2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 2:113

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی راستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی راستے پر نہیں حالانکہ وہ کتاب (الٰہی) پڑھتے ہیں اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے ہیں خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا

آیت نمبر 113 یعنی ہر فریق دعویٰ کرتا ہے کہ اس کا مقابل کسی چیز (دین) پر نہیں ہے اور وہ اس سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا زیادہ مستحق ہے (2) ۔ وھم یتلون الکتب یعنی وہ تورات اور انجیل کی تلاوت کرتے ہیں۔ یہ جملہ حال ہے اور الذین لا یعلمون سے مراد جمہور کے نزدیک عرب کے کفار ہیں کیونکہ ان کے پاس کتاب نہ تھی۔ عطا نے کہا ہے : اس سے مراد وہ قومیں ہیں جو یہود ونصاریٰ سے پہلے تھیں (1) ۔ ربیع بن انس نے کہا : مطلب یہ ہے کہ یہود نے نصاریٰ سے پہلے یہ کہا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اہل نجران نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، تو ان کے پاس یہود کے علماء بھی آئے، اور نبی کریم ﷺ کے پاس جھگڑنے لگے، ہر ایک گروہ نے دوسرے سے کہا : تم کسی دین پر نہیں ہو۔ پس یہ آیت نازل ہوئی۔ (2)
Ayah 2:114

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو خدا کی مسجدوں میں خدا کے نام کا ذکر کئے جانے کو منع کرے اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو ؟ ان لوگوں کو کچھ حق نہیں کہ ان میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے

آیت نمبر 114 اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن اظلم ممن منع مسجد اللہ ان یذکر فیھا اسمہ، من مبتدا کی حیثیت سے مرفوع ہے اور اظلم خبر ہے مطلب یہ ہے کہ لا احد اظلم، کوئی زیادہ ظالم نہیں ہے۔ اور ان محل نصب میں ہے۔ مسجد سے بدل کے اعتبار سے۔ اور یہ تقدیر بھی جائز ہے : کراھیۃ ان یذکر پھر حذف کیا گیا۔ اور یہ تقدیر بھی جائز ہے : من ان یذکر فیکھا۔ اور حرف جر کو طول کلام کی وجہ سے ان سے پہلے حذف کیا گیا اور یہاں مسجد سے مراد بیت المقدس اور اس کی محرابیں ہیں۔ بعض نے فرمایا : کعبہ ہے اور جمع ذکر کیا گیا ہے کیونکہ کعبہ مساجد کا قبلہ ہے یا تعظیم کے لئے جمع ذکر کیا گیا۔ بعض نے فرمایا : مسجد سے مراد تمام مساجد ہیں، ان کا واحد مسجد (جیم کے کسرہ کے ساتھ۔ ) عربوں میں سے بعض کہتے ہیں : مسجد (جیم کے فتحہ کے ساتھ) (3) ۔ فراء نے کہا ہے : ہر فعل جو فعل یفعل کے وزن پر ہو مثلاً دخل یدخل تو اس سے مفعل فتحہ کے ساتھ آتا ہے خواہ وہ اسم ہو یا مصدر ہو۔ اس میں فرق واقع نہیں ہوتا۔ مثلاً دخل یدخل مدخلا۔ ھذا مدخلہ۔ مگر چند الفاظ ایسے ہیں جن پر کسرہ پڑھا جاتا ہے : مسجد، مطلع، المغرب، المشرق، المسقط، المفرق، المجذر، المسکن، المرفق۔ (یہ رفق یرفق سے ہے) المنبت، المنسک (یہ نسک ینسک سے ہے) کسرہ کو اسم کی علامت بنایا ہے۔ بعض اوقات بعض عرب اسم میں فتحہ دیتے ہیں وہ المسجد (جیم کے فتحہ کے ساتھ) انسان کی پیشانی جہاں سجدہ کے لئے پہنچتی ہے : الأراب، وہ سات اعضاء جو سجدہ میں زمین پر لگتے ہیں۔ یہ جوہری کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اس آیت سے مراد کیا ہے اس میں علماء کا اختلاف ہے اور یہ کس کے بارے میں نازل ہوئی ؟ مفسرین نے نقل کیا ہے کہ یہ بخت نصر کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ اس نے بیت المقدس کو خراب کیا تھا۔ حضرت ابن عباس وغیرہ نے کہا : یہ نصاریٰ کے بارے نازل ہوئی (1) ۔ معنی یہ ہے کہ تم کیسے دعویٰ کرتے ہو اے نصاریٰ ! کہ تم اہل جنت میں سے ہو حالانکہ تم نے بیت المقدس کو خراب کیا اور اس میں نمازیوں کو نماز پڑھنے سے روکا۔ اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگا : نصاریٰ کے فعل پر تعجب کا اظہار ہے کہ انہوں نے بیت المقدس کے ساتھ یہ کیا حالانکہ وہ اس کی تعظیم بھی کرتے تھے اور انہوں نے یہود سے عداوت کی۔ سعید نے حضرت قتادہ سے روایت کیا ہے، فرمایا : یہ اللہ کے دشمن نصاریٰ ہیں، یہود کے بعض نے انہیں ابھارا کہ انہوں نے بخت نصر بابلی مجوسی کی بیت المقدس کی تخریب میں معاونت کی۔ (2) روایت ہے کہ یہ تخریب حضرت عمر ؓ کے زمانہ تک باقی رہی۔ بعض نے فرمایا : یہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی جب انہوں نے نمازیوں کو اور نبی کریم ﷺ کو روکا اور حدیبیہ کے ساتھ انہیں مسجد حرام میں داخل نہ ہونے دیا (3) ۔ بعض نے فرمایا : اس نے مراد ہر وہ شخص ہے جس نے بھی قیامت تک کسی مسجد سے کسی کو روکا۔ یہ قول صحیح ہے کیونکہ لفظ عام ہے اور جمع کے صیغہ کے ساتھ وارد ہے۔ بعض مساجد کے ساتھ تخصیص اور بعض اشخاص کے ساتھ خاص کرنا ضعیف ہے۔ واللہ اعلم۔ مسئلہ نمبر 3: مساجد کا خراب کرنا کبھی حقیقۃ ہوتا ہے جیسے بخت نصر اور نصاریٰ نے بیت المقدس کی تخریب کی تھی جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بنی اسرائیل سے اپنے کسی بادشاہ کے ساتھ مل کر جنگ کی۔ بعض علماء نے فرمایا : اس کا نام نطوس بن اسبیسانوس رومی تھا جیسا کہ غزنوں نے ذکر کیا ہے۔ پس انہوں نے بنی اسرائیل کو قتل کیا اور انہیں قیدی بنایا، تورات کو جلا دیا اور بیت المقدس میں غلاظت پھینکی اور اسے خراب کیا۔ اور کبھی تخریب مسجد مجازاً ہوتی ہے، جیسے مشرکین کا مسلمانوں کو منع کرنا۔ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد حرام سے روک دیا۔ پس نماز اور شعائر اسلام کی مساجد میں ادائیگی سے روک دینا یہ اسے خراب کرنا ہے۔ مسئلہ نمبر 4: ہمارے علماء نے فرمایا : اسی وجہ سے ہم کہتے ہیں : عورت کو حج کرنے سے روکنا جائز نہیں ہے جب اس نے حج نہ کیا ہو خواہ اس کا محرم ہو یا نہ ہو اور اسے مساجد میں نماز پڑھنے سے بھی نہ روکا جائے جب اس پر فتنہ کا خوف نہ ہو۔ اسی وجہ سے ہم نے کہا : مسجد کو توڑنا جائز نہیں ہے اور نہ اس کا بیع کرنا اور معطل کرنا جائز ہے اگرچہ محلہ خراب بھی ہوجائے اور مسجد بنانے سے بھی نہیں روکا جائے گا مگر یہ کہ لوگوں کا ارادہ اختلاف اور جھگڑا ہو مثلاً وہ ایک مسجد کے پہلو میں دوسری مسجد بنائیں اور ان سے مقصود پہلی مسجد کے لوگوں میں جدائی ڈالنا ہو اور خراب کرنا ہو اور اختلاف پیدا کرنا ہو۔ اگر ایسی صورت ہو تو دوسری مسجد کو تورا جائے اور اس کے بنانے سے منع کیا جائے گا۔ اسی وجہ سے ہم نے کہا : ایک شہر میں دو جامع مسجد ہونی جائز نہیں ہیں اور نہ ایک مسجد کے لئے دو امام جائز ہیں اور نہ ایک مسجد میں دو جماعتیں جائز ہیں۔ اس کا مزید بیان انشاء اللہ سورة براءت میں آئے گا اور سورة نور میں مساجد اور ان کی بنا کا حکم اللہ تعالیٰ کی توفیق سے بیان کیا جائے گا۔ یہ آیت نماز کے امر کی تعظیم پر دلالت کرتی ہے۔ جب نماز افضل عمل ہے اور اجر کے اعتبار سے عظیم ہے تو اس کا منع کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ مسئلہ نمبر 5: ہر جگہ جہاں اللہ کی عبادت کرنا ممکن ہو اور اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا جاتا ہو اسے مسجد کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جعلت لی الارض مسجداً وطھوراً (میرے لئے زمین سجدہ گاہ اور پاکیزگی کا باعث بنائی گئی ہے) اس حدیث کو ائمہ نے تخریج کیا ہے (1) ۔ امت کا اس پر اجماع ہے کہ وہ جگہ جو زبان کے ساتھ نماز کے لئے متعین کی گئی ہو تو وہ مالک کی ملکیت سے خارج ہوجاتی ہے اور وہ تمام مسلمانوں کے لئے ہوجاتی ہے اگر کوئی شخص اپنے گھر میں مسجد بنائے اور لوگوں کو اس سے روکے اور اسے اپنے لئے مختص کرے تو وہ اس کی ملکیت پر رہے گی اور وہ مسجد کی تعریف میں نہیں آئے گی۔ اگر وہ تمام لوگوں کے لئے اس میں نماز پڑھنا مباح کر دے تو پھر اس کا حکم عام مساجد جیسا ہوجائے گا اور ملکیت سے نکل جائے گی۔ مسئلہ نمبر 6: اولئک ما کان لھم ان یدخلوھا الا خائفین، اولئک مبتدا ہے اور اس کا مابعد اس کی خبر ہے خائفین حال ہے یعنی مسلمان جب اس پر غالب آجائیں اور وہ مسلمانوں کی سلطنت کے تحت آجائے تو اس وقت ان مساجد میں کافر کا داخلہ ممکن نہ ہوگا۔ اگر کافر اس میں داخل ہوں گے تو انہیں خوف ہوگا کہ مسلمان انہیں نکال دیں گے اور اس میں داخل ہونے پر سزا دیں گے۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ کافر کے لئے مسجد میں داخل ہونا کسی حال میں بھی جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ سورة برأت میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ جنہوں نے اس آیت کو نصاریٰ کے بارے میں تصور کیا اس نے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے بیت المقدس کی اسلام میں تعمیر فرمائی تو اس کے بعد ایک زمانہ گزر گیا کہ کوئی نصرانی اس میں داخل نہیں ہوتا تھا مگر اسے سزا دی جاتی تھی، اس کے بعد کہ وہ ان کی عبادت گاہ تھی (2) اور جنہوں نے اسے قریش کے بارے تصور کیا۔ اس نے کہا : نبی کریم ﷺ کے حکم سے یہ اعلان کیا گیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور کوئی بیت اللہ کا طواف برہنہ ہو کر نہیں کرے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ خبر ہے اور اس سے مقصود امر ہے یعنی تم کافروں سے جہاد کرو اور انہیں جڑ سے اکھیڑ دو حتیٰ کہ ان میں سے کوئی مسجد حرام میں داخل نہ ہو مگر ڈرتے ہوئے، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما کان لکم ان تؤدوا رسول اللہ (احزاب :53) یہ حقیقت میں نہی ہے جو خبر کے لفظ کے ساتھ وارد ہے۔ مسئلہ نمبر 7: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لھم فی الدنیا خذیٌ بعض علماء نے فرمایا : یہ حربی کو قتل کرنا ہے اور ذمی کے لئے جزیہ ہے، قتادہ اور سدی سے مروی ہے، الخذی لھم فی الدنیا سے مراد مہدی کا قیام، عموریہ، رومیہ، قسطنطنیہ اور ان کے دوسرے شہروں کی فتح ہے۔ جیسا کہ ہم نے “ التذکرہ ” میں ذکر کیا ہے اور جنہوں نے کہا یہ قریش کے متعلق ہے انہوں نے الخذی سے مراد فتح مکہ لیا ہے اور آخرت میں عذاب ہے اس کے لئے جو کافر ہو کر مرے گا۔
Ayah 2:115

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے تو جدھر تم رخ کرو ادھر خدا کی ذات ہے بیشک خدا صاحب وسعت اور باخبر ہے

آیت نمبر 115 اس میں پانچ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وللہ المشرق والمغرب، المشرق سے مراد طلوع کی جگہ اور المغرب سے مراد غروب ہونے کی جگہ ہے۔ یعنی مشرق ومغرب اور ان کے درمیان کی جہات اور مخلوق کی ایجادواختراع اللہ کے لئے ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ مشرق ومغرب کو خصوصی ذکر فرمایا ان کو شرف دینے کے لئے، جیسے بیت اللہ۔ ناقۃ اللہ۔ کیونکہ آیت کا سبب اس کا تقاضا کرتا ہے۔ جیسا کہ آگے آئے گا۔ مسئلہ نمبر 2: فاینما تولوا یہ شرط ہے اسی وجہ سے نون حذف کیا گیا ہے۔ این عاملہ ہے اور ما زائدہ ہے۔ اور جواب فثم وجہ اللہ ہے۔ حسن نے تولوا تاء اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اصل میں تتولوا تھا اور ثم ظرف کی بنا پر محل نصب میں ہے اس کا معنی بعد ہے، مگر یہ مبنی پر فتحہ ہے معرب نہیں ہے کیونکہ یہ مبہمہ ہے۔ یہ بعد کے لئے ھناک کے قائم مقام ہے اگر تو قرب کا ارادہ کرے گا تو تو ھنا کہے گا۔ مسئلہ نمبر 3: فاینما تولوا کس معنی میں نازل ہوا ؟ اس میں علماء کے پانچ مختلف اقوال ہیں : حضرت عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ نے کہا : یہ آیت اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس نے تاریک رات میں غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ امام ترمذی نے حضرت عبد اللہ سے اور انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے، فرمایا : ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تاریک رات میں سفر پر تھے ہمیں معلوم نہ تھا کہ قبلہ کہا ہے ہر شخص نے اپنی سمت پر نماز پڑھی۔ جب صبح ہوئی تو ہم نے یہ نبی کریم ﷺ کے سامنے ذکر کیا، تو یہ آیت نازل ہوئی : فاینما تولوا فثم وجہ اللہ ابو عیسیٰ نے کہا : یہ حدیث ایسی ہے جس کی سند قابل حجت نہیں ہے ہم اس کو اشعث السمان کی حدیث سے جانتے ہیں اور اشعث بن سعید ابو الربیع حدیث میں ضعیف شمار کیا جاتا ہے۔ (1) اکثر اہل علم کا یہی نظریہ ہے۔ وہ کہتے ہیں : جب بادل کی صورت میں غیر قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے پھر بعد میں اسے علم ہو کہ اس نے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہے تو اس کی نماز جائز ہوگی۔ حضرات سفیان، ابن المبارک، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔ میں کہتا ہوں : امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا یہی قول ہے مگر امام مالک فرماتے ہیں : پھر وقت میں اس نماز کا اعادہ مستحب ہے اور اس پر اعادہ واجب نہیں ہے کیونکہ اس نے فرض تو ادا کرلیا جیسا اسے حکم دیا گیا تھا اور کمال وقت میں پایا جاسکتا ہے۔ یہ امام مالک نے سنت سے استدلال کیا ہے اس شخص کے بارے میں جس نے تنہا نماز پڑھی پھر اس نے اس نماز کو وقت کے اندر جماعت کے ساتھ پایا تو وہ لوگوں کے ساتھ نماز دوبارہ پڑھے اور وقت میں استحباباً اعادہ نہ کرے مگر وہ جو قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے نماز پڑھے یا مشرق یا مغرب کی طرف اپنی پوری کوشش کے بعد نماز پڑھے۔ اور جس نے قبلہ کی تھوڑی دائیں یا بائیں جانب کوشش سے نماز پڑھی اس پر وقت کے اندر اور وقت کے بعد اعادہ نہیں ہے۔ مغیرہ اور امام شافعی نے کہا : نماز جائز نہیں ہے کیونکہ قبلہ کی سمت ہونا نماز کی شروط میں سے ہے (جب شرط نہ پائی گئی تو نماز ہی نہ ہوئی) جو امام مالک نے کہا ہے وہ اصح ہے کیونکہ قبلہ کی جہت کو ضرورت، جنگ کی حالت میں اس کے ترک کو مباح کردیتی ہے اور حالت سفر میں رخصت اس کو مباح کردیتی ہے۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا : یہ آیت مسافر کے بارے میں نازل ہوئی وہ نفل پڑھ سکتا ہے جدھر بھی اس کی سواری کا رخ ہو۔ یہ مسلم نے حضرت ابن عمر سے روایت کیا ہے، فرمایا : رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ کی طرف جاتے ہوئے سواری پر نفلی نماز پڑھتے تھے جدھر بھی سواری کا رخ ہوتا تھا (1) ۔ فرمایا : اس کے متعلق فاینما تولوا فثم وجہ اللہ نازل ہوئی۔ علماء کا سواری پر نفل پڑھنے میں اس حدیث کی وجہ سے کوئی اختلاف نہیں ہے اور کسی کے لئے جان بوجھ کر بغیر شدت خوف کے قبلہ کو ترک کرنا جائز نہیں ہے۔ مریض کے بارے میں امام مالک کا قول مختلف ہے جو محمل پر نماز پڑھتا ہے۔ کبھی فرمایا : وہ اونٹ کی پیٹھ پر فرض ادا کرے اگرچہ مرض شدید بھی ہو۔ سحنون نے کہا : اگر وہ ایسا کرے گا تو اعادہ کرے گا۔ یہ الباجی نے حکایت کیا ہے۔ کبھی کہا : اگر وہ ایسا شخص ہے جو زمین پر نماز نہیں پڑھ سکتا مگر اشارہ کے ساتھ تو وہ اونٹ کے اوپر نماز پڑھ لے اس کے بعد اس کے اونٹ کو روکا جائے اور منہ قبلہ کی طرف کیا جائے۔ اور اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ کسی صحیح آدمی کے لئے فرض ادا کرنا جائز نہیں ہیں مگر زمین پر، مگر خوف شدید ہو تو پھر سواری پر فرض نماز ادا کرسکتا ہے جیسا کہ اس کا بیان آگے آئے گا۔ فقہاء کا اس مسافر کے بارے میں اختلاف ہے جو ایسا سفر کرتا ہے جس میں نماز قصر نہیں کی جاتی۔ امام مالک اور ان کے اصحاب اور ثوری نے فرمایا کہ سواری پر نفل نہ پڑھے مگر ایسے سفر میں جس میں نماز قصر کی جاتی ہے۔ انہوں نے فرمایا : وہ سفر جو رسول اللہ ﷺ سے حکایت کئے جاتے ہیں کہ ان میں آپ نوافل سواری پر پڑھتے تھے، وہ وہ سفر تھے جس میں نماز قصر کی جاتی ہے۔ امام شافعی، امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب، حسن بن حیی، اللیث بن سعد، داوڈ بن علی نے کہا : شہر سے باہر ہر سفر میں سواری پر نفل نماز پڑھنا جائز ہے خواہ اس سفر میں نماز قصر کی جاتی ہو یا نہ کی جاتی ہو کیونکہ آثار ایسے ہیں جن میں کسی خاص سفر کا ذکر نہیں۔ ہر سفر میں نفلی نماز جائز ہے مگر یہ کہ کسی سفر کو ایسی روایت کے ساتھ خاص کیا گیا ہو جو واجب التسلیم ہو۔ امام ابو یوسف نے فرمایا : شہر میں بھی سواری پر اشارے سے نماز پڑھ سکتا ہے کیونکہ یحییٰ بن سعید کی حدیث حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ انہوں نے مدینہ طیبہ کی گلیوں میں گدھے پر اشارے سے نماز پڑھی۔ طبری نے کہا : ہر سوار اور پیدل کے لئے جائز ہے جو وہ مقیم ہو یا مسافر ہو سواری پر اور چلتے ہوئے نفلی نماز اشارے سے پڑھے۔ بعض اصحاب شافعی سے حکایت ہے کہ ان کا مذہب سفر وحضر میں سواری پر نفل پڑھنے کے جواز کا ہے۔ الاثرم نے کہا : احمد بن حنبل سے حضر میں سواری پر نماز کے بارے پوچھا گیا تو امام احمد نے فرمایا : سفر کے بارے میں تو میں نے سنا ہے لیکن حضر کے بارے میں نہیں سنا۔ ابن القاسم نے کہا : جو محمل میں نفل پڑھے تو بیٹھ کر نماز پڑھے اس کا قیام چوکڑی مار کر بیٹھنا ہے وہ اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے رکوع کرے پھر اپنے سر کا اٹھائے۔ قتادہ نے کہا : یہ نجاشی کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب وہ فوت ہوا تو نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو اس کی نماز جنازہ پڑھنے کے لئے مدینہ طیبہ سے باہر بلایا۔ صحابہ نے عرض کی : ہم اس شخص پر کیسے نماز پڑھیں گے جو فوت ہوچکا ہے اور وہ ہمارے قبلہ کے علاوہ قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا تھا (1) ۔ نجاشی حبشہ کا بادشاہ تھا، اس کا نام اصحمہ تھا عربی میں اس کا معنی عطیہ ہے۔ وہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہوئے فوت ہوا تھا حالانکہ قبلہ تبدیل ہوچکا تھا اور قبلہ کعبہ بن چکا تھا تو یہ آیت نازل ہوئی اور اس کے بارے میں نازل ہوا : وان من اھل الکتب لمن یؤمن باللہ (آل عمران :199) یہ نجاشی کے لئے عذر تھا۔ (2) نبی کریم ﷺ نے نو ہجری میں اپنے اصحاب کے ساتھ یہ نماز پڑھی تھی۔ اس سے غائب پر نماز جنازہ پڑھنے پر امام شافعی نے استدلال کیا ہے۔ ابن عربی نے کہا : میت پر نماز کے مسائل میں سے غریب ترین مسئلہ وہ ہے جو امام شافعی نے کہا کہ غائب پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ میں بغداد میں فخر الاسلام کی مجلس میں تھا۔ ان کے پاس خراسان سے ایک شخص آیا اس سے فخر السلام نے پوچھا : فلاں کا کیا حال ہے ؟ اس شخص نے کہا : وہ تو فوت ہوگیا ہے۔ فخر الاسلام نے کہا : انا للہ وانا الیہ رجعون۔ پھر ہمیں فرمایا : اٹھو میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔ پس وہ کھڑے ہوئے اور ہمیں اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ یہ اس کے مرنے کے چھ ماہ بعد نماز جنازہ پڑھی گئی اور درمیان میں چھ ماہ کی مدت تھی۔ شوافع کے نزدیک اس کی اصل نجاشی پر نبی کریم ﷺ کا نماز جنازہ پڑھنا ہے۔ ہمارے علماء فرماتے ہیں : نبی کریم ﷺ تین وجوہ کی وجہ سے اس کے ساتھ خاص تھے۔ (1) نبی کریم ﷺ کے لئے زمین جنوباً شمالاً ہمورا کردی گئی تھی حتیٰ کہ نجاشی کا جنازہ آپ ﷺ نے سامنے تھا، جس طرح زمین شمالاً جنوباً ہموار کردی گئی تھی حتیٰ کہ آپ نے مسجد اقصیٰ دیکھ لی۔ مخالف نے کہا : اس روایت میں کیا فائدہ ہے ؟ آپ کی برکت کے لاحق ہونے کا فائد ہے۔ (2) نجاشی کے لئے وہاں مومنین میں سے کوئی ولی نہ تھا جو اس کی نماز جنازہ پڑھتا۔ مخالف نے کہا : یہ عادۃً محال ہے، بادشاہ ایک دین پر ہو اور اس کا کوئی پیروکار نہ تھا، محال کے ساتھ تاویل محال ہے (3) نبی کریم ﷺ نے نجاشی پر نماز جنازہ پڑھنے میں اس پر رحمت داخل کرنے اور اس کے بعد والے بادشاہوں کی الفت چاہنے کا ارادہ کیا تھا جب وہ زندہ اور مردہ حالت میں اس کا اہتمام دیکھیں گے۔ مخالف نے کہا : دعا کی برکت نبی کریم ﷺ سے اور دوسروں سے میت کو بالاتفاق لاحق ہوتی ہے۔ ابن عربی نے کہا : میرے نزدیک نبی کریم ﷺ کے نجاشی پر نماز جنازہ پڑھنے کی حکمت یہ تھی کہ نجاشی اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے انہیں میت پر نماز پڑھنے کا علم نہیں تھا۔ آپ کو معلوم ہوا کہ وہ بغیر نماز کے ہی اسے دفن کردیں گے تو آپ نے اس کی نماز کی طرف جلدی کی۔ میں کہتا ہوں : پہلی تاویل احسن ہے کیونکہ جب آپ نے اسے دیکھ لیا تو غائب پر نماز نہ ہوئی بلکہ حاضر اور مرئی پر نماز جنازہ پڑھی۔ غائب وہ ہوتا ہے جو نظر نہ آئے۔ واللہ اعلم چوتھا قول : ابن زید نے کہا : یہود نبی کریم ﷺ کے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کو اچھا سمجھتے تھے اور کہتے تھے : ہدایت نہیں پائی مگر ہمارے ذریعے۔ جب کعبہ کو قبلہ بنایا گیا تو یہود نے کہا : کس چیز نے پھیر دیا انہیں جس پر (پہلے) وہ تھے۔ تو یہ آیت نازل ہوئی : وللہ المشرق والمغرب (1) (اللہ کے لئے ہے مشرق ومغرب) اس قول پر وجہ نظم یہ ہے کہ یہود نے جب قبلہ کے امر کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے اپنے بندوں کو جس قبلہ کا چاہے مکلف بنا دے۔ اگر وہ چاہے تو انہیں بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم دے دے، اگر چاہے تو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دے دے۔ اس کے فعل کے خلاف حجت پیش نہیں کی جاسکتی۔ جو وہ کرتا ہے اس کے بارے اس سے پوچھا نہیں جاتا ہے اور لوگوں سے ان کے افعال کے متعلق پوچھا جائے گا۔ پانچواں قول : یہ آیت، اس آیت وحیث ما کنتم فولوا وجوھکم شطرہ (البقرہ :144) سے منسوخ ہے۔ یہ حضرت ابن عباس نے ذکر کیا ہے گویا ابتداء اسلام میں جائز تھا کہ جدھر چاہے آدمی منہ کر کے نماز پڑھ لے پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ قتادہ نے کہا۔ اس آیت کا ناسخ یہ ارشاد ہے فول وجھک شطر المسجد الحرام (البقرہ : 149) (یعنی اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لو) یہ ابو عیسیٰ ترمذی نے بیان کیا ہے۔ چھتا قول : مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ یہ آیت محکم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم مشرق میں ہو یا مغرب میں ہو ادھر ہی اللہ تعالیٰ ہے اس نے استقبال قبلہ کا حکم دیا ہے (2) ۔ مجاہد اور ابن جبیر سے مروی ہے جب ادعونی استجب لکم نازل ہوا تو لوگوں نے کہا کدھر منہ کر کے مانگیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی فاینما تولوا فثم وجہ اللہ۔ حضرت ابن عمر اور نخعی سے مروی ہے تم اپنے سفروں میں اور گردشوں میں جہادں بھی ہو ادھر اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اس آیت کا تعلق ومن اظلم الخ کے ساتھ ہے۔ معنی یہ ہے : اے مومنو ! اللہ کے شہر تمہیں سما سکتے ہیں، تمہیں اس شخص کی تخریب قبلہ کی طرف منہ کرنے سے نہ روکے، جو اللہ کی مساجد کی تخریب کرتا ہے، تم زمین میں جہاں بھی ہو۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ اس وقت آیت نازل ہوئی جب حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ کے قریب جانے سے روکا گیا تھا، تو مسلمان اس پر مغموم ہوئے (3) ۔ یہ دس اقوال ہیں۔ اور جن علماء نے اسے منسوخ کیا ہے ان پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ یہ خبر ہے اور خبر منسوخ نہیں ہوتی کیونکہ خبر، امر کے معنی کا احتمال رکھتی ہے اور اس معنی کا احتمال ہے کہ اپنے چہرے اللہ کی طرف کرلو۔ یہ آیت وہ ہے جو حضرت سعید بن جبیر نے تلاوت کی تھی جب حجاج نے زمین کی طرف منہ کر کے اسے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا۔ مسئلہ نمبر 4: قرآن و حدیث میں وجہ جو اللہ طرف مضاف ہوتا ہے اس کی تاویل میں علماء کا اختلاف ہے۔ ماہرین نے کہا : یہ وجود کی طرف راجع ہے یہ کلام میں مجاز ہے ذات کو اس سے اس لئے تعبیر فرمایا کیونکہ یہ اعضاء میں ظاہر ترین عضو ہے اور قدرو منزلت میں عظیم ہے (4) ۔ ابن فورک نے کہا : بعض دفعہ صفت ذکر کیا جاتی ہے اور مجازاً موصوف مراد ہوتا ہے جیسے کوئی کہنے والا کہتا ہے : میں نے آج فلاں کا علم دیکھا، میں نے فلاں کے علم کی طرف یکھا۔ اس سے مراد ہوتا ہے کہ میں نے عالم دیکھا اور عالم کی طرف دیکھا۔ اسی طرح یہاں وجہ ذکر ہے اور مراد وجود ہے۔ اسی تاویل پر یہ ارشاد ہے : انما نطعکم لوجہ اللہ (الدہر :9) اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس کے لئے وجہ ہے اس طرح یہ آیت ہے : الا بتغاء وجہ ربہ الاعلیٰ ۔ (اللیل) یعنی وہ ذات جس کے لئے وجہ ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا وجہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جیسا کہ ارشاد ہے : ویبقیٰ وجہ ربک ذوا الجلال والاکرام۔ (الرحمٰن) بعض ائمہ نے فرمایا : یہ نقل سے صفت ثابتہ ہے اور ان صفات سے زائد ہے جن کو عنول واجب قرار دیتی ہیں۔ ابن عطیہ نے کہا (1): اس قول کو ابو المعالی نے ضعیف قرار دیا ہے یہ اسی طرح ضعیف ہے۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا وجود ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہاں الوجہ سے مراد وہ جہت ہے جس کی طرف ہمیں متوجہ کیا گیا ہے یعنی قبلہ، بعض نے فرمایا : الوجہ سے مراد قصد ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا : استغفر اللہ ذنبا لست محصیہ رب العباد الیہ الوجہ والعمل میں اللہ تعالیٰ سے ان گناہوں کی معافی مانگتا ہوں جو بیشمار ہیں بندوں کے رب کی طرف ہی قصد اور عمل ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : معنی ہے : فثم رضا اللہ وثوابہ، یعنی ادھر اللہ کی رضا اور ثواب ہے جیسا کہ فرمایا : انما نطعمکم لوجہ اللہ (الدہر : 9) ہم اللہ کی رضا اور اس کے ثواب کی طلب میں تمہیں کھلاتے ہیں۔ اسی سے نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : من بنی مسجداً یبتغی بہ وجہ اللہ بنی اللہ لہ مثلہ فی الجنۃ (2) ۔ جس نے مسجد بنائی اور اس سے اس کا مقصود اللہ کی رضا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس کی مثل جنت میں (گھر) بنائے گا۔ اور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : قیامت کے روز مہر شدہ صحیفوں کو لایا جائے گا اور انہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا : ان کو پھینک دو اور ان کی طرف توجہ کرو۔ فرشتے عرض کریں گے : اے ہمارے رب ! تیری عزت کی قسم ! ہم تو انہیں خیر دیکھتے ہیں اللہ بہتر جانتا ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ان ھذا کان لغیر وجھی ولا اقبل من العمل الا ما ابتغی بہ وجھی۔ یہ اعمال میری رضا کے لئے نہ تھے اور میں صرف وہی عمل پسند کرتا ہوں جو میری رضا کے لئے ہو۔۔۔۔ اس حدیث کو دار قطنی نے نقل کیا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : مراد فثم اللہ ہے الوجہ زائد ہے۔ یہ اس ارشاد کی طرح ہے : وھو معکم۔ یہ کلبی، قتبی کا قول ہے۔ معتزلہ کا قول بھی اسی طرح ہے۔ مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان اللہ واسع علیمٌ یعنی وہ اپنے بندوں پر ان کے دین میں وسعت فرماتا ہے اور انہیں ایسی تکلیف نہیں دیتا جو ان کی طاقت میں نہ ہو۔ بعض علماء نے فرمایا : واسعٌ کا معنی ہے : اس کا علم ہر چیز گھیرے ہوئے ہے۔ جیسے ارشاد فرمایا : وسع کل شیء علماً ۔ (طہ) فراء نے کہا : الواسع اس سخی کو کہتے ہیں جس کی عطا ہر چیز کو شامل ہو، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ورحمتی وسعت کل شیءٍ (اعراف :156) اور بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد مغفرت میں وسعت رکھنے والا ہے، کوئی گناہ اس مغفرت سے بڑا نہیں ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : اپنے بندوں پر فضل فرمانے والا اور ان کے اعمال سے بےنیاز ہے۔ کہا جاتا ہے : فلان سیع ما یسئل، یعنی فلاں عطا فرماتا ہے جو اس سے مانگا جاتا ہے یعنی بخل نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لینفق ذوسعۃٍ من سعتہ (الطلاق :7) یعنی غنی کو اس سے خرچ کرنا چاہئے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمایا۔ ہم اپنی کتاب الاسنیٰ میں اس کا ذکر کیا ہے۔
Ayah 2:116

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے (نہیں) وہ پاک ہے بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور سب اس کے فرمانبردار ہیں

آیت نمبر 116 اس میں پانچ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقالوا اتخذ اللہ ولدًا یہ نصاریٰ کے متعلق خبر ہے۔ انہوں نے کہا تھا : المسیح ابن اللہ (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے) نعوذ باللہ من ذالک۔ بعض نے فرمایا : عرب کے کفار کے متعلق خبر ہے کہ انہوں نے کہا : الملائکۃ بنات اللہ (ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں) اسی طرح کی اخبار جاہل کفار کے متعلق ہیں کہ انہوں نے حضرت مریم اور انبیاء کرام کے بارے میں ایسا عقیدہ رکھا۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سبحنہ بل لہ امام بخاری نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے، فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ابن آدم نے مجھے جھٹلایا اور اسے یہ مناسب نہ تھا، ابن آدم نے مجھے گالی دی اور اسے یہ چاہئے نہیں تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا یہ ہے کہ اس نے کہا : میں اسے دوبارہ لوٹانے پر قادر نہیں ہوں جس طرح وہ پہلے تھا اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ اس نے کہا : میرا بیٹا ہے میری ذات کسی کو بیوی یا بیٹا بنانے سے پاک ہے (1) ۔ مسئلہ نمبر 3: سبحنہ مصدر کی حیثیت سے منصوب ہے۔ اس کا معنی ہے : پاک کرنا، بری کرنا، ہر نقص سے علیحدہ جاننا۔ لوگوں نے کہا : اللہ نے بیٹا بنایا، نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں یکتا ہے، اپنی صفات میں یگانہ ہے۔ نہ تو اس نے کسی کو پیدا کیا ہے کہ وہ بیوی کا محتاج ہو۔ انی یکون لہ ولدٌ ولم تکن لہ صاحبۃ وخلق کل شیء (انعام : 101) (کیونکر ہو سکتا ہے اس کا کوئی لڑکا حالانکہ نہیں ہے اس کی کوئی بیوی اور پیدا فرمایا ہے اس نے ہر چیز کو) ولم یولد، نہ وہ پیدا کیا گیا ہے کہ اس سے پہلے کوئی ہو۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بلند وبالا ہے اس سے جو ظالم اور منکر کہتے ہیں بل لہ ما فی السموت والارض، ما مبتدا کی حیثیت سے مرفوع ہے اور خبر مجرور ہے یعنی ایجاد واختراع کے اعتبار سے ہر چیز اس کی ملکیت میں ہے، اور جو یہ کہنے والا ہے کہ اس نے بیٹا بنایا یہ جملہ آسمانوں اور زمین میں داخل ہے (2) ۔ سبحان اللہ کا معنی اللہ تعالیٰ کا ہر نقص اور عیب سے پاک جاننا ہے۔ مسئلہ نمبر 4: بچہ، والد کی جنس سے ہوتا ہے۔ پس حق سبحانہ تعالیٰ کے لئے اپنی مخلوقات میں سے بیٹا بنانا کیسے درست ہوگا جبکہ کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبدًا۔ (مریم) ( کوئی ایسی چیز نہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہے مگر وہ حاضر ہوگی رحمن کی بارگاہ میں بندہ بن کر) اسی طرح فرمایا : بل لہ ما فی السموت والارض (بلکہ اسی کا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے ) ۔ اولاد ہونا جنسیت اور حدوث کا تقاضا کرتا ہے اور قدیم ہونا وحدانیت اور ثبوت کا تقاضا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات قدیم، ازلی اور یکتا ہے تنہا اور بےنیاز ہے۔ وہ وہ ہے جس نے نہ کسی کو جنا ہے نہ وہ جنا گیا ہے، اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے۔ پھر بیٹا۔۔۔ غلامی اور عبودیت کے منافی ہے جیسا کہ اس کا بیان سورة مریم میں انشاء اللہ آئے گا۔ پس بیٹا عبد کیسے ہوگا۔ یہ محال ہے اور جو چیز محال تک پہنچائے وہ بھی محال ہے۔ مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کل لہ قنتون یہ مبتدا خبر ہیں۔ تقدیر عبارت کلھم ہے پھر ھا اور میم کو حذف کیا گیا۔ قنتون کا معنی اطاعت کرنے والے اور عجز کا اظہار کرنے والے ہیں۔ تمام مخلوق اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتی ہے۔ جمادات کی اطاعت ان پر اور ان میں اس کی صنعت کے ظہور میں ہے۔ قنوت کا معنی اطاعت اور سکوت ہے (1) ۔ اسی سے حضرت زید بن ارقم کا قول ہے ہم نماز میں کلام کرتے تھے۔ آدمی اپنے قریب والے شخص سے بات کرتا رہتا تھا، حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی : وقوموا للہ قنتین۔ (البقرہ :238) ہمیں سکوت کا حکم دیا گیا اور ہمیں کلام سے منع کیا گیا۔ القنوت کا معنی نماز بھی ہے۔ شاعر کا قول ہے : قانتاً للہ یتلو کتبہ وعلی عمد من اعتزل اس شعر میں قانتاً نماز پڑھنے والے کے معنی میں ہے۔ سدی وغیرہ (2) نے کلٌ لہ قنتون کے تحت لکھا ہے کہ قیامت کے دن تمام اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے ہوں گے۔ حسن نے کہا : جو بھی اللہ تعالیٰ کی گواہی دینے والا ہے وہ اس کا عبد ہے۔ القنوت کا لغوی معنی قیام ہے۔ اسی سے حدیث پاک میں ہے : افضل الصلوٰۃ طول القنوت (3) ۔ نماز میں سے افضل نماز وہ ہے جس کا قیام لمبا ہو۔ یہ زجاج نے کہا ہے ساری مخلوق اس کی عبودیت کو قائم کرنے والی ہے خواہ اقرار کے ساتھ یا کسی اور طریقہ سے۔ اس کی صنعت کا قرآن پر ظاہر ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کی اصل اطاعت ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والقنتین والقنتت (احزاب :35) مزید تفصیل وقوموا للہ قنتین۔ ( البقرہ :238) کے تحت آئے گی۔
Ayah 2:117

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے

آیت نمبر 117 اس میں چھ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بدیع السموت۔ مبالغہ کے لئے فعیل کا وزن ہے، مبتدا محذوف کی خبر کی حیثیت سے مرفوع ہے۔ اسم فاعل مبدعٌ ہے جیسے بصیر سے مبصرٌ ہے ابدعت الشیء لاعن مثالٍ یعنی میں نے بغیر کسی مثال کے چیز کو پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ بدیع السموت والارض ہے یعنی ان کو پیدا کرنے والا، ان کا موجد، ان کو نئے سرے سے بنانے والا اور بغیر کسی مثال اور حد کے ایجاد کرنے والا ہے۔ ہر وہ شخص جو کوئی نئی چیز پیدا کرے جس سے پہلے وہ چیز کسی نے پیدا نہ کی ہو تو اسے مبدع کہا جاتا ہے۔ اسی سے اصحاب البدع ہیں۔ بدعت کو بدعت اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ کہنے والا اپنے امام کی کلام اور فعل کے بغیر کہتا ہے۔ بخاری میں ہے : نعمت البدعۃ ھذہ۔ یعنی رمضان کا قیام اچھی بدعت ہے۔ مسئلہ نمبر 2: ہر وہ بدعت جو مخلوق سے صادر ہو اس کی دو صورتیں ہوں گی یا تو اس کی شرع میں اصل ہوگی یا شرع میں اس کی اصل نہ ہوگی۔ اگر تو اس کی کوئی اصل ہو، وہ اس عموم کے تحت واقع ہو جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے دعوت دی ہے اور اس پر رسول اللہ ﷺ نے برانگیختہ کیا ہے تو وہ مدح کے مقام پر ہوگی اگرچہ اس کی مثال موجود نہ ہو جیسے جو دوسخا کی نوع، اور نیکی کا کوئی فعل، تو یہ فعل، افعال محمودہ سے ہوگا۔ اگرچہ اس سے پہلے کوئی کرنے والا نہ بھی ہو۔ اس قول کی تائید حضرت عمر ؓ کا قول کرتا ہے : نعمت البدعۃ ھذہ (1) یہ اچھی بدعت ہے جب وہ بدعت افعال خیر میں سے تھی اور مدح کے تحت داخل تھی۔ قیام رمضان نبی کریم ﷺ نے کیا تھا مگر اسے ترک کردیا تھا اور اس پر دوام اختیار نہیں فرمایا تھا اور نہ لوگوں کو جمع کیا تھا۔ پس حضرت عمر کی اس پر محافظت اور لوگوں کو اس پر جمع کرنا اور انہیں اس کی طرف بلانا، بدعت تھا لیکن یہ بدعت محمودہ ممدوحہ تھی۔ اگر وہ کوئی ایسا عمل ہو جو اللہ اور اس کے رسول کے امر کے خلاف ہو تو وہ مذمت و انکار کے مقام میں ہوتا ہے۔ یہ معنی خطابی وغیرہ نے بیان کیا ہے میں کہتا ہوں : نبی کریم ﷺ کے ارشاد جو خطبہ میں فرمایا اس کا یہی معنی ہے : وشر الامور محدثاتھا وکل بدعۃ ضلالہ (2) برے امور بدعتیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔ یعنی ایسی بدعت جو کتاب وسنت کے موافق نہ ہو یا صحابہ کے عمل کے موافق نہ ہو اور اس حقیقت کو اپنے اس ارشاد میں بیان فرمایا : من سن فی الاسلام سنۃً حسنۃ کان لہ اجرھا واجر من عمل۔۔۔۔۔ من اوزارھم شیءٌ (3) ۔ یعنی جس نے اسلام میں کوئی اچھا کام شروع کیا تو اسے اس کا اجر اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والے کا اجر ملے گا اور ان کے اجور میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی اور جس نے اسلام میں کوئی برا کا عمل شروع کیا تو اس پر اس کا گناہ ہوگا اور ان لوگوں کا گناہ ہوگا جو اس کے بعد اس پر عمل کریں گے، ان کے گناہوں میں کمی کئے بغیر۔ یہ اشارہ ہے جو قبیح یا حسن بدعت شروع کی جاتی ہے۔ یہ اس باب کی اصل ہے۔ اللہ تعالیٰ سے عصمت وتوفیق کا سوال ہے اور اس کے علاوہ کوئی پالنے والا نہیں ہے۔ مسئلہ نمبر 3: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا قضی امرًا فانما یقول لہ کن فیکون جب کسی امر کے احکام اور اتقان کا ارادہ فرماتا ہے۔۔۔۔ جیسا کہ اس کے علم میں پہلے تھا۔۔۔۔ تو اسے کن فرماتا ہے۔ ابن عرفہ نے کہا : قضاء الشی کا مطلب اس کا احکام اور اس کا جاری کرنا اور اس سے فارغ ہونا ہے، اسی وجہ سے قاضی کو قاضی کہتے ہیں کیونکہ جب وہ فیصلہ فرماتا ہے تو جھگڑا کرنے والوں کے جھگڑا سے فارغ ہوجاتا ہے۔ الازہری نے کہا : لغت میں قضیٰ کے کئی معانی ہیں اس کا مرجع کسی چیز کو ختم کرنا اور مکمل کرنا ہے۔ ابو ذؤیب نے کہا : وعلیھما مسرودتان قضاھما داؤد او صنع السوابغ تبع ان کے اوپر دو زرہیں ہیں جنہیں داؤد نے بنایا ہے یا تبع نے مکمل کی ہیں۔ شماخ نے حضرت عمر بن خطاب کے بارے میں فرمایا : قضیت اموراً ثم غادرت بعدھا بوائق فی اکمامھا لم تفتق تو نے کاموں کو مکمل کیا الخ۔ ہمارے علماء نے فرمایا : قضیٰ کا لفظ مشترک ہے کبھی یہ خلق کے معنی میں ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فقضھن سبع سمواتٍ فی یومین (فصلت : 12) یہ قضی بمعنی خلق (پیدا کرنا) ہے کبھی یہ اعلام کے معنی میں ہوتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقضینا الی بنی اسراء یل فی الکتب (الاسراء :4) یعنی ہم نے بنی اسرائیل کو آگاہ کیا۔ کبھی یہ امر (حکم) کے معنی میں ہوتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ (الاسراء :23) یعنی تمہارے رب نے حکم دیا۔۔۔۔ کبھی الزام اور احکام کو جاری کرنے کے معنی میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلما قضیٰ موسیٰ الاجل (القصص :29) (جب موسیٰ (علیہ السلام) نے مدت پوری کردی) کبھی ارادہ کے معنی میں ہوتا ہے جیسے واذا قضیٰ امراً ۔۔۔۔ الخ جب اللہ کسی شے کو پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے۔ ابن عطیہ نے کہا (1) : قضی بمعنی قدر (اندازہ کرنا) اور کبھی بمعنی امضی بھی آتا ہے۔ اہل سنت کے مذہب پر اس آیت میں یہ دونوں معانی مراد ہو سکتے ہیں یعنی ازل میں مقدر فرمایا اور اپنا حکم نافذ فرمایا اور معتزلہ کے مذہب پر خلق اور ایجاد حکم نافذ فرمایا۔ مسئلہ نمبر 4: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : امراً ، الامر واحد ہے اس کی جمع الامور ہے یہ امر یامر کا مصدر نہیں ہے (2) ۔ ہمارے علماء نے فرمایا : قرآن میں امر چودہ معانی میں استعمال ہوا ہے۔ 1۔ دین : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حتی جاء الحق وظھرا مر اللہ (توبہ :48) حتیٰ کہ حق آیا اور اللہ کا دین اسلام ظاہر ہوا۔ 2۔ قول : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذا جاء امرنا (المومنون :28) یعنی جب ہمارا قول آئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فتنازعوا امرھم بینھم (طہ :62) یہاں بھی امر بمعنی قول ہے۔ 3۔ عذاب : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لما قضی الامر (ابراہیم :22) یعنی جب دوزخیوں کے بارے عذاب کا فیصل ہوگیا۔ 4۔ عیسیٰ (علیہ السلام) : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اذا قضی امراً (البقرہ :117) یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کا فیصلہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ وہ بغیر باپ کے ہوں گے۔ 5۔ بدر میں قتل : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاذا جاء امر اللہ (غافر :78) یعنی بدر میں قتل اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لیقضی اللہ امراً کان مفعولاً (انفال :42) اس آیت میں مکہ کے کفار کا قتل مراد ہے۔ 6۔ فتح مکہ : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فتربصوا حتی یاتی اللہ بامرٍ (توبہ : 24) ۔ یہاں امر سے مراد فتح مکہ ہے۔ 7۔ قریظہ کا قت اور بنی نضیر کی جلا وطنی : فاعفوا واصفحوا حتی یاتی اللہ بامرہ (البقرہ : 109) اس آیت میں امر سے مراد قتل قریظہ اور بنی نضیر کی جلاوطنی ہے۔ 8۔ قیامت : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اتی امر اللہ (النحل :1) اللہ کا امر (قیامت) آگیا۔ 9۔ القضاء : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یدبر الامر (السجدہ :5) اس میں امر بمعنی فیصلہ ہے۔ 10۔ وحی : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یدبر الامر من السماء الی الارض (السجدہ :5) وہ آسمان سے زمین کی طرف وحی نازل فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یتنزل الامر بینھن (طلاق :12) 11۔ امر الخلق : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الا الی اللہ نصیرا الامور۔ (الشوریٰ ) یعنی مخلوق کے امور اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتے ہیں۔ 12۔ النصر (مدد، نصرت): اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یقولون ھل لنا من الامر من شیء (آل عمران : 154) (کہتے : کیا ہمارا بھی اس کام میں کچھ دخل ہے) 13۔ الذنب (گناہ): اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فذاقت وبال امرھا (الطلاق :9) یعنی اپنے گناہ کی سزا۔ 14۔ شان اور فعل : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وما امر فرعون برشید۔ (ہود) اس میں امر سے مراد فعل اور شان ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلیحذر الذین یخالفون عن امرۃ۔ (نور : 63) اس آیت میں بھی امر سے مراد فعل ہے۔ مسئلہ نمبر 5: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کن بعض علماء نے فرمایا : کاف، کینونہ سے ہے اور نون نور سے ہے۔ نبی کریم ﷺ کے ارشاد اعوذ بکلمات التامۃ من شرما خلق سے یہی مراد ہے۔ بکلمۃ اللہ التامۃ یعنی مفرد بھی مروی ہے۔ جمع اس اعتبار سے ہے کہ جب یہ کلمہ تمام امور میں ہے، پس جب ہر امر کے لئے کن کہا اور ہر شے کے لئے کن کہا تو یہ بہت سے کلمات ہوگئے۔ اس پر دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت ابو ذر سے مروی ہے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے اور آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : عطافی کلام وعذابی کلامٌ میری عطا کلام ہے اور میرا عذاب کلام ہے۔ ان الفاظ کو ایک طویل حدیث میں امام ترمذی نے نقل کیا ہے کلمہ، کلمات کے معنی میں بھی ہوتا ہے لیکن جب ایک کلمہ تمام اوقات میں تمام امور میں جدا جدا ہو یہ بہت سے کلمات ہوگئے اور ان کا مرجع ایک کلمہ ہے، اور قامۃ فرمایا کیونکہ اہل لغت کے نزدیک کم از کم کلام کے تین حروف ہوتے ہیں۔ ایک حرف جس سے آغاز کیا جاتا ہے ایک حرف جس کے ساتھ کلمہ جمع کیا جاتا ہے اور ایک حرف جس پر سکوت کیا جاتا ہے جب کسی کلمہ کے دو حرف ہوں تو وہ ان کے نزدیک ناقص ہوتا ہے جیسے ید، دم، ضم یہ علت کی وجہ سے ناقص ہیں۔ یہ کلمات آدمیوں کی طرف سے منقوصات میں سے ہیں کیونکہ یہ دو حرفوں پر مشتمل ہیں نیز کیونکہ یہ ادوات کے ساتھ تلفظ کئے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تامہ ہیں کیونکہ یہ بغیر ادوات کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مخلوق کی شبہ سے بلند وبالا ہے۔ مسئلہ نمبر 6: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فیکون یہ نون کے رفع کے ساتھ پڑھا گیا ہے علیحدہ کلام کے اعتبار سے (1) ۔ سیوبیہ نے کہا : یہ فھو یکون ہے یا فانہ یکون ہے۔ دوسرے علماء نے کہا : یہ یقول پر معطوف ہے (2) ۔ پہلی صورت میں یہ امر کے بعد ہوگا اگرچہ پہلے معدوم ہوگا، کیونکہ یہ موجود کے قائم مقام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ معلوم ہے اس کا بیان آگے آئے گا اور دوسری صورت میں امر کے ساتھ موجود ہوگا، اس کو طبری نے پسند کیا ہے۔ فرمایا اس نے کسی شے کو کن کے ساتھ حکم دیا جاتا ہے وہ حکم کے ساتھ موجود ہوتی ہے اور کوئی شے موجود نہیں ہوتی مگر وہ جسے وجود کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کا بیان آگے آئے گا۔ اس کی مثال، لوگوں کا قبور سے کھڑا ہونا ہے اللہ تعالیٰ کے بلاوا سے نہ مقدم ہوں گے نہ مؤخر۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم اذا دعا کم دعوۃً من الارض اذا انتم تخرجون۔ (الروم) ابن عطیہ نے اس قول کو ضعیف کہا ہے اور فرمایا : یہ معنی کی جہت سے غلط ہے کیونکہ یہ قول تقاضا کرتا ہے کہ قول، تکوین اور وجود کے ساتھ ہے۔ (3) اس آیت میں عقیدہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ معدومات کا ہمیشہ سے آمر ہے ان کے وجود کی شرط کے ساتھ۔ مقدورات کے تأخر کے ساتھ قادر ہے۔ معلومات کے تأخر کے ساتھ عالم ہے۔ پس آیت میں ہر وہ چیز جو استقبال کا تقاضا کرتی ہے وہ مامورات کے اعتبار سے ہے کیونکہ محدثات نہ ہونے کے بعد ہوتی ہیں، ہر وہ صفت جو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتی ہے قدرت اور علم سے وہ قدیم اور ہمیشہ ہوتی ہے (4) پس (کن) کی عبارت جس معنی کا تقاضا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قدیم اور قائم بالذات ہے۔ ابو الحسن الماوردی نے کہا : اگر کہا جائے کس حال میں وہ اسے کن کہتا ہے کہ وہ ہوجاتی ہے کیا عدم کی حالت میں یا اس کے وجود کی حالت میں۔ اگر تو وہ حالت عدم میں ہوتی ہے تو حکم کرنا محال ہے مگر مامور کو۔ جیسے محال ہوتا ہے امر ہونا مگر آمر کی طرف سے۔ اگر وہ حالت وجود میں ہے تو یہ ایسی حالت ہے جس میں وجود اور حدوث کا امر جائز ہی نہیں ہے کیونکہ وہ موجودحادث ہے۔ اس سوال کے تین جوابات دئیے گئے ہیں۔ 1۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے اس کی موجود مخلوق میں اس کے اوامر کے نفوذ کی، جیسے اس نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ دھتکارے ہوئے بندر بن جائیں اور یہ معدومات کی ایجاد میں وارد نہیں ہوتا۔ 2۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ ہونے والا ہے اس کے ہونے سے پہلے اسے جانتا ہے۔ پس وہ اشیاء جو موجود نہیں وہ اس کے علم میں اپنے ہونے سے پہلے ان چیزوں کے مشابہ ہیں جو موجود ہیں۔ پس انہیں کونی کہنا جائز ہے۔ وہ انہیں حالت عدم سے حالت وجود کی طرف نکلنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ وہ حالت عدم میں ان کو جانتا ہے۔ 3۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر ہے جس کو اس نے پیدا کرنا ہے تمام کو شامل ہے جب وہ اس کی پیدائش اور تخلیق کا ارادہ فرماتا ہے وہ پیدا ہوجاتی ہے اور پائی جاتی ہے بغیر اس کے کہ وہاں اسے قول فرمائے۔ یہ اس کا فیصلہ ہے جو وہ چاہتا ہے، اس کو قول سے تعبیر فرمایا ہے اگرچہ قول نہ بھی ہو۔ جیسے ابو النجم کا قول ہے۔ قد قالت الانساع للبطن الحق (1) یہ کوئی قول نہیں ہے، اس نے ارادہ کیا کہ پیٹھ پیٹ کے ساتھ لاحق ہوگئی ہے۔ جیسے عمرو بن حممہ الدوسی نے کہا : فاصبحت مثل النسر طارت فراخہ اذا رام تطیاراً یقال لہ قع میں گدھ کی طرح ہوگیا جس کے بچے اڑ گئے۔ جب وہ اڑنے کا ارادہ کرتی ہے تو اسے قع کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک اور شاعر نے کہا : قالت جناحاہ لساقیہ الحقا ونجیا لحمکما ان یمزقا اس کے پروں نے اس کی پنڈلیوں کو کہا : مل جاؤ اور اپنے گوشت کو پھٹنے سے بچا لو۔
Ayah 2:118

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

اور جو لوگ (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) وہ کہتے ہیں کہ خدا ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا ؟ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی ؟ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی انہیں کی سی باتیں کیا کرتے تھے ان لوگوں کے دل آپس میں ملتے جلتے ہیں جو لوگ صاحب یقین ہیں ان کے (سمجھانے کے) لیے ہم نے نشانیاں بیان کردیں ہیں

آیت نمبر 118 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقال الذین لا یعلمون حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس سے مراد یہود ہیں۔ مجاہد نے کہا : نصاریٰ ہیں۔ طبری نے اس کو راجح کہا ہے کیونکہ پہلی آیت میں ان کا ذکر ہے۔ ربیع، سدی اور قتادہ نے کہا : اس سے مراد عرب کے مشرک ہیں ولو لا بمعنی ھلا ہے۔ یہ حرف تحطیض (2) (ابھارنا) ہے۔ جیسے اشہب بن رمیلہ نے کہا : تعدون عقر النیب افضل مجدکم بنی ضوطری لو لا لکمی المقنعا (1) اس شعر میں لو لا بمعنی ھلا ہے۔ یہ لولا نہیں ہے جو ایک چیز کے پائے جانے کی وجہ سے دوسری چیز کے نہ پائے جانے پر دلالت کرتا ہے (یعنی شرط کے پائے جانے کی وجہ سے جزا کے نہ پائے جانے پر دلالت کرتا ہے) ان دونوں کے درمیان علماء لغت کے درمیان یہ فرق ہے کہ لولا جو تحضیض کے معنی میں ہوتا ہے، اس کے ساتھ فعل ظاہر یا فعل مقدر ملا ہوا ہوتا ہے اور جو امتناع کے لئے ہوتا ہے اس کے ساتھ مبتدا ملا ہوا ہوتا ہے اور عادت جاری ہے کہ خبر حذف ہوتی ہے (2) ۔ کلام کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کی نبوت کے متعلق ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا تاکہ ہم جان لیں کہ وہ نبی ہے پھر ہم اس پر ایمان لے آئیں یا ہمارے پاس وہ کوئی نشانی کیوں نہیں لے آتے جو ان کی نبوت کی علامت ہو۔ الایۃ کا معنی دلالت اور علامت ہے۔ الذین من قبلھم جن علماء نے الذین لا یعلمون سے مراد کفار قریش لئے ہیں ان کے نزدیک اس سے مراد یہود ونصاریٰ ہیں اور جنہوں نے الذین لا یعلمون سے مراد یہود ونصاریٰ لئے ہیں ان کے نزدیک اس سے مراد پہلی قومیں ہیں، اور جنہوں نے الذین لا یعلمون سے مراد نصاریٰ لئے ہیں ان کے نزدیک اس سے مراد یہود ہیں۔ تشابھت قلوبھم بعض علماء نے فرمایا : ان کے دل ہٹ دھرمی، اقتراح اور ترک ایمان میں ان کے مشابہ ہیں۔ فراء نے کہا : ان کے دل کفر میں متفق ہونے میں مشابہ ہیں۔ قد بینا الایت لقومٍ یوقنون اس کی تفسیر پہلے گزر چکی ہے۔
Ayah 2:119

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ہم نے تم کو سچائی کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اہل دوزخ کے بارے میں تم سے کچھ پرسش نہیں ہوگی

آیت نمبر 119 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انا ارسلنک بالحق بشیرًا، بشیراً حال کی بنا پر منصوب ہے اور نذیراً اس پر معطوف ہے۔ ان کا معنی گزر چکا ہے۔ ولا تسئل عن اصحب الجحیم مقاتل نے کہا : نبی کریم ﷺ نے فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ یہود پر عذاب نازل کرتا تو یہ ایمان لے آتے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نازل فرمایا : ولا تسئل عن اصحب الجحیم۔ تسأل کے رفع کے ساتھ یہ جمہور کی قراءت ہے بشیراً ، نذیراً پر عطف کی بنا پر محل نصب میں ہوگا۔ معنی یہ ہے کہ ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا درآں حالیکہ آپ بشارت دینے والے، ڈرانے والے اور غیر مسؤل ہیں۔ سعید اخفش نے کہا : لا تسأل (تاء کے فتحہ اور لام کے ضمہ کے ساتھ) اور بشیراً پر عطف کی بنا پر محل نصب میں ہے (3) ۔ معنی یہ ہے کہ ہم نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا درآں حالیکہ آپ بشارت دینے والے ہیں اور ڈرانے والے ہیں، دوزخیوں کے متعلق آپ پوچھنے والے نہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے متعلق ان کے ڈرانے کے بعد آپ کو آگاہ کردیا تو آپ ان کے متعلق سوال کرنے سے مستغنی ہیں۔ غیر سائل کا یہ معنی ہے اور غیر مسؤل کا معنیہ یہ ہے کہ جو بشارت اور انذار کے بعد کفر کرے گا اس کے کفر کی وجہ سے آپ سے نہیں پوچھا جائے گا۔ حضرت ابن عباس اور حضرت محمد بن کعب نے فرمایا : ایک دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کاش ! معلوم ہوتا کہ میرے والدین کے ساتھ کیو ہوا، تو یہ آیت نازل ہوئی (1) ۔ یہ اس شخص کی قراءت پر ہے جنہوں نے لا تسأل جزم کے ساتھ نہی کا صیغہ پڑھا ہے۔ یہ صرف نافع کی قراءت ہے اس میں دو وجہیں ہیں : اس شخص کے بارے سوال کرنے سے نہی ہے زندہ لوگوں میں سے جس نے نافرمانی کی اور کفر کیا کیونکہ حالت تبدیل ہوتی رہتی ہے، کبھی کفر سے ایمان کی طرف منتقل ہوا جاتا ہے اور معصیت سے اطاعت کی طرف منتقل ہوا جاتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے جو زیادہ واضح ہے کہ اس کے متعلق سوال سے نہی ہے جو کفر اور معصیت پر فوت ہوگیا، اس کی حالت کی بڑائی اور شان کی تغلیظ کی وجہ سے یہ اس طرح ہے جیسے کہا جاتا ہے : تو فلاں کے متعلق نہ پوچھ یعنی وہ تیرے گمان سے زیادہ تک پہنچ گیا ہے۔ حضرت ابن مسعود نے لن تسأل پڑھا ہے اور ابی نے وما تسأل پڑھا ہے۔ ان کا معنی جمہور کی قراءت کے موافق ہے اس کی نفی کی کہ آپ سے ان کے متعلق پوچھا جائے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : آپ نے سوال کیا تھا کہ میرے والدین میں سے کوئی ازروئے موت قریب ہے (2) تو یہ آیت نازل ہوئی، ہم نے اپنی کتاب “ التذکرہ ” میں ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے والدین کو آپ کے لئے زندہ کیا تھا اور وہ دونوں آپ پر ایمان لائے تھے، ہم نےحضور ﷺ کا قول بھی ذکر کیا ہے۔ جو آپ نے ایک شخص سے فرمایا تھا کہ (میرا باپ اور تیرا باپ آگ میں ہیں) ہم نے اس کی وضاحت کی ہے۔ الحمد للہ۔
Ayah 2:120

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی یہاں تک کہ ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو (ان سے) کہہ دو کہ خدا کی ہدایت (یعنی دین اسلام) ہی ہدایت ہے اور (اے پیغمبر ﷺ اگر تم اپنے پاس علم (یعنی وحی خدا) کے آجانے پر بھی ان کی خواہشوں پر چلو گے تو تم کو (عذاب) خدا سے (بچانے والا) نہ کوئی دوست ہوگا نہ کوئی مددگار

آیت نمبر 120 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولن ترضٰی عنک الیھود ولا النصری حتی تتبع ملتھم اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1: اس کا معنی یہ ہے کہ اے پیارے محمد ! ﷺ جو یہ آیات کا مطالبہ کرتے ہیں ان کی غرض ایمان لانے کی نہیں ہے بلکہ اگر آپ وہ سب کچھ لے بھی آئیں جس کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں تو پھر بھی یہ آپ سے راضی نہ ہوں گے۔ انہیں تو صرف یہی چیز راضی کرے گی کہ آپ جس دین اسلام پر ہیں اس کی پیروی چھوڑ دیں۔ کہا جاتا ہے : رضی یرضی رضا رضا ورضواناً ورضواناً ومرضاۃً ۔ یہ واوی ہے، تثنیہ میں رضوان کہا جاتا ہے۔ کسائی نے رضیان حکایت کیا ہے۔ ممدود بھی حکایت کیا گیا ہے۔ گویا یہ راضی یراضی مراضاۃ ورضائ کا مصدر ہے۔ نتبع، ان کی وجہ سے منصوب ہے لیکن حتیٰ کے ساتھ ان ظاہر نہیں ہوتا۔ یہ خلیل نے کہا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حتیٰ اسم کو جر دیتا ہے جیسے ارشاد ہے : حتی مطلع الفجر۔ (القدر) جو اسم میں عامل ہوتا ہے وہ فعل میں عامل نہیں ہوتا۔ اور جو اسم کو جر دیتا ہے وہ فعل کو نصب نہیں دیتا۔ نحاس نے کہا نتبع، حتیٰ کہ وجہ سے منصوب ہے اور حتیٰ ، ان سے بدل ہے۔ الملۃ اس کا اسم ہے جو اللہ تعالیٰ اپنی کتب میں اور اپنے رسولوں کی زبان پر اپنے بندوں کے لئے مشروع فرماتا ہے۔ پس ملت اور شریعت برابر ہیں۔ رہا دین تو اس کے اور ملت و شریعت کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ شریعت وہ ہوتی ہے جس کے کرنے کی طرف اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بلاتا ہے اور دین وہ ہوتا ہے جس کو بندے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ادا کرتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 2: اس آیت سے علماء کی ایک جماعت، امام ابو حنیفہ، امام شافعی، داؤد اور امام احمد بن حنبل نے دلیل پکڑی ہے کہ کفر ملت واحدہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ملتھم، ملت کو واحد ذکر فرمایا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اکم دینکم ولی دین۔ (الکافرون :4) تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے) اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا : لا یتوارث اھل الملتین (1) ۔ (دو مختلف ملتوں والے ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے) ۔ یہاں ملتین سے مراد اسلام اور کفر ہیں۔ اس کی دلیل نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : لا یرث المسلم الکافر۔ مسلمان، کافر کو وارث نہی ہوتا۔ امام مالک اور ایک روایت امام احمد سے یہ ہے کہ کفر کی بہت سے ملتیں ہیں۔ پس یہودی، نصرانی کا وارث نہ ہوگا اور یہودی اور نصرانی، مجوسی کے وارث نہیں ہوں گے۔ امام مالک اور امام احمد نے نبی کریم ﷺ کے ظاہر قول لا یتوارث اھل ملتین کو لیا ہے۔ رہا اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں ملتھم اس سے مراد کثرت ہے اگرچہ لفظاً مفرد ہے کیونکہ کثرت کی ضمیر کی طرف مضاف ہے جیسے تو کہتا ہے : اخذت عن علماء اھل المدینہ علمھم۔ سمعت علیھم حدیثھم۔ ان مثالوں میں علومھم اور احادیثھم مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قل ان ھدی اللہ ھو الھدیٰ معنی یہ ہے کہ اے پیارے محمد ! ﷺ جس ہدایت پر آپ ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے ہے جس کے دل میں وہ چاہتا ہے اسے رکھ دیتا ہے، وہی حقیقی ہدایت ہے نہ کہ وہ جس کا یہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں۔ (2) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولئن اتبعت اھوأءھم، الاھواء، جمع ہے ھوی کی جیسے تو کہتا ہے : جمل و اجمال۔ جب خواہشات مختلف تھین تو جمع اھواء ذکر کیا اگر ملت کے افراد پر محمول کیا جاتا تو ھواھم ہوتا (3) ۔ اس خطاب میں دو وجہیں ہیں : (1) یہ خطاب رسول کریم ﷺ کو ہے کیونکہ خطاب آپ کی طرف متوجہ ہے۔ (2) خطاب رسول کریم ﷺ کے لئے ہے اور اس مراد امت ہے۔ پہلی صورت میں اس میں امت کے لئے تادیب ہے کیونکہ ان کا مرتبہ، رسول کریم ﷺ سے کم ہے۔ اس آیت کا سبب یہ ہے کہ لوگ صلح وآشتی کا سوال کرتے تھے اور نبی کریم ﷺ سے اسلام قبول کرنے کا وعدہ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو آگاہ کردیا کہ وہ آپ سے راضی نہ ہوں گے حتیٰ کہ آپ ان کی ملت کی پیروی کریں اور آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ان سے جہاد کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : من العلم امام احمد سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو کہتا ہے قرآن مخلوق ہے۔ امام احمد نے فرمایا : وہ کافر ہے، پوچھا گیا : آپ نے اسے کیسے کافر کہا۔ امام احمد نے فرمایا : کتاب اللہ کی آیات کی وجہ سے۔ ولئن اتبعت اھواءھم بعد الذی جأءک من العلم۔ قرآن اللہ تعالیٰ کے علم سے ہے اور جو یہ کہتا ہے کہ یہ مخلوق ہے وہ کافر ہے۔