Ayah 98:11 ۔” لم یکن الذین کفروا من اھل الکتاب “ اور وہ یہود و نصاریٰ ہیں۔ ” والمشرکین “ اور وہ بتوں کی عبادت کرنے والے۔ ” منفکین “ ہٹنے والے جدا ہونے والے ۔ کہا جاتا ہے ” فکک الشیء فانفک “ یعنی جدا ہوگئی۔ ” حتیٰ تاتیھم البینۃ “ لفظ مستقبل اور اس کا معنی ماضی کا ہے۔ یعنی حتیٰ کہ ان کے پاس واضح حجت آجائے یعنی محمد ﷺ ان کے پاس قرآن لائے تو ان کی گمراہی اور جہالت کو بیان کردیا اور ان کو اسلام اور ایمان کی طرف بلایا۔ پس یہ آیت ان کے بارے میں ہے جو دونوں فریقوں میں سے ایمان لایا۔ خبر دی ہے کہ وہ کفر سے باز نہ آئیں گے حتیٰ کہ ان کے پاس رسول آئے پھر ان کو ایمان کی طرف بلایا، پھر وہ ایمان لے آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو جہالت و گمراہی سے بچا لیا۔
Ayah 98:22 ۔ پھر بینہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ” رسول اللہ من اللہ یتلوا “ پڑھتے ہیں۔ ” صحفا “ کتاب۔ صحیفے (اوراق) جس مکتوب کو متضمن ہوتے ہیں وہ مراد ہے اور وہ قرآن ہے اس لئے کہ آپ (علیہ السلام) قرآن کی تلاوت اپنے دل سے کرتے تھے کسی تحریر وکتاب کو دیکھ کر نہ کرتے تھے۔ ” مطھرۃ “ باطل اور جھوٹ ہے۔
Ayah 98:33 ۔” فیھا “ یعنی صحیفوں میں۔ ” کتب “ یعنی آیات و احکام جو ان میں لکھے ہوئے ہیں۔ ” قیمۃ “ معتدل درست کجی والی نہیں ہے۔
Ayah 98:44 ۔ پھر ان کا ذکر کیا جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے فرمایا ” وماتفرق الذین اوتوا الکتاب “ محمد ﷺ کے امر میں۔ ” الا من بعد ماجاء تھم البینۃ “ یعنی ان کی کتابوں میں واضح بیان کہ وہ نبی مرسل ہیں۔ مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں اہل کتاب ہمیشہ محمد ﷺ کی تصدیق میں متفق رہے یاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کو بھیج دیا۔ پھر جب آپ (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تو آپ (علیہ السلام) کے معاملہ میں اختلاف کیا اور فرقے بن گئے تو ان میں سے بعض آپ ﷺ پر ایمان لائے اور دیگر نے کفر کیا اور بعض آئمہ لغت فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” منفکین “ کا معنی ہلاک ہونے والے ۔ یہ ماخوذ ہے ان کے قول ” انفک صلاء المراۃ عند الولادۃ “ سے وہ یہ جدا ہوجائے پھر وہ نہ مل سکے۔ پس وہ عورت ہلاک ہوجائے اور آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ ہلاک ہونے والے اور معذب نہیں تھے مگر ان پر رسول کو بھیجنے اور کتاب کے اتارنے کے ذریعے حجت قائم کرنے کے بعد اور پہلا قول اصح ہے ۔ پھر ذکر کیا جو وہ اپنی کتابوں میں حکم دیئے گئے تھے تو فرمایا :
Ayah 98:55 ۔” وماامروا “ یعنی یہ کفار ” الالیعبدوا اللہ “ یعنی مگر یہ کہ وہ اللہ کی عبادت کریں۔ ” مخلصین لہ الدین “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کو توریت و انجیل میں یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ عبادت خالص اللہ کے لئے کریں توحید کو اپنائیں۔ ” حنفائ “ تمام ادیان سے اعراض کرکے دین اسلام کی طرف مائل ہوں۔
تفسیر :” ویقیموا الصلوۃ “ فرض کی ہوئی ان کے اوقات میں۔” ویوتوا الزکاۃ “ اس کے محل کے وقت۔ ” وذلک “ جس کا ان کو حکم دیا گیا ” دین القیمۃ “ یعنی ملت اور سیدھی شریعت ہے دین کی اضافت قیمہ کی طرف کی ہے حالانکہ یہ اس کی صفت ہے لفظوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے اور ” قیمۃ “ کو مونث لایا گیا ہے دین کو ملت کی طرف رد کرتے ہوئے اور کہا گیا ہے کہ اس میں ھاء مبالغہ کی ہے اور کہا گیا ہے قیمہ وہ کتابیں جن کا ذکر ابھی ہوا ہے یعنی اور یہ ان درست کتابوں کا دین ہے جس کی طرف آپ (علیہ السلام) بلاتے اور ان کا حکم دیتے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا ” وانزل معھم الکتاب بالحق لیحکم بین الناس فیما اختلفوا فیہ “ نضر بن شمیل فرماتے ہیں میں نے خلیل بن احمد سے اللہ تعالیٰ کے قول ” وذلک دین القیمۃ “ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا ” القیمۃ “ قیم کی جمع ہے اور قیم اور قائم ایک ہیں۔ آیت کا مجاز ” وذلک دین القائمین للہ بالتوحید “ اور یہ ان کا دین ہے جو اللہ کی توحید پر قائم ہیں۔
Ayah 98:66 ۔” پھر ذکر کیا جو دونوں فریقوں کو ملے گا تو فرمایا : ” ان الذین کفروا من اھل الکتاب والمشرکین فی نار جھنم خالدین فیھا اولئک ھم شر البریۃ “ نافع اور ابن عمر نے ” البریئۃ “ ہمزہ کے ساتھ دوحرفوں میں پڑھا ہے۔ اس لئے کہ یہ ان کے قول ” برا اللہ الخلق “ سے ماخوذ ہے اور دیگر حضرات نے شد کے ساتھ بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے جیسے ” ذریۃ “ اس کا ہمزہ استعمال میں چھوڑ دیا گیا ہے۔
Ayah 98:77 ۔” ان الذین امنوا وعملوا الصالحات اولئک ھم خیر البریۃ۔
Ayah 98:88 ۔” جزائوھم عند ربھم جنات عدن تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ابدا رضی اللہ عنھم ورضواعنہ ذلک لمن خشی ربہ “ اور معاصی سے باز آجائے اور کہا گیا ہے کہ رضا دو قسموں کی طرف تقسیم ہے رضا بہ (اس پر راضی ہونا) اور رضاعنہ (اس سے راضی ہونا) پس رضا بہ اس کے رب اور مدبر ہونے پر راضی ہونا اور رضا عنہ اس کے قضاء وقدر سے راضی ہونا۔ سری (رح) فرماتے ہیں جب تو اللہ سے راضی نہیں ہے تو پھر تو اس سے کیسے سوال کرتا ہے تجھ سے راضی ہونے کا ؟ انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ابی کو کہا بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ پر ” لم یکن الذین کفروا “ پڑھوں۔ ابی ؓ نے کہا اور میرے رب نے میرا نام لیا ہے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں تو وہ رو پڑے۔ ہمام نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھے حکم دیا ہے کہ میں تجھ پر قرآن پڑھوں۔