Al-Qadr 97:1

97. Al-Qadrالقدر

The Power, Fate · Meccan · 5 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

97:1

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ ۟ۚۖاِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِىۡ لَيۡلَةِ الۡقَدۡرِ

ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, We sent the Qur'an down during the Night of Decree.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 22 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qadr

All translations of 97:1

ہم نے اِس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم نے اسے شبِ قدر میں اتارا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ ہم نے اسے قدر کی رات میں اتارا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ ہم ہی نے اتارا ہے اس) قرآن حکیم (کو شب قدر میں

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک ہم نے اسے (قرآن کو) شب قدر میں اتارا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا ہم نے اتارا ہے اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے اسے اتارا شب قدر میں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Behold, We revealed this (Qur'an) on the Night of Power.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We have sent it (the Qur‘an) down in the Night of Qadr.

— Muhammad Taqi Usmani

We have sent it (the Qur‘an) down in the Night of Qadr.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, We have sent it down in the Night of Al-Qadr.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! We revealed it on the Night of Predestination.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, We sent the Qur'an down during the Night of Decree.

— Saheeh International

We revealed the Quran on the Night of Destiny.

— Muhammad Sarwar

Surely We revealed it on the grand night.

— Muhammad Habib Shakir

Verily We! We have sent it down on the night of Power.

— Abdul Majid Daryabadi

We have indeed revealed this (Message) in the Night of Power:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 97:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

غیر متعلقہ روایات اور بحث : مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے اسی کا نام لیلۃ المبارکہ بھی ہے اور جگہ ارشاد ہے انا انزلنٰہ فی لیلۃ مبارکتہ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے جیسے فرمایا شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ابن عباس وغیرہ کا قول ہے کہ پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول اللہ صلی اللہ پر نازل ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلیٰ نعمت اسی رات…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة القدر 1 اصل الفاظ ہیں اَنْزَلْنٰهُ " ہم نے اس کو نازل کیا ہے " لیکن بغیر اس کے کہ پہلے قرآن کا کوئی ذکر ہو، اشارہ قرآن ہی کی طرف ہے، اس لیے کہ " نازل کرنا " خود بخود اس پر دلالت کرتا ہے کہ مراد قرآن ہے۔ اور قرآن مجید میں اس امر کی بکثرت مثالیں موجود ہیں کہ اگر سیاق کلام یا انداز بیان سے ضمیر کا مرجع خود ظاہر ہورہا ہو تو ضمیر ایسی حالت میں بھی استعمال کرلی جاتی ہے جب کہ اس کے مرجع کا ذکر پہلے یا بعد میں کہیں نہ کیا گیا ہو (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، النجم، حاشیہ 9) یہاں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے، اور سورة بقرہ میں ارشاد ہوا ہے شَهْرُ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر بیشک ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا ہے (تحقیق شب قدر میں نازل ہونے کی سورة دخان میں گزری ہے) اور زیادت تشویف کے لئے فرماتے ہیں کہ۔) آپ کو کچھ معلوم ہے کہ شب قدر کیسی چیز ہے (آگے جواب ہے کہ) شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے (یعنی ہزار مہینہ تک عبادت کرنے کا جس قدر ثواب ہے اس سے زیادہ شب قدر میں عبادت کرنے کا ثواب ہے، کذا فی الخازن اور وہ رات ایسی ہے کہ) اس رات میں فرشتے اور روح القدس (یعنی جبرائیل علیہ السلام) اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر (زمین کی طرف) اترتے ہیں (اور وہ شب) سراپا سلام ہے (جیسا حدیث بیہقی میں حضرت انس سے مرفوعاً مروی ہے کہ شب قدر میں حضرت جبرئیل ؑ فرشتوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قرآن کا نزول اللہ تعالیٰ کی اسکیم کے تحت ہوا ہے: سابق سورہ کی آیات ۳-۵ میں اس عظیم احسان کا ذکر ہو چکا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی تعلیم کے لیے قرآن نازل کر کے فرمایا۔ اب اس سورہ میں اسی کا حوالہ، بغیر کسی تمہید کے، دے کر بتایا کہ ہم نے اس کو شب قدر میں نازل کیا ہے۔ ’اَنْزَلْنٰہُ‘ میں ضمیر مفعول اگرچہ بظاہر مرجع کے بغیر آ گئی ہے لیکن قرینہ بالکل واضح ہے اس وجہ سے اس طرح ضمیر لانے میں کوئی خرابی نہیں ہے بلکہ غور کیجیے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن میں ایک سورہ کے بعد دوسری سورہ جو آتی ہے تو وہ بغیر کسی تعلق کے نہیں آ جاتی بلکہ سابق اور لاحق دونوں میں نہایت گہرا ظاہری اور باطنی ربط ہوتا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 1 یعنی اتار نے کا آغاز کیا، یا لوح محفوظ سے بیت العزت میں، جو آسمان دنیا پر ہے، ایک ہی مرتبہ اتار دیا، اور وہاں سے حسب واقعہ نبی ﷺ پر اترتا رہا تاآنکہ 23 سال میں پورا ہوگیا۔ اور لیلۃ القدر رمضان میں ہی ہوتی ہے، جیسا کہ قرآن کی آیت (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ) 2۔ البقرۃ :185) سے واضح ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–2

1: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ پورا قرآن لوح محفوظ سے اس رات میں اتارا گیا، پھر حضرت جبرئیل ؑ اسے تھوڑا تھوڑا کرکے تئیس سال تک آنحضرت ﷺ پر نازل کرتے رہے، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ پر قرآن کریم کا نزول سب سے پہلے شب قدر میں شروع ہوا، شب قدر رمضان کی آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی رات میں ہوتی ہے، یعنی اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں، یا انتیسویں رات میں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انا انزلنہ ............................ القدر (1:97) ” ہم نے اسے لیلة القدر میں اتارا “۔ لیلتہ القدر کے معنی تقدیر اور تدبیر بھی ہوسکتے ہیں ، اور قابل قدر اور بلند مرتبہ کے بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ دونوں معانی اس عظیم الشان کائناتی واقعہ کے ساتھ مناسب ہیں ، یہ واقعہ کہ اس رات میں قرآن کریم نازل ہوا ، یہ آخری رسالت نبی کریم ﷺ کے سپرد ہوئی اور آپ نے دعوت کا کام شروع کیا۔ میں سمجھتا ہوں اس کائنات میں اس سے بڑا کوئی واقعہ نہیں ہے۔ اور انسانوں کی زندگی میں اس سے پر معنی اور زیادہ اہمیت اور قدر و قیمت والا کوئی واقعہ بھی نہیں ہے۔ یہ رات ایک ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ مراد ہزار مہینوں کی تحدید نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی قرآن مجید " لوح محفوظ " سے سماء دنیا پر " شب قدر " میں اتارا گیا اور شاید اسی شب سماء دنیا سے پیغمبر ﷺ پر اترنا شروع ہوا۔ اس کے متعلق کچھ مضمون سورة " دخان " میں گزر چکا ہے۔ وہاں دیکھ لیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 1{ اِنَّــآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃِ الْقَدْرِ۔ } ”یقینا ہم نے اتارا ہے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں۔“ ”اَنْزَلْنٰـہُ“ کی ضمیر مفعولی کا مرجع بالاتفاق قرآن مجید ہی ہے۔ نوٹ کیجیے ! ان سورتوں کے مضامین کے اندر ایک ربط پایا جاتا ہے ‘ یعنی پہلی وحی سورۃ العلق کے فوراً بعد بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے اس کلام کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ قدر کا معنی تقدیر اور قسمت بھی ہے اور عزت و منزلت بھی۔ یہاں دونوں معنی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ یعنی ہم نے اس قرآن کو اس رات میں اتارا ہے جو قدر و منزلت کے اعتبار سے بےمثل رات ہے ‘ یا اس رات میں اتارا ہے جو تقدیر ساز ہے۔ سورة الدخان میں اس رات کا ذکر لَیْلَۃ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 لیلۃ القدر اور شب قدر یا لیلہ مبارکہ ایک ہی رات کے نام ہیں :۔ اس سورت میں قرآن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل کیا۔ اور سورة الدخان کی آیت نمبر 3 میں فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کو لیلۃ مبارکہ میں نازل کیا جس سے معلوم ہوا کہ لیلۃ القدر اور لیلۃ مبارکہ ایک ہی رات کی دو صفات یا دو نام ہیں۔ یہ الگ الگ راتیں نہیں ہیں اور لیلۃ القدر ہی کا ترجمہ فارسی میں شب قدر یا شب برات ہے۔ گویا شب قدر یا شب برات، لیلۃ القدر سے علیحدہ کوئی رات نہیں۔ جیسا کہ ہمارے یہاں 15 شعبان کو شب برات سمجھی بلکہ آتش بازی سے منائی جاتی ہے اور اس نظریہ کا ماخذ چند انتہائی ضعیف روایات ہیں۔ پھر قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1۔ اس شب مبارک ومعظم میں اس کلام مقدس کے نزول کی ابتداء کی ہے۔ قال الشعبی ابتدی باانزالہ لیلۃ القدر (کبیر) یا یہ معنی لئے جائیں کہ اس شب میں یہ کلام عرش بریں پر لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اتار دیا گیا ہے۔ قال ابن عباس ؓ انزل الی سماء الدنیا جملۃ لیلۃ ثم الی الارض نجوما (کبیر) کل قرآن مجید کو رسول اللہ ﷺ پر رفتہ رفتہ نازل ہونے میں 22، 23 سال کی مدت لگی، (آیت) ” انزلنہ “۔ ضمیرہ بلااختلاف قرآن مجید کی طرف ہے۔ اور بجائے صراحت کے اس اضمار میں عظمت قرآن مجید کی زائد ہے۔ اجمع المفسرون علی ان المراد انا الزلنا القران فی لیلۃ القدر ولکنہ تعالیٰ ترک التصریح بالذکر لان ھذا الترکیب یدل علی عظم القران…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–3

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، یقیناً ہم نے اس کو یعنی قرآن کو شب قدر یعنی شرف اور عظمت والی رات میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف یکبارگی نازل فرمایا اور اے محمد ﷺ ! آپ ﷺ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟ (یہ استفہام) لیلۃ القدر کی عظمت اور اس سے تعجب کے اظہار کا بیان ہے، شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جن میں شب قدر نہ ہ، یعنی شب قدر میں عمل صالح ہزار مہینوں میں عمل سیبہتر ہے جن میں شب قدر نہ ہو، اس رات میں (عام) فرشتے اور جبرئیل (رح) تعالیٰ اترتے ہیں (تنزل) کی اصل (تتنزل) ہے ایک تاء کے حذف کے ساتھ ہے اپنے رب کے حکم سے ہر کام کو سرانجام دنیے کے لئے جس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انا انزلنہ . ہم ہی نے اس کو یعنی قرآن کو اتارا ‘ قرآن کی تعظیم اور عظمت شان کے اظہار کے لیے (بغیر ذکر مرجع کے) ضمیر کو ذکر کیا کیونکہ انزلنٰہ کو سننے کے بعد سننے والے کا ذہن کسی دوسری چیز کی طرف منتقل ہی نہیں ہوسکتا۔ اسی اظہار عظمت کے لیے اتارنے کی نسبت اپنی طرف کی (فاعل کی عظمت فعل کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے) اور حکم میں تاکید و قوت پیدا کرنے کے لیے مسند الیہ (انّا) کو خبر فعلی (انزلنا) سے پہلے ذکر کردیا ‘ یا یہ تقدیم خصوصیت فاعل کو ظاہر کرنے کے لیے ہے ‘ پھر قرآن کی مزید عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے فرمایا۔ فی لیلۃ القدر . یعنی قرآن کا وقت نزول بھی عظیم الشان ہے۔ لیلۃ القدر میں اس کا نزول ہوا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) ہم نے بذریعہ جبریل پورے قرآن حکیم کو ایک مرتبہ فرشتوں کے دستہ کے ساتھ آسمان دنیا پر حکم و قضاء والی رات میں یا یہ کہ رحمت و برکت اور مغفرت والی رات میں اتارا ہے۔ پھر اس کے بعد قرآن حکیم رسول اکرم ﷺ پر تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا۔ شان نزول : اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ الخ امام ترمذی حاکم اور ابن جریر نے حسن بن علی سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے بنی امیہ کو اپنے منبر پر دیکھا تو آپ کو برا معلوم ہوا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ انا اعطیناک الکوثر اور انا انزلنہ فی لیلۃ القدر وما ادرٰک ما لیلۃ القدر لیلۃ القدر خیر من الف شہر۔ آپ کے بعد اس چیز کے بنو امیہ مالک…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1(1) انا انزلنہ فی لیلۃ القدر :”ہم نے اسے قدر کی رات میں نازل کیا“ یعنی قرآن مجید کو۔ جب کوئی چیز اتنی مشہور ہو کہ خود بخود ذہن میں آاجتی ہو تو اس کی عظمت واضح کرنے کے لئے نام لینے کے بجائے اس کی ضمیر پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ (2) ”القدر“ کا معنی قدیرہے، یعنی قدیر کی رات۔ اس معنی کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے :(فیھا یفرق کل امر حکیم) (الدخان : 3)”اس رات میں ہر ممکن کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔“ یعنی سال بھر میں جو کام ہونا ہوتا ہے اس رات میں لوح محفوظ سے نقلک ر کے ان فرشتوں کے حوالے کردیا جاتا ہے جو اسے سر انجام دیتے ہیں۔”القدر“ کا دورسا معنی عظمت ہے، یعنی عظمت والی رات۔ اس کے بعد اس کی عظمت پر دلالت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اناانزلناہ فی الیلۃ القدر انا انزلناہ میں ضمیر غائب ہے اس سے مراد قرآن حکیم ہے اگرچہ اس صورت میں اس کا ذکر نہیں ہوا کیونکہ معنی معلوم ہے پورے کا پورا قران حکیم ایک سورت کی طرح ہے۔ ارشاد فرمایا، شھر رمضان الذی انزل فی القرآن (البقرہ 185) رمضان شریف کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا ہے، ارشاد فرمایا، حم۔ والکتاب المبین، اناانزلناہ فی لیلۃ مبرکۃ (الدخان) حائ، میم، کتاب مبین کی قسم ! ہم نے اسے مبارک رات میں نازل کیا ہے اس سے مراد لیلۃ القدر ہے۔ شعبی نے کہا، اس کا معنی ہے ہم نے اس کے نازل کرنے کو لیلۃ القدر میں شروع کیا ایک قول یہ کیا گیا ہے، بلکہ جبرائیل امین نے لیلۃ القدر میں ایک ہی بار…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–5

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة انا انزلنہ فی لیلۃ القدر مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن عباس اور عائشہ ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ ابن الضریس وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر بیشک ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں اتارا۔ یعنی شب قدر میں پورا قرآن کریم ایک ہی بار اس ذکر سے نازل کیا گیا جو رب العزت کے پاس اور اسے آسمان دنیا میں بیت العزۃ میں رکھ دیا گیا پھر جبریل (علیہ السلام) اسے لے کر محمد صلی اللہ پر غار حرا میں نازل ہونا شروع ہوئے۔ بندوں کے کلام اور ان کے اعمال…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انآ انزَلْنٰهُ : یقینا ہم نے ہی اتارا اس (قرآن) کو ][ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ : قدر کی رات میں ] نوٹ 1: قدر کے ایک معنی عظمت وشرف (قدروقیمت والا ہونا) کے ہیں۔ اور اس رات کو لیلۃ القدر کہنے کی وجہ اس رات کی عظمت ہے۔ قدر کے دوسرے معنی تقدیر کے بھی آتے ہیں۔ اس معنی کے اعتبار سے اس کو لیلۃ القدر کہنے کی وجہ یہ ہوگی کہ اس رات میں تمام مخلوقات کے لیے جو کچھ تقدیر میں لکھا ہے، اس کا جو حصہ اس سال رمضان سے اگلے رمضان تک پیش آنے والا ہے، وہ ان فرشتوں کے حوالے کردیا جاتا ہے جو کائنات کے امور نافذ کرنے کے لیے مامور ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ وہ فرشتے جن کو یہ امور سپرد کیے جاتے ہیں چار ہیں،…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

اوپر سورة القدر کا ترجمہ کیا گیا ہے جس میں قرآن مجید نازل فرمانے کا اور شب قدر کی برکات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اول تو یوں فرمایا کہ ﴿ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِۚۖ001﴾ (بیشک ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا) قرآن مجید تھوڑا تھوڑا کر کے تئیس سال میں نازل ہوا ہے پھر شب قدر میں نازل فرمانے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کے بارے میں حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ پورا قرآن مجید لوح محفوظ سے اتار کر آسمان دنیا یعنی قریب والے آسمان میں اتار دیا گیا، وہاں بیت العزت میں رکھ دیا گیا پھر جبرائیل (علیہ السلام) حسب الحکم تھوڑا تھوڑا کر کے رسول اللہ ﷺ کے پاس وحی کے طور پر لاتے رہے۔ سورة البقرہ میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

عظمت شب قدر وماہ رمضان بنزول قرآن : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” انآانزلنہ فی لیلۃ القدر ......... الی ....... ھی حتی مطلع الفجر “۔ (ربط) گزشتہ سورة اقرا میں آغاز اور ابتداء بعثت کا ذکر تھا، اب اس سورت میں نزول قرآن کا زمانہ اور شب قدر کی فضیلت بیان کی جارہی ہے جس میں اللہ رب العزت نے قرآن جیسی نعمت اور عظیم کتاب ہدایت نازل فرمائی۔ یا یہ کہہ دیجئے کہ گزشتہ سورت میں انسان پر عنایات والطاف خداوندی کا ذکر تھا اور اس کی ترقیات کا، اب اس مناسبت سے انسانی سعادت اور فوز و فلاح کی اصل اساس کتاب الہی اور قرآن حکیم کا نزول بیان کیا جارہا ہے کہ وہ شب قدر میں ہوا، جس میں عقائد، عبادات، معاملات، تہذیب نفس، اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2: ” انا انزلناہ “۔ نازل کرنے سے مراد ابتداء نزول ہے یا لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر بیت العزۃ میں سارا قرآن نازل کرنا مراد ہے۔ ” قدر “ کے معنی تقدیر کے ہیں یعنی اندازہ مقرر کرنا اس رات میں چونکہ سال بھر کے اہم کاموں کا فیصلہ ہوتا ہے اس لیے اسے لیلۃ القدر کہا گیا۔ یا ” قدر ‘ کے معنی عظمت و شرافت کے ہیں اور اسی عظمت و شرف کی وجہ سے اسے لیلۃ القدر کا نام دیا گیا۔ ان اللہ تعالیٰ یقد فیہا ما یشاء من امرہ الی مثلہا من السنۃ القابلۃ۔ وقیل انما سمیت بذلک لعظمتہا و قدرہا و شرفہا (قرطبی ج 20 ص 130) ۔ ” وما ادراک ما لیلۃ القدر “ یہ لیلۃ القدر کی عظمت و فضیلت کا بیان ہے۔ ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

پہلی سورة کا خلاصہ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور پھر اسے درجہ کمال تک پہنچانے کے لئے علم کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد انسانوں کی دو اقسام کا ذکر کیا۔ ایک وہ قسم جو اہل ایمان ہیں اور فطرت کے مطابق قرآن پاک کا علم حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی وحدانیت کو مانتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو خدا کا عاجز بندہ سمجھتے ہیں اور اس کے حضور نماز ادا کرتے ہیں۔ تقویٰ کا حکم دیتے ہیں اور نیکی اور ہدایت کے راستے پر گامزن ہیں۔ انسانوں کا دوسرا گروہ سرکش ہے اپنے آپ کو مال و جاہ کی وجہ سے مستغنی خیال کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں رکھتا۔ اور اللہ کے بندوں کو اس کی عبادت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِيْ لَيْلَۃِ الْقَدْرِ۝ 1 إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ انا مبتداء انزلناہ الضمیر یرجع الی القرآن وان لم یتقدم ذکرہ لکونہ معھودا معلومًا فی متعلق بانزلنا والجملۃ خبر المبتدء۔ وما ادراک الجملۃ استفہامیۃ لبیان عظم شان لیلۃ القدر۔ لیلۃ القدر مبتدء خبر من الف شہر خبرہ والجملۃ التامۃ جواب الاستفھام۔ تنزل بحذف احدی التائین من الاصل۔ الملائکۃ فاعلہ و تانیث الفعل لا عتبار جمعیۃ الفاعل ای متلبسین والروح معطوف علی الملائکۃ۔ فیھا ای فی لیلۃ القدر والجار متعلق بتنزل باذن ربہم متعلق تنزل او بمحذوف ھو حال من فاعلہ ای متلبسین باذن ربہم ای بامرہ۔ من کل امر ای من اجل کل امر وقیل من بمعنی اللام ای لکل امرو قیل بمعنی الباء ای بکل امر۔ متعلق بالفعل السابق۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّـآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ۔ (القدر : 1) (ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ہے۔ ) ضمیر کا مرجع قرآن کریم ہے جو کسی کی ذاتی امنگ کا نتیجہ نہیں اَنْزَلْنٰـہُ میں ضمیرمفعول کا مرجع ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ ضمیر کا ذکر مرجع کے ذکر کے بغیر کلام کا عیب ہے۔ اور قرآن کریم چونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، یہ ہر عیب سے پاک ہے۔ اس اشتباہ کا جواب یہ ہے کہ مرجع کا ذکر کیے بغیر ضمیر کو لانا اس وقت عیب ہوتا ہے جب مرجع پر کوئی قرینہ دلالت نہ کررہا ہو، جبکہ یہاں ایسا نہیں۔ یہاں دو قرینے موجود ہیں۔ ایک اس سورة کا پہلا لفظ اِنَّـآ اَنْزَلْنٰـہُ ہم نے نازل کیا ہے۔ نزول کا لفظ یہ بتانے کے لیے کافی ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورت : سورة اقراء میں جس چیز کو پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے وہ قرآن مجید کی وحی ہے اور قرآن مجید کا نزول لیلۃ القدر میں ہوا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو ” لَیْلَۃُ الْقَدْرِ “ میں نازل کیا ہے یہاں اس رات کو لیلۃ القدر کہا گیا ہے اور سورة الدُّخان کی ابتدائی آیات میں اسے مبارک رات قراردیا گیا ہے۔ القدر کے دو معانی ہیں۔ 1 ۔ عزت والی رات 2 ۔ القدر سے مراد تقدیر بھی ہے کیونکہ اس رات میں لوگوں کی سال بھر کی تقدیر کا فیصلہ کیا جاتا ہے اس لیے اس کا نام ” لَیْلَۃُ الْقَدْرِ “ ہے۔ امام قرطبی (رح) نے اس سے مراد لی ہے کہ یہ عزّت والی کتاب عزّتِ مآب رسول پر، عزّت والی رات میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

رات کی عظمت : 1 : اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ (بیشک ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا ہے) اس میں قرآن مجید کی عظمت بیان فرمائی کہ اس کے اترنے کی نسبت اپنی طرف فرمائی نہ کہ کسی دوسرے کی طرف اور اپنی طرف ذات باری تعالیٰ نے ضمیرلوٹائی اسم باری تعالیٰ کو ظاہر نہیں لائے۔ اس بات پر متنبہ کرنے کیلئے کہ اس کی چنداں ضرورت نہیں۔ اور اس وقت کی شان بھی بلند کردی جس میں اس کو اتارا۔ روایت میں ہے کہ تمام قرآن مجید لیلۃ القدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف اتارا گیا۔ پھر جبرئیل (علیہ السلام) اس کو لے کر تئیس سال میں رسول اللہ ﷺ پر اترتے رہے۔ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ لیلۃ القدر کا معنی : امور و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” انا انزلنہ فی لیلۃ القدر “ یعنی قرآن کو۔ یہ ضمیر غیر مذکور کی طرف لوٹ رہی ہے۔ قرآن مجید کو یکبارگی لیلۃ القدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف اتارا۔ پھر اس کو بیت العزت میں رکھا۔ پھر وہاں سے جبرئیل (علیہ السلام) تھوڑا تھوڑا کرکے بیس سال میں نازل ہوتے رہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ صحیح معنی آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر کے یہ ہیں کہ لوح محفوظ سے شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف اول آسمان پر اترا اور پھر رفتہ رفتہ آنحضرت ﷺ پر تئیس سال تک نازل ہوتا رہا۔ نسائی بیہقی ‘ مستدرک 2 ؎ حاکم مصنف ابن ابی شیبہ طبرانی میں معتبر سند سے جو روایتیں ہیں ان میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے یہی معنی اس آیت کے بیان فرمائے ہیں اگرچہ مفسرین نے اس آیت کے معنی اور بھی بیان کئے ہیں لیکن وہ معنی اس قدر صحیح نہیں ہیں شب قدر کی فضیلت یہت سی حدیثوں میں آئی ہے اب آگے لیلۃ القدر کی یہ فضیلت بیان فرمائی کہ اس ایک رات کی عبادت اور دونوں کے ہزار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے۔ ہزار مہینے کے تراسی سال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اللہ تبارک وتعالی نے قرآن کی فضیلت اور اس کی بلند قدرومنزلت بیان کرتے ہوئے فرمایا (اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ) بیشک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (انا انزلنہ فی لیلۃ مبراکۃ۔ الدخان 3) ۔ بیشک ہم نے اسے بابرکت رات میں اتارا ہے۔ اس کا شب قدر میں نازل کرنا یہ ہے کہ اللہ نے قرآن کے نازل کرنے کی ابتدا رمضان المبارک میں اور شب قدر میں کی، شب قدر کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عام رحمت فرمائی بندے جس کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ اس کی عظیم قدرومنزلت ور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی فضیلت کی بنا پر اس کو (لیلۃ القدر) کے نام سے موسوم کیا گیا نیز اس لیے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–5

شب قدر قول باری ہے (انا انزلناہ فی لیلۃ القدر ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے) تا قول باری (لیلۃ القدر خیر من الف شھر قدر کی رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے) ایک قول کے مطابق شب قدر اس ہزار مہینے سے بہتر ہے جس میں شب قدر واقع نہ ہوئی ہو۔ وہ اس لئے کہ شب قدر میں اس قدر خیر اور بھلائی تقسیم ہوتی ہے کہ ایک ہزار مہینوں میں اتنی بھلائی تقسیم نہیں ہوتی۔ اس بنا پر شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اوقات واماکن کی ایک دوسرے پر فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ فضیلت والے اوقات اور مقامات میں بہت زیادہ خیروبرکت ہوتی ہے اور ان کا نفع بھی بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ قدر کی رات کب ہوتی ہے اس کے بارے میں حضور ﷺ سے مختلف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

1 ۔ نزول قرآن کی نعمت عظمی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور نزول قرآن کی نعمت عظمی کے ذکر کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور " ان " کے حرف تاکید کے ساتھ موکد کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ ہم ہی نے اتارا ہے اس قرآن کو قدرت والی رات میں۔ پس یہ عظیم الشان کتاب نہ تو کوئی انسانی تصنیف ہے اور نہ ہی اس کے وجود و ابراز میں اور کسی ہستی کا کوئی عمل دخل ہے، یہ خالص ہماری نازل کردہ کتاب ہدایت ہے اس لیے یہ سراسر حق وصدق نری خیر وبرکت عین ہدایت و نور اور دارین کی سعادت اور فوز و فلاح سے ہم کنار کرنے والا نسخہ کیمیا ہے، پس ہم نے اس کتاب حکیم کو اتار کر اپنے بندوں پر ایک عظیم الشان احسان کیا، اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

لیلۃ القدر ہزار راتوں سے بہتر ہے تشریح : سب سے پہلے تو '' اسے اتارا ''۔ تمام مفسرین نے سورة کی ضمیرکو قرآن کا مرجع ہی ظاہر کیا ہے۔ یعنی ہم نے قرآن کو شب قدر یعنی لیلۃ القدر میں نازل کیا۔ اب شب قدر کے بارے میں کیونکہ یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ کون سی رات ہے اور کس مہینے میں آتی ہے۔ بیشتر علماء اور مفسرین اور مستند محدثین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ یہ رات رمضان کے آخری عشرے میں آتی ہے اس کی دلیل یہ ہے '' رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ''۔۔ (سورۃ البقرہ 185) اسی طرح '' ہم نے اسے ایک برکت والی رات میں نازل کیا ''۔۔ (دخان :3) ان دونوں آیات سے ایک توہٗ کی ضمیر کا قرآن کی طرف ہونا اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–5

سورة القدر۔ آیات 1 تا 5۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے اس کلام یعنی قرآن مجید کو شب قدر میں نازل فرمایا کہ لوح محفوظ سے آسمان اول پر اتارا اور پھر مسلسل تئیس برس میں نازل ہوتا رہا یہ اس کی ابتدا لیلۃ القدر سے ہوئی اور پھر بتدریج نازل ہوتا رہا۔ حدیث شریف کے مطابق تمام آسمانی کتابیں رمضان المبارک میں نازل ہوئیں کہ اس ماہ مبارک کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ انسانوں میں فرشتوں جیسی صفات پیدا کردیتا ہے کھانے پینے سے رک جانا ، خطا سے بچنا اور نیکی میں زیادہ کوشش کرنا لہذا ساری کتابیں اسی مبارک مہینے میں نازل ہوئیں اور نزول قرآن شب قدر کو شروع ہوا جس کی فضیلت میں یہ بات بھی ہے کہ یہ ایک رات ہزار ماہ سے زیادہ کا درجہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ” اور پھر ضرورت کے مطابق پہلے آسمان سے رسول اللہ ﷺ پر تھوڑا تھوڑا کر کے اترنا شروع ہوا۔ “ دوسری آیت میں :” انا انزلناہ فی لیلۃ مبارکۃ ” ہم نے اس (قرآن) کو ایک مبارک رات میں اتارا ” دخان اس سے مراد یہی لیلتہ القدر ہے اور وہ رمضان کے آخری عشرہ کی کوئی طاق رات ہوتی ہے جیسا کہ متعدد صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ رمضان میں ہونے کی تصریح خود قرآن میں بھی ہے جیسا کہ فرمایا : شھر رمضان الذی نزل فیہ القرآن “ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا۔ “ (بقرہ : 185)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(97:1) انا انزلنا فی لیلۃ القدر : انا۔ ان حرف مشبہ بالفعل اور ضمیر متکلم نا سے مرکب ہے۔ بےشک۔ انزلنا : انزلنا ماضی جمع متکلم انزال (افعال) مصدر سے۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر جس کا مرجع القران ہے اگرچہ معہود اور معلوم ہونے کی وجہ سے اس سے قبل مذکور نہیں ہے (سورۃ کے نازل ہونے کے وقت قرآن کا عام چرچا تھا اور مکہ میں غلغلہ مچا ہوا تھا) فی متعلق بانزلنا ہے۔ لیلۃ القدر۔ مضاف مضاف الیہ ہے۔ مل کر اسم ظرف زمان (قدر کی روات کے دوران) یہ سارا جملہ انزلنہ فی الیلۃ القدر۔ خبر ہے مبتداء کی۔ تحقیق ہم نے اس کو (یعنی قرآن مجید کو) شب قدر میں اتارا۔ لیلۃ القدر کیا ہے۔ قدر مصدر ہے بمعنی قدرت ، قدر (دال کے سکون کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن۔ لیلۃ القدر۔ شب قدر۔ قدر کی رات۔ الف شھر۔ ایک ہزار مہینے۔ تنزل۔ اترتے ہیں۔ روح۔ حضرت جبرئیل۔ اذن۔ اجازت۔ سلام۔ سلامتی۔ مطلع الفجر۔ صبح کے طلوع ہونے (تک) تشریح : اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اس کو (قرآن کریم کو) قدر کی رات میں اتارا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا ہے کہ کیا آپ کو معلوم ہے یہ قدر کی رات کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جواب عنایت فرمایا کہ وہ رات ہے جو ہزار مہینوں کی راتوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اس میں اللہ کی طرف سے جبرئیل اور فرشتے ہر سلامتی کے فیصلے کو لے کر نازل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ طلوع فجر ہوجاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی سلامتی، عزت و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

شب قدر کے فضائل۔ (ف 1) شب قدر شرف و برکت والی رات ہے اس کو شب قدر اس لیے کہتے ہیں کہ اس شب میں سال بھر کے احکام نافذ کیے جاتے ہیں اور ملائکہ کو سال بھر کے وظائف وخدمات پر مامور کیا جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس رات کی شرافت وقدر کے باعث اس کو شب قدر کہتے ہیں اور یہ بھی منقول ہے کہ چونکہ اس شب میں اعمال صالحہ مقبول ہوتے ہیں اور بارگاہ الہی میں ان کی قدر کی جاتی ہے اس لیے اس کو شب قدر کہتے ہیں، احادیث میں اس شب کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے جس نے اس رات میں ایمان واخلاص کے ساتھ شب بیداری کرکے عبادت کی اللہ اس کے سال بھر کے گناہ بخش دیتا ہے ۔ ا آدمی کو چاہیے کہ شب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] شب قدر کے معنی ہیں بڑی عظمت اور شرف والی رات۔ [2] یعنی قرآن لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر شب قدر میں اتارا گیا اور شاید اسی شب میں آسمان دنیا سے رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونا شروع ہوا۔ پھر تیئس سال کی مدت میں واقعات اور حالات کے مطابق جبرائیل (علیہ السلام) اس کی آیات اور سورتیں محمد ﷺ کے پاس لے کر آتے رہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

سورة القدر جس طرح اماکن اور مقامات میں کچھ جگہیں زیادہ شرف اور فضیلت کی حامل ہوتی ہیں اور جس طرح اشخاص وافراد میں کچھ لوگ زیادہ مرتبہ اور درجہ کے مستحق ہوتے ہیں ۔ اسی طرح کچھ دن اور کچھ راتیں اپنے اندر نسبتاً برکات کا زیادہ سرمایہ رکھتی ہیں ۔ ایام رمضان سال بھر کے دنوں پر پر مسابقت اور ثواب اخروی کے اعتبار سے افضل ہیں اور اس کی راتیں تمام راتوں سے زیادہ پرنور اور بابرکت ہیں ۔ اور پھر جب کسی رمضان کی رات کو یہ شرف بھی حاصل ہوجائے کہ اس میں قرآن کا نزول ہوا ہے تو اس کی بزرگی اور عظمت کتنی بڑھ جائے گی ۔ اس کا اندازہ کچھ ارباب بصیرت ومعرفت ہی کرسکتے ہیں

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) بلاشبہ ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے - شب قدر کے متعلق کچھ باتیں سورة دخان کی ابتداء میں بھی عرض کی جاچکی ہیں شب قدر کو یا تو شب قدر اس لئے فرمایا کہ یہ رات تقدیری امور اور ان کے نفاذ کی رات ہے - یعنی سال بھر تک ہونے والے امور سے اجمالی طور پر فرشتوں کو آگاہ کرنے کی رات ہے یا قدر بمعنی شرف اور عظمت ہے قرآن شریف کے نزول کا مطلب یہ ہے کہ لیلۃ القدر میں یہ قرآن لوح محفوظ سے آسمان ودنیا پر نازل ہوا ہے اور وہاں سے وقتاً فوقتاً حسب ضرورت تھوڑا تھوڑا نبی کریم ﷺ پر نازل ہوتا رہا ہے اور تیئس سال کی مدت میں پورا قرآن وحی کے ذریعہ سے نازل ہوا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آسمان دنیا سے اسی رات میں کچھ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 6۔ یعنی ہزار مہینہ تک عبادت کرنے کا جس قدر ثواب ہے اس سے زیادہ شب قدر میں عبادت کرنے کا ثواب ہے کذا فی الخازن۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں اتارنا شروع کردیا 1 ؎ گزشتہ سورت میں بھی اس کی وضاحت کی جا چکی ہے اور پیچھے بھی بہت سے مقامات پر بیان کیا گیا ہے کہ ایک جزء کو بول کر کل مراد لیا جاتا ہے جیسے سجدہ سے مراد پوری نماز لی گئی ہے اور رکوع سے مراد بھی پوری نماز لی گئی ہے ۔ صرف پیشان کا ذکر کر کے پورا انسان مراد لیا گیا ہے ۔ ایک انسان کا ذکر کر کے انسانوں کی پوری جماعت مراد لی گئی ہے اسی طرح اس جگہ کل کا ذکر کر کے جزء مراد لیا گیا ہے اور یہ بھی کہ قرآن کریم جس طرح پورے قرآن کریم پر اس کا اطلاق ہوتا ہے اسی طرح اس کے کسی ایک جزء پر بھی ہوتا ہے یہاں تک کہ ایک آیت قرآن کریم کو بھی قرآن ہی کہا جائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

Occasion of Revelation Ibn Abi Hatim has reported from Mujhid (as mursal hadith) that the Messenger of Allah ﷺ was told about a mujahid [ warrior in the cause of religion ] from amongst the Children of Israel who carried weapons of war on his shoulders for a thousand months during which time he never laid down his arms. The Companions were amazed when they heard this. On that occasion, this Surah was revealed which describes that worship in the Night of Qadr granted to this Ummah exceeds by more than a thousand months of jihad persistently fought by that warrior. According to another…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

2 The commentators in general have understood this to mean that the good acts performed in this Night are superior in value to the good acts of a thousand months in which Lailat-ul-qadr is not included. There is no doubt that this is in itself correct and the Holy Prophet (upon whom be peace) has described great excellencies and virtues of the good acts and devotions of this Night. According to a tradition related in Bukhari and Muslim, on the authority of Hadrat Abu Hurairah, the Holy Prophet said: The one who remained standing in worship in the state of belief and for the sake of rewards…

Read the full tafseer →