Ayah 2:223آیت نمبر : 223۔
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” نسآؤکم حرث لکم ائمہ نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے۔ (1) (بخاری شریف : باب : کتاب تفسیر القران، حدیث نمبر : 4164، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں، فرمایا : یہودی کہتے تھے جب کوئی آدمی اپنی عورت کے ساتھ اس کی دبر کی جانب سے اس کی قبل (فرج) میں وطی کرتا ہے تو بچہ بھینگا ہوتا ہے، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ” نسآؤکم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم “۔ اور زہری سے ایک روایت میں یہ زائد ہے : اگر چاہے تو اسے اوندھا لٹائے اور اگر چاہے تو سیدھا لٹائے مگر وطی ایک سوراخ میں ہو اور صام کا لفظ سام سین کے ساتھ بھی مروی ہے۔ ترمذی نے یہی کہا ہے۔ (1) (سنن ترمذی : باب : سورة البقرہ، حدیث نمبر : 2904، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور امام بخاری نے حضرت نافع سے روایت کیا ہے (2) (بخاری شریف : باب : کتاب التفسیر القرآن، حدیث نمبر : 4163، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) کہ انہوں نے فرمایا : حضرت ابن عمر ؓ جب قرآن کریم پڑھتے تھے تو گفتگو نہ کرتے تھے یہاں تک کہ قرات سے فارغ ہوجاتے، پس ایک دن میں قرآن کریم اٹھائے ہوئے تھا اور انہوں نے سورة البقرہ پڑھی یہاں تک کہ اس مقام (اس آیت) پر پہنچ کر رک گئے فرمایا : کیا تو جانتا ہے کیونکر یہ آیت نازل کی گئی ہے ؟ میں نے عرض کی نہیں، فرمایا : یہ اس اس میں نازل ہوئی ہے، پھر آپ آگے پڑھنے لگے۔
اور عبدالصمد نے بیان کیا ہے کہ میرے باپ نے مجھے بتایا کہ مجھے ایوب نے نافع کے واسطہ سے حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث بیان کی ہے۔ (آیت) ” فاتوا حرثکم انی شئتم “۔ کے بارے انہوں نے کہا : یاتیھا فی۔ یعنی اس میں مجرور محذوف ہے۔ حمیدی نے کہا ہے : وہ الفرج ہے۔ (3) (ایضا) یعنی وہ اس کے ساتھ فرج میں جماع کرے۔
ابو داؤد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : بلاشبہ حضرت ابن عمر ؓ کو وہم ہوا ہے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، بلاشبہ یہ انصار کا ایک قبیلہ تھا، وہ بت پرست تھے اور اس قبیلے کے ساتھ یہودی بھی تھے اور وہ اہل کتاب ہیں۔ اور وہ ان کو اپنے اوپر علم میں فضیلت دیتے تھے اور وہ بہت سے افعال میں ان کی اقتدا کرتے تھے اور اہل کتاب کے امور میں سے ایک یہ تھا کہ وہ عورتوں کے ساتھ ایک طرف پر جماع کرتے تھے اور یہ عورت کے لئے زیادہ باعث ستر ہوتا تھا، پس انصار کے اس قبیلے نے ان کے افعال میں سے اس فعل کو بھی اختیار کرلیا اور یہ قبیلہ قریش میں سے تھا جو عورتوں کو گدی کے بل لٹا کر ان سے وطی کرتے تھے اور ان سے لذت حاصل کرتے تھے، کبھی سامنے کی جانب سے، کبھی پیچھے کی جانب سے اور کبھی چت لٹا کر، پس جب مہاجرین مدینہ طیبہ آئے تو ان میں سے ایک آدمی نے انصار کی ایک عورت سے شادی کی اور وہ اس کے ساتھ وہی کچھ کرنے لگا، تو اس نے اسے ناپسند کیا اور ایسا کرنے سے روکا اور کہا : ہمارے ہاں عورت کے ساتھ ایک طرف سے جماع کیا جاتا ہے پس تو بھی اسی طرح کر ورنہ مجھ سے دور ہوجا، یہاں تک کہ ان دونوں کا معاملہ بڑھ گیا اور وہ حضور نبی مکرم ﷺ تک جا پہنچا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : (آیت) ” فاتوا حرثکم انی شئتم “۔ یعنی سامنے کی جانب سے، پیچھے کی جانب سے اور چت لیٹنے کی حالت میں (محل حرث میں جماع کرو) اور یہی ولد ہے۔ (4) سنن ابی داؤد، باب : فی جامع النکاح، حدیث نمبر 1849، ایضا)
امام ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا : حضرت عمر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میں ہلاک ہوگیا، آپ نے فرمایا : کس شے نے تمہیں ہلاک کیا ہے ؟ عرض کی : آج رات میں نے اپنے پالان (مراد بیوی ہے) کو الٹا کردیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا : تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں کوئی جواب نہ دیا۔ راوی نے بیان کیا : پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی طرف یہ آیت وحی فرمائی :
(آیت) ” نسآؤکم حرث لکم، فاتو حرثکم انی شئتم “۔ اقبل وادبرواتق الدبر والحیضۃ “۔
ترجمہ : تو سامنے کی جانب سے اور پیچھے کی جانب سے وطی کر اور دبر اور حالت حیض میں وطی کرنے سے بچ۔
فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (1) (سنن ترمذی، باب من سورة البقرۃ، حدیث نمبر 2906، ایضا)
اور نسائی نے ابو النضر سے بیان کیا ہے کہ اس نے نافع مولی ابن عمر ؓ کو کہا : تمہارے بارے میں اکثر قول ہے کہ تم حضرت ابن عمر ؓ سے یہ روایت کرتے ہو کہ انہوں نے یہ فتوی دیا ہے کہ عورتوں کے ساتھ ان کی دبروں میں جماع کیا جاسکتا ہے، تو حضرت نافع ؓ نے فرمایا : تحقیق انہوں نے میرے بارے میں جھوٹ بولا : البتہ میں تمہیں بتاؤں گا کہ معاملہ کیسے تھا۔ ایک دن حضرت ابن عمر ؓ نے قرآن کریم مجھے دیا اور میں ان کے پاس تھا یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچے۔ (آیت) ” نسآؤکم حرث لکم “۔ فرمایا : نافع ! کیا تو جانتا ہے اس آیت کا حکم کیا ہے ؟ بیشک ہم گروہ قریش عورتوں کو منہ کے بل اوندھا لٹاتے تھے، جب ہم مدینہ منورہ میں آئے اور ہم نے انصار کی عورتوں سے نکاح کیے تو ہم نے ان سے وہی کرنا چاہا تو ہم اپنی عورتوں سے کرتے تھے تو ان عورتوں نے اسے ناپسند کیا اور اسے برا معاملہ قرار دیا، کیونکہ انصار کی عورتوں کے ساتھ ان کے پہلوؤں کے بل جماع کیا جاتا تھا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمایا (آیت) ” نسآؤکم حرث لکم، فاتو حرثکم انی “۔
مسئلہ نمبر : (2) یہ احادیث تمام کیفیات اور حالت کی اباحت میں نص ہیں بشرطیکہ وطی محل حرث میں ہو، یعنی جس کیفیت میں تم چاہو پیچھے کی جانب سے اور آگے کی جانب سے وہ سینے کے بل لیٹی ہوئی ہو یا چت یا پہلو کے بل، اور رہا محل حرث کے سوا کسی جگہ میں وطی کرنا تو یہ نہ مباح رہا ہے اور نہ اسے مباح کیا جائے گا اور حرث کا ذکر اس پر دلالت کرتا ہے کہ محل حرث کے سوا میں وطی کرنا حرام ہے۔ اور حرث یہ تشبیہ ہے، کیونکہ ان میں بھی بیج بویا جاتا ہے اور لفظ حرث واضح کرتا ہے کہ اباحت صرف اور صرف فرج میں واقع ہوئی ہے۔ کیونکہ وہی بیج ڈالنے کا محل ہے اور ثعلب نے کہا ہے :
انما الارحام ارض دن لنا محترثات۔
بے شک ارحام زمینیں ہیں ہمارے لئے کھیتیاں بنائی گئی ہیں۔
فعلینا الزرع فیھا و علی اللہ النبات :
پس ہمارے اوپر ان میں بیج ڈالنا ہے اور اگانا (یعنی اولاد عطا کرنا) اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے۔
پس عورت کی فرج زمین کی طرح ہے اور نطفہ بیج کی مانند ہے اور بچہ نباتات کی طرح ہے۔ پس الحرث بمعنی المحترث ہے اور الحرث کو واحد لایا گیا ہے کیونکہ یہ مصدر ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے : رجل صوم، وقوم صوم۔
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” انی شئتم “۔ جمہور صحابہ کرام، تابعیں عظام اور ائمہ فتوی کے نزدیک اس کا معنی ہے : جس طرح تو چاہو سامنے کی جانب سے اور پشت کی جانب سے جیسا کہ ابھی ہم نے ذکر کیا ہے۔ اور ” انی “ سوال کے لئے اور کسی کام کی خبر دینے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس کی کئی جہتیں ہیں اور یہ لغوی اعتبار سے کیف، این اور متی سے عام ہے۔ یہی انی میں عربی استعمال ہے اور لوگوں نے اس آیت میں انہی الفاظ کے ساتھ انی کی تفسیر بیان کی ہے۔
اور سیبویہ نے کیف اور این دونوں کے ساتھ اکٹھی اس کی تفسیر بیان کی ہے۔
اور فرقہ نے این کے ساتھ اس کی تفسیر بیان کی ہے اور یہ موقف اپنایا ہے کہ دبر میں وطی مباح ہے اور جن کی طرف یہ قول منسوب ہے وہ حضرت سعید بن مسیب، حضرت نافع، حضرت ابن عمر رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین حضرت محمد بن کعب قرظی اور عبدالملک بن ماجشون رحمۃ اللہ علہیم ہیں اور اسے امام مالک سے ان کی جس کتاب سے بیان کیا گیا ہے اس کا نام کتاب السر ہے اور امام مالک (رح) کے ماہر اصحاب اور ان کے مشائخ اس کتاب کا انکار کرتے ہیں اور امام مالک کا مقام و مرتبہ اس سے کہیں بلند اور اعلی ہے کہ ان کے لئے کتاب السر ہو اور یہ قول العتبیہ میں ہے۔
اور علامہ ابن عربی نے ذکر کیا ہے کہ ابن شعبان نے اس قول کے جواز کو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور تابعین رحمۃ اللہ علہیم میں سے بہت بڑی جماعت کی طرف منسوب کیا ہے۔ اور امام مالک (رح) کی طرف بہت سی روایات کتاب جماع النسوان و احکام القرآن “ میں منسوب کی ہیں اور ال کیا الطبری نے کہا ہے : محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہ دیکھتے تھے اور وہ اس میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد پیش کرتے تھے :
(آیت) ” اتاتون الذکران من العلمین، وتذرون ماخلق لکم ربکم من ازواجکم “۔ (الشعرائ)
ترجمہ : کیا تم بدفعلی کے لئے جاتے ہو مردوں کے اپس ساری مخلوق سے اور چھوڑ دیتے ہو جو پیدا کی ہیں تمہارے لئے تمہارے رب نے تمہاری بیویاں۔
اور فرمایا : تقدیر کلام یہ ہے ” تترکون مثل ذلک من ازواجکم “ یعنی تم اس کی مثل اپنی بیویاں چھوڑ دیتے ہو، اگر اس کی مثل بیویوں سے مباح نہ ہوتا تو یہ صحیح نہ ہوتا اور اس کی مثل کسی دوسرے محل میں مباح نہیں، یہاں تک کہ کہا جاتا ہے : تم وہ کرتے ہو اور اس کی مثل مباح کو چھوڑ دیتے ہو۔
ال کیا نے کہا : یہ بات محل نظر ہے، کیونکہ اس کا معنی ہے : اور تم چھوڑ دیتے ہو جو پیدا کی ہیں تمہارے لئے تمہارے رب نے تمہاری بیویاں جن میں تمہاری شہوت کی تسکین ہے اور جماع کی لذت ہے۔ یہ دونوں ایک ساتھ حاصل ہوجاتی ہیں، پس اس معنی پر زجر وتوبیخ جائز ہے، قول باری تعالیٰ : (آیت) ” فاذا تطھرن فاتوھن من حیث امرکم اللہ “۔ اس ارشاد گرامی کے ساتھ : (آیت) ” فاتوا حرثکم “ اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ محل جس میں واقع ہونا ہے وہ خاص ہے اور اسی میں مقصور ہے جو محل ولد ہے، (یعنی جس محل میں وطی کرنے اولاد کا ہونا ممکن ہے وہی محل حرث ہے اور اسی میں جماع جائز ہے تو چونکہ دبر میں یہ عمل کرنے سے اولاد کا امکان نہیں، اس لئے نہ وہ محل حرث ہے اور نہ ہی اس میں وطی مباح ہے)
میں (مفسر) کہتا ہوں : اس مسئلہ میں یہی حق اور صحیح ہے۔
ابو عمر بن عبدالبر نے ذکر کیا ہے کہ علماء نے رتقاء میں اختلاف نہیں کیا، یہ ایسی عورت ہے جس سے وطی نہیں کی جاسکتی، یہ عیب ہے اس کے سبب اسے رد کیا جاسکتا ہے، مگر وہ روایت جو حضرت عمر بن عبدالعزیز سے کئی طرق سے مروی ہے وہ قوی نہیں ہے وہ یہ کہ رتقاء کو نہیں لوٹایا جائے گا اور نہ کسی اور کو، تمام کے تمام فقہاء اس کے خلاف ہیں کیونکہ مسیس (وطی) ہی نکاح کا مقصود ہے اور اس پر انکے اجماع میں اس بات پر دلیل موجود ہے کہ دبر محل وطی نہیں ہے اور اگر یہ وطی کا محل ہوتی تو پھر اسے رد نہ کیا جاتا جس کی فرج میں وطی نہ کی جاسکتی ہو۔
اور ان کے اجماع میں اس پر بھی دلیل موجود ہے کہ ایسی بانجھ عورت جو بچے نہیں جنتی اسے رد نہیں کیا جائے گا، اور اس مسئلہ میں صحیح وہی ہے جو ہم نے بیان کردیا ہے اور وہ جو امام مالک اور ان کے اصحاب کی طرف منسوب ہے وہ باطل ہے اور وہ اس سے بری الذمہ ہیں، کیونکہ وطی کی اباحت محل حرث کے ساتھ مختص ہے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : (آیت) ” فاتوا حرثکم “ اور اس لئے بھی کہ بیویوں کو پیدا کرنے میں حکمت نسل کو پھیلانا ہے اور جو اس کا محل نہیں ملک نکاح اسے شامل ہی نہیں ہوتی۔ یہی بات حق ہے۔
اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے اصحاب نے کہا ہے : ہمارے نزدیک وہ (یعنی دبر میں وطی کرنا) اور ذکر کو ساتھ مس کرنا حکم میں برابر ہیں۔ کیونکہ محل نجاست میں قذر (گندگی) اور اذیت دم حیض کی نسبت زیادہ ہے، پس وہ زیادہ شنیع اور برا ہے اور رہی بول کی تکلیف تو یہ رحم کی تکلیف کے سوا ہے۔
علامہ ابن عربی نے قبس میں کہا ہے کہ ہمیں الشیخ الامام فخر الاسلام ابوبکر محمد بن احمد بن حسین فقیہ وقت اور امام وقت نے کہا : فرج پینتیس چیزوں کے ساتھ زیادہ مشابہت رکھتی ہے اور انہوں نے اپنے ہاتھ پر گن کر بتایا اور کہا : بول کا راستہ تیس کے ماتحت ہے اور ذکر اور فرج کا راستہ وہ ہے جس پر پانچ مشتمل ہیں۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے فرج کو حالت حیض میں عارضی نجاست کی وجہ سے حرام قرار دیا ہے تو پھر دبر کو لازمی نجاست کی وجہ سے حرام قرار دیا جانا بدرجہ اولی ہے۔
اور امام مالک نے ابن وہب اور علی بن زیاد کو اس وقت کہا جب ان دونوں نے انہیں یہ خبر دی کہ مصر میں لوگ آپ کے بارے میں یہ باتیں کرتے ہیں کہ وہ اسے (دبر میں وطی کو) جائز قرار دیتے ہیں تو آپ نے اس سے نفرت کی (اسے انتہائی ناپسند کیا) اور ناقل کی تکذیب بالفور کی اور فرمایا : انہوں نے میرے بارے میں جھوٹ بولا ہے، انہوں نے میری تکذیب کی ہے، انہوں نے میری طرف جھوٹی نسبت کی ہے۔ (کذبوا علی، تین بار کہا) پھر فرمایا : کیا تم عرب قوم نہیں ہو ؟ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا (آیت) ” نسآؤکم حرث لکم “ تو کیا اگانے والے محل کے سوا کوئی کھیت ہوسکتا ہے (اور وہ محل فرج ہی ہے)
اور جس سے مخالف نے استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ (آیت) ” انی شئتم “ یہ اپنی عمومیت کے اعتبار سے تمام راستوں کو شامل ہے (یعنی قبل اور دبر دونوں کو) تو اس میں ان کے لئے کوئی حجت اور دلیل نہیں ہے کیونکہ جو ہم نے اس کے بارے ذکر کیا ہے اس کے سبب یہ خاص ہوچکا ہے اور ان احادیث کے سبب جو صحیح، حسن اور مشہور ہیں اور انہیں رسول اللہ ﷺ سے بارہ صحابہ کرام نے مختلف متنوں کے ساتھ روایت کیا ہے وہ تمام کی تمام عورتوں کے ساتھ ان کی دبروں میں وطی کے حرام ہونے پر دال ہیں۔
انہیں امام احمد بن حنبل (رح) نے اپنی مسند میں، ابو داؤد، نسائی اور ترمذی رحمۃ اللہ علہیم وغیرہم نے روایت کیا ہے اور انہیں ابو الفرج بن جوزی نے ان کی سندوں سمیت ایک جز میں جمع کیا ہے اور اس کا نام رکھا ہے، تحریم المحل المکروہ اور ہمارے شیخ ابو العباس نے بھی ایک جز میں جمع کیا ہے اور اس کا نام رکھا اظہار ادبار من اجاز الوطی فی الادبار۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہی وہ حق ہے جس کی اتباع کی گئی ہے اور اس مسئلہ میں صحیح (نظریہ) ہے اور اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت کے ساتھ ایمان رکھنے والے کو نہیں چاہئے کہ وہ اس مصیبت میں پڑے کیونکہ یہ عالم کی خطا اور لغزش ہے اس کے بعد کہ اس کے بارے میں صحیح روایات موجود ہیں اور ہمیں عالم کی غلطی سے ڈرایا اور محفوظ رکھا گیا ہے۔
اور حضرت ابن عمر ؓ سے اس کے خلاف مروی ہے اور جس نے ایسا کیا اس کی تکفیر مروی ہے اور یہی آپ ؓ کے لائق اور شایان شان ہے۔ اسی طرح حضرت نافع ؓ نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے جس نے آپ کی طرف سے اس بارے میں بیان کیا، جیسا کہ امام نسائی نے ذکر کیا ہے اور وہ پہلے گزر چکا ہے۔
اور امام مالک (رح) نے اس کا انکار کیا اور اسے بہت بڑا قدم قرار دیا اور جس نے اسے آپ کی طرف منسوب کیا اسے جھوٹا قرار دیا۔
اور الدارمی ابو محمد نے اپنی مسند میں سعید ابن یسار ابی الحباب سے روایت کیا ہے فرمایا : میں نے حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا : آپ ان عورتوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں جن کے ساتھ تحمیض کی جائے ؟ آپ نے فرمایا : تحمیض کیا ہے ؟ تو میں نے عرض کیا : ” دبر “ تو آپ نے فرمایا : کیا مسلمانوں میں سے بھی کوئی ایسا کرتا ہے۔
اور حضرت خزیمہ بن ثابت ؓ سے مسند روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : ” اے لوگو بیشک اللہ تعالیٰ حق سے حیاء نہیں کرتا تم عورتوں کی دبروں میں وطی نہ کرو۔ “ اور اسی کی مثل حضرت علی بن طلق سے بھی مروی ہے۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مسند روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جس نے عورت کے ساتھ اس کی دبر میں وطی کی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر (کرم) نہیں فرمائے گا۔ “۔
اور ابو داؤد طیالسی نے اپنی مسند میں حضرت قتادہ سے، انہوں نے عمرو بن شعیب سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی رحمت ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ” وہ لواطت صغری ہے “ (1) (مسند امام احمد حدیث نمبر 6706) یعنی عورت کی دبر میں وطی کرنا۔
اور حضرت طاؤس سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : عورتوں کے ساتھ ان کی دبروں میں وطی کرنے سے ہی قوم لوط کا عمل شروع ہوا تھا۔
ابن منذر نے کہا ہے : جب کوئی شے رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہوجائے تو پھر جو بھی اس کے سوا ہے اسے چھوڑ دیا جائے۔
مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وقدموا لانفسکم “۔ یعنی پہلے پہلے وہ عمل کرلو جو کل (یعنی آخرت میں) تمہارے لئے باعث نفع ہوں، اس میں مفعول کو حذف کردیا گیا ہے اور اس کی تصریح اس ارشاد باری تعالیٰ میں کی گئی ہے :
(آیت) ” وما تقدموا لانفسکم من خیر تجدوہ عند اللہ “۔ (البقرہ : 110)
ترجمہ : اور جو کچھ آگے بھیجو گے اپنے لئے نیکیوں سے ضرور پاؤ گے اس کا ثمر اللہ کے ہاں) پس معنی یہ ہوا تم اپنے لئے طاعت اور عمل صالح آگے بھیجو (یعنی پہلے پہلے کرلو)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اولاد اور نسل کی چاہت ہے کیونکہ اولاد دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ تحقیق بیٹا شفیع بھی ہوتا ہے اور ڈھال بھی۔
اور یہ قول بھی ہے کہ اس سے مراد پاک دامن عورتوں سے شادی کرنا ہے تاکہ اولاد صالح اور طاہر ہو۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد افراط کو آگے بھیجنا ہے۔ جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے : ” جس نے تین بچے آگے بھیجے جو سن بلوغت کو نہ پہنچے ہوں تو آگ اسے مس نہ کرے گی مگر کفارہ قسم کے طور پر “ الحدیث (1) (صحیح بخاری، باب قول اللہ تعالیٰ : واقسموا باللہ جھد ایمانھم، حدیث نمبر 6164، ایضا) اس کا بیان سورة مریم میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عطاء رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے کہا ہے : جماع کے وقت پہلے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو، جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ” اگر تم میں سے کوئی جب اپنی بیوی کے پاس مجامعت کے لئے آیا اور اس نے یہ پڑھا ” بسم اللہ اللہم جنبنا الشیطان وجنب الشیطان ما رزقتنا “۔ (اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کرتا ہوں۔ اے اللہ تو ہمیں شیطان سے دور رکھ اور شیطان کو اس سے دور رکھ جو تو نے ہمیں عطا فرمایا ہے) تو اگر ان دونوں کے مابین بچہ مقدر ہوا تو شیطان کبھی بھی اسے ضرر نہ پہنچائے گا “۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (5) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واتقوا اللہ “ یہ تحذیر ہے۔ (آیت) ” واعلموا انکم ملقوہ “۔ یہ خبر ہے جو تحذیر میں مبالغہ کا تقاضا کرتی ہے، یعنی وہ تمہیں نیکی اور گناہ پر جزا دے گا۔ ابن عیینہ نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے اور کہا ہے : میں نے سعید بن جبیر کو سنا انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا اور انہوں نے فرمایا : میں نے سعید بن جبیر کو سنا انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا اور انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دوران خطبہ یہ فرماتے ہوئے سنا : ” بلاشبہ تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو گے اس حال میں کہ تم سر اور پاؤں سے ننگے ہوگئے پیدل ہوگئے اور غیر مختون ہوگے۔ “ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت) ” واتقوا اللہ واعلموا انکم ملقوہ “۔ مسلم نے اسے اسی معنی میں روایت کیا ہے۔
مسئلہ نمبر : (6) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وبشر المؤمنین “۔ یہ نیکی کرنے والے اور ہدایت کے طریقے تلاش کرنے والے کے لئے تانیس ہے۔ (2) (بخاری شریف : باب : کیف العشر، حدیث نمبر : 6043، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
Ayah 2:224آیت نمبر 224۔
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) علماء نے فرمایا ہے : جب اللہ تعالیٰ نے مال خرچ کرنے اور یتیموں کے ساتھ زندگی گزارنے اور عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت کا حکم فرمایا تو فرمایا : تم مکارم اخلاق میں سے کسی شے سے انکار نہ کرو اس علت کی بنا پر کہ ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ ہم اس طرح نہ کریں گے، یہ معنی حضرت ابن عباس ؓ ابراہیم نخعی، مجاہد اور ربیع رحمۃ اللہ علہیم اور ان کے سوا کئی دوسروں نے بیان کیا ہے۔
حضرت سعید بن جبیر ؓ نے بیان کیا : مراد ایسا آدمی ہے جو قسم کھا لیتا ہے کہ وہ نیکی نہ کرے گا اور صلہ رحمی نہ کرے گا اور نہ لوگوں کے درمیان صلح کرائے گا، پس اسے کہا جاتا ہے : تو نیکی کر تو وہ کہتا ہے : میں نے تو (نیکی نہ کرنے کا) قسم کھا رکھی ہے۔
اور بعض تاویل کرنے والوں نے کہا ہے : اس کا معنی ہے تم اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ جھوٹ بولتے ہوئے قسمیں نہ کھاؤ جب تم نیکی، پرہیز گاری اور اصلاح (صلح کرانے) کا ارادہ کرو، پس ان کے بعد لا کو مقدر ماننے کی ضرورت نہ ہوگی۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ معنی یہ ہے تم اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ کثرت سے قسمیں نہ کھاؤ کیونکہ یہ دلوں کو خوفزدہ کردیتی ہیں ‘ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
(آیت) ” واحفظوا ایمانکم “۔
ترجمہ : اور تم اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔
اور کثرت سے قسمیں کھانے والے کی مذمت بیان فرمائی۔ سو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
ولا تطع کل حلاف مھین “۔ (القلم)
ترجمہ : اور نہ بات مانیے کسی (جھوٹی) قسمیں کھانے والے ذلیل شخص کی۔
اور عرب کم قسمیں کھانے کے سبب تعریف کرتے ہیں، یہاں تک کہ ان میں سے کسی کہنے والے نے کہا :
قلیل الالایا حافظ لیمینہ وان صدرت منہ الالیۃ برت :
کم قسمیں کھانے والا اپنی قسم کی حفاظت کرتا ہے اور اگر اس سے قسم صادر ہوجائے تو وہ سچی ہوجاتی ہے۔
اس بنا پر ان ” تبروا “۔ کا معنی ہے تم قسمیں کم کھاؤ اس میں نیکی اور پرہیز گاری ہے، کیونکہ کثیر قسموں کے ساتھ حنث (قسم توڑنا) بھی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کی رعایت اور پاسداری میں کمی واقع ہوتی ہے، یہ تاویل حسن اور اچھی ہے۔
حضرت امام مالک بن انس (رح) نے فرمایا : مجھ تک یہ خبر پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ قسم ہر شے میں رائج ہے اور کہا گیا ہے : معنی یہ ہے کہ تم ہر حق اور باطل میں تصرف کے لئے قسم نہ کھاؤ۔
اور زجاج وغیرہ نے کہا ہے : آیت کا معنی ہے کہ ایک آدمی ایسا ہوتا ہے کہ جب اس سے فعل خیر کا مطالبہ کیا جائے تو اللہ کے ساتھ عذر پیش کرتا ہے اور کہہ دیتا ہے : مجھ پر قسم ہے، حالانکہ اس نے قسم نہیں کھائی ہوتی قتبی نے کہا ہے : معنی یہ ہے کہ جب تم یہ قسم کھاؤ کہ تم صلہ رحمی نہ کرو گے، صدقہ نہ کرو گے اور صلح نہیں کراؤ گے اور انہیں کے مشابہ نیکی اور خیر کے کاموں سے متعلق قسمیں تو تم قسم کا کفارہ ادا کر دو ۔
میں (مفسر) کہتا ہوں : یہ (تاویل) حسن ہے اس کے لئے جو ہم نے بیان کیا ہے اور اسی پر سبب نزول بھی دلالت کرتا ہے، ہم اس کے بعد والے مسئلہ میں اسے بیان کریں گے۔
مسئلہ نمبر : (2) کہا گیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی وجہ سے نازل ہوئی، جب انہوں نے یہ قسم کھائی کہ وہ مسطح پر (مال) خرچ نہ کریں گے جس وقت اس نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے بارے باتیں کیں (اور آپ پر تہمت لگائی) جیسا کہ حدیث الافک میں ہے، اس کا بیان سورة النور میں آئے گا، یہ ابن جریج سے مرومی ہے۔ (1) (بخاری شریف : باب : کتاب تفسیر سورة نور حدیث نمبر : 4381، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور یہ قول بھی ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے یہ قسم کھائی کہ وہ مہمانوں کے ساتھ کھانا نہیں کھائیں گے۔ (1) (بخاری شریف : باب : کتاب الادب، حدیث نمبر : 5675، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
اور یہ بھی کہا گیا ہے یہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے یہ قسم کھائی کہ وہ بشیر بن نعمان ؓ کے ساتھ کلام نہیں کریں گے اور وہ آپ کی بہن کی نسبت سے آپ کے داماد تھے۔ واللہ اعلم۔
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” عرضۃ الایمانکم “ یعنی کھڑی کی ہوئی علامت۔ یہ جوہری سے منقول ہے۔
اور فلاں عرضۃ ذاک ‘ یعنی فلاں اس کے لئے علامت (رکاوٹ) ہے، یعنی وہ اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور وہ اس پر قوی اور غالب ہے اور عرضہ کا معنی الحمۃ بھی ہے، کسی نے کہا :
ھم الانصار عرض تھا اللقاء :
وہ انصار ہیں ان کا ارادہ لشکر سے ملاقات ہے۔
اور فلاں عرضۃ للناس اور فلاں لوگوں کا ٹارگٹ ہے : وہ مسلسل اس میں واقع ہوتے رہتے ہیں۔ وجعک فلانا عرضۃ لکذا ‘ یعنی میں نے فلاں کو اس کے لئے علامت قرار دیا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ عرضۃ یہ شدت اور قوت سے ہے اور اسی سے عورت کے لئے ان کا قول ہے : عرضۃ للنکاح، جب وہ نکاح کی صلاحیت رکھے اور اس کے لئے قوی ہوجائے۔
اور لفلاں عرضۃ : یعنی فلاں کے لئے سفر اور جنگ کی قوت و طاقت ہے۔ کعب بن زہیر نے کہا ہے :
من کل نفاحۃ الذفری اذا عرقت عرض تھا طامس الاعلام مجھول :
اور حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے فرمایا :
فھذی لایام الحروب و ھذہ للھوی وھذی عرضۃ لارتحالنا :
پس یہ جنگ کے دنوں کے لئے ہے اور لہو ولعب کے لئے ہے اور یہ ہمارے سفر کے لئے قوت و طاقت ہے، یعنی تیاری ہے۔ اور ایک دوسرے نے کہا ہے :
فلا تجعلنی عرضۃ للوائم :
اور اوس بن حجر نے کہا ہے :
وادماء مثل الفحل یوما عرض تھا لرحلی وفیھا ھزۃ وتقاذف :
اور معنی یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ قسم کھانے کو اپنے لئے قوت نہ بناؤ اور نیکی سے رکنے کے لئے بہانہ نہ بناؤ۔
مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان تبروا وتتقوا “ یہ مبتدا ہے اور اس کی خبر محذوف ہے یعنی البر والتقوی والاصلاح اولی وامثل : یعنی نیکی کرنا، تقوی اختیار کرنا اور صلح کرانا زیادہ بہتر اور زیادہ اچھا ہے۔
جیسا کہ یہ قول ہے (آیت) ” طاعۃ وقول معروف “ یہ زجاج اور نحاس سے منقول ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا محل نصب ہے۔
یعنی تمہیں اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم نیکی، تقوی اور صلح کرانے سے باز نہ رکھے، یہ بھی زجاج سے منقول ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مفعول من اجلہ ہے اور یہ قول بھی ہے کہ اس کا معنی ’ الاتبروا “ اور لا کو حذف کردیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
(آیت) ” یبین لکم ان تضلوا “۔ ای لئلا تضلوا۔
ترجمہ : اللہ تعالیٰ تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ۔
طبری اور نحاس نے اسی طرح کہا ہے اور وجوہ نصب میں سے چوتھی وجہ یہ ہے : کراھۃ ان تبروا “ اور فی مضمر کردیا گیا اور اس کے ساتھ اسے جر دی گئی۔
اور (آیت) ” سمیع “ یعنی اللہ تعالیٰ بندوں کے اقوال کو سننے والا ہے۔ (آیت) ” علیم “ اور ان کی نیتوں کو جاننے والا ہے۔
Ayah 2:225آیت نمبر : 225۔
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” باللغو “۔ اللغو : یہ مصدر ہے لغایلغو ویلغی، ولغی یلغی لغا “۔ جب کلام میں کوئی ایسی شے ذکر کی جائے جس کی حاجت اور ضرورت نہ ہو یا ایسی شے کو لانا جس میں خیر اور بھلائی نہ ہو یا ایسی شے جس کا گناہ لغو ہوجائے اور حدیث میں ہے : ” جب تو اپنے ساتھی کو کہے ” خاموش ہوجا “ اس حال میں کہ امام جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو تو تو نے لغو عمل کیا “۔ (1) (بخاری شریف : باب : کتاب الجمعہ، حدیث نمبر : 882، ضیاء القرآن پبلی کیشنز) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی لغت میں، لغوت کی بجائے لغیت ہے۔ اور شاعر نے کہا ہے :
ورب اسراب حجیج کظم عن اللغا ورفث التکم :
اور ایک دوسرے شاعر نے کہا ہے :
ولست بما خوذ بالغو تقولہ اذا لم تعمد عاقدات العزائم :
مسئلہ نمبر : (2) علماء کا یمین لغو کے باے میں اختلاف ہے :
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : کسی آدمی کا وہ قول جو اس کے کلام کے درمیان میں ہو اور محاورہ میں اس کی عجلت پسندی کے سبب ہو : لا واللہ اور بلی واللہ “۔ یہ (الفاظ) قسم کے ارادے سے نہ ہوں۔
مروزی نے کہا ہے : وہ یمین لغو جس پر علماء کا اتفاق ہے کہ یہ لغو ہے وہ آدمی کا یہ قول ہے : لا واللہ اور بلی واللہ “۔ جبکہ یہ اس کی گفتگو اور کلام میں واقع ہوں نہ اس سے قسم کا اعتقاد ہو اور نہ ہی قسم کا ارادہ ہو۔
اور ابن وہب نے یونس سے اور انہوں نے ابن شہاب سے روایت بیان کی ہے کہ حضرت عروہ ؓ نے انہیں بتایا کہ ام المومنین زوج النبی ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا : یمین لغو وہ ہے جو (محض) دکھاوا، تمسخر اور مزاح میں ہو اور وہ بات جس پر دل کا اعتقاد نہ ہو۔
اور بخاری میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت) ” لا یؤاخذ کم اللہ باللغو فی ایمانکم “۔ ایک آدمی کے اس قول کے بارے میں نازل ہوا : (یعنی) لا واللہ اور بلی واللہ۔
اور کہا گیا ہے لغو وہ ہے جس کے بارے میں کوئی ظن کی بنا پر قسم کھاتا ہے اور وہ امر قسم کے خلاف ہوتا ہے، امام مالک (رح) نے یہی کہا ہے آپ سے اسے ابن قاسم نے بیان کیا ہے اور اسلاف میں سے ایک جماعت نے بھی اسی طرح کہا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا : جب آدمی کسی شے کی قسم کھائے اور اس کا ظن یہی ہو کہ وہ اسی طرح ہے جبکہ (فی الحقیقت) وہ اس طرح نہ ہو تو وہ قسم لغو ہوگی اور اس میں کفارہ نہیں ہے، اسی طرح حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے۔
اور روایت ہے کہ ایک قوم نے رسول اللہ ﷺ کے پاس گفتگو کا تبادلہ کیا اور وہ آپ ﷺ کی موجودگی میں تہمت عائد کرنے لگے تو ان میں سے ایک نے قسم کھائی کہ میں نے درست کہا اور اسے فلاں ! تو نے غلط بیانی کی ہے، جبکہ معاملہ اس کے خلاف نکلا، تو اس آدمی نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ وہ حانث ہوگیا ہے، تو حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا۔ ” ایمان الرماۃ لغو لا حنث فیھا ولا کفارۃ “۔ (ا) (تفسیر طبری، جلد 4، صفحہ 31) (گفتگو میں زیادتی کی قسم لغو ہے، اس میں نہ حانث ہونا ہے اور کوئی کفارہ ہے)
اور مؤطا میں حضرت امام مالک (رح) نے فرمایا ہے : اس بارے میں جو سب سے اچھا میں نے سنا ہے (وہ یہ ہے) کہ اللغو سے مراد انسان کا کسی شے کے بارے میں قسم کھانا ہے جس کے بارے وہ یقین رکھتا ہو کہ وہ اسی طرح ہے پھر وہ اس کے برعکس پائی جاتی ہے، اس میں کفارہ نہیں ہے اور وہ جو کسی شے کے بارے میں قسم کھاتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ وہ اس میں گنہگار ہے، جھوٹا ہے تاکہ وہ اس کے ساتھ کسی کو راضی کرے یا مخلوق کے لئے معذرت کرے یا وہ اس کے ذریعہ مال ہتھیا لے تو یہ اس سے بڑھ کر ہے کہ اس میں کفارہ ہو۔
اور کفارہ اس پر ہوگا جس نے یہ قسم کھائی کہ وہ یہ کام نہیں کرے گا حالانکہ اس کے لیے اس کا کرنا مباح ہے پھر وہ اسے کر گزرتا ہے یا (یہ قسم کھائے) کہ وہ اس طرح کرے گا پھر وہ ایسا نہ کرے، مثلا اگر کسی نے قسم کھائی کہ وہ اپنا کپڑا دس درہم کے عوض نہیں بیچے گا پھر وہ اتنے کے عوض ہی فروخت کردیتا ہے یا کسی نے قسم کھائی کہ وہ اپنے غلام کو ضرور مارے گا پھر وہ اسے نہ مارے۔
اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اگر آپ سے یہ روایت صحیح ہے آپ نے فرمایا : یمین لغو یہ ہے کہ تو قسم کھائے درآنحالیکہ تو غصے میں ہو اور طاؤس نے یہی کہا ہے۔
اور حضرت ابن عباس ؓ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” لایمین فی غضب “۔ (2) (تفسیر طبری، جلد 4، صفحہ 26) حالت غضب میں قسم نہیں ہوتی، اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔
اور حضرت سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا : یہ (اللغو سے مراد) حلال کو حرام قرار دینا ہے، پس وہ کہتا ہے : میرا مال مجھ پر حرام ہے اگر میں نے اس طرح کیا اور حلال مجھ پر حرام ہے، مکحول دمشقی نے اسی طرح کہا ہے۔ اور امام مالک نے بھی یہی کہا ہے، سوائے بیوی کے کیونکہ اس نے اس میں تحریم لازم کردی ہے مگر یہ کہ قسم کھانے والا اپنے دل کے ساتھ اسے خارج کر دے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لغو سے مراد معصیت کی قسم ہے، حضرت سعید بن مسیب، ابوبکر بن عبدالرحمن اور حضرت زبیر ؓ کے دونوں بیٹوں حضرت عمروہ اور حضرت عبداللہ ؓ نے یہی کہا ہے جیسا کہ کوئی یہ قسم کھاتا ہے : ” وہ شراب ضرور پیے گا یا وہ قطع رحمی ضرور کرے گا۔ “
پس اس کی نیکی اس فعل کو ترک کرنا ہے اور اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے اور ان کی دلیل حضرت عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی حدیث ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” جس نے کسی کام کی قسم کھائی پھر اس کے غیر کو اس سے بہتر اور اچھا دیکھا تو اسے چاہیے کہ وہ اسے چھوڑ دے اور بیشک اس کا ترک کرنا ہی اس کا کفارہ ہے (1) (مسند احمد، حدیث نمبر 6736) اسے ابن ماجہ نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے۔ عنقریب اس کا ذکر بھی ” المائدہ “ میں آئے گا۔
اور حضرت زید بن اسلم ؓ نے کہا ہے کہ یمین لغو یہ ہے کہ آدمی اپنے بارے میں بددعا کرے : (مثلا) اللہ تعالیٰ اس کی بصارت کو اندھا کر دے، اللہ تعالیٰ اس کا مال ضائع کر دے، وہ یہودی ہے، وہ مشرک ہے، وہ ولد الزنا ہے اگر اس نے اس طرح کیا۔
حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : دو آدمی خرید وفروخت کرتے ہیں، پس ان میں سے ایک کہتا ہے : قسم بخدا ! میں تجھے اتنے کے عوض نہیں بیچوں گا اور دوسرا کہتا ہے : قسم بخدا میں اتنے کے عوض اسے نہیں خریدوں گا۔
حضرت ابراہیم نخعی نے کہا ہے : وہ آدمی جو قسم کھاتا ہے کہ وہ یہ کام نہیں کرے گا پھر وہ بھول جاتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے بھی اور حضرت ضحاک نے کہا ہے : بیشک یمین لغو وہ ہے جس کا کفارہ ادا کیا جائے، یعنی جب قسم کا کفارہ ادا کردیا جائے تو وہ ساقط ہوجاتی ہے اور لغو ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا کفارہ ادا کرنے کے سبب اور اس سے بہتر کی طرف لوٹنے کے سبب مواخذہ نہیں فرمائے گا۔ ابن عبدالبر نے ایک قول بیان کیا ہے کہ لغو سے مراد مکرہ کی قسم ہے۔
حضرت ابن عربی (رح) نے کہا ہے : وہ قسم جو نسیان اور بھول کے ساتھ ہو اس کے لغو ہونے میں کوئی شک نہیں، کیونکہ وہ اس کے قصد اور ارادہ کے خلاف واقع ہوئی ہے، پس وہ محض لغو ہے۔ (2) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 635)
میں (مفسر) کہتا ہوں : مکرہ کی قسم اپنے انجام سمیت جس نے بالاکراہ قسم کھائی اس کا حکم ” النحل “ میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔
حضرت ابن عربی نے کہا ہے : رہا وہ جس نے کہا کہ لغو سے مراد یمین المعصیۃ ہے تو یہ باطل ہے، کیونکہ ترک معصیت پر قسم کھانے والے کی قسم عبادت ہونے کے اعتبار سے منعقد ہوجاتی ہے اور معصیت کا ارتکاب کرنے پر قسم کھانے والے کی قسم معصیت ہونے کے اعتبار سے منعقد ہوجائے گی اور اسے کہا جائے گا : تو معصیت کا ارتکاب نہ کر اور کفارہ ادا کر دے اور اگر اس نے اقدام فعل کیا تو وہ اپنے اقدام میں گنہگار ہوگا اور اپنی قسم سے بری ہوجائے گا۔
اور رہا وہ جس نے یہ کہا کہ اس سے مراد انسان کا اپنے خلاف دعا کرنا ہے اگر اس طرح نہ ہوا تو اس کے عوض اس طرح آفات نازل ہوں، تو یہ قول لغو ہے کفارہ کے طریق میں، لیکن فی القصد یہ قول منعقد ہوجائے گا اور مکروہ ہے اور بسا اوقات اس کے سبب مواخذہ بھی کیا جاتا ہے، کیونکہ حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی اپنے بارے میں بددعا نہ کرے بسا اوقات اتفاقیہ ایسی ساعت ہوتی ہے کہ جو کوئی اس میں اللہ تعالیٰ سے کسی شے کے بارے میں سوال کرتا ہے تو وہ اسے ضرور عطا فرما دیتا ہے۔ “
اور رہا وہ جس نے کہا اس سے مراد یمین الغضب ہے تو حضور نبی کریم ﷺ کا حالت غضب میں قسم کھانا اس کی تردید کرتا ہے کہ وہ اشعر یین کی بوجھ اٹھانے میں مدد۔۔۔۔۔ کریں گے اور پھر آپ نے ان کی مدد کی اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کردیا۔ اس کا ذکر ” سورة براء ۃ “ میں آئے گا۔
حضرت ابن عربی (رح) نے فرمایا : رہا وہ جس نے یہ کہا کہ اس سے مراد وہ قسم ہے جس کا کفارہ ادا کردیا گیا تو یہ اس کے متعلق نہیں جو بیان کیا جا رہا ہے اور اسے ابن عطیہ (رح) نے بھی ضعیف اور کمزور قرار دیا ہے اور کہا : تحقیق اللہ تعالیٰ نے مطلقا لغو سے مواخذہ اٹھا لیا ہے اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں نہ کوئی گناہ ہے اور نہ ہی کفارہ ہے اور قسم میں مواخذہ یمین غموس میں جو کہ حالف نے اپنے ذمہ لازم کر رکھی ہو اور اس میں جس کا کفارہ ادا کرنا ترک کردیا گیا ہو حالانکہ وہ اس میں سے ہو جن میں کفارہ ہوتا ہے آخرت کی سزا ہے اور لازم کرنے میں دنیا کی سزا ہے، پس یہ قول ضعیف ہوجاتا ہے اس سبب سے کہ یہ یمین المکفرہ ہے، کیونکہ اس میں مواخذہ واقع ہوا ہے اور مواخذہ کو فقط آخرت کے ساتھ خاص کرنا یہ مرضی کا فیصلہ ہے (جس کی کوئی حقیقت نہیں)
مسئلہ نمبر : (3) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فی ایمانکم “ الایمان یمین کی جمع ہے اور الیمین کا معنی قسم ہے اور اس کی اصل یہ ہے کہ عرب لوگ جب آپس میں قسم اٹھاتے تھے یا باہم عقد کرتے تھے تو ایک آدمی اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ اپنے ساتھی کا دایاں ہاتھ پکڑتا پھر یہ رواج بہت زیادہ بڑھ گیا یہاں تک کہ نفس قسم اور عہد کا نام ہی یمین پڑگیا۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یمین فعیل کے وزن پر یمن سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی برکت ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے یہ نام اس لئے دیا ہے کیونکہ یہ حقوق کی حفاظت کرتی ہے اور یمین کا لفظ مذکر و مؤنث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے، اس کی جمع ایمان اور ایمن ہے۔ زہیر نے کہا ہے :
فتجمع ایمن منا ومنکم :
(پس ہماری طرف سے اور تمہاری طرف سے بہت سی قسمیں جمع ہو رہی ہیں)
مسئلہ نمبر : (4) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولکن یؤاخذکم بما کسبت قلوبکم “ یہ اس قول کی مثل ہے : (آیت) ” ولکن یؤاخذکم بما عقدتم الایمان “۔ (المائدہ : 89) اس کے تحت اس کے بارے میں بحث آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ ۔
اور حضرت زید بن اسلم ؓ نے کہا : قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ولکن یواخذکم بما کسبت قلوبکم “ یہ ایسے آدمی کے بارے میں ہے جو یہ کہتا ہے : وہ مشرک ہے اگر وہ ایسا کرے، یعنی یہ لغو ہے مگر یہ کہ وہ اپنے دل سے شرک کرنے کا اعتقاد اور اس کا ارادہ کرے اور (آیت) ” غفور حلیم “۔ یہ دونوں صفتیں ہیں جو اس کے مناسب ہیں جو مواخذہ چھوڑنے کا ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ یہ نرمی اور وسعت کے باب سے ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 1، صفحہ 302 دارالکتب العلمیہ)