97. Surah Al-Qadr

القدرThe Power, Fate · 5 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 97:1–3

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ Open ayah 97:1 in the Quran reader

بیشک ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ Open ayah 97:2 in the Quran reader

اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ شب قدر کیا ہے۔

لَیْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ Open ayah 97:3 in the Quran reader

شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے،

اوپر سورة القدر کا ترجمہ کیا گیا ہے جس میں قرآن مجید نازل فرمانے کا اور شب قدر کی برکات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اول تو یوں فرمایا کہ ﴿ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِۚۖ001﴾ (بیشک ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا) قرآن مجید تھوڑا تھوڑا کر کے تئیس سال میں نازل ہوا ہے پھر شب قدر میں نازل فرمانے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کے بارے میں حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ پورا قرآن مجید لوح محفوظ سے اتار کر آسمان دنیا یعنی قریب والے آسمان میں اتار دیا گیا، وہاں بیت العزت میں رکھ دیا گیا پھر جبرائیل (علیہ السلام) حسب الحکم تھوڑا تھوڑا کر کے رسول اللہ ﷺ کے پاس وحی کے طور پر لاتے رہے۔ سورة البقرہ میں فرمایا ہے ﴿ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ﴾ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم ماہ رمضان میں نازل ہوا، چونکہ شب قدر رمضان میں ہوتی ہے اس لیے اس میں کوئی تعارض نہیں۔ شب قدر کی فضیلت بتاتے ہوئے اول تو سوال کے پیرایہ میں اس کی اہمیت بتائی اور فرمایا ﴿ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِؕ002﴾ (اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ شب قدر کیا ہے ؟ ) اس کے بعد ارشاد فرمایا ﴿ لَيْلَةُ الْقَدْرِ 1ۙ۬ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ003﴾ (شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ہزار مہینے تک اعمال صالحہ میں مشغول رہے جن میں شب قدر نہ ہو اور کوئی شخص شب قدر میں مشغول عبادت رہے تو اس کا یہ عمل ہزار ماہ اعمال صالحہ میں لگے رہنے والے شخص سے افضل ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے خدمت میں بنی اسرائیل میں سے ایک شخص کا ذکر کیا گیا جو فی سبیل اللہ ہزار ماہ تک اپنے کندھے پر جہاد کے ہتھیار اٹھائے رہا، رسول اللہ ﷺ کو یہ بات پسند آئی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اے پروردگار آپ نے میری امت کو دوسری امتوں کے مقابلہ میں عمریں کم دی ہیں اور عمریں کم ہونے کی وجہ سے ان کے اعمال بھی کم ہیں (ان کے لیے بھی زیادہ ثواب کی کوئی سبیل ہونی چاہیے) اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ پر سورة ٴ قدر نازل فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ (معالم التنزیل صفحہ 513 ج 4) ہزار مہینوں کے 83 سال اور 4 مہینے ہوتے ہیں، پھر شب قدر کو ہزار مہینے کے برابر نہیں بتایا بلکہ ہزار مہینے سے بہتر بتایا کس قدر بہتر ہے اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔ مومن بندوں کے لیے شب قدر بہت خیر و برکت کی چیز ہے، ایک رات جاگ کر عبادت کرلیں اور ہزار مہینوں سے زیادہ عبادت کا ثواب پالیں اس سے بڑھ کر اور کیا چاہیے ؟ اسی لیے تو حدیث شریف میں فرمایا : ( من حرمھا فقد حرم الخیر کلہ ولا یحرم خیرھا الا کل محروم) (یعنی جو شخص شب قدر سے محروم ہوگیا گویا پوری بھلائی سے محروم ہوگیا اور شب قدر کی خیر سے وہی محروم ہوتا ہے جو کامل محروم ہو۔ (ابن ماجہ) مطلب یہ ہے کہ چند گھنٹے کی رات ہوتی ہے اور اس میں عبادت کرلینے سے ہزار مہینے سے زیادہ عبادت کرنے کا ثواب ملتا ہے چند گھنٹے بیدار رہ کر نفس کو سمجھا بجھا کر عبادت کرلینا کوئی ایسی قابل ذکر تکلیف نہیں جو برداشت سے باہر ہو، تکلیف ذرا سی اور ثواب بہت بڑا، اگر کوئی شخص ایک پیسہ تجارت میں لگا دے اور بیس کروڑ روپیہ کا نفع پائے اس کو کتنی خوشی ہوگی اور جس شخص کو اتنے بڑے نفع کا موقعہ ملا پھر اس نے توجہ نہ کی اس کے بارے میں یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ وہ پورا اور پکا محروم ہے۔ پہلی امتوں کی عمریں زیادہ ہوتی تھیں۔ اس امت کی عمر بہت سے بہت 70، 80 سال ہوتی ہے اللہ پاک نے یہ احسان فرمایا کہ ان کو شب قدر عطا فرما دی اور ایک شب قدر کی عبادت کا درجہ ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ کردیا، محنت کم ہوئی، وقت بھی کم لگا اور ثواب میں بڑی بڑی تکبر والی امتوں سے بڑھا دیا اس امت پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و انعام ہے۔ فللہ الحمد علی ما اعطی وانعم واکرم ام المومنین عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں شب قدر کو تلاش کرو (یعنی ان راتوں میں محنت کے ساتھ لگو، ان میں کوئی نہ کوئی رات شب قدر ہوگی) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 182) کیونکہ بعض روایات میں ستائیسویں شب کا خصوصی ذکر آیا ہے اس لیے اس میں شب بیداری کرنا یعنی نماز اور تلاوت اور ذکر میں لگے رہنے کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کی امید رکھتے ہوئے رمضان کے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور جس نے رمضان کی راتوں میں ایمان کے ساتھ اور ثواب سمجھتے ہوئے نمازوں میں قیام کیا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کی امید رکھتے ہوئے شب قدر میں قیام کیا یعنی نمازیں پڑھتا رہا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔ قیام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں کھڑا رہے اور اسی حکم میں یہ بھی ہے کہ تلاوت اور ذکر میں مشغول ہو اور ثواب کی امید رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ریاء وغیرہ کسی طرح کی خراب نیت سے عبادت میں مشغول نہ ہو بلکہ اخلاص کے ساتھ محض اللہ کی رضا اور ثواب کی نیت سے عبادت میں لگا رہے، علماء نے فرمایا کہ ثواب کا یقین کر کے بشاشت قلب سے کھڑا ہو بوجھ سمجھ کر بد دلی کے ساتھ عبادت میں نہ لگے، ثواب کا یقین اور اعتقاد جس قدر زیادہ ہوگا اتنا ہی عبادت میں مشقت کا برداشت کرنا سہل ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص قرب الٰہی میں جس قدر ترقی کرتا جاتا ہے عبادت میں اس کا انہماک زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوجانا ضروری ہے کہ حدیث بالا اور اس جیسی احادیث میں گناہوں کی معافی کا ذکر ہے، علماء کا اجماع ہے کہ کبیرہ گناہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے پس جہاں احادیث میں گناہوں کے معاف ہونے کا ذکر آتا ہے وہاں صغیرہ گناہ مراد ہوتے ہیں اور صغیرہ گناہ ہی انسان سے بہت زیادہ سرزد ہوتے ہیں، عبادت کا ثواب ملے اور ہزاروں گناہوں کی معافی بھی ہوجائے كس قدر نفع عظیم ہے۔ سیّدہ عائشہ ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اگر مجھے پتہ چل جائے کہ کون سی رات شب قدر ہے تو میں اس میں کون سی دعا مانگوں ؟ آپ نے فرمایا یوں دعا مانگنا : (اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی) (اے اللہ اس میں شک نہیں کہ آپ معاف کرنے والے ہیں، معاف کرنے کو پسند فرماتے ہیں، لہٰذا مجھے معاف فرما دیجئے) ۔ دیکھیے کیسی دعا ارشاد فرمائی، نہ زر مانگنے کو بتایا نہ زمین، نہ دھن نہ دولت، کیا مانگا ؟ معافی۔ بات اصل یہ ہے کہ آخرت کا معاملہ سب سے زیادہ کٹھن ہے وہاں اللہ کے معاف فرمانے سے کام چلے گا، اگر معافی نہ ہوئی اور خدانخواستہ عذاب میں گرفتار ہوئے تو دنیا کی ہر نعمت اور دولت و ثروت بیکار ہوگی، اصل شے معافی اور مغفرت ہی ہے۔ لڑائی جھگڑے کا اثر : حضرت عبادہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک دن اس لیے باہر تشریف لائے کہ ہمیں شب قدر کی اطلاع فرما دیں، مگر دو مسلمانوں میں جھگڑا ہو رہا تھا، آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں اس لیے آیا کہ تمہیں شب قدر کی اطلاع دوں مگر فلاں فلاں شخصوں میں جھگڑا ہو رہا تھا جس کی وجہ سے اس کی تعیین میرے ذہن سے اٹھا لی گئی، کیا بعید ہے کہ یہ اٹھا لینا اللہ کے علم میں بہتر ہو۔ (رواہ البخاری) اس مبارک حدیث سے معلوم ہوا کہ آپس کا جھگڑا اس قدر برا عمل ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ پاک نے نبی اکرم ﷺ کے قلب مبارک سے شب قدر کی تعیین اٹھا لی یعنی کس رات کو شب قدر ہے مخصوص کر کے اس کا علم جو دے دیا گیا تھا وہ قلب سے اٹھا لیا گیا۔ اگرچہ بعض وجوہ سے اس میں بھی امت کا فائدہ ہوگیا، جیسا کہ انشاء اللہ تعالیٰ ہم ابھی ذکر کریں گے، لیکن سبب آپس میں جھگڑا بن گیا جس سے آپس میں جھگڑے کی مذمت کا پتہ چلا۔ شب قدر کی تعیین نہ کرنے میں مصالح : علماء کرام نے شب قدر کو پوشیدہ رکھنے یعنی مقرر کر کے یوں نہ بتانے کے بارے میں کہ فلاں رات کو شب قدر ہے چند مصلحتیں بتائی ہیں۔ اول : یہ کہ اگر تعیین باقی رہتی تو بہت سے کوتاہ طبائع دوسری راتوں کا اہتمام بالکل ترک کردیتے اور موجودہ صورت میں اس احتمال پر شاید آج ہی شب قدر ہوں، متعدد راتوں میں عبادت کی توفیق نصیب ہوجاتی ہے۔ دوسری : یہ کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو معاصی یعنی گناہ کیے بغیر نہیں رہتے۔ تعیین کی صورت میں اگر باوجود معلوم ہونے کے معصیت کی جرات کی جاتی تو یہ بات سخت اندیشہ ناک تھی۔ تیسری : یہ کہ تعیین کی صورت میں اگر کسی شخص سے وہ رات چھوٹ جاتی تو آئندہ راتوں میں افسردگی کی وجہ سے پھر کسی رات کا جاگنا بشاشت کے ساتھ نصیب نہ ہوتا، اور بشاشت کے ساتھ رمضان کی چند راتوں کی عبادت شب قدر کی تلاش میں نصیب ہوجاتی ہے۔ چوتھی : یہ کہ رمضان کی عبادت میں حق تعالیٰ جل شانہ ملائكہ پر تفاخر فرماتے ہیں اس صورت میں تفاخر کا موقع زیادہ ہے کہ باوجود معلوم نہ ہونے کے محض احتمال پر رات رات بھر جاگتے ہیں اور عبادت میں مشغول رہتے ہیں اور ان کے علاوہ اور بھی مصالح ہوسکتی ہیں۔ جھگڑے کی وجہ سے اس خاص رمضان المبارک میں تعیین بھلا دی گئی اور اس کے بعد مصالح مذکورہ یا دیگر مصالح کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے تعیین چھوڑ دی گئی۔ اس میں بھی امت کے لیے خیر ہی ہے۔
Ayah 97:4

تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ Open ayah 97:4 in the Quran reader

اس میں فرشتے اور روح القدس اپنے رب کے حکم سے ہر امر کو لے کر اترتے ہیں،

﴿ تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ 1ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ004﴾ (اس رات میں فرشتے اور روح القدس اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر کو لے کر اترتے ہیں) الملائكہ کے ساتھ الروح بھی فرمایا جس سے جمہور علماء کے نزدیک حضرت جبرائیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ اسی لیے ترجمہ میں لفظ القدس اختیار کیا گیا ہے۔ بعض حضرات نے روح کا ترجمہ رحمت بھی کیا ہے۔ من کل امر کی تفسیر کے بارے میں روح المعانی میں چند اقوال لکھے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ فرشتے اللہ کی طرف سے ہر طرح کی خیر و برکت لے کر نازل ہوتے ہیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب لیلۃ القدر ہوتی ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) فرشتوں کی ایک جماعت میں نازل ہوتے ہیں اور ہر وہ بندہ جو کھڑے ہوئے یا بیٹھے ہوئے اللہ کا ذکر کر رہا ہو ان سب پر رحمت بھیجتے ہیں پھر جب عید الفطر کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے سامنے بطور فخر ان بندوں کو پیش فرماتے ہیں کہ اے میرے فرشتو ! اس مزدور کی کیا جزاء ہے جس نے اپنا عمل پور اکر دیا ہو، فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب اس کی جزاء یہ ہے کہ اس کا اجر پورا دے دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوتا ہے کہ اے میرے فرشتو ! میرے بندوں اور میری بندیوں نے میرا فریضہ پورا کردیا جو ان پر لازم تھا اور اب گڑگڑانے کے لیے نکلے ہیں، قسم ہے میری عزت و جلال و کرم کی اور میرے علوو ارتفاع کی کہ میں ضرور ان کی دعا قبول کروں گا۔ پھر بندوں کو ارشاد ہوتا ہے کہ میں نے تم کو بخش دیا اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا لہٰذا اس کے بعد (عید گاہ سے) بخشے بخشائے واپس ہوتے ہیں۔ (بیہقی شعب الایمان)
Ayah 97:5

سَلٰمٌ١ۛ۫ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠ Open ayah 97:5 in the Quran reader

وہ سراپا سلامتی ہے وہ فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔

سَلٰمٌ یہ رات سراپا سلامتی ہے پوری رات فرشتے ان لوگوں پر سلام بھیجتے رہتے ہیں جو اللہ کے ذکر و عبادت میں لگے رہتے ہیں اور بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا کہ شب قدر پوری کی پوری سلامتی اور خیر والی ہے اس میں شر نام کو نہیں ہے اس میں شیطان کسی کو برائی پر ڈال دے یا کسی کو تکلیف پہنچا دے اس کی طاقت سے باہر ہے۔ (ذكرہ فی معالم التنزیل) ﴿هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (رح) 005﴾ (یہ رات فجر طلوع ہونے تک رہتی ہے) اس میں یہ بتادیا کہ لیلۃ القدر رات کے کسی حصے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے شروع حصے سے لے کر صبح صادق ہونے تک برابر شب قدر اپنی خیرات اور برکات کے ساتھ باقی رہتی ہے۔ فائدہ : وجہ تسمیہ لیلۃ القدر اس نام سے کیوں موسوم کی گئی ؟ اس کے بارے میں بعض حضرات نے تو یہ فرمایا ہے کہ چونکہ اس رات میں عبادت گزاروں کا شرف بڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کے اعمال کی قدردانی بہت زیادہ ہوجاتی ہے اس لیے شب قدر کہا گیا۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ چونکہ اس رات میں تمام مخلوقات کا نوشتہ آئندہ سال کے اسی رات کے آنے تک ان فرشتوں کے حوالے کردیا جاتا ہے جو کائنات کی تدبیر اور تنفیذ امور کے لیے مامور ہیں اس لیے اس کو لیلۃ القدر کے نام سے موسوم کیا گیا اس میں ہر انسان کی عمر اور مال اور رزق اور بارش وغیرہ کی مقادیر مقررہ فرشتوں کے حوالہ کردی جاتی ہیں۔ محققین کے نزدیک چونکہ سورة دُخان کی آیت ﴿فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍۙ004﴾ کا مصداق شب قدر ہی ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ شب قدر میں آئندہ سال پیش ہونے والے امور کا فیصلہ کردیا جاتا ہے یعنی لوح محفوظ سے نقل کر کے فرشتوں کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ شعبان کی پندرھویں شب جسے لیلۃ البرات کہا جاتا ہے کہ اس کی جو فضیلتیں وارد ہوئی ہیں جن کی اسانید ضعیف ہیں ان میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ شعبان کی پندرھویں رات کو لکھ دیا جاتا ہے کہ اس سال میں کونسا بچہ پیدا ہوگا اور کس آدمی کی موت ہوگی اور اس رات میں بنی آدم کے اعمال اٹھائے جاتے ہیں اسی میں ان کے رزق نازل ہوتے ہیں۔ مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 115 میں یہ حدیث کتاب الدعوات للامام البیہقی سے نقل کی ہے جسے محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے اور بعض حضرات نے شب قدر اور شب برات کے فیصلوں کے بارے میں یہ توجیہ کی ہے کہ ممکن ہے کہ واقعات شب برات میں لکھ دیئے جاتے ہوں اور شب قدر میں فرشتوں کے حوالے کردیئے جاتے ہوں۔ صاحب بیان القرآن نے سورة ٴ دخان کی تفسیر میں یہ قول نقل کیا ہے اور لکھا ہے کہ احتمال کے لیے ثبوت کی حاجت نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ فائدہ : چونکہ شب قدر رات میں ہوتی ہے اس لیے اختلاف مطالع کے اعتبار سے مختلف ملکوں اور شہروں میں شب قدر مختلف اوقات میں ہو تو اس سے کوئی اشکال لازم نہیں آتا کیونکہ بمشیت الٰہی ہر جگہ کے اعتبار سے جو رات شب قدر ہوگی وہاں اس رات کی برکات حاصل ہوں گی۔ فائدہ : جس قدر ممکن ہو سکے شب قدر کو عبادت میں گزارے، کچھ بھی نہیں تو کم از کم مغرب اور عشاء فجر کی نماز تو جماعت سے پڑھ ہی لے اس کا بھی بہت زیادہ ثواب ملے گا، انشاء اللہ تعالیٰ ۔ حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے فجر کی نماز جماعت سے پڑھ لی گویا اس نے آدھی رات نماز میں قیام کیا اور جس نے عشاء کی نماز باجماعت پڑھ لی گویا اس نے پوری رات نماز پڑھ لی۔ (رواہ مسلم صفحہ 232: ج 1) وھذا آخر تفسیر سورة القدر والحمد للہ الذی اکرم ھذہ الامة بھا وانعم علیھا والصلٰوة والسلام علی سید الرسل الذی انزلت علیہ وجاء بھا وعلی الہ وصحبہ ومن تلاھا عمل بھا