Ayahs 98:1–4یہاں سے سورة البینہ شروع ہو رہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے دنیا میں مشرکین بھی بہت تھے اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ بھی تھے۔ یہ سب جماعتیں اپنے اپنے دین پر مضبوطی سے جمی ہوئی تھیں ان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ شانہ نے خاتم الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ یہ لوگ اتنے اڑیل تھے کہ اپنے کفر کو اس وقت تک چھوڑنے والے نہ تھے جب تک کوئی مضبوط واضح دلیل سامنے نہ آجائے، اللہ تعالیٰ جل شانہ نے مضبوط واضح دلیل بھیجی۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے آپ پر قرآن نازل ہوا، لوگوں نے اپنی آنکھوں سے آپ کے معجزات دیکھے اور برکات کا ظہور ہوا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا یعنی اہل کتاب اور مشرکین وہ اپنے کفر سے جدا ہونے والے نہ تھے یہاں تک کہ ان کے پاس بینہ یعنی گواہ آگئے ان گواہوں نے ثابت کردیا کہ تم لوگ کفر و شرک پر ہو تمہاری نجات کا راستہ اسی میں ہے کہ اسلام قبول کرو یہ گواہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی بھی ہے اور وہ صحیفے بھی ہیں (یعنی انبیائے متقدمین کی کتابیں) جن پر قرآن مجید مشتمل ہے نیز ان سے قرآن مجید کی سورتیں بھی مراد ہوسکتی ہیں، ان صحیفوں کی تعریف میں ﴿مُّطَهَّرَةًۙ﴾ بھی فرمایا ہے کہ وہ ہر طرح کے کذب اور جھوٹ سے پاک ہیں اور یہ بھی فرمایا کہ ان صحیفوں میں کتب قیمہ یعنی آیات اور احکام ہیں جو اس میں مکتوب ہیں اور یہ صحف قیمہ عدل و انصاف والے احکام اور صراط مستقیم والے قوانین ہیں جیسا کہ سورة الزمر میں فرمایا : ﴿قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِيْ عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ 0028﴾ (عربی قرآن میں ذرا کجی نہیں تاکہ یہ لوگ ڈریں) ۔
قرآن کے جن مخاطبوں کو ہدایت قبول کرنا تھا انہوں نے ہدایت قبول کرلی (ان میں اہل کتاب بہت کم تھے) اور جنہیں ہدایت قبول کرنا نہ تھا وہ لوگ رسول اللہ ﷺ پر اور قرآن پر ایمان نہ لائے۔ کھلی ہوئی دلیل سامنے آنے کے باوجود اپنی جگہ منکر ہی رہ گئے اور ان میں دو جماعتیں ہوگئیں آپ کی تشریف آوری سے پہلے یہود و نصاریٰ دونوں اس بات پر متفق تھے کہ آپ کی بعثت ہونے والی ہے اور ہم آپ پر ایمان لائیں گے لیکن جب آپ تشریف لے آئے تو متفرق ہوگئے یعنی ایک جماعت آپ پر ایمان لے آئی جن کی تعداد تھوڑی سی تھی اور دوسرا فریق جو کثیر تعداد میں تھا وہ لوگ انکار پر ہی جمے رہے۔
Ayah 98:5﴿ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا ﴾ (الآیۃ) اور مشرکین اور کفار کو صرف یہی تعلیم دی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں اور اسی کے لیے توحید میں بھی مخلص رہیں اور دیگر عبادات میں بھی اور دین اسلام کے علاوہ تمام ادیان سے بچ کر اور ہٹ کر رہیں ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ نمازوں کو قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کیا کریں اور یہ جو کچھ انہیں حکم دیا گیا وہ دین قیمۃ ہے یعنی ایسی شریعت کے احکام ہیں جو بالکل سیدھی ہے اس میں کوئی كجی نہیں۔ یہی دین سارے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا دین ہے سب نے اسی کی تعلیم دی۔ یہود و نصاریٰ خود بھی اس بات کو جانتے تھے اور جانتے ہیں لیکن ضد وعناد کی وجہ سے حق کو حق جانتے ہوئے قبول نہ کیا۔
Ayah 98:6شرک و کفر کی مذمت اور توحید کا حکم بیان فرمانے کے بعد آخر کی تین آیتوں میں ہر دو فریق کا انجام بتایا۔ ارشاد فرمایا : ﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا 1ؕ اُولٰٓىِٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِؕ006﴾
اس میں یہود و نصاریٰ و مشرکین کے بارے میں فرمایا کہ وہ دوزخ میں داخل ہوں گے آگ میں جلیں گے ساتھ ہی ان کے بارے میں ﴿ شَرُّ الْبَرِيَّةِ ﴾ بھی فرمایا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جو مخلوق پیدا فرمائی یہ ان میں سب سے بدترین مخلوق ہیں۔
انسانوں میں بہت بڑی تعداد میں وہ لوگ بھی گزرے ہیں اور اب بھی ہیں جو نہ اہل کتاب ہیں اور نہ مشرک ہیں یعنی وہ کسی معبود کے قائل ہی نہیں ہیں نہ موحد ہو کر اور نہ مشرک بن کر، اور ان میں وہ بھی ہیں جو خالق تعالیٰ شانہ کے وجود ہی کے قائل نہیں اور ملحد اور زندیق بھی ہیں جن کا کوئی دین نہیں یہ سب لوگ بھی ﴿ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ﴾ کا مصداق ہیں یعنی کافر ہیں ان کا ٹھکانہ بھی دوزخ ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کے کسی نبی پر ایمان نہ لایا یا خاتم الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لایا یہ سب لوگ بھی کافر ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین اسلام کے علاوہ کوئی دین مقبول نہیں ہے اور دین اسلام کا ہر منکر کافر ہے۔ سورة ٴ نساء میں فرمایا : ﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَيْرًا لَّكُمْ 1ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ 1ؕ وَ كَان اللّٰهُ عَلِيْمًا حَكِيْمًا 00170﴾ (اے لوگو ! تمہارے پاس رسول آگیا حق کے ساتھ تمہارے رب کی طرف سے تم اس پر ایمان لاو اور اپنی جانوں کے لیے خیر کا ارادہ کرو اور اگر تم کفر اختیار کرو تو بیشک اللہ کے لیے وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور اللہ علیم ہے حکیم ہے) ۔ سورة ٴ آل عمران میں فرمایا : ﴿وَ مَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ 1ۚ وَ هُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 0085﴾ (اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں تباہ حال لوگوں میں سے ہوگا) ۔
پھر سورة ٴ آل عمران میں چند آیات کے بعد فرمایا : ﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖ 1ؕ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ (رح) 0091﴾ ( بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اس حالت میں مرگئے کہ وہ کافر تھے تو ان میں سے کسی سے زمین بھر کر بھی سونا قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ وہ جان چھڑانے کے لیے دینا چاہے، یہ لوگ ہیں جن کے لیے درد ناک عذاب ہے اور ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا) ۔ خوب سمجھ لیا جائے کہ دین اسلام کا ہر منکر کافر ہے اسلام کے جھوٹے دعوے دار منافق بھی کافر ہیں کیونکہ دل سے اسلام کے منکر ہیں یہ لوگ اگر کفر پر مرگئے تو ان کا ٹھکانہ بھی دوزخ ہوگا اس میں ہمیشہ رہیں گے جو حال منکرین اسلام اہل کتاب اور مشرکین کا ہوگا وہی دوسرے کافروں کا بھی ہوگا، دوزخ میں ہمیشہ کے لیے جانے والوں کو ﴿ شَرُّ الْبَرِيَّةِ ﴾ سب سے زیادہ بدترین مخلوق بتایا ہے کیونکہ دنیا میں انہوں نے اپنے خالق اور مالک کو نہ پہچانا اور اس کے بھیجے ہوئے دین کو قبول نہ کیا وہ لوگ آخرت میں بدترین عذاب میں ہوں گے جس سے کبھی بھی چھٹکارہ نہ ہوگا اپنے عقیدہ اور عمل کے اعتبار سے بھی بدترین اور انجام کے اعتبار سے بھی بدترین ہوں گے۔
Ayah 98:7پھر اہل ایمان اور اعمال صالحہ والے بندوں کے لیے فرمایا ﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ 1ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِؕ007﴾ (بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کی یہ لوگ خیر البریہ ہیں یعنی مخلوق میں سب سے بہتر ہیں) ۔
Ayah 98:8﴿ جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا ﴾ (ان لوگوں کی جزا ان کے رب کے پاس ایسے باغ ہیں جو رہنے کے باغ ہیں، ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے) ۔
﴿رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ ﴾ (اللہ تعالیٰ ان سے اس وقت بھی راضی تھا جب دنیا میں تھے اور عالم آخرت میں بھی ان سے راضی ہوگا) ۔
﴿ وَ رَضُوْا عَنْهُ 1ؕ﴾ (اور جو بندے جنت میں داخل ہوں گے اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں گے) انہیں اتنا ملے گا اتنا ملے گا کہ ان کے تصور سے باہر ہوگا اور وہ اس سب پر بہت بڑی خوشی کے ساتھ راضی ہوں گے کوئی طلب اور تمنا باقی نہ رہے گی۔
حضرت ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائیں گے کہ اے جنت والو ! وہ کہیں گے کہ اے رب ہم حاضر ہیں اور فرمانبرداری کے لیے موجود ہیں اور ساری خیر آپ ہی کے قبضے میں ہے ؟ پھر ان سے اللہ تعالیٰ کا سوال ہوگا کیا تم راضی ہوگئے ؟ وہ عرض کریں گے کہ اے رب ہم کیوں راضی نہ ہوں گے آپ نے ہمیں وہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں جو کسی کو بھی نہیں دیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کیا میں تمہیں اس سے افضل عطا نہ کر دوں، وہ عرض کریں گے کہ اے پروردگار اس سے افضل اور کیا چیز ہوگی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوگا کہ خبردار میں تم پر ہمیشہ کے لیے اپنی رضا مندی نازل کرتا ہوں، اس کے بعد کبھی ناراض نہ ہوں گا۔ (رواہ البخاری صفحہ 969: ج 2)
﴿ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهٗ (رح) 008﴾ (یہ نعمتیں اس کے لیے ہیں جو اپنے رب سے ڈرا) ۔ یعنی اس نے اپنے رب کی شان خالقیت اور شان ربوبیت اور شان انتقام کو سامنے رکھا اور اس بات کو بھی سامنے رکھا کہ قیامت کا دن ہوگا اس دن ایمان اور کفر کے فیصلے ہوں گے رب تعالیٰ شانہ منکرین کا مواخذہ فرمائے گا اور عذاب میں داخل کرے گا لہٰذا مجھے اسی دنیا میں رہتے ہوئے صاحب ایمان اور صاحب اعمال صالحہ ہونا چاہیے جب دنیا میں فکر مند ہوا اور اپنے رب سے ڈرتا رہا تو قیامت میں جا کر وہ نعمتیں پالے گا جن کا وپر ذکر ہوا۔
واللہ المستعان علی کل خیر