Explained with ayahs 1–5
غیر متعلقہ روایات اور بحث :
مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے اسی کا نام لیلۃ المبارکہ بھی ہے اور جگہ ارشاد ہے انا انزلنٰہ فی لیلۃ مبارکتہ اور یہ بھی قرآن سے ثابت ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کے مہینے میں ہے جیسے فرمایا شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ابن عباس وغیرہ کا قول ہے کہ پورا قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان اول پر بیت العزت میں اس رات اترا پھر تفصیل وار واقعات کے مطابق بتدریج تئیس سال میں رسول اللہ صلی اللہ پر نازل ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ لیلۃ القدر کی شان و شوکت کا اظہار فرماتا ہے کہ اس رات کی ایک زبردست برکت تو یہ ہے کہ قرآن کریم جیسی اعلیٰ نعمت اسی رات…
Read the full tafseer →سورة القدر 5
یعنی شام سے صبح تک وہ پوری رات خیر ہی خیر ہے۔ ہر شر اور فتنے سے پاک۔
Read the full tafseer →سلم، عبارت کی اصل سلم ہے۔ لفظ ھی حذف کردیا گیا، معنے یہ ہیں کہ یہ رات سلام اور سلامتی ہی ہے اور خیر ہی خیر ہے اس میں شرکا نام نہیں (قرطبی) اور بعض حضرات نے تقدیر عابرت سلام ہو قرار دے کر اس کو من کل امر کی صفت بنایا اور معنی یہ ہوئے کہ یہ فرشتے ہر ایسا امرلے کر آتے ہیں جو خیر وسلام ہے۔ (مظہری)
ھی حتی مطلع الفجر، یعنی لیلتہ القدر کی یہ برکات رات کے کسی خاص حصہ کی ساتھ مخصوص نہیں، شروع رات سے طلوع فجر تک ایک ہی حکم ہے۔
فائدہ۔ ان آیات میں لیلتہ القدر کو ایک ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ ان ایک ہزار مہینوں کے اندر بھی ہر سال ایک شب قدر آئے گی تو حساب کس طرح بنے گا۔ ائمہ تفسیر نے…
Read the full tafseer →اس رات میں شیاطین پابند ہوتے ہیں: یہ اس رات کے اس پہلو کی وضاحت ہے جس کا ذکر اوپر ’خَیْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ فرمایا کہ یہ رات کلیۃً امان ہی امان ہے اور اس کی یہ برکت طلوع فجر تک محیط ہے۔
’سَلٰمٌ‘ میرے نزدیک مبتدائے محذوف کی خبر ہے۔ پورا جملہ ’ہِیَ سَلٰمٌ‘ ہے۔ پوری توجہ خبر پر مرکوز کر دینے کے لیے مبتدا کو حذف کر دیا ہے۔ جس طرح ’زَیْدٌ عَدْلٌ‘ میں لفظ ’عَدْلٌ‘ میں مبالغہ کا مفہوم پیدا ہو گیا ہے اسی طرح ’سَلٰمٌ‘ میں بھی مبالغہ کا مفہوم ہے۔ میں نے ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھا ہے۔
لفظ ’سَلٰمٌ‘ میں یوں تو ہر قسم کی آفات سے محفوظ ہونے کی ضمانت ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس مبارک…
Read the full tafseer →5۔ 1 یعنی اس میں شر نہیں۔ یا اس معنی میں سلامتی والی ہے کہ مومن اس رات کو شیطان کے شر سے محفوظ رہتے ہیں یا فرشتے اہل ایمان کو سلام عرض کرتے ہیں، یا فرشتے ہی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرتے ہیں۔ شب قدر کے لئے نبی ﷺ نے بطور خاص یہ دعا بتلائی ہے، اللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُو تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
3: اس رات میں فرشتوں کے اترنے کے دو مقصد ہوتے ہیں ایک یہ کہ اس رات جو لوگ عبادت میں مشغول ہوتے ہیں فرشتے ان کے حق میں رحمت کی دعا کرتے ہیں اور دوسرا مقصد آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس رات میں سال بھر کے فیصلے فرشتوں کے حوالے فرما دیتے ہیں، تاکہ وہ اپنے اپنے وقت پر ان کی تعمیل کرتے رہیں ”ہر کام کے لئے اترنے“ کا یہی مطلب مفسرین نے بیان فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →ھی حتی ................ الفجر (5:97) ” یہ طلوع فجر تک ہے “۔ ہم اہل ایمان اس بات پر مامور ہیں کہ اس جشن نوبہاراں کو بھی نہ بھلائیں۔ یہ اچھی یادیں ہیں ، اور ان یادوں کو تازہ رکھنے کے لئے ہمارے نبی نے ہمارے لئے بہت ہی سہل طریقے بتائے ہیں تاکہ ہماری روحیں اس سرچشمے سے مربوط ہیں۔ اور وہ عظیم کائناتی واقعہ انہیں یاد رہے جو اس رات میں وقوع پذیر ہوا۔ وہ یوں کہ حضور نے ہمیں تاکید فرمائی کہ ہر سال اس رات کو اللہ کی عبادت میں کھڑے رہو اور رمضان شریف کی آخری دس راتوں میں اسے تلاش کرو ، صحیح حدیث ہے :
تحروالیلة القدر فی العشر الاواخر من رمضان۔
” شب قدر کو رمضان کی آخری راتوں میں تلاش کرو “۔ اور صحیحین ہی…
Read the full tafseer →11 یعنی وہ رات امن و چین اور دلجمعی کی رات ہے۔ اس میں اللہ والے لوگ عجیب و غریب طمانیت اور لذت و حلاوت اپنی عبادت کے اندر محسوس کرتے ہیں۔ اور یہ اثر ہوتا ہے، نزول رحمت و برکت کا جو روح و ملائکہ کے توسط سے ظہور میں آتا ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ اس رات جبرائیل (علیہ السلام) اور فرشتے عابدین و ذاکرین پر صلوٰۃ وسلام بھیجتے ہیں۔ یعنی ان کے حق میں رحمت اور سلامتی کی دعا کرتے ہیں۔
12 یعنی شام سے صبح تک ساری رات یہی سلسلہ رہتا ہے اس طرح وہ پہلی رات مبارک ہے (تنبیہ) قرآن سے معلوم ہوا کہ وہ رات رمضان شریف میں ہے (شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ) 2 ۔ البقرۃ :185) اور حدیث صحیح میں…
Read the full tafseer →آیت 5{ سَلٰــمٌ قف } ”سراسر سلامتی ہے۔“
اس سلامتی کے بہت سے پہلو ہیں۔ مثلاً اس رات میں لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور عبادت کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
{ ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ۔ } ”یہ رات رہتی ہے طلوع فجر تک۔“
Read the full tafseer →4 اس آیت کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جو فرشتے نازل ہوتے ہیں وہ ساری رات اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کے لیے امن و سلامتی کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس میں جتنے بھی فیصلے کیے جاتے ہیں وہ سب خیر و سلامتی پر ہی مبنی ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر کسی فرد کی ہلاکت یا کسی قوم کی تباہی کے متعلق فیصلہ کیا جائے تو وہ بھی اہل زمین کی خیر و سلامتی پر مبنی ہوگا۔
Read the full tafseer →5۔ یعنی وہ رحمت کسی خاص حصہ شب کے ساتھ مخصوص نہیں صبح تک برابر اس کی بارش جاری رہتی ہے۔ (آیت) ” سلم “۔ کے معنی ہر خوف سے نجات کے ہیں۔ اس میں یہ اشارہ بھی آگیا کہ جو قانون قرآن لایا ہے اور جس کی سالانہ یادگار کا نام شب قدر ہے، وہ قانون بندوں کو دنیوی واخروی ہر خوف سے نجات دلانے والا ہے، ایک اشکال یہ ہے کہ اختلاف مطالع ومغارب کی وجہ سے شب قدر کا ہر جگہ جدا ہونا لازم آتا ہے، جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی محذور لازم نہیں آتا کہ یہ برکات کسی کو کسی وقت میں ملیں اور کسی کو کسی وقت میں، اس طرح نزول ملائکہ کا ہر جگہ مختلف وقت میں ہونا، (تھانوی (رح)) (آیت) ” سلم .... الفجر “۔ یعنی اس شب میں خیر ہی خیر ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
تنزل الملائکۃ والروح، روح سے مراد حضرت جبرائیل امین (رح) تعالیٰ ہیں، حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب شب قدر ہوتی ہے تو جبرئیل امین (رح) تعالیٰ فرشتوں کی بڑی جماعت کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں اور جتنے اللہ کے بندے مرد ہوں یا عورت نماز با ذکر میں مشغول ہوتے ہیں، سب کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔ (مظھری)
من کل امر اس میں من بمعنی با ہے، معنی یہ ہیں کہ فرشتے لیلۃ القدر میں تمام سال کے اندر پیش آنے والے تقدیری واقعات لے کر زمین پر اترتے ہیں۔
Read the full tafseer →سلم . یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے یعنی وہ امر سلام (سلامتی والا) ہوتا ہے یا ہر مصیبت سے محفوظ رہنے کا موجب ہوتا ہے ‘ بظاہر امر سے مراد ہے رحمت اور ثواب اعمال میں برکت اور وہ اطمینان جو اللہ کی یاد کرنے والے اہل ایمان کے دلوں میں پیدا ہوجاتا ہے۔
ھی حتی مطلع الفجر . وہ شب قدر طلوع فجر تک ہوتی ہے۔ ھی مبتداء ہے اور حتی مطلع الفجر ‘ خبر۔ ہر رات طلوع فجر تک ہوا کرتی ہے ‘ اس لیے محض لیلۃ القدر کی طرف ضمیر راجع کرنا مفید نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ شب قدر مع اپنے اوصاف (نزول ملائکہ اور رحمت وغیرہ) کے صبح تک رہتی ہے یا یوں کہا جائے کہھی مبتداء ہے اور سلام خبر مقدم ہے اور یہ تقدیم مفید حصر ہے اور پورا جملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
(3۔ 5) اور شب قدر اس قدر فضیلت والی رات ہے کہ اس شب میں عبادت کرنا ہزار مہینوں میں عبادت کرنے سے جس میں شب قدر نہ بہتر ہے اس رات میں فرشتے اور جبریل امین اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں اور امت محمدیہ میں ہر ایک نمازی اور روزہ دار کو سلام کرتے ہیں یا یہ کہ ہر ایک آفت سے اس رات میں سلامتی ہوتی ہے اور اسرات کی فضیتل و برکت فجر تک رہتی ہے۔
Read the full tafseer →(1) سلمھی حتی مطلع الفجر :”سلم“ خبر مقدم اور ”ھی“ مبتدا موخر ہے، یعنی وہ رات طلوع فجر تک سراسر سلامتی ہے۔ مغرب سے فجر تک رات بھر اس میں اہل ایمان شیطان کے شر اور ہر قسم کے فتنے سے سلامت رہتے ہیں اور اپنے دلوں میں عجیب اطمینان و سکون اور سلامتی محسوس کرتے ہیں۔
(2) لیلتہ القدر، اس کی تلاش اور اعتکاف کے مسئال و فضائل کے لئے کتب احادیث کا مطلاعہ فرمائیں۔
Read the full tafseer →سلام، ھی حتی مطلع الفجر۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام کی تکمیل سلام پر ہوتی ہے، یہ نافع اور دوسرے علماء سے مروی ہے یعنی لیلۃ القدر سراپا سلامت اور خیر ہے اسمیں کوئی شر نہیں۔ مطلع الفجر سے مراد طلوع فجر ہے۔ ضحاک نے کہا، اللہ تعالیٰ اس رات میں سلامتی ہی مقدر فرماتا ہے باقی راتوں میں آزمائش اور سلامتی دونوں کا فیصلہ کرتا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ اس سے سلامت ہے کہ رات میں کوئی شیطان، مومن مرد یا عورت میں موثر ہوسکے، مجاہد نے بھی اسی طرح کہا ہے یہ سلامتی والی رات ہے شیطان اس میں طاقت نہیں رکھتا کہ اسمیں کوئی براعمل کرے۔ ایک مرفوع روایت بھی اس بارے میں ہے امام شعبی نے کہا، اس سے مراد ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة انا انزلنہ فی لیلۃ القدر مکہ میں نازل ہوئی۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن عباس اور عائشہ ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔
3۔ ابن الضریس وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر بیشک ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں اتارا۔ یعنی شب قدر میں پورا قرآن کریم ایک ہی بار اس ذکر سے نازل کیا گیا جو رب العزت کے پاس اور اسے آسمان دنیا میں بیت العزۃ میں رکھ دیا گیا پھر جبریل (علیہ السلام) اسے لے کر محمد صلی اللہ پر غار حرا میں نازل ہونا شروع ہوئے۔ بندوں کے کلام اور ان کے اعمال…
Read the full tafseer →[سَلٰمٌ هِيَ : سلامتی ہے یہ (رات)][ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ : فجر کے طلوع ہونے کے وقت تک ]
ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ کا مطلب یہ ہے کہ لیلۃ القدر کی برکات رات کے کسی خاص حصے کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں۔ غروبِ آفتاب سے طلوع فجر تک ایک ہی حکم ہے۔ جس شخص نے شب قدر میں عشاء اور فجر کی نماز جماعت سے پڑھ لی اس نے بھی اس رات کا ثواب پا لیا اور جو شخص جتنا زیادہ کرے گا اتنا زیادہ ثواب پائے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرلی تو آدھی رات کے قیام کا ثواب پا لیا اور جس نے صبح کی نماز بھی جماعت سے ادا کرلی تو پوری رات جاگنے عبادت کرنے کا ثواب حاصل کرلیا۔
اختلاف…
Read the full tafseer →سَلٰمٌ یہ رات سراپا سلامتی ہے پوری رات فرشتے ان لوگوں پر سلام بھیجتے رہتے ہیں جو اللہ کے ذکر و عبادت میں لگے رہتے ہیں اور بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا کہ شب قدر پوری کی پوری سلامتی اور خیر والی ہے اس میں شر نام کو نہیں ہے اس میں شیطان کسی کو برائی پر ڈال دے یا کسی کو تکلیف پہنچا دے اس کی طاقت سے باہر ہے۔ (ذكرہ فی معالم التنزیل)
﴿هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (رح) 005﴾ (یہ رات فجر طلوع ہونے تک رہتی ہے) اس میں یہ بتادیا کہ لیلۃ القدر رات کے کسی حصے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے شروع حصے سے لے کر صبح صادق ہونے تک برابر شب قدر اپنی خیرات اور برکات کے ساتھ باقی رہتی ہے۔
فائدہ : وجہ تسمیہ لیلۃ القدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
عظمت شب قدر وماہ رمضان بنزول قرآن :
قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” انآانزلنہ فی لیلۃ القدر ......... الی ....... ھی حتی مطلع الفجر “۔
(ربط) گزشتہ سورة اقرا میں آغاز اور ابتداء بعثت کا ذکر تھا، اب اس سورت میں نزول قرآن کا زمانہ اور شب قدر کی فضیلت بیان کی جارہی ہے جس میں اللہ رب العزت نے قرآن جیسی نعمت اور عظیم کتاب ہدایت نازل فرمائی۔
یا یہ کہہ دیجئے کہ گزشتہ سورت میں انسان پر عنایات والطاف خداوندی کا ذکر تھا اور اس کی ترقیات کا، اب اس مناسبت سے انسانی سعادت اور فوز و فلاح کی اصل اساس کتاب الہی اور قرآن حکیم کا نزول بیان کیا جارہا ہے کہ وہ شب قدر میں ہوا، جس میں عقائد، عبادات، معاملات، تہذیب نفس، اور…
Read the full tafseer →5:۔ ” سلام “ اس رات کی برکات میں سے ایک یہ ہے کہ یہ رات سراپا امن و سلامتی اور خیر ہے اور اس میں کوئی شر نہیں ہوتا۔ امام نافع مدنی فرماتے ہیں ای لیلۃ القدر سلامۃ و خیر کلہا لاشرفیہا (قرطبی) ۔ لیلۃ القدر کی یہ خیر و برکت صبح صادق کی نمود تک ہے کیونکہ طلوع صبح سے رات ختم ہوجاتی ہے۔
سورة القدر ختم ہوئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
پہلی سورة کا خلاصہ
پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اور پھر اسے درجہ کمال تک پہنچانے کے لئے علم کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد انسانوں کی دو اقسام کا ذکر کیا۔ ایک وہ قسم جو اہل ایمان ہیں اور فطرت کے مطابق قرآن پاک کا علم حاصل کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی وحدانیت کو مانتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو خدا کا عاجز بندہ سمجھتے ہیں اور اس کے حضور نماز ادا کرتے ہیں۔ تقویٰ کا حکم دیتے ہیں اور نیکی اور ہدایت کے راستے پر گامزن ہیں۔
انسانوں کا دوسرا گروہ سرکش ہے اپنے آپ کو مال و جاہ کی وجہ سے مستغنی خیال کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں رکھتا۔ اور اللہ کے بندوں کو اس کی عبادت…
Read the full tafseer →سَلٰمٌ 0 ۛ ہِيَ حَتّٰى مَطْلَــعِ الْفَجْرِ 5 ۧ
سلام
السِّلْمُ والسَّلَامَةُ : التّعرّي من الآفات الظاهرة والباطنة، قال : بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
[ الشعراء/ 89] ، أي : متعرّ من الدّغل، فهذا في الباطن، وقال تعالی: مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيها
[ البقرة/ 71] ، فهذا في الظاهر، وقد سَلِمَ يَسْلَمُ سَلَامَةً ، وسَلَاماً ، وسَلَّمَهُ الله، قال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ [ الأنفال/ 43] ، وقال : ادْخُلُوها بِسَلامٍ آمِنِينَ [ الحجر/ 46] ، أي : سلامة، وکذا قوله : اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا[هود/ 48] . والسّلامة الحقیقيّة ليست إلّا في الجنّة، إذ فيها بقاء بلا فناء، وغنی بلا فقر، وعزّ بلا ذلّ ، وصحّة بلا سقم،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ترکیب ¦ انا مبتداء انزلناہ الضمیر یرجع الی القرآن وان لم یتقدم ذکرہ لکونہ معھودا معلومًا فی متعلق بانزلنا والجملۃ خبر المبتدء۔ وما ادراک الجملۃ استفہامیۃ لبیان عظم شان لیلۃ القدر۔ لیلۃ القدر مبتدء خبر من الف شہر خبرہ والجملۃ التامۃ جواب الاستفھام۔ تنزل بحذف احدی التائین من الاصل۔ الملائکۃ فاعلہ و تانیث الفعل لا عتبار جمعیۃ الفاعل ای متلبسین والروح معطوف علی الملائکۃ۔ فیھا ای فی لیلۃ القدر والجار متعلق بتنزل باذن ربہم متعلق تنزل او بمحذوف ھو حال من فاعلہ ای متلبسین باذن ربہم ای بامرہ۔ من کل امر ای من اجل کل امر وقیل من بمعنی اللام ای لکل امرو قیل بمعنی الباء ای بکل امر۔ متعلق بالفعل السابق۔…
Read the full tafseer →سَلٰـمٌ قف ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۔ (القدر : 5)
(یہ (رات) سراسر سلامتی ہے، یہ طلوع فجر تک ہے۔ )
یہ رات سر تاپا سلامتی ہے، طلوعِ فجر تک رہتی ہے
سَلٰـمٌ، یہ مبتدائے محذوف کی خبر ہے۔ اصل میں یہ ھِیَ سَلاَ مٌ ہے۔ خبر پر پوری توجہ مرکوز کرنے کے لیے مبتداء کو حذف کردیا گیا ہے۔ اس آخری آیت میں لیلۃ القدر کے محفوظ و مامون ہونے کی خبر دی گئی ہے۔ یہ امن و سلامتی کی رات ہے۔ اس مبارک رات میں شیاطین پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کو پریشان نہیں کرسکتے جو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں۔ اس رات میں اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے عبادت و ریاضت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے قرب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
فہم القرآن
ربط کلام : لیلۃ القدر ایک ہزار مہینے سے افضل ہے اس میں حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) دوسرے ملائکہ کے ساتھ بنفس نفیس نزول فرماتے ہیں۔
القدر کا معنی تقدیر بھی ہے اس لیے یہ سورت اسم بامسمّیٰ ہے کیونکہ اس میں لوگوں کی تقدیر کا فیصلہ ہوتا ہے اور یہ رات اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بھر پورہوتی ہے۔ اس رات میں اپنے رب کے حکم کے مطابق مختلف امور کے لیے جبریل امین اور کثیر تعداد میں فرشتے نازل ہوتے ہیں اور یہ رات صبح طلوع ہونے تک سلامتی سے بھر پور ہوتی ہے۔ کچھ بزرگوں نے ضعیف روایات کی بنیاد پر شعبان کی پندرہویں رات کی یہ فضیلت بیان کی ہے۔ جس بنا پر بیشمار لوگ اس رات کو شب برأت کہتے ہیں حالانکہ شب…
Read the full tafseer →5 : سَلٰمٌ ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ (سراپا سلام ہے۔ وہ شب طلوع فجر تک رہتی ہے) سَلٰمٌ ھِیَ : وہ رات نری سلامتی ہے۔ یہ مبتدأ اور خبر ہے۔ ای لایقدر اللہ فیھا الا السلام ۃ والخیر۔ اللہ تعالیٰ اس سلامتی اور خیر ہی کا فیصلہ فرماتے ہیں اور دوسرے اوقات میں بلاء و سلامتی ہر دو کا فیصلہ ہوتا ہے۔ نمبر 2۔ وہ رات سراپا سلامتی ہے۔ اس لئے کہ کثرت سے (وہ فرشتے) مسلمانوں کو سلام کرتے ہیں۔
ایک قول :
اس رات میں جس مومن ومومنہ کو ملتے ہیں۔ سلام کرتے ہیں۔
حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ طلوع فجر تک وہ رہتی ہے۔
قراءت : مَطْلِع میں علی، خلف نے لام کا کسرہ پڑھا۔ کافر سلام سے محروم رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →5 ۔” سلام “ عطاء فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ اللہ کے اولیاء اور اہل طاعت پر سلامتی ہے۔ شعبی (رح) فرماتے ہیں فرشتوں کا لیلۃ القدر میں اہل مسجد کو سلام کرنا سورج کے غروب ہونے کے وقت سے فجر طلوع ہونے تک ۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں فرشتے اس میں اترتے ہیں جب بھی کسی مومن مردو عورت کو ملتے ہیں تو اس پر سلام بھیجتے ہیں اس کے رب سے حتیٰ کہ فجر طلوع ہوجائے اور کہا گیا ہے کلام اللہ تعالیٰ کے قول ” باذن ربھم من کل امر “ پر مکمل ہوگئی ہے پھر ابتداء کرتے ہوئے فرمایا ” سلامھی “ یعنی لیلۃ القدر مکمل سلامتی اور خیر ہے، اس میں کوئی شر نہیں ہے۔
ضحاک (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اس رات میں نہیں مقدر کرتے اور نہ فیصلہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ صحیح معنی آیت انا انزلنہ فی لیلۃ القدر کے یہ ہیں کہ لوح محفوظ سے شب قدر میں ایک دفعہ سارا قرآن شریف اول آسمان پر اترا اور پھر رفتہ رفتہ آنحضرت ﷺ پر تئیس سال تک نازل ہوتا رہا۔ نسائی بیہقی ‘ مستدرک 2 ؎ حاکم مصنف ابن ابی شیبہ طبرانی میں معتبر سند سے جو روایتیں ہیں ان میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے یہی معنی اس آیت کے بیان فرمائے ہیں اگرچہ مفسرین نے اس آیت کے معنی اور بھی بیان کئے ہیں لیکن وہ معنی اس قدر صحیح نہیں ہیں شب قدر کی فضیلت یہت سی حدیثوں میں آئی ہے اب آگے لیلۃ القدر کی یہ فضیلت بیان فرمائی کہ اس ایک رات کی عبادت اور دونوں کے ہزار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے۔ ہزار مہینے کے تراسی سال…
Read the full tafseer →(هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ) صبح کے طلوع ہونے تک۔ یعنی اس رات کی ابتدا غروب آفتاب اور اس کی انتہا طلوع فجر ہے۔ اس رات کی فضیلت میں تواتر سے احادیث وارد ہوئی ہیں نیز یہ کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں خاص طور پر طاق راتوں میں واقع ہوتی ہیں اور یہ رات ہر سال آتی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی اسی لیے نبی کریم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھتے تھے اور کثرت سے عبادت کرتے تھے اس امید میں کہ شاید شب قدر مل جائے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
شب قدر
قول باری ہے (انا انزلناہ فی لیلۃ القدر ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے) تا قول باری (لیلۃ القدر خیر من الف شھر قدر کی رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے) ایک قول کے مطابق شب قدر اس ہزار مہینے سے بہتر ہے جس میں شب قدر واقع نہ ہوئی ہو۔ وہ اس لئے کہ شب قدر میں اس قدر خیر اور بھلائی تقسیم ہوتی ہے کہ ایک ہزار مہینوں میں اتنی بھلائی تقسیم نہیں ہوتی۔ اس بنا پر شب قدر ہزار مہینوں سے افضل ہے۔
اوقات واماکن کی ایک دوسرے پر فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ فضیلت والے اوقات اور مقامات میں بہت زیادہ خیروبرکت ہوتی ہے اور ان کا نفع بھی بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ قدر کی رات کب ہوتی ہے اس کے بارے میں حضور ﷺ سے مختلف…
Read the full tafseer →6 ۔ سراسر سلامتی کی رات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ رات سراسر سلامتی ہے، یعنی ہر طرح کے شر و فساد اور خطرہ و نقصان سے، نیز اس میں فرشتے اہل مساجد اور اہل عبادات پر سلام کرتے، اور ان کے لیے دعا کرتے ہیں ( روح، ابن کثیر، محاسن التاویل، مدارک التنزیل، اور صفوہ، وغیرہ) سو اس سے اس رات کے ایک خاص پہلو کی وضاحت فرمائی گئی جو کہ اس کے ہزار مہینوں سے بہتر ہونے کے عموم میں پایا جاتا ہے، سلام اصل میں خبر ہے مبتدا و محذوف کی، یعنی اصل میں اس طرح ہے ہی " سلام " کہ وہ رات سراسر سلامتی والی رات ہے اور مبتداء کے حذف کردینے کے اس اسلوب میں بلاغت کا یہ خاص پہلو مقصود ہوتا ہے کہ پوری توجہ خبر پر مرکوز ہے، سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لیلۃ القدر ہزار راتوں سے بہتر ہے
تشریح : سب سے پہلے تو '' اسے اتارا ''۔ تمام مفسرین نے سورة کی ضمیرکو قرآن کا مرجع ہی ظاہر کیا ہے۔ یعنی ہم نے قرآن کو شب قدر یعنی لیلۃ القدر میں نازل کیا۔ اب شب قدر کے بارے میں کیونکہ یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ کون سی رات ہے اور کس مہینے میں آتی ہے۔ بیشتر علماء اور مفسرین اور مستند محدثین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ یہ رات رمضان کے آخری عشرے میں آتی ہے اس کی دلیل یہ ہے '' رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ''۔۔ (سورۃ البقرہ 185)
اسی طرح '' ہم نے اسے ایک برکت والی رات میں نازل کیا ''۔۔ (دخان :3)
ان دونوں آیات سے ایک توہٗ کی ضمیر کا قرآن کی طرف ہونا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
سورة القدر۔
آیات 1 تا 5۔
اسرار ومعارف۔
ہم نے اس کلام یعنی قرآن مجید کو شب قدر میں نازل فرمایا کہ لوح محفوظ سے آسمان اول پر اتارا اور پھر مسلسل تئیس برس میں نازل ہوتا رہا یہ اس کی ابتدا لیلۃ القدر سے ہوئی اور پھر بتدریج نازل ہوتا رہا۔ حدیث شریف کے مطابق تمام آسمانی کتابیں رمضان المبارک میں نازل ہوئیں کہ اس ماہ مبارک کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ انسانوں میں فرشتوں جیسی صفات پیدا کردیتا ہے کھانے پینے سے رک جانا ، خطا سے بچنا اور نیکی میں زیادہ کوشش کرنا لہذا ساری کتابیں اسی مبارک مہینے میں نازل ہوئیں اور نزول قرآن شب قدر کو شروع ہوا جس کی فضیلت میں یہ بات بھی ہے کہ یہ ایک رات ہزار ماہ سے زیادہ کا درجہ…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی اس میں اہل ایمان شیطان کے شر سے سلامتی میں رہتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس میں فرشتے اہل ایمان پر سلام بھیجتے ہیں۔ لیلتہ القدر کی فضیلت میں متعدد روایات ثابت ہیں جنہیں حدث کی کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →(97:5) ہی حتی مطلع الفجر : ہی مبتدا۔ حتی مطلع الفجر اس کی خبر، ہی ای لیلۃ القدر۔ یہ رات غروب آفتاب سے لے کر طلوع فجر تک رہتی ہے۔ (ایسر التفاسیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔
لیلۃ القدر۔ شب قدر۔ قدر کی رات۔ الف شھر۔ ایک ہزار مہینے۔ تنزل۔ اترتے ہیں۔ روح۔ حضرت جبرئیل۔ اذن۔ اجازت۔ سلام۔ سلامتی۔ مطلع الفجر۔ صبح کے طلوع ہونے (تک)
تشریح :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اس کو (قرآن کریم کو) قدر کی رات میں اتارا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا ہے کہ کیا آپ کو معلوم ہے یہ قدر کی رات کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جواب عنایت فرمایا کہ وہ رات ہے جو ہزار مہینوں کی راتوں سے زیادہ بہتر ہے۔ اس میں اللہ کی طرف سے جبرئیل اور فرشتے ہر سلامتی کے فیصلے کو لے کر نازل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ طلوع فجر ہوجاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی سلامتی، عزت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
(ف 2) جو شب قدر سے خالی ہو، اس ایک رات میں نیک عمل کرنا ہزارراتوں کے عمل سے بہتر ہے حدیث شریف میں ہے کہ نبی ﷺ نے امم گذشتہ کے ایک شخص کا ذکر کیا جو تمام رات عبادت کرتا تھا اور کافروں کے ساتھ جہاد میں مصروف رہتا تھا اس طرح اس نے ہزار مہینے گزارے تھے مسلمانوں کو اس سے تعجب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو شب قدر عطافرمائی اور یہ آیت نازل کی شب قدر ہزارمہینوں سے بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے حبیب پر کرم ہے کہ آپ کے امتی شب قدر کی ایک رات عبادت کریں تو ان کا ثواب پچھلی امتوں کے ہزار ماہ کی عبادت کرنے والوں سے زیادہ ہو۔ اب آگے فرمایا کہ شب قدر ایسی معظم رات ہے کہ اس رات کو اللہ کے حکم سے ملائکہ اور…
Read the full tafseer →[6] یعنی اس کی خیروبرکت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 1: فرمایا ۔ لیلتہ القدر ، یہ فضیلت و بزرگی کی رات جس میں حق وصداقت اور نور ومعرفت کا یہی پیغام نازل ہوا ہے ۔ عبادت وزہد ، اور تقویٰ و بزرگی اور قبول وقرب کے لحاظ سے ایک ہزار مہینے کی راتوں سے بھی زیادہ بہتر ہے ۔ اس میں فرشتے اور بالخصوص حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہر امر خیر کو لے کر زمین کی طرف اترتے ہیں ۔ یہ رات سراپا سل امتی کی رات ہے ۔ یہ اپنی انہیں برکتوں کے ساتھ فجر تک رہتی ہے ۔ واضح رہے کہ جمہور مفسرین کی رائے میں یہ رمضان کے عشرہ آخر میں ایک رات ہے ۔
Read the full tafseer →(5) یہ رات سرتاسر سلامتی ہے وہ طلوع فجر تک رہتی ہے - یعنی انتظام عالم کے متعلق جو معاملات اور جو کام اس سال میں مقدر ہیں ان کے نفاذ کی تعین کے لئے فرشتے آتے ہیں یا امور خیر لے کر فرشتے نازل ہوتے ہیں یا ہر قسم کی روحانی برکتیں اور باطنی حیات لے کر نازل ہوتے ہیں روح سے مراد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔
جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے یا روح سے کوئی اور بہت بڑا فرشتہ مراد ہے یا روح سے فرشتوں کی کوئی اور جماعت مراد ہے جس کو فرشتے بھی صرف اسی رات کو دیکھتے ہیں یہ رات سلامتی ہے یعنی یہ رات اطمینان اور دل جمعی کی رات ہے یا یہ کہ فرشتوں کے سلام کی رات ہے۔
جیسا کہ روایات میں آتا ہے کہ اس رات ہر…
Read the full tafseer →ف 8۔ یہ نہیں کہ اس شب کے کسی حصہ خاص میں یہ برکت ہو اور کسی میں نہ ہو، لیلة القدر کے متعلق ایک اشکال یہ ہے کہ اختلاف مطالع و مغارب کی وجہ سے لیلة القدر کا ہر جگہ جدا ہونا لازم آتا ہے، جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی استحالہ لازم نہیں آتا کہ یہ برکات کسی کو کسی وقت میں ملیں اور کسی کو دوسرے وقت میں، اسی طرح ملائکہ کا نزول ہر جگہ مختلف وقت میں ہوا۔
Read the full tafseer →سلامتی ہی سلامتی ہے اور یہ حال طلوع فجر تک رہتا ہے
5 ؎ اس میں واضح کردیا گیا کہ اس رات کی سلامتی اور عبات کا اجر وثواب جس کا ذکر پیچھے کیا گیا ہے وقتی نہیں ہے کہ آنکھ جھپکتے ہی وہ وقت نکل جائے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو انعام و اکرام بندوں کے حق میں طے ہے وہ سورج کے غروب ہونے یعنی رات کے آنے سے شروع ہو کر طلوع فجر تک باقی رہتا ہے گویا پوری رات ہی امن و سلامتی کی رات ہے کہ نفس و شیطان کی وسوسہ اندازیاں عابدوں کو پریشان نہ کریں کہ کسی کو نفس القاء کرے یا شیطان ٹھونکا لگا جائے کہ ادھر وہ سلامتی اور خیر کا وقت آیا اور ادھر نکل گیا بس آنکھ لگی تھی کہ سب کچھ چلا گیا یہ سب کہانیاں ہیں جن کا سر ہے نہ…
Read the full tafseer →Verse [ 5] سَلَامٌ (Peace it is till the rising of dawn.) The word Salam [ peace ] stands for a complete sentence meaning 'it is all peace, equanimity and complete goodness, having no evil in it.' [ Qurtubi ]. Some scholars treat the word Salamun as a sentence qualifying مِّن كُلِّ أَمْرٍ min kulli amrin, meaning 'the angels come with every such matter which is good and peace'. [ Mazhari ].
هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ The concluding expression of the verse means the blessings of the Night of Qadr are not restricted to any particular part of the night. They start descending at the fall…
Read the full tafseer →5 That is, the entire Night, from evening till morning, is peace, free from every evil and mischief.
Read the full tafseer →