Explained with ayahs 1–5
غیر متعلقہ روایات اور بحث :
مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے اسی کا نام لیلۃ المبارکہ بھی ہے اور جگہ ارشاد ہے انا انزلنٰہ فی لیلۃ مبارکتہ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے جیسے فرمایا شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ابن عباس وغیرہ کا قول ہے کہ پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول اللہ صلی اللہ پر نازل ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلیٰ نعمت اسی رات…
Read the full tafseer →سورة القدر 2
مفسرین نے بالعموم اس کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ اس رات کا عمل خیر ہزار مہینوں کے عمل خیر سے افضل ہے جن میں شب قدر شمار نہ ہو۔ اس میں شک ہیں کہ یہ بات اپنی جگہ درست ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اس رات کے عمل کی بڑی فضیلت بیان کی ہے۔ چناچہ بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا من قام لیلۃ القدر ایمانا و احتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ " جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور اللہ کے اجر کی خاطر عبادت کے لیے کھڑا رہا اس کے تمام پچھلے گناہ معاف ہوگئے "۔ اور مسند احمد میں حضرت عبادہ بن صامت کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا " شب قدر رمضان کی آخری دس راتوں میں ہے، جو شخص ان کے ا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
خلاصہ تفسیر
بیشک ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا ہے (تحقیق شب قدر میں نازل ہونے کی سورة دخان میں گزری ہے) اور زیادت تشویف کے لئے فرماتے ہیں کہ۔) آپ کو کچھ معلوم ہے کہ شب قدر کیسی چیز ہے (آگے جواب ہے کہ) شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے (یعنی ہزار مہینہ تک عبادت کرنے کا جس قدر ثواب ہے اس سے زیادہ شب قدر میں عبادت کرنے کا ثواب ہے، کذا فی الخازن اور وہ رات ایسی ہے کہ) اس رات میں فرشتے اور روح القدس (یعنی جبرائیل علیہ السلام) اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر خیر کو لے کر (زمین کی طرف) اترتے ہیں (اور وہ شب) سراپا سلام ہے (جیسا حدیث بیہقی میں حضرت انس سے مرفوعاً مروی ہے کہ شب قدر میں حضرت جبرئیل ؑ فرشتوں…
Read the full tafseer →لیلۃ القدر کی برکت: یہ اس رات کی برکت بیان ہوئی ہے کہ یہ ایک رات ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ یہ بہتری، ظاہر ہے کہ حصول مقصد کے اعتبار سے ہے۔ جس طرح اس مادی دنیا میں فصلوں، موسموں اور اوقات کا اعتبار ہے اسی طرح روحانی عالم میں بھی ان کا اعتبار ہے۔ جس طرح خاص خاص چیزوں کے بونے کے لیے خاص خاص موسم اور مہینے ہیں، ان میں آپ بوتے ہیں تو وہ پروان چڑھتی اور مثمر ہوتی ہیں اور اگر ان موسموں اور مہینوں کو آپ نظر انداز کر دیتے ہیں تو دوسرے مہینوں کی طویل سے طویل مدت بھی ان کا بدل نہیں ہو سکتی اسی طرح روحانی عالم میں بھی خاص خاص کاموں کے لیے خاص موسم اور خاص اوقات و ایام مقرر ہیں۔ اگر ان اوقات و ایام میں وہ…
Read the full tafseer →3۔ 1 یعنی اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے اور ہزار مہینے 83 سال چار مہینے بنتے ہیں یہ امت محمدیہ پر اللہ کا کتنا احسان عظیم ہے کہ مختصر عمر میں زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لیے کیسی سہولت عطا فرما دی۔
Read the full tafseer →2: یعنی اس ایک رات میں عبادت کرنے کا ثواب ایک ہزار مہینوں میں عبادت کرنے سے بھی زیادہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وما ادرک .................... القدر (2:97) ” اور تم کیا جانو لیلتہ القدر کیا ہے “۔ یہ اس قدر عظیم ہے کہ انسانی فہم وادراک کی حدود سے ماوراء ہے۔ بس یہی ہے اس کا مفہوم اور اس سلسلے میں عامتہ الناس میں جو اوہام و خرافات مشہور ہیں۔ ان کے تذکرے کی یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بس یہ ایک نہایت ہی عظیم رات ہے ، اور اس عظمت اس وجہ سے ہے کہ اس کو اللہ نے ایک عظیم کام کے لئے منتخب کیا ہے یعنی نزول قرآن کریم کے لئے اور اس لئے کہ اللہ نے اس رات کو اپنے نور سے پوری کائنات کو بھردیا۔ اور اس رات کو اللہ نے انسانیت کو وہ چیز عطا کی تھی جس کی اسے بےحد ضرورت تھی۔ انسانی روح اور انسانی زندگی کو اس رات یہ عطیہ ملا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
8 یعنی اس رات میں نیکی کرنا ایسا ہے گویا ہزار مہینے تک نیکی کرتا رہا۔ بلکہ اس سے بھی زائد۔
Read the full tafseer →آیت 3{ لَـیْلَۃُ الْقَدْرِلا خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ۔ } ”لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔“
یہ بہتری اور افضلیت کس اعتبار سے ہے ؟ اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ اس رات کا عمل ِخیر ہزار مہینوں کے عمل ِخیر سے بہتر ہے جس میں لیلۃ القدر نہ ہو۔ حضرت ابوہریرہ رض سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ 1 ’ ’ جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اور اللہ سے اجر کی امید میں کھڑارہا اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کردیے گئے“۔ اس رات کی افضلیت کے ضمن میں ایک رائے یہ ہے کہ اس ایک رات میں اتنی خیر تقسیم کی جاتی ہے…
Read the full tafseer →2 ہزار مہینے سے بہتر ہونے کے مختلف مفہوم :۔ یہاں ہزار مہینوں سے مراد ہزار مہینے کی معینہ مدت نہیں جس کے تراسی سال اور چار مہینے بنتے ہیں۔ اہل عرب کا قاعدہ تھا کہ جب انہیں بہت زیادہ مقدار یا مدت کا اظہار کرنا مقصود ہوتا تو ہزار یعنی الف کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ کیونکہ وہ حساب نہیں جانتے تھے۔ اور ان کے ہاں گنتی کا سب سے بڑا عدد الف یعنی ہزار ہی تھا۔ بلکہ اس سے مراد ایک طویل زمانہ ہے۔ اس وضاحت کے بعد اس آیت کے دو مطلب بیان کیے جاتے ہیں ایک یہ کہ بنی نوع انسان کی خیر و بھلائی کا کام جتنا اس ایک رات میں ہوا (یعنی قرآن نازل ہوا) اتنا کام کسی طویل دور انسانی میں بھی نہیں ہوا تھا اور دوسرا مطلب یہ ہے…
Read the full tafseer →3۔ (اجر عبادت کے حساب سے) قال سفیان الثوری بلغنی عن مجاھد قال علمھا صیامھا وقیامھا خیر من الف شھر (ابن جریر) قرآن مجید نے جس خدا کو پیش کیا ہے، اس کے ہاں انعامات اور بخششوں کا کچھ ٹھکانہ ہے ! بشارت یہ مل رہی ہے کہ عبادت کا اجر یوں ہی معمولا کیا کم ہوتا ہے، لیکن جب یہ رات نزول قرآن کی سالگرہ والی آتی ہے، تو وہ اجر بھی بڑھ ہی نہیں جاتا، بلکہ ہزار گنے سے بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے ! (آیت) ” الف شھر “۔ حساب سے ہزار مہینوں کے تقریبا تراسی 83 سال ہوتے ہیں، لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی عدد متعین مراد نہ ہو، بلکہ محاورۂ عرب کے مطابق محض تکثیر عدد مراد ہو۔ وذکر الالف اما للتکثیر (بیضاوی) وقیل المعنی خیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، یقیناً ہم نے اس کو یعنی قرآن کو شب قدر یعنی شرف اور عظمت والی رات میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا کی طرف یکبارگی نازل فرمایا اور اے محمد ﷺ ! آپ ﷺ کو کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟ (یہ استفہام) لیلۃ القدر کی عظمت اور اس سے تعجب کے اظہار کا بیان ہے، شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جن میں شب قدر نہ ہ، یعنی شب قدر میں عمل صالح ہزار مہینوں میں عمل سیبہتر ہے جن میں شب قدر نہ ہو، اس رات میں (عام) فرشتے اور جبرئیل (رح) تعالیٰ اترتے ہیں (تنزل) کی اصل (تتنزل) ہے ایک تاء کے حذف کے ساتھ ہے اپنے رب کے حکم سے ہر کام کو سرانجام دنیے کے لئے جس کے…
Read the full tafseer →لیلۃ القدر خیر من الف شھر . یعنی ایک شب قدر ان ہزار مہینوں سے افضل ہے جو شب قدر سے خالی ہوں۔ مراد یہ ہے کہ ایک شب قدر کی عبادت دوسرے ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص ایمان کے ساتھ بامید ثواب شب قدر میں (نماز کے لیے) کھڑا ہوتا ہے ‘ اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ (بخاری)
مسلم کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ جو شخص لیلۃ القدر میں قیام کرے اور (جس رات میں وہ نماز کو کھڑا ہوا ہے) وہ لیلۃ القدر کی پڑجائے (یعنی بغیر علم کے کسی رات میں نماز کو کھڑا ہو اور وہ رات واقع میں شب قدر ہو) امام احمد نے حضرت عبادہ ؓ بن صامت کی روایت سے جو حدیث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
(3۔ 5) اور شب قدر اس قدر فضیلت والی رات ہے کہ اس شب میں عبادت کرنا ہزار مہینوں میں عبادت کرنے سے جس میں شب قدر نہ بہتر ہے اس رات میں فرشتے اور جبریل امین اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں اور امت محمدیہ میں ہر ایک نمازی اور روزہ دار کو سلام کرتے ہیں یا یہ کہ ہر ایک آفت سے اس رات میں سلامتی ہوتی ہے اور اسرات کی فضیتل و برکت فجر تک رہتی ہے۔
Read the full tafseer →(لیلتۃ القدر خیر من الف شھر : یعنی لیتۃ القدر اپنی برکتوں اور عبادت کے اجر و ثواب کے لحاظ سے ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جن میں یہ رات نہ ہو۔ پھر ہزار ماہ سے یا تو یہ عدد مراد ہے یا عربوں کے عام دستور کے مطابق کثرت مراد ہے جو اس عدد سے بھی زیادہ ہوس کتی ہے۔ یہاں بعض مفسرین نے بنو امیہ کے ایام حکومت (جو ایکہ زار ماہ تھے) کی مذمت میں ایک روایت لکھی ہے ، حالانکہ ترمذی ؒ نے اسے روایت کر کے خود ہی ضعیف قرار دیا ہے۔ (دیکھیے ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة لیلتۃ القدر : 3350) اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ بنو امیہ کا عہد اگرچہ خلفائے راشدین کے عہد کا مقابلہ نہیں کرسکتا، مگر وہ بھی اسلام کے عروج کا عہد ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وما ادراک ما لیلۃ القدر۔۔ تا۔۔۔ الف شھر۔
فراء نے کہا : قرآن حکیم میں جہاں بھی وما ادراک کے الفاظ ہیں، اس کے بارے میں آپ کو آگاہ کردیا گیا ہے اور جہاں کہیں بھی ومایدریک کے الفاظ ہیں اس کے بارے میں آپ کو آگاہ نہیں کیا گیا ہے یہی سفیان کا قول ہے، یہ بحث پہلے گزرچکی ہے۔ لیلۃ القدر کی فضیلت کو بیان یا ہے زمانہ کی فضیلت ان فضائل کی کثرت کی وجہ سے ہوتی ہے جو اس میں واقع ہوتے ہیں اس رات میں اس خیر کثیر کی تقسیم کی جاتی ہے جس کی مثل ہزار مہینوں میں بھی نہیں پائی جاتی۔ واللہ اعلم۔ اکثر مفسرین نے کہا : اس ایک رات میں عمل ان ہزار مہینوں کے اعمال سے بہتر ہے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو۔ ابوالعالیہ نے کہا، لیلۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة انا انزلنہ فی لیلۃ القدر مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن عباس اور عائشہ ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔
3۔ ابن الضریس وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر بیشک ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں اتارا۔ یعنی شب قدر میں پورا قرآن کریم ایک ہی بار اس ذکر سے نازل کیا گیا جو رب العزت کے پاس اور اسے آسمان دنیا میں بیت العزۃ میں رکھ دیا گیا پھر جبریل (علیہ السلام) اسے لے کر محمد صلی اللہ پر غار حرا میں نازل ہونا شروع ہوئے۔ بندوں کے کلام اور ان کے اعمال…
Read the full tafseer →[لَيْلَةُ الْقَدْرِ ڏ خَيْرٌ: قدر کی رات زیادہ بہتر ہے ][ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ : ایک ہزار مہینوں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اوپر سورة القدر کا ترجمہ کیا گیا ہے جس میں قرآن مجید نازل فرمانے کا اور شب قدر کی برکات کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اول تو یوں فرمایا کہ ﴿ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِۚۖ001﴾ (بیشک ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا) قرآن مجید تھوڑا تھوڑا کر کے تئیس سال میں نازل ہوا ہے پھر شب قدر میں نازل فرمانے کا کیا مطلب ہے ؟ اس کے بارے میں حضرات مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ پورا قرآن مجید لوح محفوظ سے اتار کر آسمان دنیا یعنی قریب والے آسمان میں اتار دیا گیا، وہاں بیت العزت میں رکھ دیا گیا پھر جبرائیل (علیہ السلام) حسب الحکم تھوڑا تھوڑا کر کے رسول اللہ ﷺ کے پاس وحی کے طور پر لاتے رہے۔ سورة البقرہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
عظمت شب قدر وماہ رمضان بنزول قرآن :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” انآانزلنہ فی لیلۃ القدر ......... الی ....... ھی حتی مطلع الفجر “۔
(ربط) گزشتہ سورة اقرا میں آغاز اور ابتداء بعثت کا ذکر تھا، اب اس سورت میں نزول قرآن کا زمانہ اور شب قدر کی فضیلت بیان کی جارہی ہے جس میں اللہ رب العزت نے قرآن جیسی نعمت اور عظیم کتاب ہدایت نازل فرمائی۔
یا یہ کہہ دیجئے کہ گزشتہ سورت میں انسان پر عنایات والطاف خداوندی کا ذکر تھا اور اس کی ترقیات کا، اب اس مناسبت سے انسانی سعادت اور فوز و فلاح کی اصل اساس کتاب الہی اور قرآن حکیم کا نزول بیان کیا جارہا ہے کہ وہ شب قدر میں ہوا، جس میں عقائد، عبادات، معاملات، تہذیب نفس، اور…
Read the full tafseer →3:۔ ” لیلۃ القدر “ شب قدر کی برکات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ایک رات دوسرے ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ واشبہ الاقوال فی ذلک بظاہر التنزیل قول من قال : عمل فی لیلۃ القدر خیر من عمل الف شہر لیس فیہا لیلۃ القدر (ابن جریر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
پہلی سورة کا خلاصہ
پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور پھر اسے درجہ کمال تک پہنچانے کے لئے علم کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد انسانوں کی دو اقسام کا ذکر کیا۔ ایک وہ قسم جو اہل ایمان ہیں اور فطرت کے مطابق قرآن پاک کا علم حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی وحدانیت کو مانتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو خدا کا عاجز بندہ سمجھتے ہیں اور اس کے حضور نماز ادا کرتے ہیں۔ تقویٰ کا حکم دیتے ہیں اور نیکی اور ہدایت کے راستے پر گامزن ہیں۔
انسانوں کا دوسرا گروہ سرکش ہے اپنے آپ کو مال و جاہ کی وجہ سے مستغنی خیال کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں رکھتا۔ اور اللہ کے بندوں کو اس کی عبادت…
Read the full tafseer →لَيْلَۃُ الْقَدْرِ 0ۥۙ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ 3 ۭ ؔ
خير
الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه :
الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» «3» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ،
( خ ی ر ) الخیر
۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ انا مبتداء انزلناہ الضمیر یرجع الی القرآن وان لم یتقدم ذکرہ لکونہ معھودا معلومًا فی متعلق بانزلنا والجملۃ خبر المبتدء۔ وما ادراک الجملۃ استفہامیۃ لبیان عظم شان لیلۃ القدر۔ لیلۃ القدر مبتدء خبر من الف شہر خبرہ والجملۃ التامۃ جواب الاستفھام۔ تنزل بحذف احدی التائین من الاصل۔ الملائکۃ فاعلہ و تانیث الفعل لا عتبار جمعیۃ الفاعل ای متلبسین والروح معطوف علی الملائکۃ۔ فیھا ای فی لیلۃ القدر والجار متعلق بتنزل باذن ربہم متعلق تنزل او بمحذوف ھو حال من فاعلہ ای متلبسین باذن ربہم ای بامرہ۔ من کل امر ای من اجل کل امر وقیل من بمعنی اللام ای لکل امرو قیل بمعنی الباء ای بکل امر۔ متعلق بالفعل السابق۔…
Read the full tafseer →لَیْلَۃُ الْقَدْرِ 5 لا خَیْرٌمِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ ۔ (القدر : 3)
(شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ )
ہزار مہینوں سے بہتر ہونے کا مفہوم
جس رات کی عظمت کو پروردگار نے استفہامیہ انداز میں اٹھایا، اس کا جواب چونکہ کسی کے بس میں نہ تھا اس لیے خود ہی اس کا جواب ارشاد فرمایا کہ وہ شب قدر ہزار مہینوں سے بھی افضل ہے۔ کتنی افضل ہے دوگنا، چار گنا یا ہزار گنا۔ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس کی تحدید نہیں فرمائی۔ ویسے بھی ہزار کا لفظ عربوں میں ایسے مواقع پر ایک متعین عدد کے لیے نہیں بولا جاتا بلکہ غیرمعمولی کثرت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ یعنی وہ رات اپنی فضیلت و شرف میں غیرمعمولی اور بےحد و حساب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
ربط سورت : سورة اقراء میں جس چیز کو پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے وہ قرآن مجید کی وحی ہے اور قرآن مجید کا نزول لیلۃ القدر میں ہوا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ہم نے قرآن مجید کو ” لَیْلَۃُ الْقَدْرِ “ میں نازل کیا ہے یہاں اس رات کو لیلۃ القدر کہا گیا ہے اور سورة الدُّخان کی ابتدائی آیات میں اسے مبارک رات قراردیا گیا ہے۔ القدر کے دو معانی ہیں۔
1 ۔ عزت والی رات
2 ۔ القدر سے مراد تقدیر بھی ہے کیونکہ اس رات میں لوگوں کی سال بھر کی تقدیر کا فیصلہ کیا جاتا ہے اس لیے اس کا نام ” لَیْلَۃُ الْقَدْرِ “ ہے۔
امام قرطبی (رح) نے اس سے مراد لی ہے کہ یہ عزّت والی کتاب عزّتِ مآب رسول پر، عزّت والی رات میں…
Read the full tafseer →ایک ہزار مہینہ کے برابر :
3 : لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ (شب قدر ایک ہزار مہینہ سے بہتر ہے) ایک ہزار مہینے جن میں لیلۃ القدر نہ ہو اور اس کی فضیلت اتنی بلند اس لئے ہوئی کہ اس میں ملائکہ اور روح الامین اترتے ہیں۔ اور یہ ہر حکمت والی بات کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس کی تخصیص کے بارے میں مذکور ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر فرمایا۔ جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک ہزار ماہ ہتھیار پہنے تو مسلمانوں کو اس سے تعجب ہوا اور ان کے مقابلہ میں اپنے اعمال قلیل معلوم ہوئے۔ تو ان کو ایک رات ایسی دے دی گئی جو اس غازی فی سبیل اللہ کی مدت سے بہت بہتر تھی۔
Read the full tafseer →3 ۔” لیلۃ القدر خیر من الف شھر “ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے ذکر کیا گیا بنی اسرائیل کے ایک شخص کا جس نے اللہ کے راستہ میں اپنے کندھے پر ہزار مہینے ہتھیار اٹھائے تو رسول اللہ ﷺ کو اس سے تعجب ہوا اور اس کی اپنی امت کے لئے تمنا کی اور فرمایا اے میرے رب ! آپ نے میری امت کو اور امتوں میں سے سب سے چھوٹی عمر والا بنایا اور کم عمل والا بنایا تو اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کو لیلۃ القدر دی اور فرمایا ” لیلۃ القدر خیر من الف شھر “ ایسے جن میں اسرائیلی نے اللہ کے راستے میں ہتھیار اٹھایا اور آپ (علیہ السلام) کی امت کے لئے قیامت کے دن تک۔
مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ صحیح معنی آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر کے یہ ہیں کہ لوح محفوظ سے شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف اول آسمان پر اترا اور پھر رفتہ رفتہ آنحضرت ﷺ پر تئیس سال تک نازل ہوتا رہا۔ نسائی بیہقی ‘ مستدرک 2 ؎ حاکم مصنف ابن ابی شیبہ طبرانی میں معتبر سند سے جو روایتیں ہیں ان میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے یہی معنی اس آیت کے بیان فرمائے ہیں اگرچہ مفسرین نے اس آیت کے معنی اور بھی بیان کئے ہیں لیکن وہ معنی اس قدر صحیح نہیں ہیں شب قدر کی فضیلت یہت سی حدیثوں میں آئی ہے اب آگے لیلۃ القدر کی یہ فضیلت بیان فرمائی کہ اس ایک رات کی عبادت اور دونوں کے ہزار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے۔ ہزار مہینے کے تراسی سال…
Read the full tafseer →(لَيْلَةُ الْقَدْرِ ڏ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ ) یعنی قدر کی رات فضیلت میں ایک ہزار مہینے کے برابر ہے وہ عمل جو شب قدر میں واقع ہوتا ہے ایک ہزار مہینے میں جو شب قدر سے خالی ہوں واقع ہونے والے عمل سے بہتر ہے یہ ان امور میں سے ہے جن پر خرد حیران اور عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ضعیف القوی امت کو ایسی رات سے نوازا جس کے اندر عمل ایک ہزار مہینوں کے عمل سے بڑھ کر ہے یہ ایک ایسے معمر شخص کی عمر کے برابر ہے جسے اسی سال سے زیادہ طویل وعمر دی گئی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
شب قدر
قول باری ہے (انا انزلناہ فی لیلۃ القدر ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے) تا قول باری (لیلۃ القدر خیر من الف شھر قدر کی رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے) ایک قول کے مطابق شب قدر اس ہزار مہینے سے بہتر ہے جس میں شب قدر واقع نہ ہوئی ہو۔ وہ اس لئے کہ شب قدر میں اس قدر خیر اور بھلائی تقسیم ہوتی ہے کہ ایک ہزار مہینوں میں اتنی بھلائی تقسیم نہیں ہوتی۔ اس بنا پر شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔
اوقات واماکن کی ایک دوسرے پر فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ فضیلت والے اوقات اور مقامات میں بہت زیادہ خیروبرکت ہوتی ہے اور ان کا نفع بھی بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ قدر کی رات کب ہوتی ہے اس کے بارے میں حضور ﷺ سے مختلف…
Read the full tafseer →3 ۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بھی بہتر : سو اس امر کی تصریح فرمائی گئی کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے کہ اس میں انسانیت کو قرآن حکیم کے اس نور کامل اور مہ مبین سے نوازا گیا، جو اس کے لیے دنیا و آخرت کی سعادت و کامیابی کا ضامن و کفیل، اور جس جیسی دوسری کوئی نعمت نہیں، پھر ہزار مہینوں یعنی الف شہر کا ذکر بھی کوئی تحدید اور تقیید کے طور پر نہیں بلکہ تکثیر کے لیے ہے، جیسا کہ محاورہ و زبان میں ایسا استعمال شائع و ذرائع ہے، بہرکیف یہ رات ایک بڑی عظیم الشان رات ہے، اور اس میں ایک رات میں انسان کو جو خیرات و برکات نصیب ہوتی ہیں وہ ہزار مہینوں میں بھی نصیب نہیں ہوسکتیں، جس طرح اس مادی دنیا میں مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لیلۃ القدر ہزار راتوں سے بہتر ہے
تشریح : سب سے پہلے تو '' اسے اتارا ''۔ تمام مفسرین نے سورة کی ضمیرکو قرآن کا مرجع ہی ظاہر کیا ہے۔ یعنی ہم نے قرآن کو شب قدر یعنی لیلۃ القدر میں نازل کیا۔ اب شب قدر کے بارے میں کیونکہ یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ کون سی رات ہے اور کس مہینے میں آتی ہے۔ بیشتر علماء اور مفسرین اور مستند محدثین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ یہ رات رمضان کے آخری عشرے میں آتی ہے اس کی دلیل یہ ہے '' رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ''۔۔ (سورۃ البقرہ 185)
اسی طرح '' ہم نے اسے ایک برکت والی رات میں نازل کیا ''۔۔ (دخان :3)
ان دونوں آیات سے ایک توہٗ کی ضمیر کا قرآن کی طرف ہونا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة القدر۔
آیات 1 تا 5۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے اس کلام یعنی قرآن مجید کو شب قدر میں نازل فرمایا کہ لوح محفوظ سے آسمان اول پر اتارا اور پھر مسلسل تئیس برس میں نازل ہوتا رہا یہ اس کی ابتدا لیلۃ القدر سے ہوئی اور پھر بتدریج نازل ہوتا رہا۔ حدیث شریف کے مطابق تمام آسمانی کتابیں رمضان المبارک میں نازل ہوئیں کہ اس ماہ مبارک کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ انسانوں میں فرشتوں جیسی صفات پیدا کردیتا ہے کھانے پینے سے رک جانا ، خطا سے بچنا اور نیکی میں زیادہ کوشش کرنا لہذا ساری کتابیں اسی مبارک مہینے میں نازل ہوئیں اور نزول قرآن شب قدر کو شروع ہوا جس کی فضیلت میں یہ بات بھی ہے کہ یہ ایک رات ہزار ماہ سے زیادہ کا درجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 2 یعنی اس میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت سے زیادہ ثواب رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →(97:3) لیلۃ القدر خیر من الف شہر۔ مکمل جملہ مذکورہ بالا استفہام کا جواب ہے۔
لیلۃ القدر مضاف مضاف الیہ۔ مل کر مبتدائ۔ باقی جملہ مبتداء کی خبر۔ لیلۃ القدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے یعنی اس رات کی عبادت ایک ہزار ماہ سے بہتر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔
لیلۃ القدر۔ شب قدر۔ قدر کی رات۔ الف شھر۔ ایک ہزار مہینے۔ تنزل۔ اترتے ہیں۔ روح۔ حضرت جبرئیل۔ اذن۔ اجازت۔ سلام۔ سلامتی۔ مطلع الفجر۔ صبح کے طلوع ہونے (تک)
تشریح :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اس کو (قرآن کریم کو) قدر کی رات میں اتارا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا ہے کہ کیا آپ کو معلوم ہے یہ قدر کی رات کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جواب عنایت فرمایا کہ وہ رات ہے جو ہزار مہینوں کی راتوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اس میں اللہ کی طرف سے جبرئیل اور فرشتے ہر سلامتی کے فیصلے کو لے کر نازل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ طلوع فجر ہوجاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی سلامتی، عزت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
(ف 2) جو شب قدر سے خالی ہو، اس ایک رات میں نیک عمل کرنا ہزارراتوں کے عمل سے بہتر ہے حدیث شریف میں ہے کہ نبی ﷺ نے امم گذشتہ کے ایک شخص کا ذکر کیا جو تمام رات عبادت کرتا تھا اور کافروں کے ساتھ جہاد میں مصروف رہتا تھا اس طرح اس نے ہزار مہینے گزارے تھے مسلمانوں کو اس سے تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو شب قدر عطافرمائی اور یہ آیت نازل کی شب قدر ہزارمہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے حبیب پر کرم ہے کہ آپ کے امتی شب قدر کی ایک رات عبادت کریں تو ان کا ثواب پچھلی امتوں کے ہزار ماہ کی عبادت کرنے والوں سے زیادہ ہو۔ اب آگے فرمایا کہ شب قدر ایسی معظم رات ہے کہ اس رات کو اللہ کے حکم سے ملائکہ اور…
Read the full tafseer →[3] یعنی اس رات میں نیکی کرنا ہزار مہینوں کی نیکی کرنے سے کہیں زیادہ ہے۔ احادیث صحیحہ کے مطابق شب قدر ہر سال آخری عشرہ رمضان کی کسی طاق رات میں آیا کرتی ہے۔ اس رات میں دعا و عبادت کے بڑے بڑے فضائل احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة القدر
جس طرح اماکن اور مقامات میں کچھ جگہیں زیادہ شرف اور فضیلت کی حامل ہوتی ہیں اور جس طرح اشخاص وافراد میں کچھ لوگ زیادہ مرتبہ اور درجہ کے مستحق ہوتے ہیں ۔ اسی طرح کچھ دن اور کچھ راتیں اپنے اندر نسبتاً برکات کا زیادہ سرمایہ رکھتی ہیں ۔ ایام رمضان سال بھر کے دنوں پر پر مسابقت اور ثواب اخروی کے اعتبار سے افضل ہیں اور اس کی راتیں تمام راتوں سے زیادہ پرنور اور بابرکت ہیں ۔ اور پھر جب کسی رمضان کی رات کو یہ شرف بھی حاصل ہوجائے کہ اس میں قرآن کا نزول ہوا ہے تو اس کی بزرگی اور عظمت کتنی بڑھ جائے گی ۔ اس کا اندازہ کچھ ارباب بصیرت ومعرفت ہی کرسکتے ہیں
Read the full tafseer →(3) شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے - یعنی شب قدر کی عبادت اور اس میں عبادت کرنا ہزار مہینوں کی عبادت کرنے سے بہتر ہے کوئی شخص ایک ہزار مہینے یعنی تقریباً اسی سال تک عبادت کرتا رہے تو صرف اس رات میں عبادت کرنا اور اس کو زندہ رکھنا ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نے بنی اسرائیل کے عبادت گزاروں کا ذکر فماایا اور اس میں ایک عابد کا ذکر کیا کہ اس نے اسی سال تک اس طرحعبادت کی کہ دن کو روزہ رکھتا اور رات بھر عبادت کرتا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد بھی کرتا۔
اس کو سن کر بعض صحابہ ؓ نے حسرت سے کہا یارسول اللہ ﷺ اول تو ہماری عمریں اس قدر طویل نہیں پھر بڑا حصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 6۔ یعنی ہزار مہینہ تک عبادت کرنے کا جس قدر ثواب ہے اس سے زیادہ شب قدر میں عبادت کرنے کا ثواب ہے کذا فی الخازن۔
Read the full tafseer →قدر کی رات ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے
3 ؎ یہ گزشتہ سوال کا جواب ہے ۔ فرمایا قدر کی رات ایک ایسی رات ہے کہ وہ ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے گویا اس کی افضلیت اور بہتری اتنی زیادہ ہے کہ اس کو ایک ہزار مہینوں کی راتوں سے بھی افضل کہا جاسکتا ہے ۔ ایک ہزار راتوں سے نہیں فرمایا بلکہ ایک ہزار مہینوں سے فرمایا ہے جب کہ سب کو معلوم ہے کہ ایک سال میں 12 مہینے ہوتے ہیں اور ایک ہزار مہینوں کے 33 83 سال ہوتے ہیں یعنی 83 سال 4 ماہ ہوتے ہیں لیکن تعجب ہے کہ اگر اس کی فضلیت ہی کو بیان کرنا تھا تو تین ہزار راتوں سے بہتر بھی کہا جاسکتا تھا کہ عدد مزید بڑھ جاتا لیکن اس کو ایک ہزار مہینوں سے افضل کیوں قرار دیا ؟ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
Occasion of Revelation
Ibn Abi Hatim has reported from Mujhid (as mursal hadith) that the Messenger of Allah ﷺ was told about a mujahid [ warrior in the cause of religion ] from amongst the Children of Israel who carried weapons of war on his shoulders for a thousand months during which time he never laid down his arms. The Companions were amazed when they heard this. On that occasion, this Surah was revealed which describes that worship in the Night of Qadr granted to this Ummah exceeds by more than a thousand months of jihad persistently fought by that warrior. According to another…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
2 The commentators in general have understood this to mean that the good acts performed in this Night are superior in value to the good acts of a thousand months in which Lailat-ul-qadr is not included. There is no doubt that this is in itself correct and the Holy Prophet (upon whom be peace) has described great excellencies and virtues of the good acts and devotions of this Night. According to a tradition related in Bukhari and Muslim, on the authority of Hadrat Abu Hurairah, the Holy Prophet said: The one who remained standing in worship in the state of belief and for the sake of rewards…
Read the full tafseer →