Explained with ayahs 6–19
طالب علم اور طالب دنیا :
فرماتا ہے کہ انسان کے پاس جہاں دو پیسے ہوئے ذرا فارغ البال ہوا کہ اسکے دل میں کبر و غرور، عجب و خود پسندی آئی اسے ڈرتے رہنا چاہیے اور خیال رکھنا چاہیے کہ اسے ایک دن اللہ کی طرف لوٹنا ہے وہاں جہاں اور حساب ہوں گے۔ مال کی بابت بھی سوال ہوگا کہ لایا کہاں سے خرچ کہاں کیا ؟ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں دو لالچی ایسے ہیں جن کا پیٹ ہی نہیں بھرتا ایک طالبعلم اور دوسرا طالب دنیا۔ ان دونوں میں بڑافرق ہے۔ علم کا طالب تو اللہ کی رضامندی کے حاصل کرنے میں بڑھتا رہتا ہے اور دنیاکا لالچی سرکشی اور خود پسندی میں بڑھتا رہتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں دنیا داروں کا ذکر ہے پھر…
Read the full tafseer →سورة العلق 16
سجدہ کرنے سے مراد نماز ہے۔ یعنی اے نبی، تم بےخوف اسی طرح نماز پڑھتے رہو جس طرح پڑھتے رہے ہو، اور اس کے ذریعہ سے اپنے رب کا قرب حاصل کرو۔ صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ " بندہ سب سے زیادہ اپنے رب سے اس وقت قریب ہوتا ہے جب وہ سجدہ میں ہوتا ہے " اور مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی یہ روایت بھی آئی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ یہ آیت پڑھتے تھے تو سجدہ تلاوت ادا فرماتے تھے۔
Read the full tafseer →کلا لا تطعہ و اسجد و اقترب یہ نبی کریم ﷺ کو ہدایت ہے کہ ابوجہل کی بات پر کان نہ دھریں اور سجدہ اور نماز میں مشغول رہیں کہ یہی اللہ تعالیٰ کے قرب کا راستہ ہے۔
سجدے کی حالت میں قبولیت دعائ۔ ابوداؤد میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اقرب مایکون العبد من ربہ وہوساجد فاکتروا الدعائ، یعنی بندہ اپنے رب سے قریب تر اس وقت ہوتا ہے جبکہ وہ سجدہ میں ہو اس لئے سجدہ میں بہت دعا کیا کرو اور ایک دوسری صحیح حدیث میں یہ لفظ بھی آئے ہیں فانہ قمن ان یستجاب لکم، یعنی سجدے کی حالت میں دعا قبول ہونے کے لائق ہے۔
مسئلہ۔ نفل نمازوں کے سجدہ میں دعا کرنا ثابت ہے، بعض روایات حدیث میں اس دعا کے خاص…
Read the full tafseer →نبی صلعم کو ہدایت: فرمایا کہ اگر کوئی سرپھرا تمہیں خدا کے آگے سجدہ کرنے سے روکتا ہے تو اس کی اس حرکت کو خاطر میں نہ لاؤ بلکہ سجدہ کرو اور اپنے رب سے قریب تر ہو جاؤ۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ قرآن نے جگہ جگہ نماز ہی کو صبر و عزیمت اور فتح باب نصرت کی کلید بتایا ہے اور سجدہ نماز کا سب سے اعلیٰ رکن ہے۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کس کی مجال ہے کہ تمہیں اس چیز سے روک دے جو تمہاری زندگی کی غایت اور خدا سے تعلق کا واحد وسیلہ ہے۔ اگر کوئی ایسی جسارت کرتا ہے تو تم اس کے شر سے خدا کی پناہ چاہو جس کا واحد طریقہ اس کے آگے سربسجود ہونا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
(6) حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل گزرا تو کہ اے محمد ! ﷺ میں نے تجھے نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا تھا ؟ اور آپ ﷺ سے سخت دھمکی آمیز باتیں کیں، آپ ﷺ نے کڑا جواب دیا تو کہنے لگا اے محمد ! ﷺ تو مجھے کس چیز سے ڈراتا ہے ؟ اللہ کی قسم، اس وادی میں سب سے زیادہ میرے حمایتی اور مجسل والے ہیں، جس پر یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابن عباس ؓ عنھما فرماتے ہیں، اگر وہ اپنے حمایتیوں کو بلاتا تو اسی وقت ملائکہ عذاب اسے پکڑ لیتے۔ (ترمذی، تفسیر سورة اقرأ مسند أحمد 329/1 و تفسیر ابن جریر) اور صحیح مسلم کے الفاظ ہیں کہ اس نے آگے بڑھ کر آپ ﷺ کی گردن پر پیر رکھنے کا رادہ کیا کہ ایک دم…
Read the full tafseer →6: یہ بڑا پیار بھرا فقرہ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو سجدے کی حالت میں اللہ تعالیٰ کا خاص قرب عطا ہوتا ہے، یہ آیت سجدے کی آیت ہے اور اس کی تلاوت کرنے اور سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →یعنی یہ سرکش جو تمہیں نماز سے روکتا ہے ، اس کی اطاعت نہ کرو ، یہ جو دعوت اسلامی کی راہ روکتا ہے ، اس کی مزاحمت کرو ، رب کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اس کا قرب حاصل کرو۔ انسان صرف عبادت اور اطاعت کے ذریعہ ہی خدا کے قریب ہوتا ہے۔ ایسے سرکشوں کو نظر انداز کردو ، اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی قوتیں اس سے نمٹ لیں۔
روایات صحیحہ میں یہ بات مذکور ہے کہ اس سورت کے پہلے پیراگراف کے علاوہ اگلا پورا حصہ ابوجہل کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ یہ جب خانہ کعبہ میں آیا تو حضور مقام ابراہیم پر نماز پڑھ رہے تھے۔ تو اس نے کہا اے محمد کیا میں نے تم کو اس سے روکا نہ تھا ، اس نے رسول اللہ ﷺ کو دھمکی دی اور حضور نے بھی اس کو خوب…
Read the full tafseer →6 یعنی آپ ﷺ اس کی ہرگز پروانہ کیجئے اور اس کی کسی بات پر کان نہ دھریے۔ جہاں چاہو شوق سے اللہ کی عبادت کرو اور اس کی بارگاہ میں سجدے کرو اور اس کی بارگاہ میں سجدے کر کے بیش از بیش قرب حاصل کرتے رہو۔ حدیث میں آیا ہے کہ " بندہ سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں اللہ تعالیٰ سے نزدیک ہوتا ہے۔ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
آیت 19{ کَلَّاط لَا تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ۔ } ”کوئی بات نہیں ! اے نبی ﷺ آپ اس کی بات نہ مانیے ‘ آپ سجدہ کیجیے اور اللہ سے اور قریب ہوجایئے !“
آپ ﷺ اس جھوٹے ‘ غلط کار شخص کی ایک نہ سنیے۔ یہ اگر آپ کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے تو اس کی پروا نہ کیجیے۔ آپ اپنے پروردگار کی جناب میں سجدے کرتے رہیے اور کثرت سجود سے اس کا قرب حاصل کرتے رہیے۔
Read the full tafseer →13 سجدہ کی فضیلت :۔ یعنی اس بدکردار شخص کی بات مان کر کعبہ میں نماز کی ادائیگی سے رکنے کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ اسی طرح نماز ادا کرتے رہو۔ جیسے پہلے ادا کرتے رہے ہو۔ واضح رہے کہ یہاں سجدہ سے مراد صرف سجدہ نہیں بلکہ نماز ہے اور عربوں کا قاعدہ ہے کہ وہ کسی چیز کا جزء اشرف بول کر اس سے کل یا اصل چیز مراد لیتے ہیں اور بتایا یہ جارہا ہے کہ آپ ﷺ جس قدر نمازیں ادا کریں گے اتنا ہی زیادہ اللہ کا قرب حاصل ہوگا۔ لہذا نمازیں بکثرت ادا کیا کیجیے۔ سجدہ کی فضیلت سے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
1۔ ربیعہ بن کعب اسلمی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہاں ہی رات کو رہا کرتا اور آپ ﷺ کے پاس حاجت اور وضو…
Read the full tafseer →13۔ (کہ قرب حاصل کرنے کا ذریعہ یہی نماز و عبادت ہے) (آیت) ” کلا لا تطعہ “۔ یعنی جس طرح اب تک آپ ﷺ نے ان موذیوں خاطؤں کا کہا نہیں ملانا ہے آئندہ بھی ان کے بہکانے دھمکانے، کسی چیز میں نہ آئیے گا، اور اس حکم کی بڑی تاکید جانے رہیے۔ (آیت) ” واسجد “۔ سجود سے یہاں مراد نماز و عبادت ہی سمجھی گئی ہے۔ وعند اکثر اھل التاویل ارادبہ صل وتوقرعلی عبادۃ اللہ تعالیٰ فعلا وابلاغا (کبیر) (آیت) ” واقترب “۔ فقہاء نے یہاں سے یہ نکالا ہے کہ سجدہ میں نیت ثواب و تقرب واجب ہے۔ مفسر تھانوی رحمۃ اللہ علیہنے کہا ہے کہ (آیت) ” واسجد واقترب “۔ میں ضمنا یہ وعدہ لطیف بھی شامل ہے۔ کہ حق تعالیٰ آپ ﷺ کو ان لوگوں کے ضرر سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
دوسرے حصہ کا شان نزول :
کلا ان الانسان لیطغنی اس سورت کا یہ حصہ اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ ﷺ نے حرم میں اسلامی طریقہ پر نماز پڑھنی شروع کی، ابوجہل نے آپ ﷺ کو ڈرا دھمکا کر اس سے روکنا چاہا، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ابوجہل نے قریش کے لوگوں سے کہا کہ محمد (ﷺ) تمہارے سامنے زمین پر اپنا منہ ٹیکتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا ہاں، اس نے کہا لات وعزی کی قسم اگر میں نے حرم میں ان کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن پر پائوں رکھ دوں گا اور ان کا منہ زمین میں رگڑ دوں گا، پھر ایک روز ایسا ہوا کہ آنحضرت ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر وہ آگے بڑھا، تاکہ آپ ﷺ کی گردن پر پائوں رکھے، مگر…
Read the full tafseer →کلا . یقیناً ایسا ہوگا کہ اگر اس نے اپنے کنبہ والوں کو بلایا تو ہم زبانیہ کو بلائینگے یا معنی ہے کہ یقیناً یہ اپنے جتھے کو نہیں بلوا سکے گا۔
لا تطعہ . تم اس کی بات نہ مانو ‘ یعنی نماز نہ چھوڑو۔ یہ جملہ مستنافہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے سوال ہو
سکتا تھا کہ جب یہ روکتا ہے تو میں کیا کروں ؟ اس کا جواب دے دیا کہ اس کی بات مت مانو۔
واقترب . اور نماز کے ذریعہ سے اللہ کا قرب حاصل کرو۔ ابوداؤد وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے لکھا
ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب سے بہت قریب ہوتا ہے۔ پس دعا زیادہ کرو۔
سورۂ انشقت میں سجدۂ تلاوت کے مبحث میں ہم لکھ چکے ہیں کہ اس جگہ لفظ اسجد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
(17۔ 19)۔ سو یہ ابوجہل اپنی قوم اور اپنے ساتھیوں کو بلالے ہم بھی دوزخ کے پیادوں کو بلالیں گے۔ آپ کو ابوجہل جو نماز سے روکتا ہے آپ اس کا کہنا نہ مانیے اور نماز پڑھیے اور سجدہ کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے رہیے۔
شان نزول فلیدع نادیہ الخ۔
اور ترمذی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک بار حضور ﷺ نماز پڑھ رہے تھے تو ابوجہل آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا میں نے آپ کو اس سے منع نہیں کیا تھا حضور نے اس کو جھڑک دیا تو کہنے لگا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میرے سے بڑا مجمع اور کسی کے ساتھ نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی۔ فلیدع نادیہ الخ۔
امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Read the full tafseer →(1) کلا لاتطعہ واسجد واقترب : فرمایا : وہ آپ کو نماز سے روکتا ہے تو آپ اس کا کہنا ہرگز نہ مانیں، بلکہ آپ نماز پڑھتے، سجدہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کا رقب حاصل کرتے رہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(اقرب ما یکون العبد من ربہ وھو ساجد فاکثرو الدعائ) (مسلم ، الصلاۃ ، باب ما یقال فی الرکوع و السجود ؟: 382)”بندہ اللہ کے سب سے زیادہق ریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہو تو تم (سجدے میں) دعا زیادہ کا یک رو۔“ صحیح مسلم ہی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس آیت پر سکدہ کرتے تھے۔ (دیکھیے مسلم، المساجد، باب سجود التلاوۃ : 108/588)
(2) اگرچہ ان آیات کا اولین مصداق ابوجہل ہے، مگر الفاظ عام ہونے کی وجہ…
Read the full tafseer →کلا، لاتطعہ واسجد واقترب۔
یعنی معاملہ اس طرح نہیں جس طرح ابوجہل گمان کرتا ہے ابوجہل تمہیں جو نماز ترک کرنے کے بارے میں کہتا ہے اس میں اس کی طاعت نہ کیجئے، اللہ تعالیٰ کے لیے نماز پڑھیے اور طاعت و عبادت کے واسطہ سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجئے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ معنی ہے جب تو سجدہ کرے تو دعا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجئے عطا نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، اقرب مایکون العبد من ربہ واحبہ الیہ جبھۃ فی الارض ساجدا للہ۔ بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے اور اس کی بارگاہ میں سب سے محبوب ہوتا ہے جب اس کی پیشانی زمین میں ہو جب کہ وہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
1۔ ابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے قرآن میں سے آیت اقرا باسم ربک الذی خلق نازل ہوئی۔
2۔ ابن ابی شیبہ وابن الضریس وابن الانباری فی المصاحف والطبرانی والحاکم وصححہ وابن مردویہ وابو نعیم فی الحلیہ نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کیا کہ آیت اقرا باسم ربک پہلی صورت ہے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔
3۔ بیہقی نے الدلائل میں ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو محمد بن عباس بن جعفر المخزومی (رح) نے یہ حدیث بیان کی اور انہوں نے اپنے بعض علماء سے سنا کہ قرآن مجید میں سے سب سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمایا وہ آیت اقرا باسم ربک سے مالم یعلم تھا اور…
Read the full tafseer →[كَلَّا ۭ لَا تُطِعْهُ : ہرگز نہیں ! آپ مت مانیں اس کی ][ وَاسْجُدْ : اور آپ ﷺ سجدہ کریں ][ وَاقْتَرِبْ : اور آپ ﷺ قربت اختیار کریں (سجدہ۔ 14)]
Read the full tafseer →﴿لَا تُطِعْهُ﴾ اے رسول ﷺ آپ اس کی بات نہ مانیے نماز نہ چھوڑیئے اور ایمان اور اعمال خیر سے جو یہ روکتا ہے اس میں اس کی اطاعت نہ کیجئے وَ اسْجُدْ (اور اپنے رب کے لیے سجدہ کرتے رہو) ﴿وَ اقْتَرِبْ 0019﴾ (اور اپنے رب کا قرب حاصل کرتے رہیے) اس میں خوب زیادہ نماز پڑھنے کا حکم فرمایا جس میں تکثیر سجدات کا حکم بھی آجاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب سجدہ کی حالت میں ہو لہٰذا تم خوب زیادہ دعا کیا کرو۔ (رواہ مسلم صفحہ 191: ج 1) حضرت ربیعہ بن کعب ؓ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رات گزارا کرتا تھا ایک مرتبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
آغاز وحی بامر قراۃ باسم رب العالمین ومذمت وتہدید برمخالفت رسول ﷺ خدا :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اقراباسم ربک الذی خلق ...... الی ...... واسجد واقترب “۔
یہ بات اجماع امت سے ثابت ہے کہ وحی الہی کا آغاز سورة اقرا کی پہلی پانچ آیات یعنی (آیت) ” اقرا باسم ربک سے علم الانسان مالم یعلم “۔ تک کے نزول سے ہوا جمہور صحابہ اور روایات صحیحہ سے بھی ثابت ہے پھر تعلیم سوال اور نماز میں پڑھنے کے لیے سورة فاتحہ نازل ہوئی تو سورتوں میں نازل ہونے والی یہ پہلی سورت ہوئی، اسی بناء پر حضرت علی ؓ سے ایک روایت میں سورة فاتحہ کی اولیت بیان کی گئی، ان پانچ آیات کے نازل ہونے کے بعد کچھ عرصہ سلسلہ وحی منقطع رہا، اور اس…
Read the full tafseer →9:۔ ” کلا لا تطعہ “ کلا ردعیہ ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا جیسا کہ ابوجہل کا گمان ہے کہ اس کے مددگار اس کو خدا کے عذاب سے چھڑا لیں گے۔ ہرگز نہیں ! ” لاتطعہ “ ابوجہل آپ کو نماز سے روکتا ہے، آپ اس کی بات نہ مانیں، بلکہ نماز پڑھیں اور اللہ ہی کی بارگاہ میں سجدہ بجا لائیں اور کثرت سجود اور عبادت وطاعت سے اس کا قرب اور اسی کی رضامندی حاصل کریں۔ عبادت صرف اسی کی بجا لائیں اور مصائب میں صرف اسی کو پکاریں
سورة العلق ختم ہوئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
گزشتہ سے پیوستہ
سورۃ کی ابتدائی آیات میں انسان کا ذکر ہوا۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تعلیم حاصل کرنے کا حکم دیا۔ جہالت کی تاریکی کو لفظ اقرا سے دور کیا۔ علم بالقلم سے قلم کی اہمیت واضح کی اور پھر علم الانسان مالم یعلم کے ذریعے انسان پر علم کی فضیلت بیان فرمائی کہ انسان میں کمال تعلیم کے ذریعے پیدا ہوتا ہے۔ اگر تعلیم نہ ہو ، تو انسان بیکار محض ہے۔ اس کی مثال علقہ یعنی گوشت کے لوتھڑے کی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ بستہ خون کے لوتھڑے کو اپنی صفت تخلیق کے ساتھ اشرف المخلوقات انسان کی شکل میں پیدا فرماتا ہے اسی طرح وہ انسان کو جہالت اور نادانی کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کرتا ہے۔…
Read the full tafseer →كَلَّا 0 ۭ لَا تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ 19 ۧ۞
كلا
كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] .
کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–19
ترکیب ¦ کلا۔ زجر للناہی عن الصلوٰۃ والخیرات۔ لئن شرطیۃ واللام مؤطۃ للقسم ای واللہ لئن لم ینتہ عما ھو علیہ شرط النسفعاء الخ جواب الشرط۔ واصلہ لنسفعن۔ صیغۃ جمع المتکلم مع لام التاکیدونون الخفیفۃ للتاکید۔ السفع القبض علی الشیء وجذبہ ‘ بشدۃ (کشیدن) یقال سفع یسفع (سفع موئے پیشانی گرفتن (عع بفجتھما) یقال بہ سفعۃ من الشیطان ای مس و سوختن آتش و سموم روی داد رنگ گردانیدن۔ (سفعہ بالضم سیاہی کہ بسرخی زند) صراح و قریٔ لنسفعن بنون مشددۃٍ ونون المخفۃ تبدل بالالف فی الوقف لسکونھا وانفتاح ماقبلھا۔ وکتبت فی المصحف بالا لف علی حکم الوقف۔ ولما علم انھا نا صیۃ المذکور اکتفٰی ابلام العہدء عن الاضافۃ فقیل بالناصیۃ…
Read the full tafseer →کَلاَّ ط لاَ تُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ ۔ (العلق : 19)
(ہرگز نہیں ! آپ اس کی بات نہ مانیں اور سجدہ کریں اور اپنے رب کا قرب حاصل کریں۔ )
آنحضرت ﷺ کو ہدایت
یہ جھوٹا اور خطاکار شخص جو آپ ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکتا ہے اور سجدہ سے منع کرتا ہے، آپ ﷺ ہرگز اس کی بات کی پرواہ نہ کریں اور اس کی حرکت کو خاطر میں نہ لائیں۔ آپ کو جب بھی موقع ملے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کی جناب میں ہمیشہ سجدہ کرتے رہیں اور کثرت سجود سے اس کا قرب حاصل کرتے رہیں۔ حضرت ثوبان ( رض) فرماتے ہیں کہ مجھے سرورعالم ﷺ نے نصیحت فرمائی علیک بکثرۃ السجود فانہ لاتسجد للہ تعالیٰ سجدۃ الارفعک اللہ بھا درجۃ وحط عنک بھاخطیئۃ ” اے ثوبان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–19
فہم القرآن
ربط کلام : باغی انسانوں میں ایک باغی کی مثال اور گھناؤنا کردار۔
مفسرین کی اکثریت نے اس آیت کا پہلا مصداق ابوجہل قرار دیا ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک دن ابوجہل قریشی سرداروں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا کہ جونہی محمد ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھوں گا تو اس کا سر کچل دوں گا۔ وہ یہ بات کررہا تھا کہ اچانک اللہ کے رسول ﷺ بیت اللہ میں داخل ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ اس کے ساتھیوں نے ابوجہل سے کہا کہ اٹھو اور اپنا وعدہ پورا کرو نبی ﷺ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے تو ابوجہل پتھر لے کر آگے بڑھا ابھی آپ سے چند قدم دور تھا کہ گھبرا کر اپنے ساتھیوں کی طرف مڑا۔ اس کے ساتھیوں نے…
Read the full tafseer →19 : کَلَّا لَاتُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ ( ہرگز نہیں۔ آپ اس کی بات مت مانیے اور نماز پڑھتے رہیے اور قرب حاصل کرتے رہیے) کلاؔ سے ابو جہل کو ردع کی گئی۔ لا تطعہ آپ اس کی نافرمانی پر ثابت قدم رہیں۔ جیسا دوسرے مقام پر فرمایا : فلا تطع المکذبین ] القلم : 8[۔ واسجد اور سجدے پر ہمیشگی اختیار کروسجدہ سے نماز مراد ہے۔ واقتربؔ سجود سے اپنے رب کا قرب حاصل کرو۔ بندہ سجدہ میں اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ ] رواہ مسلم : 482[ روایت اسی طرح ہے۔
Read the full tafseer →19 ۔” پھر فرمایا ” کلا “ معاملہ اس پر نہیں جس پر ابوجہل ہے۔ ” لا تطعہ “ نماز چھوڑنے میں۔ ” واسجد “ اللہ کے لئے نماز پڑھیں۔ ” واقترب “ اللہ سے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بندہ اپنے رب کے زیادہ قریب سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے۔ پس تم دعا زیادہ کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
6۔ 19۔ ان آیتوں کے شان نزول حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں جو ہے ان روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ ابوجہل نے اپنے بتوں کی قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ حرم شریف میں آنحضرت کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھے گا تو پیروں سے روند ڈالے گا ایک دن اس نے آپ ﷺ کو حرم میں نماز پڑھتے دیکھ کر قدم آگے بڑھایا کہ اپنی قسم پوری کرے لیکن پھر پیچھے ہٹ آیا لوگوں نے اس سے پیچھے ہٹ آنے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا مجھ کو ایک آگ کی خندق اور کچھ پر دار بازو نظر آئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس کی یہ بات سن کر فرمایا کہ اگر ابوجہل ذرا میرے پاس اور اتا تو فرشتے اس کی بوٹیاں کر ڈالتے۔ اسی قصہ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں اس طرح فرمایا کہ پہلے عام…
Read the full tafseer →یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے رہ اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی دے اور نہ اس کی نہی پر عمل ہی کرے چناچہ فرمایا (كَلَّا ۭ لَا تُطِعْهُ ) دیکھ اس کی اطاعت نہ کرنا۔ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے۔ (وَاسْجُدْ ) اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجئے (وَاقْتَرِبْ ) سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادات سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجئے کیونکہ یہ تمام…
Read the full tafseer →17 ۔ منکرین کے لیے زجر و توبیخ کا ذکر وبیان : سو منکرین و مکذبین سے ان کے لیے زجر و توبیخ کی طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہرگز نہیں یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا، جیسا کہ اس شقی اور بدبخت کا زعم اور گھمنڈ ہے، اس کے مقابلے میں کوئی نہیں آسکتا، اس طرح سمجھنا محض اس کا بےبنیاد زعم اور گھمنڈ ہے، وقت پڑنے پر نہ یہ اپنے جتھے کو بلا اور پکار سکے گا، اور نہ ہی وہ اس کے کچھ کام آسکیں گے، اور نہ ہی ایسے لوگ اس بل بوتے کے ہیں کہ آپ ﷺ کی دعوت حق کا مقابلہ کرسکیں یا راستہ روک سکیں، البتہ اس طرح ایسے لوگ اپنی شقاوت و بدبختی کے ٹھپے کو ہی پکار کر رہے ہیں، والعیاذ باللہ۔ پس آپ اے پیغمبر نہ کسی ایسے شخص کی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–19
انسان کی سرکشی اور اس کا انجام
تشریح : ان آیات میں انسان کی غلط سوچ عمل اور خراب انجام کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کو دلیل کے ساتھ ثابت کیا گیا ہے۔ کہ جو بھی ماحول ہو زمانہ ہو یا دنیا کا کوئی بھی علاقہ ہو وہاں یعنی ہمیشہ انسان کا یہی رویہ رہا ہے کہ کچھ تو اللہ کو اس کی رحمتوں سے پہچان کر اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اس کا شکر ادا کرتے ہیں جس کا بہترین طریقہ ہے اللہ کے حضور سجدہ کرنا اور کچھ ایسے خبیث فطرت ' ہٹ دھرم ' خود پسند اور نافرمان بیوقوف ہوتے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی اللہ سے لاپرواہ اور نافرمان ہوجاتے ہیں بلکہ جو ان کے سامنے اللہ کی بات کرتے ہیں یا سجدہ کرتے ہیں وہ ان کو بھی برا بھلا کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
سورة العلق۔
آیات 1 تا 19۔
اسرار ومعارف۔
یہ پہلی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارحرا میں جبرائیل امین لائے تفصیل کتب میں دیکھی جاسکتی ہے مختصرا یہ کہ آپ غار حرا میں خلوت گیر ہوکرذات باری میں تفکر فرماتے اور ظہور کمال کی طلب بڑھتی کہ جبرائیل امین تشریف لائے پڑھنے کا حکم دیا جس پر آپ ﷺ نے فرمایا میں پڑھ نہیں سکتا تو انہوں نے تین بار بازوں میں لے کردبایا اور ہر بار پڑھنے کے لیے کہا اور یہ آیات نازل ہوئیں آپ پرہیبت وحی طاری ہوگئی کلام ذاتی تھا جس کے ساتھ ذاتی تجلیات بھی تھیں۔
حضرت خدیجہ پڑھی لکھی تھیں۔
آپ ﷺ گھرتشریف لائے حضرت خدیجہ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دیجئے انہوں نے صورت حال سنی تو عرض…
Read the full tafseer →ف 10 حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے۔ ادھر ابوجہل آگیا اور کہنے لگا :’ د کیا میں نے تمہیں اس حرکت (نماز سے منع کیا تھا تم جانتے ہو کہ مکہ کی سر زمین میں مجھ سے زیادہ کسی کے ساتھی اور حمایتی نہیں ہیں “ اسی کا جواب اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں دیا ہے (ترمذی ابن جریر وغیرہ) حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ابوجہل کہنے لگا :” کیا محمد (ﷺ) تمہارے درمیان اپنا چہرہ زمین پر رکھتا (یعنی سجدہ کرتا) ہے ؟ “ لوگوں نے کہا ” ہاں “ بولا ” مجھے لات و عزی کی قسم اگر میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا تم میں اس کی گردن دبوچ لوں گا اور اس کا چہرہ زمین میں گاڑ دوں گا۔ پھر وہ اس ارادہ سے رسول…
Read the full tafseer →(96:19) کلا۔ روع لذلک اللعین (روح المعانی)
ای ارتدع ایہا الکافر الکاذب (ایسر التفاسیر) یہ جھڑک ہے ملعون ابو جہل کے لئے۔ اے چھوٹے کافر باز رہ۔ (ایسی بےجا حرکتوں سے باز رہ)
لاتطعہ : لا تطع فعل نہی واحد مذکر حاضر اطاعۃ (افعال) مصدر سے ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ تو اس کی اطاعت نہ کر۔ تو اس کا کہنا مت مان۔ نماز پڑھتا رہ۔ اسے مت چھوڑ۔
یہ جملہ مستانفہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے سوال ہوسکتا تھا کہ جب یہ روکتا ہے تو میں کیا کروں ؟ اس کا جواب دے دیا کہ اس کی بات مت مانو۔
واسجد۔ یہ لفظا لاتطعہ پر معطوف ہے اور معنوی اعتبار سے لاتطع کے معنی کی تاکید ہے۔
واؤ عاطفہ ہے۔ اسجد فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر سجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–19
لغات القرآن۔
اقرا۔ پڑھ۔ علق۔ جما ہو اخون۔ الاکرم۔ زیادہ محترم۔ یطغی۔ وہ سرکشی کرتا ہے۔ ینھی۔ وہ روکتا ہے۔ لم ینتہ۔ باز نہ آیا۔ نسفع۔ ہم گھسیٹیں گے۔ الناصیۃ ۔ پیشانی۔ نادیہ۔ اپنی جماعت کو۔ سندع۔ ہم بلائیں گے۔ الزبانیۃ۔ پیادے۔ اقترب۔ تو قریب ہوجا۔
تشریح : شب قدر میں قرآن کریم کی سب سے پہلی وہ آیات جو حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئیں سورة العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اس کے بعد سورة مدثر کی ابتدائی آیتیں اور کافی عرصہ بعد سورة علق کی بقیہ چوہ آیات نازل ہوئی۔ امام بخاری (رح) نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے ذریعہ سب سے پہلی وحی کی کیفیات کی تفصیلات کا علم پوری امت کو حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–19
(ف 3) یعنی آپ اس کی ہرگز پرواہ نہ کیجئے اور اس کی کسی بات پر کان نہ دھریے جہاں چاہو شوق سے اس کی عبات کرو اس کی بارگاہ میں سجدے کرکے بیش از بیش قرب حاصل کرتے رہو، نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ بندہ سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →[10] سجدہ کرنے سے مراد نماز ہے۔ یعنی تم بےخوف ہو کر نماز پڑھتے رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 1: فرمایا کہ اس معاند کو بغض وعداوت کے جذبات سے باز آجانا چاہیے ۔ مال وجاہ کے غرور میں شان محمدی ﷺ کے متعلق اس درجہ گستاخانہ کلمات کا اظہار نہ کرنا چاہیے کہ اس کو اس کی پر فخار پیشانی سے جو کذب وخطا سے آلودہ ہے ۔ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا اور ذلیل کیا جائے گا ۔ یہ اللہ کی اٹل وعید ہے ۔ جس کے واقع ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔ یہ جائے اور ہمنشینوں کو حمایت کے لئے بلالے ۔ ہم بھی اپنے فرشتوں کو بلا رہے ہیں ۔ ہم کہے دیتے ہیں کہ یہ اپنی تمام مساعی تحقیر میں ناکام رہے گا اور آپ بدستور اطاعت و سجدہ میں قرب خداوندی کے حصول میں کوشاں رہیں گے ۔ چناچہ بالکل یہی ہوا اور حضور ﷺ کا مشن کامیاب ہوا ۔ سینکڑوں جبینیں…
Read the full tafseer →(19) نہیں نہیں آپ اس کا کہنا نہ مانیے اور سجدہ کرتے رہیے اور اللہ کا قرب حاصل کرتے رہیے - یعنی نماز پڑھتے رہیے اور نماز کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجئے کیونکہ سجہ بندے کو اللہ تعالیٰ سے بہت قریب کردیتا ہے۔
اہل تصوف کی بعض کتابوں میں نظر سیگزرا ہے کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نے دریافت کیا تھا کہ بندہ آپ سے کس حالت میں زیادہ قریب ہوتا ہے ارشاد ہوا جب بھوکا ہوتا ہو اور جب وہ سجدہ کرتا ہے یعنی بندے کی یہ دو حالتیں اس کو ہم سے زیادہ قریب کردیتی ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک بار ابوجہل حضرت ﷺ کو نماز میں دیکھ چلا کہ بےادبی کرے وہاں نہ پہنچا تھا کہ جھپکا لگا پروں کا ڈر کر الٹے پائوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 5۔ چونکہ یہ بلانا اس کے بلانے پر مشروط تھا شرط کے نہ پائے جانے سے مشروط نہیں پایا گیا، طبری نے قتادہ سے مرسلا روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر ابوجہل ایسی حرکت کرتا تو ملائکہ عیانا اس کو پکڑ کر تہس نہس کردیتے۔
Read the full tafseer →ہرگز نہیں آپ ﷺ ان کی ایک نہ سنیں آپ ﷺ سجدہ کریں اور اللہ کے قریب ہوجائیں
19 ؎ اب نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے خاص ہدایت دی جا رہی ہے کہ ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ ﷺ ان ہیکڑوں کے کہنے پر اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہونے سے باز آجائیں ۔ نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا آپ ﷺ ان بدکاروں میں سے کسی بھی بدکار کی بات مت مانیے ۔ یہ اگر نماز ادا کرنے سے منع کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان کی ایک نہ سنیے بلکہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہمیشہ سجدے کرتے رہیے اور کثرت سجدہ ہی سے اللہ کا قریب حاصل کرنے کی کوشش کیجیے کیونکہ جو بات کثرت ِ سجود سے کھلتے ہیں وہ اس کے علاوہ کھولے ہی نہیں جاسکتے ۔ کس کی مجال ہے کہ وہ آپ…
Read the full tafseer →Verse [ 19] كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِب ۩ (No! never obey him, and bow down in sajdah { Prostration}, and come closer.) The Holy Prophet ﷺ is advised to ignore and disobey Abu Jahl when he stops him from praying. He is asked to be steadfast in prayer and prostration.
Acceptability of Supplication in the Posture of Prostration
It is recorded in Abu Dawud on the authority of Sayyidna Abu Hurairah ؓ that the Messenger of Allah ﷺ said: اقرب ما یکون العبد من ربّہٖ وھو ساجد فاکثروا الدعاء . (The closest that a servant can be to his Lord is when he is in prostration. Therefore, make…
Read the full tafseer →16 "Sajdah" (prostration) here implies the Prayer, so as to say: "O Prophet, continue to perform your Prayer fearlessly as you have been in the past, and seek your Lord's presence through it." In the Sahih of Muslim and other books of Hadith there is a tradition from Hadrat Abu Huraira to the effect: "The servant is nearest to his Lord when he is in the state of prostration", and in Muslim there is also a tradition from Hadrat Abu Hurairah that when the Holy Prophet recited this verse, he performed a sajdah of recital.
Read the full tafseer →