Ayah 100:11 ۔” والعادیات ضبحا “ ابن عباس ؓ ، عطاء مجاہد، عکرمہ ، حسن، کلبی، قتادہ ، مقاتل، ابوالعالیہ رحمہم اللہ اور ان کے علاوہ نے فرمایا ہے یہ اللہ کے راستے میں دوڑنے والے گھوڑے جن کے دوڑنے کی وجہ سے پیٹ میں سے آوازیں آئیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں حیوانات میں سے گھوڑے، کتے اور لومڑی کے علاوہ کسی کے دوڑتے وقت پیٹ سے آواز نہیں آتی اور یہ آواز ان جانوروں سے تب آتی ہے جب تھکاوٹ یا گھبراہٹ کی وجہ سے ان کی حالت متغیر ہوجائے اور یہ عرب کے قول سے ہے ” ضبحت النار “ جب آگ اس کا رنگ تبدیل کردے اور اللہ تعالیٰ کا قول ” ضبحا “ مصدر کی بناء پر منصوب ہے۔ اس کا مجاز ” والعادیات تضبح ضبحا “ ہے اور علی ؓ فرماتے ہیں یہ حج کے اونٹ ہیں جو عرفہ سے مزدلفہ کی طرف دوڑتے ہیں اور مزدلفہ سے منیٰ کی طرف اور فرمایا اسلام میں پہلا غزوہ بدر تھا اور ہمارے پاس صرف دو گھوڑے تھے۔ ایک گھوڑا زبیر ؓ اور ایک مقداد بن اسود ؓ کا۔ پس دوڑتے ہوئے گھوڑے کیسے ہوسکتے ہیں ؟ اس طرف ابن مسعود ؓ ، محمد بن کعب اور سدی رحمہما اللہ گئے ہیں اور بعض نے کہا ہے وہ اونٹ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا قول ” ضبحا “ یعنی ضبا حا چلنے میں اپنی گردنیں لمبی کرتے ہیں۔
Ayah 100:22 ۔” فالموریات قدحا “ عکرمہ، عطائ، ضحاک، مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں وہ گھوڑے جو اپنے کھروں میں آگ چھپاتے ہیں جب پتھروں میں چلتے ہیں یعنی آگ سلگانے والے اپنے ٹاپوں کے ذریعے آگ سلگاتے ہیں اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ گھوڑے ہیں جو لڑائی اور دشمنی کی آگ اپنے شہسواروں میں بھڑکاتے ہیں۔ سعید بن جبیر (رح) نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے یہ گھوڑے ہیں جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں، پھر رات کو آرام کرتے ہیں۔ پس وہ اپنی آگ روشن کرتے اور کھانا پکاتے ہیں اور مجاہد اور زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں وہ مردوں کا مکر ہے یعنی جنگجو مردوں کا اور جب کوئی شخص اپنے ساتھی کے ساتھ مکر کا ارادہ کرے تو عرب کہتے ہیں ” اما واللہ لا قدھن لک ثم ل اورین لک “ اور محمد بن کعب (رح) فرماتے ہیں یہ لوگوں کی جماعت میں آگ ہے۔
Ayah 100:33 ۔” فالمغیرات صبحا “ وہ گھوڑے جو اپنے سواروں کے ساتھ صبح کے وقت غارت کریں یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور قرظی (رح) فرماتے ہیں وہ اونٹ جو اپنے سواروں کو مزدلفہ سے منی لے جائیں اور سنت یہ ہے کہ وہ نہ جائے صبح تک اور اغارۃ تیزی سے چلنا اور اسی سے ان کا قول ہے اشرف ” ثبیر کی ما نفیر “
Ayah 100:44 ۔” فاثرن بہ “ یعنی اپنے چلنے کی جگہ سے اڑاتے ہیں۔ یہ ضمیر غیر مذکور کی طرف لوٹ رہی ہے اس لئے کہ معنی مفہوم ہورہا ہے۔ ” نقعا “ غبار۔
Ayah 100:55 ۔” فوسطن بہ جمعا “ یعنی اس کے ساتھ دشمن کے درمیان میں داخل ہوجاتے ہیں اور وہ لشکر ہے۔ کہا جاتا ہے ” وسطت القوم “ تخفیف کے ساتھ اور ” وسطتھم “ تشدید کے ساتھ اور ” توسطھم “ تشدید کے ساتھ سب کا ایک معنی ہے۔ قرضی (رح) فرماتے ہیں منیٰ کا مجمع مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمام اشیاء کی قسم کھائی ہے۔
Ayah 100:66 ۔” ان الانسان لربہ لکنود “ ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” لکنود “ ناشکرا اللہ کی نعمتوں کا انکار کرنے والا۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں وہ مضر اور ربیعہ کی لغت میں کفور کے معنی میں ہے اور کندہ اور حضرت موت کی لغت میں نافرمان اور حسن (رح) فرماتے ہیں وہ مضر اور ربیعہ کی لغت میں کفور کے معنی میں ہے اور کندہ اور حضرت موت کی لغت میں نافرمان اور حسن (رح) فرماتے ہیں وہ شخص جو مصائب کو شمار کرتا ہے اور نعمتوں کو بھول جاتا ہے اور ابو عبیدہ (رح) فرماتے ہیں وہ کم خیروالا اور ارض کنود وہ زمین جو کچھ نہ اگائے اور فضیل بن عیاض (رح) فرماتے ہیں ” الکنود “ وہ شخص جس کو برائی میں سے ایک خصلت احسان کی کثیر خصلتوں سے مانوس کرے اور شکور وہ شخص جس کو احسان کی ایک خصلت برائی کی کثیر خصلتوں سے مانوس کردے۔
Ayah 100:77 ۔” وانہ علی ذلک لشھید “ اکثر مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ناشکرا ہونے پر گواہ ہیں اور ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں ھاء انسان کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی انسان اپنے نفس پر گواہ ہے اس پر جو وہ کررہا ہے۔
Ayah 100:88 ۔” وانہ “ یعنی انسان ” لحب الخیر “ یعنی مال کی محبت میں ” شدید “ یعنی بخیل ہے یعنی وہ مال کی محبت کی وجہ سے بخیل ہے۔ بخیل کو شدید اور متشدد کہا جاتا ہے اور کہا گیا ہے اس کا معنی ” وانہ لحب الخیر لقوی “ یعنی مال کی سخت محبت رکھنے والے۔
Ayah 100:99 ۔” افلا یعلم “ یہ انسان۔ ” اذبعثر “ نکالا جائے گا۔ ” مافی القبور “۔
Ayah 100:1010 ۔” وحصل مافی الصدور “ یعنی ظاہر اور جدا کیا جائے گا جو ان میں خیر اور شر ہے۔
Ayah 100:1111 ۔” ان ربھم بھم “ ضمیر کو جمع ذکر کیا ہے اس لئے کہ انسان اسم جنس ہے ۔ ” یومئذ لخیر “ جاننے والا ہے۔ زجاج (رح) علیہ فرماتے ہیں ان سے اس دن میں باخبر ہے اور اس کے علاوہ میں بھی لیکن معنی یہ ہے کہ وہ ان کو ان کے کفر پر اس دن میں بدلہ دے گا۔