Al-Qadr 97:2

Al-Qadr · from ayah 2

97:2

وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِ ۟ؕوَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِؕ

اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And what can make you know what is the Night of Decree?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 22 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qadr

All translations of 97:2

اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا چیز ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم نے کیا جانا کیا شبِ قدر،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ قدر کی رات کیا ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ شب قدر ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کو خبر ہے کہ شب قدر ہے کہا ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم کیا جانتے ہو کہ لیلۃ القدر کیا ہے !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

And what do you know what the Night of Power is?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And what may let you know what the Night of Qadr is?

— Muhammad Taqi Usmani

And what may let you know what the Night of Qadr is?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And what will make you know what the Night of Al-Qadr is

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Ah, what will convey unto thee what the Night of Power is!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And what can make you know what is the Night of Decree?

— Saheeh International

Would that you knew what the Night of Destiny is!

— Muhammad Sarwar

And what will make you comprehend what the grand night

— Muhammad Habib Shakir

And what shall make thee know that which the night of Power is?

— Abdul Majid Daryabadi

And what will explain to thee what the night of power is?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 97:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

غیر متعلقہ روایات اور بحث : مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے اسی کا نام لیلۃ المبارکہ بھی ہے اور جگہ ارشاد ہے انا انزلنٰہ فی لیلۃ مبارکتہ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے جیسے فرمایا شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ابن عباس وغیرہ کا قول ہے کہ پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول اللہ صلی اللہ پر نازل ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلیٰ نعمت اسی رات…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–2

سورة القدر 1 اصل الفاظ ہیں اَنْزَلْنٰهُ " ہم نے اس کو نازل کیا ہے " لیکن بغیر اس کے کہ پہلے قرآن کا کوئی ذکر ہو، اشارہ قرآن ہی کی طرف ہے، اس لیے کہ " نازل کرنا " خود بخود اس پر دلالت کرتا ہے کہ مراد قرآن ہے۔ اور قرآن مجید میں اس امر کی بکثرت مثالیں موجود ہیں کہ اگر سیاق کلام یا انداز بیان سے ضمیر کا مرجع خود ظاہر ہورہا ہو تو ضمیر ایسی حالت میں بھی استعمال کرلی جاتی ہے جب کہ اس کے مرجع کا ذکر پہلے یا بعد میں کہیں نہ کیا گیا ہو (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، النجم، حاشیہ 9) یہاں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے، اور سورة بقرہ میں ارشاد ہوا ہے شَهْرُ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

خلاصہ تفسیر بیشک ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا ہے (تحقیق شب قدر میں نازل ہونے کی سورة دخان میں گزری ہے) اور زیادت تشویف کے لئے فرماتے ہیں کہ۔) آپ کو کچھ معلوم ہے کہ شب قدر کیسی چیز ہے (آگے جواب ہے کہ) شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے (یعنی ہزار مہینہ تک عبادت کرنے کا جس قدر ثواب ہے اس سے زیادہ شب قدر میں عبادت کرنے کا ثواب ہے، کذا فی الخازن اور وہ رات ایسی ہے کہ) اس رات میں فرشتے اور روح القدس (یعنی جبرائیل علیہ السلام) اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر (زمین کی طرف) اترتے ہیں (اور وہ شب) سراپا سلام ہے (جیسا حدیث بیہقی میں حضرت انس سے مرفوعاً مروی ہے کہ شب قدر میں حضرت جبرئیل ؑ فرشتوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

شب قدر کی عظمت: یہ شب قدر کی عظمت و برکت واضح فرمائی ہے کہ وہ ایسی باعظمت و بابرکت رات ہے کہ اس کی عظمتوں اور برکتوں کا کما حقہٗ اندازہ نہیں کرایا جا سکتا۔ اس کی یہ عظمت و برکت اس وجہ سے ہے کہ اس میں اس کائنات سے متعلق بڑے بڑے فیصلے ہوتے ہیں۔ جب اس دنیا کی چھوٹی چھوٹی حکومتوں کے وہ دن بڑی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں جن میں وہ اپنے سال بھر کے منصوبے طے کرتی ہیں تو اس رات کی اہمیت کا اندازہ کون کر سکتا ہے جس میں پوری کائنات کے لیے خدائی پروگرام طے ہوتا اور سارے جہان کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ فیصلے رحمت اور عذاب، نصب اور عزل، فتح اور شکست دونوں طرح کے امور سے متعلق ہوتے ہیں لیکن چونکہ یہ اس کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 اس استفہام سے اس رات کی عظمت و اہمیت واضح ہے، گویا کہ مخلوق اس کی تہ تک پوری طرح نہیں پہنچ سکتی، یہ صرف ایک اللہ ہی ہے جو اس کو جانتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–2

1: اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ پورا قرآن لوح محفوظ سے اس رات میں اتارا گیا، پھر حضرت جبرئیل ؑ اسے تھوڑا تھوڑا کرکے تئیس سال تک آنحضرت ﷺ پر نازل کرتے رہے، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ پر قرآن کریم کا نزول سب سے پہلے شب قدر میں شروع ہوا، شب قدر رمضان کی آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی رات میں ہوتی ہے، یعنی اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں، یا انتیسویں رات میں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 2–3

وما ادرک .................... القدر (2:97) ” اور تم کیا جانو لیلتہ القدر کیا ہے “۔ یہ اس قدر عظیم ہے کہ انسانی فہم وادراک کی حدود سے ماوراء ہے۔ بس یہی ہے اس کا مفہوم اور اس سلسلے میں عامتہ الناس میں جو اوہام و خرافات مشہور ہیں۔ ان کے تذکرے کی یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بس یہ ایک نہایت ہی عظیم رات ہے ، اور اس عظمت اس وجہ سے ہے کہ اس کو اللہ نے ایک عظیم کام کے لئے منتخب کیا ہے یعنی نزول قرآن کریم کے لئے اور اس لئے کہ اللہ نے اس رات کو اپنے نور سے پوری کائنات کو بھردیا۔ اور اس رات کو اللہ نے انسانیت کو وہ چیز عطا کی تھی جس کی اسے بےحد ضرورت تھی۔ انسانی روح اور انسانی زندگی کو اس رات یہ عطیہ ملا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 2–3

8 یعنی اس رات میں نیکی کرنا ایسا ہے گویا ہزار مہینے تک نیکی کرتا رہا۔ بلکہ اس سے بھی زائد۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 1{ اِنَّــآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَـیْلَۃِ الْقَدْرِ۔ } ”یقینا ہم نے اتارا ہے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں۔“ ”اَنْزَلْنٰـہُ“ کی ضمیر مفعولی کا مرجع بالاتفاق قرآن مجید ہی ہے۔ نوٹ کیجیے ! ان سورتوں کے مضامین کے اندر ایک ربط پایا جاتا ہے ‘ یعنی پہلی وحی سورۃ العلق کے فوراً بعد بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے اس کلام کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے۔ قدر کا معنی تقدیر اور قسمت بھی ہے اور عزت و منزلت بھی۔ یہاں دونوں معنی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ یعنی ہم نے اس قرآن کو اس رات میں اتارا ہے جو قدر و منزلت کے اعتبار سے بےمثل رات ہے ‘ یا اس رات میں اتارا ہے جو تقدیر ساز ہے۔ سورة الدخان میں اس رات کا ذکر لَیْلَۃ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 1–2

1 لیلۃ القدر اور شب قدر یا لیلہ مبارکہ ایک ہی رات کے نام ہیں :۔ اس سورت میں قرآن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اسے لیلۃ القدر میں نازل کیا۔ اور سورة الدخان کی آیت نمبر 3 میں فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کو لیلۃ مبارکہ میں نازل کیا جس سے معلوم ہوا کہ لیلۃ القدر اور لیلۃ مبارکہ ایک ہی رات کی دو صفات یا دو نام ہیں۔ یہ الگ الگ راتیں نہیں ہیں اور لیلۃ القدر ہی کا ترجمہ فارسی میں شب قدر یا شب برات ہے۔ گویا شب قدر یا شب برات، لیلۃ القدر سے علیحدہ کوئی رات نہیں۔ جیسا کہ ہمارے یہاں 15 شعبان کو شب برات سمجھی بلکہ آتش بازی سے منائی جاتی ہے اور اس نظریہ کا ماخذ چند انتہائی ضعیف روایات ہیں۔ پھر قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ یعنی کیسی بزرگیوں اور فضیلتوں والی رات ہے۔ سوال خطبات عرب کے خصوصا قرآن مجید کے اسلوب بلاغت کے مطابق زیادت تشویق کے لئے ہے۔ اور خود اس دوسرے جملہ میں لیلۃ القدر کو دہرانا محض اس کی اہمیت و عظمت خصوصی کے اظہار کے لئے ہے، وفی اظہار لیلۃ القدر فی الموضعین من تاکید التعظیم والتفخیم مالا یخفی (روح) (آیت) ’ لیلۃ القدر “۔ قدر سے اس سیاق میں کیا مراد ہے ؟ بعض نے کہا ہے کہ یہ وہ رات ہے جس میں قضاوقدر کے امور طے ہوتے ہیں۔ اے لیلۃ قیضھا لامور مخصوصۃ (راغب) وتسمی تھا بذلک لشرفھا اولتقدیر الامور فیھا (بیضاوی) نقل عن الزھری انہ قال لیلۃ القدر لیلۃ العظمۃ والشرف (کبیر) اور بعض نے کہا ہے کہ قدر سے یہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–3

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، یقیناً ہم نے اس کو یعنی قرآن کو شب قدر یعنی شرف اور عظمت والی رات میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف یکبارگی نازل فرمایا اور اے محمد ﷺ ! آپ ﷺ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟ (یہ استفہام) لیلۃ القدر کی عظمت اور اس سے تعجب کے اظہار کا بیان ہے، شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جن میں شب قدر نہ ہ، یعنی شب قدر میں عمل صالح ہزار مہینوں میں عمل سیبہتر ہے جن میں شب قدر نہ ہو، اس رات میں (عام) فرشتے اور جبرئیل (رح) تعالیٰ اترتے ہیں (تنزل) کی اصل (تتنزل) ہے ایک تاء کے حذف کے ساتھ ہے اپنے رب کے حکم سے ہر کام کو سرانجام دنیے کے لئے جس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ادراک ما لیلۃ القدر . مَا دونوں جگہ استفہام انکاری کے لیے ہے اور دونوں جگہ لیلۃ القدر کی عظمت کا اظہار اور تعجب مقصود ہے یعنی کسی چیز نے تم کو شب قدر کی عظمت اور فضیلت نہیں بتائی ‘ اس کی فضیلت رسائیِ عقل سے بھی زیادہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(1۔ 2) ہم نے بذریعہ جبریل پورے قرآن حکیم کو ایک مرتبہ فرشتوں کے دستہ کے ساتھ آسمان دنیا پر حکم و قضاء والی رات میں یا یہ کہ رحمت و برکت اور مغفرت والی رات میں اتارا ہے۔ پھر اس کے بعد قرآن حکیم رسول اکرم ﷺ پر تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا۔ شان نزول : اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ الخ امام ترمذی حاکم اور ابن جریر نے حسن بن علی سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے بنی امیہ کو اپنے منبر پر دیکھا تو آپ کو برا معلوم ہوا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ انا اعطیناک الکوثر اور انا انزلنہ فی لیلۃ القدر وما ادرٰک ما لیلۃ القدر لیلۃ القدر خیر من الف شہر۔ آپ کے بعد اس چیز کے بنو امیہ مالک…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وما ادرک ما لیلۃ القدر : یہ سوال اس رات کی عظمت کے بیان کے لئے ہے، یعنی مخلوق میں سے کوئی ایسا ہے ہی نہیں جو اس رات کی عظمت جان سکے اور بتاسکے ، یہ جاننا اور بتانا اللہ ہی کا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 2–3

وما ادراک ما لیلۃ القدر۔۔ تا۔۔۔ الف شھر۔ فراء نے کہا : قرآن حکیم میں جہاں بھی وما ادراک کے الفاظ ہیں، اس کے بارے میں آپ کو آگاہ کردیا گیا ہے اور جہاں کہیں بھی ومایدریک کے الفاظ ہیں اس کے بارے میں آپ کو آگاہ نہیں کیا گیا ہے یہی سفیان کا قول ہے، یہ بحث پہلے گزرچکی ہے۔ لیلۃ القدر کی فضیلت کو بیان یا ہے زمانہ کی فضیلت ان فضائل کی کثرت کی وجہ سے ہوتی ہے جو اس میں واقع ہوتے ہیں اس رات میں اس خیر کثیر کی تقسیم کی جاتی ہے جس کی مثل ہزار مہینوں میں بھی نہیں پائی جاتی۔ واللہ اعلم۔ اکثر مفسرین نے کہا : اس ایک رات میں عمل ان ہزار مہینوں کے اعمال سے بہتر ہے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو۔ ابوالعالیہ نے کہا، لیلۃ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–5

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة انا انزلنہ فی لیلۃ القدر مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن عباس اور عائشہ ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ ابن الضریس وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر بیشک ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں اتارا۔ یعنی شب قدر میں پورا قرآن کریم ایک ہی بار اس ذکر سے نازل کیا گیا جو رب العزت کے پاس اور اسے آسمان دنیا میں بیت العزۃ میں رکھ دیا گیا پھر جبریل (علیہ السلام) اسے لے کر محمد صلی اللہ پر غار حرا میں نازل ہونا شروع ہوئے۔ بندوں کے کلام اور ان کے اعمال…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَآ اَدْرٰىكَ : اور آپ ﷺ کیا جانیں ][ مَا : کیا ہے ][ لَيْلَةُ الْقَدْرِ : قدر کی رات ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

اوپر سورة القدر کا ترجمہ کیا گیا ہے جس میں قرآن مجید نازل فرمانے کا اور شب قدر کی برکات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اول تو یوں فرمایا کہ ﴿ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِۚۖ001﴾ (بیشک ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا) قرآن مجید تھوڑا تھوڑا کر کے تئیس سال میں نازل ہوا ہے پھر شب قدر میں نازل فرمانے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کے بارے میں حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ پورا قرآن مجید لوح محفوظ سے اتار کر آسمان دنیا یعنی قریب والے آسمان میں اتار دیا گیا، وہاں بیت العزت میں رکھ دیا گیا پھر جبرائیل (علیہ السلام) حسب الحکم تھوڑا تھوڑا کر کے رسول اللہ ﷺ کے پاس وحی کے طور پر لاتے رہے۔ سورة البقرہ میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

عظمت شب قدر وماہ رمضان بنزول قرآن : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” انآانزلنہ فی لیلۃ القدر ......... الی ....... ھی حتی مطلع الفجر “۔ (ربط) گزشتہ سورة اقرا میں آغاز اور ابتداء بعثت کا ذکر تھا، اب اس سورت میں نزول قرآن کا زمانہ اور شب قدر کی فضیلت بیان کی جارہی ہے جس میں اللہ رب العزت نے قرآن جیسی نعمت اور عظیم کتاب ہدایت نازل فرمائی۔ یا یہ کہہ دیجئے کہ گزشتہ سورت میں انسان پر عنایات والطاف خداوندی کا ذکر تھا اور اس کی ترقیات کا، اب اس مناسبت سے انسانی سعادت اور فوز و فلاح کی اصل اساس کتاب الہی اور قرآن حکیم کا نزول بیان کیا جارہا ہے کہ وہ شب قدر میں ہوا، جس میں عقائد، عبادات، معاملات، تہذیب نفس، اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2: ” انا انزلناہ “۔ نازل کرنے سے مراد ابتداء نزول ہے یا لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر بیت العزۃ میں سارا قرآن نازل کرنا مراد ہے۔ ” قدر “ کے معنی تقدیر کے ہیں یعنی اندازہ مقرر کرنا اس رات میں چونکہ سال بھر کے اہم کاموں کا فیصلہ ہوتا ہے اس لیے اسے لیلۃ القدر کہا گیا۔ یا ” قدر ‘ کے معنی عظمت و شرافت کے ہیں اور اسی عظمت و شرف کی وجہ سے اسے لیلۃ القدر کا نام دیا گیا۔ ان اللہ تعالیٰ یقد فیہا ما یشاء من امرہ الی مثلہا من السنۃ القابلۃ۔ وقیل انما سمیت بذلک لعظمتہا و قدرہا و شرفہا (قرطبی ج 20 ص 130) ۔ ” وما ادراک ما لیلۃ القدر “ یہ لیلۃ القدر کی عظمت و فضیلت کا بیان ہے۔ ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

پہلی سورة کا خلاصہ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور پھر اسے درجہ کمال تک پہنچانے کے لئے علم کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد انسانوں کی دو اقسام کا ذکر کیا۔ ایک وہ قسم جو اہل ایمان ہیں اور فطرت کے مطابق قرآن پاک کا علم حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی وحدانیت کو مانتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو خدا کا عاجز بندہ سمجھتے ہیں اور اس کے حضور نماز ادا کرتے ہیں۔ تقویٰ کا حکم دیتے ہیں اور نیکی اور ہدایت کے راستے پر گامزن ہیں۔ انسانوں کا دوسرا گروہ سرکش ہے اپنے آپ کو مال و جاہ کی وجہ سے مستغنی خیال کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں رکھتا۔ اور اللہ کے بندوں کو اس کی عبادت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَۃُ الْقَدْرِ۝ 2 ۭ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ انا مبتداء انزلناہ الضمیر یرجع الی القرآن وان لم یتقدم ذکرہ لکونہ معھودا معلومًا فی متعلق بانزلنا والجملۃ خبر المبتدء۔ وما ادراک الجملۃ استفہامیۃ لبیان عظم شان لیلۃ القدر۔ لیلۃ القدر مبتدء خبر من الف شہر خبرہ والجملۃ التامۃ جواب الاستفھام۔ تنزل بحذف احدی التائین من الاصل۔ الملائکۃ فاعلہ و تانیث الفعل لا عتبار جمعیۃ الفاعل ای متلبسین والروح معطوف علی الملائکۃ۔ فیھا ای فی لیلۃ القدر والجار متعلق بتنزل باذن ربہم متعلق تنزل او بمحذوف ھو حال من فاعلہ ای متلبسین باذن ربہم ای بامرہ۔ من کل امر ای من اجل کل امر وقیل من بمعنی اللام ای لکل امرو قیل بمعنی الباء ای بکل امر۔ متعلق بالفعل السابق۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَآ اَدْرٰ کَ مَالَیْلَۃُ الْقَدْرِ ۔ (القدر : 2) (اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔ ) لَیْلَۃِ الْقَدْرِ کی عظمت لَیْلَۃِ الْقَدْرِکی جلالتِ شان کو نمایاں کرنے کے لیے استفہامیہ اسلوب اختیار فرمایا ہے۔ یہ قرآن کریم کا ایک مخصوص اسلوب ہے کہ وہ ہیبت یا ہولناکی کے اعتبار سے کسی چیز کی شدت کو بیان کرنا چاہتا ہے تو یہ اسلوب اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح کسی چیز کی عظمت و اہمیت کو اجاگر کرنا چاہتا ہے تو یہ اسلوب اختیار کیا جاتا ہے۔ مقصود یہ ہوتا ہے کہ وہ چیز اتنی عظیم ہے کہ اس کی عظمت کا حقیقی اندازہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ تمہیں اس کا اندازہ اس وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ اس کا علم عطا فرمائے گا۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورت : سورة اقراء میں جس چیز کو پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے وہ قرآن مجید کی وحی ہے اور قرآن مجید کا نزول لیلۃ القدر میں ہوا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو ” لَیْلَۃُ الْقَدْرِ “ میں نازل کیا ہے یہاں اس رات کو لیلۃ القدر کہا گیا ہے اور سورة الدُّخان کی ابتدائی آیات میں اسے مبارک رات قراردیا گیا ہے۔ القدر کے دو معانی ہیں۔ 1 ۔ عزت والی رات 2 ۔ القدر سے مراد تقدیر بھی ہے کیونکہ اس رات میں لوگوں کی سال بھر کی تقدیر کا فیصلہ کیا جاتا ہے اس لیے اس کا نام ” لَیْلَۃُ الْقَدْرِ “ ہے۔ امام قرطبی (رح) نے اس سے مراد لی ہے کہ یہ عزّت والی کتاب عزّتِ مآب رسول پر، عزّت والی رات میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : وَمَآ اَدْرٰٹکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ (آپ کو کچھ معلوم ہے کہ شب قدر کیسی چیز ہے) یعنی آپ کی درایت اس کے غایت فضل تک نہیں پہنچ سکتی۔ پھر خود اس کو بیان فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

لیلۃ القدر کی وجہ تسمیہ 2 ۔ پھر اپنے نبی کو تعجب کرتے ہوئے فرمایا ” وما ادراک ما لیۃ القدر “ اس کا نام لیلۃ القدر اس وجہ سے رکھا گیا ہے کہ اس رات میں امورواحکام کی تقدیر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس رات میں اپنے بندوں اور اپنے شہروں میں سال کے امر کو آنے والے سال تک تقدیر لکھ دیتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” فیھا یفرق کل امر حکیم “ ہے اور وہ ان کے قول ” قدر اللہ الشیء “ کا مصدر ہے تخفیف کے ساتھ قدراً وقدراً جیسے نھر اور نھر اور شعر اور شعر اور قدرۃ تشدید کے ساتھ تقدیر ایک معنی میں ہیں۔ حسین بن فضل (رح) کو کہا گیا کیا اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے پید کرنے سے پہلے ہر چیز کی تقدیر کو لکھ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ صحیح معنی آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر کے یہ ہیں کہ لوح محفوظ سے شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف اول آسمان پر اترا اور پھر رفتہ رفتہ آنحضرت ﷺ پر تئیس سال تک نازل ہوتا رہا۔ نسائی بیہقی ‘ مستدرک 2 ؎ حاکم مصنف ابن ابی شیبہ طبرانی میں معتبر سند سے جو روایتیں ہیں ان میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے یہی معنی اس آیت کے بیان فرمائے ہیں اگرچہ مفسرین نے اس آیت کے معنی اور بھی بیان کئے ہیں لیکن وہ معنی اس قدر صحیح نہیں ہیں شب قدر کی فضیلت یہت سی حدیثوں میں آئی ہے اب آگے لیلۃ القدر کی یہ فضیلت بیان فرمائی کہ اس ایک رات کی عبادت اور دونوں کے ہزار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے۔ ہزار مہینے کے تراسی سال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی عظمت شان اور عظمت مقدار بیان کی ہے چناچہ فرمایا (وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ) اور تجھے کس نے خبر دی کہ شب قدر کیا ہے ؟ یعنی اس کی شان بہت جلیل اور اس کا رتبہ بہت عظیم ہے آپ کو اس کا علم نہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–5

شب قدر قول باری ہے (انا انزلناہ فی لیلۃ القدر ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے) تا قول باری (لیلۃ القدر خیر من الف شھر قدر کی رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے) ایک قول کے مطابق شب قدر اس ہزار مہینے سے بہتر ہے جس میں شب قدر واقع نہ ہوئی ہو۔ وہ اس لئے کہ شب قدر میں اس قدر خیر اور بھلائی تقسیم ہوتی ہے کہ ایک ہزار مہینوں میں اتنی بھلائی تقسیم نہیں ہوتی۔ اس بنا پر شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اوقات واماکن کی ایک دوسرے پر فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ فضیلت والے اوقات اور مقامات میں بہت زیادہ خیروبرکت ہوتی ہے اور ان کا نفع بھی بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ قدر کی رات کب ہوتی ہے اس کے بارے میں حضور ﷺ سے مختلف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

2 ۔ لیلۃ القدر کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو اس رات کی عظمت شان کے اظہار وبیان کے لیے بطور استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ تم کیا جانو کیا ہے قدر کی وہ رات ؟ استفہام تعظیم و تفخیم کے لیے ہے، یعنی وہ رات بڑی عظیم الشان رات ہے اتنی بڑٰ کی اس کی عظمت شان اور اس کے مرتبہ و مقام کا از خود اندازہ کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں، اسی لیے صحیح احادیث کی رو سے اس رات میں عبادت کرنا گزشتہ تمام گناہوں کی تکفیر و بخشش کا ذریعہ ہے۔ چناچہ حضرت صادق مصدوق نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے مروی ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا " من قام لیلۃ القدر ایمانا و احتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ " کہ جس نے ایمان و اخلاص کے ساتھ اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

لیلۃ القدر ہزار راتوں سے بہتر ہے تشریح : سب سے پہلے تو '' اسے اتارا ''۔ تمام مفسرین نے سورة کی ضمیرکو قرآن کا مرجع ہی ظاہر کیا ہے۔ یعنی ہم نے قرآن کو شب قدر یعنی لیلۃ القدر میں نازل کیا۔ اب شب قدر کے بارے میں کیونکہ یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ کون سی رات ہے اور کس مہینے میں آتی ہے۔ بیشتر علماء اور مفسرین اور مستند محدثین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ یہ رات رمضان کے آخری عشرے میں آتی ہے اس کی دلیل یہ ہے '' رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ''۔۔ (سورۃ البقرہ 185) اسی طرح '' ہم نے اسے ایک برکت والی رات میں نازل کیا ''۔۔ (دخان :3) ان دونوں آیات سے ایک توہٗ کی ضمیر کا قرآن کی طرف ہونا اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–5

سورة القدر۔ آیات 1 تا 5۔ اسرار ومعارف۔ ہم نے اس کلام یعنی قرآن مجید کو شب قدر میں نازل فرمایا کہ لوح محفوظ سے آسمان اول پر اتارا اور پھر مسلسل تئیس برس میں نازل ہوتا رہا یہ اس کی ابتدا لیلۃ القدر سے ہوئی اور پھر بتدریج نازل ہوتا رہا۔ حدیث شریف کے مطابق تمام آسمانی کتابیں رمضان المبارک میں نازل ہوئیں کہ اس ماہ مبارک کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ انسانوں میں فرشتوں جیسی صفات پیدا کردیتا ہے کھانے پینے سے رک جانا ، خطا سے بچنا اور نیکی میں زیادہ کوشش کرنا لہذا ساری کتابیں اسی مبارک مہینے میں نازل ہوئیں اور نزول قرآن شب قدر کو شروع ہوا جس کی فضیلت میں یہ بات بھی ہے کہ یہ ایک رات ہزار ماہ سے زیادہ کا درجہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 2–3

ف 2 یعنی اس میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ ثواب رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(97:2) وما ادرک ما لیلۃ القدر جملہ استفہامیہ ہے۔ ما استفہامیہ ۔ کون ۔ کیا چیز۔ ادرک : ادری۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ادراء (افعال) مصدر سے ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ اور کیا چیز تمہیں بتائے۔ واقف کرے۔ یا خبر دار کرے۔ ما استفہامیہ بمعنی کیا ہے۔ تو کیا جانے۔ لفظی ترجمہ ہوگا :۔ تجھے کیا چیز خبردار کرے۔ کیا چیز تمہیں بتائے۔ کہ شب قدر کیا ہے ؟

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن۔ لیلۃ القدر۔ شب قدر۔ قدر کی رات۔ الف شھر۔ ایک ہزار مہینے۔ تنزل۔ اترتے ہیں۔ روح۔ حضرت جبرئیل۔ اذن۔ اجازت۔ سلام۔ سلامتی۔ مطلع الفجر۔ صبح کے طلوع ہونے (تک) تشریح : اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اس کو (قرآن کریم کو) قدر کی رات میں اتارا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا ہے کہ کیا آپ کو معلوم ہے یہ قدر کی رات کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جواب عنایت فرمایا کہ وہ رات ہے جو ہزار مہینوں کی راتوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اس میں اللہ کی طرف سے جبرئیل اور فرشتے ہر سلامتی کے فیصلے کو لے کر نازل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ طلوع فجر ہوجاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی سلامتی، عزت و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–5

(ف 2) جو شب قدر سے خالی ہو، اس ایک رات میں نیک عمل کرنا ہزارراتوں کے عمل سے بہتر ہے حدیث شریف میں ہے کہ نبی ﷺ نے امم گذشتہ کے ایک شخص کا ذکر کیا جو تمام رات عبادت کرتا تھا اور کافروں کے ساتھ جہاد میں مصروف رہتا تھا اس طرح اس نے ہزار مہینے گزارے تھے مسلمانوں کو اس سے تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو شب قدر عطافرمائی اور یہ آیت نازل کی شب قدر ہزارمہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے حبیب پر کرم ہے کہ آپ کے امتی شب قدر کی ایک رات عبادت کریں تو ان کا ثواب پچھلی امتوں کے ہزار ماہ کی عبادت کرنے والوں سے زیادہ ہو۔ اب آگے فرمایا کہ شب قدر ایسی معظم رات ہے کہ اس رات کو اللہ کے حکم سے ملائکہ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] شب قدر کے معنی ہیں بڑی عظمت اور شرف والی رات۔ [2] یعنی قرآن لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر شب قدر میں اتارا گیا اور شاید اسی شب میں آسمان دنیا سے رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونا شروع ہوا۔ پھر تیئس سال کی مدت میں واقعات اور حالات کے مطابق جبرائیل (علیہ السلام) اس کی آیات اور سورتیں محمد ﷺ کے پاس لے کر آتے رہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

سورة القدر جس طرح اماکن اور مقامات میں کچھ جگہیں زیادہ شرف اور فضیلت کی حامل ہوتی ہیں اور جس طرح اشخاص وافراد میں کچھ لوگ زیادہ مرتبہ اور درجہ کے مستحق ہوتے ہیں ۔ اسی طرح کچھ دن اور کچھ راتیں اپنے اندر نسبتاً برکات کا زیادہ سرمایہ رکھتی ہیں ۔ ایام رمضان سال بھر کے دنوں پر پر مسابقت اور ثواب اخروی کے اعتبار سے افضل ہیں اور اس کی راتیں تمام راتوں سے زیادہ پرنور اور بابرکت ہیں ۔ اور پھر جب کسی رمضان کی رات کو یہ شرف بھی حاصل ہوجائے کہ اس میں قرآن کا نزول ہوا ہے تو اس کی بزرگی اور عظمت کتنی بڑھ جائے گی ۔ اس کا اندازہ کچھ ارباب بصیرت ومعرفت ہی کرسکتے ہیں

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) اور اے پیغمبر آپ کو کچھ معلوم ہے کہ شب قدر کیسی چیز ہے - شب قدر کی گزری اور اس کی عظمت کیسی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 6۔ یعنی ہزار مہینہ تک عبادت کرنے کا جس قدر ثواب ہے اس سے زیادہ شب قدر میں عبادت کرنے کا ثواب ہے کذا فی الخازن۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور اے مخاطب ! تو کیا جانے کہ قدر کی رات کیا ہے ؟ 2 ؎ اس میں مخاطب ان لوگوں کو کیا جا رہا ہے جو محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے منکر ہیں ، قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور آخرت کو وہ تسلیم ہی نہیں کرتے اور ظاہر ہے کہ جب ایک آدمی یا گروہ ان باتوں ہی سے انکاری ہے تو اس کو اس رات کی فضلیت سے کیا تعلق ہے وہ اس رات کی فضلیت کو کیا مانگے گا جب کہ اس مقصد ہی کو وہ تسلیم نہیں کرتا جس مقصد کے لیے اس رات کی برکت والی رات اور بہتر رات کہا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ زیر نظر آیت میں ایسے لوگوں کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ آپ لوگ اس تحفہ کی قدر کیا کریں گے جو اللہ تعالیٰ نے نبی اعظم و آخر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

Occasion of Revelation Ibn Abi Hatim has reported from Mujhid (as mursal hadith) that the Messenger of Allah ﷺ was told about a mujahid [ warrior in the cause of religion ] from amongst the Children of Israel who carried weapons of war on his shoulders for a thousand months during which time he never laid down his arms. The Companions were amazed when they heard this. On that occasion, this Surah was revealed which describes that worship in the Night of Qadr granted to this Ummah exceeds by more than a thousand months of jihad persistently fought by that warrior. According to another…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

2 The commentators in general have understood this to mean that the good acts performed in this Night are superior in value to the good acts of a thousand months in which Lailat-ul-qadr is not included. There is no doubt that this is in itself correct and the Holy Prophet (upon whom be peace) has described great excellencies and virtues of the good acts and devotions of this Night. According to a tradition related in Bukhari and Muslim, on the authority of Hadrat Abu Hurairah, the Holy Prophet said: The one who remained standing in worship in the state of belief and for the sake of rewards…

Read the full tafseer →