے) اور موت کی علامات ان کے چہروں پر تھیں اور ان میں سے کوئی جو کپڑا بھی پہنتا تھا تو وہ میلا سا کفن بن جاتا یہاں تک کہ وہ اپنی اس مدت مقررہ پر فوت ہوئے جو انکے لئے لکھے گئی تھی۔ ابن جریج نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آج تک بنی اسرائیل کی اس نسل میں وہ بو باقی ہے اور روایت ہے کہ وہ عراق کے (شہر) واسط کے پاس تھے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بدبو دار ہوجانے کے بعد زندہ کیے گئے پس وہ بو آج تک انکی نسل میں موجود ہے۔ مسئلہ نمبر : (2) قولہ تعالیٰ (آیت) ” حذر الموت “۔ ای لحذرالموت یعنی موت کے ڈر کی وجہ سے، اور یہ بھی مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور ” موتوا امر تکوین ہے اور کہا جانا بھی بعید نہیں ہے۔ انہیں ندا دی گئی اور انہیں کہا گیا : تم مر جاؤ اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ دو فرشتوں نین انکے پاس چیخ لگائی تم مر جاؤ پس وہ مر گئے پس معنی یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دو فرشتوں کے واسطہ سے کہا : ” موتوا “ کہ تم مر جاؤ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 328 دارالکتب العلمیہ) ۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر : (3) ان اقوال میں سے زیادہ صحیح (اور زیادہ بین) اور زیادہ مشہور قول یہ ہے کہ وہ وبا سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے نکلے، اسے سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا ہے : وہ طاعون سے فرار اختیار کرتے ہوئے نکلے تو وہ مر گئے، پھر انبیاء (علیہم السلام) میں سے ایک نبی (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ وہ انہیں زندہ فرما دے تاکہ وہ اس کی عبادت کریں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ فرما دیا (2) (جامع البیان للطبری، جلد 2، صفحہ، 700 داراحیاء التراث العربیۃ) اور عمروبن دینار نے اس آیت کے بارے کہا ہے : ان کی بستی میں طاعون پھیل گیا تو کچھ لوگ وہاں سے نکل گئے اور کچھ لوگ باقی رہ گئے اور نکلنے والوں کی تعداد باقی رہنے والوں کی نسبت زیادہ تھی، فرمایا : پس جو نکل گئے وہ محفوظ رہے اور جو وہیں مقیم رہے وہ مر گئے اور جب دوسری بار ایسا ہوا تو سوائے قلیل لوگوں کے وہ تمام کے تمام نکل گئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کے جانوروں کو بھی موت دے دی، پھر انہوں زندہ کردیا اور وہ اپنے شہروں کی طرف لوٹ گئے اور ان کی اولاد بھی پیدا ہوئی، اور حسن نے کہا ہے : وہ طاعون سے ڈرتے ہوئے نکلے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کے جانوروں کو ایک ہی ساعت میں مار دیا اور وہ چالیس ہزار تھے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں : اس پر اس آیت میں کئی احکام مرتب ہوتے ہیں، ائمہ نے روایت کیا ہے اور عامر بن سعد بن ابی وق اس ؓ کی حدیث سے الفاظ بخاری کے ہیں کہ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید ؓ کو سنا وہ حضرت سعد کو حدیث بیان کر رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وبا کا ذکر کیا اور فرمایا : ”(یہ) رجز یا عذاب ہے جس کے ساتھ بعض امتوں کو عذاب دیا گیا پھر اس سے کچھ بچ جانے والے باقی رہے اور وہ ایک بار ختم ہوجاتا ہے اور دوسری بار پھر آتا ہے پس جو کوئی اس کے بارے کسی زمین میں سنے تو اسے چاہئے کہ وہ وہاں بالکل نہ آئے اور جو اس علاقے میں ہو کہ وہاں وباپھیل جائے تو وہ اس سے فرار اختیار کرتے ہوئے نہ نکلے (3) (صحیح بخاری، کتاب الحیل، جلد 2، صفحہ 1032، وزارت تعلیم، صحیح بخاری، باب ما یذکر فی الطاعون، حدیث نمبر 5288 : ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اسے ابو عیسیٰ ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے : ہمیں قتیبہ نے بیان کیا ہے کہ ہمیں حماد بن زید نے عمرو ابن دینار عن عامر بن سعد عن اسامہ بن زید ؓ کی سند سے خبر دی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے طاعون کا ذکر کیا اور فرمایا : ” یہ باقی رہنے والا رجز یا عذاب ہے جو بنی اسرائیل کی ایک جماعت پر بھیجا گیا، پس جب کسی زمین میں واقع ہو اور تم وہاں سے نہ نکلو اور جب کسی زمین میں واقع ہو اور تم وہاں نہ ہو تو تم وہاں نہ جاؤ (4) (جامع ترمذی، کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 126، وزارت تعلیم، ایضا سنن ترمذی، باب ماجاء فی کراھیۃ الفرار من اطاعون، حدیث نمبر 985، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور اس حدیث کے مقتضا کے مطابق حضرت عمر ؓ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے عمل کیا جب وہ مقام سرغ سے اس وقت واپس لوٹے جب حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے انہیں حدیث کے بارے خبر دی، اسی بناء پر یہ مؤطا وغیرہ میں مشہور ہے۔ اور ایک قوم نے وباء اور بیماری والی زمین سے فرار کو مکروہ قرار دیا ہے، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا : ” وباء سے بھاگنا میدان جہاد سے بھاگنے کی طرح ہے (1) (مشکوۃ المصابیح، کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 139، قدیمی کتب خانہ) اور حضرت عمر ؓ کا حضرت ابو عبیدہ ؓ کے ساتھ شام کی طرف نکلنے کا واقعہ معروف ہے اور اس میں ہے کہ آپ واپس لوٹ آئے، اور علامہ طبری نے کہا ہے کہ حضرت سعد ؓ کی حدیث میں اس پر دلیل موجود ہے کہ آدمی پر تکلیف اور اذیت ناک چیزوں کے آنے سے پہلے ان سے بچنا اور احتیاط کرنا لازم ہے اور خوف زدہ کرنے والی اشیاء کے ہجوم اور حملہ سے پہلے ان سے اجنتاب کرنا ایک طرف ہوجانا لازم ہے اور ان کے آنے کے بعد اس پر صبر کرنا اور جزع فزع نہ کرنا لازم ہے اور یہ اس لئے ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے اسے منع فرمایا ہے جو وباء والی زمین میں نہ ہو کہ وہ وباء پھیل جانے کے بعد اس میں داخل ہو اور جو وہاں ہو اسے وباء پھیل جانے کے بعد اس سے فرار اختیار کرتے ہوئے نکلنے سے منع فرمایا ہے، پس ضروری ہے کہ اسی طرح امور کی تکالیف ومصائب سے ہر بچنے والے کے لئے حکم ہو، اس میں اس کے لئے طاعون سے بچنے کی راہ بھی ہے اور یہ معنی حضور ﷺ کے اس ارشاد کی مثل ہے : ” تم دشمن سے ملاقات کی (جنگ کرنے کی) تمنا نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے عافیت کی التجاء کرو اور جب تمہارا ان سے آمنا سامنا ہوجائے تو پھر صبر کرو (2) ۔ (صحیح بخاری، کتاب الجہاد، جلد 1، صفحہ، 424 وزارت تعلیم، ایضا صحیح بخاری، کتاب الجہاد، حدیث نمبر 2744، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) میں (مفسر) کہتا ہوں : اس باب میں یہی صحیح ہے اور یہ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مقتضا ہے اور اسی آپ ﷺ کے نیکوکار اور عظیم المرتبت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا عمل ہے اور حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو عبیدہ ؓ کو اس پر بطور حجت فرمایا جبکہ انہوں نے آپ سے کہا کیا اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے فرار ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : اے ابوعبیدہ ! کاش ! تیرے سوا کوئی اور یہ کہتا، ہاں ہم اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے اللہ تعالیٰ کی تقدیر کی طرف ہی بھاگ رہے ہیں، معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے اور اس کے خلاف جو مقدر فرما دیا ہے اس سے بچنے کے لئے انسان کے پاس کوئی پناہ گاہ نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں ڈرانے والی اور ہلاک کرنے والی اشیاء سے بچنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے اور وسعت و طاقت کے مطابق مکروہات سے بچنے کا ارشاد فرمایا ہے، پھر آپ نے ان میں فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تیرا اونٹ ہو اور تو وادی میں اترے جس کے دو کنارے ہوں ان میں سے ایک سرسبز و شاداب ہو اور دوسرا قحط زدہ ہو، کیا یہ نہیں ہے کہ اگر تو نے سر سبز و شاداب حصہ میں چرایا تو وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے ساتھ ہے اور اگر تو نے قحط زدہ حصہ میں چرایا تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے ساتھ ہے پھر حضرت عمر ؓ اپنی اس جگہ سے مدینہ منورہ کی طرف لوٹ گئے، ال کیا الطبری نے کہا ہے : ہم کوئی اختلاف نہیں جانتے کہ کفار یا ڈاکو جب ایک کمزور شہر کا قصد کریں اور اس کے باسیوں میں ان کے مقابلہ کی طاقت نہ ہو تو ان کے لئے جائز ہے کہ وہ ان کے سامنے سے دور ہٹ جائیں، اگر موت کی مقررہ مدت میں کوئی زیادتی اور کمی نہیں ہوسکتی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وبا سے فرار اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ وبا کی جگہ میں جو ہو رہا ہے، شاید اس سے کچھ حصہ لے لیا جائے تاکہ اس مرض عام کی سبب میں اس جگہ والے شریک ہوجائیں اور وہاں سے بھاگنے کا کوئی فائدہ نہ رہے، بلکہ وہ اسے سفر کی ان مشقتوں کی طرف منسوب کرے گا جو اسے وبا کی مبادیات میں سے پہنچیں، پس ورد کئی گنا بڑھ جائے گا اور ضرر زیادہ ہوجائے گا اور وہ ہر راستے میں ہلاک ہوجائیں گے اور وہ ہر کشادہ اور تنگ جگہ میں گر جائیں گے، اسی لئے کہا جاتا ہے جو کوئی وبا سے نہیں بھاگا وہ محفوظ رہا، اسے ابن المدائنی نے بیان کیا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کی نصیحت کافی ہے کہ فرمایا : (آیت) ” الم ترالی الذین خرجوا من دیارھم وھم الوف حذر الموت، فقال لھم اللہ موتوا “۔ شاید اگر وہ فرار ہو اور بچ جائے تو وہ کہنے لگے : بلاشبہ میں نے اپنے نکلنے کے سبب وبا سے نجات پالی ہے تو اس طرح اس کا اعتقاد خراب اور فاسد ہوجائے گا۔ بالجملہ اس سے فرار ممنوع ہے اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کردی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ اس میں شہروں کو خالی کرنا لازم آتا ہے اور کمزور لوگ اس سے بھی بری نہیں ہوتے کیونکہ ان پر شہروں سے نکلنا مشکل ہوتا ہے اور ان کے لئے ایسا کرنا آسان نہیں ہوتا اور وہ ان سہولتوں سے شہروں کے خالی ہونے کے سبب اذیت اٹھاتے ہیں جو شہروں کا حصہ ہوتی ہیں اور کمزور لوگوں کے لئے معاون اور مددگار ہوتی ہیں۔ اور جب کسی زمین میں وبا ہو تو وہاں احتیاط، خوف اور ضرر کے مقامات سے پرہیز کرنے کے ارادہ سے کوئی نہ آئے اور ایسے وہموں کو دور کرنے کے لئے جو انسان کے دل میں تشویش پیدا کردیتے ہیں اور وہاں داخل ہونے میں ہلاکت ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم میں جائز نہیں ہوتا، کیونکہ مکروہ سے اپنے آپ کو بچانا واجب ہے اور اس پر سو اعتقاد کا خوف کیا جاسکتا ہے کہ وہ یہ کہنے لگے : اگر میں اس جگہ میں داخل نہ ہوتا تو مجھے یہ تکلیف نہ آتی، پس طاعون زدہ علاقے میں داخل ہونے سے منع کرنے یا وہاں سے نکلنے سے منع کرنے میں یہی فائدہ ہے۔ واللہ اعلم۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان کیا ہے : طاعون مقیم پر اور بھاگنے والے پر ایک آزمائش ہے، کیونکہ بھاگنے والا کہتا ہے : میں نے اپنے فرار کے سبب نجات پالی ہے اور مقیم کہتا ہے : میں یہاں مقیم رہا سو میں مرگیا، اسی قسم کی طرف امام مالک نے اس وقت اشارہ کیا جس وقت ان سے کوڑھ زدہ کی طرف دیکھنے کی کراہت کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : میں نے اس میں کوئی کراہت نہیں سنی ہے اور جو روایات اس سے نہی کے بارے وارد ہوئی ہیں وہ صرف اس خوف سے ہیں کہ وہ اسے گھبراہٹ اور اضطراب میں مبتلا کر دے گا یا اسے وہ شے (وہم) خوفزدہ کرتی رہے گی جو اس کے دل میں واقع ہوجائے گی، حضور نبی کریم ﷺ نے وبا کے بارے میں فرمایا ہے : ” جب تم کسی زمین میں اس کے بارے سنو تم اس کی طرف نہ آؤ اور جب وبا پھیل جائے اور تم وہاں ہو تو پھر اس سے فرار اختیار کرتے ہوئے نہ نکلو۔ “ اور اس شہر کے بارے میں بھی پوچھا گیا جس میں موتیں اور بیماریاں واقع ہو رہی ہوں کیا اس سے نکلنا بھی مکروہ ہے ؟ تو فرمایا : میں کوئی حرج نہیں دیکھتا وہ نکلے یا وہیں مقیم رہے۔ مسئلہ نمبر : (4) حضور علی الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد گرامی : ” جب کسی زمین میں وبا واقع ہوجائے اور تم وہاں ہو تو اس سے فرار اختیا کرتے ہوئے نہ نکلو (1) (صحیح بخاری، کتاب الانبیاء، جلد 1، صفحہ، 494 وزارت تعلیم) اس میں اس پر دلیل ہے کہ فرار کے ارادہ کے بغیر طاعون والے شہر سے نکلنا جائز ہے، بشرطیکہ اعقاد یہ ہو کہ جو کچھ اسے پہنچنا ہے وہ اس سے خطا نہیں ہو سکتا اور اسی طرح حکم وہاں داخل ہونے کا بھی ہے جبکہ اسے یہ یقین ہو کہ اس داخل ہونا اس کی طرف ایسی تقدیر کو نہیں کھینچ سکتا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقدر نہیں بنائی، پس آدمی کے لئے وہاں داخل ہونا اور وہاں سے نکلنا اس حد کی بنا پر مباح ہے جو ہم نے ذکر کی ہے۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر : (5) طاعون پر صبر کی فضیلت اور اس کے بیان کے بارے میں یہ ہے کہ الطاعون بروزن فاعول الطعن “ سے ماخوذ ہے مگر یہ کہ جب اسے اصل معنی سے پھیر دیا گیا تو اسے وبا کے سبب موت پر دلالت کرنے کے لئے وضع کردیا گیا، جوہری نے یہی کہا ہے اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی حدیث سے روایت کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’ رحمۃ اللہ علہیم میری امت کی فنا طعن اور طاعون سے ہے۔ (2) (مسند احمد بن حنبل، جلد 6، صفحہ 255، دارصادر بیروت) حضرت عائشہ ؓ نے عرض کی : طعن کی تو ہم نے پہچان لیا ہے پس طاعون کیا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ پھوڑ (گلٹی) ہے اونٹ کے پھوڑے (طاعون) کی طرح جو کہ پیٹ سے نیچے والی جگہوں اور بغلوں کے نیچے نکلتا ہے (3) (مسند احمد بن حنبل، جلد 6، صفحہ 255، دارصادر بیروت) علماء نے کہا ہے : اس وبا کو اللہ تعالیٰ بطور عذاب اور سزا کے اپنے بندوں میں سے گنہگاروں اور کافروں میں سین جن پر چاہتا ہے بھیج دیتا ہے اور کبھی اسے صالحین کے لئے شہادت اور رحمت بنا کر بھیج دیتا ہے جیسا کہ حضرت معاذ ؓ نے طاعون عمواس میں کہا : بیشک یہ تمہارے لئے شہادت اور رحمت ہے اور تمہارے نبی کریم ﷺ کی دعا ہے : اے اللہ ! معاذ اور اس کے گھر والوں کو اپنی رحمت سے ان کا حصہ عطا فرما، اور ان کی ہتھیلی میں نیزہ مارا گیا۔ حضرت ابو قلابہ ؓ نے کہا ہے : تحقیق میں نے شہادت اور رحمت کو تو پہچان لیا اور میں اسے نہ پہچان سکا کہ یہ تمہارے نبی کی دعا ہے ؟ چناچہ میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو کہا گیا : حضور ﷺ نے دعا فرمائی کہ آپ کی امت کی فناطعن اور طاعون سے ہو، جس وقت آپ نے یہ دعا مانگی کہ آپ کی امت کا آپس میں لڑائی جھگڑا نہ ہو تو اس سے آپ کو روک دیا گیا پھر آپ ﷺ نے وہ دعا مانگی۔ اور حضرت جابر ؓ وغیرہ کی حدیث سے روایت کیا جاتا ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” طاعون سے بھاگنے والا میدان جہاد کے لشکر سے بھاگنے والے کی طرح ہے اور اس میں صبر کرنے والا میدان جہاد میں صبر کرنے والے کی طرح ہے (4) (مشکوۃ المصابیح، کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 139، قدیمی کتب خانہ) اور بخاری میں حضرت یحی بن یعمر سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اسے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے بارے پوچھا تو حضرت نبی کریم ﷺ نے انہیں بتایا، کہ یہ ایک عذاب ہے جسے اللہ تعالیٰ جن پر چاہتا ہے بھیج دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے مومینن کے لئے رحمت بنایا ہے، پس کوئی بندہ نہیں ہے جو طاعون میں مبتلا ہوجاتا ہے اور صبر کرتے ہوئے اسی شہر میں ٹھہرا رہتا ہے اور ویہ یہ یقین رکھتا ہے کہ اسے ہر گز کوئی مصیبت نہیں پہنچے گی مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لکھ دی ہے مگر اس کے لئے شہید کے اجر کی مثل اجر ہے (1) (صحیح بخاری، کتاب الطب، جلد 2، صفحہ، 853 وزارت تعلیم) اور حضور ﷺ کے اس قول کی یہی تفسیر ہے کہ ” طاعون شہادت ہے اور مطعون شہید ہے (2) ۔ (صحیح بخاری، کتاب الطب، جلد 2، صفحہ، 853 وزارت تعلیم، صحیح بخاری، باب مایذکر فی الطاعون، حدیث نمبر 92، 5291، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) یعنی اس پر صبر کرنے والا کہ اس کے اجر کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے اور یہ جاننے والا کہ اسے ہر گز کوئی کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے لکھ دی ہے، اسی لئے حضرت معاذ ؓ نے تمنا کی کہ اس میں فوت ہوجائیں کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جو مرگیا وہ شہید ہے اور جو کوئی طاعون سے خوفزدہ ہوگیا اور اسے مکروہ جانا اور اس سے بھاگ گیا تو وہ اس حدیث کے معنی میں داخل نہیں ہے واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر : (6) ابو عمر نے کہا ہے : مجھ تک کوئی خبر نہیں پہنچی کہ اہل علم میں سے کوئی طاعون سے بھاگا ہو سوائے اس کے جو ابن مدائنی نے ذکر کی ہے کہ علی بن زید بن جدعان طاعون کی وجہ سے السیالہ (یہ مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے اہل مدینہ کا مکہ کی طرف آتے ہوئے یہ پہلا مرحلہ ہے اور یہ قول بھی ہے کہ یہ ملل اور روحاء کے درمیان واقع ہے) (شرح القاموس) کی طرح چلے گئے اور وہ ہر جمعہ کی نماز میں شریک ہونے کے لئے لوٹ آتے تھے اور جب وہ جمعہ میں شریک ہوتے تو لوگ ان کے بارے پکارتے تھے : فرمن الطاعون یہ طاعون سے بھاگ گئے ہیں، اور وہ السیالہ میں ہی فوت ہوئے، ابن مدائنی نے مزید کہا : عمرو بن عبید اور رباط بن محمد رباطیہ کی طرف بھاگ گئے اور ابراہیم بن علی الفقیمی نے اس بارے میں کہا ہے : ولما استفز الموت کل مکذب صبرت ولم یصبر رباط ولا عمرو۔ جب موت نے ہر جھٹلانے والے کو ہلاک وبرباد کردیا (تو) میں نے صبر کیا اور رباط اور عمرو نے صبرنہ کیا۔ اور ابو حاتم نے اصمعی سے بیان کیا ہے کہ اس نے کیا : بصرہ کے بعض لوگ طاعون سے بھاگے اور ان میں سے کوئی اپنے گدھے پر سوار ہوا اور سفوان (یہ بصرہ میں باب المربد سے ایک مرحلہ کے فاصلہ پر پانی ہے) معجم یاقوت کی طرف اپنے گھر والوں کے پاس چلا گیا اور اس نے حدی گانے والے کو سنا کو یہ اس کے پیچھے حدی گا رہا ہے : لن یسبق اللہ علی حمار ولا علی ذی منعۃ طیار اویاتی الحتف علی مقدار قد یصبح اللہ امام الساری اور مدائنی نے ذکر کیا ہے : عبدالعزیز بن مروان کی حکومت کے دوران مصر میں طاعون پڑا تو وہ اس سے بھاگتے ہوئے نکل گیا اور الصعید کے دیہاتی علاقوں میں سے ایک دیہات میں جا اترا اسے سکر یہ الصعید کے مشرق کے علاقہ میں واقع ہے، اس کے اور مصر کے درمیان دو دن کا فاصلہ ہے (یاقوت) کہا جاتا ہے تو عبدالعزیز نے اس سے پوچھا : تیرا کیا نام ہے ؟ تو اس نے کہا : طالب بن مدرک، تو اس نے کہا : اوہ میں اپنے آپ کو فسطاط کی طرف لوٹنے والا نہیں دیکھ رہا پھر وہ اسی گاؤں میں مرگیا۔
Ayah 2:244

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اور (مسلمانو ! ) خدا کی راہ میں جہاد کرو اور جان رکھو کہ خدا (سب کچھ) سنتا (اور سب کچھ) جانتا ہے

آیت نمبر : 244۔ یہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑائی کرنے کا خطاب حضور نبی رحمت ﷺ کی امت کو ہے، یہ جمہور کا قول ہے اور اس سے ارادہ اور نیت یہ کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہی بلند ہے (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 329 دارالکتب العلمیہ) اور اللہ تعالیٰ کے راستے کثیر ہیں اور یہ ہر راستے کو عام ہیں، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : (آیت) ” قل ہذہ سبیلی “۔ ترجمہ : آپ فرما دیجئے یہ میری راہ ہے) امام مالکرحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ کے راستے کثیر ہیں اور کوئی راستہ نہیں ہے مگر اس پر یا اس میں یا اس کے لئے قتال کیا جاتا ہے اور انمیں سب سے عظیم دین اسلام ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ خطاب ان لوگوں کے لئے ہے جو بنی اسرائیل میں سے زندہ کیے گئے یہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ضحاک (رح) سے مروی ہے اور ” وقاقتلوا “ میں واؤ سابقہ امر پر عطف کرنے کے لئے ہے اور کلام میں اس کی تقدیر کو چھوڑ دیا گیا ہے : وقال لھم، قاتلوا اور پہلے قول کی بنا پر یہ سارا کلام سابقہ جملہ پر معطوف ہے، اور کلام میں مضمر ماننے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ نحاس نے کہا ہے : (آیت) “ وقاتلوا “ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مومنین کو حکم ہے کہ تم نہ بھاگو جیسا کہ وہ بھاگ گئے، (آیت) ” واعلموا ان اللہ سمیع علیم “۔ یعنی وہ تمہارے قول کو بھی سن لے گا اگر تم نے اس کی مثل کہا جیسا کہ انہوں نے کہا اور اس سے تمہاری مراد کو بھی جان لے گا۔ اور علامہ طبری نے کہا ہے : اس قول کی کوئی دلیل اور وجہ نہیں ہے جس نے یہ کہا کہ لڑائی کرنے کا حکم ان لوگوں کو ہے جنہیں زندہ کیا گیا۔ واللہ اعلم۔