97. Surah Al-Qadr

القدرThe Power, Fate · 5 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 97:1–5

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ Open ayah 97:1 in the Quran reader

بیشک ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِؕ Open ayah 97:2 in the Quran reader

اور آپ کو معلوم ہے کہ شب قدر کیا ہے

لَیْلَةُ الْقَدْرِ١ۙ۬ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍؕؔ Open ayah 97:3 in the Quran reader

شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے

تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ Open ayah 97:4 in the Quran reader

اس میں فرشتے اور روح القدس اپنے رب کے حکم سے ہر امر کو لے کر اترتے ہیں

سَلٰمٌ١ۛ۫ هِیَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ۠ Open ayah 97:5 in the Quran reader

وہ سراپا سلامتی ہے۔ وہ فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة انا انزلنہ فی لیلۃ القدر مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن عباس اور عائشہ ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ ابن الضریس وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر بیشک ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں اتارا۔ یعنی شب قدر میں پورا قرآن کریم ایک ہی بار اس ذکر سے نازل کیا گیا جو رب العزت کے پاس اور اسے آسمان دنیا میں بیت العزۃ میں رکھ دیا گیا پھر جبریل (علیہ السلام) اسے لے کر محمد صلی اللہ پر غار حرا میں نازل ہونا شروع ہوئے۔ بندوں کے کلام اور ان کے اعمال کے جواب میں۔ 4۔ عبد بن حمید نے ربیع بن انس (رح) سے آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے پورے قرآن کو شب قدر میں نازل فرمایا آیت لیلۃ القدر خیر من الف شہر۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے) یعنی ہزار مہینوں کے اعمال سے بہتر ہے۔ لیلۃ القدر کا تذکرہ 5۔ عبدالرزاق والفریابی وعبد بن حمید وابن جریر ومحمد بن نصر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر میں لیلۃ القدر سے مراد ہے فیصلہ والی رات۔ جس میں سب کاموں کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ 6۔ عبد بن حمید نے انس ؓ سے روایت کیا کہ شب قدر میں کوئی عمل اور صدقہ اور نماز اور زکوٰۃ ہزار مہینوں کے اعمال سے افضل ہے۔ 7۔ ابن جریر نے عمرو بن قیس الملائی (رح) سے آیت لیلۃ القدر خیر من الف شہر کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں ایک عمل بہتر ہے ہزار مہینوں میں عمل کرنے سے۔ شب قدر کا ہزار مہینوں سے افضل ہونا 8۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر ومحمد بن نصر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے آیت لیلۃ القدر خیر من الف شہر کے بارے میں روایت کیا کہ شب قدر ان ہزار مہینوں سے بہتر ہے جن میں شب قدر نہ ہو آیت تنزل الملئکۃ والروح فیہا باذن ربہم من کل امر سلم۔ اس میں فرشتے اور روح نازل ہوتے ہیں اپنے رب کے حک سے پھر فرمایا اس رات میں وہ سارے فیصلے کیے جاتے ہیں جو سال بھر میں ہوں گے پھر اس رات کے آنے تک۔ آیت سلم ہی وہ سلامتی کی رات ہے۔ یعنی بیشک وہ ساری کی ساری برکت ہے اور خیر ہے آیت ہی حتی مطلع الفجر۔ یہاں تک کہ صبح روشن ہوجائے یعنی طلوع فجر تک۔ 9۔ مالک فی الموطا والبیہقی نے شعب الایمان میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو آپ کے پہلے لوگوں کے اعمال دکھائے گئے۔ یا اس میں سے جو اللہ نے چاہا گویا کہ آپ نے اپنی امت کی عمروں کو تھوڑاجانا کہ عہ عمل کے لحاظ سے وہاں تک نہ پہنچ سکیں گے جہاں تک دوسرے لوگ اپنی لمبی عمروں کے سبب پہنچے۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو شب قدر عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ 10۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی رات کو قیام کرتا یہاں تک کہ صبح ہوجاتی پھر دن کو دشمن کے خلاف جہاد کرتا یہاں تک شام ہوجاتی۔ اس نے ہزار مہینوں تک ایسا ہی کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت لیلۃ القدر خیر من الف شہر اتاری۔ یعنی اس رات کا قیام اس آمی کے ہزار مہینوں کے عمل سے افضل ہے۔ 11۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے اپنی سنن میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک آدمی کا ذکر کیا کہ اس نے اللہ کے راستے میں ہزار مہینوں تک ہتھیار پہنے رکھے۔ تو مسلمانوں نے اس سے تعجب کیا اس پر اللہ تعلیٰ نے یہ آیت اتاری۔ آیت انا انزلناہ فی لیلۃ القدر وما ادرک ما لیلۃ القدر لیلۃ القدر خیر من الف شہر۔ ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں اتارا اور تو کیا جانتا ہے کہ شب قدر کیا ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یعنی وہ آدمی جس نے اللہ کے راستے میں ہزار مہینہ تک ہتھیار پہنے۔ 12۔ ابن ابی حاتم نے علی بن عروہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن میں بنی اسرائیل میں سے چار آدمیوں کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اسی سال عبادت کی اور پلک جھپکنے کی دیر بھی اس کی نافرمانی نہیں کی پھر آپ نے ایوب، زکریا، حزقیل بن العجوز اور یوشع بن نون (علیہم السلام) کا ذکر فرمایا۔ تو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے اس سے بڑا تعجب کیا۔ جبریل (علیہ السلام) آپ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے محمد ﷺ آپ کی امت نے ان لوگوں کی اسی سال عبادت پر تعجب کیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر اور فضل شے نازل فرمادی ہے اور آپ پر یہ آیات پڑھیں۔ آیت انا انزلناہ فی لیلۃ القدر وما ادرک ما لیلۃ القدر، لیلۃ القدر خیر من الف شہر یہ اس سے بھی افضل ہے جس پر آپ نے اور آپ کی امت نے تعجب کیا تو رسول اللہ ﷺ اور جو آپ کے ساتھ تھے انتہائی خوش ہوئے۔ 13۔ الخطیب نے اپنی تاریخ میں ابن عبا ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو امیہ کو خواب میں اپنے منبر پر دیکھا اور اس نے اپنے آپ کو غمگین کردیا اللہ تعالیٰ کردیا اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ یہی وہ بادشاہ ہے جسے وہ لوگ درست پائیں گے۔ اور پھر یہ سورت نازل ہوئی آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر آیت وما ادرک ما لیلۃ القدر خیر من الف شہر۔ 14۔ الخطیب نے ابن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے بنو امیہ دکھائے گئے جو میرے منبر پر چڑھ رہے ہیں۔ تو یہ منظر مجھ پر انتہائی شاق گذر ا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمایا آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر۔ 15۔ ترمذی نے روایت کی اور اس کی تصنیف کی وابن جریر والطبرانی وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں یوسف بن ماز ن الرؤاسی (رح) سے روایت کیا کہ حسن بن علی ؓ کے حضرت معاویہ ؓ سے بیعت کرنے کے بعد آیا۔ اور کہا تو نے ایمان والوں کے چہرے سیاہ کردئیے ہیں۔ انہوں نے فرمایا اللہ مجھ پر رحم کرے تو مجھے نہ جھڑک۔ بیشک نبی ﷺ نے بنو امیہ کو دیکھا کہ وہ ان کے منبر پر خطبہ دے رہے ہیں اور اس کو آپ نے برا جانا۔ تو آیت انا اعطینک الکوثر نازل ہوئی یعنی اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی۔ جو ایک نہر ہے جنت میں اور ساتھ سورة قدر نازل ہوئی۔ آیت اناانزلنہ فی لیلۃ القدر وما ادرک مالیلۃ القدر لیلۃ القدر خیر من الف شہر۔ کہ آپ کے بعد بنو امیہ اس کے مالک ہوں گے اے محمد ﷺ ۔ قاسم (رح) نے فرمایا ہم نے بنو امیہ کی حکومت کا زمانہ شمار کیا تو ان کی حکومت ہزار مہینے تک رہی نہ ان میں ایک دن زائد بن تا ہے اور نہ ہی ایک دن کم۔ 16۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر سے مراد ہے فیصلہ والی رات آیت وما ادرک ما لیلۃ القدر اور تو کیا جانتا ہے کہ لیلۃ القدر یعنی فیصلہ والی رات۔ 17۔ عبدالرزاق وابن المنذر ومحمد بن نصر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت لیلۃ القدر خیر من الف شہر کے بارے میں روایت کیا کہ شب قدر کا عمل یا اس کے روزے یا اس کا قیام ایسے ہزار مہینوں سے بہتر اور افضل ہے جس میں شب قدر نہیں۔ 18۔ ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ میں کسی دن کو کسی دن پر اور کسی رات کو کسی رات پر افضل نہیں جانتا۔ سوائے لیلۃ القدر کے کیونکہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ 19۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت تنزل الملئکۃ والروح فیہا اس میں فرشتے اور روح نازل ہوتا ہے روح سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔ آیت من کل امر سلم۔ ہر کام پر جو سلامتی کی رات ہے۔ یعنی کسی ستارے کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ اس کے ساتھ اس رات میں رجم کیا جائے یہاں تک کہ صبح ہوجائے۔ 20۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید ومحمد بن نضر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب الایمان میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت سلم ہی کہ وہ سلامتی والی رات ہے۔ یعنی وہ سلامتی والی ہے کہ شیطان طاقت نہیں رکھتا کہ اس میں کوئی براکام کرے یا اس میں کوئی تکلیف دہ عمل کرے۔ 21۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت من کل امر سلم۔ 22۔ سعید بن منصور ابن المنذر نے منصور بن زاذان (رح) سے آیت تنزل الملئکۃ کے بارے میں روایت کیا کہ فرشتے نازل ہوتے ہیں سورج کے غروب ہونے کے وقت سے لے کر فجر کے طلوع ہونے تک اور وہ ہر مومن پر گزرتے ہوئے کہتے ہیں اے مومن تجھ پر سلام ہو۔ لیلۃ القدر میں فرشتوں کا نزول 23۔ ابن المنذر نے حسن (رح) ” سلام “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب لیلۃ القدر ہوتی ہے تو فرشتے اپنے پروں کے ساتھ مسلسل اڑتے رہتے ہیں سلامتی اور رحمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغرب کی نماز سے لے کر فجر کے طلوع ہونے تک۔ 24۔ محمد بن نصر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے ” سلام “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس رات میں سرکش جن اور شیاطین اور جنات کے عقاریت اور پر چڑھتے ہیں اور اس میں سارے آسمانوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ہر توبہ کرنے والے کی اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرمتے ہیں اسی کو فرمایا آیت سلم ہی حتی مطلع الفجر یعنی اور یہ سلسلہ سورج کے غروب سے لے کر فجر کے طلوع ہونے تک جاری رہتا ہے۔ 25۔ محمد بن نصر نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ ان سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا کیا وہ ایک لمبی چیز تھی جو چلی گئی یا وہ ہر سال میں ہوتی ہے ؟ فرمایا بلکہ وہ محمد ﷺ کی امت کے لیے ہے جب تک ان میں سے دو بھی باقی رہیں گے۔ 26۔ الدیلم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے میری امت کو لیلۃ القدر عطا فرمائی۔ اور ان سے پہلے کسی کو یہ عطا نہیں کی گئی۔ 27۔ عبد بن حمید نے عبداللہ بن مکانس مولی معاویہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابوہریرہ ؓ سے کہا کہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ لیلۃ القدر اٹھالی گئی۔ انہوں نے فرمایا جس نے یہ بات کہی اس نے جھوٹ کہا۔ میں نے کہ اوہ ہر رمضان میں اسے تلاش کروں ؟ فرمایا ہاں ہاں پھر میں نے کہا لوگ گمان کرتے ہیں کہ وہ گھڑی جو جمعہ میں ہوتی ہے کہ جس میں کوئی مسلمابندہ دعا کرتا ہے تو وہ قبول ہوتی ہے وہ گھڑی اٹھالی گئی۔ فرمایا جس نے یہ بات کہی اس نے جھوٹ بولا۔ پھر میں نے پوچھا کیا ہر جمعہ کے دن میں اس گھڑی کو تلاش کروں ؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں۔ 28۔ عبد بن حمید وابن اجریر وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا وہ ہر رمضان میں آتی ہے ؟ اور ابن مردویہ کے الفاظ یوں ہیں کیا وہ رمضان میں ہوتی ہے فرمایا ہاں ! کیا تو نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کو نہیں سنا آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر اور اس قول کو آیت شہر رمضان الذی انزل فیہ القراٰن (البقرہ آیت 185) رمضان کا وہ مہینہ جس میں قرآن نازل کیا گیا۔ 29۔ ابو داوٗد والطبرانی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا اور میں سن رہا تھا کہ وہ کب ہوتی ہے۔ تو آپ نے فرمایا ہر وہ رمضان میں ہوتی ہے۔ 30۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لیلۃ القدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ 31۔ ابن ابی شیبہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لیلۃ القدر کو آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ 32۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر ومحمد بن نصر اور ابن مردویہ نے بیان کیا کہ لیلۃ القدر کو آخری عشرہ میں تلاشک کرو۔ 33۔ ابن ابی شیبہ نے الفلتان بن عاصم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے لیلۃ القدر کو دیکھا، پھر میں اس کو بھول گیا تم اس کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ 34۔ ابن جریر نے ابی ظبیان کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ لوگ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ ان کی طرف جلدی جلدی تشریف لے آئے۔ یہاں تک کہ ہم آپ کی جلدی کے سبب گھبراگئے۔ جب آپ ہمارے پاس پہنچ گئے تو آپ نے سلام کیا۔ اور فرمایا میں تمہاری طرف جلدی جلدی آیا تاکہ تم کو لیلۃ القدر کے بارے میں بتاؤں لیکن میرے اور تمہارے درمیان جو فاصلہ تھا میں اس درمیان میں بھول گیا لیکن تم اس کو آخر عشرہ میں تلاش کرو۔ 35۔ احمد وابن جریر ومحمد بن نصر والبیہقی وابن مردویہ نے عبادہ بن صامت ؓ سے وایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے لیلۃ القدر کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا کہ وہ رمضان کی آخری عشرہ میں ہوتی ہے کیونکہ وہ کسی طاق رات میں ہوتی ہے۔ اکیسویں میں یا تئیسویں میں، یا پچیسویں میں یا ستائیسویں میں یا انتیسویں میں یارمضان کی آخری رات میں جس نے رمضان میں قیام کیا ایمان کی حالت میں اور ثواب کی امدی رکھتے ہوئے اس کے اگلے پچھلے سب گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ اور اس کی علامات میں سے یہ ہے کہ وہ رات انتہائی راحت والی۔ صاف پرسکون اور خاموش ہوتی ہے۔ نہ زیادہ گرم ہوتی ہے اور نہ زیادہ ٹھنڈی اس میں چاند روشن ہوتا ہے اور کسی ستارے کے لیے اس رات میں ٹوٹنے کی اجازت نہیں یہاں تک کہ صبح ہوجائے اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ سورج اپنی صبح کو اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ س کی کوئی شعاع نہیں ہوتی اور وہ بالکل برابر ہوتا ہے گویا وہ ایک چودھویں کا چاند ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے شیطان پر حرام کردیا ہے۔ کہ وہ ان کے ساتھ اس دن نکلے۔ 36۔ ابن جریر فی تہذیبہ وابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا میں نے اس رات کو دیکھا ہے کہ وہ آخری عشرہ کی کسی طاق رات میں ہے اور وہ رات بہت پرسکون اور راحت بخش ہے نہ گرم ہے اور نہ ہی سرد ہے اس میں چاند روشن ہوتا ہے اور اس میں شیطان ظاہر نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس کی فجر روشن ہوجاتی ہے۔ 37۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا میں اس کو جانتا تھا پھر مجھ سے چھین لیا گیا۔ اور بیشک یہ رمضان میں ہے۔ پس تم اس کو تلاش کرو اس رات میں جبکہ ابھی نو باقی ہوں۔ یا سات باقی ہوں یا تین باقی ہوں (یعنی اکیسویں، تئیسویں اور ستائیسویں رات) اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کی صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعائیں نہیں ہوتیں۔ اور جس نے سال بھر قیام کیا اس نے اسے پالیا۔ 38۔ ابن ابی شیبہ وابن زنجویہ وابن نصر نے ابو عقرب اسدی (رح) سے روایت کیا کہ ہم ابن مسعودؓ کے پاس ان کے گھر میں آئے اور ہم نے ان سے سنا کہ وہ فرما رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا : ان سے سوال کیا۔ تو انہوں نے ہم کو بتایا کہ لیلۃ القدر نصف آخر کی سات راتوں میں ہے۔ اور اس کی نشانی یہ ہے کہ سورج اس دن بالکل سفید طلوع ہوتا ہے اور اس کی شعاع نہیں ہوتی۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا اچانک وہ اسی طرح تھا جیسے مجھے بتایا گیا۔ تو میں نے دیکھ کر اللہ اکبر کہا۔ 39۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر نے الاسود کے طریق سے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ تم لیلۃ القدر کو اس رات میں تلاش کرو جبکہ طاق راتیں ابھی باقی ہوں۔ یعنی تئیسویں رات تم اسے تلاش کرو جبکہ ابھی باقی ہوں یعنی اکیسویں رات اور تم اسے تلاش کرو جبکہ گیارہ باقی ہوں یعنی انیسویں رات اور اس رات چاند روشن ہوتا ہے۔ بیشک سورج ہر دن شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے سوائے لیلۃ القدر کی صبح کے کہ وہ اس دن سفید ہوتا ہے کہ اس کی شعاع نہیں ہوتی۔ 40۔ ابن زنجویہ وابن مردویہ نے صحیح سند کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے پاس لیلۃ القدر کا ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مہینہ میں کتنے دن باقی ہیں تو ہم نے کہا بائیس دن گزر گئے اور آٹھ دن باقی رہ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بائیس دن گذر گئے اور سات باقی رہ گئے تو شب قدر کو اس رات میں تلاش کرو کیونکہ مہینہ انتیس کا ہے۔ 41۔ ابن مردویہ نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا لیلۃ القدر کو رمضان کی پہلی رات میں تلاش کرو۔ اور نویں رات میں اور گیا رھویں رات میں۔ اور اکیسویں رات میں اور رمضان کی آخری رات میں تلاش کرو۔ 42۔ احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے لیلۃ القدر کے بارے میں فرمایا کہ وہ بیشک یہ آخری رات ہے۔ 43۔ محمد بن نصر نے معاویہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری رات میں تلاش کرو۔ 44۔ محمد بن نصر نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے لیلۃ القدر کے میں بتائیے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے زمانہ میں کونسی چیز ہوئی ہے کہ جس میں ان پر وحی نازل ہوتی ہے اور جب ان کا وصال ہوا تو وہ اٹھالی گئی یا وہ قیامت کے دن تک کے لیے تو آپ نے فرمایا بلکہ وہ قیامت کے دن تک ہے۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! وہ رمضان المبارک کے کون سے ایام میں ہے۔ آپ نے فرمایا اس کو پہلے عشرے میں اور اخیر عشرے میں تلاش کرو۔ راوی نے کہا پھر رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا اور میں نے آپ کی غفلت غنیمت سمجھی۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ مجھ کو بتائیں گے یا جب تک آپ مجھے نہ بتائیں کہ کون سے عشرے میں ہے تو رسول اللہ ﷺ مجھ پر شدید غصہ ہوگئے۔ اس طرح مجھ پر کبھی غصہ نہیں ہوئے نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد۔ پھر آپ نے فرمایا اگر تعالیٰ چاہتے تو وہ تم کو اس پر مطلع فرمادیتے، تم اس کو آخر ساتویں راتوں میں تلاش کرو۔ پھر اس کے بعد مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کرنا۔ 45۔ البخاری وابن مردویہ والبیہقی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لیلۃ القدر کو رمضان کی اخیر عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ شب قدر کی پہچان 46۔ مالک وابن ابی شیبہ والطیالسی واحمد والبخاری ومسلم وابن ماجہ وابن جریر والبیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ رمضان کے مہینہ کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے آپ نے ایک سال اعتکف کیا یہاں تک کہ جب اکیسویں رات تھی اور یہ وہ رات ہے جس میں آپ اعتکاف سے نکلتے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے اس کو چاہیے کہ وہ آخری عشرہ میں اعتکاف کرے۔ اور میں نے اس رات کو دیکھا ہے پھر بھلادی گئی اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اس کی صبح کو مٹی اور پانی میں سجدہ کر رہا ہوں پس تم اس کو اخیر عشرہ میں تلاش کرو اور ہر طاق رات میں اس کو تلاش کرو ابو سعید ؓ نے کہا اس رات میں بارش ہوئی۔ اور مسجد پر کھجور کی چھال تھی تو مسجد ٹپک پڑی۔ ابو سعید ؓ نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ کی پیشانی اور ناک پر اکیسویں کی صبح کو پانی اور مٹی کا اثر تھا۔ 47۔ مالک وابن سعد وابن ابی شیبہ واحمد ومسلم وابن زنجویہ والطحاوی والبیہقی نے عبداللہ بن انیس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس رات میں تلاش کرو اور وہ رات تئیسویں کی رات تھی۔ 48۔ ملک والبیہقی نے ابو النضر مولی عمر بن عبداللہ بن انیس جہنی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے کہا گیا۔ یا رسول اللہ ! میر اگھر دور ہے۔ مجھے حکم کیجیے ایک رات کے بارے میں کہ اس میں حاضر ہوسکوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو رمضان کی تئیسویں رات کو حاضر ہو۔ 49۔ البیہقی نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ضحرۃ بن عبداللہ بن انیس ؓ سے کہا کہ نبی ﷺ نے تیرے باپ کو لیلۃ القدر کے بارے میں کیا فرمایا انہوں نے کہا کہ میرا باپ دیہات کا رہنے والا تھا تو انہوں نے کہا میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے ایک رات کا حکم فرمائیے کہ میں اس میں حاضر ہوسکوں آپ نے فرمایا تئیسویں رات کو حاضر ہو۔ جب انہوں نے پیٹھ پھیری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اس کو آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ 50۔ مالک والبخاری ومسلم والبیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے لیلۃ القدر کو آخری سات راتوں میں دیکھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے خوابوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ آخری سات راتوں میں بام موافق ہیں پس جو آدمی اس کو تلا کرنے والا ہو تو اس کو چاہیے کہ اس کو آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔ 51۔ ابن ابی شیبہ واحمد عبد بن حمید والبخاری والبیہقی نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کے نبی ﷺ باہر تشریف لائے اور آپ یہ ارادہ رکھتے تھے کہ ہم کو لیلۃ القدر کے بارے میں بتائیں۔ لیکن مسلمانوں میں سے دو آدمی آپس میں لڑ رہے تھے فلاں اور فلاں تو وہ اسے اٹھالیا گیا اور امید ہے کہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے پس تم اس کو نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔ 52۔ طیالسی والبیہقی نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ اپنے اصحاب کو لیلۃ القدر کے بارے میں بتانے کے ارادہ سے نکلے۔ لیکن دو آدمی آپس میں لڑ رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا میں تم کو لیلۃ القدر کے بارے میں خبر دینے کے لیے نکلا۔ دو آدمی آپس میں لڑنے لگے تو مجھ سے وہ کھینچ لی گئی (یعنی مجھ سے بھلا دی گئی) تو اس کو تلاش کرو آخری عشرے یعنی اس رات میں جبکہ ابھی نو باقی ہوں یا اس میں ابھی سات باقی ہوں یا اس میں ابھی پانچ باقی ہوں اس سے مراد اکیسویں، تئیسویں اور پچیسویں کی رات ہے۔ 53۔ البخاری وابو داوٗ وابن جریر والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اس کو تلاش کرو رمضان کے آخری عشرہ میں اس رات میں جبکہ ابھی نو باقی ہوں اور اس میں جبکہ سات باقی ہوں اور اس میں جبکہ پانچ باقی ہوں۔ 54۔ احمد نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم اس کو آخری عشرہ کی نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔ 55۔ الطیالسی وابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید والترمذی وصححہ والنسائی وابن جریر والحاکم وصححہ والبیہقی نے عبدالرحمن بن جو شن (رح) سے روایت کیا کہ ابو بکرہ ؓ کے پاس لیلۃ القدر کا ذکر کیا۔ تو انہوں نے فرمایا میں اس کو تلاش نہیں کرتا مگر آخری عشرہ میں اس حدیث کے بعد جو میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اس کو آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ جبکہ ابھی نو باقی ہوں یا سات باقی ہوں یا تین باقی ہوں یا پھر آخری رات ہو اور ابو بکرہ ؓ رمضان میں بیس رکعتیں اس طرح پڑھتے تھے جس طرح سارے سال میں نماز پڑھتے تھے۔ جب آخری عشرہ داخل ہوتا تو پھر خوب مجاہدہ اور ریاضت کرتے۔ 56۔ احمدومسلم وابوداوٗد والبیہقی نے ابو النضرہ کے طریق سے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ پس تم اس کو نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔ میں نے کہا اے ابوسعدی تم ہم سے عدد کے بارے میں زیادہ جانتے ہو ؟ فرمایا ہاں تو میں نے پوچھا کہ نویں، ساتویں اور پانچویں سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا جب اکیسویں رات گذر جائے تو یہ وہی رات ہے جس کے پیچھے نو راتیں آتی ہیں اور جب تئیس راتیں گذر جائیں تو یہ وہی رات ہے جس کے پیچھے ساتھ آتی ہیں۔ اور جب پچیس راتیں گذر جائیں تو یہ وہ رات ہے جس کے پیچھے پانچ آتی ہیں۔ 57۔ الطیالسی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لیلۃ القدر چوبیسیوں رات ہے رمضان المبارک کی۔ 58۔ احمد والطغاوی ومحمد بن نصر وابن جریر والطبرانی وابو داوٗ وابن مردویہ نے بلال ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لیلۃ القدر چوبیسویں رات ہے۔ 59۔ ابن سعدی ومحمد بن نصر وابن جریر نے عبدالرحمن بن عسلۃ الصنابحی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ میرے آنے سے پانچ راتیں پہلے وفات پاگئے۔ آپ کا وصال ہوا تو میں جحفہ میں تھا۔ میں آپ کے اصحاب ؓ کی بڑی تعداد کے پاس آیا اور میں نے بلال ؓ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا وہ تئیسویں رات ہے۔ 60۔ محمد بن نصر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لیلۃ القدر چوبیسویں رات میں تلاش کرو۔ 61۔ الطیالسی وابن زنجویہ وابن حبان والبیہقی نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ روزہ رکھا تو آپ نے مہینے میں کسی رات ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا یہاں تک کہ جب چوبیسویں رات تھی۔ جو باقی رہنے والی سات راتوں میں سے تھی تو آپ نے ہم کو نماز پڑھائی۔ یہاں تک کہ کہ قریب ہوگیا کہ ایک تہائی رات کا گذر جانا پھر جب پچیسویں رات آئی تو آپ نے ہم کو نماز نہیں پڑھائی۔ پھر جب چھبیسویں رات تھی اور یہ ساتویں رات تھی ان باقی راتوں میں سے تو ہم کو نماز پڑھائی۔ یہاں تک کہ رات نصف سے زائد گزرے کے قریب ہوگئی۔ تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ اگر آپ ہمیں رات کے بقیہ حصہ میں نفل پڑھاویں ؟ تو اچھا تھا آپ نے فرمایا نہیں جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھ کر واپس لوٹتا ہے تو اس کے لیے رات کا قیام لکھ دیا جاتا ہے۔ جب ستائیسویں رات ہوئی تو آپ نے ہم کو نماز پڑھائی حتی کہ قریب تھا کہ ہمار اسحری کا کھانا رہ جاتا۔ پھر ہم کو مہینہ کے کس دن تراویح کی نماز نہیں پڑھائی۔ اور فلاح سے مراد سحری کا کھانا ہے۔ 62۔ ابن ابی واحمد وابن زنجویہ وعبد بن حمید ومسلم وابو داوٗد والترمذی والنسائی وابن جریر وابن حبان وابن مردویہ والبیہقی نے زر بن حبیش (رح) سے رویت کیا کہ میں نے ابی بن کعب ؓ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا اور میں نے کہا کہ آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ جو شخص سال بھر قیام کرے گا وہ لیلۃ القدر کو پالے گا۔ اور انہوں نے قسم کھائی کہ یہ استثنی نہیں کی جائے گی کہ یہ لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے کہ میں نے کہا اے ابو المنذر یہ ابی بن کعب کی کنیت ہے آپ یہ کیونکر کہہ سکتے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ اس علامت اور نشانی کے سبب جو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی کہ اس دن کی صبح میں سورج اس حال میں طلوع ہوتا ہے کہ اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی اور ابن حبان اور ابن حبان کے الفاظ یوں ہے کہ اس دن وہ سفید ہوتا ہے کوئی شعاع اس کی نہیں ہوتی گویا کہ وہ ایک طشت ہے۔ 63۔ محمد بن نصر وابن جریر والحاکم وصححہ والبیہقی نے عاصم نے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ مجھے محمد ﷺ کے کبار صحابہ کرام ؓ کے ساتھ بلاتے تھے اور فرماتے تھے ان کی گفتگو سے پہلے تم بات نہ کرنا پھر عمر ؓ نے ایک بار ان کو دعوت دی۔ اور ان سے پوچھا شب قدر کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کے قول کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ آپ نے فرمایا کہ تم اس کو آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ یہ کون سی رات ہے کیا تم اس کو جانتے ہو ؟ ان میں سے بعض نے کہا اکیسویں رات اور بعض نے کہا تئیسویں رات اور بعض نے کہا پچیسویں رات اور بعض نے کہا ستائیسویں رات وہ کہتے رہے اور میں خاموش رہا پھر عمر ؓ نے فرمایا تھے کیا ہوا کہ تو بات نہیں کرتا میں نے کہا آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں بات نہ کروں یہاں تک کہ وہ بات کرلیں۔ عمر ؓ نے فرمایا تجھے گفتگو کے لیے ہی بلایا ہے۔ اس پر ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کو سنا ہے کہ وہ سات کا ذکر فرماتے ہیں پس اس نے ذکر کیا سات آسمانوں کا اور ان کی طرح سات زمینوں کا اور انسان کو سات سے پیدا فرمایا اور زمین سے اگنے والے سات ہیں۔ یہ سن کر عمر ؓ نے فرمایا ی تو ان کے بارے میں خبر ہے جو میں جانتا ہوں اور ان کے بارے میں کیا خیال ہے جو میں نہیں جانتا ؟ اور یہ زمین سے اگنے سات چیزیں ہیں۔ میں نے کہا اللہ عز وجل نے فرمایا آیت ثم شققنا الارض شقا فانبتنا فیہا حباعنبا وقضبا وزیتونا ونخلا وحدائق غلبا وفاکہۃ وابا۔ ہم نے زمین کو چیر کر پھاڑا پھر ہم نے اس میں اناج اگایا اور انگور اور ترکاریاں اور زیتون اور کھجور اور گھنے باغ اور اور گھاس۔ پھر فرمایا گھنے باغوں سے مراد ہے کہ یہ کھجوروں اور دیگر درختوں کے باغات ہیں آیت وفا کہۃ وابا (عبس آیت 21) میں الاب سے مراد ہے وہ چارہ ہے جسے زمین اگاتی ہے جو جانور اور چوپائے کھاتے ہیں اور لوگ اس کو نہیں کھاتے عمر ؓ نے اپنے اصحاب سے کہا کیا تم اس سے عاجز ہو۔ کہ تم یوں کہو جیسے اس لڑکے نے کہا کہ جس کی رائے ابھی مجتمع اور مضبوط نہیں اللہ کی قسم میں بھی وہی رائے رکھتا ہوں۔ جو تو نے کہا ہے یعنی ستائیسویں کی رات۔ حالانکہ میں نے خود تجھے حکم دیا ہے کہ ان کے ساتھ گفتگو نہ کرنا۔ لیلۃ القدر آخری عشرہ میں ہے۔ 64۔ عبدالرزاق وابن راہویہ ومحمد بن نصر والطبرانی والبیہقی نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کو بلایا اور ان سے لیلۃ القدر کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ لیلۃ القدر آخری عشرہ میں ہے۔ میں نے عمر ؓ سے کہا بلاشبہ میں زیادہ جانتا ہوں اور بیشک میرا غالب گمان ہے کہ یہ وہی رات ہے انہوں نے کہا کہ وہ کون سی رات ہے۔ میں نے کہا وہ ساتویں رات ہے جو باقی ہے آخری عشرہ سے عمر ؓ نے فرمایا یہ تو نے کہاں سے جانا۔ میں نے کہا اللہ تعالیٰ سات آسمانوں، سات زمینیں اور سات دن پیدا کیے اور بیشک زمانہ سات میں گھومتا ہے انسان سات سے پیدا ہوا ہے اور کھاتا ہے سات چیزوں سے۔ اور سجدہ کرتا ہے سات اعضاء پر۔ اور بیت اللہ کا طواف سات چکر ہیں اور شیطان کو سات کنکری مارتا ہے۔ اس طرح کی کئی چیزوں کا ذکر کیا عمر ؓ نے فرمایا تو نے اس کام کو سمجھ لیا کہ جس کی ہم سمجھ نہیں رکھتے۔ اور قتادہ (رح) ابن عباس ؓ کے اس قول میں اور وہ سات سے کرتا ہے میں اضافہ کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔ آیت فانبتنا فیہا حبا وعنبا وقضبا الایۃ۔ 65۔ ابن سعد وعبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ابن عباس ؓ کو قریب بٹھاتے تھے اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے بعض لوگ ایسے تھے جو اپنے نفس میں کچھ محسوس کرتے تھے عمر ؓ سے اس سورة اذاجاء نصر اللہ کے بارے میں پوچھا تو ان لوگوں نے کہا ہمارے نبی ﷺ کو حکم دیا گیا جب وہ لوگوں کو اسلام کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے اور اس میں داخل ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو چاہیے کہ اللہ کی حمد ونا بیان کریں اور اس سے استغفار کریں۔ پھر عمر ابن خطاب ؓ نے فرمایا اے ابن عباس ! تجھے کیا ہوا تو گفتگو نہیں کرتا ؟ تو ابن عباس ؓ نے فرمایا میں تو اس سے یہ جانتا ہوں کہ آپ کی وفات کب ہوگی۔ پھر فرمایا آیت اذا جاء نصر اللہ (جب اللہ کی مدد اور فتح آچکی اور آپ نے لوگوں نے اللہ کے دین میں جوق درجوق داخل ہوتے دیکھ لیا) اور یہ آپ کے وفات کی نشانی ہے عمر ؓ نے فرمایا تو نے سچ کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے۔ میں بھی اس سے وہی سمجھتا ہوں جو تو نے سمجھا۔ راوی نے کہا پھر آپ نے اسے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا ان میں سے اکثر صحابہ ؓ نے کہا ہم دیکھتے تھے کہ وہ درمیان عشرہ میں ہے پھر ہم کو یہ بات پہنچی کہ وہ آخری عشرہ میں ہے۔ ان کے بعض نے کہا کہ وہ اکیسویں کی رات ہے۔ اور بعض نے کہا وہ تئیسویں کی رات ہے اور بعض نے کہا وہ ستائیسویں کی رات ہے۔ عمر ؓ نے فرمایا اے ابن عباس ! تجھے کیا ہوا تو کیوں بات نہیں کرتا ؟ ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ ہی بہتر جانتے ہیں۔ عمر ؓ نے فرمایا ہم جانتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ ہی بہتر جاننے والا ہے۔ لیکن میں تجھ سے تیرے علم کے بارے میں سوال کرتا ہوں۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند فرماتے ہیں اس نے ساتھ آسمان پیدا فرمائے۔ وار دونوں کی تعداد کو بھی سات بنایا اور بیت اللہ کے طواف کے ساتھ چکر بنائے۔ صا مروہ کے درمیان سعی کے بھی سات چکر بنائے۔ اور شیطان کی کنکریاں بھی سات بنائیں اور ان سان کو سات چیزوں سے پیدا کیا گیا۔ اور اس کا رزق سات چیزوں سے کس طرح بنایا۔ تو نے اس سے ایسی شے کو سمجھا ہے جس کو میں نہیں سمجھا۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت ولقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین سے لے کر آیت فتبرک اللہ احسن الخلقین تک (المومنون آیت 14) پھر اس کے رزق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا آیت انا صببنا الماء صبا سے لے کر آیت وفا کہۃ وابا تک سو ” الاب “ وہ ہے جو زمین اگاتی ہے جانوروں کے لیے اور سات چیزیں بنو آدم کے لیے رزق ہیں پھر فرمایا واللہ اعلم البتہ لیلۃ القدر کے بارے میں یہ رائے رکھتا ہوں کہ تین راتیں گذر چکی ہیں اور سات ابھی باقی ہیں اس لیے اس سے مراد تئیسویں ہے۔ 66۔ ابو نعیم نے الحلیہ میں محمد بن کعب القرظی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ مہاجرین صحابہ کی جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اور انہوں نے لیلۃ القدر کا ذکر کیا۔ اور ان میں سے بعض نے اس کے متعلق بات کی جو اس کے بارے میں انہوں نے سن رکھی تھی اور ان میں سے اس بارے میں گفتگو ہوتی رہی عمر ؓ نے فرمایا اے ابن عباس ؓ تجھے کیا ہوا تو خاموش ہے ؟ تو بات نہی کر رہا تو بھی بات کر کوئی چیز تجھے بات کرنے سے نہیں روکے گی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا اے امیر المومنین میں کہتا ہوں : بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وہ وتر یعنی طاق کو پسند فرماتا ہے بس ایام دنیا کو بنایا کہ وہ گھومتے رہتے ہیں سات عدد پر۔ انسان کو سات چیزوں سے پیدا فرمایا اور ہمارے اوپر سات آسمان بنائے اور ہمارے نیچے سات زمینیں بنائیں اور مثانی یعنی سورة فاتحہ میں سے سات آیتیں عطا فرمائیں۔ اور اپنی کتاب میں سات رشتہ داروں کے ساتھ نکاح کرنے سے منع فرمایا اور میراث کو اپنی کتاب میں سات حصوں پر تقسیم فرمایا اور ہم اپنے جسم کے ساتحصو پر تقسیم فرمایا اور ہم اپنے جسم کے سات اعضاء پر سجدہ کرتے ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کا طواف سات چکروں سے کیا اور صفا مروہ کے درمیان سات چکر لگائے اور شیطانوں کو سات کنکریاں ماریں۔ ان سب باتوں کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا سو میں لیلۃ القدر کو رمضان کی آخری سات راتوں میں دیکھتا ہوں۔ واللہ اعلم۔ عمر ؓ تھک گئے اور فرمایا اس مسئلے میں میرے ساتھ کسی نے واقفیت نہی کی سوائے اس لڑکے کے اس کے سر کی کھوپڑی کا جوڑ ابھی مکمل نہیں ہوا بیشک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لیلۃ القدر کو آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ پھر فرمایا اے لوگو ! ابن عباس کے بیان کرنے کی طرح کون اس کو بیان کرسکتا ہے۔ 67۔ عبد بن حمید نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لیلۃ القدر کو ستائیسویں رات میں تلاش کرو۔ 68۔ ابن ابی شیبہ نے زر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ عمر، حذیفہ اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ اس میں شک نہیں کرتے تھے کہ بیشک لیلۃ القدر ستائیسویں رات ہے۔ 69۔ ابن نصر وابن جریر نے اپنی تہذیب میں معاویہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لیلۃ القدر کو رات کے آخر میں تلاش کرو۔ 70۔ ابن ابی شیبہ والطبرانی وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں آیا اور میں رمضان میں سو گیا تو مجھ سے کہا گیا۔ بیشک یہ رات لیلۃ القدر کی ہے میں کھڑا ہوا اور میں اونگھ رہا تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے خیمے کی بعض رسیوں کو چمٹ گیا۔ پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے اس رات میں غور کیا تئیسویں کی رات تھی۔ دیکھ کر ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ شیطان ہر دن سورج کے طلوع ہونے ساتھ نکلتا ہے سوائے لیلۃ القدر کے اس دن سورج بالکل سفید طلوع ہوتا ہے اور اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔ 71۔ محمد بن نصر والحاکم وصححۃ نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قیام کیا رمضان کی تئیسویں رات کے ایک تہائی حصہ تک۔ پھر ہم پچیسویں رات میں آپ کے ساتھ آدھی درات تک قیام کیا پھر ہم نے ستائیسویں رات میں آپ کے سات قیام کیا۔ یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ ہم فلاح نہیں پاسکتے۔ فلاح سے مرا دسحری کا کھانا ہے اور تم لیلۃ سابعہ تیرہویں رات کو کہتے ہیں اور ہم لیلۃ سابع ستائیسویں رات کو کہتے ہیں کیا ہم ٹھیک ہیں یا تم۔ 72۔ محمد بن نصر نے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لیلۃ القدر کو رمضان کے مہینہ میں سے باقی رہنے والے دس دنوں میں تلاش کرو۔ یعنی پچیسویں ستائیسویں اور انتیسویں رات میں۔ 73۔ بخاری نے اپنی تاریخ میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ عمر ؓ نے نبی ﷺ کے اصحاب سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا ابن عباس ؓ نے فرمایا میرا رب سات کے عدد کو پسند فرماتے ہیں۔ فرمایا آیت ولقد اتینا سبعا من المثانی (الحجر آیت 87) اور ہم نے آپ کو سات آیتیں دیں جو نماز میں دہرائی جاتی ہی۔ 74۔ الطیالسی واحمد وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ لیلۃ القدر کے بارے میں فرمایا کہ وہ ستائیسویں اور انتیسویں رات ہے۔ اور اس رات میں فرشتے زمین میں کنکریوں کی تعداد سے زیادہ ہوتے ہیں۔ 75۔ محمد بن نصر نے ابی میمون کے طریق سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ لیلۃ القدر ستائیسویں یا انتیسویں کی رات ہے اور اس کے ساتھ فرشتے آسمان کے ستاروں کی تعداد سے زیادہ اترتے ہیں۔ اور اس نے گمان کیا کہ ابوہریرہ ؓ کے قول میں لیلۃ القدر جو بیسیوں کی رات ہے۔ 76۔ محمد بن نصر وابن جریر والطبرانی والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا اے اللہ کے نبی میں بوڑھا ہوں مجھ پر قیام کرنا دشوار ہوتا ہے مجھے آپ ایک رات کے بارے میں بتادیجیے شاید کہ اللہ تعالیٰ میرے اس رات کے قیام کو لیلۃ القدر کے موافق کردے۔ یعنی شاید میں لیلۃ القدر کو پالوں آپ نے فرمایا ستائیسویں رات کو لازم پکڑ۔ 77۔ ابن ابی شیبہ وابن منیع والبخاری فی تاریخہ والطبرانی وابو شیخ والبیہقی حوۃ العبدی (رح) سے روایت کیا کہ زید بن ارقم ؓ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو انہوں نے فرمایا کہ وہ سترہویں رات ہے نہ تو اس میں شک کر اور نہ استثنی کر۔ اور فرمایا اسی رات قرآن کو نازل ہوا اور یہی یوم الفرقان ہے۔ اور یہ وہ دن ہے جس میں دو لشکر آپس میں ملے یعنی کافر اور مسلمان آپس میں لڑے یعنی بدر کے دن۔ 78۔ الحرث بن ابی اسامہ عبداللہ بن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ یہ وہ رات ہے کہ جس کے دن رسول اللہ ﷺ بدر والوں سے ملے یعنی میدان بدر میں جنگ ہوئی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت وما انزلنا علی عبدنا یوم الفرقان یوم التقی الجمعن (الانفال آیت 41) اور جو کچھ ہم نے اپنے بندے ر فیصلہ کے دن اتار جس دن دونوں جماعتیں ملیں جعفر ؓ نے فرمایا مجھ کو یہ با ت پہنچی ہے کہ یہ سولہ سترہ کی رات ہے۔ 79۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ ومحمد بن نصر والطبرانی وابن مردوہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔ رمضان المبارک کے سترہ دن گزر جانے کے بعد کیونکہ اسی رات کی صبح بدر کا دن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وما انزلنا علی عبدنا یوم الفرقان یوم التقی الجمعن (الانفال آیت 41) اور وہ اکیسویں اور تئیسویں رات میں ہے۔ بیشک وہ نہیں ہوتی مگر طاق راتوں میں۔ 80۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو تلاش کرو رمضان کی سترہویں یا اکیسویں یا تئیسویں رات میں پھر آپ خاموش ہوگئے۔ 81۔ الطحاوی نے عبداللہ بن انیس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا اس کو رمضان کے آخر نصف میں تلاش کرو پھر دوبارہ انہوں نے سوال کیا تو آپ نے فرمایا تئیسویں رات تک تلاش کرو 82۔ احمد ومحمد بن نصر نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے لیلۃ القدر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا وہ آخری دس راتوں میں ہے یا تئیسویں رات میں یا پچیسویں رات میں۔ 83۔ احمد نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آخری عشرہ میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو یعنی اکیسویں رات میں اور تئیسویں رات میں جبکہ ابھی سات باقی ہوتی ہیں اور پچیسویں رات میں جبکہ ابھی پانچ باقی ہوتی ہیں اور ستائیسویں رات میں جبکہ ابھی تین راتیں باقی ہوتی ہیں۔ 84۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ نے ابو قلابہ (رح) سے روایت کیا کہ لیلۃ القدر منتقل ہوتی رہتی ہے آخری دس راتوں کی ہر طاق رات میں۔ 85۔ ابن ابی شیبہ نے ابوبکر بن عبدالرحمن بن الحرث بن ہشام رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ لیلۃ القدر سترہ رمضان المبارک کی جمعہ کی رات ہے 86۔ ابو الشیخ نے عمرو بن حویرث (رح) سے روایت کیا کہ لیلۃ القدر سترہ رمضان المبارک کی لیلۃ الفرقان ہے۔ 87۔ محمد بن نصر والبطرانی نے خارجہ بن زید بن ثابت سے روایت کیا کہ اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ وہ رمضان کے مہینے کی تئیسویں رات کو اور ستائیسویں رات کو جاگتے تھے۔ لیکن وہ سترہ رمضان کی شب بیداری کی طرح نہیں تھی تو ان سے پوچھا گیا سترھویں رات کو آپ کیسے جاگتے تھے۔ تو فرمایا بلاشبہ یہ وہ رات ہے جس میں قرآن نازل ہوا اور اس کی صبح کو حق اور باطل کے درمیان فرق کیا گیا (یعنی کافروں کے خلاف جنگ کی گئی) 88۔ محمد بن نصر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لیلۃ القدر کے بارے میں فرمایا کہ تم لیلۃ القدر کو اس رات میں تلاش کرو جبکہ ابھی گیارہ راتیں باقی ہوں اور اس کی صبح بدر کا دن تھا اور اس رات میں تلاش کرو جبکہ ابی نو باقی ہوں اور اس میں جبکہ ابھی ساتھ باقی ہوں۔ بیشک سورج ہر دن شیطان کے د سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ سوائے للۃ القدر کی صبح کے اور اس دن سورج اس حال میں طلوع ہوتا کہ اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔ 89۔ الطیالسی ومحمد بن نصر والبیہقی وضعفہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لیلۃ القدر کے بارے میں فرمایا کہ وہ نرم و سہولت والی معتد رات ہوتی ہے نہ گرم ہوتی ہے اور نہ سرد۔ اس کی صبح سورج طلوع ہوتا ہے کہ اس کی روشنی ضعیف سرخ ہوتی ہے۔ لیلۃ القدر کی صبح کا سورج 90۔ ابن ابی شیبہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لیلۃ القدر کی رات اور نرمی و سہولت والی رات ہوتی ہے اس کا سورج اس حال میں طلوع ہوتا ہے کہ اس کی کوئی شعاع نہیں ہوتی۔ 91۔ ابن جریر نے اپنی تہذیب میں ابو قلابہ (رح) سے روایت کیا کہ لیلۃ القدر ساری دس راتوں میں گھومتی رہتی ہے۔ 92۔ البخاری ومسلم والبیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے لیلۃ القدر میں قیام کیا۔ ایمان کی حالت میں اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے تو اسکے سابقہ گناہوں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ 93۔ ابن ابی شیبہ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ جب رمضان کا مہینہ داخل ہوتا تو اپنے گھر والوں کو جگاتے اور اپنی چادر مبارک کو اونچا کرلیتے۔ 94۔ ابن ابی شیبہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ آخری عشرہ میں سخت محنت اور ریاضت کرتے تھے کہ اس کے علاوہ کسی دوسرے عشرے میں اتنی محنت نہیں کرتے تھے۔ 95۔ البیہقی نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا اللہ کی قسم عمر ؓ کو میں نے رمضان کے مہینہ میں قیام پر آمادہ کیا۔ ان سے کہا گیا امیر المومنین یہ کیسے ہوا ؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے ان کو بتایا کہ ساتویں آسمان میں ایک حظیرہ ہے جس کو حظیرہ القدس کہا جاتا ہے اس میں فرشتے ہیں ان کو روح کہا جاتا ہے۔ اور ایک روایت میں الروحانیون کے الفاظ ہیں کہ جب لیلۃ القدر ہوتی ہے تو وہ اپنے رب سے دنیا کی طرف نازل ہونے کی اجازت مانگتے ہیں ان کو اجازت دے دی جاتی ہے تو وہ ہر اس مسجد کے پاس سے گذرتے ہیں جس میں نماز پڑھی جاتی ہے۔ اور راستے میں کسی سے آمنا سامنا کرتے ہیں تو اسکے لیے دعا کرتے ہیں اور ان کی جانب سے اس کو برکت حاصل ہوتی ہے۔ عمر ؓ نے ان سے کہا اے ابو الحسن ! تو ہم لوگوں کو نماز پر آمادہ کریں گے تاکہ ان کو برکت پہنچ جائے۔ پھر آپ نے لوگوں کو قیام کا حکم فرمایا۔ 96۔ البیہقی نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے مغرب اور عشاء جماعت کے ساتھ پڑھی یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ ختم ہوگیا تو یقینی طور پر اس نے لیلۃ القدر میں سے وافر حصہ پالیا۔ 97۔ ابن خزیمہ والبیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے رمضان میں عشاء کی نماز جماعت سے پڑھی تو یقینی طور پر اس نے لیلۃ القدر کو پالیا۔ 98۔ ابن زنجویہ نے ابن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ جس شخص نے رمضان میں عشاء کی نماز جماعت سے پڑھی تو اس نے لیلۃ القدر کو پالیا۔ 99۔ مالک وابن ابی شیبہ وابن زنجویہ والبیہقی نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا جو شخص لیلۃ القدر میں عشاء کی نماز میں جماعت میں حاضر ہوا تو یقینی طور پر اس نے اپنا حصہ لے لیا۔ رمضان المبارک میں عشاء کی نماز کا اہتمام 100۔ البیہقی نے علی رضی الہ عنہ سے روایت کیا جس شخص نے رمضان کی ہر رات میں عشاء کی نماز پڑھی۔ یہاں تک کہ مہینہ گذر گیا تو یقینی طور پر اس نے اس کا قیام کیا۔ 101۔ ابن ابی شیبہ نے عامر (رح) سے روایت کیا کہ لیلۃ القدر کا دن اس کی رات کی طرح ہے اور اس کی رات اس کے دن کی طرح ہے۔ 102۔ ابن ابی شیبہ نے حسن حر (رح) سے روایت کیا کہ لیلۃ القدر کے دن کا عمل درجہ میں اس کی رات میں عمل کرنے کی طرح ہے۔ 103۔ احمد والترمذی وصححہ والنسائی وابن ماجہ ومحمد بن نصر والبیہقی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ کہ اگر مجھے لیلۃ القدر کا اتفاق ہوجائے تو میں کیا کہوں ؟ آپ نے فرمایا یوں کہے۔ اللہم انک عفو تحب العفو فاعف عنی۔ اے اللہ آپ درگذر کرنے والے ہیں اور درگذر کرنے کو پسند فرماتے ہیں مجھ سے درگذر کیجیے۔ 104۔ ابن ابی شیبہ ومحمد بن نصر والبیہقی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں لیلۃ القدر کو پہچان لوگوں تو میں اس میں اللہ تعالیٰ سے عفایت کے سوا کچھ نہ مانگوں۔ 105۔ ابن ابی شیبہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ اگر میں جان لوگوں کہ لیلۃ القدر کون سی ہے۔ تو اس میں میری اکثر دعا یہ ہوگی کہ میں اللہ تعالیٰ سے درگذر کا اور عافیت کا سوال کروں گی۔ اسئل اللہ العفو والعافیۃ۔ 106۔۔ البیہقی نے شعب میں ابو یحییٰ بن ابی مرہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے رمضان کی ستائیسویں رات میں طواف کیا تو میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ بڑی شدید گرمی میں بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔ 107۔ البیہقی نے الاوزاعی کے طریق سے عبدہ بن ابو لبابہ (رح) سے روایت کیا کہ رمضان کے مہینہ کی ستائیسویں رات میں نے سمندر کا پانی چکھا تو وہ انتہائی میٹھا تھا۔ 108۔ البیہقی نے ایوب بن خالد (رح) سے روایت کیا کہ میں سمندر میں تھا میں رمضان کے مہینے کی تئیسویں رات کو جنبی ہوگیا میں نے سمندر کے پانی سے غسل کیا تو میں نے اس کو میٹھا اور خوشگوار پایا۔ 109۔ ابن زنجویہ ومحمد بن نصر نے کعب احبار ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے اس رات کو کتابوں میں انتہائی گرا نے والی باتوں پاتے ہیں کہ وہ گناہوں کو گرادیتی ہے اور ان کی اس سے مراد لیلۃ القدر ہے۔ 110۔ البیہقی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب لیلۃ القدر ہوتی ہے تو جبریل (علیہ السلام) فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ نازل ہوتے ہیں۔ ہر اس بندے پر رحمت کی دعا کرتے ہیں جو کھڑے ہوئے یا بیٹھے ہوئے اللہ کا ذکر کر رہا ہو۔ جب ان کی عید کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے فرشتوں پر فخر فرماتے ہیں۔ اور یہ فرماتے ہیں اس مزدور کی اجرت اور اس عمل کا کیا بدلہ ہے جس نے اپنا عمل پورا کرلیا ہو۔ تو فرشتے کہتے ہیں۔ اے ہمارے رب ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان کو اجرت ادا کردی جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے میرے فرشتو ! میرے بندوں اور میرے غلاموں نے وہ فریضہ پورا کردیا ہے جو میری طرف سے ان پر لازم تھا۔ پھر اب میری طرف چلا چلا کر دعا مانگنے کے لیے نکلے ہیں۔ میری عزت اور جلال، میرے فضل وکرم اور میری رفعت اور بلند مکانی کی قسم میں ضرور ان کی دعاؤں کو قبول کروں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم واپس لوٹ جاؤ میں نے تم کو بخش دیا اور تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیا۔ پھر وہ بخشے بخشائے لوٹ جائیں گے۔ جمعرات کے دن کی فضیلت 111۔ الزجاجی نے امالیہ میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کہ جب تم میں سے کسی کو کوئی حاجت پیش آجائے تو اس کو چاہیے کہ وہ خمیس کے دن اس کی طلب میں صبح سویرے نکلے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! برکت دے میری امت کے لیے خمیس کے دن کی صبح میں وار جب وہ اپنے گھر سے نکلے تو اس کو چاہیے کہ سورة آل عمران کی آخری آیات اور آیت انا انزلنا فی لیلۃ القدر اور ام الکتاب یعنی سورة فاتحہ کو پڑھ لے۔ کیونکہ ان میں دنیا وآخرت کی تمام حاجات کا پورا ہونا ہے۔ 112۔ احمد والترمذی ومحمد ونصر والطبرانی نے التکاثر اور انا انزلنہ فی لیلۃ القدر اور اذا زلزلت الارض زلزالہا پہلی رکعت میں اور دوسری رکعت میں ولعصر اور اذا جاء نصر اللہ والفتح اور ان اعطینک الکوثر اور تیسری رکعت میں قل یا ایہالکفرون اور تبت یدا ابی لہب وتب اور قل ہو اللہ احد۔ 113۔ محمد بن نصر نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے سورة انا انزلناہ فی لیلۃ القدر پڑھی تو وہ چوتھائی قرآن کے برابر ہے۔ اور جس شخص نے اذا زلزلت الارض زلزالہا پڑھی تو وہ آدھے قرآن کے برابر ہے۔ اور جس نے قل یا ایہا الکفرون پڑھی تو وہ چوتھائی قرآن کے برابر ہے اور جس نے قل ہو اللہ احد پڑھی تو وہ ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔