Ayah 2:188آیت نمبر 188
اس میں آٹھ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تاکلوا اموالکم بینکم بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت عبدان بن اشوع حصری کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس نے امرء القیس کندی پر مال کا دعویٰ کیا تھا۔ دونوں اپنا مقدمہ نبی کریم ﷺ کے پاس لائے تھے۔ امرء القیس نے انکار کیا۔ اس نے قسم اٹھانے کا ارادہ کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ وہ قسم سے رک گیا۔ اس نے اپنی زمین کا فیصلہ عبدان کے سپرد کردیا اور اس سے جھگڑا نہ کیا۔
مسئلہ نمبر 2: اس آیت سے خطاب حضرت محمد ﷺ کی تمام امت کو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بعض، بعض کا مال ناحق نہ کھائے۔ اس میں جوا، دھوکا، غصب، حقوق سے انکار اور ایسی چیز جس کے دینے پر مالک خوش نہیں ہے یا ایسی چیز جس کو شریعت نے حرام کیا ہے اگرچہ مالک خوشی سے دینے پر راضی بھی ہو جیسے زانیہ کی کمائی، کاہن کا نذانہ، شرابوں اور خنازیر کی قیمتیں وغیرہ داخل ہیں۔ اور بیع میں غبن داخل نہیں جبکہ بائع اس چیز کی حقیقت بتا دے جو اس نے بیچی کیونکہ اس صورت میں غبن (زیادتی) گویا ہبہ ہے۔ جیسا کہ اس کا بیان سورة نساء میں آئے گا۔ اموال کو ان لوگوں کی ضمیر کی طرف مضاف کیا گیا ہے جن کو منع کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک ایسا ہے جس کو روکا گیا ہے اور جس سے روکا گیا ہے جیسا فرمایا : تقلون انفسکم (البقرہ : 85) ایک قوم نے کہا : اس آیت سے مراد کھیلوں میں جو مال لگائے جاتے ہیں، گانے والیوں کے مال، شراب کی قیمت اور برے لوگوں رشوت خور وغیرہ کے اموال ہیں۔
مسئلہ نمبر 3: جس نے کسی کا مال شرع کی اجازت کے بغیر لیا اس نے باطل ذریعہ سے کھایا وہ مال بھی باطل شمار ہوگا جس کا فیصلہ قاضی تیرے حق میں کر دے جبکہ تو جانتا ہے کہ تو باطل پر ہے۔ قضا قاضی سے حرام، حلال نہیں ہوجاتا کیونکہ قاضی تو ظاہر حال کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ یہ اموال کے بارے میں اجماع ہے اگرچہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قاضی کی قضا فروج (شرمگاہوں) میں باطنا بھی نافذ ہوجاتی ہے۔ جب قضا قاضی اموال میں باطن کے حکم کو تبدیل نہیں کرتی تو فروج میں بدرجہ اولیٰ تبدیلی نہیں کرے گی۔ ائمہ نے حضرت ام سلمہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میرے پاس جھگڑالے کر آتے ہو شاید تم میں سے کوئی دوسرے سے حجت بیان کرنے میں زیادہ فصیح ہو میں اس کے مطابق فیصلہ کر دوں جو میں نے (گواہیاں، دلائل) سنے تو میں اس کے بھائی کے مال سے کوئی چیز اس کے لئے کردوں تو وہ نہ لے میں اس کے لئے آگ کا ایک ٹکڑا اسے دینے والا ہوں گا۔ ایک روایت میں ہے : وہ اس کو اٹھالے یا اس کو چھوڑ دے۔ اس حدیث کے مطابق جمہور علماء اور ائمہ فقہاء کا قول ہے۔ یہ نص ہے کہ حاکم کا حکم ظاہر پر ہوتا ہے باطن کے حکم کو تبدیل نہیں کرتا خواہ وہ مال، خون اور شرمگاہوں کے متعلق ہو۔ مگر امام ابوحنیفہ سے فروج کے متعلق جو قول حکایت کیا گیا ہے کہ باطن میں حکم نافذ ہوجاتا ہے۔ وہ فرماتے ہیں : اگر دو جھوٹے گواہ کسی شخص کے بارے میں گواہی دیں کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے اور حاکم ان کی گواہی کے مطابق فیصلہ کر دے کیونکہ وہ گواہ اس کے نزدیک عادل ہیں تو اس عورت کی شرمگاہ عدت کے بعد نئے نکاح کرنے والے کے لئے حلال ہوجائے گی۔ جو یہ جانتا بھی ہے کہ فیصلہ غلط تھا۔ اسی طرح اگر ان گواہوں میں سے بھی ایک اس سے نکاح کرلے تو امام صاحب کے نزدیک اس کا نکاح جائز ہوگا کیونکہ جب وہ ظاہر میں تمام مردوں کے لئے حلال ہوگئی تو گواہ اور دوسرے سب برابر ہیں۔ کیونکہ قاضی کی قضا نے اس کی عصمت کو ختم کردیا اور اس میں تحلیل و تحریم کی ظاہر و باطن میں ایک نئی صورت پیدا کردی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ دوسرے خاوندوں کے لئے حلال نہ ہوتی اور امام ابوحنیفہ نے لعان سے حجت پکڑی ہے۔ انہوں نے فرمایا : بیوی جھوٹے لعان کی وجہ سے اپنے خاوند سے جدائی تک پہنچ گئی۔ جس کے بارے میں اگر قاضی کو اس کے کذب کا علم ہوجاتا تو وہ اسے حد لگاتا، ان دونوں کے درمیان فرق نہیں کیا۔ اور پس یہ نبی کریم ﷺ کے ارشاد میں جس کے لئے اس کے بھائی کے حق سے کسی چیز کا فیصلہ کردوں تو وہ اسے نہ لے، کے عموم میں شامل نہیں۔ (الحدیث)
مسئلہ نمبر 4: اس آیت سے ہر موافق و مخالف دلیل پکڑنے والا ہے اپنے حکم کے بارے میں جو وہ اپنے لئے دعویٰ کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے : یہ جائز نہیں ہے اور اسی آیت سے استدلال کرتا ہے : ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل اس کا جواب یہ ہے کہ اسے کہا جائے گا ہم تسلیم نہیں کرتے کہ وہ باطل ہے حتیٰ کہ دلیل کے ساتھ واضح کرے۔ اس وقت اس عموم میں داخل ہوگا۔ یہ دلیل ہے کہ معاملات میں باطل جائز نہیں۔ اس میں باطل کی تعیین نہیں۔
مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بالباطل لغت میں باطل کا معنی ہے : جاننے والا، زائل ہونے والا۔ کہا جاتا ہے : بطل یبطل بطولا وبطلانا۔ باطل کی جمع بواطل ہے۔ بطولۃ کی جمع اباطیل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا یاتیہ الباطل۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد ابلیس ہے۔ وہ قرآن میں کمی، بیشی نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ھو اللہ الباطل۔ یعنی شرک۔ البطلہ، جادو گروں کو کہتے ہیں۔
مسئلہ نمبر 6: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وتدلوا بھا الی الحکام بعض علماء نے فرمایا : اسے مراد ودیعت ہے اور ایسی چیز ہے جس میں دلیل نہ ہو۔ حضرت ابن عباس اور حسن سے مروی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا یہ یتیم کا مال ہے جو اوصیاء کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ وہی حکام کے پاس معاملہ لے جاتا ہے جب اس سے اس مال کا مطالبہ کیا جاتا ہے تاکہ اس کا کچھ حصہ ہتھیا لے اور ظاہراً اس کے لئے حجت بھی ہو۔ زجاج نے کہا : تم اس کے مطابق عمل کرتے ہو احکام کا ظاہر جس کو ثابت کرتا ہے اور تم اس کو ترک کرتے ہو جس کے بارے تم جانتے ہو کہ یہ حق ہے۔ کہا جاتا ہے : ادلی الرجل بحجتہ اوبالا مر الذی یرجو النجاح بہ (اس شخص نے اپنی حجت پیش کی یا وہ امر پیش کیا جس کے ساتھ وہ نجات کی امید رکھتا ہے) اس کو اس شخص سے تشبیہ دی گئی جو کنویں میں اپنا ڈول پھینکتا ہے۔ کہا جاتا ہے : اولیٰ دلوہ اس نے ڈول چھوڑا دلاھا، ڈول نکالا۔ الدلو، الدلاء کی جمع ادل ودلاع وداع۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ باطل کے ذریعے مال کھانے اور حکام تک حجج باطلہ کے ساتھ معاملات کو لے جانا جمع نہ کرو۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تلبسوا الحق بالباطل وتکتموا الحق (البقرہ : 42) یہ تیرے اس قول کے قبیل سے ہے : لاتاکل المسک وتشرب اللبن مچھلی کا کھانا اور دودھ کا پینا جمع نہ کر۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے : تم اپنے اموال کے ساتھ حکام سے تعلق نہ جوڑو اور انہیں رشوت نہ دو تاکہ وہ تمہارے لئے اس سے زیادہ کا فیصلہ کریں۔ پس باء مطلق ملانے کے لئے ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : یہ قول راجح ہے کیونکہ حکام رشوت لینے والے ہوتے ہیں مگر جسے اللہ محفوظ رکھے اور وہ بہت کم ہیں۔ دونوں الفاظ متناسب ہیں۔ تدلوا، ارسال الدلو سے مشتق ہے الرشوۃ، الرشاء سے ہے۔ وہ اس رسی کو لمبا کرتا ہے تاکہ حاجت کو پورا کرے۔
میں کہتا ہوں : اس قول کو تدلوا بھا کا قول قوت دیتا ہے تدلوا، تاکلوا پر عطف کی بناء پر مجزوم ہے جیسا ہم نے ذکر کیا ہے۔ مصحف حضرت ابی میں ہے ولا تدلوا حرف نہی کے تکرار کے ساتھ ہے۔ یہ قراءت تدلوا کے جزم کی تائید کرتی ہے جو اکثر کی قراءت ہے۔ بعض نے فرمایا تدلوا ظرف کی بناء پر محل نصب میں ہے۔ اور سیبویہ کے نزدیک اس جیسی مثال میں ناصب ان مضمرہ ہوتا ہے اور بھا میں ضمیر کا مرجع اموال ہیں اور پہلے قول کے مطابق اس کا مرجع حجت ہے اور اس کا ذکر پہلے نہیں ہوا ہے دوسرے قول کو اموال کا ذکر بھی قوت دیتا ہے۔ واللہ اعلم۔ الصحاح میں ہے : الرشوۃ معروف ہے الرسوۃ بھی اس کی مثل ہے اس کی جمع رشی ورشی ہے۔ رشاہ یرشوہ، وارتشی کا معنی رشوت لینا ہے استرشی فی حکمہ۔ یعنی حکم پر اس نے رشوت طلب کی۔ میں کہتا ہوں : اس دور میں حکام سراپا رشوت ہیں۔ ان کے بارے رشوت لینے کا گمان نہیں بلکہ یقینا رشوت لیتے ہیں۔ ولا حول ولا قوۃ اللہ باللہ۔
مسئلہ نمبر 7: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لتاکلوا، لام کی کی وجہ سے منصوب ہے فریقا ٹکڑا، جز کو کہتے ہیں۔ فریق کو قطعہ اور بعض سے تعبیر فرمایا : الفریق بکریوں کا چھوٹا سا ریوڑ جو بڑے رہوڑ سے جدا ہوجاتا ہے۔ بعض نے فرمایا : کلام میں تقدیم و تاخیر ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے لتاکلوا اموال فریق من الناس۔ بالاثم اس کا معنی ظلم اور تعدی ہے اس کو اثم اس لئے کہا گیا ہے کیونکہ ظلم کرنے والے کے ساتھ گناہ متعلق ہوتا ہے انتم تعلمون یعنی تم اس کا بطلان اور گناہ جانتے ہو۔ یہ جرأت و معصیت میں مبالغہ ہے۔
مسئلہ نمبر 8: اہل سنت کا اتفاق ہے کہ جس نے وہ چیز لی جس پر مال کے اہم کا اطلاق ہوتا ہے خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ہو، اس کی وجہ سے اسے فاسق کہا جائے گا کیونکہ اس پر اس کا لینا حرام تھا۔ لیکن بشربن معتمر اور اس کے متبعین معتزلیوں کا قول اس کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا : مکلف کو فاسق کہا جائے گا مگر دو سو درہم لینے کے ساتھ۔ اس سے کم میں فاسق نہیں کیا جائے گا۔ ابن الجبائی کا قول اس کے خلاف ہے اس نے کہا : دس درہم لینے کے ساتھ فاسق کہا جائے گا دس سے کم میں فاسق نہیں کہا جائے گا۔ ابن ہذیل کا قول اس کے خلاف ہے۔ اس نے کہا : پانچ دراہم لینے کے ساتھ فاسق کہا جائے گا۔ اور بعض بصرہ کے قدریوں کا قول اس کے خلاف ہے۔ اس نے کہا : ایک درہم لینے کے ساتھ فاسق کہا جائے گا اس سے کم میں نہیں۔ یہ تمام اقوال قرآن و سنت سے اور امت کے علماء کے اتفاق سے مردود ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تمہارے خون، تمہارے اموال اور تمہاری عزتیں تم پر حرام ہیں (الحدیث) اس کی صحت پر اتفاق ہے۔
Ayah 2:189آیت نمبر 189
اس میں بارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یسئلونک عن الاھلۃ یہ ان سوالوں میں سے ہے جو یہود نے پوچھے تھے اور انہوں نے اس کے ساتھ نبی کریم ﷺ پر اعتراض کیا تھا۔ حضرت معاذ نے عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ یہود ہم پر غالب آگئے وہ ہم سے چاندوں کے متعلق پوچھتے ہیں۔ چاند کو کیا ہے کہ یہ باریک سا ظاہر ہوتا ہے پھر بڑھتا جاتا ہے حتیٰ کہ برابر اور گول ہوجاتا ہے پھر گھٹنا شروع ہوجاتا ہے حتیٰ کہ پہلی حالت پر ہوجاتا ہے ؟ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کے نزول کا سبب مسلمان قوم کا نبی کریم ﷺ سے چاند کے متعلق سوال تھا۔ اس چاند کے آخری راتوں میں چھپنے، اس کے مکمل ہونے اور سورج کی حالت سے محتلف ہونے کا سبب کیا ہے۔ یہ حضرت ابن عباس، قتادہ اور ربیع وغیرہ کا قول ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : عن الاھلۃ، اھلہ جمع ہے ھلال کی۔ اس کو جمع ذکر کیا گیا ہے حالانکہ چاند حقیقت میں ایک ہے اس حقیقت سے کہ ایک مہینہ میں ایک ہوتا ہے اور دوسرے مہینہ میں دوسرا ہوتا ہے۔ مہینہ کے تمام احوال چاندوں سے ہوتے ہیں اور اھلہ سے مراد مہنیے ہیں، کبھی شھر سے چاند مراد ہوتا ہے کیونکہ چاند مہینہ میں وارد ہوتا ہے۔ جیسے شاعر نے کہا :
اخوان من نجد علی ثقۃ والشھر مثل قلامۃ الظفر
اس شعر میں شھر سے مراد چاند ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : چاند کو شھر اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی رؤیت کی جگہ کی طرف اشارہ کرکے اس کو شہرت دیتے ہیں اور اس پر دلالت کرتے ہیں اور ھلال کے لفظ کا اطلاق مہینہ کی آخری دو راتوں اور آغاز کی دو راتوں پر بھی ہوتا ہے۔ بعض نے کہا : پہلی تین راتوں کو کہا جاتا ہے۔ اصمعی نے کہا : ہلال وہ ہوتا ہے جو باریک دھاگے کی طرح گول ہوتا ہے۔ بعض نے کہا : ہلال وہ ہوتا ہے جو اپنی روشنی کے ساتھ آسمان کو روشن کرتا ہے اور یہ ساتویں کی رات میں ہوتا ہے۔ ابوالعباس نے کہا : چاند کو ہلال اس لئے کہا جاتا ہے کہ لوگ اس کے متعلق خبر دینے کے لئے اپنی آوازوں کو بلند کرتے ہیں۔ اسی سے استھل الصبی ہے جب بچے کے چیخنے کے ساتھ اس کی زندگی ظاہر ہو۔ استھل وجھہ فرحاً وتھلل جب اس میں سرورظاہر ہو۔ ابوکبیر نے کہا :
واذا نظرت الی اسرۃ وجھہ برقت کبرق العارض المتھلل
کہا جاتا ہے : اھللنا الھلال جب ہم مہینہ میں داخل ہوں، جوہری نے کہا : اھل الھلال واستھل۔ مجہول کا صیغہ استعمال ہوتا ہے بمعنی تبین (ظاہر ہونا) بھی بولا جاتا ہے۔ اھل نہیں کہا جاتا، کہا جاتا ہے : اھللناعن لیلۃ کذا اور اھللناہ فھل نہیں کہا جاتا ہے جیسے کہا جاتا ہے : ہم نے اسے داخل کیا ہے وہ داخل ہوگیا۔ یہ اس کا قول ہے۔ ابونصر عبدالرحیم القشیری نے اپنی تفسیر میں کہا ہے : اھل الھلام واستھل واھللناالھلال واستھللنا۔
مسئلہ نمبر 3: ہمارے علماء نے فرمایا : جس نے قسم اٹھائی کہ وہ قرضہ ادا کرے گا یا ایسا کرے گا فی الھلال اور رأس الھلال اوعند الھلال
۔ پھر اس نے وہ کام چاند دیکھنے کے دو دن بعد کیا یا ایک دن بعد کیا تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اور تمام مہینے تمام عبادات و معاملات کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل ھی مواقیت للناس والحج اس آیت میں چاند کے بڑھنے اور کم ہونے کی حکمت بیان ہو رہی ہے مدتوں، معاملات، قسموں، حج، تعداد، روزہ، عید، مدت حمل، اجارات، کر ایوں کے علاوہ دوسرے بندوں کی مصلحتوں سے اشکال کو دور کرنے کے لئے یہ گھٹتا اور بڑھتا ہے اس کی مثال اللہ تعالیٰ کے یہ ارشادات ہیں : وجعلنا الیل و النھار اٰیتین فمحونآ اٰیۃ الیل وجعلنا اٰیۃ النھار مبصرۃً لتبتغوا فضلاً من ربکم ولتعلموا عدد السنین والحساب (الاسراء :12) اس آیت کی وضاحت آگے آئے گی اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ھو الذی جعل الشمس ضیآءً والقمر نورًا وقدرہ منازل لتعلمواعدد السنین والحساب (یونس :5) چاندوں کا شمار کرنا، دنوں کے شمار سے آسان ہوتا ہے۔
مسئلہ نمبر 4: جو ہم نے ثابت کیا ہے اس پر اہل ظواہر اور ان کے ہمنواؤں کا رد ہوجاتا ہے وج کہتے ہیں کہ مساقات (درختوں کو پانی لگانا) کا عمل مجہول عدل تک غیر معلوم سالوں تک جائز ہے اور انہوں نے اس سے حجت پکڑی ہے کہ رسوال اللہ ﷺ نے نصف کھیتی اور کھجوروں پر یہود کو عامل مقرر کیا جب تک رسول اللہ ﷺ چاہیں گے بغیر کسی وقت کے تعین کے۔ اس میں اہل ظواہر کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے یہود کو کہا تھا : میں تمہیں ان زمینوں پر باقی رکھوں گا جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں باقی رکھے گا۔ یہ بڑی واضح دلیل ہے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت تھی آپ اس فیصلہ میں اپنے رب کے منتظر تھے کسی دوسرے کیلئے جائز نہیں۔ شریعت نے اجازت اور تمام معاملات کے معانی و مطالب کو پختہ و مضبوط کردیا ہے۔ یہی علماء امت کا قول ہے۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مواقیت یہ میقات کی جمع ہے جس کا معنی ہے : وقت۔ بعض نے فرمایا : میقات، وقت کا منتہی ہے اور مواقیت غیر منصرف ہے کیونکہ یہ جمع ہے جس کی احاد میں کوئی مثال نہیں یہ جمع ہے اور جمع کی نہایت ہے، کیونکہ اس کی جمع نہیں بنائی جاتی۔ پس یہ ایسی ہوگی جس میں گو یا تکرار ہوچکا ہے اور قواریر منصرف ہے کیونکہ وہ آیت کے سرے پر واقع ہوا ہے اس کو تنوین دی گئی ہے جس طرح قوافی کو تنوین دی جاتی ہے۔ یہ تیوین الصرف نہیں جو کسی اسم کے معرب ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
مسئلہ نمبر 6: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الحج جمہور کی قرءات میں حا پر فتحہ ہے۔ ابن ابی اسحاق نے پورے قرآن میں اسے حا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور اسی طرح حج البیت جو سورة آل عمران میں ہے اس میں بھی حا کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ سیبویہ نے نے کہا : الحج جیسے الرد اور الشد۔ اور الحج جیسے الذکر۔ یہ دونوں مصدر ہیں اور ہم معنی ہیں بعض نے فرمایا : حاء کے فتحہ مصدر ہے اور حاء کے کسرہ کے ساتھ اسم ہے۔
مسئلہ نمبر 7: اللہ تعالیٰ نے حج کا ذکر علیحدہ فرمایا کیونکہ یہ ان چیزوں میں سے ہے جس میں وقت کی معرفت کی احتیاج ہے۔ اس میں وقت سے تاخیر جائز نہیں بخلاف عربوں کے نظریہ کے وہ عدد اور مہینوں کی تبدیلی کے ساتھ حج کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے قول اور فعل کو باطل کردیا۔ اس کا بیان سورۂط برأت میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر 8: امام مالک اور امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے استدلال کیا ہے کہ اس آیت کی وجہ سے حج کے مہینوں کے علاوہ کسی مہینہ میں حج کا احرام باندھنا صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام چاندوں کو اس کے لئے ظعر بنایا ہے۔ پس تمام مہینوں میں حج کا احرام باندھنا صحیح ہے۔ امام شافعی نے اس میں مخالفت کی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الحج اشھر معلومٰت (البقرہ :197) جیسا کہ آگے آئے گا، اس آیت کا معنی ہے بعض چاند لوگوں کے لئے وقت ہیں، بعض حج کے لئے وقت ہیں یہ اس طرح ہے جیسے تو کہتا ہے : الجاریۃ لزیدوعمرو۔ یہ لونڈی زید اور عمرو کے لئے ہے یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ لونڈی کا بعض زید کے لئے ہے اور بعض عمرو کے لئے ہے۔ یہ کہنا جائز نہیں کہ تمام لونڈی زید کے لئے ہے اور تمام عمرو کے لئے ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ھی مواقیت للناس والحج اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام چاند لوگوں کے لئے وقت ہیں اور تمام چاند حج کا وقت ہیں۔ اگر بعض مراد ہوتا تو عبارت یوں ہوتی : بعضھا مواقیت للناس وبعضھا مواقیت الحج۔ یہ اس طرح ہے جیسے تو کہتا ہے : ان شھر رمضان میقات لصوم و عمرو رمضان کا مہینہ زید اور عمرو کے روزے وقت ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ تمام رمضان ہر ایک کے روزے کے وقت ہے اور جو انہوں نے لونڈی کی مثال دی تھی وہ صحیح ہے کیونکہ پوری لونڈی کا زید کے لئے ہونا اور پوری لونڈی کا عمرو کے لئے ہونا محال ہے۔ اور ہمارے مسئلہ میں ایسا نہیں ہے کیونکہ زمانہ کا زید کے لئے وقت ہوتا اور عمرو کے لئے وقت ہونا صحیح ہے، پس جو انہوں نے کہا : وہ باطل ہے۔
مسئلہ نمبر 9: علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جس نے کوئی سامان بیچا معلوم قیمت کے ساتھ عربوں کے مہینوں سے معلوم مدت تک یا ایسے تک جن کی تعداد معروف ہو، بیع جائز ہے۔ اسی طرح معلوم مدت تک بیع سلم کے بارے میں کہا ہے۔ اس میں اختلاف ہے جس نے فصل کاٹنے تک یا گہنے تک یا عطا تک یا اس کے مشابہ کوئی غیر معیٰن وقت تک کے لئے کوئی چیز بیچی۔ امام مالک نے فرمایا : یہ جائز ہے کیونکہ یہ معروف ہے۔ ابوثور کا بھی قول ہے۔ امام احمد نے کہا : میں امید کرتا ہوں اس میں کوئی حرج نہیں ہوگی۔ اس طرح نمازیوں کے واپس آنے تک کوئی چیز بیچی تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ وہ عطا کرنے تک کوئی چیز خریدتے تھے۔ ایک طائفہ نے کہا : یہ جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے وقت مقرر فرمایا ہے اور وقت کو ان کی بیوع اور مصالح میں ان کی علامت بنایا ہے۔ اسی طرح حضرت ابن عباس نے کہا : یہی امام شافعی اور نعمان کا قول ہے : ابن منذر نے کہا : حضرت ابن عباس کا قول صحیح ہے۔
مسئلہ نمبر 10: جب چاند بڑا دکھائی دے تو ہمارے علماء نے کہا : اس کے بڑے یا چھوٹے ہونے کا اعتبار نہ ہوگا بلکہ وہ اسی رات کا ہوگا۔ مسلم نے ابو البختری سے روایت کیا ہے، فرمایا : ہم عمرہ کے لئے نکلے۔ جب ہم نخلہ کے بطن میں اترے۔ فرمایا : ہمیں چاند نظر آیا۔ بعض لوگوں نے کہا : یہ راتوں کا ہے، بوض نے کہا : دو روتوں کا ہے۔ فرمایا : ہم حضرت ابن عباس سے ملے۔ ہم نے کہا : ہم نے چاند دیکھا۔ بعض نے کہا : تین راتوں کا ہے بعض نے کہا : دو راتوں کا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : کس رات تم نے اسے دیکھا تھا ؟ ہم نے کہا : فلاں رات، حضرت ابن عباس نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے چاند کو دیکھنے کے لئے لمبا کیا وہ اسی رات
کا ہے جس رات کو تم نے اسے دیکھا۔
مسئلہ نمبر 11: اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ولیس البربان تاتوا البیوت من ظھورھا اس مسئلہ کو حج کے وقت کے ذکر ساتھ ملایا کیونکہ چاندوں کے متعلق اور گھروں کے پیچھے سے داخل ہونے کے متعلق اکٹھے سوال ہوئے تھے۔ پس یہ آیت دونوں مسئلوں کے متعلق نازل ہوئی، انصار جب حج کرتے تھے تو وہ اپنے گھروں کو لوٹتے تھے تو ان کے دروازوں سے داخل نہیں ہوتے تھے۔ وہ جب حج یا عمرہ کا احرام باندھتے تھے وہ شرعاً التزام کرتے تھے کہ ان کے اور آسمان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو جب ان سے کوئی شخص احرام باندھنے کے بعد گھر سے اور آسمان کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو وہ اپنے گھر کے پیچھے دیواروں پر ایک کوہان بناتا تھا پھر اپنے حجرہ میں کھڑا ہوتا تھا اور اپنی حاجت کا حکم دیتا تھا پھر اس کے گھر سے وہ چیز اس کی طرف نکالی جاتی تھی اور وہ اس عمل کو نیکی اور عبادت سمجھتے تھے۔ اسی طرح وہ کئی چیزوں کو عبادت سمجھتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں میں ان کا رد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ نیکی اسکے حکم کی پیروی میں ہے۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابوصالح کی روایت میں ہے فرمایا : لوگ زمانہ جاہلیت میں اور اسلام کے ابتدائی دور میں (اس طرح تھے) کہ ان میں سے کوئی جب حج کا احرام باندھتا تھا اگر وہ کچے مکانوں والوں میں سے ہوتا تھا تو وہ اپنے گھر کے پیچھے سے سواخ کرتا تھا اس سے داخل ہوتا تھا اور اس سے خارج ہوتا تھا یا وہ سیڑھی رکھتا تھا اس سے چڑھتا تھا اور اس سے اترتا تھا اگر وہ خیمہ والوں میں سے ہوتا جو وہ خیمہ کے پیچھے سے داخل ہوتا تھا مگر جو حمس (قریش) میں سے ہوتا وہ ایسا نہیں کرتا تھا۔
زہری نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حدیبیہ کے زمانہ میں عمرہ کا احرام باندھا اور آپ اپنے حجرہ میں داخل ہوئے اور بنی سلمہ میں سے ایک انصاری بھی آپ کے پیچھے دورازہ سے داخل ہوگیا، اس نے اپنی قوم کی عادت کو توڑ دیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا : تو کیوں دروازہ سے داخل ہوا جبکہ تو نے احرام باندھا ہوا تھا ؟ اس نے کہا : حضور ! آپ داخل ہوئے تو میں بھی آپ کے داخل ہونے کے ساتھ داخل ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : میں تو حمس ہوں یعنی ایسی قوم سے ہوں جو اس کو دین نہیں سمجھتے۔ اس شخص نے کہا : میں اپنے اور تمہارے دین پر ہوں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ حضرات ابن عباس، عطا اور قتادہ کا قول ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ شخص قطبہ بن عامر انصاری تھا۔
الحمس قریش، کنانۃ، خزاعہ، ثقیف، جشم، بنوعامربن صعصہ، بنونصربن معاویہ کو کہا جاتا ہے۔ ان کو حمس اس لئے کہا جاتا ہے : یہ اپنے دین میں بہت سخت تھے۔ الحماسہ کا معنی شدت ہے۔ حجاج نے کہا : وکم قطعنا من قفاف حمس، ہم نے حمس کی کتنی سخت جگہوں کو کاٹا ؟ پھر اس کی تاویل میں اختلاف ہے۔ بعض نے وہ کہا جو ہم نے ذکر کیا ہے۔ بعض نے کہا : یہ تاخیر کرنا ہے اور حج کو مؤخر کرنا مراد ہے حتیٰ کہ وہ حلال مہینہ کو حج کی تاخیر کے لئے حرام بنادیتے تھے اور حرام مہینہ کو حلال بنادیتے تھے تاکہ حج کو اس سے مؤخر کریں تو بیوت کا ذکر اس بنا پر ہے حج کی تاخیر کے لئے حرام بنادیتے تھے اور حرام مہینہ کو حلال بنادیتے تھے یا کہ حج کو اس سے مؤخر کریں تو بیوت کا ذکر اس بنا پر ہے حج میں واجب کی مخالفت اور حج کے مہینوں میں مخالفت کی یہ مثام ہے۔ تاخیر کرنے کا بیان انشاء اللہ سورة برأت میں آئے گا۔ ابوعبیدہ نے کہا : یہ آیت ضرب المثل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نیکی یہ نہیں کہ تم جاہلوں سے پوچھو بلکہ تم اللہ سے ڈرو اور علماء سے پوچھو۔ یہ ایسے ہے جیسے تو کہتا ہے : اتیت ھذا الامرمن بابہٖ ۔ اس کام کو میں نے اس کے تقاضا کے مطابق کیا۔ مہدوی اور مکی نے ابن انباری سے، ماوردی نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت عورتوں کے جماع میں مثال ہے حکم دیا کہ ان کی قبل میں وطی کرو، دبر میں وطی نہ کرو۔ عورتوں کو بیوت (گھر) کہا گیا ہے کیونکہ عورتوں کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جس طرح گھروں کی طرف رجوع کیا جاتا ہے ابن عطیہ نے کہا : یہ بعید ہے اور کلام کے انداز کو بدلنا ہے۔ حسن نے کہا : وہ فال پکڑتے تھے، پس جو سفر کرتا اور اس کی حاجت پوری نہ ہوئی تو وہ خسارہ سے فال پکڑتے ہوئے گھر کے پیچھے سے آتا تو انہیں کہا گیا کہ بدشگونی میں نیکی نہیں ہے بلکہ نیکی تو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور اس پر توکل کرنا ہے۔ میں کہتا ہوں : ان اقوال میں سے پہلا قول صحیح ہے کیونکہ حضرت براء نے روایت کیا ہے، فرمایا : انصار جب حج کرتے تھے تو وہ اپنے گھروں کے دروازوں سے داخل نہیں ہوتے تھے۔ انہوں نے فرمایا : ایک انصاری شخص آیا اور اپنے دروازے سے داخل ہوگیا۔ اس کو اس کے متعلق کہا گیا تو یہ آیت نازل ہوئی ولیس البربان تاتوا البیوت من ظھورھا۔ یہ بیوت کے بارے میں حقیقی نص ہے۔ اس کو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے۔ رہے دوسرے اقوال وہ دوسری جگہ سے لئے گئے ہیں۔ آیت سے ماخوذ نہیں ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ کے طور پر ذکر کی گئی ہے کہ نیکی کو اس کے تقاضا کے مطابق کرو اور تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے اس کے مطابق کرو۔ گھروں کے دروازوں سے آنے کا ذکر بطور مثال ہے تاکہ اشارہ ہوجائے کہ ہم امور کو اس طریقہ سے ادا کریں جس طرح اللہ نے ہمیں ادائیگی کا حکم دیا ہے۔
میں کہتا ہوں : اس بنا پر جو اقوال ذکر کئے گئے ہیں سب صحیح ہیں۔ البیوت جمع ہے بیت کی۔ البیوت کو با کے ضمہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ تقویٰ اور فلاح اور لعل کا معنی گزرچکا ہے۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ نمبر 12: اس آیت میں بیان ہے کہ جس کام کو اللہ نے قربت نہیں بنایا اور اس کی طرف اس نے بلایا نہیں تو وہ قربت نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ کوئی قربت حاصل کرنے والا قربت حاصل کرے۔ ابن خویز منداد نے کہا : جب کسی کام کے قربت ہونے اور قربت نہ ہونے کا اشکال ہو تو اس عمل کو دیکھا جائے گا اگر تو اس کی فرائض وسنن میں کوئی مثال ہے تو وہ جائز ہوگا اور اگر مثال نہ ہو تو نہ وہ نیکی ہوگا نہ قربت۔ فرمایا : اس کے متعلق آثار نبی کریم ﷺ سے مروی ہیں۔ حضرت ابن عباس کی حدیث میں ذکر ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے جبکہ ایک شخص دھوپ میں کھڑا تھا۔ اس کے متعلق آپ نے پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ ابواسرائیل ہے اس نے ندز مانی ہے کہ کھڑاق رہے گا، نہ بیٹھے گا، نہ سایہ حاصل کرے گا، نہ بولے گا اور روزہ رکھے گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اس کو کہو یہ کلام کرے، سایہ حاصل کرے اور بیٹھے اور اپنے روزے کو مکمل کرے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کاموں کو باطل کردیا جو قربت نہیں تھے، جن کی شریعت میں کوئی اصل نہیں تھی اور اس قربت کو صحیح قرار دیا جس کی قرائض و سنن میں مثال تھی۔
Ayah 2:190آیت نمبر 190
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقاتلوا یہ پہلی آیت ہے جو قتال کے حکم میں نازل ہوئی۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ہجرت سے پہلے ان ارشادات کی وجہ سے قتال ممنوع تھا۔ اذقع بالتی ھی احسن (المومنوں :96) (دور کرو اس چیز سے جو بہت بہتر ہے) فاعف عنھم واصفع (المائدہ :13) (معاف فرماتے رہئے اور دوگزر فرمایئے) ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واھجرًا ھم ھجرًا جمیلا۔ (مزمل) (اور ان سے الگ ہوجایئے بڑی خوبصورتی سے) ۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لست علیھم بمصیطر۔ (الغاشیہ) (آپ ان کو جبر سے منوانے والے تو نہیں ہیں) اس قسم کے دوسرے ارشادات جو مکہ میں نازل ہوئے۔ جب آپ ﷺ نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی تو آپ کو قتال کا حکم دیا گیا یہ ارشاد نازل ہوا : وقاتلو فی سبیل اللہ الذی یقاتلونکم (البقرہ : 190) یہ حضرت ربیع بن انس وغیرہ کا قول ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق سے مروی ہے کہ پہلی آیت قتال کے بارے میں یہ نازل ہوئی اذن للذی یقٰتلون بانھم ظلموا (الحج :39) پہلا قول زیادہ ہے۔ اذن والی آیت وام مثال کئ بارے نازل ہوئی مشرکین میں سے جو قتال کرے اور جو نہ کرے ہر ایک سے جنگ کرنے کا اذن ہوا۔ نبی کریم ﷺ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرف عمرہ کے لئے نکلے تھے جب مکہ کے قریب حدیبیہ میں اترے۔۔۔ حدیبہ ایک کنویں کا نام ہے، اس کنویں کے نام کی وجہ سے اس جگہ کو بھی حدیبیہ کہا جاتا ہے۔۔۔ مشرکوں نے آپ کو بیت اللہ کی طرف سے روکا۔ آپ ایک مہینہ حدیبیہ میں ٹھہرے رہے پھر مشرکوں نے آپ سے صلح کی کہ آپ اس سال واپس لوٹ جائیں جس طرح آئے ہیں آئندہ سال ان کے لئے تین دن مکہ خالی کردیا جائے کردیا جائے گا اور اس شرط پر صلح کی کہ دس سال ان کے درمیان قتال نہ ہوگا۔ آپ ﷺ مدینہ طیبہ واپس آگئے۔ جب اگلا سال آیا تو آپ نے عمرہ القصناء کی تیاری کی۔ مسلمانوں کو کفار کے دھوکا کا خوف ہوا۔ مسلمانوں نے حرم میں اور حرمت والے مہینہ میں لڑنا ناپسند کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی تمہارے لئے قتال حلال ہے اگر کفار تم سے قتال کریں۔ یہ آیت حج کے ذکر اور گھروں کے پیچھے سے آنے کے گزشتہ ذکر کے ساتھ متصل ہے۔ نبی کریم ﷺ اس سے جنگ کرتے تھے جو آپ سے جنگ کرتا تھا اور اس سے جنگ نہیں کرتے تھے جو آپ سے جنگ نہیں کرتا تھا۔ حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی : فاقتلوا المشرکین (توبہ :5)
پس یہ آیت منسوخ ہوگئی۔ یہ علماء کی ایک جماعت کا قول ہے۔ ابن زید اور ربیع نے کہا اس کو قاتلوا المشرکین کآفۃً (توبہ :36) نے منسوخ کیا تمام کفار سے جنگ کرنے کا حکم ہوا۔ حضرت ابن عباس، حضرت عمر بن عبدالعزیز اور مجاہد نے کہا : یہ آیت محکم ہے یعنی تم ان سے جہاد کرو جو تم سے لڑتے ہیں اور عورتوں اور بچوں اور راہبوں کے قتل میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ اس کا بیان آگے آئے گا۔ ابو جعفر نحاس نے کہا : یہ سنت اور نظر میں اصح قول ہے۔ سنت میں ابن عربی کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی جنگ میں عورت کو مقتولہ دیکھا تو آپ نے اسے ناپسند فرمایا اور عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔ اس حدیث کو ائمہ نے روایت کیا ہے۔ رہی نظر تو فاعل کا صیغہ عام طور پر دو شخصوں سے پایا جاتا ہے جیسے مقاتلہ، مشاتمۃ، مخاصمہ، جھگڑنا، گالی دینا، لڑنا وغیرہ۔ قتال عورتوں، بچوں اور انکے مشابہہ لوگوں میں نہیں ہوتا جیسے راہب، اپاہج، بوڑھے اور مزدور لوگ۔ پس یہ لوگ قتل نہیں کئے جائیں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت یزید بن ابی سفیان کو یہی وصیت کی تھی جب اسے شام کیطرف بھیجا تھا مگر یہ کہ یہ لوگ اذیت دینے والے ہوں تو انکو قتل کیا جائیگا۔ اسکو مالک وغیرہ نے نقل کیا ہے اور علماء کی اس میں چھ صورتیں ہیں۔
(1) عورتیں اگر قتال کریں تو انہیں قتل کیا جائے گا۔ سحنون نے کہا : جنگ کی حالت میں اور جنگ کے بعد ایسی عورتوں کو قتل کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا رشاد عام ہے : وقاتلو فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم (اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں) واقتلو ھم حیث ثقفتموھم (ان کو قتل کرو جہاں تم انہیں پاؤ) اور عورت کے لئے جنگ میں آثار عظیمہ ہوتے ہیں مثلاً اموال سے امداد، جنگ پر ابھارنا کبھی عورتیں اپنے باکل کھولے ہوئے، ندبہ کرتے ہوئے، ابھارتے ہوئے اور فرار پر عار دلاتے ہوئے نکلتی ہیں۔ اس صورت میں ان کا قتل کرنا مباح ہے مگر جب وہ قیدی ہوجائیں تو انہیں لونڈیاں بنانا زیادہ نفع بخش ہے کیونکہ وہ جلدی اسلام قبول کرلیتی ہیں اور اپنے ادیان سے رجوع کرلیتی ہیں اور ان کا اپنے اوطان کی طرف بھاگ جانا مشکل ہوتا ہے، بخلاف مردوں کے۔
(2) بچوں کو قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ بچوں کے قتل سے نہی ثابت ہے کیونکہ ان پر تکلیف نہیں یعنی وہ مکلف نہیں ہیں۔ اگر بچہ جنگ میں شریک ہو تو اسے قتل کیا جائے گا۔
(3) راہبوں کو نہ قتل کیا جائے گا نہ انہیں غلام بنایا جائے گا بلکہ ان کے اموال وغیرہ بھی چھوڑ دیئے جائیں گے جن سے وہ زندگی گزارتے ہیں۔ یہ اس صورت میں ہے جب وہ اہل کفر سے جدا رہیں کیونکہ حضرت ابوبکر نے حضرت یزید کو کہا تھا : اور تم ایسی قوم پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے نفسوں کے لئے روک رکھا ہے۔ انہیں چھوڑ دو اور جو دو کہتے ہیں کہ انہوں ننے اللہ کے لئے اپنے نفسوں کو روک رکھا ہے۔ اسے بھی چھوڑ دو ۔۔۔ اگر وہ کفار کے ساتھ کنائس میں ہوں تو پھر قتل کئے جائیں گے۔ اگر عورت راہبہ بن چکی ہو تو اشہب نے کہا : اسے نہیں ڈرایا جائے گا۔ سحنون نے کہا : راہبہ ہونا اس کا حکم کو نہیں بدلے گا۔ قاضی ابوبکر بن عربی نے کہا کہ میرے نزدیک صحیح اشہب کی روایت ہے کیونکہ وہ اس قول کے تحت داخل ہے انہیں چھوڑدو اور جنہوں نے اپنے نفسوں کو اللہ کے لئے روکا ہوا ہے۔
(4) اپاہج : سحنون نے کہا : ان کو قتل کیا جائے گا۔ ابن حبیب نے کہا : انہیں قتل نہیں کیا جائے گا۔ صحیح یہ ہے کہ ان کے احوال کا اعتبار کہا جائے گا، اگر وہ اذیت دینے والے ہوں تو انہیں قتل کیا جائے گا ورنہ انہیں چھوڑ دیا جائے گا اور اس کے راستہ میں بیٹھنے والے ہیں وہ ایسے لوگوں میں سے ہوجائیں گے جن کے حال پر وحشت نہیں ہے۔
(5) الشیوخ َمالک نے محمد کی کتاب میں فرمایا : شیوخ (بوڑھوں) کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اس پر جمہور کا نظریہ ہے اگر کوئی بوڑھا شخص ہو جو قتال کی طاقت نہ رکھتا ہو نہ اس کی رائے سے نفع اٹھا یا جاتا ہو اور وہ دفاع کرنے والا ہو تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ یہی قول امام مالک اور امام ابوحنیفہ کا ہے ،۔ امام شافعی کے دو قول ہیں : (1) جمہور کے قول کی مثل ہے اور دوسرایہ ہے کہ راہب کو قتل کیا جائے گا، صحیح قول ہے کیونکہ سیدنا ابوبکر نے حضرت یزید کو یہی کہا تھا اور اس قول کا کوئی مخالف نہیں ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اس پر اجماع ہے۔ نیز یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو جنگ نہیں کرتے اور نہ دشمن کی مدد کرتے ہیں۔ پس اس کا قتل کرنا جائز نہیں جیسے عورت ہے مگر ایسا بوڑھا جس کے نقصان کا خوف ہو وہ جنگ کرتا ہو یا رائے دیتا ہے یا مال دیتا ہے پھر یہ جب قیدی ہوجائے گا تو امام کو اس میں اختیار ہوگا۔ قتل کرے، احسان کرے یا فدیہ لے یا غلام بنالے یا جزیہ کی ادائیگی پر ذمہ کا عقد کرے۔ (2) عسفاء : مزدور لوگ اور کسان لوگ ہیں۔ مالک نے محمد کی کتاب میں فرمایا : انہیں قتل نہیں کیا جائے گا۔ امام شافعی نے فرمایا : کسانوں، مزدوروں اور بوڑھے لوگوں کو قتل کیا جائے گا مگر یہ کہ وہ اسلام قبول کرلیں یا جزیہ ادا کریں۔ پہلا قول اصح ہے کیونکہ رباح بن ربیع کی حدیث میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : خالد بن ولید سے مل جاؤ اور کسی بچے اور مزدور کو قتل نہ کرنا۔ حضرت عمر نے فرمایا : بچوں اور ان کسانوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو جو تمہارے لئے جنگ کھڑی نہیں کرتے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کسان کو قتل نہیں کرتے تھے۔ یہ ابن منذر نے ذکر کیا ہے۔
مسئلہ نمبر 2: اشہب نے مالک سے روایت کیا ہے کہ وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم سے مراد اہل مدینہ ہیں جنہیں ان سے قتال کا حکم دیا گیا تھا جو ان سے قتال کریں۔ صحیح یہ ہے کہ یہ تمام مسلمانوں کو خطاب ہے ہر ایک کو حکم دیا کہ وہ ان سے جہاد کریں جو ان سے جنگ کرے۔ جب کوئی اور صورت ممکن نہ ہو۔ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کیسے سورة برأت میں بیان فرمایا قاتلوا الذین یلونکم من الکفار (توبہ :123) ۔
پہلا مقصود اہل مکہ تھے۔ پس ان سے آغاز متعین ہوگیا جب اللہ تعالیٰ نے مکہ کو فتح فرمایا تو پھر ان سے متصل لوگوں سے جنگ تھی جو اذیت دیتے تھے حتیٰ کہ دعوت عام ہوجائے اور کلمۃ اللہ تمام آفاق میں پہنچ جائے اور کفار میں سے کوئی باقی نہ رہے۔ یہ حکم قیامت تک جاری رہے گا۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خبر رکھی گئی ہے، اجر اور مال غنیمت۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کی غایت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ہے۔ یہ پہلی حدیث کے موافق ہے کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ،
مسئلہ نمبر 3 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تعتدوا اس کی تاویل میں وہی کہا گیا ہے جو ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں۔ یہ محکم آیت ہے اور رہے مرتد لوگ تو ان کے لئے قتل ہے یا توبہ ہے۔ اسی طرح گمراہ لوگوں کے لئے تلوار یا توبہ ہے۔ اور جس نے باطل اعتقاد کو چھپایا پھر ظاہر ہوگیا تو وہ زندیق کی طرح قتل کیا جائے گا اور اس سے توبہ طلب نہیں کی جائے گی۔ رہے ائمہ عدل پر خوارج سے جنگ کرنا واجب ہے حتیٰ کہ وہ حق کی طرف لوٹ آئیں۔ ایک قوم نے کہا : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی رضا کے بغیر قتال میں حد سے تجاوز نہ کرو۔ جیسے حمیت، شہرت کا حصول وغیرہ بلکہ اللہ کے راستہ میں ان سے جہاد کرو جو تم سے لڑتے ہیں اور مقصود دین کی سر بلندی ہو اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کا اظہار ہو۔ بعض نے فرمایا : ولا تعتدوا یعنی جو تم سے نہیں لڑتا اس سے نہ لڑو، اس صورت میں تمام کفار سے جنگ کرنے کے حکم کے ساتھ یہ آیت منسوخ ہوگی۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 2:191–192آیت نمبر 191 تا 192
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ثقفتموھم کہا جاتا ہے ثقف یثقف ثقفاوثقفا۔ رجل ثقف وہ شخص جو کاموں کو پختہ کرنا ہے۔ اس آیت میں قیدی کو قتل کرنے پر دلیل ہے۔ اس کا بیان سورة انفال میں انشاء اللہ آئے گا۔ واخرجوھم من حیث اخرجوکم یعنی مکہ سے تم ان کو نکالو۔ طبری نے کہا : یہ خطاب مہاجرین کے لئے ہے اور ضمیر کفار قریش کے لئے ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والفتنۃ اشد من القتل وہ فتنہ جس پر انہوں نے تمہیں ابھارا اور انہوں نے اس کے ذریعے تمہارے کفر کی طرف لوٹنے کا ارادہ کیا ہو قتل سے زیادہ شدد ہے۔ مجاہد نے کہا : اس کا مطلب ہے مومن کو قتل کرنے سے۔ پس قتل کرنا اس پر فتنہ سے زیادہ خفیف ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : ان کا اللہ سے شریک ٹھہرانا اور اللہ تعالیٰ سے کفر کرنا اس قتل سے بڑا جرم ہے جس کی وہ تمہیں عار دلاتے ہیں۔ یہ دلیل ہے کہ یہ آیت عمر و بن حضرمی کے بارے میں نازل ہوئی جب اسے واقد بن عبداللہ تیمی نے رجب (جو حرمت والا مہینہ تھا) کے آخری دن قتل کردیا تھا جیسا کہ عبداللہ بن حجش کے سریہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ اس کا بیان آگے آئے گا۔ یہ طبری وغیرہ کا قول ہے۔
مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تقٰتلو ھم عند المسجد الحرام حتی یقٰتلوکم فیہ اس آیت کے متعلق علماء کے دو قول ہیں : (1) ایک یہ کہ یہ منسوخ ہے (2) دوسرا یہ کہ یہ محکم ہے۔ یہ طاؤس کا قول ہے اور آیت کی نص اس کا تقاضا کرتی ہے اور دنوں قولوں میں سے یہی قول صحیح ہے۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا نظریہ بھی یہی ہے۔ الصحیح میں حضرت ابن عباس سے مروی ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا : یہ وہ شہر ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس دن سے حرام فرمایا جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمین کو تخلیق فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک حرام (حرمت والا) ہے اس میں کسی لے لئے مجھ سے پہلے قتال حلال نہ تھا اور میرے لئے صرف دن کی ایک گھڑی حلال کیا گیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حرمت سے قیامت تک کے لئے حرام ہے۔ قتادہ نے کہا : یہ آیت اس آیت فاذا انسلخ الا شھر الحرم فاقتلوا المشرکین حیث وجد تموھم (توبہ :5) سے منسوخ ہے۔ مقاتل نے کہا : اس آیت کو اس آیت واقتلوھم حیث ثقفتموھم نے منسوخ کیا ہے پھر اس کو اس نے منسوں کیا فاقتلوا المشرکین حیث وجد تموھم (توبہ : 5) پس حرم میں قتال سے آغاز کرنا جائز ہے اور جس سے انہوں نے حجت پکڑی وہ یہ ہے کہ سورة برأت، سورة بقرہ کے دو سال بعد نازل ہوئی۔ اور نبی کریم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھا۔ کسی نے کہا : ابن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اسے قتل کردو۔
ابن خویز منداد نے کہا : ولا تقٰتلو ھم عندالمسجد الحرام منسوخ ہے کیونکہ اجماع سے ثابت ہے کہ دشمن اگر مکہ پر غالب آجائے اور کہے میں تم سے جنگ کروں گا اور میں تمہیں حج سے روکوں گا اور میں مکہ سے نہیں جاؤں گا تو اس سے جنگ کرنا واجب ہے اگرچہ وہ قتال (جنگ) کا آغاز نہ بھی کرے مکہ اور دوسرے شہر برابر ہیں اس کی تعظیم کے لئے اسے حرام کیا گیا ہے۔ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالد بن ولید کو فتح مکہ کے دن بھیجا اور فرمایا : تلوار سے ان کو کاٹ دے حتیٰ کہ تم مجھے صفا پر ملو۔ حتیٰ کہ حضرت عباس آئے اور کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ قریش ختم ہوگئے آج کے بعد کوئی قریش نہیں۔ کیا آپ نے ملاحظہ نہیں فرمایا اس کی تعظیم کی خاطر فرمایا : اس کی گری پڑی چیز کوئی نہ اٹھائے مگر وہ جو اعلان کروائے مکہ میں کری پڑی چیز اور کسی دوسرے شہر میں برابر ہے اور یہ آیت وقٰتلو ھم حتی لاتکون فتنۃ کے ارشاد کے ساتھ منسوخ ہے۔
ابن عربی نے کہا : میں بیت المقدس میں۔۔۔۔ اللہ اسے پاک کرے۔۔۔۔ ابو عقبۃ حنفی زنجانی کے مدرسہ میں آیا اور قاضی زنجانی نے ہمیں جمعہ کے دن درس دیا۔ ہم اس کیفیت میں تھے کہ ایک خوبصورت شکل والا شخص آیا، اس کی پیٹھ پر پرانے کپڑے تھے اس نے علماء کی طرف سلام کیا اور چرواہوں کے لباس کے ساتھ صدر مجلس بن کر بیٹھ گیا۔ قاضی زنجانی نے کہا : سردار کون ہے ؟ اس نے کہا : وہ شخص کہ کل جس سے شاطر نے مال چھینا تھا اور میرا ارادہ اس حرم مقدس کا تھا۔ میں اہل صاغان کے طالبعلوں میں سے ہوں۔ قاضی نے جلدی سے کہا : اس سے سوال کرو۔۔۔ عادت کے مطابق علمائے اکرام میں ان سے جلدی سے سوال کئے جاتے ہیں کافر کے مسئلہ پر فرعہ نکلا۔ جب وہ حرم میں اس نے کہا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولا تقٰتلو ھم عند المسجد الحرام یقٰتلو کم فیہ اور ولا تقتلوھم ولا تقاتلوھم بھی پڑھا گیا ہے اگر ولا تقتلوھم پڑھا جائے تو مسئلہ واضح ہے اور اگر ولا تقاتلوھم پڑھا جائے تو یہ تنبیہ ہے کیونکہ جب جنگ سے منع فرمایا جو قتل کا سبب ہے تو یہ قتل سے نہی پر ظاہر، واضح دلیل ہوگی اس پر قاضی نے امام شافعی اور امام مالک کے مدہب کی تائید کرتے ہوئے اعتراض کیا اگرچہ قاضی ان کے مسلک کا قائل نہیں تھا۔۔۔ عادت کے مطابق۔۔۔ اس نے کہا : یہ آیت فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم (توبہ :5) سے منسوخ ہے۔ صاغانی نے کہا : یہ قاضی کے منصب اور اس کے علم کے مناسب نہیں۔ یہ آیت جو آپ نے پیش کی ہے وہ تمام جگہوں میں ہے اور جس سے تو نے حجت پکڑی ہے وہ خاص ہے، کسی کے لئے یہ کہنا جائز نہیں کہ عام، خاص کو منسوخ کرتا ہے۔ قاضی زنجانی مبہوت ہوگیا۔ یہ بدیع الکلام سے ہے۔ ابن عربی نے کہا : اگر کافر حرم میں پناہ لے تو اس کو نہیں پکڑا جائے گا کیونکہ نص قرآنی اور سنت ہے اس میں قتال منع ہے۔ رہا زانی اور قاتل اس پر حد قائم کرنا ضروری ہے مگر کافر جنگ کا آغاز کرے تو نص قرآنی کی وجہ سے اسے قتل کیا جائے گا۔
میں کہتا ہوں : علماء نے جو ابن خطل اور اس کے ساتھیوں کے قتل سے حجت پیش کی ہے، اس میں کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ یہ اس وقت ہوا تھا کب مکہ آپ ﷺ کے لئے حلال کیا گیا تھا۔ یہ دار حرب اور دار کفر تھا۔ جس گھڑی میں حلال کیا گیا تھا اس میں آپ ﷺ کے لئے اہل مکہ میں سے جن کا خون بہانا چاہتے تھے جائز تھا۔ پس ثابت ہوا کہ پہلا قول صحیح ہے۔
مسئلہ نمبر 4: بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت دلیل ہے کہ امام پر بغاوت کرنے والا حکم میں کافر کے خلاف ہے۔ کافر جب قتال کرے تو اسے ہر حال میں قتل کیا جائے گا اور باغی جب قتال کرے تو دفاع کی نیت سے اس سے جنگ کی جائے گی۔ بھاگ جانے والے کا پیچھا نہیں کیا جائے گا اور زخمیوں پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ باغیوں کے احکامات سورة الحجرات میں آئیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر 5 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فان انتھوا اگر وہ ایمان لانے کے ساتھ جنگ سے رک جائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے پچھلے سب گناہ معاف کردے گا اور ان میں سے ہر ایک پر جرموں سے عفو کے ساتھ رحم فرمائے گا۔ اس کی مثال یہ ارشاد ہے : قل للذین
کفروٓا ان ینتھوایغفرلھم ماقدسلف (انفال :38) (اس کا بیان آگے آئے گا) ۔
Ayah 2:193آیت نمبر 193
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقٰتلوھم یہ ہر جگہ ہر مشرک سے جنگ کرنے کا حکم ہے۔ اس کے قول کے مطابق جو اسے ناسخ دیکھتا ہے اور جو اسے غیر ناسخ کہتا ہے وہ کہتا ہے : اس کا معنی ہے ان سے لڑو جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فان قٰتلوکم اگر وہ تم سے لڑیں، پہلا قول اظہر ہے۔ یہ مطلق قتال کا امر ہے اس میں کفار کے آغاز کرنے کی کوئی شرط نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ ارشاد ہے : ویکون الدین للہ (دین اللہ کے لئے ہوجائے) ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا یہ کہ میں لوگوں سے جنگ کروں حتیٰ کہ وہ کہیں لآ الٰه الا اللہ۔ یہ آیت اور حدیث دلالت کرتی ہیں کہ قتال کا سبب کفر ہے کیونکہ فرمایا : حتی لاتکون فتنة (حتیٰ کہ فتنہ نہ رہے) یعنی کفر یہ رہے۔ جہاد کی غایت کفر کا یہ ہونا بیان فرمائی۔ اور یہ ظاہر ہےَ حضرت ابن عباس قتادہ، ربیع، سدی وغیرہم نے فرمایا : یہاں فتنہ سے مراد شرک اور وہ تمام چیزیں ہیں جو مسلمانوں کی اذیت کا باعث تھیں۔ فتنہ کا اصل معنی اختیار اور امتحان ہے۔۔ یہ فتنت الفضة سے ماخوذ ہے جب تو چاندی کو آگ میں ڈالے تاکہ ردی، عمدہ سے علیحدہ ہوجائے، اس کے محاصل کا بیان آگے آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فان انتھوا اگر وہ کفر سے رک جائیں، اسلام قبول کرنے کے ساتھ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے یا جزیہ ادا کرنے کے ساتھ، یہ اہل کتاب کے حق میں ہے۔ اس کا بیان سورة برأت میں آئے گا۔ کفر سے باز آجائیں تو فبہادر قتل کئے جائیں گے۔ یہ ظالم ہیں ان پر ہی تعدی ہوگی۔ ظالموں کی سزا کو عدوان (تعدی) سے تعبیر د فرمایا کیونکہ وہ ان کی تعدی (ظلم) کی سزا ہے کیونکہ اپنے ضمن میں عدد ان کو لئے ہوئے ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے عدوان کی جزا کو بھی عدوان کہا گیا۔
جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وجزٰؤا سیئةٍ سیئة مثلھا (الشوریٰ :40) ، الظالمون، دونوں تاویلوں میں سے ایک تاویل پر۔ جس نے قتال سے آغاز کیا۔ اور دوسری تاویل پر جو کفر اور فتنہ پر باقی رہا۔