106. Surah Quraish
قريشQuraysh · 4 ayahsتفسیرِ بغوی
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ Open ayah 106:1 in the Quran reader
قریش کے مانوس کرنے کے سبب
1 ۔” لایلف قریش “ ابوجعفر نے ” لیلاف “ بغیر ہمزہ کے ” الافھم “ تخفیف کو طلب کرنے کے لئے پڑھا ہے اور ابن عامر (رح) نے ” لالاف “ ہمزہ مختلس کے ساتھ اس کے بعد یاء کے بغیر پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ہمز ہ مشبعہ (اشباع کے ساتھ) اور اس کے بعد یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور ابوجعفر کے علاوہ سب ” ایلافھم “ میں متفق ہیں کہ یہ ہمزہ کے بعد یاء ہے مگر عبدالوہاب بن فلیج نے ابن کثیر سے پڑھا ہے۔ ” الفھم “ لام کے سکون کے ساتھ بغیر یاء کے اور ان میں سے بعض نے سورة الفیل اور اس سورت کو ایک شمار کیا ہے ان میں سے ابی بن کعب ؓ بھی ہیں، ان دونوں سورتوں میں ان کے مصحف میں کوئی فصل نہیں ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ لام ” لایلاف “ میں اس سورت سے متعلق ہے جو اس سے پہلے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کو اپنی عظیم نعمتیں یاد دلائیں جو حبشہ کے ساتھ کیا اور فرمایا ” لا یلاف قریش “ اور زجاج (رح) نے فرمایا ہے معنی ” جعلھم کعصف ماکول لایلاف قریش “ یعنی اصحاب فیل کو ہلاک کردیا تاکہ قریش باقی رہ جائیں اور جو وہ سردی اور گرمی کے سفر سے مانوس کیے گئے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس سے مانوس ہیں پس ان پر سردیوں اور گرمیوں میں گراں نہیں ہوتا اور اکثر حضرات اس بات پر ہیں کہ یہ دو سورتیں ہیں اور اس وجہ میں اختلاف کیا ہے جو لام کو لانے والی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” لایلاف “ میں۔ کسائی اور اخفش رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ لام تعجب ہے۔ فرماتے ہیں تم تعجب کرو، قریش کے مانوس ہونے پر سردیوں اور گرمیوں کے سفر سے اور ان کے اس گھر کے رب کی عبادت چھوڑنے پر۔ پھر ان کو اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔
جیسا کہ تو کہے کلام میں ” لزید واکرامنا ایاہ “ تعجب کے طریقہ پر۔ یعنی تم اس پر تعجب کرو اور عرب جب اس لام کو لاتے ہیں تو اس پر اکتفاء کرتے ہیں تعجب پر دلیل کے لئے اس سے فعل کو ظاہر کرنے سے اور زجاج (رح) فرماتے ہیں یہ اپنے مابعد کی طرف لوٹ رہا ہے۔ اس کی تقدیر ” فلیعبدوا رب ھذا البیت لا یلافھم رحلۃ الشتاء والصیف “ اور ابن عیینہ (رح) فرماتے ہیں میرے قریش پر نعمت کرنے پر اور قریش وہ نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں اور جو نضر کی اولاد میں سے ہے تو وہ قرشی ہے اور جو نضر کی اولاد میں سے نہ ہو وہ قرشی نہیں ہے۔
قریش کی وجہ تسمیہ
واثلہ بن اسقع (رح) فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ نے کنانہ کو اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے چن لیا ہے اور کنانہ میں سے قریش کو چن لیا ہے اور قریش میں سے بنوہاشم کو چن لیا ہے اور مجھے بنو ہاشم میں سے چن لیا ہے اور ان کا نام قریشی قرش اور تقرش سے رکھا ہے اور وہ کمانا اور جمع کرنا ۔ کہاجاتا ہے ” فلان یقرش لعیالہ ویقترش “ یعنی کماتا ہے اور یہ لوگ تاجر تھے اور مال جمع کرنے کے حریص تھے۔ ابوریحانہ فرماتے ہیں معاویہ نے عبداللہ بن عباس ؓ سے پوچھا قریش کا نام قریشی کیوں رکھا گیا ہے ؟ فرمایا سمندر میں ایک بہت بڑا جانور ہے اس کو قرش کہا جاتا ہے وہ جس موٹی، پتلی چیز پر گزرتا ہے اور کو کھا لیتا ہے اور وہ دوسروں کو کھاتا ہے کھایا نہیں جاتا اور غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں ہوتا۔ کہا کیا عرب اس کو اشعار پہچانتے ہیں ؟ آپ ؓ نے فرمایا جی ہاں ! تو ان کو جمحی کے شعر سنائے :
” اور قریش وہ ہے جو سمندر میں رہتا ہے ، قریش کا نام اس کی وجہ سے قریش رکھا گیا ہے وہ سمندر کے گہرے پانی میں بلندی کے ساتھ غالب ہے، تمام سمندروں کے لشکروں پر۔ وہ ہر موٹی پتلی چیز کھا جاتا ہے اور اس میں دو پروں والوں کے لئے ایک پر نہیں چھوڑتا۔ اسی طرح شہروں قریش کا قبیلہ ہے، وہ شہروں کو پھرتی سے کھا جاتا ہے اور ان کے لئے آخر زمانہ میں ایک نبی ہوگا، ان میں قتل اور زخموں کو زیادہ کرے گا۔ “
اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ Open ayah 106:2 in the Quran reader
یعنی ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے سبب
2 ۔” ایلافھم “ یہ پہلے ایلاف سے بدل ہے۔ ” رحلۃ الشتاء والصیف “…” رحلۃ “ مصدر کی بناء پر منصوب ہے۔ یعنی ان کا سفر کرنا گرمیوں اور سردیوں میں۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مکہ میں سردیاں گزارتے اور گرمیاں طائف میں تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ حرم میں ٹھہریں اور اس گھر کے رب کی عبادت کریں اور دیگر حضرات نے کہا ہے ان کے لئے دو تجارتی سفر ہوتے تھے ہر سال میں۔ ان میں سے ایک سردیوں میں یمن کی طرف اس لئے کہ وہ گرم علاقہ تھا اور دوسرا گرمیوں میں شام کی طرف اور حرم خشک وادی تھی، اس میں کوئی کاشت نہ ہوتی تھی اور قریش کی معیشت ان کی تجارت پر منحصر تھی اور راستہ میں ان کو کوئی تنگ نہ کرتا تھا۔ لوگ کہتے تھے قریش اللہ کے حرم کے رہائشی ہیں اور اس کے گھر کے والی ہیں۔ اگر ان کے یہ دو تجارتی سفر نہ ہوتے تو ان کے لئے مکہ میں رہنے کی گنجائش نہ تھی اور اگر بیت اللہ کے پڑوس کی وجہ سے امن نہ ہوتا تو وہ اس سفر پر قادر نہ ہوتے اور ان پر یمن اور شام کی طرف آنا جانا مشکل ہوجاتا، پھر یمن کے شہروں میں سے تبالہ اور جرش سرسبز ہوگئے تو انہوں نے غلہ مکہ کی طرف منتقل کیا، ساحل والوں نے سمندر کے راستے کشتیوں پر اور خشکی والوں نے اونٹوں اور گدھوں پر۔ پس ساحل والوں نے جدہ میں سامان تجارت اتارا اور خشکی والوں نے محصب میں۔
اور شام سرسبز ہوگیا تو انہوں نے اپنا غلہ مکہ کی طرف منتقل کیا تو اپنا سامان ابطح میں ڈالا تو ان کی ضروریات قریب سے پوری ہوگئیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دونوں سفروں کی مشقت سے کافی ہوگئے اور ان کو اس گھرکے رب کی عبادت کا حکم دیا۔
فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ Open ayah 106:3 in the Quran reader
لوگوں کو چاہئے کہ (اس نعمت کے شکر میں) اس گھر کے مالک کی عبادت کریں
3 ۔ تو فرمایا ” فلیعبدو رب ھذا البیت “ یعنی مکہ۔
الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ١ۙ۬ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠ Open ayah 106:4 in the Quran reader
جس نے ان کو بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن بخشا
4 ۔” الذی اطعمھم من جوع “ یعنی بھوک کے بعد تجارتی قافلوں کو مکہ کی طرف منتقل کرنے کے ساتھ۔ ” وآمنھم من خوف “ حرم کی وجہ سے اور ان کے اہل مکہ میں سے ہونے کی وجہ سے حتیٰ کہ ان کو ان سفروں میں کوئی تنگ نہ کرتا تھا اور عطاء نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ وہ تکلیف اور بھوک میں تھے حتیٰ کے ہاشم نے ان کو دوتجارتی سفروں پر جمع کردیا اور وہ اپنا نفع فقیر اور غنی کے درمیان برابر تقسیم کرتے تھے حتیٰ کہ ان کے فقیر بھی ان کے غنی کی طرح ہوگئے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں پہلا شخص جو تجارتی قافلہ اونٹوں پر شام کی طرف لے گیا وہ ہاشم بن عبدمناف ہیں اور اسی کے بارے میں شاعر کہتا ہے :
” تو اس کو کہہ جو مجلس اور سخاوت کو طلب کرتا ہے، کیوں نہیں تو گزرتا عبدمناف کی اولاد پر، کیوں نہیں تو ان پر گزرتا تو ان کی مہمانی کا ارادہ کرے، وہ تجھے بھوک وہاتھ پھیلانے سے روک دیں گے، بہت زیادہ کھانے والے حالانکہ کوئی زیادہ کھانے والا نہیں پایا جاتا اور اپنے مہمانوں کو کہنے والے ہیں آئو اور اپنے فقیر کو اپنے غنی کے ساتھ ملانے والے حتیٰ کہ ان کا فقیر کفایت مند شخص کی طرح ہوگیا اور ہر وعدہ پر سچ پر قائم رہنے والے اور مانوس سفر کرنے والے، عمر وعلانے روٹی کے ٹکڑے کیے اپنی قوم کے لئے او مکہ کے لوگ مسکین کمزور ودبلے تھے، دو سفران کی سنت جاری کی اپنے لئے اور اپنی قوم کے لئے، سردیوں کا سفر اور گرمیوں کا سفر۔ “
اور ضحاک ، ربیع اور سفیان کہتے ہیں ” وآمنھم من خوف “ جذام کے خوف سے پس ان کے شہر میں ان کو جذام کی بیماری نہیں لگتی۔