Al-Bayyina 98:1

98. Al-Bayyinaالبينة

The Evidence · Medinan · 8 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

98:1

لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِیْنَ مُنْفَكِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَهُمُ الْبَیِّنَةُ ۟ۙلَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ مُنۡفَكِّيۡنَ حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ الۡبَيِّنَةُ

جو لوگ کافر ہیں (یعنی) اہل کتاب اور مشرک وہ (کفر سے) باز رہنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس کھلی دلیل (نہ) آتی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those who disbelieved among the People of the Scripture and the polytheists were not to be parted [from misbelief] until there came to them clear evidence -

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 23 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Bayyina

All translations of 98:1

اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے (وہ اپنے کفر سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس دلیل روشن نہ آ جائے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ کافر ہیں (یعنی) اہل کتاب اور مشرک وہ (کفر سے) باز رہنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس کھلی دلیل (نہ) آتی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اہل کتاب کے کافر اور مشرک لوگ جب تک کہ ان کے پاس ﻇاہر دلیل نہ آجائے باز رہنے والے نہ تھے (وه دلیل یہ تھی کہ)

— مولانا محمد جوناگڑہی

اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے، وہ اس وقت تک باز آنے والے نہیں تھے جب تک کہ ان کے پاس روشن دلیل نہ آتی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کتابی کافر اور مشرک اپنا دین چھوڑنے کو نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل نہ آئے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اہلِ کتاب میں سے جو لوگ کافر ہو گئے اور مشرکین اس قت تک (کفر سے) الگ ہونے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس روشن دلیل (نہ) آجاتی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، باز آنے والے نہ تھے، یہاں تک کہ ان کے پاس کھلی دلیل آئے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو کافر تھے وہ (اپنے کفر سے) الگ ہونے والے نہ تھے تاآنکہ ان کے پاس روشن دلیل نہ آجائے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنہوں نے (قرآن کا) انکار کیا وہ اپنی ہٹ سے باز آنے والے نہیں ہیں، یہاں تک کہ ان کے پاس کھلی ہوئی نشانی آجائے …

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

باز آنے والے نہیں تھے اہل کتاب کے کافر لوگ اور (دوسرے کھلے) مشرک (اپنے کفر و باطل سے) یہاں تک کہ آجائے ان کے پاس (حق و باطل کو آخری حد تک واضح کردینے والی) وہ کھلی دلیل

— مولانا اسحاق مدنی

جو لوگ کافر تھے اہل کتاب اور مشرکین میں سے وہ باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس ایک واضح دلیل نہ آتی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نہیں تھے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا اہل کتاب میں سے اور مشرکین میں سے الگ ہونے والے (یا باز آنے والے) جب تک کہ ان کے پاس البیّنہنہ آجاتی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ کافر ہیں اہل کتاب اور مشرک وہ کفر سے باز رہنے والے نہ تھے جب تک ان کے پاس کھلی دلیل نہ آتی

— محترمہ رفعت اعجاز

Those who disbelieved – be they from the People of the Book or from those who associated others with Allah in His Divinity – will not desist from unbelief until the Clear Proof should come to them;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those who disbelieved from among the People of the Book and the polytheists were not (expected) to desist (from their wrong beliefs) unless there comes to them a clear proof,

— Muhammad Taqi Usmani

Those who disbelieved from among the People of the Book and the polytheists were not (expected) to desist (from their wrong beliefs) unless there comes to them a clear proof,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who disbelieve from among the People of the Scripture and the idolators, were not going to leave until there came to them the Bayyinah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Those who disbelieve among the People of the Scripture and the idolaters could not have left off (erring) till the clear proof came unto them,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those who disbelieved among the People of the Scripture and the polytheists were not to be parted [from misbelief] until there came to them clear evidence -

— Saheeh International

The disbelievers among the People of the Book and the pagans disbelieved (in Islam) only after receiving divine testimony:

— Muhammad Sarwar

Those who disbelieved from among the followers of the Book and the polytheists could not have separated (from the faithful) until there had come to them the clear evidence:

— Muhammad Habib Shakir

Those who disbelieved from among the People of the Book and the associaters could not break off, until there had come Unto them the evidence.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who reject (Truth), among the People of the Book and among the Polytheists, were not going to depart (from their ways) until there should come to them Clear Evidence,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 98:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

پاک و شفاف اوراق کی زینت قرآن حکیم : اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں فرماتا ہے کہ یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول حضرت محمد ﷺ جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے جیسے اور جگہ ہے فی صحف مکرمتہ، الخ کہ وہ نامی گرامی بلندو بالا پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکو کار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں پھر فرمایا کہ ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں نہ ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة البینہ 1 کفر میں مشترک ہونے کے باوجود ان دونوں گروہوں کو دو الگ الگ ناموں سے یاد کیا گیا ہے۔ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس پہلے انبیاء کی لائی ہوئی کتابوں میں سے کوئی کتاب، خواہ تحریف شدہ شکل ہی میں سہی، موجود تھی اور وہ اسے مانتے تھے۔ اور مشرکین سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی نبی کے پیرو اور کسی کتاب کے ماننے والے نہ تھے، قرآن مجید میں اگرچہ اہل کتاب کے شرک کا ذکر بہت سے مقامات پر کیا گیا ہے۔ مثلا عیسائیوں کے متعلق فرمایا گیا کہ وہ کہتے ہیں اللہ تین خداؤں میں ایک ہے (المائدہ 73) وہ مسیح ہی کو خدا کہتے ہیں (المائدہ 17) وہ مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں (التوبہ 30) اور یہود کے متعلق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر جو لوگ اہل کتاب اور مشرکین میں سے (قبل بعثت نبویہ) کافر تھے وہ (اپنے کفر سے ہرگز) با آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس واضح دلیل نہ آتی (یعنی) ایک اللہ کا رسول جو (ان کو) پاک صحیفے پڑھ کر سنا دے جن میں درست مضامین لکھے ہوں (مراد قرآن ہغے مطلب یہ ہے کہ ان کفار کا کفر ایسا شدید تھا اور ایسے جہل میں مبتلا تھے کہ بدون کسی عظیم رسول کے ان کی راہ پر آنے کی کوئی توقع نہ تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی حجت تمام کرنے کے لئے آپ کو قرآن دے کر مبعوث فرمایا) اور (ان کو چاہئے تھا کہ اس کو غنیمت سمجھتے اور اس پر ایمان لے آتے مگر) جو لوگ اہل کتاب تھے (اور غیر اہل کتاب تو بدرجہ اولیٰ) وہ اس…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اہل کتاب اور مشرکین کا ضدی گروہ: یہاں ’لَمْ یَکُنْ‘ فعل ناقص کے مفہوم میں نہیں بلکہ جس طرح ’وَکَانَ اللہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا‘ (النساء ۴: ۱۷) (اللہ علیم و حکیم ہے) میں ہے اسی طرح یہاں بھی فعل تام کے مفہوم میں ہے اس وجہ سے اس کا ترجمہ یوں ہونا چاہیے کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنھوں نے قرآن اور رسول کا کفر کیا وہ اپنی ہٹ سے باز آنے والے نہیں ہیں جب تک کھلی نشانی نہیں دیکھ لیں گے۔ ’کَفَرُوْا‘ کا مفعول یہاں، قرینہ کی وضاحت کی بنا پر، محذوف ہے۔ یعنی جنھوں نے قرآن اور رسول کا انکار کر دیا ہے۔ ’اہل کتاب‘ اور ’مشرکین‘ کا ذکر یہاں بحیثیت دو گروہوں کے ہے جو اس دور میں نبی ﷺ کی مخالفت میں پیش پیش…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 1 اس سے مراد یہود و نصاری ہیں، 1۔ 2 مشرک سے مراد عرب و عجم کے وہ لوگ ہیں جو بتوں اور آگ کے پجاری تھے۔ منفکّین باز آنے والے، بیّنۃ (دلیل) سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ یعنی یہود و نصاریٰ اور عرب وعجم کے مشرکین اپنے کفر و شرک سے باز آنے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس محمد ﷺ قرآن لے کر آجائیں اور وہ ان کی ضلالت و جہالت بیان کریں اور انہیں ایمان کی دعوت دیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: ان آیتوں میں حضور اقدس ﷺ کو پیغمبر بناکر بھیجنے کی وجہ بتائی جارہی ہے، اور وہ یہ کہ جاہلیت کے زمانے میں جو کافر لوگ تھے، چاہے وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا بت پرستوں میں سے، وہ اس وقت تک اپنے کفر سے باز نہیں آسکتے تھے جب تک آنحضرت ﷺ کی شکل میں ایک روشن دلیل ان کے سامنے نہ آجاتی، چنانچہ جن لوگوں نے آنحضرت ﷺ کی باتوں پر کھلے دل سے غور کیا، وہ واقعی اپنے کفر سے توبہ کرکے ایمان لے آئے، البتہ جن کی طبیعت میں ضد تھی وہ اس نعمت سے محروم رہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

حقیقت یہ ہے کہ زمین کو ایک جدید رسالت کی ضرورت تھی۔ اس زمین میں ہر طرف شروفساد وعام ہوگیا تھا اور مذاہب عالم کا حال تھا کہ ان کی اصلاح ممکن ہی نہ رہی تھی۔ ایک جدید دین اور جدید رسالت کی ضرورت تھی۔ ایک نئی تحریک اور نئے نظام کی ضرورت تھی۔ اہل زمین کے عقائد ونظریات میں کفر سرایت کرچکا تھا ، چاہے وہ اہل کتاب ہوں جن کو صحیح سماوی دین دیئے گئے تھے مگر انہوں نے جاننے کے بعد انہیں بھلادیا تھا اور دین میں مکمل تحریف کردی تھی ، چاہے وہ جزیرة العرب کے مشرک ہوں اور اس سے باہر کے مشرک ہوں۔ دونوں کفر کی حالت میں داخل ہوگئے تھے۔ یہ کفر اور تحریف کے جس مقام پر پہنچ چکے تھے ، وہاں سے ان کی واپس ممکن نہ تھی ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 اہل کتاب یہود نصاریٰ ہوئے، اور مشرکین وہ قومیں جو بت پرستی یا آتش پرستی وغیرہ میں مبتلا تھیں اور کوئی کتاب سماوی ان کے ہاتھ میں نہ تھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1{ لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ۔ } ”نہیں تھے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا اہل کتاب میں سے اور مشرکین میں سے الگ ہونے والے یا باز آنے والے جب تک کہ ان کے پاس البیّنہنہ آجاتی۔“ ظاہر ہے وہ لوگ سیدھے راستے سے بھٹک کر گمراہی میں مبتلا ہوچکے تھے۔ اب جب تک ان کے سامنے کوئی بین واضح دلیل نہ آجاتی جس سے انہیں معلوم ہوجاتا کہ وہ گمراہ ہیں یا انہیں بہت واضح انداز میں بتا نہ دیا جاتا کہ وہ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ راہ ہدایت نہیں ‘ اس وقت تک انہیں رشد و ہدایت کی راہ پر چلنے والوں سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 اہل کتاب اور مشرکین میں فرق اور اس کے چند پہلو :۔ اس آیت میں کافروں کو دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک اہل کتاب اور دوسرے مشرکین۔ اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں جن کے پاس اللہ کی کتاب موجود تھی۔ اگرچہ ان کی کتابوں میں تحریف بھی ہوچکی تھی اور انسانی اضافے بھی تھے اور مشرکین سے مراد عرب کے بت پرست اور ایران کے آتش پرست تھے جن کے پاس سرے سے کوئی الہامی کتاب موجود ہی نہ تھی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ نصاریٰ بھی مشرک تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کو تین خداؤں میں کا ایک خدا قرار دیتے تھے۔ ان میں سے بعض حضرات عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا سمجھتے تھے اور بعض انہیں اللہ ہی قرار دیتے تھے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–3

1۔ ظہور اسلام سے قبل دنیا اتنی شدید جہالتوں اور ضلالتوں اور ایسے گہرے کفر میں مبتلا تھی کہ بغیر اس کے کہ ایک مصلح اعظم آئے، او اپنے ہمراہ ایک مکمل نظام نامہ لائے، کوئی توقع اصلاح کی نہ تھی، چناچہ مشیت الہی نے اپنی حجت کو واضح طور پر پورا کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کو قرآن کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ (آیت) ” لم ..... منفکین “۔ ذکر زمانہ قبل ظہور اسلام کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” منفکین “۔ یعنی کفر کو چھوڑنے والے، کفر سے ہٹنے والے۔ (آیت) ” البینۃ ..... اللہ “۔ یہاں رسول اللہ ﷺ کو صراحت کے ساتھ ایک دلیل واضح قرار دیا ہے۔ (آیت) ” رسول من اللہ “۔ بدل ہے (آیت) ” البینۃ “۔ کا اے الحجۃ الواضحۃ والمراد محمد ﷺ (مدارک)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–2

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے یعنی بت پرست تھے (والمشرکین) کا عطف اھل پر ہے اور من اھل الکتاب میں من بیانیہ ہے، وہ (اپنے کفر سے) باز آنے والے نہیں تھے (منفکین) یکن کی خبر ہے، یعنی جس (کفر) پر وہ تھے اس کو چھوڑنے والے نہیں تھے تاآنکہ ان کے پاس واضح دلیل آجائے، یعنی اللہ کی طرف سے ایک رسول (رسول من اللہ) البینۃ سے بدل ہے اور وہ نبی ﷺ ہیں، جو ان کو باطل سے پاک صحیفے پڑھ کر سنائے، جن میں صحیح احکام مکتوب ہوں یعنی اس کے مضمون کو پڑھ کر سنائے اور وہ قرآن ہے، چناچہ ان میں سے بعض اس پر ایمان لائے اور ان میں سے بعض نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لم یکن الذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین منفکین . یعنی رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے جو اہل کتاب اور مشرک کفر کرتے تھے ‘ وہ اپنے کفر سے ہٹنے والے نہ تھے ‘ اہل کتاب کا کفر تھا اللہ کی صفات میں غلطی کرنا (جیسے عزیر و مسیح کو اللہ کا بیٹا مانتے تھے) اور مشرکوں سے مراد ہیں بت پرست (ان کی بت پرستی موجب کفر تھی) ۔ حتی تاتیھم البینۃ . یہاں تک کہ ان کی پاس کھلی ہوئی حقیقت آگئی جو حق و باطل میں امتیاز پیدا کرنے والی ہے ‘ یہاں مستقبل بمعنئ ماضی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–4

(1۔ 4) یہود و نصاری اور مشرکین عرب یہ رسول اکرم صلی اللہ اور قرآن کریم اور اسلام کے انکار پر قائم رہتے جب تک کہ ان کے پاس توریت و انجیل میں اس چیز کا ذکر نہ آتا کہ حضرت محمد ﷺ کی طرف سے رسول ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ بعثت نبوی سے پہلے یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب کفر سے باز نہ آتے جب تک کہ ان کے پاس واضح دلیل نہ آتی یعنی حضرت محمد ﷺ جو ان کو پاک صحیفے پڑھ کر سنا دے جس میں دین مستقیم کے مضامین لکھے ہوں۔ اور یہودی یعنی کعب بن اشرف وغیرہ اپنی کتاب توریت میں رسول اکرم ﷺ کی نعت و صفت آنے ہی کے بعد حضور اور قرآن اور دین اسلام کے بارے میں مختلف ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(لم یکن الذین کفروا …:”منفکین“ ”فک یفک فکا“ (ن)”الشیء“ کسی چیز کو دوسری سے جدا کرنا، ”العقدۃ“ گروہ کھولنا اور ”الختم“ مہر توڑنا۔ ”انفک ینفک“ (انفعال) ایک چیز کا دوسری چیز سے الگ ہونا جس کے ساتھ وہ خوب جڑی ہوئی تھی، جیسے ”انفک العظم“”ہڈی اپنے جوڑے سے الگ ہوگئی۔“ (منفکین“ اسم فاعل ہے، (اپنے کفر سے) باز آنے والے، الگ ہونے والے۔ یعنی پیغمبر آخر الزماں اور قرآن بھیجنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اور مشرکین عرب کو راہ حق پر لایا جائے، کیونکہ یہ لوگ اس قدر بگڑے وہئے تھے کہا ن کا راہ حق پر آنا اس کے بغیر مکن نہ تھا کہ ایک پیغمبر ائٓے جو ایک مقدس آسمانی کتاب لائے جس میں عمدہ دل…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–3

لم یکن الذین۔۔۔ تا۔۔۔ قیمہ۔ عام قرات یہی ہے اور مصحف کا خط بھی ایسا ہی ہے حضرت ابن مسعود اسے لم یکن المشرکون واھل الکتاب پڑھتے یہ قرات تفسیر کے طریقہ پر ہے ابن عربی نے کہا، یہ بیان وضاحت کے انداز میں تو جائز ہے لیکن تلاوت میں جائز نہیں، صحیح روایت میں نبی کریم ﷺ سے فطلقوھن لقبل عدتھن۔ قرات ثابت ہے مگر یہ بھی تفسیر کے طور پر ہے کیونکہ تلاوت وہ ہے جو مصحف کے خط میں ہے۔ اہل کتاب سے مراد یہود ونصاری ہیں المشرکین محل جر میں ہے کیونکہ اس کا عطف اہل کتاب پر ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، اھل الکتاب سے مراد وہ یہودی ہیں جو یثرب میں تھے وہ بنوقریظہ، بنونضیر اور بنو قینقاع تھے۔ مشرکین سے مراد جو مکہ مکرمہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–8

1۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة لم یکن مدینہ میں نازل ہوئی 2۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة لم یکن مکہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابو نعیم نے المعرفہ میں اسماعیل بن ابی حکیم المزنی ؓ جو بنو فضیل میں سے ایک تھے سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ لم یکن کی قراءت کو سنتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میرے بندے کو بشارت دے دو پس میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! میں تجھے اتنا اختیار دوں گا جنت میں یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے گا۔ 4۔ ابوموسی المدینی نے المعرفہ میں اسماعیل بن ابی حکیم سے روایت کیا اور انہوں نے مطر المزنی یا المدنی (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوْا : تھے ہی نہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ][ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ : مشرکین اور اہل کتاب میں سے ][ مُنْفَكِّيْنَ : باز آنے والے (کفر سے)][ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ : جب تک کہ (نہ) پہنچے ان کے پاس ][ الْبَيِّنَةُ : روشن دلیل ] ترکیب : (آیت۔ 1) لَمْ یَکُنْ میں کَانَ کا اسم اَلَّذِیْنَ سے اَلْمُشْرِکِیْنَ تک کا پورا فقرہ ہے اور مُنْفَکِّیْنَ اس کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔ اَلْمُشْرِکِیْنَ سابقہ مِنْ پر عطف ہونے کی وجہ سے حالت جَر میں ہے۔ (آیت۔ 2) رَسُولٌ کو اگر خبر مانیں تو اس سے پہلے اس کا مبتدا محذوف مانا جائے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

یہاں سے سورة البینہ شروع ہو رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے دنیا میں مشرکین بھی بہت تھے اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ بھی تھے۔ یہ سب جماعتیں اپنے اپنے دین پر مضبوطی سے جمی ہوئی تھیں ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ شانہ نے خاتم الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ اتنے اڑیل تھے کہ اپنے کفر کو اس وقت تک چھوڑنے والے نہ تھے جب تک کوئی مضبوط واضح دلیل سامنے نہ آجائے، اللہ تعالیٰ جل شانہ نے مضبوط واضح دلیل بھیجی۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے آپ پر قرآن نازل ہوا، لوگوں نے اپنی آنکھوں سے آپ کے معجزات دیکھے اور برکات کا ظہور ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا یعنی اہل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–8

ذات رسول کریم ﷺ وآیات قرآن شرچشمہ علوم وبرہان ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لم یکن الذین کفروا ....... الی .......... ذلک لمن خشی ربہ “۔ (ربط) گزشتہ سورت القدر میں شب قدر کی عظمت وفضیلت کا ذکر تھا، اس مناسبت سے اب اس سورت میں قبولیت عبادت کی اساس بیان کی جارہی ہے کہ وہ بندہ کا اخلاص اور قلب کی طہارت ہے اور اسی کو نام حنیفیت ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا شعار تھا، نیز یہ کہ سورة قدر میں لیلۃ القدر کی فضیلت بیان کی گئی تھی تو اب اس سورت میں سعادت وشقاوت کے اصول بیان کئے گئے تاکہ ایمان وکفر اور ہدایت وگمراہی میں کسی کو التباس نہ رہے، تو ارشاد فرمایا۔ نہیں تھے باز آنے والے وہ لوگ جو کافر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔” لم یکن “ اہل کتاب سے یہود و نصاری مراد ہیں۔ ” منفکین “ یہاں تامہ ہے بمعنی منتھین عن کفرہم (قرطبی) ۔ یہاں ایک اشکال ہے وہ یہ ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین کے کفر و شرک سے باز آنے کی انتہاء پیغمبر (علیہ السلام) کی آمد بیان فرمائی ہے اور حتی چونکہ انتہاء غایت کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ رسول کی آمد پر ان کی پہلی حالت یعنی کفر و شرک پر قیام ختم ہوجائے، لیکن اس کے بعد والی آیت ” وما تفرق الذین اوتوا الکتاب “ کا مقتضی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی آمد کے بعد ان کے کفر میں اضافہ ہوگیا۔ اس طرح دونوں آیتوں میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے۔ اس کے متعدد جوابات ہیں۔ اول۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل کتاب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–4

مفسرین کرام اس کا نام سورة قیامت بھی ذکر کرتے ہیں۔ جیسا کہ تفسیر روح المعانی میں ہے اور سورة بریہ بھی اور منفکین ، سورة بینہ بھی۔ لیکن بینہ زیادہ مشہور ہے۔ اس لئے کہ اس سورة میں دو دفعہ بینہ کا لفظ مذکور ہے۔ اور بینہ واضح چیز کو کہتے ہیں۔ واضح دلیل یا واضح بات بینہ کہلاتی ہے جیسا کہ قرآن کریم کی آیات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بینات کا لفظ استعمال کیا۔ ” من البینت والھدی “ واضح واضح باتیں اور ہدایت کی باتیں۔ “ ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت والھدی “ یہ بینات کا لفظ آتا ہے۔ اس سے مراد وہ واضح اصول ہیں جو بالکل واضح ہوں آسانی سے معلوم ہو سکتے ہوں۔ ہدایت واضح باتیں واضح قانون ، واضح دلائل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْكِتٰبِ وَالْمُشْرِكِيْنَ مُنْفَكِّيْنَ حَتّٰى تَاْتِيَہُمُ الْبَيِّنَۃُ۝ 1 ۙ «لَمْ» وَ «لَمْ» نفي للماضي وإن کان يدخل علی الفعل المستقبل، ويدخل عليه ألف الاستفهام للتّقریر . نحو : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] ، أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی [ الضحی/ 6] ( لم ( حرف ) لم ۔ کے بعد اگرچہ فعل مستقبل آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے وہ اسے ماضی منفی بنادیتا ہے ۔ اور اس پر ہمزہ استفہام تقریر کے لئے آنا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] کیا ہم نے لڑکپن میں تمہاری پرورش نہیں کی تھی ۔ كفر الكُفْرُ في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–5

ترکیب ¦ وما تفرق الخ الجملہ مستانفۃ لتوبیخ اھل الکتاب والتخصیص بذکرھم للد لالۃ علی ان المشرکین مع جھلھم اولیٰ بالتفرق الا الا ستثناء مفرغ من اعم الاحوال والا وقات۔ وما امرو الجملۃ فی محل النصب علی انھا حال من اھل الکتاب والحال انھم ما امرو ابشیء یخالف اصول دینھم بل بشیء یطابقھا مخلصین قراء الجمھور بکسر اللام وقرا الحسن بفتحھا۔ وھی حال من الضمیر فی یعبدو احنفاء حال من الضمیر فی مخلصین فیکون من باب التداخل ویمکن ان یکون من یعبدوا جمع حنیف۔ والحنیف المائل عن الباطل ای الحق وقیل المتبع بطریقۃ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) ویقیموا ویوتوا معطوفان علی لیعبدوا سقطت النون لتقدر ان ای ان لیعبدوا للہ الخ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْـکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَھُمُ الْبَیِّنَۃُ ۔ (البینۃ : 1) (نہیں تھے باز آنے والے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، یعنی اہل کتاب اور مشرکین، جب تک کہ ان کے پاس ایک روشن دلیل نہ آجائے۔ ) اہلِ کتاب اور مشرکین کا جمود اور آنحضرت ﷺ کی بعثت کی دلیل نبی کریم ﷺ کی بعثت طیبہ سے پہلے انسان کا ہمہ جہتی بگاڑ اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ قرآن کریم نے دوسری جگہ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ لوگوں کی کرتوتوں کے باعث ہر سطح کا فساد بروبحر میں پھیل گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کی شدت کا یہ عالم تھا کہ اصلاح کی کوئی صورت دکھائی نہ دیتی تھی۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورت : لیلۃ القدر میں نازل ہونے والا قرآن مجید کسی ایک فرقہ اور قوم کے لیے نازل نہیں ہوا، یہ بلا تخصیص ہر دور کے لوگوں کے لیے نازل ہوا جس میں اہل کتاب اور مشرکین بھی شامل ہیں۔ اس سورة مبارکہ میں اہل کتاب اور مشرکین کو الگ، الگ مخاطب کیا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ اہل کتاب مشرک نہیں تھے۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص انداز ہے کہ وہ اہل کتاب کو بنی اسرائیل اور ان کے معروف نام اہل کتاب سے مخاطب کرتا ہے، جہاں تک ان کے شرک کا تعلق ہے یہ اسی طرح ہی شرک میں ملوّث تھے جس طرح عرب کے مشرکین شرک میں مبتلا تھے۔ فرق صرف اتنا تھا اور ہے کہ عرب کے مشرکین بتوں کے واسطے سے عبادت اور دعا کرتے تھے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 : لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَاْ تِیَھُمُ الْبَیِّنَۃُ (جو لوگ اہل کتاب اور مشرکوں میں سے کافر تھے۔ وہ باز آنے والے نہ تھے۔ جب تک کہ ان کے پاس واضح دلیل نہ آتی) جو لوگ حضرت محمد ﷺ کا انکار کرنے والے تھے۔ من اھل الکتابؔ اہل کتاب یعنی یہود و نصاری میں سے۔ اھل الرجلؔ ان لوگوں کو کہتے ہیں جو اس کے اخص الخواص ہوں۔ اہل الاسلام جو دین اسلام کو اختیار کرنے والے ہوں۔ وَالْمُشْرِکِیْنَ (اور بتوں کے پجاری) مُنْفَکِّیْنَ (کفر سے جدائی اختیار کرنے والے نہ تھے) ۔ نحو : متعلق کو حذف کردیا کیونکہ الذین کا صلہ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ حَتّٰی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” لم یکن الذین کفروا من اھل الکتاب “ اور وہ یہود و نصاریٰ ہیں۔ ” والمشرکین “ اور وہ بتوں کی عبادت کرنے والے۔ ” منفکین “ ہٹنے والے جدا ہونے والے ۔ کہا جاتا ہے ” فکک الشیء فانفک “ یعنی جدا ہوگئی۔ ” حتیٰ تاتیھم البینۃ “ لفظ مستقبل اور اس کا معنی ماضی کا ہے۔ یعنی حتیٰ کہ ان کے پاس واضح حجت آجائے یعنی محمد ﷺ ان کے پاس قرآن لائے تو ان کی گمراہی اور جہالت کو بیان کردیا اور ان کو اسلام اور ایمان کی طرف بلایا۔ پس یہ آیت ان کے بارے میں ہے جو دونوں فریقوں میں سے ایمان لایا۔ خبر دی ہے کہ وہ کفر سے باز نہ آئیں گے حتیٰ کہ ان کے پاس رسول آئے پھر ان کو ایمان کی طرف بلایا، پھر وہ ایمان لے آئے تو اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–8

1۔ 8۔ شروع سورة سے حتیٰ تاتھیم البینۃ تک کی آیت کا مطلب اس طرح کا مشکل ہے کہ جس کے بیان کرنے میں اکثر مفسروں نے غلطی کی ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ بینہ 1 ؎ سے مراد نبی آخر الزمان ہیں۔ اور یہ آیت ان لوگوں کی شان میں ہے جو اہل مکہ اور اہل کتاب میں سے راہ راست پر آگئے اور اسلام لے آئے اور حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اگر قرآن جیسی کتاب نازل نہ ہوتی اور نبی آخر الزمان جیسے رسول نہ آتے تو اہل مکہ اور اہل کتاب سب کے سب اسی کفر کی حالت پر رہتے اور کوئی ان میں سے راہ راست پر نہ آتا۔ پھر فرمایا کہ یہ اہل کتاب جو متفرق ہو رہے ہیں کہ کوئی ان میں سے اسلام لے آیا اور کوئی بدستور حالت کفر پر اڑا ہوا ہے اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے (لَمْ يَكُنِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ ) نہیں ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے۔ یعنی یہودونصاری میں سے (والمشرکین) اور مشرکین اور دیگر قوموں کی تمام اصناف میں سے (منفکین) باز آنے والے۔ یعنی یہ سب اپنے کفر اور ضلالت سے جدا نہیں ہوں گے وہ اپنی گمراہی اور ضلالت میں بھٹکے رہیں گے اور مرور اوقات ان کے کفر پر اضافہ ہی کرے گا۔ ( حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ ) یہاں تک کہ ان کے پاس واضح دلیل اور نمایاں برہان آجائے۔ پھر (البینۃ) کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

3 ۔ پیغمبر بذات خود ایک عظیم الشان دلیل : سو ارشاد فرمایا گیا اور " بینہ " کی وضاحت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " رسول من اللہ " یعنی اللہ کی طرف سے آنے والا ایک عظیم الشان رسول، اور رسول کی تنوین تعظیم و تفخیم کے لیے، اور ظاہر ہے کہ جس عظمت شان سے حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے آنجناب ﷺ کو نوازا گیا وہ پوری مخلوق خداوندی میں اور کسی کو نہ ملی ہے، نہ مل سکتی ہے، نہ مل سکے گی، جو ہمہ گیر اور عظیم الشان انقلاب آپ کے ذریعے رونما ہوا اس کی نظر چشم فلک نے نہ اس سے قبل کبھی دیکھی اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی، اور آپ کا وجود اپنے اوصاف و کمالات کے اعتبار سے اور اپنی تعلیمات و ارشادات کے لحاظ سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

اہل کتاب کی مخالفت اور رسول ﷺ کی ضرورت تشریح : ایک ہی پیغام ہے جو ہمیشہ تمام پیغمبر دیتے رہے ہیں۔ کہ اللہ ایک ہے اسی کی عبادت کرو جس کا بہترین طریقہ ہے نماز۔ کیونکہ اس سے طہارت ملتی ہے۔ دل کو سکون ملتا ہے وقت کی پابندی کی عادت پڑتی ہے۔ سستی اور کاہلی دور ہوتی ہے۔ اللہ سے ملاقات کا اور دعا کا موقعہ ملتا ہے انسان کے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ اس کی محبت اور فرمانبرداری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ دنیا سے بےنیازی ' خودداری اور کردار میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ نماز پورے خلوص ' توجہ اور خشوع و خضوع کے ساتھ صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اللہ کے غضب سے ڈرتے ہوئے پڑھی جائے۔ اسی طرح زکوۃٰ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–8

سورة البینہ۔ آیات 1 تا 8 اسرار ومعارف۔ دنیا میں کافر ، اہل کتاب اور مشرک سب ہی بہت زیادہ گمراہی میں مبتلا تھے ہر سمت کفر وشرک کے ساتھ جوروستم چھایا ہوا تھا دنیا کا حال اس قدر برا تھا کہ تاریخ انسانی میں کبھی اس سے پہلے ایسا نہ ہوا تھا اور نہ آئندہ کبھی اتنی گمراہی اکٹھی ہوگی کہ اس کو دور کرنے کے لیے ایسی روشنی اور اتنی طاقتور ہدایت کی ضرورت تھی کہ جس طرح ظلم وجور بےمثال تھا اسی طرح رسول اللہ بھی لاثانی ہو اور جتنی گہری ظلمت تھی اتنی اور اس سے زیادہ طاقتور نورانیت ہو تب اللہ نے آپ کو ایسے رسول کی شان سے مبعوث فرمایا جس نے سارے عالم کو ہمیشہ کے لیے منور کردیا اور اللہ کی طرف سے اللہ کی کتاب اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–3

ف 6 یعنی پیغمبر آخر الزمان اور قرآن بھیجنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) اور مشرکین عرب کو راہ حق پر لایا جائے، کیونکہ یہ لوگ اس قدر بگڑے ہوئے تھے کہ ان کا راہ حق پر آنا اس کے بغیر ممکن نہ تھا کہ ایک پیغمبر آئے جو ایک مقدس آسمانی کتاب جس میں عمدہ و دلنشیں مضامین ہوں، انہیں پڑھ کر سنائے۔ کسی حکیم یا صوفی یا بادشاہ عادل کے بس کی بات نہ ت ھی کہ انہیں راہ راست پر لے آتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(98:1) لم یکن الذین کفروا من اہل الکتب والمشرکین منفکین : لم یکن مضارع منفی جحد بلم، فعل ناقص۔ کون (باب نصر) مصدر سے۔ وہ نہ ہوئے۔ الذین اسم موصول۔ کفروا صلہ۔ موصول و صلہ مل کر اسم کان۔ من حرف جار اہل الکتب والمشرکین مجرور۔ منفکین : انفکاک (انفعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر، باز آنے والے۔ خبر کان کی۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے فک رقبۃ (90:13) غلام کا آزاد کرنا۔ اسی سے ہے فک الرھن : رہن کا فک کر الینا۔ یعنی کسی رہن شدہ چیز کو چھڑا لینا۔ (رہن کی شرط پوری ہونے پر) ۔ المشرکین کا عطف اہل الکتب پر ہے۔ من یہاں تبعیضیہ نہیں بلکہ بیانیہ ہے آیت کا ترجمہ علماء نے یوں کیا ہے :۔ (1) جو لوگ کافر ہیں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–8

لغات القرآن۔ لم یکن۔ نہیں ہے۔ منفکین۔ باز آنے والے۔ البینۃ۔ صاف اور کھلی باتیں۔ مطھرۃ۔ پاکیزہ۔ صاف ستھرا۔ کتب قیمۃ۔ لکھی ہوئی مضبوط کتابیں۔ ما تفرق۔ الگ الگ نہ ہوئے۔ امروا۔ حکم دیا گی ا ہے۔ مخلصین۔ خالص کرنے والے۔ حنفائ۔ سب سے منہ موڑنے والے ( ایک اللہ کے ہوجانے والے) ۔ شر البریۃ۔ بدترین مخلوق۔ خیر البریۃ۔ بہترین مخلوق۔ ؓ اللہ خوش ہوگیا۔ خشی۔ جو ڈرا۔ تشریح : قرآن کریم میں اہل کتاب ان لوگوں کو کہا گیا ہے جن کے پاس گذشتہ رسول کوئی کتاب لے کر آئے۔ بعد میں آنے والوں نے اپنے بعض دنیاوی مقاصد کے لئے ان میں بتدیلیاں کرلیں وہ ان کو اللہ کی کتاب ماننے کے باوجود شرک بھی کرتے تھے۔ اللہ نے ان کو یہود،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–6

حضور ﷺ کی تشریف آوری کا ذکر۔ (ف 1) اہل کتاب یہود ونصاری اور مشرکین جو بت پرستی یا آتش پرستی وغیرہ میں مبتلا تھے اور کوئی کتاب سماوی ان کے ہاتھ مین نہ تھی اور نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے سب دین والے بگڑ چکے تھے اور سیدنا انبیاء محمد ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے یہ تمام یہی کہتے تھے کہ ہم اپنا دین چھوڑنے والے نہیں ، جب تک کہ وہ نبی موعود تشریف فرما نہ ہوں یعنی سید عالم جلوہ افروز نہ ہوں جن کا ذکر توریت وانجیل میں ہے ، چناچہ وہ رسول یعنی محمد ﷺ حق وعدل کی کتاب یعنی قرآن مجید پڑھتے ہوئے جلوہ افروز ہوئے آگے فرمایا کہ یہ اہل کتاب اب جو متفرق ہورہے ہیں کہ کوئی ان میں سے اسلام لے آیا اور کوئی بدستور حال تکفر پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] یعنی ان کفار و مشرکین کا کفر و شرک ایسا شدید تھا اور وہ ایسے جہل میں مبتلا تھے کہ کسی عظیم پیغمبر کی بعثت کے بغیر ان کے راہ پر آنے کی توقع نہ تھی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر حجت تمام کرنے کے لئے محمد ﷺ کو قرآن دے کر مبعوث فرمایا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

نفسِ بینہ 2: اہل کتاب اور مشرکین مکہ دونوں حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ ہم اس وقت تک اپنے عقائد مزمومہ کو نہیں چھوڑ سکتے جب تک کہ وہ شخصیت موعودہ نہ آجائے ۔ جس کا ذکر کتب مقدسہ میں ہے ۔ وہ ہمارے لئے زبردست دلیل اور برہان ہے ۔ وہ آئے اور پاک اوراق اس پیغام کے ہم کو سنائے ۔ جن میں تمام کتابوں کا نچوڑ اور عطر ہے ۔ ہم اس کو تسلیم کرلیں گے اور اس کے کہنے سے تمام خرافات کو ترک کردیں گے ۔ مگر یہ کتنی عجیب بات ہے کہ یہی اہل کتاب صاف مکر گئے ۔ جبکہ ان کے پاس وہ حجت حق آگئی اور دلائل وبراہین سے اس نے ثابت کردیا کہ میں وہی ہوں ۔ جس کا ذکر پہلی کتابوں میں ہے اور جس کے انتظار میں تم نے اب تک…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(1) اہل کتاب میں سے جو لوگ منکر ہوئے اور مشرکین اس وقت تک باز آنے والے نہ تھے کہ جب تک ان کے پاس واضح دلیل نہ آجاتی - یعنی نبی کریم ﷺ کی بعثت سے قبل اہل کتاب یعنی یہودونصاریٰ اور مشرکین کی حالت بالکل بگڑ چکی تھی اور ان کی اصلاح اور درستی کی کوئی شکل نہ تھی اور ان کی خرابی اور ان کے بگاڑ کی حالت کا یہ اقتضا تھا کہ ان کے پاس کوئی روشن اور واضح دلیل آجائے تو وہ اپنی حرکات ناشائسہ سے باز آجائیں اہل کتاب اپنے پیغمبروں کی تعلیم سے ہٹ کر گمراہ ہوچکے تھے کوئی مسیح کو ابن اللہ کہتا تھا کوئی حضرت عزیرکو ابن اللہ کہتا تھا۔ غرض تمام دنیا میں گمراہی عام ہوچکی تھی اور اس گمراہی کا تقاضا تھا کہ کوئی دلیل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 1۔ مراد قرآن ہے، مطلب یہ ہے کہ ان کفار کا کفر ایسا شدید تھا کہ اور ایسے جہل میں مبتلا تھے کہ بدون رسول عظیم کی بعثت کے ان کے راہ پر آنے کی توقع نہ تھی، اس لئے اللہ تعالیٰ نے حجت کے اتم و الزم ہونے کے لئے آپ کو قرآن دے کر مبعوث فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اہل کتاب اور مشرکین باز آنے والے نہ تھے جب کہ ان کے پاس روشن دلیل نہ آتی 1 ؎ (منفکین) کا اصل مادہک ک ہے اور اس مادہ کے صرف دو الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں ایک سورة البلد آیت 13 میں (فک) کا لفظ اور اس جگہ ( منفکین) کا لفظ ۔ یہ اسم فاعل جمع مذکر منصوب ہے جس کا واحد منفک ہے اور انفکاک ہے ۔ اس کا مصدر ہے باب انفعال ، باز رہنے والے ، جدا ہونے والے ، چھوٹنے والے ۔ مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے کفر کیا اور مشرکین مکہ سے بھی جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ ، قرآن کریم اور آخرت سے انکار کیا وہ کبھی اس کفر سے باز آنے والے ، اس کفر سے الگ ہونے والے اور اس کفر کو چھوڑنے والے نہ تھے جب تک کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Situation of the People of the Book and of the Pagan Arabs before the advent of the Final Messenger of Allah ﷺ Verse [ 1] draws attention to the situation of the world before the advent of the Messenger of Allah ﷺ : The entire world was sunk deeply in the darkness of ignorance, superstition, corruption, disbelief and paganism. When the whole world was so benighted, the infinite grace, mercy and wisdom of the Lord of the worlds bubbled up to dispel the darkness, to cure the obnoxious diseases and to dissipate the universally prevailing calamities. The moral and spiritual maladies were acute,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 Here the word kufr (unbelief) has been used in its widest sense, which includes different forms of the unbelieving attitude. For example, some were unbelievers in the sense that they did not acknowledge Allah at all: some did acknowledge Allah but did not regard Him as the One and only God, but worshipped others as well, thinking they were associates in Divine Being or Divine attributes and powers in one way or the other; some acknowledged oneness of God but committed some kind of shirk as well; some acknowledged God but did not acknowledge His Prophets and the guidance brought by them;…

Read the full tafseer →