105. Surah Al-Fil
الفيلThe Elephant · 5 ayahsتفسیرِ بغوی
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاَصْحٰبِ الْفِیْلِؕ Open ayah 105:1 in the Quran reader
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟
اصحاب الفیل کا واقعہ
1 ۔” الم ترکیف فعل ربک باصحب الفیل “ محمد بن اسحق نے بروایت سعید بن جبیر و عکرمہ از ابن عباس ؓ بیان کیا اور واقدی نے بھی اسی طرح ذکر کیا کہ نجاشی شاہ حبش نے اریاط (سپہ سالار) کو یمن پر فوج کشی کے لئے بھیجا۔ اریاط نے جاکر یمن پر تسلط قائم کرلیا۔ ابرہہ بن الصباح حبشی ایک فوجی سردار تھا، اس کو اریاط کی سیادت پر حسد ہوا اور اس نے بغاوت کردی۔ اس طرح حبشیوں نے ابرہہ کو سردار بنالیا اور ابرہہ کا تسلط یمن پر ہوگیا، پھر ابرہہ نے دیکھا کہ حج کے زمانہ میں لوگ مکہ کو جانے کی تیاری کررہے ہیں۔ اس حسد میں اس نے صنعاء میں ایک گرجا بنایا اور نجاشی کو لکھا کہ میں نے صنعاء میں ایک کنیسہ بنایا ہے جس کی مثال کسی بادشاہ کے لئے نہیں بنائی گئی۔ آپ اس گرجا میں تشریف لے آئیں تاکہ میں مکہ کے حج سے لوگوں کا رخ موڑدوں۔ یہ بات بنی کنانہ کے ایک شخص نے سن پائی اور رات کو نکل کر جاکر گرجا میں بیٹھ گیا اور موقع پاکر گرجا کے اصل قبلہ کو گندگی آلود کردیا ۔ ابرہہ کو اس کی اطلاع ہوئی تو اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں جاکر کعبہ کو ڈھادوں گا اور نجاشی کو اس واقعہ کی اطلاع بھیج دی اور درخواست کی کہ مجھے کچھ ہاتھی بھیج دیجئے۔ نجاشی نے اس کو ہاتھیبھیج دیئے جن میں ایک بہت بڑا طاقتور ہاتھی بھی تھا جس کا نام محمود تھا، ابرہہ مکہ کی طرف چل دیا۔
عرب نے یہ خبر سنی تو ان پر شاق گزری۔ انہوں نے ابرہہ سے مقابلہ کرنا ضروری سمجھا۔ چناچہ یمن کے راجائوں میں سے ایک راجہ تھا جس کا نام ذونفر تھا۔ وہ لڑنے کے لئے نکلا مگر ابرہہ نے اس کو شکست دے دی اور گرفتار کرلیا قتل نہیں کیا بلکہ جکڑ دیا اور آگے بڑھا۔ قبائل خثعم کی آبادی کے قریب پہنچا تو نفیل بن خثعمی ، بنی خثعم کو لے کر مقابلہ کے لئے نکلا، دوسرے قبائل یمن بھی اس سے آکر مل گئے اور لڑائی ہوئی، نفیل گرفتار کرلیا گیا ۔ نفیل نے ابرہہ سے کہا : بادشاہ میں زمین عرب کے راستوں سے خوب واقف ہوں۔ ابرہہ نے رہنمائی کے لئے اس کو ساتھ لے لیا۔ طائف کی طرف سے گزرا تو مسعود بن مغیث ثقفی بن ثقیف کے کچھ آدمیوں کو لے کر آیا اور بولا بادشاہ ! ہم آپ کے غلام ہیں۔ ہماری طرف سے آپ کی کوئی مخالفت نہ ہوگی۔ آپ اس مکان (کو ڈھانے) کے ارادہ سے نکلے ہیں جو مکہ ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ایک رہنما بھی بھیج دیں گے۔ چناچہ انہوں نے اپنے غلام ابورغال کو رہنمائی کے لئے بھیج دیا۔ ابورغال کی رہنمائی میں ابرہہ آگے بڑھا۔ جب مغمس میں پہنچا تو ابورغال مرگیا۔ یہ وہی شخص ہے جس کی قبر پر پتھر مارے جاتے ہیں۔ ابرہہ نے مغمس سے ایک حبشی کو جس کا نام اسود تھا۔ اس غرض سے بھیجا کہ وہ حرم کا مال (یعنی اونٹ وغیرہ) ہنکا لائے۔ اسود نے عبدالمطلب کے دو سواونٹ پکڑ لئے، پھر ابرہہ نے بحناط حمیری کو مکہ والوں کے پاس اس غرض کے لئے بھیجا کہ سردار مکہ کو تلاش کرکے یہ پیام پہنچا دے کہ میں لڑنے کے لئے نہیں آیا ہوں بلکہ اس گھر کو ڈھانے کے لئے آیاہوں۔ قاصد چل کر مکہ میں پہنچا تو عبدالمطلب سے ملاقات کی اور ابرہہ کا پیام ان سے کہہ دیا۔ عبدالمطلب نے کہا ہم بھی اس سے لڑنا نہیں چاہتے ، ہم اس گھر تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ یہ اللہ کا حرمت والا گھر ہے اور خلیل کا بنایا ہوا ہے۔ چناچہ اللہ کا گھر اور حرم ہے اسی لئے وہی اس کی حفاظت کرے گا۔ اگر ابرہہ کو اس گھر سے خدا نہیں روکے گا تو خدا کی قسم ! ہم میں تو اس کی قوت نہیں ہے۔
اس کے بعد عبدالمطلب اپنے اوٹ مانگنے کے لئے ابرہہ کے فوجی کیمپ میں گئے۔ ذونفر چونکہ عبدالمطلب کا دوست تھا۔ اس لئے اس کے پاس پہنچے۔ ذونفر نے کہا میں تو قیدی ہوں۔ انیس ایک شخص ہے جو میرا دوست ہے اور ہاتھیوں کا دراوغہ ہے۔ میں تم کو اس کے پاس بھیج دوں گا۔ پھر ذونفر نے انیس کو (بلوا کر) کہا : یہ قریش کے سردار ہیں اور مکہ والے اونٹوں کے مالک ہیں۔ یہ پہاڑوں کے نیچے تو آدمیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور پہاڑوں کے اوپر جنگلی جانوروں کو بھی ان کی خوراک دیتے ہیں۔ بادشاہ کے پاس پہنچنا چاہتے ہیں لیکن نہ یہ لڑنے والے ہیں، نہ تمہاری مخالفت کرنے والے۔
انیس نے جاکر پیغام پہنچا دیا۔ بادشاہ نے داخلہ کی اجازت دے دی۔ عبدالمطلب قدآور اور حسین آدمی تھے۔ ابرہہ نے ان کو دیکھ کر تعظیم و تکریم کی اور خود تخت پر بیٹھنا اور ان کو نیچے بٹھانا مناسب نہ سمجھا۔ اس لئے خود بھی تخت سے اتر کر ان کے ساتھ فرش پر بیٹھ گیا اور ترجمان کی معرفت آنے کی غرض پوچھی۔ عبدالمطلب نے کہا : میری غرض دو سواونٹوں کی واپسی ہے۔ ابرہہ نے کہا : جب میں نے تم کو دیکھا تھا تو مجھے تم بہت بھلے معلوم ہوئے تھے مگر اب تم میری نظر سے گرگئے۔ میں تو کعبہ ڈھانے آیا ہوں جو تمہارا بھی دین ہے اور تمہارے باپ، دادا کا بھی اور تمہارے لئے شرف وعزت بھی۔ تم نے اس کے سلسلے میں مجھ سے کوئی بات نہیں کی اور دو سو اونٹ جو میں نے لے لیے ان کے متعلق مجھ سے گفتگو کررہے ہو۔ عبدالمطلب نے کہا ان اونٹوں کا مالک میں ہوں اور اس گھر کا مالک کوئی اور ہے جو خود اس کی حفاظت کرے گا۔ ابرہہ نے کہا : وہ مجھ سے اس کو نہیں بچا سکتا۔
ابرہہ نے اونٹ عبدالمطلب کو دے دیئے اور عبدالمطلب نے واپس آکر قریش کو واقعہ بتادیا اور حکم دیا کہ سب لوگ گھاٹیوں میں منتشر ہوجائیں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ کر اپنی حفاظت کرلیں تاکہ حبشی ان کو کوئی ضرر نہ پہنچا سکیں۔ پھر خود جاکرکعبہ کے دروازہ کی زنجیر پکڑ کر کہنے لگے (ترجمہ اشعار) پروردگار ! تیرے سو ا ان کے مقابلہ میں میں کسی سے امید نہیں رکھتا، پروردگار ! اپنے حرم کو ان سے محفوظ رکھ۔ اس گھر کا دشمن تیرا دشمن ہے، اپنی بستی کو اجاڑنے سے ان کو روک دے۔ یہ اشعار بھی عبدالمطلب نے پڑھے۔
(ترجمہ)…” اے اللہ ! بندہ اپنے سامان کی حفاظت کرتا ہے تو اپنا سامان محفوظ رکھ، صلیب کے طرفداروں اور پرستاروں کے خلاف اپنے پرستاروں کی مدد کر۔ ان کی صلیب اور چال، تیری تدبیر پر غالب نہ آنا چاہیے، تیرے خادموں کو گرفتار کرنے کے لئے اپنے ملک کے سیاہ لشکر اور ہاتھیوں کو کھینچ کر لائے ہیں، انہوں نے اپنی چال کے ساتھ نادانی کی وجہ سے تیرے حرم (کو تباہ کرنے) کا ارادہ کیا ہے اور تیرے جلال کا خوف نہیں کیا، اگر تو ان کو اور ہمارے کعبہ کو یونہی چھوڑ دینے والا ہے تو پھر جو تری مرضی ہو وہی کر۔ “
یہ مناجات کرکے کعبہ کی زنجیر چھوڑ دی اور اپنی قوم کے ساتھ سرداروں کے پاس چلے گئے۔ صبح کو ابرہہ نے مغمس میں مکہ میں داخل ہونے کی تیاری کی اور لشکر کو ہاتھیوں سمیت تیار کیا۔ ایک ہاتھی تھا کہ جسامت اور قوت میں اس کی نظیر دیکھنے میں نہیں آئی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے ساتھ بارہ ہاتھی اور بھی تھے۔ نفیل بڑے ہاتھی کے پاس آیا اور اس کا کان پکڑ کر کہا : محمود بیٹھ جا اور جہاں سے آیا ہے سیدھا ادھر ہی واپس چلا جا کیونکہ تو اللہ کی حرمت والے شہر میں ہے۔ ہاتھی بیٹھ گیا پھر لوگوں نے اس کو ہرچند اٹھایا لیکن وہ نہیں اٹھا۔ لوگوں نے اس کے سر پر کدال مارے مگر وہ جب بھی نہ اٹھا۔ آخر آنکڑے اس کی آنکھوں کے نیچے چبھوئے اور ڈرا کر اٹھانا چاہا مگر وہ نہ اٹھا (یعنی اس نے قدم نہ اٹھایا) آخر اس کا رخ یمن کی طرف کردیا تو وہ فوراً اٹھ گیا اور تیزی سے چلنے لگا۔ پھر شام کی طرف کردیا، تب بھی اس نے ایسا ہی کیا (تیزی سے چلتا رہا) آخر میں اس کا رخ مکہ کی طرف کیا تو وہ کھڑا بھی نہ رہ سکا (بیٹھ گیا) نفیل دوڑتا ہوا پہاڑ پر چڑھ گیا اور اللہ نے سمندر کی طرف سے ابابیلوں جیسے کچھ پرندے بھیجے۔ ہر پرندہ کے پاس تین پتھر تھے، دو دونوں پنجوں میں اور ایک چونچ میں پتھر، چنے اور مسور کے برابر تھے۔ جب پرندے ان لوگوں پر پہنچ کر چھا گئے تو انہوں نے پتھریاں چھوڑ دیں ۔ جس شخص کے پتھری لگی وہ ہلاک ہوگیا لیکن سب قوم ہلاک نہیں ہوئی۔ فوج والے نکل کر اندھا دھند بھاگے اور راستہ نہ ملنے کی وجہ سے نفیل کو تلاش کرنے لگے تاکہ وہ یمن کے راستہ پر لگادے۔ نفیل کسی پہاڑ پر سے ان کو دیکھتا رہا۔ غرض لوگ اضطرابی حرکت کے ساتھ ہر راستہ پر گرتے پڑتے اور ہر چشمہ میں ہلاک ہوتے چل دیئے صحیح راستہ پر کوئی نہیں پڑا۔
اللہ نے ابرہہ کو ایک جسمانی روگ میں مبتلا کردیا، اس کی انگلیوں کے پورے گرنے لگے اور جو پورا گرتا تھا اس سے کچھ لہو اور خون بہتا تھا۔ آخر پرندہ کے چوزہ کی طرح ہوکر صنعا پہنچا۔ کچھ ساتھی بھی اس کے ساتھ پہنچ گئے۔ آخر آگے کی طرف سے جب اس کا سینہ شق ہوگیا تو مرگیا۔ واقدی نے لکھا ہے نجاشی کے ہاتھی محمود نے حرم کے خلاف جرات نہیں کی تھی، وہ بچ گیا اور دوسرے ہاتھی جنہوں نے اقدام کیا تھا، ان کو پتھر لگے۔
مقاتل بن سلیمان نے اصحاب فیل کے چڑھائی کرنے کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ کچھ قریشی تاجر نجاشی کے ملک میں گئے اور ساحل سمندر کے قریب پہنچ گئے اور عیسائیوں کے گرجا کے پاس اترے۔ گرجا کو وہ ہیکل کہتے تھے، وہاں انہوں نے آگ جلا کر کچھ (گوشت وغیرہ) بھونا۔ پھر آگ کو یونہی چھوڑ کر چل دیئے، ہوا تیز چل رہی تھی۔ آندھی کی وجہ سے ہیکل نے آگ پکڑلی۔ اس کی فریاد نجاشی کے پاس پہنچی۔ گرجا جلنے کا اس کو بڑا افسوس ہوا اور غضبناک ہوکر کعبہ کو ڈھا دینے کے لئے اس نے ابرہہ کو بھیجا۔ اس زمانے میں سعید ثقفی نابینا مکہ ہی میں تھا۔ یہ شخص گرمی کا زمانہ طائف میں اور سردی کا زمانہ مکہ میں بسر کرتا تھا بڑا دانش مندبزرگ، اس کی رائے سے تمام امور درست ہوجاتے تھے اور عبدالمطلب کا دوست تھا۔ عبدالمطلب نے اس سے کہا : آج تمہاری رائے کی ضرورت ہے، بتائو کیا رائے ہے ؟ (سعید یعنی) ابومسعود نے کہا : تم مجھ کو لے کر حراء پر چڑھ جائو۔ پھر ابو مسعودنے عبدالمطلب کو مشورہ دیا کہ سو اونٹ لے کر ان لوگوں کی گردنوں میں جوتوں کا قلادہ (نذر الٰہی کی علامت) ڈال کر اللہ کے نام پر حرم میں بھجوادو۔ شاید کوئی حبشی کسی اونٹ کو پکڑ کر ذبح کرلے اور اس گھر کا مالک غضبناک ہوجائے اور ان کو پکڑ لے۔ عبدالمطلب نے مشورہ پر عمل کیا۔ ان لوگوں نے ان اونٹوں کو پکڑ کر کسی پر لدان کیا اور کسی کو کھانے کے لئے ذبح کیا۔ عبدالمطلب اس کے بعددعا کرنے لگے اور ابو مسعود نے کہا : اس گھر کا مالک خود اس کی حفاظت کرے گا۔
تبع شاہ یمن (تبع یمن کے ہر بادشاہ کا لقب تھا) بیت اللہ کے صحن میں داخل ہوکر عمارت کو ڈھانے کا ارادہ کرچکا تھا مگر اللہ نے اس کو روک دیا اور مصیبت میں مبتلا کردیا۔ تین روز تک اس پر اندھیرا چھایا رہا۔ جب تبع نے یہ مصیبت دیکھی تو کعبہ پر مصرف سفید ریشم کا غلاف چڑھایا اور تعظیم کی اور بطور نذر اونٹ کی قربانی کی ۔ ادھر ابو مسعود نے سمندر کی طرف جو آنکھ اٹھائی تو اس کو کچھ محسوس ہوا۔ اس نے عبدالمطلب سے کہا : سمندر کی طرف تو دیکھو۔ عبدالمطلب نے دیکھا اور بولے مجھے تو سفید پرندے نظر آرہے ہیں جو سمندر کے کنارے سے اٹھے ہیں۔ ابومسعود نے کہا : ذرا نظر اٹھا کر دیکھو ان کی قرارگاہ کہاں ہے ؟ عبدالمطلب نے کہا : یہ ہمارے سروں پرچکر کاٹ رہے ہیں۔ ابو مسعود نے کہا : کیا تم ان کو پہچانتے ہو ؟ عبدالمطلب نے کہا خدا کی قسم ! میں ان کو نہیں پہچانتا، نہ یہ نجدی ہیں، نہ تہامی ، نہ عربی، نہ شامی۔ ابومسعود نے کہا : کتنے ہیں ؟ عبدالمطلب نے کہا : شہد کی مکھیوں کی طرح (بےگنتی) ہیں۔ ہر ایک کی چونچ میں ٹھکری کی طرح پتھری ہے، رات کی طرح آرہے ہیں۔ ہر پرندہ کی چونچ سرخ، سرسیاہ اور گردن لمبی ہے اور ایک لیڈر سب کا قائد ہے جو سب سے آگے ہے اور سب اس کے پیچھے آرہے ہیں۔
غرض پرندے آگئے اور لشکر کی سیدھ میں سروں پر آکر رک گئے۔ جب لوگ اکٹھے ہوگئے تو پرندوں نے اپنی چونچوں سے پتھر نیچے گرادیئے۔ ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جس پر اس کو گرایا گیا۔ پھر جدھر سے آئے تھے، اسی طرف لوٹ کر چلے گئے۔
ابو مسعود اور عبدالمطلب صبح کو جب پہاڑ کی چوٹی سے اترے اور ایک ٹیلے پر چلے تو ان کو کسی کی آہٹ بھی محسوس نہیں ہوئی۔ ایک اور ٹیلہ پر گئے تو وہاں سے کوئی آہٹ نہیں سنی۔ کہنے لگے یہ لوگ رات کو نہیں سوئے ہوں گے، اس لئے صبح کو سو رہے ہیں لیکن جب فوجی کیمپ کے قریب پہنچے تو سب کو مردہ پایا جس شخص کے خود پر پتھر گرتا تھا، خود کو پھاڑ کر دماغ میں اتر جاتا تھا۔ یہاں تک کہ ہاتھیوں اور گھوڑوں کے اندر بھی گھس کر زمین پر پہنچتا اور زمین کے اندر داخل ہوجاتا تھا۔ عبدالمطلب نے انہی کا پھاوڑا لے کر زمین میں بہت گہرا گڑھا کھود اور (ابرہہ کی فوج کے) زروجواہر اس میں بھر دیئے اور دوسرا گڑھا اپنے ساتھی کے لئے کھود کر اس کو بھی بھر دیا اور ساتھی سے کہا : اگر تم چاہو تو میرا گڑھا لے لو، چاہو تو اپنا لے لو اور چاہو تو دونوں لے لو۔ ابو مسعود نے کہا : تم اپنے لئے جو چاہو پسند کرلو۔ عبدالمطلب نے کہا میں نے اپنے گڑھے میں سب سے اچھا سامان بھرنے میں کمی نہیں کی تھی مگر اب وہ تمہارا ہے۔ الحاصل دونوں میں سے ہر ایک اپنے اپنے گڑھے پر بیٹھ گیا، پھر عبدالمطلب نے آواز دے کر لوگوں کو واپس بلایا اور لوگوں نے واپس آکر بقیہ مال پر قبضہ کرلیا اور کل مال اٹھا بھی نہ سکے۔ اسی مال کی وجہ سے عبدالمطلب قریش کے سردار ہوگئے اور قریش نے اپنی قیادت ان کو سپردکردی۔ ابو مسعود اور عبدالمطلب ہمیشہ اپنے اپنے گھروں میں اسی مال کے سبب خوشحال رہے اور اللہ نے اصحاب فیل کو کعبہ سے دفع کردیا۔
ضحاک نے کہا : آٹھ ہاتھی تھے، بعض نے کہا : سب سے بڑے ہاتھی کا نام محمود تھا۔ محمود کے علاوہ بارہ ہاتھی تھے۔ ” الفیل “ کا مفردذکر کیا (باوجودیکہ اصحاب صیغہ جمع ہے) کیونکہ اسی بڑے ہاتھی کی طرف سب کی نسبت کرنی مقصود ہے۔ بعض نے کہا کہ مقطع آیات کے توافق کے لئے ایسا کیا گیا۔
اَلَمْ یَجْعَلْ كَیْدَهُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍۙ Open ayah 105:2 in the Quran reader
کیا ان کا داؤ غلط نہیں گیا ؟ (گیا)
2 ۔”(الم یجعل کیدھم فی تضلیل) کید سے مراد ان کی چال اور ان کا کعبہ کو گرادینے کی کوشش ہے۔ فی تضلیل ان کی چال سے جو ارادہ کردیا تھا اللہ نے اس کو بےکار بنالیا۔ تاکہ وہ کعبہ تک پہنچ ہی نہ سکیں۔ مقاتل نے کہا کہ وہ خسارے میں پڑے ہوئے ہیں۔
وَّ اَرْسَلَ عَلَیْهِمْ طَیْرًا اَبَابِیْلَۙ Open ayah 105:3 in the Quran reader
اور ان پر جھلڑ کے جھلڑ جانور بیجھے
3 ۔ (وارسل علیھم طیراً ابابیل) کثیر جو جدا جدا پرندے تھے یکے بعد دیگرے آتے تھے۔ ابوعبیدہ کا قول ہے کہ ابابیل متفرق جماعتوں کو کہتے ہیں جیسا کہ عرب کا قول ہے کہ گھوڑے یا سوارادھر ادھر سے آئے۔ فراء کا قول ہے کہ ابابیل ایسی جمع ہے کہ اس کا واحد اس مادہ سے نہیں آتا ۔ کسائی کا قول ہے کہ ابابیل ابول کی جمع ہے جیسے عجول عجاجیل کی جمع ہے ۔ بعض نے کہا کہ من لفظہ اس کی واحد ابیل آتی ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان پرندوں کی چونچیں پرندوں کی طرح تھیں اور ان کے پنجے کتوں کے پنجوں کی طرح تھے ۔ عکرمہ کا قول ہے کہ ان کے سر چرندوں کے سر کی طرح تھے۔ ان کے دانت ایسے تھے جیسے درندوں کے ہوتے ہیں۔ سعید بن جبیر کا قول ہے کہ وہ پرندے ستز تھے اور چونچیں زرد تھیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ وہ سیاہ تھے جو جھنڈ در جھنڈ ہو کر سمندر کی طرف سے آئے تھے۔ ہر پرندے کے پاس تین تین کنکریاں تھیں۔ دو پنجوں میں اور ایک منقار میں وہ جس پر بھی پڑی وہ بھوسا بن گئی۔
تَرْمِیْهِمْ بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۪ۙ Open ayah 105:4 in the Quran reader
جو ان پر کھنگر کی پتھریاں پھینکتے تھے
4 ۔” ترمیھم بحجارۃ من سجیل “ ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں پرندے چیخے اور ان پر پتھر پھینکے تو اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیجی تو وہ پتھروں کو لگی اور ان کو مزید تیزی سے ان تک پہنچایا۔ پس ان میں جو کنکر کسی آدمی کے لگتا تو دوسری جانب سے نکل جاتا اور اگر اس کے سر پر گرتا تو اس کی دبر سے نکلتا۔
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاْكُوْلٍ۠ Open ayah 105:5 in the Quran reader
تو ان کو ایسا کردیا جیسے کھایا ہوا بھس
5 ۔” فجعلھم کعصف ماکول “ جیسے کھیتی اور بھوسہ جس کو چوپایوں نے کھالیا ہو۔ پھر اس کا گوبر کردیا ہو، پھر وہ خشک ہوجائے اور اس کے اجزاء متفرق ہوجائیں۔ ان کے جوڑوں کے متفرق ہونے کو گوبر کے اجزاب کے متفرق ہونے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” العصف “ گندم کے پتے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ بھوسہ ہے اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں دانے کی طرح جب وہ کھایا جائے اور کھوکھلا جو گندم کے دانہ پر ہوتا ہے۔ اس کے غلاف کی ہئیت کی طرح۔