Ayah 104:1ہمزہ اور لمزہ کی تفسیر
1 ۔” ویل لکل ھمزۃ المزۃ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ چغلی کے ساتھ چلنے والے پیاروں کے درمیان فرق ڈالنے والے اور ان دونوں کا معنی ایک ہے اور وہ عیب جو۔ اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ” الھمزۃ “ جو پیٹھ پیچھے تیرے عیب نکالے اور ” اللمزۃ “ جو سامنے تیرے عیب نکالے اور ابوالعالیہ اور حسن نے اس کا الٹ کہا ہے اور سعید بن جبیر اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں ” الھمزۃ “ جو لوگوں کے گوشت کھائے اور ان کی غیبت کرے اور ” اللمزۃ “ ان پر بہت زیادہ طعنہ مارنے والا اور ابن زید ” الھمزۃ “ ایسا شخص جو لوگوں کو اپنے ہاتھ سے مارے اور ” اللمزۃ “ جو اپنی زبان سے ان میں عیب نکالے۔
اور سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں اپنی زبان سے عیب نکالے اور آنکھوں سے اشارے کرے اور اسی کی مثلا ابن کیسان (رح) نے کہا ہے ” الھمزۃ “ جو اپنے ہم نشین کو برے الفاظ کے ساتھ تکلیف دے اور ” اللمزہ “ جو سر سے اشارے کرے اور آنکھوں اور پلکوں سے اشارے کرے اور دو لغتیں ہیں فاعل کی۔ جیسے ” سخرۃ وضح کہ “ اس شخص کے لئے جو لوگوں سے ہنسی مذاق کرے اور مھز کی توڑنا اور کسی شیء پر سختی سے دانت گاڑھنا اور ان کا اختلاف ہوا ہے کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں اخنس بن شریق بن وہب ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ لوگوں کی آبرو کے پیچھے پڑتا اور ان کو غیبت کرتا تھا اور محمد بن اسحاق (رح) فرماتے ہیں ہم ہمیشہ یہ سنتے رہے کہ سورة ہمزہ امیہ بن خلف جمحی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں ولید بن مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ وہ نبی کریم ﷺ کی غیبت کرتا تھا، آپ (علیہ السلام) کے پیچھے اور آپ ﷺ کے سامنے طعنے مارتا تھا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں یہ آیت عام ہے ہر اس شخص کے بارے میں جس کی یہ صفت ہو۔
Ayah 104:22 ۔” پھر اس کی وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا ” الذی جمع مالا “ ابوجعفر، ابن عامر، حفص ، حمزہ اور کسائی نے ” جمع “ میم کی تشدید کے ساتھ کثرت کے معنی پر پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ۔ ” وعددہ “ اس کو شمار کیا۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس کو روکا اور ذخیرہ کیا۔ کہا جاتا ہے ” عددت الشیء وعددتہ “ جب تونے اس کو روک لیا۔
Ayah 104:33 ۔” یحسب ان مالہ اخلدہ “ دنیا میں ۔ وہ گمان کرتا ہے کہ وہ اپنی دولت کی وجہ سے نہ مرے گا۔
Ayah 104:44 ۔” کلا “ اس کی تردید کی ہے کہ اس کا مال اس کو ہمیشہ نہیں رکھ سکتا۔ ” لینبذن “ وہ ضرور پھینکا جائے گا۔ ” فی الحطمۃ “ جہنم میں اور ” حطمہ “ جہنم کے اسماء میں سے ہے جیسے سقر اور لظی۔ اس کا نام ” حطمۃ “ اس لئے رکھا گیا ہے کہ یہ ہڈیوں کو کوٹ کر توڑ دے گی۔
Ayah 104:55 ۔ وما ادراک ماالحطمۃ
Ayah 104:66 ۔ نار اللہ الموقدۃ۔
Ayah 104:77 ۔” التی تطلع علی الافئدۃ “ یعنی ایسی جس کی تکلیف و درد دلوں تک پہنچ جائے گا اور اطلاع اور بلوغ اور تطلع کا ایک معنی۔ عرب سے نقل کیا گیا ہے ” من طلعت ارضنا “ یعنی پہنچ گئی اور آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو کھاجائے گی حتیٰ کہ دلوں تک پہنچ جائے گی۔ اس کو قرظی اور کلبی رحمہما اللہ نے کہا ہے۔
Ayah 104:88 ۔” انھا علیھم موصدۃ “ بند کی ہوئی۔
Ayah 104:99 ۔” فی عمد ممددۃ “ حمزہ، کسائی اور ابوبکر رحمہم اللہ نے ” فی عمد “ عین اور میم کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ان دونوں کے زبر کے ساتھ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” رفع السماوات بغیر عمد ترونھا “ ہے اور یہ دونوں عود کی جمع ہیں جیسے ادیم اور آدم اور ادم۔ اس کو فراء نے کہا ہے اور ابوعبیدہ (رح) فرماتے ہیں عماد کی جمع ہے جیسے اھاب اور اھب اور اھبا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ان کو عمارتوں میں داخل کیا، پھر ان ستونوں کو لمبا کردیا گیا اور ان کی گردنوں میں بیڑیاں ہیں، ان پر اس کے دروازے بند کردیئے گئے۔ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں، ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ ان ستونوں کے ذریعے سے دوزخ میں ان کو عذاب دیا جائے گا بعض لوگوں کا قول ہے کہ عمدان کو اڑوں کو کیلیں ہونگی جو دوزخیوں کو اندر کرکے بند کردیئے جائیں گے اور یہ عبداللہ ؓ کی قرات ” بعمد “ باء کے ساتھ ہے ۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں ان پر دروازوں کو بند کردیا جائے گا، پھر ان پر لوہے کی میخوں کے ذریعے آگ سے بند کردیا جائے گا حتیٰ کہ ان پر اس کا غم و گرمی لوٹے گی۔ ان کے لئے دروازہ نہ کھولا جائے گا اور ان پر ہوا بھی داخل نہ ہوگی اور ” ممددۃ “ عمد کی صفت ہے یعنی لمبے۔