Ayah 99:11 ۔” اذا زلزلت الارض زلزالھا “ زمین کو سخت حرکت دی جائے گی قیامت کے قائم ہونے کی وجہ سے۔ ” زلزالھا “ اس کا حرکت کرنا۔
Ayah 99:22 ۔” واخرجت الارضاثقالھا “ اپنے مردے اور خزانے، پس ان کو اپنے اوپر ڈال دے گی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ زمین اپنے اندر کے خزانوں کے قے کردے گی جو ستونوں کی مثل ہوں گے سونے اور چاندی کے۔ پس قتل کرنے والا آئے اور کہے گا اس کی وجہ سے میں نے قتل کیا اور قطع رحمی کرنے والا آئے گا اور کہے گا اس کی وجہ سے میں نے اپنے رشتہ توڑے اور چور آئے گا اس کی وجہ سے میرا ہاتھ کاٹا گیا، پھر وہ اس کو چھوڑ دیں گے اس میں سے کچھ بھی نہ لیں گے۔
Ayah 99:33 ۔” وقال الانسان مالھا “ کہا گیا ہے آیت میں تقدیم و تاخیر ہے، اس کی تقدیر ہے۔
Ayah 99:44 ۔” یومئذ تحدث اخبارھا “ پس انسان کہے گا مالھا۔ یعنی زمین خبردے گی جو اس نے اس پر عمل کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی ” یومئذ تحدث اخبارھا “ فرمایا کیا تم جانتے ہو اس کی خبریں کیا ہیں ؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا : بیشک اس کی خبریں یہ ہیں کہ ہر وہ بندہ اور باندی پر گواہی دے ان اعمال کی جو انہوں نے اس کی پیٹھ پر کیے ہیں۔ کہے گی اس دن فلاں اور فلاں نے اتنا اتنا عمل کیا، فرمایا پس یہ اس کی خبریں ہیں۔
Ayah 99:55 ۔” بان ربک اوحی لھا “ یعنی اس کو کلام کا حکم دیا اور اس کو اجازت دی کہ وہ ان اعمال کی خبر دے جو اس پر کیے گئے ہیں۔ ابن عباس ؓ اور قرظی (رح) فرماتے ہیں ” اوحیٰ الیھا “ اور آیت کا مجازیہ ہے اللہ تعالیٰ اس کی طرف وحی کریں گے۔ کہا جاتا ہے ” اوحیٰ لھاواوحیٰ الیھا “ اور ” وحی لھا اور وحی الیھا “ یہ ایک ہے۔
Ayah 99:66 ۔” یومئذ یصدر الناس “ لوگ حساب کے لئے ٹھہرنے کی جگہ سے پیش ہونے کے بعد لوٹیں گے۔ ” اشتاتا “ جدا جدا۔ پس دائیں والے جنت کی طرف جائیں گے اور بائیں والے جہنم کی طرف جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” یومئذ یتفرقون “…” یومئذ یصدعون “ ہے۔ ” لیروا اعمالھم “ تاکہ ان کو ان کے اعمال کی جزاء دکھائی جائے اور معنی یہ ہے کہ وہ موقف سے جدا جدا ہوکر لوٹیں تاکہ وہ اپنی منازل پر اتریں جنت اور جہنم میں۔
Ayah 99:77 ۔” فمن یعمل مثقال ذرۃ “ چھوٹی چیونٹی کے وزن کے برابر۔ یہ عام چیونٹی سے بھی بہت چھوٹی ہوتی ہے۔ ” خیرایرہ “۔
Ayah 99:8ومن یعمل مثقال ذرۃ شرا یرہ کی تفسیر
8 ۔” ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مومن وکافر نے دنیا میں کوئی خیر وشر کا عمل نہیں کیا ہوگا مگر اللہ تعالیٰ اس کو وہ قیامت کے دن دکھائیں گے۔ پس بہرحال مومن تو اپنی نیکیاں اور برائیاں دیکھے گا۔ پس اللہ تعالیٰ اس کی برائیاں معاف کردیں گے اور نیکیوں پر ثواب دیں گے اور بہرحال کافر تو اس کی نیکیاں رد کردی جائیں گی اور برائیوں کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔ محمد بن کعب (رح) اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں ” فمن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ “ کافروں میں سے وہ اپنے ثواب کو دنیا میں اپنے جان ومال اور اہل واولاد میں دیکھ لے گا حتیٰ کہ دنیا سے نکلے گا تو اس کے لئے اللہ کے ہاں کوئی خیر نہ ہوگی۔ ” ومن یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ “ مومن اپنی سزا دنیا میں اپنی جان ومال، اہل و اولاد میں دیکھ لے گا حتیٰ کہ دنیا سے نکلے گا اور اس کے لئے اللہ کے پاس کوئی شر نہ ہوگا۔
مقاتل (رح) فرماتے ہیں یہ آیت دوآدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب آیات نازل ہوئی ” ویطعمون الطعام علی حبہ “ تو ان میں سے ایک کے پاس سائل آتا تو وہ مستقل اس کو تھوڑی سی کھجور اور بادام وغیرہ دیتا۔ وہ کہتا یہ کچھ بھی نہیں ہے تو اس پر اجر دیا جائے گا جو تو دے گا اور ہم اس کو پسند کرتے ہوں گے اور دوسرا شخص تھوڑے گناہ میں سستی کرتا تھا جیسے غلط بیانی، غیبت اور بدنظری اور اس کے مشابہ چیزیں اور کہتا اللہ تعالیٰ نے کبیرہ گناہوں پر آگ کا وعدہ کیا ہے اور ان میں کوئی گناہ نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ان کو تھوڑے خیر کے کام میں رغبت دلائی کہ وہ اس کو دیں کیونکہ قریب ہے کہ وہ زیادہ ہوجائے اور ان کو تھوڑے گناہ سے ڈرایا ہے کیونکہ قریب ہے کہ وہ زیادہ ہوجائے۔ پس چھوٹا گناہ کرنے والے کی نگاہ میں اللہ کے ہاں قیامت کے دن پہاڑوں سے بڑا ہوگا اور اس کی تمام نیکیاں ہر چیز سے چھوٹی ہوں گی۔
ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں قرآن مجید میں محکم آیت ” فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ، ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ “ ہے اور رسول اللہ ﷺ اس کا نام جامعۃ فازہ (جامع مانع) رکھتے تھے۔ آپ (علیہ السلام) سے گدھوں کی زکوٰۃ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ان کے بارے میں مجھ پر کچھ نازل نہیں کیا گیا مگر یہ جامعۃ فازۃ (جامع مانع) آیت ” فمن یعمل مثقال ذرۃ خیر اً یرہ، ومن یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ “ اور عمر بن خطاب اور عائشہ صدیقہ ؓ نے انگور کا دانہ صدقہ کیا اور دونوں نے فرمایا اس میں بہت سارے مثقال ہیں۔ ربیع بن خیثم فرماتے ہیں ایک شخص (رح) کے پاس سے گزرا اور وہ یہ سورت پڑھ رہے تھے۔ پس جب وہ اس کے آخر میں پہنچے تو اس نے کہا مجھے کافی ہے۔ تحقیق نصیحت کی انتہا ہوگئی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اذا زلزلت الارض “ نصف قرآن کے برابر ہے۔ ” قل ھواللہ احد “ قرآن کی تہائی کے برابر ہے۔ ” قل یایھا الکافرون “ قرآن کے چوتھائی کے برابر ہے۔