Ayah 102:11 ۔” الھاکم التکاثر “ تم کو مال اور تعداد کی کثرت پر فخروغرور نے تمہارے رب کی طاعت سے مشغول کردیا اور اس سے جو تمہیں اس کی ناراضی سے نجات دے۔
Ayah 102:2حتی زرتم المقابر کی تفسیر
2 ۔” حتی زرتم المقابر “ حتیٰ کہ تم مرگئے اور قبروں میں دفن کیے گئے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے کہا ہم بنو فلاں سے تعداد میں زیادہ ہیں اور بنو فلاں فلاں کی اولاد سے زیادہ ہیں۔ اس بات نے ان کو مشغول رکھا حتیٰ کہ وہ گمراہی میں مرگئے اور مقاتل اور کلبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں یہ قریش کے دو قبیلوں بنو عبدمناف بن قصی اور بنو سہم بن عمرو کے بارے میں نازل ہوئی ہے، ان دونوں کے درمیان تفاخر تو ان میں سرداروں اور معزز لوگوں کی وجہ سے دشمنی ہوگئی کہ ان میں تعداد میں کون زیادہ ہے ؟ تو بنو عبدمناف نے کہا ہمارے سردار اور عزت والے زیادہ ہیں اور ہم تم سے تعداد میں زیادہ ہیں اور بنو سہم نے بھی اسی کی مثل کہا تو بنو عبدمناف نے ان پر کثرت کی پھر کہا ہم اپنے مردوں کو شمار کرتے ہیں حتیٰ کہ وہ قبروں پر گئے اور مردوں کو شمار کیا۔ پھر کہنے لگے یہ فلاں کی قبر ہے اور یہ فلاں کی قبر ہے تو بنو سہم تین آباء سے ان سے زیادہ ہوگئے۔ اس لئے کہ ان کی جاہلیت میں تعدادزیادہ تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ مطرف بن عبداللہ بن شخیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں انہوں نے کہا میں رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ (علیہ السلام) یہ آیت پڑھ رہے تھے ” الھاکم التکاثر “ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ابن آدم کہتا ہے میرا مال میرا مال اور تیرے لئے تیرے مال میں سے صرف وہ ہے جو تونے کھالیا اور فنا کردیا یا پہن لیا، پھر بوسیدہ کردیا یا صدقہ کیا، پھر اس کو آگے جاری کردیا۔ انس بن مالک (رح) فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میت کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں۔ پس دو لوٹ آتی ہیں اور ایک اس کے ساتھ باقی رہ جاتی ہے۔ اس کے پیچھے اس کے گھر والے اس کا مال اور اس کا عمل جاتا ہے۔ پس اس کے گھر والے اور مال لوٹ آتے ہیں اور اس کا عمل باقی رہ جاتا ہے، پھر ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 102:33 ۔” کلا “ معاملہ تفاخر کے ساتھ نہیں ہے۔ ” سوف تعلمون “ ان کو وعید ہے پھر اس کا تاکید کے لئے تکرار کیا تو فرمایا۔
Ayah 102:44 ۔” ثم کلا سوف تعلمون “ حسن اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ وعید کے بعد وعید ہے اور معنی یہ ہے کہ عنقریب تم اپنے فخر و غرور کا انجام جان لوگے۔ جب تم پر موت اترے گی اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں ” کلا سوف تعلمون “ یعنی کفار ” ثم کلا سوف تعلمون “ یعنی مومنین اور پہلی کو تاء کے ساتھ اور دسورے کو یاء کے ساتھ پڑھتے تھے۔
Ayah 102:55 ۔” کلالو تعلمون علم الیقین “ یعنی علم یقینی۔ پس علم کی اضافت یقین کی طرف ایسے ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” لھو حق الیقین “ ہے اور ” لو “ کا جواب محذوف ہے۔ یعنی اگر تم جان لو علم یقین تو تمہیں مشغول کردے ۔ اس سے جو تم تکاثر و تفاخر کرتے ہو۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ہم یہ باتیں کرتے ہیں کہ علم یقین یہ ہے کہ وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ اس کو موت کے بعد اٹھانے والے ہیں۔
Ayah 102:66 ۔” لترون الجحیم “ ابن عامر اور کسائی رحمہما اللہ نے ” لترون “ تاء کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے ” اریتہ الشیئ “ سے اور دیگر حضرات نے تاء کے زبر کے ساتھ یعنی تم اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے، اس کے بعد۔
Ayah 102:77 ۔” ثم لترونھا “ مشاہدہ کرکے ” عین الیقین “
Ayah 102:88 ۔” ثم لتسئلن یومئذ عن النعیم “ مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی کفار مکہ وہ دنیا میں خیر اور نعمت میں تھے۔ پس وہ قیامت کے دن اس کے لشکر کے بارے میں سوال کیے جائیں گے جس میں وہ تھے اور انہوں نے نعمتوں کے رب کا شکرادا نہیں کیا کہ اس کے غیر کی عبادت کی، پھر وہ شکر کے چھوڑنے پر عذاب دیئے جائیں گے۔ یہ حسن (رح) کا قول ہے اور ابن مسعود ؓ سے روایت ہے انہوں نے اس کو مرفوع نقل کیا ہے فرمایا ” لتسئلن یومئذ عن النعیم “ فرمایا امن اور صحت اور قتادہ (رح) نے فرمایا ہے بیشک اللہ تعالیٰ ہر نعمت والے سے سوال کریں گے اس نعمت کے بارے میں جو اس پر کی ہے۔
بندے سے اس پر نعمتوں کے متعلق سوال کیا جائے گا
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بندہ سے پہلا سوال نعمتوں کے بارے میں کیا جائے گا، اس کو کہا جائے گا کیا ہم نے تیرے جسم کو تندرست نہیں کیا ؟ اور ہم نے تجھے ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں کیا ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ ایک ایسے وقت میں نکلے کہ اس میں گھر سے نہ نکلتے تھے اور نہ کسی سے ملاقات کرتے تھے تو آپ (علیہ السلام) کے پاس ابوبکر ؓ آئے تو فرمایا اے ابوبکر ! تجھے کیا ضرورت لائی ؟ انہوں نے کہا کہ میں گھر سے نکلا تاکہ میں رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کروں اور آپ (علیہ السلام) کے چہرہ کی طرف دیکھو اور آپ (علیہ السلام) پر سلام کرنے کے لئے۔
پس وہ تھوڑی دیر نہ ٹھہرے تھے کہ حضرت عمر ؓ آگئے تو فرمایا اے عمر ! تجھے کیا ضرورت لائی ؟ کہا بھوک یا رسول اللہ ! (ﷺ ) نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور میں نے بھی اس کا بعض پایا تو وہ ابوہثیم بن تیھان انصاری کے گھر کی طرف چل پڑے اور ان کے بہت سارے کھجور کے درخت اور بکریاں تھیں اور ان کے خادم نہ تھے تو انہوں نے اس کو نہ پایا تو انہوں نے اس کی بیوی کو کہا تیرا خاوند کہاں ہے ؟ تو اس نے کہا وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گیا ہے تو وہ تھوڑی دیر نہ ٹھہرے تھے کہ ابوہثیم پانی سے بھر ا مشکیزہ لے کر آگئے تو اس کو رکھ دیا، پھر آئے اور رسول اللہ ﷺ کو لپٹ گئے اور اپنے ماں وباپ کا فدیہ دینے لگا، پھر ان کو اپنے باغ میں لے گیا، پھر ان کے لئے چٹائی بچھا دی۔ پھر ایک درخت کی طرف گیا اور ایک گچھا لے کر آیا اور رکھ دیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تونے ہمارے لئے اس کی کچی اور پکی کھجوریں الگ کیوں نہیں کردیں ؟ تو انہونے کہا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) میں نے ارادہ کیا کہ تم اس کی کچی اور پکی کھجوروں کو چن لیں تو انہوں نے وہ کھجوریں کھائیں اور پانی پیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے تم قیامت کے دن سوال کئے جائو گے، ٹھنڈا سایہ ہے اور عمدہ پکی کھجوریں اور ٹھنڈا پانی ہے۔ پھر ابوہثیم گئے تاکہ ان کے لئے کچھ کھانا تیار کریں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔
تو دودھ والی کو ذبح نہ کرنا تو ابوہثیم نے ان کے لئے بکری کا چھوٹا بچہ ذبح کیا پھر وہ ان کے پاس لائے تو انہوں نے کھایا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تیرا کوئی خادم ہے ؟ انہوںں نے کہا نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پس جب ہمارے پاس کوئی بچہ آئے تو تو ہمارے پاس آنا تو نبی کریم ﷺ کے پاس دو غلام آئے، ان کے ساتھ تیسرا نہیں تھا تو آپ (علیہ السلام) کے پاس ابوہثیم آئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو ان دونوں میں سے ایک کو اختیار کرلے تو انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی ! (ﷺ ) آپ میرے لئے اختیار کریں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا بیشک جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امانت دار ہے تو اس کو لے کیونکہ یہ نماز پڑھتا ہے اور اس بارے میں نیکی کی وصیت قبول کریں تو ابوہیثم اس کو لے کر اپنی بیوی کے پاس گئے اور اس کو خبر دی رسول اللہ ﷺ کے قول کی تو اس کی بیوی نے کہا تو اس میں اس کو پہنچنے والا نہیں ہے جو رسول اللہ ﷺ نے کہا ہے مگر یہ کہ تو اس کو آزاد کردے تو ابوہثیم نے کہا یہ آزاد ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : بیشک ! اللہ تبارک وتعالیٰ نے کوئی نبی اور خلیفہ نہیں بھیجا مگر اس کے لئے دورازدار ہوتے ہیں ایک راز دار اس کو نیکی کا حکم کرتا ہے اور منکر سے روکتا ہے اور ایک راز دار اس کو فساد کی طرف مائل کرتا ہے اور جو شخص برے راز دار سے بچا دیا گیا، تحقیق وہ محفوظ کردیا گیا۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ” النعیم “ بدن، کانوں، آنکھوں کا صحیح ہونا، اللہ تعالیٰ بندوں سے سوال کریں گے کن کاموں میں تم نے ان ک واستعمال کیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو ان سے زیادہ جانتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا قول ” ان السمع والبصر والفواد کل اولئک کان عنہ مسئولا “ عکرمہ فرماتے ہیں تندرستی اور فراغت کے بارے میں اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں تندرستی اور فراغت اور مال کے بارے میں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں، صحت اور فراغت ۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں یعنی اس کے بارے میں جو تم پر انعام کیا محمد ﷺ کے ذریعے اور ابوالعالیہ فرماتے ہیں اسلام اور سنتوں کے بارے میں اور حسین بن فضل فرماتے ہیں شرائع کی تخفیف اور قرآن مجید کے آسان کرنے کے بارے میں۔