97. Surah Al-Qadr
القدرThe Power, Fate · 5 ayahsاحسن التفاسیر
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ Open ayah 97:1 in the Quran reader
ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ Open ayah 97:2 in the Quran reader
اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟
لَیْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ Open ayah 97:3 in the Quran reader
شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے
تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ Open ayah 97:4 in the Quran reader
اس میں روح (الامین) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام) کے لئے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں
سَلٰمٌ١ۛ۫ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠ Open ayah 97:5 in the Quran reader
(یہ رات) طلوع صبح تک (امان اور) سلامتی ہے
1۔ 5۔ صحیح معنی آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر کے یہ ہیں کہ لوح محفوظ سے شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف اول آسمان پر اترا اور پھر رفتہ رفتہ آنحضرت ﷺ پر تئیس سال تک نازل ہوتا رہا۔ نسائی بیہقی ‘ مستدرک 2 ؎ حاکم مصنف ابن ابی شیبہ طبرانی میں معتبر سند سے جو روایتیں ہیں ان میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے یہی معنی اس آیت کے بیان فرمائے ہیں اگرچہ مفسرین نے اس آیت کے معنی اور بھی بیان کئے ہیں لیکن وہ معنی اس قدر صحیح نہیں ہیں شب قدر کی فضیلت یہت سی حدیثوں میں آئی ہے اب آگے لیلۃ القدر کی یہ فضیلت بیان فرمائی کہ اس ایک رات کی عبادت اور دونوں کے ہزار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے۔ ہزار مہینے کے تراسی سال چار مہینے ہوئے اس صورت میں اگر کوئی شخص اس رات اپنی عمر بھر میں دس راتیں بھی عبادت کرلے گا تو ہزار سال سے اونچی مدت کی عبادت ہوجائے گی۔ یہ محض اللہ کا فضل ہے۔ تفسیر ابن جریر اور ابن ابی 1 ؎ حاتم میں مجاہد سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کی ہزار مہینے کی عبادت کا ذکر کیا۔ صحابہ ؓ نے یہ سن کر اپنے زمانہ کی عمروں کے کوتاہ ہونے کے سبب سے اس قدرت مدت کی عبادت سے اپنے آپ کو چاجز گنا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ سورة نازل فرمائی جس سے صحابہ بہت خوش ہوئے۔ یہی قول صحیح روایتوں کے موافق ہے لیلۃ القدر ہر رمضان شریف کے آخر کی عشرہ کی طاق راتوں میں ہوتی ہے اور قیامت تک یہی حالت رہے گی۔ اس رات کو شب قدر اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں سال بھر کے ہر طرح کے انتظامات لوح محفوظ سے نقل کرکے ملائکہ کو دیئے جاتے ہیں سال بھر کے ان ہی انتظامات کا نام قدر ہے کیونکہ وہ قضا و قدر کے وافق ہیں۔ انہی انتظامات کو قابو میں کرنے کے لئے غروب آفتاب سے لے کر صبح تک اس رات ملائکہ زمین پر رہتے ہیں اور اس رات کی عبادت کرنے والوں سے سلام علیک کرتے ہیں۔ روح سے مراد جبرئیل (علیہ السلام) ہیں وہ بھی اور ملائکہ کے ساتھ اس رات کو زمین پر اترتے ہیں۔ صحیح 2 ؎ بخاری اور مسلم میں عبد اللہ بن عمر کی روایت میں ہے کہ بعض صحابہ ؓ نے رمضان شریف کے آخری ہفتہ میں لیلۃ القدر کو خواب میں دیکھا اور آنحضرت ﷺ سے یہ خواب بیان کیا آپ نے فرمایا کہ رمضان کے اخیر ہفتہ میں اس خواب کے موافق شب قدر کی تلاش اور جستجو رکھو۔ اس روایت سے اور اسی قسم کی اور روایتوں سے بعض علماء نے یہ بات نکالی ہے کہ جس کو شب قدر نظر آئے تو اس کو کوئی چیز خلاف عادت نظر نہ آنی چاہئے تاکہ اور راتوں میں اور شب قدر میں فرق پیدا ہو اور اسی فرق کے پتے سے شب قدر کی تلاش اور جستجو آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے موافق ہو سکے پھر جن لوگوں کو اس رات خلاف عادت کچھ نظر آیا ہے ان کے حوالہ سے اس خلاف عادت چیز کی تفصیل ان علما نے یہی کی تھی کہ وہ ایک نور سب جگہ نظر آتا ہے اور اس وقت ہر چیز سجدہ کی حالت میں ہوتی ہے تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کی دعا قبول ہوتی ہے۔ صحیح روایت 3 ؎ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایسے موقع پر حضرت عائشہ کو یہ دعا پڑھنے کا ارشاد کیا ہے اللھم انک عفو تحب العفونا عف عنی۔
صحاح کی کتابوں میں مرفوع اور موقوف جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب یہ سورة نازل ہوئی تو حضرت جبرئیل نے آنحضرت ﷺ سے کہا اے رسول اللہ کے ‘ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ آپ اس سورة کو ابی بن کعب ؓ صحابی کے رو برو پڑھو۔ جب آنحضرت ﷺ نے یہ ذکر ابی بن کعب سے کیا تو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ میرا نام اور میرا ذکر اللہ تعالیٰ کے روبرو آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں اس بات کا اثر حضرت ابی بن کعب ؓ کے دل پر ایسا ہوا کہ وہ رونے لگے حضرت عثمان ؓ حضرت علی ؓ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ حضرت ابودردا ؓ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ حضرت زید بن ثابت ؓ چھ صحابی یہ اور ساتویں حضرت ابی بن کعب ؓ یہ سات صحابی قرآن شریف کے قاریوں میں مشہور ہیں۔ حضرت ابی بن کعب ؓ کی زبان ایسی قابو میں تھی کہ جس طرح کی قرأت آنحضرت ﷺ سے سنتے تھے وہی اپنی زبان سے ادا کرتے تھے۔ صحیح 2 ؎ مسلم کی حدیث میں جو قصہ ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت ابی بن کعب ؓ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کو قرآن شریف کی کچھ آیتیں اس طرح پڑھتے ہوئے سنا جن کی قرأت ابی بن کعب ؓ کی قرأت کے مخالف تھی ان کو اپنی یاد پر بڑا بھروسہ تھا اس واسطے انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے جھگڑا گیا۔ جب وہ جھگڑا آنحضرت ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے دونوں قرأتوں کو صحیح قرار دیا۔ اور فرمایا مجھ کو سات قرأتوں میں قرآن شریف پڑھنے کا حکم ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ حضرت ابی بن کعب ؓ کو قرأت کا بڑا خیال تھا اور زبان بھی ان کی قابو میں تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اپنے رسول کی قرأت ان کو سنوائی تاکہ ان کے واسطہ سے اللہ کے رسول کی قرأت لوگوں میں پھیل جائے۔ ابونعیم 3 ؎ وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ جب کوئی شخص سورة لم یکن الذی پڑھتا ہے تو اللہ اس شخص کو عقبیٰ میں جنت کی اور دنیا میں فارغ البالی کی خوش خبری دیتا ہے۔
(2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 529 ج 4۔ )
(1 ؎ تفسیر ابن کثیر 530 ج 4)
(2 ؎ صحیح بخاری باب التمسو الیلۃ القدر فی السبح الاواخر ص 270 ج 1)
(3 ؎ مشکوٰۃ شریف۔ باب فی لیلۃ القدر فصل ثانی ص 182)
(2 ؎ صحیح مسلم باب بیان القران انزل علی سبعۃ احرف الخ ص 273 ج 1)
(3 ؎ تفسیر الدر المنثور ص 377 ج 6۔ )