Ayahs 97:1–5لغات القرآن۔
لیلۃ القدر۔ شب قدر۔ قدر کی رات۔ الف شھر۔ ایک ہزار مہینے۔ تنزل۔ اترتے ہیں۔ روح۔ حضرت جبرئیل۔ اذن۔ اجازت۔ سلام۔ سلامتی۔ مطلع الفجر۔ صبح کے طلوع ہونے (تک)
تشریح :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اس کو (قرآن کریم کو) قدر کی رات میں اتارا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا ہے کہ کیا آپ کو معلوم ہے یہ قدر کی رات کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جواب عنایت فرمایا کہ وہ رات ہے جو ہزار مہینوں کی راتوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اس میں اللہ کی طرف سے جبرئیل اور فرشتے ہر سلامتی کے فیصلے کو لے کر نازل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ طلوع فجر ہوجاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی سلامتی، عزت و عظمت حاصل کرنے کے لئے قرآن کریم کو ایک ایسی رات میں نازل کیا ہے جو ایک ہزار مہینوں کی راتوں سے زیادہ افضل و بہتر ہے۔ اس رات اللہ کے مخصوس فرشتے اور جبرئیل امین زمین پر آتے ہیں اور اللہ کے حکم پر سلامتی اور خیر کے فیصلوں کو دنیا والوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں جس سے پوری زمین پر ایک خاص روحانی فضا طاری ہوجاتی ہے اور یہ سللسہ پوری رات جاری رہتا ہے یہاں تک کہ طلوع فجر ہوجاتی ہے۔
نزول قرآن۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ہی اس قرا ان کریم کو نازل کیا ہے۔ یہ ہمارا کلام ہے کوئی انسانی کلام نہیں ہے۔ مراد یہ ہے کہ جب یہ ہمارا کلام ہے تو ہم خود ہی اس کی حفاظت کریں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر تاریخ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو اللہ نے ہر دو ر میں اس کی خود ہی حفاظت کی ہے وہ اس کی حفاظت میں کسی کا محتاج نہیں ہے۔ آج یہ دنیا کی واحد کتاب ہے جو لاکھوں کروڑوں سینوں میں اس طرح محفوظ ہے کہ اس کے زبر زیر میں بھی فرق نہیں آسکتا۔ اس کی حفاظت خود ایک معجزے سے کم نہیں ہے۔
شب قدر۔ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے۔ اللہ نے اس کو ایک ایسی عظیم رات میں نازل کیا ہے جو ایک ہزار مہینے کی راتوں سے بھی زیادہ افضل و بہتر ہے۔ یہ وہ عظیم رات ہے جس میں کلام الٰہی پر عمل کرنے والے بندے بھی عظمتوں کے پیکر بن جات ہیں۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ جس آدمی کی اس سے پہلے کوئی قدرو قیمت نہ تھی اس رات وہ توبہ ، استغفار اور عبادت کے ذریعہ صاحب قدرو منزلت بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اسی رات میں رسول اللہ ﷺ پر سورة علق کی پانچ آیتیں نازل کرکے نزول قرآن کا سلسلہ شروع فرمایا تاکہ سیدھے راستے سے بھٹکی ہوئی انسانیت کو صراط مستقیم پر چلایا جاسکے۔ پور ا قرآن کریم لوح محفوط میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شب قدر میں اس پورے قرآن کریم کو لوح محفوط سے آسمان دنیا پر اتارا۔ پھر حضرت جبرئیل تھوڑ اتھوڑا کلام لے کر آتے رہے جس کا سلسلہ تقریبا ً تئیس (23) سال میں تکمیل تک پہنچا۔ قرآن کریم سے پہلے جتنے صحیفے اور کتابیں نازل کی گئیں وہ بھی رمضان میں نازل ہوئیں۔ حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صحف ابراہیم تین رمضان کو، توریت چھٹے رمجان کو، انجیل تیرھویں رمضنا کو اور زبور رمجنا کی اٹھارویں تاریخ کو نازل کی گئیں۔ یہ ساری کتابیں چند دنوں میں نازل کی گئیں کیونکہ قدرت نے ان کو ایک مخصوس زمانے تک کے لئے نازل کیا تھا۔ چونکہ قرآن کریم آخری کتاب ہے جس کو قیامت تک محفوط رکھنا تھا اس لئے اس کو چند دنوں میں نہیں بلکہ تئیس سال میں تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا گیا تاکہ ہر شخص قرآن کری کو یاد کرلے اور اپنے سینے میں محفوط کرلے چناچہ نزول قرآن کے دوران ہی سیکڑوں حافظان قرآن پیدا ہوچکے تھے اور آج تک حفظ قرآن کا سلسلہ جاری ہے اور انشاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شب قدر میں قرآن کریم کو نازل کیا وہ شب قدر جو ایک ہزار مہینوں کی راتوں سے زیادہ بہتر ہے۔
یہ وہ رات ہے جس میں جبرئیل اور سدرۃ النمنتھی کے وہ خاص فرشتے جو کبھی دنیا میں نہیں آئے وہ بھی اس رات دنیا میں آتے ہیں۔ اس رات اللہ کے یہ فرشتے اتنی کثرت سے آتے ہیں کہ پوری زمین خیر و برکت اور روحانی فضاؤں سے بھر جاتی ہے جو لوگ اس رات اپنے اندر روحانیت بیدار کرنے کے لئے اللہ کی عبادت و بندگی کرتے ہیں رکوع، سجدوں اور تلاوت کے ذریعہ اللہ سے مانگتے ہیں ان میں غیر معمولی روحانی کیفیات پیدا ہوجاتی ہیں۔ دنیا اور آکرت مانگنے والوں کے دامن مراد کو بھر دیا جاتا ہے۔ ان کے وہ تمام اعمال جو عام زندگی میں ثواب کا درجہ رکھتے ہیں اس رات کو عبادت سے وہ ایک خاص سکون حاصل کرکے عظیم اجرو ثواب کے مستحق بن جاتے ہیں۔ یہ خیر و برکت حاصل کرنے کی رات ہے جو اس رات بھی خیر و برکت حاصل کرنے سے محروم رہا وہ ہر خیر سے محروم رہے گا۔
احادیث میں اس رات کی بہت فضیلتیں آئیں ہیں چند احادیث پیش خدمت ہیں۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص شب قدر میں عبادت کے لئے کھڑا رہا اس کے پچھلے گناہ معاف کر ئیے جاتے ہیں۔ (بخاری و مسلم) ۔
حضرت عبد اللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” شب قدر میں وہ تمام فرشتے جن کا مقام سدرۃ المنتھی ہے وہ حضرت جبرئیل کے ساتھ دنیا پر اترتے ہیں جو مومن مرد اور مومن عورت اس رات عبادت میں مشغول ہوتے ہیں وہ ان سے مصافحہ کرتے گزرتے ہیں۔ البتہ شراب پینے والا، خنزیر کھانے والا اس سعادت سے محروم رہتا ہے۔ اسی طرح دوسری احادیث میں غیر اللہ کی عبادت کرنے وال یعنی کافر و مشرک، نشہ باز اور والدین کا نافرمان بھ اس رات کی خیرو برکت سے محروم رہتا ہے۔
ایک حدیث میں فرمایا گیا کہ شب قدر میں جبرئیل فرشتوں کی جماعت کے ساتھ آتے ہیں جو شخص بھی قیامت و قعود اور عبادت میں مشغول ہوتا ہے تو وہ اس کے لئے رحمت و سلامتی کی دعائیں کرتے ہیں۔
شب قدر وہ رات ہے جس میں توبہ قبول کی جاتی ہے۔ آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہ ن اور ہر عبادب گزار کو اللہ کے یہ فرشتے سلام کرتے ہیں۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قدر کی اس رات کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (بخاری و مسلم)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شب قدر کی خیرو برکت سے محروم رہا وہ ہر خیر سے محروم رہا۔ چونکہ رمضان کا آخری عشرہ خیر و برکت کا عشرہ ہے اور اسی میں شب قدر بھی رکھ دی گء ہے جو ایک ہزا رمہینوں کی راتوں سے زیادہ افضل و بہتر ہے تو اس آخری عشرے میں مسجدوں میں اعتکاف کرن والے کو شب قدر کی یہ فضیلت حاصل ہونے کی زیادہ امید ہے۔ تمام روایت سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپن دنیاوی زندگی میں رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا ہے اور اسی پر آپ قائم رہے یہاں تک کہ آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے۔
رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا سنت بھی ہے اور بہت بڑی سعادت بھی شریعت نے خواتین کو بھی اعتکاف کی اجازت دی ہے۔ فرق یہ ہے کہ مرد صرف مسجد ین اعتکاف کرسکتے ہیں اپنے گھر پر نہیں اور خواتین صرف گھر پر اعتکاف کرسکتی ہیں ان کو مسجد میں اعتکاف کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔
جب شب قدر آئے بہتر تو یہی ہے کہ اس رات کی سعادت حاصل کرنے کے لئے اللہ کا ذکر تلاوت کلام اللہ یا دوسرے ایسے شغل میں مصروف رہے جو دین اسلام نے اس کو سکھائے ہیں لیکن اگر کوئی شخص تھکا ماندہ ہو اور اس میں پوری رات عبات کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ عشا اور فجر کی نمازیں جماعت سے ادا کرلے انشاء اللہ اس کو پوری رت عبا دت کرنے کا ثواب مل جائے گا۔ چناچہ حضرت عثمان غنی ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی تو اس کو آدھی رات کا اور جس نے فجر کی نماز جماعت سے ادا کی اس کو بقیہ رات کا اجرو ثواب عطا کیا جائے گا۔ (مسلم) یعنی پوری رات عبادت کرنے کا ثواب ملے گا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص شب قدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ ( یعنی اپنی زندگی کے اعمال کا جائزہ لے کر) اللہ کی عبادت میں کھڑا رہا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے (بخاری و مسلم)
حضرت عبادہ ابن صامت ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کی آخری دس راتوں میں جو شخص اجرو ثواب کی نیت حاصل کرنے کی غرض سے کھڑا رہا اللہ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردے گا۔ (مسند احمد) الحمد اللہ سورة القدر کر ترجمہ و تشریح تکمیل تک پہنچی۔