103. Surah Al-Asr

العصرThe Declining Day, Epoch · 3 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 103:1

وَ الْعَصْرِۙ Open ayah 103:1 in the Quran reader

عصر کی قسم

1 ۔” والعصر “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ زمانے کی قسم ہے۔ کہا گیا ہے اس کی قسم کھائی اسی لئے کہ اس میں دیکھنے والے کے لئے عبرت ہے اور کہا گیا ہے اس کا معنی زمانے کے رب کی قسم ہے اور اسی طرح اس کی مثل دوسری قسموں میں ہے۔ ابن کیسان (رح) فرماتے ہیں العصر سے مرادرات اور دن ہیں۔ ان دونوں کو عصران کہا جاتا ہے اور حسن (رح) فرماتے ہیں سورج کے زوال سے اس کے غروب ہونے تک اور قتادہ فرماتے ہیں دن کی گھڑیوں میں سے آخری گھڑی اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے عصر کی نماز کی قسم کھائی اور یہی صلوٰۃ وسطیٰ ہے۔
Ayah 103:2

اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ Open ayah 103:2 in the Quran reader

کہ انسان نقصان میں ہے

2 ۔” ان الانسان لفی خسر “ یعنی خسارے اور نقصان میں۔ کہا گیا ہے اس سے کافر مراد ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ مومنین کا استثناء کیا ہے اور خسران انسان کا اصل سرمایہ چلا جانا اپنے نفس اور عمر کو معاصی میں ہلاک کرنے میں اور یہ دونوں اس کا بڑا سرمایہ ہیں۔
Ayah 103:3

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ١ۙ۬ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠ Open ayah 103:3 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق بات کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے

3 ۔” الا الذین امنوا وعملوا الصالحات “ کیونکہ یہ لوگ خسارہ میں نہیں ہیں۔ ” وتواصوا “ ایک دوسرے کو وصیت کریں۔ ” بالحق “ قرآن کی۔ اس کے قائل حسن اور قتادہ رحمہما اللہ ہیں اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ایمان و توحید کے ساتھ۔ ” وتواصوا بالصبر “ فرائض کی ادائیگی اور اللہ کے امر کو قائم کرنے پر۔ ابراہیم (رح) فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ انسان دنیا میں جب عمر گزارے اور بوڑھا ہوجائے تو وہ نقصان اور خسارہ میں ہے سوائے مومنین کے کیونکہ ان کے لئے ان کے اجر اور اچھے اعمال جو وہ اپنی جوانی اور صحت میں کرتے تھے لکھے جائیں گے اور یہ اللہ تعالیٰ کے قول ” لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ثم رددناہ اسفل سافلین الا الذین امنوا وعملوا الصالحات “ کی مثل ہے۔