97. Surah Al-Qadr

القدرThe Power, Fate · 5 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 97:1–2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ Open ayah 97:1 in the Quran reader

ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع) کیا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ Open ayah 97:2 in the Quran reader

اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے ؟

(1۔ 2) ہم نے بذریعہ جبریل پورے قرآن حکیم کو ایک مرتبہ فرشتوں کے دستہ کے ساتھ آسمان دنیا پر حکم و قضاء والی رات میں یا یہ کہ رحمت و برکت اور مغفرت والی رات میں اتارا ہے۔ پھر اس کے بعد قرآن حکیم رسول اکرم ﷺ پر تھوڑا تھوڑا نازل ہوتا رہا۔ شان نزول : اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ الخ امام ترمذی حاکم اور ابن جریر نے حسن بن علی سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے بنی امیہ کو اپنے منبر پر دیکھا تو آپ کو برا معلوم ہوا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ انا اعطیناک الکوثر اور انا انزلنہ فی لیلۃ القدر وما ادرٰک ما لیلۃ القدر لیلۃ القدر خیر من الف شہر۔ آپ کے بعد اس چیز کے بنو امیہ مالک ہوگئے۔ قاسم حرافی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اس کا شمار کیا تو وہ پورے ہزار مہینے ہیں نہ اس سے کم اور نہ زیادہ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ روایت غریب ہے اور مزنی اور ابن کثیر فرماتے ہیں یہ روایت بہت ہی منکر ہے۔ اور ابن ابی حاتم اور واحدی نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ نے بنی اسرائیل میں سے ایک شکص کا ذکر کیا کہ اس نے اللہ کی راہ میں ایک ہزار سال تک ہتھیار پہنے رکھے مسلمانوں کو اس پر تعجب ہوا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ شب قدر میں نازل کیا ہے اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ شب قدر کیسی چیز ہے شب قدر ان ہزار مہینوں سے بہتر ہے جس میں بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے اللہ کی راہ میں ہتھیار پہنے رکھے۔ اور ابن جریر نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو رات کو صبح تک نماز پڑھا کرتا تھا پھر دن کو شام تک دشمن کے ساتھ جہاد کیا کرتا تھا یک ہزار سال تک اس نے یہی عمل کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ شب قدر ان ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے جس میں اس آدمی نے یہ عمل کیا۔
Ayahs 97:3–5

لَیْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ Open ayah 97:3 in the Quran reader

شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے

تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ Open ayah 97:4 in the Quran reader

اس میں روح (الامین) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام) کے لئے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں

سَلٰمٌ١ۛ۫ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠ Open ayah 97:5 in the Quran reader

(یہ رات) طلوع صبح تک (امان اور) سلامتی ہے

(3۔ 5) اور شب قدر اس قدر فضیلت والی رات ہے کہ اس شب میں عبادت کرنا ہزار مہینوں میں عبادت کرنے سے جس میں شب قدر نہ بہتر ہے اس رات میں فرشتے اور جبریل امین اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں اور امت محمدیہ میں ہر ایک نمازی اور روزہ دار کو سلام کرتے ہیں یا یہ کہ ہر ایک آفت سے اس رات میں سلامتی ہوتی ہے اور اسرات کی فضیتل و برکت فجر تک رہتی ہے۔