Explained with ayahs 1–5
غیر متعلقہ روایات اور بحث :
مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے اسی کا نام لیلۃ المبارکہ بھی ہے اور جگہ ارشاد ہے انا انزلنٰہ فی لیلۃ مبارکتہ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے جیسے فرمایا شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ابن عباس وغیرہ کا قول ہے کہ پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول اللہ صلی اللہ پر نازل ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلیٰ نعمت اسی رات…
Read the full tafseer →سورة القدر 3
روح سے مراد جبریل ؑ ہیں جن کے فضل و شرف کی بنا پر ان کا ذکر فرشتوں سے الگ کیا گیا ہے۔
سورة القدر 4
یعنی وہ بطور خود نہیں آتے بلکہ اپنے رب کے اذن سے آتے ہیں۔ اور ہر حکم سے مراد وہی ہے جسے سورة دخان آیت 5 میں امر حکیم (حکیمانہ کام) کہا گیا ہے۔
Read the full tafseer →تنزل الملکة والروح روح سے مراد جبرئیل امین ہیں۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب شب قدر ہوتی ہے تو جبرئیل امین فرشتوں کی بڑی جماعت کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں اور جتنے اللہ کے بندے مرد و عورت نماز یا ذکر اللہ میں مشغول ہوتے ہیں سب کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ (مظہری)
من کل امر میں حرف من بمعنے با رہے جیسے یحفظونہ من امر اللہ آلایتہ میں بھی من و بمعنے باء استعمال ہوا ہے۔ معنے یہ ہیں کہ فرشتے لیلتہ القدر میں تمام سال کے اندر پیش آنے والے تقدیری واقعات لے کر زمین پر اترتے ہیں۔ اور بعض حضرات مفسرین مجاہد وغیرہ نے من کل امر کو سلام کے ساتھ متعلق کر کے یہ معنے قرار دیئے ہیں کہ یہر…
Read the full tafseer →اس رات کا اصل کام: یہ اس رات کے تقدیر امور یا تقسیم امور کی رات ہونے کی وضاحت ہے۔ فرمایا کہ اس میں ملائکہ اور جبریل امین علیہ السلام ان تمام معاملات میں جو زمین میں نافذ ہونے والے ہوتے ہیں اللہ تعالی کی منظوری لے کر اترتے ہیں۔ یہی بات سورہ دخان میں
’فِیہَا یُفْرَقُ کُلُّ أَمْرٍ حَکِیمٍ ۵ أَمْرًا مِنْ عِنْدِنَا‘ (الدخان ۴۴: ۴-۵)
(اسی رات میں تمام حکیمانہ امور کی تقسیم ہوتی ہے خاص ہمارے حکم سے)
کے الفاظ سے ارشاد ہوئی ہے۔ یعنی اللہ تعالی نے اپنی حکمت کے تحت جو امور طے کر رکھے ہیں وہ اسی رات میں تقسیم ہوتے ہیں اور متعلق فرشتے اللہ تعالی کے اذن (SANCTION) سے ان کی تنفیذ کے لیے زمین میں اترتے ہیں۔…
Read the full tafseer →4۔ 1 روح سے مراد حضرت جبرائیل ہیں یعنی فرشتے حضرت جبرائیل سمیت، اس رات میں زمین پر اترتے ہیں ان کاموں کو سر انجام دینے کے لیے جن کا فیصلہ اس سال میں اللہ فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3: اس رات میں فرشتوں کے اترنے کے دو مقصد ہوتے ہیں ایک یہ کہ اس رات جو لوگ عبادت میں مشغول ہوتے ہیں فرشتے ان کے حق میں رحمت کی دعا کرتے ہیں اور دوسرا مقصد آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس رات میں سال بھر کے فیصلے فرشتوں کے حوالے فرما دیتے ہیں، تاکہ وہ اپنے اپنے وقت پر ان کی تعمیل کرتے رہیں ”ہر کام کے لئے اترنے“ کا یہی مطلب مفسرین نے بیان فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →تنزل ............................ کل ام (4:97) فرشتے اور روح ، اس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں “۔ آج جب ہم صدیوں پیچھے کی طرف نظر دوڑاتے ہیں اور پھر ہماری نگاہ اس بزرگ اور عظیم رات پر پڑتی ہے۔ اور ہم اس جشن پر غور کرتے ہیں جو اس رات دیکھا گیا۔ پھر ہم ان امور کو دیکھتے ہیں جو اس رات میں فیصلہ ہوئے اور مکمل ہوئے اور دیکھتے ہیں کہ انسانی تاریخ نے کیا سفر طے کیا ، کیا واقعات وحادثات رونما ہوئے ، اس رات کے فیصلوں کے نتیجے میں انسانی قلب ونظر میں کیا کیا تبدیلیاں ہوئیں تو ہمیں یقین ہوجاتا ہے کہ یہ ایک عظیم رات تھی اور میں بتایا جانے والا یہ حسن نوبہاراں بھی فی الواقعہ بجا تھا اور آج…
Read the full tafseer →9 یعنی اللہ کے حکم سے روح القدس (حضرت جبرائیل علیہ السلام) بیشمار فرشتوں کے ہجوم میں نیچے اترتے ہیں تاکہ عظیم الشان خیرو برکت سے زمین والوں کو مستفیض کریں۔ اور ممکن ہے " روح " سے مراد فرشتوں کے علاوہ کوئی اور مخلوق ہو۔ بہرحال اس مبارک شب میں باطنی حیات اور روحانی خیروبرکت کا ایک خاص نزول ہوتا ہے۔
10 یعنی انتظام عالم کے متعلق جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاد کی تعیین کے لئے فرشتے آتے ہیں۔ کما مرفی سورة الدخان۔ یا " من کل امر " سے امر خیر مراد ہو۔ یعنی ہر قسم کے امور خیر لے کر آسمان سے اترتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 4{ تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْہَا بِاِذْنِ رَبِّہِمْ مِّنْ کُلِّ اَمْرٍ۔ } ”اس رات میں اُترتے ہیں فرشتے اور روح اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے۔“
روح سے مراد یہاں روح الامین یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کے سردار ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں انہیں خصوصی مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ جیسا کہ سورة التکویر میں فرمایا گیا : { ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ - مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ۔ } ”وہ جبرائیل علیہ السلام بہت قوت والا ہے ‘ صاحب عرش کے قرب میں اس کا ٹھکانہ ہے۔ اس کی اطاعت کی جاتی ہے اور وہاں وہ امانت دار بھی ہے“۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید…
Read the full tafseer →3 روح سے مراد جبریل امین ہیں جن کی قدر و منزلت کی وجہ سے ان کا علیحدہ ذکر کیا گیا اور اتنی کثیر تعداد میں فرشتے نازل ہوتے ہیں جن سے ساری زمین بھر جاتی ہے اور ہر حکم سے مراد انسانوں کی تقدیریں ہیں جو اس دن طے کی جاتی ہیں۔ جیسا کہ سورة الدخان کی آیت ( فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ ۙ ) 44 ۔ الدخان :4) کے تحت اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →4۔ (زمین کی طرف) اس شب میں عام ملائکہ رحمت اور حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی تجلیات زمین پر کسی مخصوص نوع کی ہوتی ہیں، جس کی تفصیل کا علم اللہ ہی کو ہے۔ (آیت) ” المآئکۃ “۔ سے مراد ملائکہ رحمت ہیں، اور الروح سے مراد روح الامین یعنی فرشتہ اعظم حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ۔ والاصح ان الروح ھھنا جبرئیل وتخصیصہ بالذکر لزیادۃ شرفہ (کبیر) الروح عند الجمھور ھو جبرئیل (علیہ السلام) وخص بالذکر لزیادۃ شرفہ (روح) (آیت) ” باذن ربھم “۔ یعنی یہ نزول ملائکہ وروح القدس بھی از خود نہیں ہوجاتا، بلکہ تمامتر امر الہی کی ماتحتی میں ہوتا ہے۔ (آیت) ” من کل امر “۔ تقدیر کلام یہاں من اجل کل امر سمجھی گئی ہے۔ گویا من ل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
تنزل الملائکۃ والروح، روح سے مراد حضرت جبرائیل امین (رح) تعالیٰ ہیں، حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب شب قدر ہوتی ہے تو جبرئیل امین (رح) تعالیٰ فرشتوں کی بڑی جماعت کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں اور جتنے اللہ کے بندے مرد ہوں یا عورت نماز با ذکر میں مشغول ہوتے ہیں، سب کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ (مظھری)
من کل امر اس میں من بمعنی با ہے، معنی یہ ہیں کہ فرشتے لیلۃ القدر میں تمام سال کے اندر پیش آنے والے تقدیری واقعات لے کر زمین پر اترتے ہیں۔
Read the full tafseer →تنزل الملئکۃ والروح فیھا باذن بھم . روح کی تحقیق پہلے گزر چکی ہے۔ یہ شب قدر کی دوسری فضیلت کا اظہار ہے یا خیر من الف شھر کی علت ہے یعنی شب قدر میں ربّ کے حکم سے ملائکہ اور روح آسمان سے زمین کی طرف اترتے ہیں (یہ شب قدر کی مزید فضیلت ہے یا شب قدر کے ہزار مہینوں سے افضل ہونے کی وجہ ہے) حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب شب قدر ہوتی ہے تو جبرئیل ( علیہ السلام) ملائکہ کی فوج کے ساتھ اترتے ہیں (اس وقت) جو شخص کھڑا یا بیٹھا ‘ اللہ کی یاد کرتا ہوتا ہے ‘ اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔
من کل امر . ہر اس امر کی غرض سے جو اس رات میں مقدر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
(3۔ 5) اور شب قدر اس قدر فضیلت والی رات ہے کہ اس شب میں عبادت کرنا ہزار مہینوں میں عبادت کرنے سے جس میں شب قدر نہ بہتر ہے اس رات میں فرشتے اور جبریل امین اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں اور امت محمدیہ میں ہر ایک نمازی اور روزہ دار کو سلام کرتے ہیں یا یہ کہ ہر ایک آفت سے اس رات میں سلامتی ہوتی ہے اور اسرات کی فضیتل و برکت فجر تک رہتی ہے۔
Read the full tafseer →(1) تنزل المئکۃ والروح فیھا…”الروح“ سے مراد جبریل ؑ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(نزل بہ الروح الامین) (الشعرائ : 193)”یہ قرآن روح الامین لے کر اترے ہیں۔“ ملائکہ میں شامل ہونے کے باوجود ان کے شرف کی وجہ سے ان کا الگ ذکر فرمایا، جس طرح سورة بقرہ کی اس آیت میں فرشوتں کے ذکر کے بعد ان کے شرف کی وجہ سے ان کا خاص طور پر الگ ذکر فرمایا :(من کان عدوا للہ و ملائکتہ و رسلہ و جبرئیل و میکسل فان اللہ عدو للکفرین) (البقرۃ : 98) ”جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسلووں اور جبریل اور میکال کا دشمن ہو تو بیشک اللہ سب کافروں کا دشمن ہے۔“
(2) یعنی ملائکہ اور جبریل ؑ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہر امر کے متعلق…
Read the full tafseer →تنزل الملئکۃ والروح فیھا باذن ربھم، من کل امر۔
یعنی فرشتے ہر آسمان سے، سدرۃ المنتہی سے اور جبرائیل امین کے مسکن سے اس کے وسط پر اترتے ہیں پھر وہ زمین کی طرف اترتے ہیں اور فجر کے طلوع ہونے تک لوگوں کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان، تنزل الملئکۃ، سے یہی مراد ہے روح سے مراد جبرائیل امین ہے قشیری نے بیان کیا ہے کہ روح ملائکہ کی ایک صفت ہے جنہیں باقی پر نگہبان بنایا گیا ہے ملائکہ انہیں نہیں دیکھ سکتے جس طرح ہم فرشتوں کو نہیں دیکھ سکتے، مقاتل نے کہا، یہ ملائکہ میں سے معزز ترین اور اللہ تعالیٰ کے سب سے مقرب ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ ملائکہ کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے لشکروں میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة انا انزلنہ فی لیلۃ القدر مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن عباس اور عائشہ ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔
3۔ ابن الضریس وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر بیشک ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں اتارا۔ یعنی شب قدر میں پورا قرآن کریم ایک ہی بار اس ذکر سے نازل کیا گیا جو رب العزت کے پاس اور اسے آسمان دنیا میں بیت العزۃ میں رکھ دیا گیا پھر جبریل (علیہ السلام) اسے لے کر محمد صلی اللہ پر غار حرا میں نازل ہونا شروع ہوئے۔ بندوں کے کلام اور ان کے اعمال…
Read the full tafseer →[تَنَزَّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ : اترتے ہیں فرشتے اور وہ روح (جبریل (علیہ السلام) )][ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِهِمْ ۚ : اس (رات) میں اپنے رب کے اذن سے ][مِنْ كُلِ اَمْرٍ : ہر کام سے (کے ساتھ)]
Read the full tafseer →﴿ تَنَزَّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ الرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ 1ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍۙۛ004﴾ (اس رات میں فرشتے اور روح القدس اپنے پروردگار کے حکم سے ہر امر کو لے کر اترتے ہیں) الملائكہ کے ساتھ الروح بھی فرمایا جس سے جمہور علماء کے نزدیک حضرت جبرائیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ اسی لیے ترجمہ میں لفظ القدس اختیار کیا گیا ہے۔ بعض حضرات نے روح کا ترجمہ رحمت بھی کیا ہے۔ من کل امر کی تفسیر کے بارے میں روح المعانی میں چند اقوال لکھے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ فرشتے اللہ کی طرف سے ہر طرح کی خیر و برکت لے کر نازل ہوتے ہیں۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب لیلۃ القدر ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
عظمت شب قدر وماہ رمضان بنزول قرآن :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” انآانزلنہ فی لیلۃ القدر ......... الی ....... ھی حتی مطلع الفجر “۔
(ربط) گزشتہ سورة اقرا میں آغاز اور ابتداء بعثت کا ذکر تھا، اب اس سورت میں نزول قرآن کا زمانہ اور شب قدر کی فضیلت بیان کی جارہی ہے جس میں اللہ رب العزت نے قرآن جیسی نعمت اور عظیم کتاب ہدایت نازل فرمائی۔
یا یہ کہہ دیجئے کہ گزشتہ سورت میں انسان پر عنایات والطاف خداوندی کا ذکر تھا اور اس کی ترقیات کا، اب اس مناسبت سے انسانی سعادت اور فوز و فلاح کی اصل اساس کتاب الہی اور قرآن حکیم کا نزول بیان کیا جارہا ہے کہ وہ شب قدر میں ہوا، جس میں عقائد، عبادات، معاملات، تہذیب نفس، اور…
Read the full tafseer →4:۔ ” تنزل الملئکۃ “ لیلۃ القدر کی برکات میں سے ایک یہ ہے کہ اس رات میں بےشار فرشتے جن میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) خاص طور سے قابل ذکر ہیں، نازل ہوتے ہی۔ ای بکل امر قدر اللہ وقضاہ فی تلک السنۃ الی قابل (قرطبی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
پہلی سورة کا خلاصہ
پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور پھر اسے درجہ کمال تک پہنچانے کے لئے علم کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد انسانوں کی دو اقسام کا ذکر کیا۔ ایک وہ قسم جو اہل ایمان ہیں اور فطرت کے مطابق قرآن پاک کا علم حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی وحدانیت کو مانتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو خدا کا عاجز بندہ سمجھتے ہیں اور اس کے حضور نماز ادا کرتے ہیں۔ تقویٰ کا حکم دیتے ہیں اور نیکی اور ہدایت کے راستے پر گامزن ہیں۔
انسانوں کا دوسرا گروہ سرکش ہے اپنے آپ کو مال و جاہ کی وجہ سے مستغنی خیال کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں رکھتا۔ اور اللہ کے بندوں کو اس کی عبادت…
Read the full tafseer →تَنَزَّلُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ وَالرُّوْحُ فِيْہَا بِـاِذْنِ رَبِّہِمْ 0 ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ 4
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ انا مبتداء انزلناہ الضمیر یرجع الی القرآن وان لم یتقدم ذکرہ لکونہ معھودا معلومًا فی متعلق بانزلنا والجملۃ خبر المبتدء۔ وما ادراک الجملۃ استفہامیۃ لبیان عظم شان لیلۃ القدر۔ لیلۃ القدر مبتدء خبر من الف شہر خبرہ والجملۃ التامۃ جواب الاستفھام۔ تنزل بحذف احدی التائین من الاصل۔ الملائکۃ فاعلہ و تانیث الفعل لا عتبار جمعیۃ الفاعل ای متلبسین والروح معطوف علی الملائکۃ۔ فیھا ای فی لیلۃ القدر والجار متعلق بتنزل باذن ربہم متعلق تنزل او بمحذوف ھو حال من فاعلہ ای متلبسین باذن ربہم ای بامرہ۔ من کل امر ای من اجل کل امر وقیل من بمعنی اللام ای لکل امرو قیل بمعنی الباء ای بکل امر۔ متعلق بالفعل السابق۔…
Read the full tafseer →تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْھَا بِاِذْنِ رَبِّہِمْ ج مِنْ کُلِّ اَمْرٍ ۔ (القدر : 4)
(اس میں فرشتے اور روح القدس اترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے، ہر امر کے لیے۔ )
اس رات کا اصل کام
اس سے پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ اس رات کے لیلۃ القدر ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ یہ رات تقدیرِامور یا تقسیمِ امور کی رات ہے۔ یعنی اس سال میں جتنے اہم کام کائنات کے حوالے سے ہونے والے ہوتے ہیں یا جن و انس کی بھلائی کے لیے جو فیصلے کیے جاتے ہیں ان کی تنفیذ اور بروئے کار لانے کے لیے انھیں فرشتوں کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ اس آیت میں اسی بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اس میں ملائکہ اور حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
فہم القرآن
ربط کلام : لیلۃ القدر ایک ہزار مہینے سے افضل ہے اس میں حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) دوسرے ملائکہ کے ساتھ بنفس نفیس نزول فرماتے ہیں۔
القدر کا معنی تقدیر بھی ہے اس لیے یہ سورت اسم بامسمّیٰ ہے کیونکہ اس میں لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ ہوتا ہے اور یہ رات اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بھر پورہوتی ہے۔ اس رات میں اپنے رب کے حکم کے مطابق مختلف امور کے لیے جبریل امین اور کثیر تعداد میں فرشتے نازل ہوتے ہیں اور یہ رات صبح طلوع ہونے تک سلامتی سے بھر پور ہوتی ہے۔ کچھ بزرگوں نے ضعیف روایات کی بنیاد پر شعبان کی پندرہویں رات کی یہ فضیلت بیان کی ہے۔ جس بنا پر بیشمار لوگ اس رات کو شب برأت کہتے ہیں حالانکہ شب…
Read the full tafseer →فرشتوں کا نزول :
4 : تَنَزَّلُ الْمَلٰٓپکَۃُ (اس رات میں فرشتے اترتے ہیں) آسمان دنیا کی طرف نمبر 2۔ زمین کی طرف وَالرُّوْحُ (اور روح القدس) جبرئیل (علیہ السلام) ۔ نمبر 2۔ ملائکہ میں ایک ایسی قسم ہے جن کو ملائکہ صرف اسی رات دیکھتے ہیں۔ نمبر 3۔ الرحمت۔ فِیْہَا بِاِذْنِ رَبِّہِمْ مِّنْ کُلِّ اَمْرٍ (ہر امر خیر کو لے کر اپنے پروردگار کے حکم سے) ای تتنزل من اجل کل امر قضاہ اللہ لتلک السنۃ الی قابل ہر امر کی خاطر جس کا اللہ تعالیٰ نے فیصلہ اس سال سے آئندہ سال تک فرما دیا لے کر اترتے ہیں۔
قراءت : اس پر وقف ہے۔
Read the full tafseer →4 ۔” تنزل الملائکۃ والروح “ یعنی جبرئیل (علیہ السلام) ان کے ساتھ ” فیھا “ یعنی لیلۃ القدر میں ” باذن ربھم من کل امر “ یعنی خیر اور برکت کے ہر امر کے ساتھ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” یحفظونہ من امر اللہ “ یعنی بامر اللہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ صحیح معنی آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر کے یہ ہیں کہ لوح محفوظ سے شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف اول آسمان پر اترا اور پھر رفتہ رفتہ آنحضرت ﷺ پر تئیس سال تک نازل ہوتا رہا۔ نسائی بیہقی ‘ مستدرک 2 ؎ حاکم مصنف ابن ابی شیبہ طبرانی میں معتبر سند سے جو روایتیں ہیں ان میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے یہی معنی اس آیت کے بیان فرمائے ہیں اگرچہ مفسرین نے اس آیت کے معنی اور بھی بیان کئے ہیں لیکن وہ معنی اس قدر صحیح نہیں ہیں شب قدر کی فضیلت یہت سی حدیثوں میں آئی ہے اب آگے لیلۃ القدر کی یہ فضیلت بیان فرمائی کہ اس ایک رات کی عبادت اور دونوں کے ہزار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے۔ ہزار مہینے کے تراسی سال…
Read the full tafseer →( تَنَزَّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا) یعنی فرشتے اور جبرائیل امین اس رات میں کثرت سے نازل ہوتے ہیں۔ (مِنْ كُلِّ اَمْرٍ ) ہر کام کے لیے یہ رات سلامتی ہے یعنی شب قدر ہر آفت اور ہر شر سے سلامت ہے ور اس کا سبب اس کی بھلائی کی کثرت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
شب قدر
قول باری ہے (انا انزلناہ فی لیلۃ القدر ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے) تا قول باری (لیلۃ القدر خیر من الف شھر قدر کی رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے) ایک قول کے مطابق شب قدر اس ہزار مہینے سے بہتر ہے جس میں شب قدر واقع نہ ہوئی ہو۔ وہ اس لئے کہ شب قدر میں اس قدر خیر اور بھلائی تقسیم ہوتی ہے کہ ایک ہزار مہینوں میں اتنی بھلائی تقسیم نہیں ہوتی۔ اس بنا پر شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔
اوقات واماکن کی ایک دوسرے پر فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ فضیلت والے اوقات اور مقامات میں بہت زیادہ خیروبرکت ہوتی ہے اور ان کا نفع بھی بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ قدر کی رات کب ہوتی ہے اس کے بارے میں حضور ﷺ سے مختلف…
Read the full tafseer →4 ۔ شب قدر میں نزول ملائکہ و روح کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس میں فرشتے اترتے ہیں اور روح بھی، روح سے یہاں مراد جبریل امین ہیں جو فرشتوں کے سردار ہیں۔ سو ا شب مبارک میں یہ سب اترتے ہیں اس رات کی خیرات اور برکتوں کو تقسیم کرنے کے لیے اور اہل ایمان کو اپنی داؤں سے نوازنے کے لیے۔ چناچہ کعب احبار سے مروی ہے کہ زمین کا کوئی ٹکڑا ایسا نہیں ہوتا جہاں پر کوئی نہ کوئی فرشتہ ایماندار مردوں اور عورتوں کے لیے دعا میں مشغول نہ ہو، سوائے ان جگہوں کے جہاں کفر و شرک اور معصیت و نافرمانی کے اسباب پائے جاتے ہوں، جیسے گرجے، آتشکدے، بت خانے، شراب خانے اور غلاظتوں اور نجاستوں کے گڑھے، وغیرہ۔ اور یہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لیلۃ القدر ہزار راتوں سے بہتر ہے
تشریح : سب سے پہلے تو '' اسے اتارا ''۔ تمام مفسرین نے سورة کی ضمیرکو قرآن کا مرجع ہی ظاہر کیا ہے۔ یعنی ہم نے قرآن کو شب قدر یعنی لیلۃ القدر میں نازل کیا۔ اب شب قدر کے بارے میں کیونکہ یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ کون سی رات ہے اور کس مہینے میں آتی ہے۔ بیشتر علماء اور مفسرین اور مستند محدثین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ یہ رات رمضان کے آخری عشرے میں آتی ہے اس کی دلیل یہ ہے '' رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ''۔۔ (سورۃ البقرہ 185)
اسی طرح '' ہم نے اسے ایک برکت والی رات میں نازل کیا ''۔۔ (دخان :3)
ان دونوں آیات سے ایک توہٗ کی ضمیر کا قرآن کی طرف ہونا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة القدر۔
آیات 1 تا 5۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے اس کلام یعنی قرآن مجید کو شب قدر میں نازل فرمایا کہ لوح محفوظ سے آسمان اول پر اتارا اور پھر مسلسل تئیس برس میں نازل ہوتا رہا یہ اس کی ابتدا لیلۃ القدر سے ہوئی اور پھر بتدریج نازل ہوتا رہا۔ حدیث شریف کے مطابق تمام آسمانی کتابیں رمضان المبارک میں نازل ہوئیں کہ اس ماہ مبارک کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ انسانوں میں فرشتوں جیسی صفات پیدا کردیتا ہے کھانے پینے سے رک جانا ، خطا سے بچنا اور نیکی میں زیادہ کوشش کرنا لہذا ساری کتابیں اسی مبارک مہینے میں نازل ہوئیں اور نزول قرآن شب قدر کو شروع ہوا جس کی فضیلت میں یہ بات بھی ہے کہ یہ ایک رات ہزار ماہ سے زیادہ کا درجہ…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی سال بھر میں جو کام ہوتا ہے اس رات اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ کرتا ہے اور فرشتے اور روح اس کے مطابق عمل درآمد کتے ہیں جیسا کہ سورة دخان میں لیلۃ مبارکہ کے ذکر کے بعد فرمایا فیھا یفرق کل امرحکیم امرا من عندنا اس میں ہمارے حکم کے مطابق ہر حکمت والے کام کا انتظام کیا جاتا ہے۔ “ (آیت 5-4) ’ دروح “ سے مراد حضرت جبریل ہیں، اگر مفسرین کے اس بارے میں بعض اور اقوال بھی ہیں۔
Read the full tafseer →(97:4) تنزل الملئکۃ والروض فیہا باذن ربھم : تنزل اصل میں تتنزل تھا۔ ایک تاء حذف ہوگئی۔
تنزل (تفعل) مصدر سے مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب (بمعنی جمع) وہ اترتے ہیں۔
والروح کا عطف الملئکۃ پر ہے (خاص کا عطف عام پر) ۔
فیہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع لیلۃ القدر ہے۔ اترتے ہیں فرشتے اور روح اس (رات) میں۔
الروح سے کیا مراد ہے ؟ بعض مفسرین کہتے ہیں الروح سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں جو گروہ ملائکہ کے سردار ہیں۔ اس لئے ان کا ذکر خاص کیا گیا ورنہ ملائکہ میں یہ بھی شامل تھے۔
بعض کے نزدیک روح ایک اور فرشتے کا نام ہے جس کو روح القدس کہتے ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ روح سے ایمان داروں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔
لیلۃ القدر۔ شب قدر۔ قدر کی رات۔ الف شھر۔ ایک ہزار مہینے۔ تنزل۔ اترتے ہیں۔ روح۔ حضرت جبرئیل۔ اذن۔ اجازت۔ سلام۔ سلامتی۔ مطلع الفجر۔ صبح کے طلوع ہونے (تک)
تشریح :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اس کو (قرآن کریم کو) قدر کی رات میں اتارا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا ہے کہ کیا آپ کو معلوم ہے یہ قدر کی رات کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جواب عنایت فرمایا کہ وہ رات ہے جو ہزار مہینوں کی راتوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اس میں اللہ کی طرف سے جبرئیل اور فرشتے ہر سلامتی کے فیصلے کو لے کر نازل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ طلوع فجر ہوجاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی سلامتی، عزت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
(ف 2) جو شب قدر سے خالی ہو، اس ایک رات میں نیک عمل کرنا ہزارراتوں کے عمل سے بہتر ہے حدیث شریف میں ہے کہ نبی ﷺ نے امم گذشتہ کے ایک شخص کا ذکر کیا جو تمام رات عبادت کرتا تھا اور کافروں کے ساتھ جہاد میں مصروف رہتا تھا اس طرح اس نے ہزار مہینے گزارے تھے مسلمانوں کو اس سے تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو شب قدر عطافرمائی اور یہ آیت نازل کی شب قدر ہزارمہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے حبیب پر کرم ہے کہ آپ کے امتی شب قدر کی ایک رات عبادت کریں تو ان کا ثواب پچھلی امتوں کے ہزار ماہ کی عبادت کرنے والوں سے زیادہ ہو۔ اب آگے فرمایا کہ شب قدر ایسی معظم رات ہے کہ اس رات کو اللہ کے حکم سے ملائکہ اور…
Read the full tafseer →[4] یعنی جبرائیل (علیہ السلام) جن کے فضل و شرف کی بناء پر ان کا ذکر فرشتوں سے الگ کیا گیا ہے۔
[5] جو اللہ تعالیٰ نے اس قدر اس سال کے لئے مقدر فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 1: فرمایا ۔ لیلتہ القدر ، یہ فضیلت و بزرگی کی رات جس میں حق وصداقت اور نور ومعرفت کا یہی پیغام نازل ہوا ہے ۔ عبادت وزہد ، اور تقویٰ و بزرگی اور قبول وقرب کے لحاظ سے ایک ہزار مہینے کی راتوں سے بھی زیادہ بہتر ہے ۔ اس میں فرشتے اور بالخصوص حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہر امر خیر کو لے کر زمین کی طرف اترتے ہیں ۔ یہ رات سراپا سل امتی کی رات ہے ۔ یہ اپنی انہیں برکتوں کے ساتھ فجر تک رہتی ہے ۔ واضح رہے کہ جمہور مفسرین کی رائے میں یہ رمضان کے عشرہ آخر میں ایک رات ہے ۔
Read the full tafseer →(4) اس رات میں فرشتے اور وح اپنے رب کے حکم سے ہر کام اور جملہ امور لے کر نازل ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →ف 7۔ چناچہ حدیث بیہقی میں حضرت انس سے مرفوعا مروی ہے کہ لیلة القدر میں جبریل (علیہ السلام) فرشتوں کے ایک گروہ میں آتے ہیں اور جس کسی کو عبادت الہی میں مشغول دیکھتے ہیں اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں، دعائے رحمت اور سلامتی میں تلازم ہے، اسی کو قرآن میں سلام فرمایا ہے اور امر خیر سے مراد یہی ہے۔
Read the full tafseer →فرشتے اور روح القدس اس رات کو اپنے رات کے حکم سے اترتے ہیں
4 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کا آخری عشرہ کے لیے خصوصی اہتمام ساری احادیث کی کتابوں میں موجود ہے اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت صحیح مسلم اور صحیح بخاری میں موجود ہے کہ : ( کان رسول اللہ ﷺ اذادخل العشر شد مئزرہ واحیال لیلۃ وایقظ اھلہ) ” آپ ﷺ کا معمول زندگی تھا کہ جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو اپنا تہبند کس لیتے ، راتوں کو ذکر الٰہی سے زندہ کرتے اور اپنے اہل و عیال کو عبادت کے لیے جگاتے “۔ سید عائشہ صدیقہ ؓ کا یہ ارشاد بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جتنا مجاہدہ اس آخری عشرہ میں فرماتے کسی دوسرے وقت میں ایسا مجاہدہ نہیں فرماتے…
Read the full tafseer →Descent of the Angels and the Spirit with Divine Decrees
Verse [ 4] نَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ (The angels and the Spirit descend in it, with the leave of their Lord, along with every command.) 'Spirit' here refers to Jibra'il (علیہ السلام) .
Sayyidna Anas ؓ narrates that the Messenger of Allah ﷺ said: "When the Night of Qadr occurs, Jibra'il (علیہ السلام) descends on the earth with a huge throng of angels and all of them pray for every servant of Allah, man or woman, busy in salah or dhikr, to be blessed by Allah." [ Mazhari ]. In the phrase مِّن كُلِّ أَمْرٍ (along with every…
Read the full tafseer →3 "The Spirit": Gabriel (peace be on him) , who has been mentioned separately from the angels in view of his unique eminence, honour and merit.
4 That is, they do not descend of their own accord but by leave of their Lord, and "every decree" implies amr hakim (a wise decree) as described in Ad-Dukhan: 5.
Read the full tafseer →