Ayah 98:1(لم یکن الذین کفروا …:”منفکین“ ”فک یفک فکا“ (ن)”الشیء“ کسی چیز کو دوسری سے جدا کرنا، ”العقدۃ“ گروہ کھولنا اور ”الختم“ مہر توڑنا۔ ”انفک ینفک“ (انفعال) ایک چیز کا دوسری چیز سے الگ ہونا جس کے ساتھ وہ خوب جڑی ہوئی تھی، جیسے ”انفک العظم“”ہڈی اپنے جوڑے سے الگ ہوگئی۔“ (منفکین“ اسم فاعل ہے، (اپنے کفر سے) باز آنے والے، الگ ہونے والے۔ یعنی پیغمبر آخر الزماں اور قرآن بھیجنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اور مشرکین عرب کو راہ حق پر لایا جائے، کیونکہ یہ لوگ اس قدر بگڑے وہئے تھے کہا ن کا راہ حق پر آنا اس کے بغیر مکن نہ تھا کہ ایک پیغمبر ائٓے جو ایک مقدس آسمانی کتاب لائے جس میں عمدہ دل نشین مضامین ہوں اور وہ انہیں پڑھ کر سنائے ، کسی حکیم یا صوفی یا عادل بادشاہ کے بس کی بات نہ تھی کہ انہیں راہ راست پر لے آتا۔ (اشرف الحواشی)
Ayahs 98:2–3(رسول من ال لہ یتلوا صحفاً مطھرۃ…: قرآن مجید کو ”صحفاً مطھرۃ“ اور اس میں موجود احکام اور سوتروں کو ”قیمۃ“ (نہایت مضبوط) قرار دیا ہے کہ ان میں کسی قسم کی ناپاک بات یا کمزور اور بےبنیاد قصہ یا حکم نہیں۔ اگر کسی شخص کو رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے پاک صحیفوں اور ان میں لکھے ہوئے مضبوط احکام کی پاکیزگی اور مضبوطی معلوم کرنے کا شوق ہو تو وہ قرآن مجید کا بائبل کے مجموعے میں موجود پہلے صحیفوں کے ساتھ موازنہ کرلے، جن میں صحیح باتوں کے ساتھ عقل و اخلاق سے گری ہوئی باتیں، واضح تحریف شدہ احکام اور اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی اور انبیائے کرام کی توہین اور ان پر تہمتوں کی نجاست صاف نظر آتی ہے، مثلاً لوط اور سلیمان ؑ پر بےبنیاد تہمتیں ، جن سے وہ ہر طرح سے پاک اور بری ہیں۔
Ayah 98:4(1) وما تفرق الذین اوتوا الکب…: اس آیت میں اہل کتاب کے ایک جرم کا ذکر فرمایا، مشرکین کا نام نہیں لیا، کیونکہ جب پڑھے لکھوں کا یہ حال ہے تو جاہل مشرکین کی ضد اور عناد کا اندازہ خود کرلیں۔ اہل کتاب کا یہ جرم ان کا باہمی تفرقہ تھا اور اس جرم کا ارتکاب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے بھی کیا اور آپ کی آمد پر بھی۔ آپ کی تشریف آوری سے پہلے وہ بہتر (72) فرقوں میں بٹ چکے تھے۔ اس آیت میں وضاحت فرمائی کہ ان کے لاگ الگ بہتر (72) فرقے بننے کی وجہ یہ تھی کہ انہیں اللہ کے حکم کا علم نہ تھا، نہیں ! بلکہ ”البینۃ“ (کھلی دلیل اور واضح حکم) موجود ہونے کے باوجود باہمی ضد اور عناد کی وجہ سے کسی نے احبارو رہبان میں سے کسی ایک کے اقوال کو حجت مان کر اس کے نام پر فرقہ بنا لیا اور سک نے دوسرے کے نام پر یہی حال مسلمانوں کا ہوا۔ ابوہریرہ ؓ عنہمابیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(تفرقت الیھود علی احدی و سبعین فرقۃ او اثنتین وسبعین فرقۃ ، والنصاری مثل ذلک، وتفترق امتی علی ثلاث وسبعین فرقۃ) (ترمذی، الایمان، باب ما جاء فی افتراق ھذہ الامۃ : 2630، وقال ترمذی والالبانی حسن صحیح)”یہود اکہتر (71) یا بہتر (72) فرقوں میں ب ٹ گئے، نصرانیوں کا بھی یہی حال ہوا اور میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی۔“ اس افترقا کا حل پہلے بھی یہ تھا اور اب بھی یہی ہے کہ تمام امت اللہ کے نازل کردہ احکام پر متفق ہوجائے، علماء کے اقوال سے کتاب و سنت مسجھنے میں مدد لی جائے مگر ان میں سے کسی کے قول کو شروع سمجھ کر فرقہ نہ بنایا جائے، بلکہ جہاں اس کی بات وحی الٰہی کے خلاف ہو، خواہ کتنا ہی بڑا آدمی کیوں نہ ہو، اسے یکسر ترک کردیا جائے۔
(2) رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد آپ پر اہل کتاب کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ ہرگز نہ تھی کہ انہیں آپ کے سچا ہونے ک میں کوئی شک تھا، بلکہ پہلی کتابوں میں آپ ﷺ کی واضح بشارت اور نشانیاں موجود ہونے کی وجہ سے وہ آپ کو اپنے بیٹوں کی طرح بلکہ اس سے بھی بڑھ کر پہچانتے تھے، مگر محض حسد اور عناد کی وجہ سے آپ کے بارے میں جدا جدا ہوگئے، کوئی ایمان لے آیا اور کوئی کفر پر ڈٹا رہاے۔ حسد اور عناد ایک تو یہ تھا کہ آپ نبی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل سے کیوں ہیں اور ایمان لے آیا اور کوئی کفر پر ڈٹا رہا۔ حسد اور عناد ایک تو یہ تھا کہ آپ بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسمایعل سے کیوں ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ اپنی مذہبی سرداری چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔
Ayah 98:5وما امروآ الالیعبدوا اللہ…:”القیمۃ“ ’ قام یقوم“ سے ”فیعلۃ“ کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے۔ جس میں تاء مبالغے کے لئے ہے ، نہایت مضبوط سیدھی جس میں کوئی کجی نہیں ””ای ذلک دین الملۃ القیمۃ“ یعنی یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔“ ”حنفآء“”حنیف“ کی جمع ہے جو ”حنف یحنف حنفا“ (ض) (حاء کے ساتھ) سے ”فعیل“ بمعنی اسم فاعل ہے، اس کا لفظی معنی ”ایک طرف مائل ہونا“ ہے۔ اس کا اکثر استعمال ”تمام راستوں سے ہٹ کر سیدھے راستے یک طرف آنے“ کے معنی میں ہوتا ہے، جب کہ ”حنف“ (جیم کے ساتھ) کا مطلب ”سیدھے راستے سے ہٹ کر ادھر ادھر ہو اجنا“ ہوتا ہے۔ اس آیت میں دین کا خلاصہ بیان فرما دیا کہ پہلی امتیں ہوں یا یہ امت ، سب میں ایک ہی حکم ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کریں، جو ہر قسم کے شرک اور ریا سے پاک اور خلاص اللہ کے لئے ہو اور باطل پر چلنے والے تمام گروہوں سے ہٹ کر ایک اللہ کی طرف یک سو ہوجائیں، جس طرح ابراہیم ؑ ہوگئے تھے اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں، یہی مضبوط ملت کا دین ہے۔ جب اس امت میں بھی وہی پہلا ہی حکم ہے اور پچھلی امتوں کا اور اس امت کا دین قیم ایک ہی ہے، تو انہیں ماننے سے انکار کیوں ہے ؟
Ayah 98:6(ان الذین کفروا من اھل الکتب…:”البریۃ“ ”بر یبراً برآء و بروعاً“ (ف) (پیدا کرنا) سے ”فعلۃ“ کے وزن پر اسم مفعول کے معنی میں ہے، مخلوق یعنی یہ لوگ تمام مخلوق حتیٰ کہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں، جیسا کہ فرمایا :(اولئک کالا نعام بل ھم اضل) (الاعراف : 189)”یہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔“ کیونکہ وہ جان بوجھ کر حق کی مخالفت کر رہے ہیں۔
Ayahs 98:7–8(ان الذین امنوا و عملوا اصلحت…:ْو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں اور تمام کاتبوں پر ایمان لائے اور انہوں نے صالح اعمال کئے ان کے لئے تین بڑی بڑی بشارتیں ہیں، پہلی یہ کہ وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں، کیونکہ اپنے اختیار سے گناہ چھوڑ کر ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کا درجہ یقیناً ان لوگوں سے بلند ہے جن میں نافرمانی کی استعداد ہی نہیں، دوسری یہ کہ ان کے لئے ہمیشہ رہنے کے لئے باغات ہیں، جن کے تلے نہریں بہتی ہیں اور تیسری یہ کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوگی جو آخرت کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت ہے، فرمایا :(ورضوان من اللہ اکبر) (التوبۃ : 82)”اور اللہ کی رضا مندی سب سے بڑی چیز ہے۔“”اور وہ اللہ سے رضای ہوں گے“ یعنی بیشمار نعمتوں کے بعد بھی اگر ان کا دل ہی خوش نہ ہوا تو کیا فائدہ ؟ یہ نعمتیں اس کیلئے ہیں جو اپنے رب سے ڈر گیا۔ خالی بےروح کلمہ پڑھنے، بلاخشیت نماز اور بوجھل دل کے ساتھ زکوۃ ادا کرنے اور بطور رسم عبادات ادا کرنے سے یہ مرتبہ نہیں ملتا ، بلکہ اس کا مدار اللہ کے ڈر پر ہے، جیسا کہ فرمایا :(ولمن خاف مقام ربہ جنتن) (الرحمٰن : 36) ”اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لئے دو باغ ہیں۔“