Ayah 98:1(98:1) لم یکن الذین کفروا من اہل الکتب والمشرکین منفکین : لم یکن مضارع منفی جحد بلم، فعل ناقص۔ کون (باب نصر) مصدر سے۔ وہ نہ ہوئے۔
الذین اسم موصول۔ کفروا صلہ۔ موصول و صلہ مل کر اسم کان۔ من حرف جار اہل الکتب والمشرکین مجرور۔
منفکین : انفکاک (انفعال) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر، باز آنے والے۔ خبر کان کی۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے فک رقبۃ (90:13) غلام کا آزاد کرنا۔ اسی سے ہے فک الرھن : رہن کا فک کر الینا۔ یعنی کسی رہن شدہ چیز کو چھڑا لینا۔ (رہن کی شرط پوری ہونے پر) ۔
المشرکین کا عطف اہل الکتب پر ہے۔ من یہاں تبعیضیہ نہیں بلکہ بیانیہ ہے آیت کا ترجمہ علماء نے یوں کیا ہے :۔
(1) جو لوگ کافر ہیں یعنی اہل کتاب اور مشرک وہ (کفر سے) باز رہنے والے نہ تھے۔ (مولنا فتح محمد جالندھری)
(2) جو اہل کتاب اور مشرک کفر کرتے تھے وہ اپنے کفر سے باز رہنے والے نہ تھے۔ (تفسیر مظہری)
(3) اہل الکتاب وہم الیھود والنصاری والمشرکین ہم عباد الاصنام لم یکونوا منفصلین عما ہم علیہ من الدیانۃ (ایسر التفاسیر) اہل کتاب یعنی یہود و نصاری اور مشرکین بت پرست جس مذہب پر وہ چل رہے تھے اس سے دور ہٹنے والے نہ تھے
(4) کافر لاگ یعنی اہل کتاب اور بت پرست اپنے باطل مذہب سے دور ہونے والے نہیں تھے۔
حتی تاتیہم البینۃ : حتی انتہاء غایت کے لئے آتا ہے ۔ یہاں تک جب تک۔
تاتی : مضارع واحد مؤنث غائب اثیان (افعال) مصدر۔ وہ آتی ہے۔ وہ آئے گی۔ وہ آجائے۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب
البینۃ : الحجۃ الواضحۃ۔ واضح دلیل ۔ کھلی دلیل۔ وہ آگئی (مستقبل بمعنی ماضی) یہاں تک کہ ان کے پاس کھلی دلیل آجائے یا آگئی۔ (یعنی رسول کریم کی ذات مبارک) ﷺ ۔
Ayah 98:2(98:2) رسول من اللہ یتلوا صحفا مطھرۃ : رسول بدل ہے البینۃ سے۔
قال الزجاج :۔ رسول : رفع علی البدل من البینۃ : رسول مرفوع ہے کیونکہ البینۃ سے بدل ہے۔ من اللہ صفت ہے رسول کی۔ یتلوا صحفا مطھرۃ۔ یہ رسول کی صفت ثانی ہے رسول کی یارسول سے حال ہے۔
یتلوا : تلاوہ (باب نصر) مصدر سے۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ وہ تلاوت کرتا ہے۔ وہ پڑھتا ہے۔
صحفا مطھرۃ : موصوف و صفت مل کر یتلوا کا مفعول۔
صحف بمعنی صحیفے، کتابیں۔ اور اق۔ نوشتے۔ صحیفۃ کی جمع ہے جو شاذ و نادر ہے۔ کیونکہ فعیلۃ کی جمع فعل پر نہیں آتی۔
قیاس میں اس کی مثال :۔ سفینۃ اور سفن ہے۔ قرآن مجید کی ہر ایک سورت ایک صحیفہ ہے۔ جس طرح توریت کے ابواب صحیفے
مطھرۃ : تطھیر (تفعیل) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مؤنث ہے پاک کی ہوئی۔ پاک۔ یعنی قرآن صحیفے جو ہر قسم کے عیب سے پاک ہیں اور ان میں عمدہ اور مستحکم مضامین مندرج ہیں۔
Ayah 98:3(98:3) فیہا کتب قیمۃ : ھا ضمیر واحد مؤنث غائب صحفا کی طرف راجع ہے کتب قیمۃ موصوف صفت۔ قیمۃ صیغہ صفت مرفوع ۔ مؤنث۔ نکرہ ہے۔ بمعنی درست ، سچی، یا معاش اور معاد کو ٹھیک کرنے والی۔
مطلب یہ کہ :۔ گزشتہ آسمانی صحیفے اور کتابیں درست تھیں مستقیم اور انسانی زندگی کی اصلاح کرنے والی تھیں۔ قرآن مجید ان کا نچوڑ ہے اور ان کے مضامین کو حاوی ہے۔ جملہ صحفا کی صفت ہے یا ضمیر ھا سے حال ہے۔
Ayah 98:4(98:4) وما تفرق الذین اوتوا الکتب الا من بعد ما جاء تھم البینۃ : جملہ مستانفہ ہے۔ واؤ عاطفہ، ما نافیہ۔ تفرق مضارع صیغہ واحد مذکر غائب۔ تفرق (تفعل) مصدر سے۔ وہ متفرق ہوگیا۔ وہ پھوٹا۔ وہ جدا ہوا۔
الذین اسم موصول۔ اوتوا الکتب صلہ۔ الذین اوتوا الکتب فاعل تفرق کا۔
اوتوا ماضی مجہول جمع مذکر غائب ایتاء (افعال) مصدر۔ بمعنی دئیے گئے۔ ان کو دی گئی۔ الکتب مفعول ثانی اوتوا کا۔
الذین اوتوا الکتب۔ جن کو کتاب دی گئی۔ یعنی اہل کتاب (یہود و نصاری) الا۔ استثناء مفرغ (جس کا مستثنیٰ منہ مذکورنہ ہو)
البینۃ۔ مراد رسول کریم ﷺ کی ذات ہے۔ ملاحظہ ہو آیت نمبر 1-2 مذکورہ بالا)
ترجمہ ہوگا :۔ اور نہیں بٹے فرقوں میں اہل کتاب مگر بعد اس کے کہ آگئی ان کے پاس روشن دلیل (یعنی رسول کریم ﷺ
یعنی رسول کریم ﷺ کے آنے کے بعد ہی رسول پر ایمان لانے کے متعلق اہل کتاب کے اندر اختلاف پیدا ہوا۔ ورنہ تو آپ کی بعثت سے پہلے تو یہ آنے والے رسول کی تصدیق پر سب کا اتفاق و اتحاد تھا۔ اور سب بعثت نبی کے منتظر تھے۔ کافروں کے خلاف نبی منتظر کے وسیلے سے فتح کی دعا کیا کرتے تھے (وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا فلما ھاء ہم ما عرفوا کفروا بہ (2:89) یعنی وہ پہلے (ہمیشہ) حضور کے وسیلہ سے کفار پر فتح طلب کیا کرتے تھے۔ لیکن جب حضور کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لے آئے تو انہوں نے نہ پہچانا آپ کے ساتھ کفر کرنا شروع کردیا۔ (ضیاء القرآن)
لیکن جب وہ جانا پہچانا نبی آگیا تو محض حسد و عناد کی وجہ سے اس کی تصدیق نہیں کی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اگرچہ بعض اہل کتاب کا عقیدہ صفات الٰہیہ کے متعلق درست نہ تھا۔ اللہ کو مخلوق کا باپ قرار دیتے تھے (اور بعض اہل کتاب کا عقیدہ درست تھا) لیکن بعثت نبی پر سب کا اتفاق تھا۔ کیونکہ آنے والے نبی کے اوصاف ان کی کتابوں میں بیان کر دئیے گئے تھے۔
چونکہ قبل البعثت تصدیق نبی پر صرف اہل کتاب کا اتفاق تھا اور مشرکین اس اتفاق میں شریک نہ تھے۔ اس لئے اس آیت میں صرف اہل کتاب کا ذکر کیا تاکہ جن اہل کتاب نے تصدیق رسول نہیں کی ان کی مزید شناخت ہوجائے۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 98:5(98:5) وما امروا الا لیعبدوا اللہ : یہ سارا جملہ الذین اوتوا الکتب سے حال ہے۔
ای والحال انہم ما امروا بشیء یخالف اصول دینہم بل شیء یطابقھا۔ حال یہ ہے کہ ان کو کسی ایسی چیز کے متعلق حکم نہیں دیا گیا تھا جو ان کے دین کے اصول کے خلاف ہو بلکہ (جو حکم دیا گیا ان کے دین کے اصول کے) مطابق تھا۔
ما نافیہ۔ امروا ماضی مجہول کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ ان کو حکم دیا گیا۔ الا حرف استثناء لیعبدوا میں لام زائدہ ہے اور ان محذوف مقدر ہے ای الا ان یعبدوا اللہ۔ اور یہ ما امروا کا مفعول ہے۔ یعنی ان کو صرف اللہ کا حکم دیا گیا تھا۔
مخلصین لہ الدین۔ یہ یعبدوا کی ضمیر فاعل سے حال ہے خالصۃ اس کی اطاعت کی نیت سے۔ مخلصین : اخلاص (افعال) سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ۔ کسی چیز کو آمیزش سے پاک رکھنے والے۔ الدین۔ اطاعت، شریعت۔
حنفائ۔ مخلصین کی ضمیر سے حال ہے۔ یک رخے ہوکر۔ یہ حنیف کی جمع ہے۔ حنیفی، اللہ کی طرف ہونے والے۔ یعنی دوسرے سب عقائد چھوڑ کر صرف اللہ کے راہ مستیقم پر چلنے والے۔
مائلین من جمیع العقائد الزائغۃ الی السلام۔ (روح المعانی) ٹیڑھے عقائد سے ہٹ کر اسلام کی طرف مقائل ہونے والے
ویقیموا الصلوٰۃ ویؤتوا الزکوۃ : دونوں کا عطف یعدوا پر ہے دونوں میں نون ان مصددہ کی وجہ سے ساقط ہوگیا ہے۔
آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ اور ان کو کوئی اور حکم نہیں دیا گیا تھا سوائے اس کے کہ اللہ کی عبادت کیا کریں۔ خالص اسی کی اطاعت کی نیت سے یک رخے ہوکر اور نماز پڑھا کریں اور زکوۃ دیا کریں۔
ذلک دین القیمۃ : ذلک : ای الذی امروابہ (الخازن) جس کا ان کو حکم دیا گیا ۔ یعنی
(1) خالصۃ اللہ کی اطاعت کی نیت سے اسی کی عبادت کرو۔
(2) نماز قائم کیا کرو۔
(3) زکوۃ دیا کرو۔
یہی دین قیم ہے۔ قیم بمعنی سچا۔ صحیح، مستحکم، مضبوط۔
دین القیمۃ : مضاف مضاف الیہ۔ اصل میں موصوف وصفت ہیں۔ القیمۃ میں تاء تانیث کی نہیں ہے بلکہ مبالغہ کی ہے جیسے علامۃ میں۔ دین کو جو اصل میں موصوف ہے صفت کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔
القیمۃ : التی لاعوج فیہا۔ جس میں کوئی کجی نہ ہو۔
Ayah 98:6(98:6) ان الذین کفروا من اہل الکتب والمشرکین فی نار جھنم : ان حرف مشبہ بالفعل۔ الذین کفروا۔ موصولہ وصلہ۔ من بیانیہ، اہل الکتب والمشرکین بیان ہے کفروا کا۔ الذین کفروا من اہل الکتب والمشرکین۔ اسم ان۔ فی نار جہنم۔ سارا جملہ خبر ہے ان کی۔ نار جھنم مضاف مضاف الیہ۔
خالدین فیہا۔ یہ جہنم میں جانے والے کافر اہل کتاب و کافر مشرکین۔ سے حال ہے۔ یعنی جن اہل کتاب اور مشرکین نے کفر کیا۔ وہ جہنم کی آگ میں ہوں گے (اور) اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ فیہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع نار جہنم ہے۔
اولئک ہم شر البریۃ : اولئک اسم اشارہ بعید ہے جمع مذکر۔ مبتدائ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب تاکید کے لئے لائی گئی ہے۔
شر البریۃ مضاف مضاف الیہ مل کر خبر ہے مبتداء کی۔ جس سے سب کو نفرت ہو وہ شر ہے۔
البریۃ۔ مخلوق ، خلق، برء (باب نصر) مصدر سے فعیلۃ کے وزن پر بمعنی مفعول واحد مؤنث ہے۔ برء کے معنی عدم سے وجود میں لانے کے ہیں۔ اسی سے باری ہے جو خدا تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ پیدا کرنے والا۔ نیست سے ہست میں لانے والا۔
Ayah 98:7(98:7) ان الذین امنوا وعملوا الصلحت اولئک ہم خیر البریۃ : ان حرف مشبہ بالفعل الذین امنوا وعملوا الصلحت اسم ان۔ ہم خیر البریۃ اس کی خبر۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت (6) مذکورہ بالا) ۔
ترجمہ ہوگا :۔ اور جو ایمان لائے اور نیک کام کئے وہی سب خلق سے بہتر ہیں۔
Ayah 98:8(98:8) جزاؤہم عند ربھم جنت عدن تجری من تحتھا الانھر : جزاؤھم مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا۔
(ہم ضمیر جمع مذکر غائب اولئک (آیت سابقہ) کی طرف راجع ہے) عند ظرف مکان ہے بمعنی پاس۔ قریب۔ مضاف، ربھم مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ۔ عند ربھم (اپنے رب کی ہاں) ظرف ہے جس کا تعلق جزاء سے ہے۔
جنت عدن : مضاف مضاف الیہ مل کر مبتداء کی خبر۔ عدن۔ رہنا بسنا۔ کسی جگہ مقیم ہونا۔ یہ مصدر ہے اور اس کا فعل باب ضرب اور نصر سے آتا ہے۔
جنت عدن کا معنی ہے۔ رہنے بسنے کے باغات۔ یعنی وہ جنتیں جہاں ہمیشہ رہنا ہوگا۔
تجری من تحتھا الانھر۔ یہ جملہ صفت ہے جنت کی۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جنت ہے۔ خلدین فیھا ابدا۔ یہ حال ہے جزاء ہم کی ضمیر ہم سے۔ ابدا تاکید کے لئے ہے۔ یا یہ خلدین کا ظرف ہے یعنی ان باغات میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ۔ یہ جزاء ہم کی خبر ثانی ہے۔ رضی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ وہ راضی ہوا۔ وہ خوش ہوا۔ رضی (باب سمع) مصدر سے۔
امام راغب لکھتے ہیں :۔ اللہ کا بندے سے راضی ہونا یہ کہ اس کو اپنے حکم کا فرماں بردار۔ اور اپنی نہی سے پرہیزگار دیکھے۔ اور یہ کہ جو کچھ اس پر قضاء الٰہی سے جاری ہو وہ اسے مکروہ نہ سمجھے۔
رضوا ماضی جمع مذکر غائب رضی مصدر۔ وہ راضی ہوئے۔
ذلک لمن خشی ربہ : ذلک مبتدائ۔ لمن خشی ربہ اس کی خبر۔ ذلک اسم اشارہ بعید واحد مذکر۔ اس میں ذا اسم اشارہ ہے اور ک حرف خطاب ہے۔ خشی ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ خشیۃ (باب سمع) مصدر سے ۔ وہ ڈرا۔ اس نے خوف کھایا۔ ربہ مضاف، مضاف الیہ مل کر خشی کا مفعول۔ اپنے رب سے۔