101. Surah Al-Qaari'a

القارعةThe Calamity · 11 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 101:1

اَلْقَارِعَةُۙ Open ayah 101:1 in the Quran reader

کھڑکھڑانے والی

1 ۔” القارعۃ “ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اس لئے کہ یہ دلوں کو گھبراہٹ کی وجہ سے کھٹکھٹاتی ہے۔
Ayah 101:2

مَا الْقَارِعَةُۚ Open ayah 101:2 in the Quran reader

کھڑکھڑانے والی کیا ہے ؟

2 ۔” ماالقارعۃ “ تعظیم ہے۔
Ayah 101:3

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ Open ayah 101:3 in the Quran reader

اور تم کیا جانو کہ کھڑکھڑانے والی کیا ہے ؟ (وہ قیامت ہے)

3 ۔” وما ادرک ماالقارعۃ
Ayah 101:4

یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ Open ayah 101:4 in the Quran reader

جس دن لوگ ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے

4 ۔ یوم یکون الناس کالفراش المبثوث “ فراش ووہ پرندے جن کو تو دیکھتا ہے کہ وہ آگ میں گرتے ہیں یعنی پروانے اور مبثوث جدا اور فراء (رح) فرماتے ہیں ٹڈیوں کے لشکر لوگوں کو بعث کے وقت ان کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے میں ملے ہوئے ہوں گے اور ہولناکی کی وجہ سے ایک دوسرے پر سوار ہوں گے۔ جیسا کہ فرمایا : ” کانھم جراد منتشر “
Ayah 101:5

وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنْفُوْشِؕ Open ayah 101:5 in the Quran reader

اور پہاڑ ایسے ہوجائیں گے جسے دھنکی ہوئی رنگ برنگ کی اون

5 ۔” وتکون الجبال کالعھن المنفوش “ دھنکی ہوئی روئی کی طرح۔
Ayah 101:6

فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:6 in the Quran reader

تو جس (کے اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے

6 ۔” فاما من ثقلت موازینہ “ اس کی نیکیوں والا پلڑا جھک جائے۔
Ayah 101:7

فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍؕ Open ayah 101:7 in the Quran reader

وہ دل پسند عیش میں ہوگا

7 ۔” فھو فی عیشۃ راضیۃ “ جنت میں پسندیدہ زندگی میں۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں رضامندی والی کہ اس زندگی والا اس سے راضی ہوگا۔
Ayah 101:8

وَ اَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗۙ Open ayah 101:8 in the Quran reader

اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے

8 ۔” واما من خفت موازینہ “ اس کی برائیاں نیکیوں پر بڑھ جائیں۔
Ayah 101:9

فَاُمُّهٗ هَاوِیَةٌؕ Open ayah 101:9 in the Quran reader

اس کا مرجع ہاویہ ہے

9 ۔” فامہ ھاویۃ “ اس کا مسکن آگ ہے۔ مسکن کا نام ام رکھا گیا ہے یا تو اس لئے کہ اصل سکون میں مائوں کی طرف ہے اور ھاویہ جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور وہ ھواۃ اس کی گہرائی کو نہیں پہنچا جاسکتا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ عربی کلمہ ہے جب کوئی آدمی کسی سخت کام میں واقع ہو تو کہا جاتا ہے ” ھوت امہ “ اور کہا گیا ہے اس کے سر کی جڑ مراد ہے ۔ یعنی وہ جہنم میں اپنے سروں کے بل گریں گے اور اسی تاویل کی طرف قتادہ اور ابو صالح رحمۃ علیہما گئے ہیں۔
Ayah 101:10

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَاهِیَهْؕ Open ayah 101:10 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ ہاویہ کیا چیز ہے ؟

10 ۔” وما ادراک ماھیہ “ یعنی ہاویہ اور اس کی اصل ماھی ہے ھاء کو وقف کے لئے اس میں داخل کردیا گیا ہے پھر اس کی تفسیر کرتے ہوئے۔
Ayah 101:11

نَارٌ حَامِیَةٌ۠ Open ayah 101:11 in the Quran reader

(وہ) دہکتی ہوئی آگ ہے

11 ۔” فرمایا ” نار حامیۃ “ یعنی گرم اس کی گرمائش انتہا کو پہنچ چکی ہو۔