97. Surah Al-Qadr
القدرThe Power, Fate · 5 ayahsتفسیرِ مظہری
اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ Open ayah 97:1 in the Quran reader
ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا
انا انزلنہ . ہم ہی نے اس کو یعنی قرآن کو اتارا ‘ قرآن کی تعظیم اور عظمت شان کے اظہار کے لیے (بغیر ذکر مرجع کے)
ضمیر کو ذکر کیا کیونکہ انزلنٰہ کو سننے کے بعد سننے والے کا ذہن کسی دوسری چیز کی طرف منتقل ہی نہیں ہوسکتا۔ اسی اظہار عظمت کے لیے اتارنے کی نسبت اپنی طرف کی (فاعل کی عظمت فعل کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے) اور حکم میں تاکید و قوت پیدا کرنے کے لیے مسند الیہ (انّا) کو خبر فعلی (انزلنا) سے پہلے ذکر کردیا ‘ یا یہ تقدیم خصوصیت فاعل کو ظاہر کرنے کے لیے ہے ‘ پھر قرآن کی مزید عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے فرمایا۔
فی لیلۃ القدر . یعنی قرآن کا وقت نزول بھی عظیم الشان ہے۔ لیلۃ القدر میں اس کا نزول ہوا ہے۔ تمام
ممالک اور انسانوں کے متعلق سال بھر تک ہونے والے امور کو لیلۃ القدر میں اللہ مقرر کردیتا ہے۔ حسین بن فضل سے سوال کیا گیا ‘ کیا زمین و آسمان کی تخلیق سے پہلے ہی اللہ نے تمام امور کا تقرر نہیں کردیا ہے ؟ حسین نے جواب دیا : بیشک کردیا ہے۔ سوال کیا گیا پھر لیلۃ القدر کا کیا معنی ؟ حسین نے کہا : مقررہ امور کو ان کے مقررہ اوقات کی طرف چلانا اور قضاء مقدر کو نافذ کرنا یعنی آئندہ سال بھر تک جن امور کا واقع ہونا اللہ نے مقدر کردیا ہے ‘ شب قدر میں اس کی اطلاع ان ملائکہ کو دی جاتی ہے ‘ جن سے ان امور کا نفاذ وابستہ ہے۔
عکرمہ (رح) نے کہا : مقدرہ امور کا تقدر اور تمام امور کا انتظام نصف شعبان کی رات کو ہوتا ہے ‘ زندوں اور مردوں کی فہرست بنتی ہے جس میں (آئندہ سال بھر) نہ بیشی ہوتی ہے نہ کمی۔ عکرمہ کے اس قول کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو بغوی نے بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک شعبان سے دوسرے شعبان تک کی موتوں کا فیصلہ (نصف شعبان کی رات کو) کردیا جاتا ہے یہاں تک کہ بعض آدمی نکاح کرتے ہیں ‘ نکاح کے بعد اولاد بھی ہوتی ہے مگر ان کا نام مردوں کی فہرست میں ہوتا ہے (یعنی اس کو آئندہ شعبان تک اپنا مرجانا معلوم نہیں ہوتا ‘ اسی لیے وہ نکاح کرلیتا ہے لیکن وہ آنے والے سال کی آخری تاریخ تک مرجاتا ہے) ۔
میں کہتا ہوں شاید مقدرہ امور کا جزوی طور پر کسی طرح کا تقرر نصف شعبان کی رات میں ہوتا ہو اور تمام امور کا عمومی تقریر اور کارندوں کو ان امور کی تفویض شب قدر میں ہوتی ہو۔ اللہ نے شب قدر کے متعلق فرمایا ہے : فیھا یفرق کل امر حکیم۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سال بھر تک جو خیر و شر ‘ رزق ‘ زندگی ‘ موت یہاں تک کہ حاجیوں کا حج ‘ غرض جو بات ہونے والی ہوتی ہے ‘ وہ شب قدر میں لوح محفوظ سے (نقل کر کے) لکھ دی جاتی ہے۔
زہری نے کہا : لیلۃ القدر کا نام اس رات کی عظمت و شرف کی وجہ سے ہی لیلۃ القدر رکھا گیا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : وما قدروا اللہ حق قدرہ۔ یعنی اللہ کی عظمت جیسی واقع میں ہے ویسی انہوں نے نہیں کی۔ ابو الضحیٰ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ نصف شعبان کی رات کو اللہ تمام احکام کا فیصلہ کردیتا ہے اور شب قدر میں ان احکام کی تفویض کارندوں کو کردیتا ہے۔ کذا ذکر البغوی۔
شب قدر کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس رات کے نیک اعمال کی اللہ کے ہاں بڑی قدر ہوتی ہے اور بڑا ثواب ملتا ہے شب قدر میں نزول قرآن کا معنی یہ ہے اور حضرت ابن عباس ؓ کے کلام سے یہی مستفاد ہے کہ شب قدر میں پورا قرآن لوح محفوظ سے دنیوی آسمان کے بیعت العزت میں نازل کردیا گیا تھا۔ پھر (بیت العزت سے) حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) بیس برس تک تھوڑا تھوڑا رسول اللہ ﷺ کو پہنچاتے رہے ‘ آیت بمواقع النجوم کا یہی مطلب ہے۔
حضرت ابوذر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفے تیسری رمضان کو اور ایک روایت میں آیا ہے پہلی رمضان کو نازل ہوئے اور توریت موسیٰ چھٹی رمضان کو اور انجیل تیرہویں رمضان کو اور زبور داؤد اٹھاریں رمضان کو اتاری گئی اور قرآن رسول اللہ ﷺ پر چوبیسویں رمضان کو جبکہ رمضان کی چھ راتیں باقی تھیں ‘ نازل کیا گیا۔
امام احمد (رح) اور طبرانی (رح) نے حضرت وائلہ بن الاسقع کی حدیث نقل کی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفے رمضان کی پہلی رات کو نازل ہوئے اور توریت چھٹی رمضان کو اور انجیل تیرہویں رمضان کو اتری اور قرآن چوبیسویں کو ‘ انہی احادیث کی بناء پر بعض علماء نے کہا کہ شب قدر رمضان کی چوبیسویں رات ہے۔ حضرت ابن مسعود ‘ شعبی ‘ حسن بصری اور قتادہ کی طرف اس قول کی نسبت کی گئی ہے اس کی تائید حضرت بلال ؓ کی اس مرفوع حدیث سے ہوتی ہے جس کو امام حمد (رح) نے نقل کیا ہے کہ شب قدر کو چوبیسویں تاریخ میں تلاش کرو۔ اس حدیث کی اسناد میں ابن لہیعہ بھی ہے اور حافظ ابن حجر (رح) نے لکھا ہے کہ ابن لہیعہ نے اس حدیث کو مرفوع قرار دینے میں غلطی کی ہے۔
میں کہتا ہوں اگر یہ احادیث صحیح ہیں تب بھی ان سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ ہر سال شب قدر چوبیس رمضان کو ہوتی ہے بلکہ اتنا معلوم ہوتا ہے کہ جس سال قرآن کا نزول ہوا اور جس سال کے متعلق حضرت بلال ؓ کا قول منقول ہے ان سالوں میں شب قدر کی تاریخ چوبیسویں رمضان تھی۔
فائدہ تعیین شب قدر کے متعلق علماء کے اقوال مختلف ہیں ‘ جن کی کل تعداد تقریباً چالیس ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ہر سال شب قدر رمضان کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے مگر تاریخیں بدلتی رہتی ہیں (ہر سال کے لیے ایک ہی تاریخ مقرر نہیں ہے) تمام صحیح احادیث کے تعارض کو دور کرنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ ذیل میں مختلف احادیث درج کی جاتی ہیں۔
حضرت سلمان فارسی ؓ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شعبان کے آخری دن خطبہ دیا اور فرمایا : لوگو ! ایک عظمت والا مہینہ تمہارے قریب آگیا ‘ یہ برکت والا مہینہ ہے ‘ اس مہینہ میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یہ حدیث سورة بقر اور فضائل رمضان میں گزر چکی ہے اور اس سے اس قول کی تغلیط ہوجاتی ہے ‘ جس میں کہا گیا ہے کہ شب قدر رمضان میں بھی ہوتی ہے اور غیر رمضان میں بھی۔ امام اعظم (رح) کا یہی مذہب قاضی خان نے ذکر کیا ہے۔
ایک شبہ شاید یہ واقعہ نزول قرآن والے سال کا ہو ‘ یا صرف اسی سال کا ہو جس کے متعلق حضرت سلمان ؓ فارسی نے بیان کیا ہے۔ پس جو لوگ رمضان اور غیر رمضان میں شب قدر ہونے کے قائل ہیں ‘ ان کے مسلک کی تغلیط اس حدیث و آیت سے نہیں ہوتی۔
ازالہ حضرت سلمان ؓ والی حدیث میں ماہ رمضان کے کچھ اوصاف بیان کیے گئے ہیں ‘ اسی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ اس ماہ کے روزے اللہ نے فرض کیے ہیں اور رات کی نمازیں نفل کی ہیں ‘ جو شخص اس میں نفل پڑھے گا وہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے غیر رمضان میں فرض ادا کیے اور جس نے اس میں فرض ادا کیں وہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے ستّر فرض ادا کیے (گویا ماہ رمضان کی نفل نماز دوسرے مہینوں کے فرض کا اور اس کی ایک فرض نماز دوسرے مہینوں کی ستّر فرض نمازوں کا ثواب رکھتی ہے) یہ صبر کا مہینہ ہے ‘ یہ ہمدردی کا مہینہ ہے ‘ وغیرہ وغیرہ اور چونکہ یہ اوصاف کسی مخصوص رمضان کے ہی نہیں ہیں (بلکہ ہر رمضان کے ہیں) پس شب قدر کا حکم بھی سال نزول قرآن یا کسی مخصوص رمضان سے متعلق نہیں۔
حضرت عائشہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ آخری عشرہ میں اتنی ریاضت کرتے تھے جتنی دوسرے (ایّام) میں نہیں کرتے تھے۔ (مسلم) حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : جب (آخری) عشرہ آجاتا تھا تو رسول اللہ ﷺ تہبند مضبوطی سے باندھ لیتے تھے اور شب کرتے تھے (یعنی رات کو نماز پڑھتے تھے) اور گھر والوں کو بھی بیدار کرتے تھے۔ (متفق علیہ) حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : وفات تک رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے رہے اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی بیویوں نے اعتکاف کیا۔ (بخاری و مسلم) حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری دس ایّام میں اعتکاف کرتے تھے اور فرماتے تھے ‘ رمضان کے آخری عشرہ میں شب قدر تلاش کرو۔ (بخاری)
حضرت ابوسعید ؓ خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے پہلے عشرہ میں اعتکاف کیا ‘ پھر درمیانی عشرہ میں ترکی خیمہ میں اعتکاف کیا پھر فرمایا میں نے اس رات کی تلاش میں پہلے عشرہ میں اعتکاف کیا پھر درمیانی عشرہ میں کیا ‘ پھر میرے پاس کوئی (فرشتہ) آیا اور مجھ سے کہا گیا کہ وہ رات آخری عشرہ میں ہے ‘ پس جس کو میرے ساتھ اعتکاف کرنا ہو وہ آخری عشرہ میں کرے ‘ کیونکہ مجھے وہ رات خواب میں دکھائی گئی تھی۔ میں نے اس کو پا لیا تھا اور میں نے دیکھا تھا کہ میں اس کی صبح کو پانی اور کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔ اس فرمان کے بعد صحابہ ؓ نے ہر طاق رات میں شب قدر کی جستجو رکھی۔ راوی کا بیان ہے کہ ایک رات کو پانی برسا ‘ مسجد چھپر کی تھی اس لیے ٹپکنے لگی۔ اکیسویں شب کی صبح کو جو میری آنکھ رسول اللہ ﷺ پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ کی پیشانی پر پانی اور کیچڑ کا نشان تھا۔ (متفق علیہ)
حضرت ابو سعید ؓ خدری کی روایت ہے کہ لیلۃ القدر کی تلاش میں رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا۔ جب عشرہ گزر گیا تو آپ ﷺ نے خیمہ اکھاڑ لینے کا حکم دیا۔ حسب الحکم خیمہ اکھاڑ لیا گیا۔ پھر حضور کو (لیلۃ القدر کی تعیین کہ کس عشرہ میں ہے ‘ بتائی گئی تھی) فراموش ہوگئی۔ واقع میں وہ آخری عشرہ میں تھی (مگر حضور ﷺ کو درمیانی عشرہ کا خیال رہا ‘ اسی لیے درمیانی عشرہ میں اعتکاف کیا) اس لیے آپ نے دوبارہ خیمہ لگوایا پھر برآمد ہو کر فرمایا : لوگو ! مجھے لیلۃ القدر خواب میں دکھائی گئی تھی اور میں تم کو اطلاع دینے باہر نکلا تھا مگر دو آدمی آگئے جن کے ساتھ شیطان تھا۔ اس لیے میں اس کو بھول گیا۔ اب تم رمضان کے آخری عشرہ میں اس کی جستجو کرو اور نویں اور ساتویں اور پانچویں شب میں تلاش کرو۔ راوی نے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے عرض کیا : آپ تو گنتی ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا : ہاں اور ہم اس کے تمہاری بنسبت مستحق بھی زیادہ ہیں ‘ فرمایا : نویں اور ساتویں اور پانچویں۔ جب اکیس راتیں گزر جائیں تو اس سے متصل بائیسویں رات یہی ہوگی ‘ یہی نویں رات ہے (یعنی اس تاریخ سمیت رمضان کی نو راتیں باقی رہتی ہیں) اور جب تئیس گزر جائیں تو اس سے متصل ساتویں رات ہوگی اور جب پچیس راتیں گزر جائیں تو اس سے متصل پانچویں ہوگی۔ ابوداؤد طیالسی نے حضرت ابوسعید خدری کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ شب قدر چوبیسویں رات ہے۔
حضرت عبداللہ بن انیس کی مرفوع حدیث ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : مجھے شب قدر (خواب میں) دکھائی گئی تھی مگر میں بھول گیا۔ میں نے اس رات کی صبح کو پانی اور کیچڑ میں اپنے کو سجدہ کرتے (خواب میں) دیکھا تھا۔ راوی کا بیان ہے پھر 23 تاریخ کی رات کو بارش ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے ہم کو نماز پڑھائی ‘ یعنی فجر کی نماز سے فارغ ہو کر منہ پھیرا تو پانی اور کیچڑ کا نشان آپ کی پیشانی اور ناک پر موجود تھا۔ (مسلم و ابوداؤد)
ایک روایت میں آیا ہے ‘ راوی کا بیان ہے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں بدوی ہوں مجھے کوئی (معین) رات بتا دیجئے کہ میں اس رات کو آجاؤں۔ فرمایا : تئیس تاریخ (کے بعد) کی رات کو آجانا۔ ایک اور روایت میں ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اکیسویں تاریخ کی صبح کو شب قدر کے متعلق دریافت کیا۔ فرمایا : کونسی رات ہے ؟ میں نے عرض کیا : بائیس کی رات۔ فرمایا : یہی وہ رات ہے یا آگے والی ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو (شب قدر کا) طلبگار ہو ‘ وہ ستائیسویں شب میں تلاش کرے۔ (رواہ احمد و ابن المنذر بمعناہ) طبرانی نے حضرت جابر بن سمرہ کی حدیث بھی اسی طرح بیان کی ہے۔
حضرت معاویہ ؓ بن ابو سفیان کی شب قدر کے متعلق روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لیلۃ القدر ستائیسویں ہے۔ جن احادیث میں ستائیسویں شب کو لیلۃ القدر کہا گیا ‘ ان کے ساتھ ابوداؤد نے اس حدیث کو بھی بیان کیا ہے اور امام احمد (رح) نے اسی کو لیا ہے اور امام اعظم (رح) کا قول بھی ایک روایت میں یہی آیا ہے۔ حضرت ابی بن کعب کو تو اس پر یقین تھا اور آپ نے اس پر قسم کھائی تھی۔ کسی نے پوچھا : ابو منذر ! آپ کس وجہ سے اس کے قائل ہیں ؟ فرمایا : اس علامت کی وجہ سے جو رسول اللہ ﷺ نے ہم کو بتائی تھی کہ اس روز صبح کو سورج بغیر شعاعوں کے طلوع کرتا ہے۔ (رواہ مسلم)
حضرت عمر ‘ حضرت حذیفہ اور بکثرت دوسرے صحابیوں ؓ کا یہ قول ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے اور اس قول کی تائید میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی وہ روایت پیش کی جاتی ہے جس میں ابوہریرہ نے فرمایا تھا کہ ہم باہم شب قدر کا ذکر کر رہے تھے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کسی کو یاد ہے کہ جب کہ چاند شگاف چشم کی طرح نکلا تھا (یعنی پتلا ‘ خمیدہ ‘ چھوٹا ‘ کم نور) ۔ ابو الحسن فارسی نے کہا : مراد ستائیسویں شب ہے کیونکہ اس رات چاند کی یہی حالت ہوتی ہے۔ ابو الحسن نے کہا : اس سے مراد ہے چاند کے وقت کا پورا ہوجانا (جس کے بعد چاند ڈوب جاتا ہے پھر برآمد نہیں ہوتا) اور یہ ستائیسوں شب کو ہوتا ہے۔
مگر یہ استدلال ضعیف ہے کیونکہ حدیث سے تو یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس شب کو صبح کی سورج بغیر شعاعوں کے نکلتا ہے ‘ اسی طرح اس رات کو چاند کی بھی شعاعیں نہیں ہوتیں۔ چاند کا وقت پورا ہوجانا اس کی علّت نہیں ‘ بلکہ کوئی اور وجہ ہے۔
ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شب قدر کبھی ستائیسوں شب ہوتی ہے۔ یہ بات نہیں معلوم ہوتی کہ ستائیسویں شب ہی شب قدر ہوتی ہے۔
حضرت ابن عمر کی حدیث ہے کہ ایک شخص نے ستائیسویں کو شب قدر دیکھی ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں آخری عشرہ میں تمہارے خوابوں کو (متفق) پاتا ہوں۔ لہٰذا آخری عشرہ کی طاق راتوں میں اس کی طلب کرو۔ (رواہ مسلم) حضرت ابن عمر کی مرفوع روایت ہے کہ (حضور ﷺ نے فرمایا :) شب قدر کو ستائیسویں کی رات میں طلب کرنا چاہیے۔ (رواہ عبدالرزاق) حضرت ابن عباس ؓ سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔ (رواہ احمد) یعنی بیس کے بعد ساتویں رات یا باقی رہنے والی راتوں میں سے ساتویں رات۔ حضرت نعمان بن بشیر کی مرفوع حدیث میں ہے ‘ گزرتی ہوئی ساتویں (ستائیسویں) یا باقی رہتی ہوئی ساتویں۔ (رواہ احمد) حضرت ابن عباس کی مرفوع حدیث ہے ‘ وہ آخری عشرہ میں ہے ‘ گزرتی ہوئی نو میں یا باقی رہتی ہوئی سات میں۔ (رواہ البخاری)
بخاری کی روایت کے دوسرے الفاظ یہ ہیں کہ شب قدر کو تلاش کرو۔ آخری دس راتوں میں ‘ باقی رہنے والی نویں (رات) میں (اور) باقی رہنے والی ساتویں (رات) میں (اور) باقی رہنے والی پانچویں (رات) میں۔
حضرت عبادہ ؓ بن صامت کی روایت ہے کہ ہم کو شب قدر کی اطلاع دینے کے لیے رسول اللہ ﷺ برآمد ہوئے تھے ‘ سامنے آتے ہوئے دو مسلمان مل گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : میں تم کو لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے نکلا تھا مگر فلاں فلاں شخص سامنے سے آتے مل گئے (اور ان کے ساتھ شیطان تھا) پس شب قدر اٹھا لی گئی (یعنی میں اس کی تعیین بھول گیا) امید ہے کہ یہ بات تمہارے لیے بہتر ہی ہوگی۔ اب تم اس کو نویں اور ساتویں اور پانچویں (رات) میں تلاش کرو۔
حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کہ اس کو یعنی شب قدر کو باقی نو (راتوں) میں ‘ یا باقی پانچ راتوں میں ‘ یا (باقی) تین راتوں میں یا آخری رات میں تلاش کرو۔ (ترمذی) امام احمد نے حضرت عبادہ بن صامت کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔
حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ ایک صحابی نے خواب میں دیکھا کہ شب قدر آخری سات راتوں میں ہے (یعنی آخری ہفتہ کی پہلی رات میں) حضور ﷺ نے فرمایا : میں خیال کرتا ہوں کہ تم لوگوں کے خواب آخری سات راتوں کے متعلق متفق ہیں ‘ لہٰذا جو شخص شب قدر کا طلبگار ہو وہ آخری سات راتوں میں اس کی طلب کرے۔ (متفق علیہ) ایک روایت میں آیا ہے کہ کچھ لوگوں کو خواب میں دکھایا گیا کہ شب قدر آخری ہفتہ میں ہے اور کچھ لوگوں کو خواب میں دکھایا گیا کہ شب قدر آخری عشرہ میں ہے ‘ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آخری ہفتہ میں شب قدر کی تلاش کرو۔
حضرت علی ؓ کی مرفوع روایت ہے ‘ حضور ﷺ نے فرمایا : اگر تم (نیند یا ضعف جسمانی وغیرہ سے) مغلوب ہوجاؤ (اور رات کو قیام نہ کرسکو) تب بھی آخری ہفتہ میں تم مغلوب نہ ہو (یعنی سوتے نہ رہو اور کوشش کر کے نماز کے لیے کھڑے ہو) ۔ (رواہ احمد)
حضرت ابن عمر کی مرفوع حدیث میں ہے جس کو مسلم نے نقل کیا ہے کہ شب قدر کو آخری عشرہ میں تلاش کرو لیکن اگر کوئی کمزور یا مجبوری ہوجائے تو آخری ہفتہ میں اس کو (نیند وغیرہ سے) مغلوب نہ ہونا چاہیے۔
ان احادیث سے ظاہر ہے کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرہ میں ہوتی ہے ‘ کبھی اکیسویں شب میں جیسا کہ حضرت ابوسعید ؓ وغیرہ کی روایت سے ثابت ہے اور کبھی تئیسویں شب میں جیسا کہ حضرت عبداللہ بن انیس کی روایت ہے اور کبھی چوبیسویں شب میں جس میں نزول قرآن ہوا تھا اور کبھی ستائیسویں شب میں جیسا کہ حضرت ابی بن کعب ؓ نے علامت سے پہچانا تھا اور کبھی نو روز باقی رہنے والی تاریخ کو یعنی بائیسوں سب میں یا پانچ دن باقی رہنے والی تاریخ کو یعنی چھبیسویں شب میں ‘ یا تین روز باقی رہنے والی تاریخ کو یعنی اٹھائیسوں شب میں یا نو دن گزرنے والی تاریخ کو یعنی انتیسویں شب میں یا آخری رات کو یعنی تئیسویں شب میں۔ اس توجیہ کے بعد احادیث میں تعارض باقی نہیں رہتا ‘ واللہ اعلم۔
بعض علماء نے کہا : آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے شعب قدر کی فضیلت میں قرآن نازل کیا (یعنی قرآن کی آیت میں شب قدر کی فضیلت بیان کی) اور یہ بیان فضیلت آئندہ آیت میں ہے ‘ فرمایا :
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ Open ayah 97:2 in the Quran reader
اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟
وما ادراک ما لیلۃ القدر . مَا دونوں جگہ استفہام انکاری کے لیے ہے اور دونوں جگہ لیلۃ القدر کی عظمت
کا اظہار اور تعجب مقصود ہے یعنی کسی چیز نے تم کو شب قدر کی عظمت اور فضیلت نہیں بتائی ‘ اس کی فضیلت رسائیِ عقل سے بھی زیادہ ہے۔
لَیْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ Open ayah 97:3 in the Quran reader
شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے
لیلۃ القدر خیر من الف شھر . یعنی ایک شب قدر ان ہزار مہینوں سے افضل ہے جو شب قدر سے خالی ہوں۔ مراد یہ ہے کہ ایک شب قدر کی عبادت دوسرے ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص ایمان کے ساتھ بامید ثواب شب قدر میں (نماز کے لیے) کھڑا ہوتا ہے ‘ اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ (بخاری)
مسلم کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ جو شخص لیلۃ القدر میں قیام کرے اور (جس رات میں وہ نماز کو کھڑا ہوا ہے) وہ لیلۃ القدر کی پڑجائے (یعنی بغیر علم کے کسی رات میں نماز کو کھڑا ہو اور وہ رات واقع میں شب قدر ہو) امام احمد نے حضرت عبادہ ؓ بن صامت کی روایت سے جو حدیث بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص اس (رات) میں کھڑا ہوا پھر وہ (شب قدر) اس کے موافق پڑگئی۔ یعنی وسط رات میں اٹھا اور واقع میں وہ رات لیلۃ القدر کے مطابق ہوگئی تو اس کی مغفرت کردی جاتی ہے۔
تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ Open ayah 97:4 in the Quran reader
اس میں روح (الامین) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام کے) لیے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں
تنزل الملئکۃ والروح فیھا باذن بھم . روح کی تحقیق پہلے گزر چکی ہے۔ یہ شب قدر کی دوسری فضیلت کا اظہار ہے یا خیر من الف شھر کی علت ہے یعنی شب قدر میں ربّ کے حکم سے ملائکہ اور روح آسمان سے زمین کی طرف اترتے ہیں (یہ شب قدر کی مزید فضیلت ہے یا شب قدر کے ہزار مہینوں سے افضل ہونے کی وجہ ہے) حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب شب قدر ہوتی ہے تو جبرئیل ( علیہ السلام) ملائکہ کی فوج کے ساتھ اترتے ہیں (اس وقت) جو شخص کھڑا یا بیٹھا ‘ اللہ کی یاد کرتا ہوتا ہے ‘ اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔
من کل امر . ہر اس امر کی غرض سے جو اس رات میں مقدر ہوتا ہے۔
سَلٰمٌ١ۛ۫ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠ Open ayah 97:5 in the Quran reader
یہ (رات) طلوع صبح تک (امان اور) سلامتی ہے
سلم . یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے یعنی وہ امر سلام (سلامتی والا) ہوتا ہے یا ہر مصیبت سے محفوظ رہنے کا موجب ہوتا ہے ‘ بظاہر امر سے مراد ہے رحمت اور ثواب اعمال میں برکت اور وہ اطمینان جو اللہ کی یاد کرنے والے اہل ایمان کے دلوں میں پیدا ہوجاتا ہے۔
ھی حتی مطلع الفجر . وہ شب قدر طلوع فجر تک ہوتی ہے۔ ھی مبتداء ہے اور حتی مطلع الفجر ‘ خبر۔ ہر رات طلوع فجر تک ہوا کرتی ہے ‘ اس لیے محض لیلۃ القدر کی طرف ضمیر راجع کرنا مفید نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ شب قدر مع اپنے اوصاف (نزول ملائکہ اور رحمت وغیرہ) کے صبح تک رہتی ہے یا یوں کہا جائے کہھی مبتداء ہے اور سلام خبر مقدم ہے اور یہ تقدیم مفید حصر ہے اور پورا جملہ لیلۃ القدر کی دوسری خبر ہے یعنی شب قدر محض سلامتی اور ساری خیر ہی خیر ہے اس میں شر بالکل نہیں ہے۔ ضحاک نے کہا : اس رات میں اللہ شر مقرر نہیں کرتا اور صرف سلامتی کے احکام جاری کرتا ہے۔ مجاہد نے کہا : ساری رات شیطان کوئی بدی نہیں کرسکتا اور نہ کوئی اذیت رساں حادثہ پیدا کرسکتا ہے۔ بعض علماء نے سلامٌ کہنے کی یہ وجہ بھی بیان کی ہے کہ اس رات میں ملائکہ مؤمنوں کو بکثرت سلام کرتے ہیں ‘ اس مطلب پر حتی مطلع الفجر کا تعلق سلام کے مفہوم یعنی تسلیم (سلام کرنا) سے ہوگا یعنی یہ رات طلوع فجر تک سلاموں سے بھری ہوئی ہے۔
فائدہ بعض علماء کا قول ہے کہ شب قدر میں ہر چیز سجدہ کرتی دکھائی دیتی ہے اور ہر جگہ نور سے جگمگا جاتی ہے اور ملائکہ طرف سے سلام اور خطاب سنا جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں اس کا انکشاف بعض اہل کشف کو ہی ہوتا ہے ‘ ہر شخص کو یہ کیفیت نظر نہیں آتی ‘ نہ حصول ثواب کے لیے ان کیفیات میں سے کسی کیفیت کا انکشاف ضروری ہے ‘ اگر ان احوال کا انکشاف عمومی یا اکثری ہوتا تو تمام امت اس کو دیکھتی اور کسی سے پوشیدگی ممکن ہی نہ ہوتی خصوصاً تمام صحابہ ‘ تابعین اور اولیاء امت (رح) کی نظروں کے سامنے تو یہ واقعات ضرور ہی آتے۔ ہاں ! شب قدر کا ثواب حاصل کرنے کے لیے عبادت میں مشغول ہونا لازم ہے۔ حدیث : من قام لیلۃ القدر ایمانًا اور یصلون علٰی کل عبد قائم او قاعید یذکر اللہ سے یہی مفہوم مستفاد ہوتا ہے۔
مسئلہ جس نے شب قدر کی عشاء اور فجر کی نماز جماعت سے پڑھ لی ‘ اس کو شب قدر کا ثواب مل گیا اور جو اس سے زیادہ (عبادت) کرے گا ‘ اللہ اس کے ثواب میں اضافہ کر دے گا۔ حضرت عثمان غنی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے جماعت کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی ‘ اس نے گویا نصف شب کا قیام کیا اور جس نے جماعت کے ساتھ فجر کی نماز بھی پڑھی ‘ اس نے گویا پوری رات عبادت کی۔ (مسلم)
یعنی باجماعت عشاء کی نماز کے بعد باجماعت فجر کی نماز بھی پڑھی تو گویا پوری رات نماز پڑھی۔ ہر نماز نصف شب کی عبادت کے قائم مقام ہوئی ‘ رات کی یہی دو فرض نمازیں ہیں (ایک ابتدائی ‘ دوسری انتہائی) اور مغرب کی نمازوں کی وتر نماز ہے۔
مستحب ہے کہ شب قدر میں : اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ کا ورد زیادہ کرے۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اگر مجھے شب قدر معلوم ہوجائے تو میں کیا کہوں ؟ فرمایا ‘ کہو : اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ........۔
(رواہ احمد و ابن ماجہ والترمذی)
الحمد اللہ سورة القدر ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ